آیت تبلیغ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
آیت تبلیغ
تابلو فرش شجره طیبه مزین به آیه تطهیر ، آیه تبلیغ و آیه اکمال .jpg
شجرہ طیبہ کے گرد محراب میں آیہ تبلیغ درج شدہ قالیچہ جو امام رضاؑ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔
آیت کی خصوصیات
آیت کا نام: آیہ بلغ
سورہ: سورہ مائدہ
آیت نمبر: 67
پارہ: 6
صفحہ نمبر: 119
محل نزول: مکہ
موضوع: اعتقادی
مضمون: واقعہ غدیر
مربوط آیات: آیت اکمال و آیت ولایت


آیت تبلیغ سورہ مائدہ کی 67 ویں آیت اور پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والی آخری آیات میں سے ہے۔ اس آیت کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کو ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ لوگوں تک ایک پیغام پہنچائیں اور کوتاہی کرنے کی صورت میں گویا انہوں نے اپنی رسالت کو انجام نہیں دیا ہے۔

شیعہ اور بعض اہل سنت کے نظریے کے مطابق یہ آیت سنہ 10 ھ کو حجۃ الوداع کے موقع پر 18 ذی الحجہ سے کچھ پہلے نازل ہوئی ہے۔ شیعوں کے عقیدے کے مطابق اس پیغام کا موضوع حضرت علی علیہ السلام کی خلافت اور وصایت ہے جسے پیغمبر اکرمؐ نے آیت کے نزول کے بعد انجام دیا۔

متن اور ترجمہ

يَاأَيُّهَاالرَّسُولُ بَلِّغْ مَاأُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَابَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ وَاللّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ إِنَّ اللّهَ لاَ يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ

اے رسول! جو کچھ آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ پر اتارا گیا ہے۔ اسے (لوگوں تک) پہنچا دیجیے اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو (پھر یہ سمجھا جائے گا کہ) آپ نے اس کا کوئی پیغام پہنچایا ہی نہیں۔ اور اللہ آپ کی لوگوں (کے شر) سے حفاظت کرے گا بے شک خدا کافروں کو ہدایت نہیں کرتا۔

شأن نزول

تفصیلی مضمون: واقعہ غدیر
مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ آیت 18 ذی الحجہ کو رسول خداؐ کی حجۃ الوداع سے واپسی پر غدیر خم کے مقام پر نازل ہوئی۔[1] اہل سنت کے مآخذ میں بھی بعض روایات ملتی ہیں جن میں اس آیت کے نزول کے زمان اور مکان کو غدیر خم ذکر کیا ہے۔[2] شیعہ علما، شیعہ ائمہ اور بعض صحابہ کی روایات کے پیش نظر آیت تبلیغ کے شان نزول کو واقعہ غدیر اور امیرالمومنینؑ کی جانشینی قرار دیتے ہیں۔[3]جبکہ اہل سنت علما بھی اس آیت کے سبب نزول کو پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کا آغاز یا اسلام پہنچانے پر آپؐ کے مامور ہونے کو قرار دیا ہے۔[4]

شیعہ مآخذ کے مطابق جبرائیل امینؑ سب سے پہلے حجۃ الوداع میں حج کے موقع پر رسول اکرمؐ کے پاس تشریف لائے اور لوگوں سے حضرت علیؑ کی جانشینی کیلئے بیعت لینے کا تقاضا کیا لیکن رسول اللہؐ کو قریش کی دشمنی اور منافقت نیز امیرالمومنینؑ سے ان کی حسد کے بارے میں جو آگاہی تھی اور تفرقہ بازی اور جاہلیت کی طرف واپس لوٹنے کو دیکھتے تھے اس کے پیش نظر اللہ تعالی سے حفظ و امان کی دعا کی۔

جبرائیل دوسری مرتبہ مسجد خیف کے مقام پر رسول اللہ پر نازل ہوئے اور آپ سے دوبارہ لوگوں تک اسی پیغام کو پہنچانے کا تقاضا کیا لیکن اس بار بھی جبرائیل لوگوں سے حفظ و امان کی ضمانت کے بغیر نازل ہوئے۔

جبرائیل تیسری مرتبہ مکہ اور مدینہ کے درمیان اسی پیغام کے ساتھ آئے اور وہی حکم تکرار کیا۔ جس کے جواب میں رسول اللہؐ نے فرمایا: مجھے اس بات کا ڈر ہے کہ لوگ علی کی جانشینی کے حکم کو جھوٹ سمجھیں اور مجھے جھٹلا دیں اور میری بات کو نہ مانیں۔

آخری اور چوتھی مرتبہ وحی کا فرشتہ غدیر خم کے مقام پر نازل ہوئے حکم الہی کی تکرار کے ساتھ لوگوں سے حفظ و امان کی خوشخبری بھی ساتھ لائے اور منافقوں کی جانب سے کسی قسم کے نقصان نہ پہنچنے کی خوشخبری بھی سنائی۔[5][نوٹ 1]

دیگر احتمالات

حیات علویہ کے اہم واقعات
599ء ولادت
610ء سب سے پہلے رسول اللہؐ پر ایمان لائے
619ء حضرت ابو طالبؑ (والد) کی وفات
622ء لیلۃ المبیت: رسول اللہؐ کے بستر پر سونا
622ء ہجرت مدینہ
2ھ624ء جنگ بدر میں شرکت
3ھ-625ء جنگ احد میں شرکت
4ھ-626ء (والدہ) فاطمہ بنت اسد کی وفات
5ھ-627ء غزوہ احزاب میں شرکت اور عمرو بن عبدود کو قتل کرنا
6ھ-628ء رسول خداؐ کے حکم پر صلح حدیبیہ کے متن کی تحریر
7ھ-629ء غزوہ خیبر؛ قلعہ خیبر کے فاتح
8ھ-630ء فتح مکہ میں شرکت اور حضورؐ کے حکم پر بتوں کو توڑنا
9ھ-632ء غزوہ تبوک میں رسول اللہؐ کی مدینہ میں جانشینی
10ھ-632ء حجۃ الوداع میں شرکت
10ھ-632ء واقعہ غدیر خم
11ھ-632ء رسول خداؐ کی وفات اور آپ کی تغسیل و تکفین
11ھ-632ء سقیفہ بنی ساعدہ کا واقعہ اور ابوبکر کی خلافت کا آغاز
11ھ-632ء (زوجہ) حضرت زہراؑ کی شہادت
13ھ-634ء عمر بن خطاب کی خلافت کا آغاز
23ھ-644ء خلیفہ کے تعین کے لئے عمر کی چھ رکنی شوری میں شرکت
23ھ-644ء عثمان کی خلافت کا آغاز
35ھ-655ء لوگوں کی بیعت اور حکومت کا آغاز
36ھ-656ء جنگ جمل
37ھ-657ء جنگ صفین
38ھ-658ء جنگ نہروان
40ھ-661ء شہادت

اس آیت کی نزول کے اسباب میں بعض دیگر احتمال بھی ذکر ہوئے ہیں جنہیں شیعہ اور سنی علما نے نقد کیا ہے۔

1. آیت کا نزول مکہ میں

بعض اہل سنت علما کا خیال ہے کہ یہ آیت مکہ میں پیغمبر اکرمؐ کی رسالت کے ابتدائی ایام میں نازل ہوئی ہے اور اس کے نزول کا مقصد مشرکین اور کفار کو دینی حقائق پہنچانا تھا۔ بعض روایات کے مطابق دشمن کی شر سے محفوظ رکھنے کے لئے رسول اللہ کی حفاظت پر افراد معین کئے گئے تھے لیکن اس آیت کے نزول کے بعد ان افراد کو فارغ کیا اور فرمایا کہ اللہ تعالی مجھے دشمنوں کی شر سے محفوظ رکھے گا اسکے علاوہ دینی حقائق کو کسی خوف کے بغیر کفار اور مشرکین تک پہنچانے پر مامور ہوئے۔[6]

نقد اس نظرئے کی تردید میں کہا گیا ہے کہ: مفسرین اس بات پر متفق ہیں سورۂ مائدہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے[7] نیز عبد اللہ بن عمر کی روایات کے مطابق سورت مائدہ آخری نازل ہونے والی سورت ہے[8]اس فرض کے مطابق آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے اور کئی سال تک کسی بھی سورت سے ملحق ہوئے بغیر رہ گئی ہے جس کو اکیلے ہی تلاوت کی جاتی رہی ہے۔ یا اس کو الگ کر کے رکھا گیا ہے؛ اور یہ فرض صحیح نہیں ہے۔ اکیلا تلاوت کیا جائے[9]

اس کے علاوہ جو روایت پیغمبر اکرمؐ کی مکہ میں جان کی حفاظت کے بارے میں وارد ہوئی ہے بعض مفکروں نے اسے حدیث غریب اور منکر قرار دیا ہے۔[10]

۲. اہل کتاب کو ابلاغ

جیسا کہ بعض نے لکھا ہے کہ یہ آیت مدینہ میں نازل ہوئی ہے[11] اور اس کا مقصد رسول اللہ کو موظف کرنا تھا کہ وہ کسی خوف کے بغیر اہل کتاب کو وحی کے حقائق ابلاغ کریں [12]محمد بن یوسف ابو حیان نے کہا ہے کہ رسول اللہ کو اس آیت کے ذریعے کہا گیا کہ وہ سنگسار اور قصاص کے حکم کو یہودیوں اور مسیحیوں کو پہنچائیں کیونکہ انہوں نے تورات و انجیل میں ان احکام میں تحریف کی تھی۔[13]

ان کا یہ کہنا ہے کہ اس آیت سے پہلی اور بعد والی آیات اہل کتاب سے مربوط ہیں اور اس آیت کا موضوع بھی اس سے پہلے اور بعد والی آیات سے اجنبی نہیں ہونا چاہئے۔

نقد

تاریخی مآخذ کے مطابق مسلمانوں کی یہودیوں سے جنگ بنی قریظہ اور جنگ خیبر میں یہودیوں کا غرور اور زور ٹوٹ گیا تھا اور ان کے مراکز پر کنٹرول کرنے اور بعض کو مدینہ سے جلاوطن کرنے کے بعد ان کا اثر رسوخ ماند پڑگیا۔[14] جبکہ حجاز کے عیسائی خاص طور پر مدینہ میں اس قدر قدرت مند نہیں تھے اور مسلمانوں کے ساتھ صرف مباہلے میں آمنے سامنے ہوئے تھے۔[15] اور وہ بھی خود ہی انکی فرمائش پر منسوخ ہوا۔

پس ان حقائق کی روشنی میں رسول خدا اور مسلمانوں کو رسول خداؐ کی عمر کے آخری سالوں میں یہود اور نصاری سے کسی قسم کا خوف اور پریشانی لاحق نہیں تھی کہ جو کسی قسم کے پیغام کو ان تک ابلاغ کرنے میں رکاوٹ بنے ۔اسکے علاوہ مذکورہ آیت موضوع کے لحاظ سے پہلی اور بعد والی آیات سے اجنبی نہیں بلکہ سازگار ہے کیونکہ مذکورہ آیت سے پہلی اور بعد والی آیات یہود اور نصارا کی مذمت میں نازل ہوئی ہیں چونکہ وہ یہ خیال کرتے تھے کہ رسول خدا کی رحلت کے ساتھ ہی مسلمانوں کی قدرت کا خاتمہ ہو جائے گا اور انہیں دوبارہ نفوذ و قدرت حاصل کرنے کا موقع فراہم ہوگا ۔ لیکن اس آیت تبلیغ میں پیغمبر اکرمؐ کے بعد کی امت اسلامیہ کی رہبری کے تعین کے ذریعے ان کے اس خیال کا بطلان کو ظاہر کیا گیا نیز یہ مطلب آیت اکمال سے سازگار ہے جو حضرت علیؑ کی ولایت کے اعلان کے بعد نازل ہوئی۔[16]

اہم نکات

اس ذمہ داری کی اہمیت

آیت متعلقہ پیغام کی اہمیت اور اسکی حساسیت کی طرف اشارہ کرتی ہے کیونکہ پیغام نہ پہنچانے کی صورت میں کہا جارہا ہے کہ کوئی رسالت کا کام ہی انجام نہیں دیا ہے۔ گویا یہ پیغام قدر و قیمت کے لحاظ سے نبوت اور رسالت کے برابر ہے۔ اور یہ تصور نہیں کیا جا سکتا وہ پیغام توحید، نبوت، قیامت کی طرح اعتقادی یا نماز روزہ اور حج جیسے فقہی احکام سے متعلق ہو کیونکہ سورہ مائدہ آخری سورتوں میں سے ہے جو نازل ہوئی ہیں۔ اور ان تمام چیزوں کے احکام اس سے پہلے پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہو چکے تھے اور لوگوں تک پہنچا بھی دیا تھا۔ پس کہا جا سکتا ہے کہ رسالت کے آخری ایام میں ایک ایسی چیز کا مرحلہ آ چکا تھا کہ جو بہت اہم اور لوگوں کے لئے جدید ہونے کے ساتھ ساتھ خود رسالت کے لیے تکمیل کنندہ کی حیثیت رکھتا ہے اور وہ چیز رسول اللہ کے وصال کے بعد امت اسلامی کی رہبری کے مسئلے کے علاوہ کچھ اور نہیں تھا۔[حوالہ درکار]


ابلاغ میں رسول اللہ کی پریشانی

موضوع کی حساسیت کے پیش نظر رسول خداؐ پیغام پہنچانے میں بہت سے پریشان تھے۔ لیکن اللہ تعالی نے واللّهُ یعْصِمُکَ مِنَ الناس‌ کے وعدے کے ذریعے اس پریشانی کو دور فرمایا۔[حوالہ درکار] اس بات کے پیش نظر کہ آیت کا شان نزول اہل کتاب اور مشرکان قریش کے متعلق نہیں ہے، واضح ہوتا ہے کہ آیت تبلیغ میں «الناس» سے مراد اسلامی معاشرے میں موجود منافقین ہیں۔[حوالہ درکار]
رسول خدا حضرت علی کی جانشینی کے اعلان کے بعد انکی جانب سے مخالفت کی وجہ سے پریشان تھے کیونکہ:

  • منافقین اسلامی معاشرے کی ریاست کے لیے پیغمبر اکرمؐ کی جانشینی کے خواہاں تھے اور دنیا کی نعمتوں کے حصول کو آپ کی جانشینی کے حصول میں دیکھتے تھے۔ اور امام علیؑ کا جانشین بننا ان کی آرزو کے خلاف تھا۔[17]
  • حضرت علیؑ قاطع اور دوسروں سے متاثر نہ ہونے والی شخصیت کی حیثیت سے جانے جاتے تھے۔[18]
  • نئے مسلمانوں کے دلوں میں حضرت علیؑ کی نسبت کینہ تھا چونکہ اکثر جنگوں میں حضرت علی نے انکے عزیزوں اور اقربا کو قتل کیا تھا۔[حوالہ درکار]
  • حضرت رسول ختمی مرتبت کی وصال کے وقت حضرت علیؑ کی عمر صرف 33 سال تھی۔ ایک ایسا معاشرہ جس میں منصب پر پہنچنے کے لیے عمر کا زیادہ ہونا ایک نہایت اہم عامل ہو وہاں پر آپؑ کی رہبری کو قبول کرنا اتنا آسان مسئلہ نہیں تھا۔[حوالہ درکار]

اور یہ بات جنگ تبوک کے موقع پر مدینہ میں حضرت علی کو پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے جانشین مقرر کرنے نیز آپؐ عمر کے آخری لمحات میں اسامہ بن زید کو لشکر کا سپہ سالار مقرر کرنے پر ظاہر ہوگئی۔[19]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. مراجعہ کریں: قمی، تفسیر القمی، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۱۷۹؛ عیاشی، تفسیر العیاشی، ۱۳۸۰ق، ج۱، ص۳۳۲.
  2. مراجعہ کریں: سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۲۹۸؛ آلوسی، روح المعانی، ۱۴۰۵ق، ج۶، ص۱۹۴.
  3. کلینی، الکافی، ۱۴۰۱ق، ج‌۱، ص‌۲۹۰، ح‌۶؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۵۷؛ ابوالفتوح رازی، روض الجنان و روح الجنان، ۱۳۸۲-۱۳۸۷ش، ج۴، ص۲۷۵-۲۸۱.
  4. مراجعہ کریں: طبری، جامع البیان، ۱۴۲۲ق، ج۸، ص۵۶۷-۵۶۹؛ ثعالبی، جواهر الحسان، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۴۴۲؛ سیوطی، الدر المنثور، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۲۹۸؛ ابوحیان، تفسیر البحر المحیط، ۱۹۸۳م، ج۳، ص۵۲۹.
  5. فضل طبرسی، اعلام الوری، ج3 ص 344 حاکم حسکانی سے منقول۔
  6. مراجعہ کریں: طبری، جامع البیان، ج۴، جزء ۶، ص۱۹۸ـ ۱۹۹؛ ثعالبی، ج۱، ص۴۴۲؛ سیوطی، ج۲، ص۲۹۸
  7. ابن عطیہ،المحرر الوجیز، ۱۴۲۲ق، ج۵، ص۵؛ قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ۱۹۶۵م، ج۳، ص۳۰.
  8. ترمذی، الجامع الصحیح، ۱۴۰۸ق، ج۵، ص۲۶۱، عبداللہ بن عمر سے منقول۔
  9. ابن عاشور،6/256
  10. ابن کثیر، تفسیر القرآن العظیم، دار القلم، ج۲، ص۱۳۲.
  11. ابوحیان، تفسیر البحر المحیط، ۱۹۸۳ق، ج۳، ص۵۲۹.
  12. طبری، جامع البیان، ۱۴۲۲ق، ج۴، جزء ۶، ص۱۹۸؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، دار احیاء التراث، ج۱۲، ص۴۰۱.
  13. ابوحیان، تفسیر البحر المحیط، ۱۹۸۳م، ج۳، ص۵۲۹.
  14. احزاب:۲۶ـ۲۷؛ حشر:۲ـ۴.
  15. آل عمران:۶۱.
  16. طوسی، ج ۳، ص ۴۳۵ ۔ فضل طبرسی، ۱۴۰۸، ج ۳، ص ۲۴۶ ۔ حویزی، ج ۱، ص ۵۸۷ ـ۵۹۰
  17. عیاشی، تفسیر العیاشی، ۱۳۸۰ق، ج۲، ص۹۷،۹۹.
  18. ابوالفتوح رازی، روض الجنان، ۱۳۸۲-۱۳۸۷ش، ج۴، ص۲۷۶
  19. طبری،تاریخ طبری،3/186۔ابن ابی الحدید،شرح نہج البلاغہ،1/159۔
  1. فَأَقِمْ یا مُحَمَّدُ عَلِیاً عَلَماً وَ خُذْ عَلَیهِمُ الْبَیعَةَ وَ جَدِّدْ عَهْدِی وَ مِیثَاقِی لَهُمُ الَّذِی وَاثَقْتُهُمْ عَلَیهِ فَإِنِّی قَابِضُكَ إِلَی وَ مُسْتَقْدِمُكَ عَلَی فَخَشِی رَسُولُ اللَّهِ (ص) مِنْ قَوْمِهِ وَ أَهْلِ النِّفَاقِ وَ الشِّقَاقِ أَنْ یتَفَرَّقُوا وَ یرْجِعُوا إِلَی الْجَاهِلِیةِ لِمَا عَرَفَ مِنْ عَدَاوَتِهِمْ وَ لِمَا ینْطَوِی عَلَیهِ أَنْفُسُهُمْ لِعَلِی مِنَ الْعَدَاوَةِ وَ الْبَغْضَاءِ وَ سَأَلَ جَبْرَئِیلَ أَنْ یسْأَلَ رَبَّهُ الْعِصْمَةَ مِنَ النَّاسِ وَ انْتَظَرَ أَنْ یأْتِیهُ جَبْرَئِیلُ بِالْعِصْمَةِ مِنَ النَّاسِ عَنِ اللَّهِ جَلَّ اسْمُهُ فَأَخَّرَ ذَلِكَ إِلَی أَنْ بَلَغَ مَسْجِدَ الْخَیفِ فَأَتَاهُ جَبْرَئِیلُ(ع) فِی مَسْجِدِ الْخَیفِ فَأَمَرَهُ بِأَنْ یعْهَدَ عَهْدَهُ وَ یقِیمَ عَلِیاً عَلَماً لِلنَّاسِ یهْتَدُونَ بِهِ وَ لَمْ یأْتِهِ بِالْعِصْمَةِ مِنَ اللَّهِ جَلَّ جَلَالُهُ بِالَّذِی أَرَادَ حَتَّی بَلَغَ كُرَاعَ الْغَمِیمِ بَینَ مَكَّةَ وَ الْمَدِینَةِ فَأَتَاهُ جَبْرَئِیلُ وَ أَمَرَهُ بِالَّذِی أَتَاهُ فِیهِ مِنْ قِبَلِ اللَّهِ وَ لَمْ یأْتِهِ بِالْعِصْمَةِ فَقَالَ یا جَبْرَئِیلُ إِنِّی أَخْشَی قَوْمِی أَنْ یكَذِّبُونِی وَ لَا یقْبَلُوا قَوْلِی فِی عَلِی(ع) فَرَحَلَ فَلَمَّا بَلَغَ غَدِیرَ خُمٍّ قَبْلَ الْجُحْفَةِ بِثَلَاثَةِ أَمْیالٍ أَتَاهُ جَبْرَئِیلُ(ع) عَلَی خَمْسِ سَاعَاتٍ مَضَتْ مِنَ النَّهَارِ بِالزَّجْرِ وَ الِانْتِهَارِ وَ الْعِصْمَةِ مِنَ النَّاسِ فَقَالَ یا مُحَمَّدُ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَ جَلَّ یقْرِؤُكَ السَّلَامَ وَ یقُولُ لَكَ- یا أَیهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ ما أُنْزِلَ إِلَیكَ مِنْ رَبِّكَ فِی عَلِی وَ إِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَما بَلَّغْتَ رِسالَتَهُ وَ اللَّهُ یعْصِمُكَ مِنَ النَّاس‌. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۵۷؛ طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج‌۳، ص‌۳۴۴؛ منقول از حاکم حسکانی

مآخذ

  • آلوسی، محمود بن عبداللہ، روح المعانی فی تفسیر القرآن العظیم و السبع المثانی، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۵ھ۔
  • ابن عاشور، محمد طاہر، تفسیر التحریر و التنویر، تونس، بی نا، ۱۹۸۴ء۔
  • ابن عطیہ، عبد الحق بن غالب، المحرر الوجیز فی تفسیر الکتاب العزیز، تحقیق محد عبد السلام عبد الشافی، بیروت، دار الکتب العلیمہ، ۱۴۲۲ھ۔
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، تحقیق خلیل میس، بیروت، دار القلم، بی‌تا.
  • ابو الفتوح رازی، حسین بن علی، تفسیر روض الجنان و روح الجنان، محقق ابو الحسن شعرانی و علی اکبر غفاری، تہران ۱۳۸۲-۱۳۸۷ہجری شمسی۔
  • ابو حیان، محمد بن یوسف، تفسیر البحر المحیط، بیروت، بی نا، ۱۹۸۳ء۔
  • ترمذی، محمد بن عیسی، الجامع الصحیح، محقق شاکر احمد محمد، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۰۸ھ۔
  • ثعالبی، عبد الرحمان بن احمد، الجواہر الحسان فی تفسیر القرآن، مصحح ابو محمد غماری ادریسی حسنی، بیروت، بی نا، ۱۴۱۶ھ/ ۱۹۹۶ء۔
  • حویزی، عبد علی بن جمعہ، کتاب تفسیر نور الثقلین، تصحیح ہاشم رسولی محلاتی، قم، المطبعۃ العلمیۃ، ۱۳۸۳ہجری شمسی۔
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور فی التفسیر بالمأثور، بیروت، دارالفکر، ۱۴۱۴ھ۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، مشہد، نشر المرتضی، چاپ اول، ۱۴۰۳ھ۔
  • طبرسی، فضل بن الحسن، اعلام الوری بأعلام الہدی، قم، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام لاحیاء التراث، ۱۴۱۷ھ۔
  • طبرسی، فضل بن الحسن، مجمع البیان فی تفسیر القرآن، تصحیح و تعلیق ہاشم رسولی محلاتی و فضل اللّہ یزدی طباطبائی، بیروت ۱۴۰۸ھ۔
  • طبری، محمد بن جریر، الجامع البیان عن تأویل آی القرآن، بہ تحقیق عبداللہ بن عبد المحسن الترکی، [بی‌جا]، دار ہجر للطباعۃ و النشر، چاپ اول، ۱۴۲۲ق/۲۰۰۱ء۔
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری (تاریخ الامم و الملوک)، تحقیق محمد ابو الفضل ابراہیم، بیروت، روائ‍ع‌ ال‍ت‍راث‌ ال‍ع‍رب‍ی‌‏‫، ۱۳۸۷ھ۔
  • عیاشی، محمد بن‏ مسعود، تفسیر العیاشی، بہ کوشش ہشام رسولی محلاتی، تہران، المکتبۃ العلمیۃ الاسلامیۃ، ۱۳۸۰ھ۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، بہ کوشش علی اکبر غفاری، بیروت: دار التعارف، ۱۴۰۱ھ۔
  • فخر رازی، محمد بن عمر، مفاتیح الغیب (التفسیر الکبیر)، بیروت، دار احیاء التراث العربی، بی‌تا.
  • قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن، بیروت، ۱۹۶۵ء، چاپ افست تہران ۱۳۶۴ہجری شمسی۔
  • قمی، علی بن ابراہیم، تفسیر القمی، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ۱۴۱۲ھ/۱۹۹۱ء۔

بیرونی روابط