آیت اطعام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اخلاق
مکارم اخلاق.jpg


اخلاقی آیات
آیات افکآیت اخوتآیت استرجاعآیت اطعامآیت نبأ


اخلاقی احادیث
حدیث قرب نوافلحدیث مکارم اخلاقحدیث معراج


اخلاقی فضائل
تواضعقناعتسخاوتکظم غیظاخلاصحلممزید


اخلاقی رذائل
تکبرحرصحسددروغغیبتچغل خوریبخلعاق والدینحدیث نفسعجبسمعہریامزرید


اخلاقی اصطلاحات
جہاد نفسنفس لوامہنفس امارہنفس مطمئنہمحاسبہمراقبہمشارطہگناہدرس اخلاقمزید


علمائے اخلاق
ملامہدی نراقیملا احمد نراقیسید علی قاضیسید رضا بہاءالدینیدستغیبمحمدتقی بہجت


اخلاقی مصادر

قرآننہج البلاغہمصباح الشریعۃمکارم الاخلاقالمحجۃ البیضاءمجموعہ ورامجامع السعاداتمعراج السعادہالمراقباتمزید

آیت اطعام سورہ انسان کی آیت ہے جو امیرالمومنین(ع) اور آپ کے خاندان کے بارے میں نازل ہوئی ہے. احادیث، شیعہ مفسرین، اور بعض اہل سنت کے مطابق، حضرت علی(ع)، فاطمہ(س)، حسنین(ع) اور ان کی کنیز فضہ نے تین دن روزے رکھے اور ہر تین دن افطار کے وقت اگرچہ خود بھوکے ہوتے تھے، لیکن اپنا کھانا مسکین، یتیم اور اسیر کو کھلایا۔

آیت کا نام اور متن

سورہ انسان کی آیت ٨ (اور اس کے ساتھ والی آیات) آیت اطعام سے مشہور ہے۔ [1] اس آیت اور اس کے پہلے اور بعد والی آیات کا متن یوں ہے:

إِنَّ الْأَبْرَارَ يَشْرَبُونَ مِن كَأْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُورًا ﴿٥﴾ عَيْنًا يَشْرَبُ بِهَا عِبَادُ اللَّـهِ يُفَجِّرُونَهَا تَفْجِيرًا ﴿٦﴾ يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْمًا كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيرًا ﴿٧﴾ وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ﴿٨﴾ إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّـهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ﴿٩﴾

ترجمہ:
  • بے شک نیک ایسی شراب کے پیالے پیئیں گے جس میں چشمہ کافور کی آمیزش ہوگی۔﴿٥﴾
  • وہ ایک چشمہ ہوگا جس میں سے اللہ کے بندے پیئیں گے اس کو آسانی سے بہا کر لے جائیں گے۔﴿٦﴾
  • وہ اپنی منتیں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس کی مصیبت ہر جگہ پھیلی ہوئی ہوگی۔﴿٧﴾
  • اور وہ اس کی محبت پر مسکین اور یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔﴿٨﴾
  • ہم جو تمہیں کھلاتے ہیں تو خاص اللہ کے لیے، نہ ہمیں تم سے جزا لینا مقصود ہے اور نہ شکرگزاری۔﴿٩﴾

شان نزول

بعض اہل سنت مفسرین کی نگاہ میں آیت اطعام اہل بیت(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ علامہ امینی نے کتاب الغدیر میں اہل سنت کے چونتیس علماء کا نام لکھا ہے جو نقل متواتر کی تائید کرتے ہیں کہ یہ آیات اہل بیت(ع) کی شان اور امام علی(ع)، فاطمہ(س) اور حسنین(ع) کے فضائل بیان کرتی ہیں۔ شیعہ علماء کی نگاہ میں اس سورہ کی اٹھارویں آیت (یا پورا سورہ انسان) اہل بیت(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے.[2]

ابن تیمیہ (وہابیوں کا رہبر) معتقد ہے کہ یہ سورہ مکہ میں نازل ہوئی اور اہل بیت(ع) سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ [3] لیکن اہل سنت کے اکثر علماء اس کی بات کے مخالف ہیں اور اسے رد کرنے کے لئے جواب بھی دئیے ہیں۔[4]

نزول کا واقعہ

اہل سنت مفسر زمخشری لکھتا ہے: "ابن عباس سے نقل ہوا ہے کہ حسن(ع)، حسین(ع) بیمار ہوئے. رسول خدا(ص) کچھ اصحاب کے ہمراہ ان دونوں کی عیادت کے لئے آئے. اور علی(ع) سے فرمایا: اے ابوالحسن بہتر ہے کہ اپنے فرزندوں کی تندرستی کے لئے نذر کرو۔ علی(ع)، فاطمہ(س)اور فضہ نے نذر کی کہ اگر ان دونوں کو شفا مل گئی تو تین دن روزے رکھیں گے۔ دونوں کو شفا مل گئی۔ علی(ع) نے تین من جو قرض لئے۔ فاطمہ(س) نے اس کے تیسرے حصے کو پیس لیا اور روٹی بنائی۔ افطار کے وقت سائل دروازے پر آیا اور کہا: اے اہل بیت محمد(ص)، میں مسلمان مسکین ہوں، مجھے کچھ کھانے کو دیں تا کہ اللہ تعالیٰ آپکو جنتی مائدہ عطا کرے۔ اہل بیت(ع) نے کھانا اٹھا کے اسے دیا اور خود پانی سے روزہ افطار کیا۔ اس کے دوسرے دن بھی روزہ رکھا اور جب افطار کا وقت ہوا اور کھانا حاضر کیا تو دروازے پر یتیم آیا۔ اس بار بھی انہوں نے اپنا کھانا اسے دے دیا۔ تیسرے دن پھر روزہ رکھا اور افطار کے وقت، ایک قیدی آیا، پھر آپ نے اپنا کھانا اسے دے دیا. جب صبح ہوئی تو علی(ع) نے حسنین(ع) کا ہاتھ پکڑا اور حضور(ص) کے پاس حاضر ہوئے۔ آپ(ص) نے جب ان کو دیکھا کہ وہ بھوک سے کانپ رہے ہیں، فرمایا: آپ کی حالت دیکھ کر میری حالت ناگوار ہو گئی ہے۔ اٹھے اور ان کے ہمراہ ان کے گھر کی طرف چل دئیے وہاں پر فاطمہ(س) کو دیکھا کہ مصلیٰ عبادت پر کھڑی ہیں اور ان کا پیٹ کمر سے ملا ہوا ہے اور آنکھوں کے نیچے حلقے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھ کر پریشان ہو گئے۔ اس وقت جبرئیل(ع) نازل ہوئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ آپکو ایسے اہل بیت(ع) کی مبارکباد کہتا ہے اور اس کے ساتھ اس سورہ کو قرائت کیا"[5]

بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ واقعہ تین دن نہیں بلکہ ایک دن پیش آیا ہے، اور کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت علی(ع) کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت علی(ع) نے ایک یہودی کے لئے کام کیا اور اس کے بدلے اس سے کچھ جو دریافت کئے۔ جو گھر لائے اور جو کے ایک حصے کو پیس کر روٹی تیار کی، جب روٹی تیار ہو گئی، تو ایک مسکین دروازے پر آیا، آپ(ع) نے یہ روٹی اسے دے دی۔ پھر جو کے دوسرے حصے کو پیس لیا اور جب روٹی تیار ہو گئی، تو ایک یتیم نے سوال کیا تو آپ(ع) نے یہ روٹی اسے دے دی اور تیسری بار جب روٹی تیار ہوئی تو مشرکین کا ایک قیدی آیا آپ(ع) نے روٹی اسے دے دی۔[6]

حوالہ جات

  1. رجوع کریں: روحانی نیا، فروغ غدیر، ۱۳۸۶ش، ص۱۴۶؛ انصاری، اہل البیت علیہم السلام، ۱۴۲۴ق، ص۱۷۳؛ دیلمی، ارشاد القلوب، ۱۳۳۸ش، ج۲، ص۱۳۶.
  2. مکارم شیرازی، برگزیدہ تفسیر نمونہ، ۱۳۸۷ش، ج۵، ص۳۵۰.
  3. ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویہ، ۱۴۰۶، ج۷، ص۱۷۴-۱۸۶.
  4. ابراہیمیان، «بررسی و نقد دیدگاه ابن تیمیہ درباره شأن نزول سوره هل اتی»، ص۱۶۰-۱۶۲.
  5. زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ق، ج۴، ص۶۷۰.
  6. بغوی، معالم التنزیل، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۱۹۱-۱۹۲.


ماخذ

  • قرآن کریم.
  • ابراہیمیان، فرامرز، « بررسی و نقد دیدگاه ابن تیمیہ درباره شأن نزول سوره هل اتی»، در مجلہ سراج منیر، شماره ۱۸، تابستان ۱۳۹۴.
  • ابن تیمیہ حرانی، قاسم بن محمد، منہاج السنۃ النبویہ فی نقض کلام الشیعۃ القدریۃ، تحقیق محمد رشاد سالم، ریاض، جامعۃ الإمام محمد بن سعود الإسلامیۃ، چاپ اول، ۱۴۰۶ق.
  • انصاری، محمدعلی (خلیفہ شوشتری)، اہل البیت علیہم السلام: امامتهم حیاتهم، قم، مجمع الفکر الاسلامی، ۱۴۲۴ق.
  • بغوی، حسین بن مسعود، معالم التنزیل فی تفسیر القرآن، تحقیق: عبدالرزاق المہدی، بیروت، داراحیاء التراث العربی، ۱۴۲۰ق.
  • دیلمی، حسین بن محمد، ارشاد القلوب، مقدمہ از شہاد الدین مرعشی، ترجمہ هدایت الله مسترحمی، تہران، کتابفروشی بوذر جمہری(مصطفوی)، ۱۳۳۸ش.
  • روحانی نیا، عبدالرحیم، فروغ غدیر، قم، مشہور، ۱۳۸۶ش.
  • زمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل و عیون الاقاویل فی وجوه التأویل، قم، نشر البلاغہ، ۱۴۱۵ق.
  • مکارم شیرازیِ، ناصر، برگزیده تفسیر نمونہ، تنظیم و تحقیق احمدعلی بابایی، قم، انتشارات دار الکتب الاسلامیہ، چاپ پنجم، ۱۳۸۷ش.