عصمت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
السعید۲.jpg
خدا شناسی
توحید توحید ذاتی  • توحید صفاتی  • توحید افعالی • توحید عبادی
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (الہی افعال)
حسن و قبح  • بداء  • امر بین الامرین
نبوت
عصمت انبیاء  • ختم نبوت  • علم غیب  • معجزہ • قرآن میں عدم تحریف
امامت
عقائد عصمت ائمہ • ولایت تكوینی  • ائمہ کا علم غیب • غیبت (غیبت صغری، غیبت کبری)  • انتظار  • ظہور  • رجعت
ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدی(عج)
معاد
برزخ  • جسمانی معاد  • حشر • صراط  • تطائر کتب  • میزان
نمایاں مسائل
معصومین  • مہدویت  • مرجعیت


عصمت کے معنی گناہ اور خدا کی نافرمانی سے دوری اختیار کرنے کے ہیں۔ پیغمبروں اور اماموں کی عصمت کا قائل ہونا شیعہ اعتقادات میں سے ہے جس کے مطابق یہ حضرات عمدی اور سہوی گناہوں سے دور ہیں۔ لیکن آیا یہ حضرات اپنی روزمرہ زندگی میں بھی "سہو" اور "خطا" سے بھی پاک ہیں یا نہیں؟ اس حوالے سے علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔

کسی بھی دین کے اعتقادات کی حقانیت اور ان پر عمل پیرا ہونے کا دارومدار اس دین کے پیغمبر کی عصمت کے اثبات پر ہے۔ وحی کی دریافت اور اس کے ابلاغ کے حوالے سے نبی یا رسول کی عصمت عقلی دلائل سے ثابت ہوتی ہے لیکن عملی زندگی میں عصمت کا ثبوت نقل پر موقوف ہے عقلی دلائل کے ذریعے اس چیز کو ثابت نہیں کر سکتے ہیں۔

عصمت کے لغوی اور اصطلاحی معنی

لغوی معنی

لغوی اعتبار سے عصمت "ع ص م" کے مادے سے اسم مصدر ہے جس کے معنی مصونیت اور محفوظ رہنا،[1] پاکدامنی اور نفس کو گناہ سے بچانا،[2] "روکنے کا وسیلہ" اور "مصونیت کا ابزار" کے ہیں۔[3]

اصطلاحی معنی

مسلمان مفکرین نے عصمت کی مختلف تعریفیں کی ہیں جن میں سے سب سے معروف تعریف قاعدہ لطف کے ذریعے اس کی تفسیر ہے۔[4] اس قاعدے کی بنا پر خداوندعالم بعض انسانوں کو عصمت عطا کرتا ہے جس کے سائے میں صاحب عصمت گناہ اور ترک اطاعت پر قدرت رکھنے کے باوجود ان کے مرتکب نہیں ہوتے ہیں۔ ذیل میں مختلف مذاہب کے نظریات بیان کئے جاتے ہیں:

  • اشاعرہ کا نظریہ: اشعری مذہب کے متکلمین چونکہ انسان کو اس کے اعمال اور رفتار میں مجبور سمجھتے ہیں اس لئے عصمت کی تعریف میں کہتے ہیں کہ خدا معصوم کے اندر گناہ ایجاد نہیں کرتا ہے۔[5]
  • امامیہ اور معتزلہ کا نظریہ: امامیہ اور معتزلہ حسن و قبح عقلی اور قاعدہ لطف کے معتقد ہونے کی وجہ سے عصمت کی تعریف میں کہتے ہیں کہ: انسان اپنے ارادے اور اختیار سے خدا کے لطف و کرم کی وجہ سے گناہوں سے پرہیز کرتا ہے۔[6] علامہ حلّی عصمت کو خدا کی جانب سے بندے کے حق میں لطف خفی سمجھتے ہیں اس طرح کہ اس کے ہوتے ہوئے پھر انسان میں گناہ کے انجام دہی یا اطاعت کے ترک کرنے کا رجحان ہی پیدا نہیں ہوتا ہے اگر چہ اس پر قدرت اور توانائی رکھتا ہے۔[7] عصمت کا ملکہ اگرچہ تقوا اور پرہیزگاری کی صنف سے ہے لیکن درجے میں ان دونوں سے بلند و بالا ہے اس طرح کہ معصوم شخص گناہ کے بارے میں سوچنے اور فکر کرنے سے بھی پرہیز کرتا ہے۔[8] جس کی وجہ سے لوگ ان حضرات پر ہر لحاظ سے مکمل اعتماد کرتے ہیں۔[9]

عصمت کا سرچشمہ

عصمت کی تعریف میں اکثر مفکرین کا خیال ہے کہ معصوم شخص اپنے ارادے اور اختیار سے گناہ سے کنارہ گیری کرتے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کونسا عامل یا عوامل ہیں جس کی وجہ سے قدرت رکھنے کے باوجود بھی یہ معصوم ہستیاں نہ فقط گناہ اور معصیت کا شکار نہیں ہوتیں بلکہ اس کے بارے میں سوچتے بھی نہیں اور بھول چوک میں بھی غلطی کا ارتکاب نہیں کرتے؟ اس سوال کے جواب میں مختلف نظریات موجود ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

  • قاعدہ لطف کے چار اسباب: وہ علماء جو عصمت کو خدا کا لطف قرار دیتے ہیں چار اسباب اور عوامل کو اس لطف کا منشا قرار دیتے ہیں جو جس کے سبب معصوم شخص میں عصمت کا ملکہ پیدا ہوتا ہے:
  1. معصوم شخص جسمانی یا روحانی اعتبار سے کچھ ایسی خصوصیات کا حامل ہے جو باعث بنتا ہے کہ اس میں عصمت کا ملکہ پیدا ہو۔
  2. معصوم شخص کیلئے گناہوں کے برے اثرات اور خداوند متعال کی اطاعت اور بندگی کی قدروقیمت سے مکمل آگاہی حاصل ہونے کی وجہ سے اس میں عصمت کا ملکہ پیدا ہوتا ہے۔
  3. وحی یا الہام کے پے در پے نازل ہونے کے ذریعے اس آگاہی میں مزید وسعت اور گہرائی پیدا ہوتی ہے۔
  4. معصوم شخص نہ فقط واجبات بلکہ ترک اولی پر بھی مورد مؤاخذہ قرار پاتا ہے اس طرح کہ احساس کرنے لگتا ہے کہ ان کے حق میں کسی قسم کی کوئی تخفیف کی گنجائش موجود نہیں ہے۔[10]
  • گناہ کے انجام سے مکمل آگاہی: بعض علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ عصمت کا سرچشمہ یہ ہے کہ معصوم شخص گناہ کی حقیقت اور باطن اور اس کے برے انجام سے مکمل آگاہی ہے اور اس کے برے اثرات سے اس طرح مکمل واقفیت رکھتا ہے کہ گویا علم حضوری کے ذریعے گناہ کے برے انجام کو دیکھ رہا ہوتا ہے اسی بنا پر کبھی بھی گناہ اور معصیت کا ارادہ بھی نہیں کرتا ہے۔[11]
  • ارادہ اور اختیار: اس حوالے سے ایک نظریہ یہ بھی ہے کہ عصمت کا سرچشمہ تقوا ہے جو بار بار نیک اور اچھے اعمال کی انجام دہی اور گناہوں سے پرہیز کرنے کی وجہ سے ملکہ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ یہ ملکہ اگرچہ تقوا میں بھی موجود ہوتا ہے لیکن عصمت میں زیادہ شدت اختیار کرتا ہے۔ نیک اعمال کا مکرر انجام دینا اور گناہوں سے پرہیز کرنا ارادہ اور اختیار کا محتاج ہے لہذا عصمت کا اصل عامل معصوم شخص کا ارادہ اور اختیار ہے۔ یہ نظریہ گناہوں کی حقیقت اور باطن سے معصومین کی آگاہی کے اصل محرک کو معصوم شخص کا ارادہ اور اختیار قرار دیتا ہے۔[12]
  • علم اور ارادہ: بعض اسلامی مفکرین معصومین کی عصمت کے راز کو دو چیز قراار دیتے ہیں جن میں سے ایک کمالات اور حقایق سے آگاہی اور دوسرا اس تک پہنچنے کا پکا اور مستحکم ارادہ ہے۔ کیونکہ انسان جہالت کی صورت میں حقیقی اور واقعی کمال کو نہیں پہچان سکتا اور ایک خیالی اور ذہنی کمال کو حقیقی اور واقعی کمال قرار دیتا ہے اسی طرح اگر مستحکم ارادہ کا مالک نہ ہو تو نفسانی خواہشات کے ہاتھوں اسیر ہو کر مطلوبہ ہدف تک پہچنے میں ناکام رہتا ہے۔[13]
  • انسانی، فطری اور الہی عوامل کا مجموعہ: بعض معاصر محققین کا خیال ہے کہ عصمت کسی ایک عامل کا مرہون منت نہی ہے بلکہ بعض فطری عوامل جیسے، وراثت، سماج اور خاندان، اور بعض انسانی عوامل جیسے شعور اور آگاہی، ارادہ اور انتخاب، عقل اور نفسانی ملکہ، اور خداوند متعال کے خاص لطف و کرم کا نتیجہ ہے۔ [14]

عصمت انبیا

دائرہ

پیغمبروں کی عصمت مختلف مراتب کی حامل ہے جس کا دائرہ نہایت ہی وسیع و عریض ہے جو کفر و شرک سے لے کر بھول چول تک سے پرہیز کرنے کو شامل ہے۔ ان مراتب میں سے ہر مرتبہ کے متعلق دانشوروں اور متکلمین کے درمیان گرماگرم بحث ہوئی ہے۔

  • کفر و شرک سے پاک ہونا: انبیا کا شرک اور کفر سے منزہ ہونا۔ تمام اسلامی مذاہب کے علماء کے درمیان متفق علیہ ہے اور اس حوالے سے کوئی اختلاف نہیں ہے اور سب اس بات کے معتقد ہیں کہ تمام انبیا نبوت سے پہلے اور بعد دونوں زمانوں میں کسی طرح بھی کفر اور شرک کے مرتکب نہیں ہوئے ہیں۔[15]
  • وحی کے دریافت اور ابلاغ میں عصمت: شیعہ اور سنی مشہور علماء اس بات کے قائل ہیں کہ انبیا وحی کے وصول، حفظ اور ابلاغ میں کسی قسم کے گناہ یا خطا کا عمدی[16] اور سہوی [17] ارتکاب نہیں کرتے ہیں۔ عصمت کے اس درجے میں انبیا کے جو چیز خداوند متعال سے وحی کی شکل میں دریافت کرتے ہیں بغیر کسی کمی اور زیادتی کے لوگوں تک پہنچاتے ہیں اور خدا کی حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ خدا اپنی رسالت کیلئے ایسے فرد کا انتخاب کرے جس کے بارے میں یقین ہو کہ وہ کسی قسم کے خیانت کا ارتکاب نہیں کریں گے۔[18]
  • احکام شرعی پر عمل کرنے میں عصمت: مشہور شیعہ متکلمین کے مطابق انبیا کے کرام واجبات کو انجام دینے اور محرمات کو ترک کرنے کے حوالے سے کسی قسم کی خطا اور نافرمانی کا مرتکب نہیں ہوتے ہیں۔[19]
  • احکام شرعی کے مصادیق کی تشخیص میں عصمت: احکام شرعی کے موضوعات ایسے اعمال اور رفتار کو کہا جاتا ہے جس کے بارے میں کوئی نہ کوئی حکم خدا کی جانب سے صادر ہوا ہو۔ جیسے نماز جو کہ واجب ہے اور غیبت جو کہ حرام ہے۔ عصمت کے اس درجے مراد یہ ہے کہ انبیا کے احکام کے موضوعات کی تشخیص اگرچہ عمدا کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا لیکن آیا بھول چوک میں بھی کسی گناہ یا خطا کا مرتکب نہیں ہوتا ہے یا نہیں؟

عصمت کے اس مرتبے میں اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے اشاعرہ اور معتزلہ معتقد ہیں کہ انبیا کے احکام کے موضوعات کی تشخیص اور الہی قوانین کو ان کے خارجی مصادیق پر تطبیق کرنے میں ممکن ہے غلطی کا شکار ہو۔ شیعہ علماء میں سے شیخ صدوق عصمت کے اس درجے میں عصمت عمدی کے قائل ہیں لیکن بھول چوک اور غلطی سے بھی پاک ہونے کو معصومین کے بارے میں غلو سے تعبیر کرتے ہیں جو غالیوں اور مفوضہ سے مخصوص ہے۔[20] لیکن شیعہ مشہور علماء اس بات کے معتقد ہیں کہ اس درجے میں بھی انبیا کے حتی بھول چوک اور غلطی سے بھی کسی گناہ یا خطا کا مرتکب نہیں ہوتے ہیں۔[21]

  • روزمرہ زندگی میں عصمت: اس سے مراد وہ مباح اعمال ہیں جو دین کے ساتھ کوئی ربط نہیں رکھتا اور ان کے بارے میں دین میں کوئی الزامی حکم نہیں پایا جاتا۔ روزمرہ زندگی کے امور میں غلطی اور اشتباہ کا شکار ہونا اس قدر نہ ہو کہ جس سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے اور لوگ اس نبی یا رسول کے بارے میں بے اعتمادی کا شکار ہوجائے، تو نہ فقط ایسے غلطیوں اور اشتباہات سے منزہ ہونے کے بارے میں کوئی عقلی دلیل موجود نہیں ہے بلکہ دینی مآخذ میں ایسے غلطیوں اور اشتباہات کا انبیا کے سے سرزد ہونے پر روایات بھی موجود ہیں۔[22]

عصمت انبیا کے کی ضرورت

انبیا کے کی عصمت کے مختلف درجات کو مدنظر رکھتے ہوئے ہر درجے کے حوالے سے ان کی عصمت کی ضرورت کو بیان کیا جا سکتا ہے:

وحی کے دریافت اور ابلاغ کے حوالے سے انبیا کے کو عصمت کا حامل ہونا چاہئے کہ اگر انبیا کے اس حوالے سے گناہ اور غلطی سے محفوظ نہ ہوں تو کیا ضمانت ہے کہ جو پیغام انبیا کے خدا کی طرف سے لوگوں تک پہنجاتے ہیں اس میں بھی غلطی اور خطا یا خیانت نہ کی ہو۔ پس وحی کی اہمیت اور اس کی افادیت صرف اس صورت میں ہی ہے کہ اس کے صادر ہونے سے لے کر لوگوں تک پہنچنے تک ہر قسم کی تحریف سے محفوظ ہو ورنہ لوگوں کا اعتماد اس پر باقی نہیں رہتا یوں خداوندعالم کا پیامبروں کو بھیجنے کا ہدف پورا نہیں ہوگا۔[23]

باقی مرتبوں میں انبیا کے کی عصمت اس لئے ضروری ہے ہے اگر ان موارد میں انیباء ہر قسم کی عمدی اور سہوی گناہ اور غلطی سے منزہ نہ ہوں تو لوگوں کا اعتماد ان سے اٹھ جاتا ہے یوں ان کے بھیجنے کا ہدف پورا نہیں ہوتا ہے۔

عصمتِ انبیا پر دلیل

انبیا کی عصمت کے اثبات میں مسلم دانشورں کا اختلاف ہے۔ اس حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ انبیا کی عصمت کے مراتب میں سے ہر مرتبہ جداگانہ دلیل کا تقاضا کرتا ہے۔ بعض مراتب عقلی دلائل کے ذریعے ثابت کئے جاتے ہیں لیکن بعض مراتب صرف اور صرف آیات و روایات کے ذریعے ہی قابل اثبات ہیں ۔ بنابراین ہر مرتبے کیلئے جداگانہ دلیل کا ذکر کرتے ہیں:

  • کفر اور شرکت سے عصمت حتی نبوت سے پہلے: اس مرتبے پر یہ دلیل یہ ہے کہ انبیا کی باتوں پر یقین اور اطمینان صرف اور صرف اس صورت میں پیدا ہو سکتی ہی جب یہ حضرات حتی مقام نبوت اور رسالت پر فائز ہونے سے پہلے بھی کسی قسم یک کفر اور شرک میں مبتلا نہ ہوئے ہوں۔[24]
  • وحی کی دریافت اور ابلاغ میں عصمت: اس مرتبے پر عقلی دلیل قائم کی جا سکتی ہے کیونکہ اگر اس حوالے سے کسی غلطی یا خطا اور اشتباہ کا احتمال موجود ہو تو انبیا کے بھیجنے کا ہدف اور مقصد ختم ہو جاتا ہے جو کہ ایک محال چیز ہے۔[25] اس حوالے سے قرآن کریم میں یوں ارشاد ہے:

وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَینَا بَعْضَ الْأَقَاوِیلِ* لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْیمِینِ* ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِینَ.الحاقه (ترجمہ :اور اگر یہ ہماری طرف کسی بات کی نسبت دیتا تو ہم اسکے سیدھے ہاتھ کو مضبوطی سے تھامتے پھر اسکے شہ رگ کو کاٹ دیتے)۔

  • احکام شرعی پر عمل کرنے میں عصمت: انبیاء کے اقوال اور گفتار پر اطمینان حاصل ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ خود یہ حضرات ان فرامین پر جنہیں وہ خدا کی طرف نسبت دیتے ہیں کس حد تک عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اگر اس حوالے سے نبی عصمت کا حامل نہ ہو تو حتی غلطی اور بھول چوک میں بھی کسی حکم پر عمل پیرا نہ ہو تو لوگوں کا اعتماد اٹھ جاتا ہے جس سے ہدف حاصل نیہں ہوگا۔[26]
  • احکام کے موضوعات کی تشخیص میں عصمت: اس پر دلیل یہ ہے کہ عاقل لوگ حتی اس آدمی پر اعتماد نہیں کرتا جو بھول چوک اور غلطی سے کسی خطا کا مرتکب ہو چہ جائیکہ عمدا غلطی کا شکار ہو اور جان بوجھ کر کسی چیز کی تشخیص میں غلطی کرے۔[27]
  • روزمرہ زندگی کے امور میں عصمت:اس مرتبے میں اگر غلطی اور اشتباہ اس قدر زیادہ نہ ہو جس سے لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے، تو اس پر نہ کوئی عقلی دلیل قائم کی جاسکتی ہے اور نہ کسی آیت اور روایت اس بارے میں موجود ہے۔ لیکن اگر اس قدر زیادہ ہو کہ لوگوں کا اعتماد اٹھ جانے کا خطرہ ہو اور لوگ دینی امور میں بھی ان پر اعتماد نہ کرے تو اس صورت میں درج بالا دلائل اس حوالے سے بھی کفایت کرتی ہے۔

عصمت ائمہ

ائمہ کی عصمت کا دائرہ

ایک کلی تقسیم بندی کے ذریعے اماموں کی عصمت کو عصمت علمی اور عصمت عملی میں تقسیم کر سکتے ہیں:

  • عصمت عملی؛ یہ قسم معصوم کے کردار اور رفتار سے مربوط ہے اس بارے میں عصمت درج ذیل امور کو شامل ہوتی ہے:
  1. معصوم نہ کسی واجب کو ترک کرتا ہے اور نہ کسی حرام کا مرتکب ہوتا ہے۔
  2. معصوم کسی مستحب کام کو ترک نہیں کرتا اور کسی مکروه کام کو انجام نہیں دیتا۔
  • عصمت علمی؛ عصمت کا یہ قسم ایسے امور کے بارے میں علم و آگاہی اور معرفت و شناخت سے مربوط ہے جن کا شمار معصوم کے وظائف اور ذمہ درایوں میں ہوتا ہے. اس حصے میں درج ذیل امور شامل ہیں:
  1. دینی معارف میں کسی خطا کا مرتکب نہیں ہوتا، کیونکہ امام کی ذمہ داری لوگوں کی ہدایت ہے اور اگر خود دینی معارف میں خطا کا مرتکب ہو تو ہدایت کیسے کر سکتا ہے؟!۔
  2. لوگوں کے اجتماعی اور سیاسی مصالح اور مفاسد کی تشخیص میں معصوم ہے اور کسی غلطی کا شکار نہیں ہوتا۔
  3. احکام شرعی کے موضوعات کی شناخت میں کوئی غلطی کا شکار نہیں ہوتا۔ مثلا اس بات کی تشخیص میں کہ یہ مایع پانی ہے یا شراب، خطا نہیں کرتا۔ [28]

ضرورت

چونکہ امام نبی کا جانشین اور وصی ہوا کرتا ہے اس بنا پر پیغمبر کے بعد دینی تعلیمات اور شرعی احکام کے بارے میں وہ مرجع کی حثیت رکھتا ہے اس بنا پر ضروری ہے کہ امام معصوم ہو اور ہر قسم کی غلطی اور گناہ سے محفوظ ہو تاکہ لوگ ان کی باتوں پر اعتماد کرے ورنہ لوگوں کا اعتماد اس سے اٹھ جائے گا اس صورت میں امام کے تعیین کا ہدف ختم ہو جائے گا جو کہ حکیم سے محال ہے۔

دلائل عصمت

دلائل عقلی

برہان تسلسل:
یہ دلیل بیان کرتی ہے کہ امام کا وجود خدا کی جانب سے اس معنا میں لطف ہے کہ دیگر افراد معصوم نہیں ہیں لہذا درست امر کی تشخیص کیلئے وہ امام کی طرف رجوع کریں ۔اگر امام معصوم نہ ہو اور وہ خطا کا مرتکب ہو تو ایک ایک دوسرا امام ہونا چاہئے جو اسے خطا سے بچائے اسی طرح اگر وہ بھی معصوم نہ ہو تو کسی دوسرے امام کی طرف رجوع کرنا چاہئے ۔اس طرح یہ لا متناہی سلسلہ جاری رہے گا اور کسی وقت بھی خطا کا احتمال برطرف نہیں ہو گا ۔ [29]
دین کی ٖحفاظت اور وضاحت:
یہ دلیل چند مقدموں پر مشتمل ہے :
  1. قرار ہے کہ جو دین پیامبر اسلام(ص) لے کر آئیں وہ روز قیامت تک باقی رہے اور اس پر عمل کرنا واجب و ضروری اور اس سے تخلف کرنا حرام ہے ۔
  2. تحریف سے بچاؤ کیلئے ایک علمی مرجع کی ضرورت ہے کہ جو دین کی تعلیمات اور احکامات سے درست آگاہی رکھتا ہو اور وہ انہیں مکلفین کیلئے بیان کرے اور ان تک دینی تعلیمات کو پہنچائے ۔اس طرح دین میں تحریف اور تغیر و تبدل سے بچنا ممکن ہے ۔
  3. وہ علمی مرجع کتاب خدا اور متواتر سنت نہیں ہو سکتے ہیں ؛ کیونکہ قرآن کریم کی بہت سی آیات متشابہ ہیں کہ جن میں سے اکثر اپنے معنائے حقیقی کی وضاحت میں ایک علمی مرجع کی محتاج ہیں نیز ایسے بہت سے مسائل ہیں کہ جنکا تذکرہ نہ تو قرآن میں ہے اور نہ ہی سنت متواترہ اس پر قائم ہے ۔
  4. وہ علمی مرجع اجماع بھی نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ بہت سے شرعی مسائل میں اجماع حاصل نہیں ہے اور ان مسائل میں خود اجماع کی حجیت مخدوش ہے ۔
  5. وہ علمی مرجع قیاس فقہی بھی نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ شیعہ مکتب فکر کے نزدیک قیاس حجیت نہیں رکھتا ہے ۔
  6. اب صرف ایک راہ حل بچتا ہے کہ وہ علمی مرجع امام کا وجود ہو جو رسول کا جانشین ہو اور شریعت کا محافظ اور بیان کرنے والا ہو ۔
اس شخص کو معصوم ہونا چاہئے ورنہ تغیر و تبدل اور شریعت میں تحریف کا احتمال ہمیشہ موجود رہے گا۔اس احتمال کے موجود ہوتے ہوئے دین کی تبیین اور دین میں تحریف کا احتمال باقی رہے گا ۔ یہ بات بعثت انبیا کے کے ساتھ سازگار نہیں ہے ۔پس اس لئے امام کا معصوم ہونا ضروری ہے ۔[30]
  • قیاس استثنائی: یہ دلیل ایک قیاس استثنائی کی صورت میں بیان کی جاتی ہے :

اگر امام، معصوم نہ ہو تو دو حالتوں سے باہر نہیں ہے اور دونوں فرض باطل ہیں ۔پس اس بنا پر امام کا معصوم نہ ہونا بھی باطل ہو گا ۔

توضیح:

تمام مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ امام کے دستورات کی پیروی کریں ۔اگر امام معصوم نہ ہو اور وہ گناہ یا خطا کا مرتکب ہو ۔پس اس صورت میں مکلف کا عمل دو حال سے خارج نہیں ہے :

  • امام کے غیر معصوم ہونے کی صورت میں جب وہ امام کی پیروی کرے گا تو اس نے ظلم اور گناہ میں امام کی ہمراہی کی ہے ۔جبکہ قرآن نے اسے حکم دیا تھا ظلم و گنا میں کسی کی ہمراہی نہ کرے [31]
  • اگر وہ امام کی پیروی نہ کرے تو اسصورت میں وجود امام کے ہدف اور خدا کی طرف سے امام کی اطاعت کرنے کے حکم کی مخالفت کی ہے ۔[32]

دلائل نقلی

قرآن کریم
  • آیت ابتلائے ابراہیم(ع)
اصل مضمون: آیت ابتلاء

وَإِذِ ابْتَلَی إِبْرَاهِیمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِن ذُرِّیتِی قَالَ لاَ ینَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ.بقرہ124 ترجمہ:(اور وہ وقت یاد کرو) جب ابراہیم کا ان کے پروردگار نے چند باتوں کے ساتھ امتحان لیا۔ اور جب انہوں نے پوری کر دکھائیں ارشاد ہوا۔ میں تمہیں تمام انسانوں کا امام بنانے والا ہوں۔ انہوں نے کہا اور میری اولاد (میں سے بھی(؟ ارشاد ہوا: میرا عہدہ (امامت) ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔

  • یہ آیت اس وقت کی طرف اشارہ کرتی ہے جب حضرت ابراہیم الہی امتحانات میں کامیاب ہوئے ۔اُس وقت وہ نبوت کے منصب پر فائز تھے اور [[اولوالعزم انبیا کے]] میں سے تھے ۔ان امتحانات میں کامیاب ہونے کے بعد امامت کے منصب پر فائز ہوئے ۔

شیعہ متکلمین نے اس آیت سے درج ذیل طریقہ سے استدلال کیا ہے :

جو شخص ظلم کرتا ہے وہ ظالم ہے کیونکہ اس نے حدود الہی کو توڑا ہے :...وَمَن یتَعَدَّ حُدُودَ اللّهِ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ.بقرہ229(اور جو لوگ خدا کی مقرر کی ہوئی حدوں سے آگے بڑھتے ہیں وہی لوگ ظالم ہیں۔)

  • جس نے ظم کیا اسے امامت کا منصب نہیں ملے گا:...قَالَ لاَ ینَالُ عَهْدِی الظَّالِمِینَ(ارشاد ہوا: میرا عہدہ (امامت) ظالموں تک نہیں پہنچے گا۔)
  • اس آیت میں اپنے آپ پر ظلم کرنے والے ،دوسروں پر ظلم کرنے والے اور خدا کے حق میں ظلم کرنے والے شامل ہیں ۔یہانتک کہ جس نے اپنی زندگی میں ایک لحظہ بھی ظلم کیا ہو گا وہ بھی اس آیت میں شامل ہو گا ۔

پس اس بنا پر جس نے ظلم کیا ہو گا وہ معصوم نہیں ہو گا اور ظالم کو امامت کا عہدہ نہیں ملے گا ۔[33]

  • آیت اولی الامر
اصل مضمون: آیت اولی الامر

عصمت کے اثبات کیلئے اس آیت سے دو طرح استدلال کیا گیا ہے :

پہلی صورت:
جب بھی خدا کسی شرط و شروط کے بغیر کسی کی اطاعت کرنے کا حکم دے تو وہ معصوم شخص ہو گا ۔چونکہ اگر کوئی معصوم نہ ہو اور وہ دوسروں کو اطاعت کا حکم دے تو اسکی اطاعت کرنی چاہئے (چونکہ اللہ نے اسکی اطاعت کا حکم دیا ہے) اور اطاعت نہیں کرنا چاہئے (کیونکہ کیونکہ مخلوق خدا کی اس وقت تک اطاعت کی جا سکتی جب تک خدا کی نا فرمانی نہ ہوتی ہو ) ۔پس اس صورت میں اجتماع نقیضین لازم آتا ہے کہ جو محال ہے ۔[34]
دوسری صورت :
اس آیت میں اولی الامر کا عطف رسول پر کیا گیا ہے ؛پس رسول اور اولی الامر کی اطاعت ایک فعل اطیعواسے طلب کی گئی ہے۔رسول کی اطاعت کی شرط و بند کے بغیر چاہی گئی ہے اس بنا پر اولی الامر کی اطاعت بھی کسی شرط و شروط کے بغیر واجب ہے ۔اولی الامر معصوم ہو تو اسکی اطاعت میں کسی قسم کا اشکال نہیں ہے ۔[35]
  • آیت تطہیر
اصل مضمون: آیت تطہیر

انما یرید الله لیذهب عنکم الرجس اهل البیت و یطهرکم تطهیرا.احزاب 33 بعض شیعہ اور اہل سنے منابع میں مذکور ہے کہ رسول اللہ نے اس آیت کی توضیح میں فرمایا: میں اور میری اہل بیت گناہ سے پاک ہیں۔[36] نیز حضرت علی(ع) نے فدک کے واقعے میں اس آیت کے ذریعے حضرت زہرا(س) کے گناہ سے پاک ہونے کو ثابت کیا ۔[37]

اس آیت سے عصمت پر استدلال کرنا چند مقدمات پر موقوف ہے :

پہلا مقدمہ: خداوند نے صرف اہل بیت کی پاکیزگی کا ارادہ کیا ہے .
دوسرا مقدمہ: خدا کا ارادۂ تشریعی بعض افراد کے ساتھ مخصوص نہیں ہے ۔
تیسرا مقدمہ: جب ارادۂ تشریعی کسی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے تو خدا نے ارادۂ تکوینی کے ساتھ خود کچھ افراد کی پاکیزگی کا ارادہ کیا ہے ۔
چوتھا مقدمہ: خدا کا اراده تکوینی کا متحقق ہونا یقینی ہے اور اس کا تخلف ممکن نہیں ہے ۔
پانچواں مقدمہ: اس آیت میں پاکیزگی کسی شرط کے بغیر مطلق ذکر ہوئی ہے لہذا ہر قسم کی نجاست اور پلیدگی سے پاک ہونا ضروری ہے ۔
چھٹا مقدمہ: مسلمانوں میں سے صرف شیعہ حضرات رسول اللہ سے منسوب افراد : حضرت فاطمہ اور آئمہ طاہرین کی عصمت کے دعویدار ہیں ۔انکے علاوہ کوئی اور طائفہ خاندان رسالت کے کسی فرد کی عصمت کے مدعی نہیں ہیں ۔
پس اس بنا پر یہ آیت شیعوں کے آئمہ کی عصمت اور انکے گناہوں سے پاک ہونے کو بیان کرتی ہے ۔[38]
روایات
  • حدیث ثقلین
: قال رسول اللہ (ص): انی قد تَرَکتُ فِیکمْ ما ان أَخَذْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بعدی الثَّقَلَینِ أَحَدُهُمَا أَکبَرُ مِنَ الآخَرِ کتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إلی الأَرْضِ وعترتی أَهْلُ بیتی الا وانهما لَنْ یفْتَرِقَا حتی یرِدَا عَلَی الْحَوْضَ.
رسول خدا (ص) نے فرمایا :میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ۔اگر تم ان سے تمسک کئے رہو گے تو کبھی گمراہ نہیں ہو گے ۔ان دوںوں میں سے ہر ایک دوسری سے زیادہ بڑی ہے: اللہ کی کتاب کہ جو آسمان سے زمین کی طرف ایک رسی ہے اور دوسری میری عترت اور اہل بیت ہے ۔ یہ دونوں ایک دوسرے سے جدا نہیں ہونگی یہانتک کہ وہ مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات کریں گیں۔[39]
یہ روایت چند جہات سے اہل بیت کی عصمت ثابت کرتی ہے :
  • اس روایت میں رسول اللہ نے اہل بیت کی اطاعت میں کسی شرط کا لحاظ کئے بغیر مطلق تمام مسلمانوں کو انکی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔کسی شخص کی مطلق اطاعت کا حکم دینا اس شخص کے معصوم ہونے کا بیانگر ہے کیونکہ خدا کا کسی ایسے شخص کی اطاعت کا حکم دینا محال ہے کہ جس شخص کے گفتار و اقوال میں خطا،اشتباہ کا امکان ہو کیونکہ عین ممکن ہے کہ ایسا شخص اللہ اور اسکے رسول کی مخالفت کا مرتکب ہو جائے ۔
  • اس روایت میں قرآن اور اہل بیت کے درمیان جدائی اور قرآن اور اہل بیت کے درمیان مخالفت کے نہ ہونے کا حکم بیان ہوا ہے ۔جب اہل بیت گناہ یا اشتباہ کے مرتکب ہونگے اسی لحظے اہل بیت قرآن سے جدا ہو جائیں گے ۔قرآن سے انکا جدا ہونے کا اعتقاد رسول خدا کی تکذیب پر منتہی ہوگا ۔اس بنا پر یہ جملہ انکی عصمت کو بیان کرتا ہے ۔
  • اس روایت میں کتاب خدا اور اہل بیت سے تمسک گمراہی سے نجات کا سبب بیان ہوا ہے ؛پس جسطرح قرآن کی اطاعت ہدایت کا سبب گمراہی سے نجات کا سبب ہو گا اسی طرح اہل بیت کی پیروی بھی ہدایت کا سبب اور گمراہی سے نجات کا سبب ہو گی ۔یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ جب وہ گناہ اور خطا سے پاک اور معصوم ہوں ۔[40]
  • علی مع الحق و الحق مع علی
عبد الرحمن بن أبی سعد اپنے والد سے نقل کرتا ہے کہ ہم مہاجر و انصار کی ایک جماعت کے ساتھ رسول خدا کے پاس بیٹھے تھے کہ علی وہاں آئے ۔رسول خدا نے فرمایا:کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں بہترین شخص سے آگاہ کروں؟سب نے کہا کیوں نہیں ۔تو آپ نے فرمایا:تم میں سے بہترین وہ ہیں جو اپنے عہد کو پورا کرتے ہیں اور وہ اچھی خوشبو سے استفادہ کریں گے ۔ خدا متقی اشخاص کو دوست رکھتا ہے ۔راوی کہتا ہے : اسی دوران علی ہمارے پاس سے گزر گئے ؛ رسول نے فرمایا : یہ حق کے ساتھ ہے اور حق علی کے ساتھ ہے ۔ [41][42]
یہ روایت حضرت علی کی عصمت کی تصریح کرتی ہے کیونکہ:
ہمیشہ حق کی ہمراہی اور کردار اور گفتار میں خطا کا نہ ہونا عصمت کے معنا کے علاوہ کچھ اور نہیں ہے ۔رسول خدا گواہی دے رہے ہیں کہ علی تمام حالات میں حق کے ساتھ ہے اور کبھی وہ حق سے جدا نہیں ہونگے ۔یہ گواہی دینا اس بات کی علامت ہے کہ آپ ہر طرح کے گناہ اور خطا سے پاک وپاکیزہ ہیں کیونکہ انسان کا کردار اور گفتار ہمیشہ حق کے ساتھ نہیں ہے اور خطا و اشتباہ کا امکان اس میں موجود ہے جبکہ رسول اللہ نے حق علی کے ساتھ کہہ کر اسکی تائید کر دی کہ وہ کبھی خطا و نسیان و گناہ کا شکار نہیں ہونگے۔حضرت علی(ع) ہمیشہ حق کے ساتھ ہے اور کبھی اس سے جدا نہیں ہو گا اس بنا پر حضرت علی عصمت کا اعتقاد رکھنا ضروری ہے ورنہ قول رسول کی تکذیب لازم آتی ہے ۔
  • روایت امیرالمومنین(ع)
پیامبر اسلام(ص) نے فرمایا: مَنْ سَرَّهُ أَنْ ینْظُرَ إِلَی الْقَضِیبِ الْیاقُوتِ الْأَحْمَرِ الَّذِی غَرَسَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِیدِهِ وَیکونَ مُتَمَسِّکاً بِهِ فَلْیتَوَلَّ عَلِیاً وَالْأَئِمَّةَ مِنْ وُلْدِهِ فَإِنَّهُمْ خِیرَةُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَصَفْوَتُهُ وَهُمُ الْمَعْصُومُونَ مِنْ کلِّ ذَنْبٍ وَخَطِیئَةٍ.
جو شخص بھی اس بات پر خوشحال ہو کہ وہ ایسے سرخ یاقوت کے ٹکڑے کو دیکھے کہ جسے اللہ نے اپنے ہاتھوں سے خلق کیا اور وہ اس سے متمسک رہے تو اسے چاہئے کہ وہ علی اور اسکی اولاد میں سے ائمہ کو دوست رکھے کیونکہ وہ خدا کی بہترین مخلوق ہیں اور وہ ہر طرح کے گناہ اور خطا سے معصوم ہیں ۔[43]
یہ روایت بھی شیعہ آئمہ کی عصمت پر دلالت کرتی ہے ۔

فرشتوں کی عصمت

عَلَیها مَلائِکةٌ غِلاظٌ شِدادٌ لا یعْصُونَ اللَّهَ ما أَمَرَهُمْ وَ یفْعَلُونَ ما یؤْمَرُونَ.(6) تحریم ترجمہ:اس پر ایسے فرشتے مقرر ہیں جو تُندخو اور درشت مزا ج ہیں انہیں جس بات کا حکم دیا گیا ہے وہ اس کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہ وہی کام کرتے ہیں جس کا انہیں حکم دیا گیا ہے۔

ملائکہ ایسے موجودات میں سے ہیں جو ہر قسم کے گناہ اور معصیت سے پاک ہیں۔پہلے کہا گیا کہ عصمت ایسے موجودات سے تعلق رکھتی ہے جو گناہ اور اشتباہ انجام دینے کی قدرت رکھنے کے باوجود گناہ اور اشتباہ کے مرتکب نہ ہوں ۔پس جب ایسے موجودات با لطف الہی ایسے گناہ و اشتباہ کے ارتکاب سے پرہیز کرتے ہیں کہ جو لوگوں کی بے اعتمادی کا موجب بنتے ہیں تو وہ معصوم ہیں۔ پس اس بنا پر فرشتے اگرچہ ہر قسم کے گناہ و اشتباہ مصون ہیں لیکن وہ صاحبان عصمت نہیں ہیں ۔

البتہ اگر گناہ نہ کرنا عصمت سے مراد ہو(چاہے وہ اپنے ارادے اور توان کے نہ ہونے کی بنا پر گناہ نہ کریں) تو فرشتے بھی معصوم ہیں کیونکہ ان میں گناہ کی نسبت کسی قسم کا میلان اور کشش نہیں پائی جاتی لہذا وہ گناہ نہیں کرتے بلکہ وہ ہمیشہ پروردگار کی تقدیس و تحلیل اور اوامر الہی میں مشغول رہتے ہیں ۔[44]

حوالہ جات

  1. فیومی، ص۴۱۴
  2. دہخدا، مادہ عصمت
  3. ابن منظور، ج۱۲، ص۴۰۵
  4. شریف مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ص۳۲۶
  5. جرجانی، شرح المواقف، ص۲۸۰
  6. شریف مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ص۳۲۶
  7. حلی، الباب الحادی عشر‏، ص۹
  8. ربانی گلپائگانی، محاضرات فی الالہیات، ص۲۷۶
  9. مطہری، وحی و نبوت، ص۱۵۹
  10. حلی، کشف المراد، ص۴۹۴
  11. ری شہری، ص۲۱۰
  12. ری شہری، ص۲۱۵
  13. مصباح یزدی، راہ و راہنما شناسی، ص۱۱۹
  14. قدردان قراملکی، ص۳۸۸-۳۹۰
  15. تفتازانی، شرح المقاصد،ج۵، ص۵۰
  16. جرجانی، شرح المواقف، ص۲۶۳
  17. تفتازانی، شرح المقاصد، ج۵، ص۵۰
  18. مصباح یزدی، راہ و راہنما شناسی، ص۱۵۳و۱۵۴
  19. مفید، النکت الاعتقادیہ، ص۳۵؛ حلی، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، ص۳۹۴
  20. صدوق، من لا یحضرہ الفقیہ،ج۱، ص۳۶۰
  21. مفید، عدم سہو النبی، ص۲۹و۳۰
  22. کلینی، اصول کافی،ج۱، ص۲۵-۳۱
  23. مصباح یزدی، آموزش عقائد، ص۱۹۳-۱۹۴
  24. طباطبائی، المیزان فی تفسیر القرآن، ج۲، ص۱۳۸؛ شریف مرتضی، تنزیہ الانبیاء کے، ص۵
  25. مصباح یزدی، راه و راہنما شناسی، ص۱۵۳و۱۵۴
  26. حلی، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، ص۳۹۴
  27. مفید، عدم سہو النبی، ص۲۹و۳۰
  28. ربانی گلپایگانی، تقریرات درس امامت، مدرسه فقاهت
  29. شریف مرتضی، الشافی فی الامامہ، ج۱، ص۲۸۹ و۲۹۰
  30. بحرانی، قواعد المرام فی علم الکلام،ص۱۷۸- ۱۷۹
  31. سورہ مائدہ، آیت۲
  32. سورہ نساء، آیت۵۹؛ خواجہ نصیر الدین، تجرید الاعتقاد، ص۲۲۲؛ تفتازانی، شرح المقاصد، ج۵، ص۲۴۹
  33. شریف مرتضی، الشافی، ج۳، ص۱۴۱
  34. مظفر، ج۲، ص۱۷
  35. طبرسی، ج۲، ص۶۴
  36. دلائل‏ النبوة،ج‏۱،ص:۱۷۱؛ إمتاع‏الأسماع،ج‏۳،ص:۲۰۸ فأنا و أهل بیتی مطهرون من الذنوب‏
  37. كامل بہائی، عماد طبری، ص:۲۵۶
  38. طباطبائی، ج۱۶، ص۳۱۰-۳۱۲
  39. ابن حنبل، ج۳، ص۵۹، ح۱۱۵۷۸،
  40. عصمت ائمہ از دیدگاه عقل و نقل
  41. أبو یعلی، ج۲، ص۳۱۸، ح۱۰۵۲
  42. عسقلانی، ج۱۶، ص۱۴۷
  43. صدوق، عیون اخبار الرضا، ج۲، ص۵۷
  44. مکارم، ج۱۷، ص۳۰۴


مآخذ

  • ابن حنبل، حمد، مسند أحمد بن حنبل، مصر، مؤسسہ قرطبہ؛
  • ابن منظور، لسان العرب، تصحیح: میردامادی، بیروت، دارالکفر، ۱۴۱۴؛
  • أبو یعلی، أحمد بن علی، مسند أبی یعلی، تحقیق: حسین سلیم أسد، دمشق، دار المأمون للتراث، ۱۴۰۴؛
  • ایجی، میرسید شریف، شرح المواقف، افست قم، شریف رضی، ۱۳۲۵؛
  • بیہقی، احمد بن حسین(۴۵۸)، دلائل النبوۃ و معرفۃ أحوال صاحب الشریعۃ، تحقیق عبد المعطی قلعجی، بیروت، دار الكتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۰۵.
  • حلی، الباب الحادی عشر، تہران، موسسہ مطالعات اسلامی، ۱۳۶۵؛
  • حلی، کشف المراد، قم، موسسہ نشر اسلامی، ۱۴۱۳، چاپ چہارم؛
  • سبحانی، جعفر، محاضرات فی الالہیات، تلخیص: علی ربانی گلپایگانی، قم، موسسہ امام صادق، ۱۴۲۸؛
  • شریف مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، قم، دارالکتب، ۱۴۰۵؛
  • شریف مرتضی، علی بن حسین، الشافی فی الامامۃ، مؤسسۃ الصادق، تہران، ۱۴۰۷ق؛
  • صدوق، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا(ع)، تحقیق: الشیخ حسین الأعلمی، بیروت، مؤسسۃ الأعلمی للمطبوعات، ۱۴۰۴؛
  • طباطبایی، محمد حسین، المیزان، قم، نشر اسلامی، ۱۴۱۷ق؛
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، داراحیاء التراث العربی، بیروت؛
  • طبری، عمادالدین، کامل بہائی، مرتضوی، تہران، ۱۳۸۳ش، چاپ اول.
  • عسقلانی، أحمد بن علی، المطالب العالیۃ بزوائد المسانید الثمانیۃ، تحقیق: سعد بن ناصر بن عبد العزیز الشتری، سعودیہ، دار العاصمۃ/ دار الغیث، ۱۴۱۹ہ؛
  • فیومی، احمد بن محمد، مصباح المنیر، قم، دارالہجرہ، ۱۴۱۴؛
  • قدردان قراملکی، محمد حسن، کلام فلسفی، قم، وثوق، ۱۳۸۳؛
  • محمدی ری شہری، محمد، فلسفہ وحی و نبوت، قم، انتشارات دفتر تبلیغات، ۱۳۶۳؛
  • مطہری، وحی و نبوت، تہران، نشر صدرا؛
  • مظفر، محمدحسن، دلائل الصدق، مکتبۃ الذجاج، تہران؛
  • مقریزی(م ۸۴۵)،أحمد بن علی، إمتاع الأسماع بما للنبی من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع، ، تحقیق محمد عبد الحمید النمیسی، بیروت، دار الكتب العلمیۃ، ط الأولی، ۱۴۲۰.
  • مکارم شیرازی، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران، دار الکتب الاسلامی، ۱۳۷۴؛