ناکثین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ناکثین کے معنی عہد و پیمان‌ توڑنے والوں کے ہیں۔ مسلمانوں کا ایک گروہ عایشہ کی سرپرستی اور طلحہ اور زبیر کی قیادت میں امام علیؑ کے خلاف برسر پیکار ہوئے حالانکہ طلحہ اور زبیر نے حضرت علی(ع) کی بیعت کی تھی اس کے باوجود بیعت توڑ کر آپ(ع) کے خلاف بغاوت پر اتر آئے اسی بنا پر یہ گروہ ناکثین کے نام سے مشہور ہوئے۔ ناکثین اگرچہ کوفہ اور بصرہ کو فتح کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن آخر کار جنگ جمل میس شکست سے دوچار ہو گئے۔ اس جنگ میں طلحہ اور زبیر مارے گئے اور لشکر متفرق ہوئے بعض اسیر ہوگئے جنہیں حضرت علی(ع) نے معاف کردیا۔ اس گروہ کو اصحاب جمل بھی کہا جاتا ہے۔

لغوی معنی

ناکثین مادہ "ن ـ ک ـ ث" سے اسم فاعل جمع مذکر کا صیغہ ہے جس کے معنی عہد و پیمان توڑنے والے کے ہیں۔[1] اور چونکہ طلحہ اور زبیر اور انکے پیروکار امام علی(ع) کی بعنوان خلیفہ بیعت کرچکے تھے پھر بیعت توڑ کر آپ کے ساتھ جنگ کی اسلئے اس گروہ کو ناکثین کہا جاتا ہے۔[2]

ناکثین کا ہدف

جب امام علی(ع) کی ظاہری خلافت کا آغاز ہوا تو آپ نے گذشتہ خلفاء کے زمانے میں سیاسی- سماجی اور اقتصادی طور پر بعض گروہ کیلئے دئے گئے امتیازی سلوک کو ختم کردیا اور ان سے یہ مقام یا ثروت چھین لی گئی۔امام علی(ع) نے حکومتی عہدے دیتے وقت افراد کی ذاتی قابلیت اور انکی امانت و دیانت اور تقوا و پرہیزگاری کو معیار بنایا اور اقرباء پروری اور رشوت ستانی جیسے مکروہ معاملے کو سرے سے ختم کردیا یوں بعض سیاسی اور سماجی شخصیات کے توقع کے برخلاف حکومتی مناصب انہیں نہیں دی گئی۔ تاریخ نگاروں اور سیاسی تجزیہ اور تحلیل کرنے والے جنگ جمل کے اصل محرکات کو یہی نکتہ قرار دیتے ہیں۔

اس لفظ کا استعمال

ناکثین کا عنوان خود امیرالمؤمنین(ع) حضرت علی(ع) کے کلام میں استعمال ہوا ہے: فَاَمّا الناکِثون فَقَد قاتَلتُ ترجمہ: اور میں نے پیمان توڑنے والوں کے ساتھ جنگ کیا۔ [3] اسی طرح خطبہ شقشقیہ میں اپنے دشمنوں کو تین گروہ میں تقیسم کرتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں:فَلَمَّا نَهَضْتُ بِالْأَمْرِ نَکثَتْ طَائِفَة ترجمہ: جب میں برسر اقتدار آیا تو ایک گروہ نے پیمان شکنی کی۔ [4] ان جملات میں ناکثین سے آپ(ع) کی مراد طلحہ و زبیر اور ان کے پیروکار مراد ہیں جنہوں نے عایشہ کی سرپرستی میں جنگ جمل میں آپ کے مد مقابل جنگ کی۔[5]

حوالہ جات

  1. ابن منظور، ج۲، ۱۹۶؛ راغب، ص۸۲۲.
  2. زبیدی، ج۳، ص۲۷۳
  3. نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲، ص۲۲۱.
  4. نہج البلاغہ، خطبہ ۳، ص۱۱.
  5. شہیدی، در ترجمہ نہج البلاغہ، ص۴۵۱، تعلیقہ ۱۴.


مآخذ

  • نہج البلاغہ، ترجمہ سیدجعفر شہیدی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۷.
  • زبیدی، تاج العروس، تحقیق علی شیری، دارالفکر، بیروت، بیتا.
  • راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، تحقیق وضبط ابراہیم شمس الدین،الاعلمی للمطبوعات، بیروت: ۱۴۳۰ق.
  • ابن منظور، لسان العرب،‌دار صادر، بیروت، ۲۰۰۳م.