آئمہ معصومین علیہم السلام

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
شیعہ
السعید۲.jpg
اصول دین (عقائد)
بنیادی عقائد توحید  • عدل  • نبوت  • امامت  • معاد یا قیامت
دیگر عقائد عصمت  • ولایت  • مہدویت: غیبت  • انتظار • ظہور • رجعت  • بداء  • ......
فروع دین (عملی احکام)
عبادی احکام نماز • روزہ • خمس • زکات • حج • جہاد
غیرعبادی احکام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  • تولا  • تبرا
منابع اجتہاد قرآن کریم  • سنت (پیغمبر اور ائمہ کی حدیثیں)  • عقل  • اجماع
اخلاق
فضائل عفو • سخاوت • مواسات • ...
رذائل كبر  • عُجب  • غرور  • حسد  • ....
مآخذ نہج البلاغہ  • صحیفۂ سجادیہ  • .....
نمایاں عقائد
امامت  • مہدویت • رجعت • بدا • شفاعت  • توسل  • تقیہ  • عصمت  • مرجعیت، تقلید • ولایت فقیہ • متعہ  • عزاداری  • متعہ  • عدالت صحابہ
شخصیات
شیعہ ائمہ امام علی(ع)  • امام حسن(ع)  • امام حسین(ع)  • امام سجاد  • امام باقر(ع)  • امام صادق(ع)  • امام کاظم(ع)  • امام رضا(ع)  • امام جواد(ع)  • امام ہادی(ع)  • امام عسکری(ع)  • امام مہدی(ع)  •
صحابہ سلمان فارسی  • مقداد بن اسود  • ابوذر غفاری  • عمار یاسر

خواتین:

خدیجہ(س) • فاطمہ(س) • زینب(س) • ام کلثوم بنت علی • اسماء بنت عمیس • ام ایمن  • ام سلمہ
شیعہ علما ادباء • علمائے اصول • شعراء • علمائے رجال • فقہاء • فلاسفہ • مفسرین
مقامات
مسجد الحرام • مسجد النبیبقیع • مسجدالاقصی • حرم امام علیمسجد کوفہ  • حرم امام حسین(ع) • حرم کاظمین • حرم عسکریینحرم علی بن موسی الرضا
حرم حضرت زینب • حرم فاطمہ معصومہ
اسلامی عیدیں
عید فطر • عید الاضحی • عید غدیر خم • عید مبعث
شیعہ مناسبتیں
ایام فاطمیہ • محرّم ، تاسوعا، عاشورا اور اربعین
واقعات
واقعۂ مباہلہ • غدیر خم • سقیفۂ بنی ساعدہ • واقعۂ فدک • خانۂ زہرا کا واقعہ • جنگ جمل • جنگ صفین • جنگ نہروان • واقعۂ کربلا • اصحاب کساء
شیعہ کتب
الکافی • الاستبصار • تہذیب الاحکام • من لایحضرہ الفقیہ
شیعہ مکاتب
امامیہ • اسماعیلیہ • زیدیہ • کیسانیہ

ائمۂ معصومین سے مراد خاندان پیغمبر اسلام(ص) میں سے 12 افراد ہیں جو شیعہ تعلیمات و عقائد کے مطابق آنحضرت(ص) کے بعد [یکے بعد دیگرے] آپ(ص) کے جانشیں ہیں اور آپ(ص) کے بعد اسلامی معاشرے کے امام اور سرپرست ہیں۔ پہلے امام علی علیہ السلام اور باقی ائمہ آپ(ع) اور حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی نسل سے ہیں۔

شیعہ اعتقادات کے مطابق ان ائمہ(ع) کو خداوند متعال نے معین فرمایا ہے اور پیغمبر اسلام(ص) نے خدا کے حکم سے جا بجا مختلف مواقع اور مناسبتوں میں ان کی معرفی کی ہیں۔ شیعہ تعلیمات میں ائمہ معصومین علم الہی اور مقام عصمت کے مالک اور حق شفاعت سے بہرہ ور ہیں۔ ان سے توسل کیا جاسکتا ہے اور ان کے وسیلے سے خدا کی قربت حاصل کی جاسکتی ہے۔ شیعوں کے مطابق دینی تعلیمات میں ائمہ معصومین(ع) علمی مرجعیت کے حامل ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی معاشرے کے سیاسی رہبر و راہنما اور سرپرست بھی ہیں۔

پیغمبر اسلام(ص) سے منقولہ حدیثوں میں ائمہ(ع) کی خصوصیات، نام اور تعداد پر تصریح ہوئی ہے۔ ان حدیثوں کے مطابق وہ سب قریش اور اہل بیت پیغمبر(ص) میں سے ہیں اور مہدی موعود(عج) آخری امام ہیں۔ امام اول حضرت علی(ع) کی امامت کے بارے میں پیغمبر(ص) سے منقولہ احادیث مآخذ حدیث میں موجود ہیں نیز دوسرے امام کی امامت کے سلسلے میں پیغمبر(ص) اور امام علی(ع) سے بطور نص نقل ہوئی ہیں اور ان کے بعد ہر امام نے اگلے امام کو بطور نص پہچنوایا ہے۔ ان نصوص کی بنیاد پر ائمۂ اسلام بارہ ہیں اور ان کے نام ترتیب کے ساتھ حسب ذیل ہیں:[1]

شیعہ مکتب میں ائمۂ کی منزلت

ائمہ(ع) امیرالمؤمنین(ع) کے زبانی

بِنا يُسْتَعْطَى الْهُدَى، وَيُسْتَجْلَى الْعَمَى، إِنَّ الْأَئِمَّةَ مِنْ قُرَيْشٍ غُرِسُوا فِى هَذا الْبَطْنِ مِنْ هاشِمٍ، لا تَصْلُحُ عَلَى سِواهُمْ، وَلا تَصْلُحُ الْوُلاةُ مِنْ غَيْرِهِمْ
ترجمہ: لوگ ہماری راہنمائی سے راہ ہدایت پر گامزن ہوتے ہیں، اور اندھے دلوں کی بصارت کو ہمارے ہاں تلاش کرتے ہیں؛ بےشک ائمہ قریش سے ہیں وہی جن کا درختا خاندان ہاشم میں لگایا گیا ہے، دوسرے اس کے اہل نہیں ہیں، اور ولایت و امامت کا عہدہ ہاشمیوں کے سوا کسی اور کے نام نہیں لکھا گیا۔

نہج البلاغہ، خطبہ 144۔
نجف، حرم امیرالمؤمنین علیہ السلام
مسجد براثا کے داخلی دروازے کی ایک تصویر
مسجد کوفہ

بارہ ائمہ(ع) کی امامت کا عقیدہ شیعہ اثنا عشریہ کے بنیادی اعتقادات میں شمار ہوتا ہے اور رسول اکرم(ص) سے اس کی تائید میں متعدد نصوص مآخذ حدیث میں نقل ہوئی ہیں۔ شیعہ مفسرین اور متکلمین کی رائے یہ ہے کہ قرآنی آیات میں بھی ائمہ کی امامت کی طرف ضمنی اشارے ہوئے ہیں۔ اس عقیدے کے مطابق بارہ ائمہ علیہم السلام کی امامت کا آغاز سنہ 11 ہجری میں رسول اکرم(ص) کے وصال اور امیرالمؤمنین علی(ع) کی امامت سے ہوا اور یہ سلسلہ آج تک بغیر کسی انقطاع کے، جاری ہے۔ سنہ 260 ہجری میں امام حسن عسکری(ع) کی شہادت اور امامت کی آپ(ع) کے فرزند امام مہدی(عج) کو منتقلی کے بعد سے، امامت حالت ظہور سے حالت غیبت میں بدل گئی، اور آپ(عج) کی امامت کی طویل مدت حالت غیبت میں ہی گذری ہے۔

شیعہ افراد، اپنے ائمہ(ع) کو معصوم اور صاحب علم لدنی سمجھتے ہیں اور ان کا عقیدہ ہے کہ ان کے مقام کو وسیلہ بنا کر اور ان سے توسل کرکے بارگاہ ربوبی کا قرب حاصل کیا جاسکتا ہے۔ قبور ائمہ کی زیارت شیعہ اعمال و مراسمات میں سے ہے اور وہ انہیں مقام شفاعت کا مالک سمجھتے ہیں۔


امامت کی شان نبوت کے برابر بلکہ اس سے بھی بالاتر ہے اور قاموس دین میں اس کا ایک خاص مقام ہے۔ امام علی بن موسی الرضا(ع) فرماتے ہیں:

امامت کے مرتبے کا شکُوہ اور مقام و منزلت کی برتری اور جاہ و جلال، اور اس کی حقیقت اس سے کہیں زیادہ عظیم ہے کہ لوگ اپنے ناقص عقل کے ذریعے اس کے ادراک سے عہدہ برآ ہوسکیں یا پھر اپنے اختیار سے اپنے امور کے نظم و نسق کے لئے امام و پیشوا منتخب کرے۔۔۔ امامت خاص منصب ہے جو خداوند متعال نے حضرت ابراہیم(ع) کو نبوت اور خُلّت (دوستی) کے بعد عطا کیا اور خداوند متعال نے اس کے واسطے سے شرافت دی۔ آیت ابتلا[2] نے اس تصور کو قیامت تک باطل کردیا کہ امامت کا عہدہ ظالموں کو مل سکتا ہے اور خداوند متعال نے اس آیت کے توسط سے اس عہدے کو صاحبان عصمت و طہارت کے لئے مختص کردیا۔ ۔۔۔ بےشک امامت انبیاء کی منزلت اور اوصیاء کی میراث، اور اللہ اور رسول خدا(ص) کی جانشینی ہے اور امیرالمؤمنین(ع) کا مرتبہ اور امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی میراث ہے۔۔۔ امامت [مسلسل] نمو اور بالیدگی پانے والے اسلام کی جڑ اور اس کی سربلند شاخ ہے۔۔۔ امام روئے زمین پر خدا کا امین اور اس کے بندوں پر اس کی حجت اور اس کا جانشین ہے سرزمینوں میں۔۔۔ مقام امامت کی اہمیت کے ادراک کے لئے یہی کافی ہے کہ رسول اکرم(ص) نے اس کو قرآن کا عِدل (ہم پلہ) اور قرآن و عترت کے رشتے کو اٹوٹ قرار دیا؛ چنانچہ ان دو کو جدا کرنا اور ایک کو چھوڑ کر دوسرے کی متابعت کو راہ ہدایت سے گمراہی قرار دیا اور فرمایا:
بے شک میں دو امانتیں تمہارے درمیان چھوڑے جارہا ہوں، اگر انہیں قبول کرو تو ہرگز گمراہ نہ ہوگے۔ 1۔ خدائے عز و جل کی کتاب (قرآن) اور 2۔ میرے اہل بیت اور میری عترت، اے لوگو! سنو! میں تمہیں یہ حقیقت پہنچا چکا کہ تمہیں میرے پاس حوض کے کنارے لوٹا دیا جائے گا اور میں ان دو بھاری اور گران بہاء امانتوں کے ساتھ تمہارے برتاؤ کے بارے میں تم سے بازخواست کروں گا اور یہ دو بھاری امانتیں کتاب خدا اور میرے اہل بیت ہیں۔ پس ان سے آگے بڑھنے کی کوشش مت کرو اور انہیں کچھ سکھانے کی کوشش نہ کرو کیونکہ وہ تم سے زیادہ عالم و دانا ہیں۔[3]

مقام امامت کی اہمیت

الف: شریعت کے تحفظ کی ضرورت:

ہر معاشرے کو ایک ایسے شخص کی ضرورت ہے جس کی بات اور روش حجت قاطع اور میزان حق و باطل ہو، تا کہ اس معاشرے کے دین کے محتوا اور مندرجات و مضامین میں کوئی اختلاف نمودار ہونے کی صورت میں اختلاف حل ہو دین انحراف سے محفوظ رہے۔ دین اسلام میں بھی پیغمبر(ص) کے بعد ایسے افراد کی ضرورت ہے ورنہ دین کے بارے میں لوگوں کے مختلف النوع تصورات اور نظریات کا ظہور دین کی منزلت کو مخدوش کرے گا۔ امام رضا(ع) فرماتے ہیں:

"... اگر خداوند متعال ایک استوار، امین اور (دین اور اسرار خداوندی کا) امین و حافظ و پاسدار امام لوگوں کے لئے مقرر نہ کرے تو یقینی طور پر شریعت پوسیدگی اور فرسودگی کا شکار ہوجائے گی اور دین نیست و نابود ہوگا اور سنت نبوی اور احکام الہی میں تبدیلیاں آئیں گی، بدعت گذار اس میں اضافات کریں گے اور ملحدین اس میں سے کم کریں گے، اور صورت حال مسلمانوں کے لئے مشکوک ہوگی۔[4]

ب) معاشرے کو الہی راہنماؤں کی ضرورت:

انسان کی بہت سی ضروریات معاشرے کی تشکیل اور عمومی تعاون کے بغیر پوری نہیں ہوتیں اور ایک صالح معاشرہ الہی قوانین کے نفاذ کے بغیر تشکیل نہیں پاتا اور ان قوانین کے نفاذ کے لئے ایسے شخص کی ضرورت ہے جو اولا عالم ہو اور اپنے علم پر عمل کرتا ہو اور لغزش و خطا سے محفوظ ہو تا کہ قانون کا من و عن نفاذ کرے اور ہر صاحب حق کا حق ادا کرے ورنہ تو انسان کے وجود میں کمال تک پہنچنے کے لئے رکھی ہوئی قوتیں ظہور تک نہیں پہنچیں گی اور یہ لازم آئے گا کہ ان قوانین کا خداوند متعال کی صرف سے وضع ہونا ہی مہمل تھا جبکہ وہ حکیم ہے اور مہمل کام کا صدور اس کی ذات کے لئے محال ہے۔


ج) دین کی تفسیر و تشریح کی ضرورت:

انبیاء کا فریضہ ہے کہ سابقہ اقوام سے باقیماندہ انحرافات کا مقابلہ کریں نیز سابقہ شریعت کی تکمیل اور شرائع کے ارتقائی سفر میں اپنا کردار ادا کریں جبکہ اوصیاء میں سے ہر ایک کا فریضہ ہے کہ اس شریعت کی تشریح کرے، اس کا نفاذ کرے اور اس کی تطبیق کا کام سرانجام دے جس کے کلی اور اجمالی اصول اس کے پیغمبر نے لوگوں کے لئے بیان کئے ہیں چنانچہ ہر اولو العزم پیغمبر نے اوصیاء اور الہی حجتوں کو اپنے بعد چھوڑا ہے تاکہ وہ اس کی شریعت کو وسعت دیں اور وسیع سطح پر اس کو نافذ کریں۔

د) تکوینی ہدایت: قرآن کریم می ارشاد باری تعالی ہو رہا ہے

 :وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاء الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ۔؛
ترجمہ: اور ہم نے انہیں امام بنایا جو ہمارے حکم کے مطابق ہدایت کرتے ہیں اور ان کی جانب وحی بھیجی نیک کاموں کے کرنے اور نماز ادا کرنے اور زکوٰة دینے کی اور وہ صرف ہماری عبادت کرتے تھے۔[5]۔[6]

علامہ طباطبائی اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں: یہ ہدایت جو خداوند متعال نے امامت کے فرائض میں قرار دی ہے، ہدایت بمعنی "راہنمائی" (راہ دکھانا) نہیں ہے، کیونکہ خداوند متعال نے ابراہیم(ع) کو نبوت کا عہدہ عطا کرنے کے برسوں بعد، عہدہ امامت عطا کیا؛ واضح ہے کہ نبوت منصب ہدایت ـ بمعنی راہنمائی ـ کے لحاظ سے امامت سے جدا نہیں ہے۔ پس ہدایت ـ جو منصب امامت ہے ـ کے معنی "مقصود تک پہنچانے" (ایصال الی المطلوب) کے سوا کچھ نہیں ہوسکتے؛ اور یہ معنی در حقیقت نفوس میں ایک قسم کا تکوینی تصرف ہے؛ اور امام اس تصرف کے ذریعے دلوں کو کمال کی طرف راغب کرتا ہے اور انہیں نچلے مرحلے سے اعلی مراحل تک پہنچانے کے لئے راستہ ہموار کرتا ہے۔ اور چونکہ یہ تصرف تکوینی اور یہ عمل باطنی عمل ہے چنانچہ لازما وہ امر بھی تکوینی ہے ـ نہ کہ تشریعی ـ جس کے ذریعے یہ ہدایت انجام پاتی ہے۔۔۔ اور یہ وہی حقیقت ہے جس کی تفسیر ذیل کی آیات کریمہ سے ہوتی ہے: إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئاً أَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ ٭ فَسُبْحَانَ الَّذِي بِيَدِهِ مَلَكُوتُ كُلِّ شَيْءٍ۔؛
ترجمہ: اس کی بات تو بس یہ ہے کہ جب وہ کسی چیز کو چاہتا ہے، کہہ دیتا ہے ہو جا اور فوراً ہی وہ ہو جاتی ہے ٭ تو پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا اقتدار ہے۔[7]

یہ آیت واضح کرتی ہے کہ خدا کے حکم کے مطابق ہدایت معنوی فیوضات اور باطنی مراتب و مقامات میں سے ہے اور مؤمنین عمل صالح کے واسطے سے اس کی طرف راہنمائی پاتے ہیں اور اپنے پرودگار کی رحمت کے لباس سے ملبس ہوجاتے ہیں، اور یہ رحمت اس سے دوسرے لوگوں تک پھیل جاتی ہے، اور لوگ اپنے ذاتی استعداد کے مطابق اس سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ یہاں سے سمجھا جاسکتا ہے کہ امام لوگوں اور ان کے پروردگار کے درمیان واسطے اور رابط کا کام انجام دیتا ہے اور لوگ اس کے واسطے سے اللہ کے ظاہری اور باطنی فیوضات سے مستفیض ہوتے ہیں اور فیوضات الہی درحقیقت وہی شرائع الہیہ ہیں جو وحی کے ذریعے اترتے اور پیغمبر کے ذریعے دوسرے انسانوں تک فروغ پاتے ہیں۔ نیز ہم سمجھ لیتے ہیں کہ امام وہ ہادی اور راہنما ہے جو نفوس کی ان کے مراتب کی طرف راستے کی طرف راہنمائی کرتا ہے جس طرح کہ پیغمبر وہ ہادی اور راہنما ہے جو لوگوں کو صحیح اور حقیقی عقائد اور اعمال صالح کی طرف راہنمائی فراہم کرتا ہے، البتہ بعض اولیائے الہی صرف پیغمبر ہیں اور بعض دونوں مناصب کے عہدیدار ہیں جیسے حضرت ابراہیم(ع) کے دونوں بیٹے۔ (اسماعیل اور اسحق علیہما السلام)۔[8]

اثبات امامت کے دلائل

مفصل مضمون: امامت ائمۂ اثنا عشر

امامت کے اثبات کے دلائل ہمیشہ سے امامیہ کے یہاں تالیف کتب کا موضوع رہے ہیں اور شیعہ علماء نے مختلف اسالیب (=جمع اسلوب) کے تحت بڑی تعداد میں کتب اس موضوع پر لکھی ہیں۔ کتاب سلیم بن قیس ہلالی ـ جس کا تعلق پہلی صدی ہجری کے آخر سے ہے ـ قدیم ترین تالیفات میں سے ہے جس میں "ائمۂ اثنا عشر (=بارہ اماموں) کے بارے میں بحث ہوئی ہے۔[9]۔[10]

ائمۂ اثنا عشر(ع) کی امامت پر نصّ کے باب میں تخلیق ہونے والی کتب کے دائرے میں ابن عیاش جوہری (متوفی سنہ 401 ہجری قمری) کی تالیف مقتضب الاثر اور خزاز قمی (متوفی اواخر سنہ 4 ہجری قمری) کی کتاب کفایۃ الاثر کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے۔ اس کتاب کے مؤلفین نے ائمۂ اثنا عشر(ع) کی امامت پر نصّ کے باب میں منقولہ احادیث کو مختلف شیعہ اور سنی مآخذ سے اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے۔

نصوص کی کتب کے علاوہ، ان کتابوں کی طرف اشارہ کرنا چاہئے جو معجزات ائمہ(ع) کے باب میں "دلائل الامامہ" کے عمومی عنوان کے تحت تالیف ہوئی ہیں جیسے: ابن رستم طبری (طبری شیعی) کی کتاب دلائل الامامہ (مطبوعہ نجف سنہ 1383 ہجری قمری)؛ یا وہ کاوشیں جو "الوصیہ" کے عنوان سے بارہ ائمہ(ع) کو انتقال وصیت کی تشریح میں تخلیق کی گئی ہیں جیسے: علی بن حسین مسعودی (متوفی سنہ 346 ہجری قمری) کی تالیف اثبات الوصیہ (مطبوعہ مکتبۂ حیدریہ، نجف اشرف)۔[11]

ائمۂ اثنا عشر کی امامت کا نقلی (نصّ و روایت پر مبنی) اثبات امامیہ متکلمین کے نزدیک بھی قابل توجہ ہے اور امامیہ کے کلامی آثار میں اس موضوع کو مستقل باب بنایا گیا ہے۔حوالہ خطا: Closing </ref> missing for <ref> tag

حدیث خلفائے اثنا عشر

مفصل مضمون حدیث خلفائے اثنا عشر

اہل سنت کے یہاں بھی رسول اکرم(ص) کے بعد 12 ائمہ یا 12 نقیبوں پر مبنی احادیث رائج ہیں لیکن انھوں نے ان بارہ ائمۂ کی دوسری تاویلیں پیش کی ہیں۔ پہلی صدی ہجری کے دوران رسول اللہ(ص) کے بعض اصحاب 12 ائمہ کی بشارت پر مشتمل احادیث مختلف حلقوں میں نقل ہوئی ہیں۔

اس سلسلے میں جابر بن سمرہ کی حدیث سب سے زیادہ مشہور ہے؛ اس حدیث میں بیان ہوا تھا کہ "امراء رسول اکرم(ص) کے بعد (ائمہ اور خلفاء) بارہ ہیں اور وہ سب قریش سے ہیں۔[12]۔[13]۔[14]۔[15]

یہ حدیث عالم اسلام کی مشہور ترین حدیث ہے جو ابتداء میں اہل سنت کے مآخذ میں نقل ہوئی ہے اور وہاں سے شیعہ مآخذ میں پہنچی ہے۔[16]۔[17]۔[18]۔[19]

اگلے مرحلے میں اُس حدیث، کی طرف اشارہ کیا جاسکتا ہے جو ابن مسعود سے نقل ہوئی ہے جس کی بنیاد پر پیغمبر(ص) کے نقباء کی تعداد بنی اسرائیل کے نقباء کے برابر یعنی 12 ہے۔ [20]۔[21]۔[22]۔[23]۔[24]

حیات ائمہ کا تاریخچہ

شیعوں کے پہلے امام
حضرت علی علیہ السلام


حیات
واقعۂ غدیرلیلۃ المبیتیوم الدارمختصر زندگی نامہ


علمی ورثہ
نہج البلاغہغرر الحکم و درر الکلمخطبۂ شقشقیہبےالف خطبہبےنقطہ خطبہحرم


فضائل
فضائل اہل‌بیت، آیت ولایت • آیت اہل‌الذکر • آیت شراء • آیت اولی‌الامر • آیت تطہیر • آیت مباہلہ • آیت مودت • آیت صادقین-حدیث مدینۃالعلم • حدیث رایت • حدیث سفینہ • حدیث کساء • خطبہ غدیر • حدیث منزلت • حدیث یوم‌الدار • حدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایت


اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترابوذر غفاریعبیداللہ بن ابی رافعحجر بن عدیدیگر افراد

امام اول

مفصل مضمون امام علی علیہ السلام

پیغمبر(ص) کے زمانے میں

امیرالمؤمنین علی(ع) شیخ بنی ہاشم عمِّ رسول(ص) حضرت ابو طالب کے فرزند تھے۔ ابو طالب علیہ السلام نے پیغمبر اسلام(ص) کی سرپرستی کی، اپنے گھر میں رکھا اور آپ(ص) کو پروان چڑھایا اور بعثت کے بعد ـ جب تک بقید حیات تھے ـ آنحضرت(ص) کی حمایت اور پشت پناہی کی اور عرب کفار بالخصوص کفار قریش کا شر آپ(ص) سے دفع کیا۔[25]

قول مشہور کے مطابق علی علیہ السلام بعثت سے 10 سال قبل پیدا ہوئے اور چھ سال کے تھے جب مکہ اور اس کے نواح میں قحط پڑا اور آپ(ع) رسول اللہ(ص) کی درخواست پر آپ(ص) کے چچا کے گھر سے آپ(ص) کے گھر میں منتقل ہوئے اور پیغمبر اسلام(ص) کی بلاواسطہ سرپرستی میں آکر براہ راست آپ کی تعلیم و تربیت سے مستفید ہوئے۔[26]

چند سال بعد ـ جب پیغمبر(ص) نبوت کے عہدے پر فائز ہوئے اور پہلی بار غار حرا میں آسمانی وحی آپ(ص) کو ملی جب غار حرا سے اپنے شہر اور گھر کی طرف روانہ ہوئے، اور ماجرا کہہ سنایا تو علی(ع) آپ(ص) پر ایمان لائے اور پھر جب دعوت ذوالعشیرہ میں آپ(ص) نے اہل خاندان کو اکٹھا کرکے دین کی دعوت دیتے ہوئے فرمایا: "تم میں سے جو بھی سب سے پہلے میری یہ دعوت قبول کرے وہ میرا خلیفہ، وصی اور وزیر ہوگا"، تو جس نے سب پہلے اٹھ کر ایمان لانے کا اعلان کیا وہ علی(ع) تھے؛ پیغمبر(ص) نے آپ(ع) کا ایمان قبول کیا اور اپنے دیئے ہوئے وعدوں کی تائید فرمائی۔ اس لحاظ سے علی(ع) سب سے پہلے فرد تھے جنہوں نے اسلام میں، ایمان قبول کیا اور سب سے پہلی شخصیت ہیں جنہوں نے لمحہ بھر بھی غیر اللہ کی بندگی نہیں کی۔[27]

علی(ع) ہر وقت پیغمبر(ص) کے ساتھ رہتے تھے یہاں تک کہ آنحضرت(ص) نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی اور شب ہجرت بھی ـ جب کفار مکہ نے آپ(ص) کے گھر کے گرد گھیرا ڈالا تھا اور رات کی تاریکی میں گھر پر ہلہ بول کر آپ(ص) کو اپنے بستر پر کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا ارادہ رکھتے تھے ـ علی(ع) آپ(ص) کے بستر پر لیٹ گئے اور یوں آنحضرت(ص) مکہ روانہ ہوئے؛ اور علی(ع) نے ہجرت کے بعد ـ آپ(ص) کی وصیت کے مطابق لوگوں کو ان کی امانتیں لوٹا دیں، اور پھر اپنی والدہ، دختر رسول(ص) اور دو دیگر خواتین کو لے کر مدینہ کی طرف روانہ ہوئے۔[28]

امام علی(ع) مدینہ میں ہمہ وقت حضرت رسول(ص) کے ساتھ رہتے تھے اور آپ(ص) نے کسی بھی خلوت و جلوت میں آپ(ع) کو اپنے آپ سے دور نہیں کیا اور اپنی واحد مکرمہ و معظمہ بیٹی دختر رسول(ص) کی شادی آپ(ع) سے کرائی، اور جس وقت آپ(ص) اپنے اصحاب کے درمیان اخوت بندھن (مواخات) منعقد کررہے تھے، علی(ع) کو اپنا بھائی قرار دیا۔[29]

علی(ع) تمام رسول اللہ(ص) کی تمام جنگوں میں شریک ہوئے سوائے جنگ تبوک کے، جب پیغمبر اسلام(ص) نے آپ(ع) کو مدینہ میں اپنا جانشین بنایا۔ آپ(ع) نے کسی جنگ میں قدم پیچھے نہیں ہٹایا، کبھی بھی آپ(ص) کے کسی حکم کی خلاف ورزی نہیں کی حتی کہ آپ(ص) نے فرمایا: "علی ہرگز حق سے اور حق ہرگز علی سے، جدا نہیں ہوتا"۔[30]

پیغمبر(ص) کے بعد

ائمۂ اور خلفاء
امام علی
ـــــــــــــــــــــــــــ
(23قبل از اسلام-40)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 11-40
ابوبکر
عمر بن خطاب
عثمان بن عفان
امام حسن
ـــــــــــــــــــــــــــ
(3-50)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 40-50
ابوبکر
عمر بن خطاب
عثمان بن عفان
امام علی
معاویہ بن ابی سفیان (41-61)
امام حسین
ـــــــــــــــــــــــــــ
(4-61)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 50-61
ابوبکر
عمر بن خطاب
عثمان بن عفان
امام علی
امام حسن
معاویہ بن ابی سفیان
یزید بن معاویہ
امام سجاد
ـــــــــــــــــــــــــــ
(38-95)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 61-95
امام علی
امام حسن
معاویہ بن ابی سفیان
یزید بن معاویہ
معاویہ بن یزید
مروان بن حکم(64-65)
عبدالملک بن مروان (65-86)
ولید بن عبدالملک (86-96)
امام باقر
ـــــــــــــــــــــــــــ
(57-114)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 95-114
معاویہ بن ابی سفیان
یزید بن معاویہ
معاویہ بن یزید
مروان بن الحکم
عبدالملک بن مروان
ولید بن عبدالملک
سلیمان بن عبدالملک (96-99)
عمر بن عبدالعزیز (99-101)
یزید بن عبدالملک (101-105)
ہشام بن عبدالملک (105-125)
امام صادق
ـــــــــــــــــــــــــــ
(82-148)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 114-148
عبدالملک بن مروان
ولید بن عبدالملک
سلیمان بن عبدالملک
عمر بن عبدالعزیز
یزید بن عبدالملک
ہشام بن عبدالملک
ولید بن یزید (125-126)
ولید بن عبدالملک (126-126)
ابراہیم بن ولید (126-127)
مروان بن محمد (127-132)
ابوالعباس سفاح (132-136)
منصور دوانیقی (136-158)
امام کاظم
ـــــــــــــــــــــــــــ
(128-183)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 148-183
مروان بن محمد
ابوالعباس سفاح
منصور دوانیقی
مہدی عباسی(158-169)
ہادی عباسی(169-170)
ہارون‌الرشید(170-193)
امام رضا
ـــــــــــــــــــــــــــ
(148-203)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 183-203
منصور دوانیقی
مہدی عباسی
ہادی عباسی
ہارون‌الرشید
امین عباسی (193-198)
مأمون عباسی (198-218)
امام جواد
ـــــــــــــــــــــــــــ
(195-220)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 203-220
امین عباسی
مأمون
المعتصم باللہ (218-227)
امام ہادی
ـــــــــــــــــــــــــــ
(212-254)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 220-254
مأمون
المعتصم باللہ
الواثق باللہ (227-232)
متوکل (232-247)
منتصر (247-248)
مستعین (248-252)
معتز (252-255)
امام عسکری
ـــــــــــــــــــــــــــ
(232-260)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 255-260
متوکل
منتصر
مستعین
معتز
مہتدی (255-256)
معتمد (256-278)
امام زمان
ـــــــــــــــــــــــــــ
(255-...)
ـــــــــــــــــــــــــــ
دور امامت: 260-...
سانچہ:Colored
معتز
مہتدی
معتمد
معتضد (278-289)
مکتفی (289-295)
مقتدر (295-320)
قاہر (320-322)
راضی (322-329)

رسول اکرم(ص) کے وصال کے دن علی(ع) کی عمر 33 سال تھی اور باوجود اس کے، کہ تمام دینی فضائل میں سرآمد روزگار اور تمام اصحاب رسول(ص) میں ممتاز حیثیت رکھتے تھے، صرف اس بہانے کہ "آپ ابھی نوجوان ہیں" اور "لوگ پیغمبر(ص) کی جنگوں میں آپ(ع) کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کی وجہ سے آپ(ع) کے دشمن ہیں!"، آپ(ع) کو خلافت سے دور رکھا گیا اور اس طرح عمومی مسائل و معاملات سے مکمل طور پر الگ تھلگ ہوگئے؛ چنانچہ آپ(ع) نے گھر کے گوشے میں بیٹھ کر افراد کی تربیت کا اہتمام کیا، رسول اللہ(ص) کے بعد خلفائے ثلاثہ کی 25 سالہ حکومت کا عرصہ خانہ نشینی میں بسر کیا یہاں تک کہ [[عثمان بن عفان|خلیفۂ ثالث کے قتل کے بعد لوگوں نے آپ(ع) کے ہاتھ پر بیعت کی اور آپ(ع) کو خلیفہ کے طور پر "منتخب" کیا۔[31]

امیرالمؤمنین(ع) نے 4 سال 9 مہینے حکومت کی؛ سیرت نبوی پر کاربند رہے، اپنی خلافت کو انقلاب کی صورت دی اور مختلف شعبوں میں اصلاحات کے لئے اقدامات کئے۔ آپ(ع) کی یہ اصلاحات بعض منافع خوروں کے نقصان پر منتج ہورہی تھیں چنانچہ بعض صحابہ ـ جن میں ام المؤمنین عائشہ، طلحہ اور زبیر پیش پیش تھے ـ نے خلیفہ ثالث کے خون کو دستاویز بنا کر مخالفت کا آغاز کیا اور بغاوت اور بلؤوں کا آغاز کیا۔ امیرالمؤمنین(ع) نے بصرہ کے قریب ایک مقام پر عائشہ، طلحہ اور زبیر کے خلاف ایک جنگ لڑی جو جنگ جمل کے عنوان سے مشہور ہوئی اور ایک جنگ عراق اور شام کی سرحد پر معاویہ کے خلاف لڑی جو جنگ صفین کے عنوان سے مشہور ہوئی۔ یہ جنگ ڈیڑھ سال تک جاری رہی اور تیسری جنگ نہروان کے مقام پر خوارج کے خلاف لڑی جو جنگ نہروان کے نام سے مشہور ہوئی۔ اور یوں خلافت کے ان ایام میں آپ(ص) کے مساعی اور اندرونی اختلافات کے خاتمے میں صرف ہوئیں؛ اور مختصر سے عرصے کے بعد 19 ماہ رمضان سنہ 40 ہجری قمری کی صبح کو مسجد کوفہ میں اور حالت نماز میں بعض خارجیوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے اور دو روز بعد 21 رمضان کو شہید ہوئے۔[32]

خصوصیات

تاریخ کی گواہی اور دوستوں کی تصدیق اور دشمنوں کے اعتراف کے مطابق امیرالمؤمنین(ع) انسانی کمالات کے حوالے سے بےنقص تھے اور اسلامی فضائل میں پیغمبر اکرم(ص) کی تربیت کا نمونۂ اتمّ تھے۔ جو مباحث آپ(ع) کی شخصیت کے حوالے سے ہوئے ہیں اور جو کتابیں شیعہ، سنی اور دیگر متجسس اور آگاہ قلمکاروں کے توسط سے اس موضوع پر لکھی گئی ہیں، تاریخ کی کسی بھی شخصیت کے بارے میں نہیں لکھی گئیں۔[33]

علم و دانش:

امیرالمؤمنین(ع) علم و دانش کے لحاظ سے پیغمبر اکرم(ص) کے صحابہ اور تمام اہل اسلام کے درمیان اپنی مثال آپ تھے اور اسلام کی پہلی شخصیت تھے جنہوں نے علمی بیانات میں استدلال اور برہان کے دروازے کھول دیئے اور معارف الہیہ میں فلسفیانہ روش سے بحث کی اور باطن قرآن کے بارے میں اظہار خیال کیا اور اپنے لفظ کے تحفظ کے لئے عربی کے قواعد وضع کئے اور خطابت میں قوی ترین عرب تھے۔[34] (دیکھیں: نہج البلاغہ)

شجاعت اور جسمانی طاقت:

علی(ع) شجاعت میں ضرب المثل تھے اور تمام جنگوں میں ـ جن میں آپ(ع) نے ـ خواہ پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں، خواہ آپ(ص) کے بعد ـ شرکت کی ـ کبھی خوف و دہشت کا شکار نہیں ہوئے۔ اور اس کے باوجود کہ مختلف واقعات و حوادث میں ـ منجملہ جنگ احد، جنگ حنین، جنگ خندق اور جنگ خیبر، اصحاب رسول(ص) اور اسلام پر کپکپیاں طاری ہوئیں، یا منتشر ہوکر فرار ہوئے ـ کبھی بھی دشمن کو پیٹھ نہیں دکھائی اور تاریخ ایسی کوئی مثال لانے سے عاجز ہے کہ طاقتور پہلوان اور جنگجو افراد آپ(ع) کے سامنے آئے ہوں اور پھر زندہ بچ نکلے ہوں؛ اور اسی حال میں آپ(ع) طاقت اور شجاعت کی انتہاؤں پر ہوتے ہوئے بھی کسی کمزور شخص کو ہلاک نہیں کرتے تھے اور بھاگنے والے کا تعاقب نہیں کرتے تھے، کسی پر شبخون نہیں مارتے تھے اور دشمن پر پانی بند نہیں کرتے تھے۔ یہ تاریخ اسلام کے مسلّمات میں سے ہے کہ جنگ خیبر میں آپ(ع) نے اپنا ہاتھ قلعۂ خیبر کے دروازے کے حلقے تک پہنچایا اور ایک جھٹکے سے دروازے کو اکھاڑ کر پھینک دیا۔[35] نیز فتح مکہ کے دن پیغمبر اکرم(ص) نے بتوں کے توڑ دینے کا حکم دیا۔ بت ہُبَل مکہ کا سب سے بڑا بت اور عظیم الجثہ سنگی مجسمہ تھا ـ جو کعبہ کے اوپر نصب کیا گیا تھا۔ علی(ع) نے پیغمبر اکرم(ص) کے حکم پر اپنے قدم آپ(ص) کے دوش پر رکھے اور کعبہ کے اوپر پہنچ گئے، بت ہُبَل کو اکھاڑا اور نیچے گرا دیا۔[36]

تقوٰی اور عبادت:

امیرالمؤمنین(ع) تقوٰی اور عبادت الہی میں بھی یگانۂ روزگار تھے۔ کچھ لوگ رسول اللہ(ص) کی خدمت میں آئے اور امیرالمؤمنین(ع) کی تلخیِ طبیعت کا شکوہ کیا تو آپ(ص) نے فرمایا: "علی پر ملامت نہ کرو، وہ اللہ کے عاشق و شیدائی ہیں"۔ صحابی رسول(ص) ابو دردا نے مدینہ کے نخلستان میں دیکھا کہ علی(ع) خشکیدہ لکڑی کی مانند زمین پر گرے پڑے ہیں، اطلاع دینے کے لئے آپ(ع) کے گھر آیا اور آپ(ع) کی زوجہ مکرمہ کو ـ دختر رسول(ص) کو تعزیت پیش کی تو آپ(س) نے فرمایا: "میرے عموزادہ نہیں مرے بلکہ عبادت کی حالت میں خوف خدا کی وجہ سے غش کرگئے ہیں اور یہ کیفیت آپ(ع) پر بارہا طاری ہوتی ہے"۔[37]

رأفت و شفقت:

امیرالمؤمنین(ع) ماتحتوں پر رأفت و شفقت، بےنواؤں اور مسکینوں کے ساتھ ہمدردی اور غرباء اور محتاجوں کی نسبت کرم و سخا کے لحاظ سے بھی منفرد تھے اور ان حوالوں سے متعدد روایتیں اور حکایتیں [مآخذ میں] میں منقول ہیں۔ آپ(ص) جو کچھ بھی حاصل کرتے تھے راہ خدا میں محتاجوں اور مساکین و غرباء میں تقسیم کرتے تھے اور خود بہت سختی اور سادگی میں زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ(ع) زراعت کو بہت پسند کرتے تھے اور عام طور پر کاریزیں کھودتے تھے، شجرکاری اور بنجر زمینوں کی آبادی میں مصروف رہتے تھے، لیکن جو کاریز آپ(ع) آپ کھود کر انجام کو پہنچاتے تھے یا جو زمین آباد کرتے تھے، غرباء کی مدد کے لئے وقف کردیا کرتے تھے اور آپ(ع) کے اوقاف ـ جو "صدقۂ علی" کے عنوان سے مشہور تھے ـ سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدنی آپ(ص) کے دور خلافت کے آخری دنوں میں بہت قابل توجہ مبلغ (یعنی 24000 طلائی دینار) تک پہنچ گئی تھی۔[38]

دوسرے امام

مفصل مضمون امام حسن مجتبی علیہ السلام

امام حسن مجتبی(ع) اور آپ(ع) کے بھائی امام حسین(ع) امیرالمؤمنین علی(ع) کے دو بیٹے ہیں جن کی والدہ ماجدہ [[رسول اللہ|پیغمبر اکرم(ص) کی بیٹی حضرت فاطمہ(س) ہیں۔ پیغمبر اکرم(ص) بارہا فرمایا کرتے تھے کہ "حسن اور حسین میرے بیٹے ہیں" اور اسی حوالے سے امیرالمؤمنین(ع) اپنے دوسرے فرزندوں سے فرمایا کرتے تھے کہ "تم میرے فرزند ہو اور "حسن و حسین پیغمبر خدا(ص) کے فرزند ہیں"۔[39]

امام حسن مجتبی(ع) سنہ 3 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئے اور 7 سال اور چند مہینوں تک رسول اللہ(ص) کے حضور سے مستفیض ہوئے اور آپ(ص) کی آغوش شفقت میں رہے اور رسول اللہ(ص) کے وصال کے بعد ـ جو آپ(ع) کی والدہ حضرت فاطمہ(س) کی شہادت سے 3 یا 6 مہینے قبل واقع ہوئی ـ آپ(ع) اپنے پدر بزرگوار کے زیر تربیت قرار پائے۔[40]

امام حسن مجتبی(ع) والد کی شہادت کے بعد خدا کے فرمان اور والد کی وصیت کے مطابق امامت کے منصب پر فائز ہوئے اور کچھ عرصے تک ظاہری خلافت کا عہدہ بھی سنبھالے رکھا۔ تقریبا 6 مہینوں تک مسلمانوں کے امور کا انتظام و انصرام کیا اور اس عرصے کے دوران امیرالمؤمنین(ع) اور معاویہ بن ابی سفیان ـ جو آپ(ع) کے خاندان کا ضدی دشمن تھا اور برسوں سے خلافت کی لالچ میں (ابتداء میں خون عثمان کے بہانے اور آخر کار خلافت کا صریح دعوی کرکے) لڑا تھا ـ نے عراق پر ـ جو آپ(ع) کی حکومت کا مرکز تھا ـ لشکر کشی کی اور جنگ کا آغاز کیا اور دوسری طرف سے امام(ع) کے لشکر کے امراء کو بڑی بڑی رقوم بطور رشوت، اور منصب و مرتبت کے وعدے، دے کر گمراہ کیا اور آپ(ع) ہی کے لشکر کو آپ(ع) کے خلاف بغاوت پر آمادہ کیا۔

مرقد امام حسن مجتبی(ع)جنت البقیع

مفصل مضمون صلح امام حسن علیہ السلام

آخر کار، حضرت امام حسن مجتبی(ع) صلح پر مجبور ہوئے اور بعض شرائط پر ظاہری حکومت معاویہ کو بعض شرائط [منجملہ یہ کہ خلافت معاویہ کی موت کے بعد امام(ع) کو ملے گی، معاویہ ولیعہد کا اعلان نہیں کرے گا اور شیعیان اہل بیت(ع) کی جان و مال محفوظ ہوگی) پر، واگذار کردی۔[41]

معاویہ نے اس طرح اسلامی خلافت پر قبضہ کیا اور عراق میں داخل ہوا اور عام اور رسمی خطاب کے دوران صلح کی شرائط کو منسوخ کیا اور ہر راہ و روش کو بروئے کار لا کر شدید ترین انداز سے اہل بیت اور ان کے پیروکاروں پر ظلم و جبر روا رکھا۔ فرزند رسول(ص) امام حسن(ع) نے اپنی امامت کا 10 سالہ دور نہایت گھٹن اور دشواری میں گذارا یہاں تک کہ آپ(ع) کو اپنے گھر کے اندر بھی امن نصیب نہ ہوا اور آخر کار سنہ 50 ہجری میں معاویہ کی تحریک پر اپنی زوجہ (جعدہ بنت اشعث) کے ہاتھوں مسموم ہوئے اور جام شہادت نوش کرگئے۔[42]

امام حسن(ع) انسانی فضائل و کمالات میں اپنے والد ماجد اور نانا رسول اللہ(ص) کا نمونۂ کامل تھے، اور جب تک آپ(ع) کا نانا بقید حیات تھے، آپ اور آپ کے بھائی امام حسین(ع) آنحضرت(ص) کے ہاں منزلت رکھتے تھے اور کبھی انہیں اپنے دوش پر سوار کرتے تھے۔ شیعہ اور سنی محدثین نے رسول اکرم(ص) سے روایت کی ہے کہ آپ(ص) نے امام حسن مجتبی اور امام حسین کی شان میں فرمایا:

ابناي هذان إمامان قاما أو قعدا۔؛
ترجمہ: میرے یہ دو بیٹے امام ہیں خواہ وہ بیٹھے ہوں خواہ قیام کریں (یعنی یہ دونوں امام ہیں خواہ خلاف ظاہریہ کا منصب سنبھالیں خواہ نہ سنبھالیں)۔

پیغمبر اکرم(ص) اور امیرالمؤمنین علی(ع) سے متعدد روایات منقول ہیں جو ثابت کرتی ہیں کہ آپ(ع) اپنے والد کے بعد امام ہیں۔[43]

عاشورا کے بارے میں ایک تجزیہ

اگر کوئی امام حسین(ع) کی تاریخ حیات اور یزید کے احوال میں باریک بینی کے ساتھ غور و تدبر کرے تو اس کے لئے اس حقیقت میں شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس دن امام حسین(ع) کے پاس اور قتل ہوجانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور بیعت یزید ـ جو اسلام کی اعلانیہ پامالی کے مترادف تھی ـ آپ(ع) کے لئے ممکن نہ تھی؛ کیونکہ اگر ایک طرف سے یزید دین اسلام اور اس کے احکام کے لئے کسی قسم کی حرمت و احترام کا قائل نہ تھا اور کسی بھی اخلاقی اور دینی قاعدے اور قانون کا پابند نہ تھا تو دوسری طرف سے وہ اسلام کے مقدسات اور قوانین کا اعلانیہ مذاق اڑاتا تھا اور لاپروائی سے انہیں پامال کرتا تھا۔ جبکہ اس کے اسلاف دین کے بھیس میں دینی قوانین کی مخالفت کیا کرتے تھے، وہ دین کی ظاہری صورت کا احترام کرتے تھے اور ان دینی نسبتوں پر فخر کیا کرتے تھے جو مسلمانوں کے نزدیک محترم تھیں؛ جیسے: رسول اللہ(ص) کا صحابی ہونا وغیرہ۔[44]

اور یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان دو پیشواؤں (امام حسن اور امام حسین) کے معیار مختلف تھے ـ اور امام حسن(ع) صلح پسند تھے جبکہ امام حسین(ع) جنگ کو ترجیح دیتے تھے؛ یہاں تک کہ بڑے بھائی نے 40000 کا لشکر ہونے کے باوجود معاویہ کے ساتھ صلح کرلی اور چھوٹے بھائی 40 افراد کے ساتھ یزید کے خلاف میدان جنگ میں اترے ـ ایک بےجا اور بے بنیاد دعوی ہے؛ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہی امام حسین(ع) جو حتی ایک دن بھی یزید کی بیعت کے سائے میں جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے، عرصہ 10 سال تک معاویہ کی حکومت میں بھائی امام حسن(ع) کی مانند رہے (اور امام حسن(ع) بھی 10 برس تک معاویہ کی حکومت میں رہے تھے)، اور کبھی اس انداز سے مخالفت نہیں کی اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) معاویہ کے خلاف کارزار کا راستہ اپناتے تو یقینا قتل کئے جاتے اور ان کا قتل اسلام کے لئے ذرہ برابر بھی مفید نہ ہوتا؛ اور ان کی شہادت معاویہ کی بظاہر حق بجانب روشوں کے مقابلے میں ـ جو صحابی، کاتب وحی اور خال المؤمنین (=مؤمنوں کا ماموں) کہلواتا تھا اور ہر قسم کی سازشیں کرتا تھا ـ غیر مؤثر ہوتی۔ علاوہ ازیں وہ اپنے گماشتوں کے ذریعے انہیں قتل کروا سکتا تھا اور خود جاکر سوگواری اور عزاداری کے لئے بیٹھ سکتا تھا اور ان کی خونخواہی کا دعوی کرسکتا تھا؛ وہی معاملہ جو اس نے خلیفۂ ثالث کے ساتھ کیا تھا۔[45]

تیسرے امام

مفصل مضمون: امام حسین علیہ السلام

مفصل مضمون: ثار اللہ

امام حسین (سید الشہداء) علیہ السلام علی(ع) کے دوسرے بیٹے ہیں جن کی والدہ ماجدہ فاطمہ بنت رسول(ص) ہیں۔ آپ(ع) سنہ 4 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئے۔ آپ(ع) اپنے بھائی امام حسن مجتبی(ع) کی شہادت کے بعد امر خدا سے، اور آپ(ع) کی وصیت کے مطابق، منصب امامت پر فائز ہوئے۔[46]

امام حسین علیہ السلام کے دس سالہ دور امامت کا زيادہ تر عرصہ معاویہ کے دور خلافت میں گذرا سوائے آخری چھ مہینوں کے۔ آپ(ع) نے یہ عرصہ نہایت دشوار اور ناخوشگوار اور گھٹن بھرے حالات میں بسر کیا۔ کیونکہ ایک طرف سے دینی قوانین و ضوابط غیر معتبر ہوچکے تھے اور حکومت کی خواہشات نے خدا اور رسول(ص) کے احکام کی جگہ لی تھی؛ تو دوسری طرف سے معاویہ اور اس کے کارگزار اہل بیت اور شیعیان اہل بیت کو نقصان پہنچانے اور علی(ع) اور آل علی کا نام مٹانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا تو دوسری طرف سے معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کی خلافت کی بنیادیں استوار کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا تھا اور مسلمانوں کی ایک جماعت یزید کی بے راہرویوں کی وجہ سے معاویہ کی ان کوششوں سے خوش نہیں تھی۔ معاویہ نے ان مخالفتوں کو سرکوب کرنے اور نئی مخالفتوں کا سد باب کرنے کے لئے مزید تشدد آمیز روشوں کا سہارا لیا تھا۔[47]

امام حسین کو خواہ ناخواہ اس تاریک دور سے گذرنا پڑا رہا تھا اور معاویہ اور اس کے گماشتوں کے ہر روحانی تشدد کو برداشت کررہے تھے حتی کہ سنہ 60 ہجری قمری کے وسط میں معاویہ کا انتقال ہوا اور اس کا بیٹا یزید باپ کی جگہ پر بیٹھ گیا۔[48]

یزید کی بیعت سے انکار

محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسین (ع) کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسین(ع)
علی اکبر بن امام حسین • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم عباس بن علی • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیر زنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس

بیعت ایک عربی روایت تھی جو سلطنت اور امارت جیسے اہم مسائل میں نافذ ہوتی تھی اور ماتحت افراد ـ بالخصوص عمائدین اور زعماء ـ کو سلطان یا امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا پڑتی تھی اور بیعت کے بعد اگر کوئی قوم اس کی خلاف ورزی کرتی تو یہ اس قوم کے لئے شرم اور ذلت کا باعث اور قطعی امضاء و تائید کی خلاف ورزی کی طرح، جرم مسلّم سمجھی جاتی تھی؛ اور سیرت نبوی میں بیعت اس وقت معتبر تھی جب یہ اختیاری اور جبر کے بغیر انجام پاتی۔[49]

امام حسین علیہ السلام کے دس سالہ دور امامت کا زيادہ تر عرصہ معاویہ کے دور خلافت میں گذرا سوائے آخری چھ مہینوں کے۔ آپ(ع) نے یہ عرصہ نہایت دشوار اور ناخوشگوار اور گھٹن بھرے حالات میں بسر کیا۔ کیونکہ ایک طرف سے دینی قوانین و ضوابط غیر معتبر ہوچکے تھے اور حکومت کی خواہشات نے خدا اور رسول(ص) کے احکام کی جگہ لی تھی؛ تو دوسری طرف سے معاویہ اور اس کے کارگزار اہل بیت اور شیعیان اہل بیت کو نقصان پہنچانے اور علی(ع) اور آل علی کا نام مٹانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہیں کیا تو دوسری طرف سے معاویہ نے اپنے بیٹے یزید کی خلافت کی بنیادیں استوار کرنے کی کوششوں کا آغاز کردیا تھا اور مسلمانوں کی ایک جماعت یزید کی بےراہرویوں کی وجہ سے معاویہ کی ان کوششوں سے خوش نہیں تھی۔ معاویہ نے ان مخالفتوں کو سرکوب کرنے اور نئی مخالفتوں کا سد باب کرنے کے لئے مزید تشدد آمیز روشوں کا سہارا لیا تھا۔[50]

امام حسین کو خواہ ناخواہ اس تاریک دور سے گذرنا پڑا رہا تھا اور معاویہ اور اس کے گماشتوں کے ہر روحانی تشدد کو برداشت کررہے تھے حتی کہ سنہ 60 ہجری قمری کے وسط میں معاویہ کا انتقال ہوا اور اس کا بیٹا یزید باپ کی جگہ پر بیٹھ گیا۔[51]

یزید کی بیعت سے انکار

بیعت ایک عربی روایت تھی جو سلطنت اور امارت جیسے اہم مسائل میں نافذ ہوتی تھی اور ماتحت افراد ـ بالخصوص عمائدین اور زعماء ـ کو سلطان یا امیر کے ہاتھ پر بیعت کرنا پڑتی تھی اور بیعت کے بعد اگر کوئی قوم اس کی خلاف ورزی کرتی تو یہ اس قوم کے لئے شرم اور ذلت کا باعث اور قطعی امضاء و تائید کی خلاف ورزی کی طرح، جرم مسلّم سمجھی جاتی تھی؛ اور سیرت نبوی میں بیعت اس وقت معتبر تھی جب یہ اختیاری اور جبر کے بغیر انجام پاتی۔[52]

معاویہ نے قوم کے جانے پہچانے افراد سے یزید کے لئے بیعت لی تھی لیکن اس نے امام حسین(ع) سے کوئی حجت نہیں کی تھی یہاں تک کہ اس نے یزید سے وصیت کی تھی کہ اگر حسین بن علی بیعت سے انکار کریں تو اس بات کو آگے نہ بڑھاؤ اور خاموشی اور چشم پوشی اختیار کرو؛ کیونکہ اس نے مسئلے کے دونوں پہلؤوں کا صحیح تجزیہ کیا تھا اور اس کے خطرناک انجام سے آگاہ تھا۔[53]

حرم امام حسین(ع) کے اندرونی دروازے پر حدیث نبوی

لیکن یزید غرور و تکبر اور لاپروائی کی وجہ سے باپ کی وصیت پر عمل کرنے کے لئے تیار نہ ہوئی اور باپ کے چل بسنے کے فورا بعد والی مدینہ کو حکم دیا کہ امام حسین سے اس کے لئے بیعت لے اور اگر نہ مانیں تو انہیں گرفتار کرکے شام روانہ کرے!! چنانچہ مدینہ کے والی نے یزید کی درخواست امام(ع) کو پہنچا دی اور آپ(ع) نے اس قضیے کے بارے میں سوچ بچار کے لئے مہلت مانگی اور رات کے وقت اپنے اہل خاندان کے ہمراہ مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کرگئے اور حرم پروردگار میں پناہ لی جو اسلام میں باضابطہ مقام امن تھا۔[54]

مکہ میں قیام

مدینہ سے مکہ کی طرف ہجرت کا واقعہ میں رجب المرجب کے آخر اور شعبان المعظم سنہ 60 ہجری قمری کو پیش آیا اور امام حسین(ع) نے تقریبا 4 مہینوں تک مکہ میں جائے پناہ کے عنوان سے، قیام کیا اور یہ خبر عالم اسلام کے گوشے گوشے میں پھیل گئی۔ ایک طرف سے وہ لوگ تھے جو معاویہ کے زمانے کے مظالم سے ناراض تھے اور یزید کی خلافت ان کی ناراضگی میں اضافہ کررہی تھی تو دوسری طرف سے بےشمار خطوط و مراسلات شہر مکہ میں پہنچ رہے تھے اور آپ(ع) سے درخواست کررہے تھے کہ عراق تشریف جا کر لوگوں کی رہبری سنبھالیں اور ظلم و ستم کا تختہ الٹنے کے لئے اٹھیں چنانچہ یہ صورت حال یزید کے لئے خطرناک تھی۔[55]

مکہ میں امام حسین(ع) کا قیام جاری تھا کہ حج کے ایام آن پہنچے اور مسلمانان عالم حج کے لئے گروہ در گروہ اور جوق در جوق حج بجا لانے کی تیاریاں کرنے لگے؛ اسی اثناء میں آپ(ع) کو اطلاع ملی کہ یزید کے کچھ گماشتے حجاج کرام کے بھیس میں مکہ میں داخل ہوئے ہیں جنہوں نے احرام کے نیچے ہتھیار چھپا رکھے ہیں اور انہیں حکم دیا گیا ہے کہ آپ(ع) کو اعمال حج کے دوران [دہشت گردی کا نشانہ بنا کر] قتل کردیں۔[56]

فرزند رسول(ص) نے اعمال میں تخفیف کردی اور مکہ چھوڑنے کا عزم کیا اور لوگوں کے درمیان کھڑے ہوئے اور مختصر سا خطاب کرکے عراق کی طرف عزیمت کا اعلان کیا۔ آپ(ع) نے اس مختصر سے خطاب میں اپنی شہادت کی خبر دی اور مسلمانوں سے کہا کہ وہ اس ہدف کے حصول میں آپ(ع) کا ساتھ دیں اور راہ خدا میں اپنے خون کا نذرانہ پیش کریں اور اگلے دن اپنے خاندان اور اصحاب کے ایک گروہ کے ساتھ عراق کی طرف عزیمت فرمائی۔[57]

امام حسین(ع) نے بیعت نہ کرنے کا قطعی فیصلہ کیا تھا اور اچھی طرح جانتے تھے کہ قتل کئے جائیں گے اور بنو امیہ کی بڑی عسکری قوت ـ جس کو عمومی بےراہروی اور بے ارادہ عوام ـ بالخصوص عراقی عوام ـ کی بنا پر تقویت مل رہی تھی ـ آپ(ع) کو زندہ نہیں چھوڑے گی۔[58]

بعض سرکردہ افراد نے ـ خیرخواہی کی بنا پر ـ آپ(ع) کا راستہ روکا اور اس عزیمت اور تحریک کے خطرات گوش گذار کرائے لیکن آپ(ع) نے فرمایا: "میں بیعت نہیں کروں گا اور ظلم و جبر کی حکومت کی تائید نہیں کروں گا، میں جہاں بھی جاؤں اور جہاں بھی قیام کروں وہ مجھے قتل کریں گے اور میں جو مکہ کو چھوڑ کے جارہا ہوں اس کا سبب یہ ہے کہ خانہ خدا کی حرمت کی رعایت کرنا چاہتا ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ میرا خون بہا کر اس کی حرمت شکنی کی جائے۔[59]

بسوئے کوفہ

مفصل مضمون: حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک

امام حسین(ع) کوفہ کی جانب روانہ ہوئے، بیچ راستے، جبکہ ابھی چند روز کا فاصلہ باقی تھا، آپ(ع) کو اطلاع دی گئی کہ کوفہ میں یزید کے والی ابن زیاد نے آپ(ع) کے نمائندے (مسلم بن عقیل) اور شہر کے زعیم، آپ کے مخلص دوست اور حامی (ہانی بن عروہ) کو قتل کیا ہے اور اس کے حکم سے پیروں میں رسیاں باندھ کر لاشوں کو گلیوں اور بازاروں میں گھسیٹا ہے اور شہر اور اس کے نواح پر کڑی نگرانی کی جارہی ہے اور دشمن کے ہزاروں سپاہی آپ(ع) کا انتظار کررہے ہیں چنانچہ اب موت کے سوا کوئی چیز ان کا استقبال نہیںکرے گی۔ یہیں وہ نقطہ تھا جہاں امام(ع) نے قطعی فیصلہ کیا کہ اس راہ میں جان کی بازی لگا دیں گے اور اپنا سفر جاری رکھا۔[60]

کربلا

مفصل مضمون: واقعۂ عاشورا مفصل مضمون: شہدائے کربلا کوفہ سے تقریبا 70 کلومیٹر کے فاصلے پر کربلا نامی صحرا واقع تھا جس میں لشکر يزید نے امام حسین(ع) اور آپ(ع) کے خاندان اور اصحاب کا محاصرہ کیا۔ امام حسین(ع) آٹھ روز تک کربلا میں تھے، محاصرے کا حلقہ ہر روز تنگ سے تنگ تر اور دشمن کی سپاہ میں اضافہ ہوتا گیا اور بالآخر 30000 یزیدی سپاہیوں نے آپ(ع) اور آپ(ع) کے خاندان کو گھیر لیا۔[61]

ان چند دنوں کے دوران امام حسین(ع) نے اپنے ٹھکانوں کو مضبوط کیا، اہل ترین اصحاب کو پاس رکھا، رات کے وقت سب کو بلوایا اور مختصر خطبہ دے کر فرمایا: "یہاں ہمیں موت اور شہادت کے سوا کوئی چیز بھی نہیں ملے گی اور ان لوگوں کا میرے سوا کسی کے ساتھ بھی کوئی سروکار نہیں ہے۔ میں نے اپنی بیعت تم سے اٹھا لی اور جو بھی چاہے رات کی تاریکی کا فائدہ اٹھا کر اپنی جان اس ہولناک بھنور سے چھڑا چلا جائے"۔[62]

پھر فرمایا: "چراغوں کو گل کردو اور اکثر ساتھی ـ جو بعض خاص مقاصد کے لئے آپ(ع) کے ساتھ تھے منتشر ہوئے اور عاشقان حق کی مختصر سی جماعت (اصحاب میں سے چالیس افراد) اور افراد خاندان کے سوا کوئی بھی ساتھ نہ رہا۔[63]

امام(ع) نے ایک بار پھر باقیماندہ اصحاب کو اکٹھا کیا اور ان کی آزمایش کی اور اصحاب اور ہاشمی اعزاء و اقارب سے خطاب کرکے فرمایا: "ان دشمنوں کا کام مجھ سے ہے، تم میں سے جو بھی چاہے رات کے اندھیرے میں اپنی جان بچا کر چلا جائے لیکن اس بار آپ کے باوفا ساتھیوں نے مختلف قسم کے الفاظ میں جواب دیا کہ "ہم ہرگز راہ حق سے منہ نہیں موڑیں گے جس کے امام آپ ہیں اور آپ کے پاک دامن سے ہرگز دست کش نہ ہوں گے اور جب تک ہمارے جسم میں جان اور ہمارے ہاتھ میں شمشیر ہے، آپ کے حرم کا دفاع کریں گے۔[64] بایں حال، امام سجاد(ع) سے منقولہ روایت کے مطابق جب امام حسین(ع) نے اصحاب کو خطبہ دے کر انہیں جانے کی اجازت دی تو سب نے جانے سے انکار کیا اور سب نے اٹھ کر ایمان و شجاعت اور ولایت اہل بیت(ع) سے مالامال جذبات کے ساتھ رہنے اور تا لمحۂ شہادت، پامردی دکھانے پر اصرار کیا۔[65]

9 محرم کی شام کو دشمن کی طرف سے امام(ع) کو (بیعت یا جنگ) کی آخری تعمیل آگئی اور آپ(ع) نے اس رات عبادت اور راز و نیاز کے لئے مہلت لی اور اگلے روز جنگ کا فیصلہ کیا۔[66] (دیکھیں: روز تاسوعا)

10 محرم سنہ 61 ہجری قمری، امام(ع) اپنے قلیل ساتھیوں کے ہمراہ (جن کی تعداد زیادہ سے زیادہ 90 تک پہنچتی تھی اور ان میں چالیس افراد وہ تھے جو آپ(ع) کے ساتھ کربلا آئے تھے اور 30 سے کچھ زیادہ افراد جنگ کی رات اور دن کے دوران دشمن کے لشکر سے الگ ہوکر آپ(ع) سے آملے تھے اور باقی افراد کا تعلق بنو ہاشم سے تھا جن میں آپ(ع) کے بھائی، بیٹے، بھتیجے، بھانجے اور عمو زادگان شامل تھے) دشمن کے کے بےشمار لشکر کے سامنے صف آرا ہوئے اور جنگ شروع ہوئی۔[67] (دیکھیں: روز عاشورا)

اس روز وہ صبح سے سہ پہر تک لڑے اور سیدالشہداء(ع) اور آپ(ع) کے اصحاب کے تمام افراد شہید ہوئے (شہداء میں امام حسن مجتبی(ع) کے دو کم سن فرزند اور امام حسین(ع) کے ایک شیرخوار، بھی شامل تھے)۔ [68]

بنوامیہ کی رسوائی

مفصل مضمون: اربعین حسینی

واقعۂ کربلا اور اہل بیت(ع) کی خواتین اور بچیوں کو شہر بہ شہر گھمائے جانے اور اسیروں کے درمیان زینب کبری(س) اور امام سجاد(ع) کے کوفہ اور شام میں متعدد بار خطبوں نے بنو امیہ کو رسوا کردیا اور معاویہ کی عشروں پر محیط تشہیری مہم کو ناکارہ کردیا یہاں تک کہ یزید نے اپنے ہی گماشتوں کے اعمال سے ملأ امام میں بیزاری کا اعلان کیا اور واقعۂ کربلا مؤثر ترین سبب تھا جس نے اپنے طویل المدت اثر کے طور پر بنو امیہ کی حکومت کا تختہ الٹ کر رکھ دیا، شیعہ کی جڑوں کو مستحکم کیا اور اس کے قلیل المدت آثار میں سے ایک یہ تھا کہ پورے عالم اسلام میں بغاوتوں اور تحریکوں کا آغاز ہوا جن نہایت خونریز جنگوں میں بدل گئیں اور جنگ و نزاع کی یہ صورت حال 12 برسوں تک جاری رہی؛ یہاں تک کہ امام حسین علیہ السلام کے قتل میں شریک ہونے والوں میں سے ایک فرد دست انتقال کی گرفت سے جان نہ بچا سکا۔[69]

عاشورا کے بارے میں ایک تجزیہ

اگر کوئی امام حسین(ع) کی تاریخ حیات اور یزید کے احوال میں باریک بینی کے ساتھ غور و تدبر کرے تو اس کے لئے اس حقیقت میں شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ اس دن امام حسین(ع) کے پاس اور قتل ہوجانے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا اور بیعت یزید ـ جو اسلام کی اعلانیہ پامالی کے مترادف تھی ـ آپ(ع) کے لئے ممکن نہ تھی؛ کیونکہ اگر ایک طرف سے یزید دین اسلام اور اس کے احکام کے لئے کسی قسم کی حرمت و احترام کا قائل نہ تھا اور کسی بھی اخلاقی اور دینی قاعدے اور قانون کا پابند نہ تھا تو دوسری طرف سے وہ اسلام کے مقدسات اور قوانین کا اعلانیہ مذاق اڑاتا تھا اور لاپروائی سے انہیں پامال کرتا تھا۔ جبکہ اس کے اسلاف دین کے بھیس میں دینی قوانین کی مخالفت کیا کرتے تھے، وہ دین کی ظاہری صورت کا احترام کرتے تھے اور ان دینی نسبتوں پر فخر کیا کرتے تھے جو مسلمانوں کے نزدیک محترم تھیں؛ جیسے: رسول اللہ(ص) کا صحابی ہونا وغیرہ۔[70]

اور یہیں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جو بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ان دو پیشواؤں (امام حسن اور امام حسین) کے معیار مختلف تھے ـ اور امام حسن(ع) صلح پسند تھے جبکہ امام حسین(ع) جنگ کو ترجیح دیتے تھے؛ یہاں تک کہ بڑے بھائی نے 40000 کا لشکر ہونے کے باوجود معاویہ کے ساتھ صلح کرلی اور چھوٹے بھائی 40 افراد کے ساتھ یزید کے خلاف میدان جنگ میں اترے ـ ایک بےجا اور بے بنیاد دعوی ہے؛ کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ یہی امام حسین(ع) جو حتی ایک دن بھی یزید کی بیعت کے سائے میں جانے کے لئے تیار نہیں ہوئے، عرصہ 10 سال تک معاویہ کی حکومت میں بھائی امام حسن(ع) کی مانند رہے (اور امام حسن(ع) بھی 10 برس تک معاویہ کی حکومت میں رہے تھے)، اور کبھی اس انداز سے مخالفت نہیں کی اور اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ اگر امام حسن(ع) اور امام حسین(ع) معاویہ کے خلاف کارزار کا راستہ اپناتے تو یقینا قتل کئے جاتے اور ان کا قتل اسلام کے لئے ذرہ برابر بھی مفید نہ ہوتا؛ اور ان کی شہادت معاویہ کی بظاہر حق بجانب روشوں کے مقابلے میں ـ جو صحابی، کاتب وحی اور خال المؤمنین (=مؤمنوں کا ماموں) کہلواتا تھا اور ہر قسم کی سازشیں کرتا تھا ـ غیر مؤثر ہوتی۔ علاوہ ازیں وہ اپنے گماشتوں کے ذریعے انہیں قتل کروا سکتا تھا اور خود جاکر سوگواری اور عزاداری کے لئے بیٹھ سکتا تھا اور ان کی خونخواہی کا دعوی کرسکتا تھا؛ وہی معاملہ جو اس نے خلیفۂ ثالث کے ساتھ کیا تھا۔[71]

چوتھے امام

مرقد امام سجاد(ع)جنت البقیع

مفصل مضمون: امام سجاد(ع)

امام سجاد(ع) (علی بن حسین ملقب بہ زین العابدین و سجاد) تیسرے امام کے فرزند ہیں جن کی والدہ ایران کے بادشاہ یزدگرد سوئم کی بیٹی شاہ زنان (المعروف بہ شہربانو) ہیں۔ آپ(ع) تیسرے امام کے واحد بیٹے تھے جو باقی تھے؛ جبکہ آپ(ع) کے تین بھائی کربلا میں شہید ہوچکے تھے اور آپ(ع) بھی والد کے ساتھ کربلا آئے تھے لیکن (چونکہ کربلا میں قیام کے دوران) بیمار تھے اور ہتھیار اٹھانے اور لڑنے سے عاجز تھے، جہاد میں شریک نہ ہوسکے اور شہید نہیں ہوئے اور اسیران اہل بیت رسول(ص) کے ہمراہ شام روانہ کئے گئے۔[72]

اسیری کے ایام گذارنے کے بعد، یزید کی ہدایت پر ـ رائے عامہ کی دلجوئی کی غرض سے ـ احترام کے ساتھ مدینہ لوٹا دیئے گئے۔ آپ(ع) کو دوسری بار اموی خلیفہ عبدالملک بن مروان کے حکم پر بیڑیوں اور زنجیروں میں جکڑ کر شام لے جایا گیا اور دوبارہ مدینہ واپس آگئے۔[73]

چوتھے امام مدینہ واپسی کے بعد اپنے گھر میں گوشہ نشین ہوئے اور ہر اجنبی پر اپنے گھر کا دروازہ بند کردیا، عبادت الہی میں مصروف ہوئے اور ابو حمزہ ثمالی اور ابو خالد کابلی سمیت خواصِ شیعہ کے سوا کسی کے ساتھ رابطہ نہیں کرتے تھے۔ البتہ خواص آپ سے اسلامی معارف اخذ کرکے شیعیان اہل بیت کے درمیان پھیلا دیتے تھے اور اس طریقے سے تشیع کو بہت فروغ ملا اور اس فروغ کے اثرات پانچویں امام کے زمانے میں ظہور پذیر ہوئے۔[74]

چوتھے امام کے باقیماندہ آثار میں آپ(ع) کی دعائیں ہیں جو صحیفۂ سجادیہ کی صورت میں شائع ہوتی رہی ہیں؛ یہ 57 دعائیں ہیں جو صحیح ترین معارف الہیہ پر مشتمل ہیں اور اس کو زبور آل محمد بھی کہا جاتا ہے۔[75]

چوتھے امام(ع) 35 سالہ امامت کے بعد ـ بعض شیعہ روایات کے مطابق سنہ 95 ہجری قمری میں ـ اموی ـ مروانی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کی تحریک پر اس کے بھائی ولید بن عبدالملک کے ہاتھوں مسموم اور شہید ہوئے۔[76]

پانچویں امام

مرقد امام باقر(ع)جنت البقیع

مفصل مضمون: امام محمد باقر علیہ السلام

امام محمد بن بن علی (باقر: علم و دانش کا سینہ چاک کرکے اس کے راز و رمز تک پہنچنے والا اور شکافتہ کرنے والا اور وہ لقب ہے جو رسول اللہ(ص) نے پانچویں امام کو عطا کیا ہے) چوتھے امام کے فرزند ہیں جو سنہ 57 ہجری قمری میں پیدا ہوئے، واقعۂ کربلا میں موجود تھے اور اپنے والد کی شہادت کے بعد اللہ کے امر اور اپنے اسلام (رسول خدا(ص)، علی(ع) اور امامین حسنین(ع) کی وصیت کے مطابق، عہدۂ امامت پر فائز ہوئے اور سنہ 114 یا 117 ہجری قمری میں (شیعہ روایات کے مطابق اموی خلیفہ ہشام بن عبدالملک کے بھتیجے ابراہیم بن ولید بن عبدالملک کے ہاتھوں مسموم اور) شہید ہوئے۔[77]

پانچویں امام کے زمانے میں ایک طرف سے بنو امیہ کے مظالم کی وجہ سے اسلامی ممالک کے کسی علاقے میں انقلاب بپا ہوتا تھا اور جنگیں چھڑ جاتی تھیں اور اموی خاندان کو اندرونی اختلافات کا سامنا تھا اور اس مسائل نے اموی خلافت کو مصروف کررکھا تھا اور یہ صورت حال امویوں کو اہل بیت(ع) کے خلاف کوئی اقدام کرنے سے روکے رکھتی تھی۔[78] اور دوسری طرف سے کربلا کے المیے اور اہل بیت(ع) کی مظلومیت ـ جس کی نمائندگی چوتھے امام(ع) کررہے تھے ـ مسلمانوں کو اہل بیت(ع) کی طرف مائل کررہی تھی۔ یہ اسباب و عوامل نے مل کر، عام لوگوں ـ بالخصوص شیعیان اہل بیت ـ کو سیلاب کی مانند مدینہ کی جانب متوجہ کردیا اور امام(ع) کے لئے معارف اہل بیت کی ترویج کے امکانات فراہم کئے جو آپ(ع) سے قبل کے ائمہ(ع) کے لئے فراہم نہیں ہوئے تھے؛ اور اس حقیقت کی گواہی وہ بے شمار احادیث ہیں جو پانچویں امام سے نقل ہوئی ہیں؛ اور شیعہ علماء اور رجال علم و دانش کی ایک بڑی جماعت نے مختلف علوم و فنون کے مختلف شعبوں میں آپ(ع) کے مکتب سے فیض حاصل کیا ہے اور ان کے نام فہرستوں اور کتب رجال میں ثبت ہوئے ہیں۔[79]

چھٹے امام

مفصل مضمون: امام جعفر صادق علیہ السلام

مام جعفر بن محمد (صادق) پانچویں امام کے فرزند ہیں جو سنہ 83 ہجری قمری میں پیدا ہوئے اور منصور عباسی کی تحریک پر سنہ 148 ہجری قمری اور شہید کردیئے گئے۔[80]

چھٹے امام کے عہد میں اسلامی ممالک میں متعدد انقلابات شروع ہوگئے تھے اور خاص طور پر مسوِّدہ (سیاہ پوشوں) کی تحریک، جو بنو امیہ کی خلافت کو گرانے کے لئے شروع ہوئی تھی؛ اور خونریز لڑائیاں لڑی جارہی تھیں جو آخر کار بنو امیہ کی خلافت و خاندان کے زوال پر منتج ہوئیں۔ اس کے نتیجے میں معرض وجود میں آنے والی صورت حال سے استفادہ کرکے امام باقر(ع) نے اپنی 20 سالہ امامت کے دوران اسلامی حقائق اور معارف اہل بیت(ع) کی ترویج کی جو بنیاد رکھی تھی، اس کے پیش نظر، امام صادق(ع) کو دینی تعلیمات کی نشر و اشاعت کے لئے زیادہ مناسب ماحول اور بیشتر امکانات ملے۔[81]

چھٹے امام نے اپنے دور امامت کے آخر تک ـ جو خلافت بنی امیہ کے اواخر اور خلافت بنی عباس کے اوائل، کے ہم عصر تھی ـ نئی صورت حال اور معرض وجود میں آنے والے مناسب ماحول سے استفادہ کرکے دینی تعلیمات کی ترویج کا اہتمام کیا اور مختلف فنون اور عقلی و نقلی علوم میں زرارہ، محمد بن مسلم، مؤمن طاق، ہشام بن حکم، ابان بن تغلب، ہشام بن سالم، حریز بن عبداللہ ازدی کوفی سجستانی، ہشام کلبی نسابہ، کیمیا دان جابر بن حیان صوفی سمیت متعدد شخصیات کی پرورش اور تربیت کی۔ یہاں تک کہ سفیان سوری، مذہب حنفی کے امام، ابو حنیفہ، قاضی سکونی اور قاضی ابو البختری سمیت اہل سنت کی متعدد علمی شخصیات کو امام صادق(ع) سے حصول فیض کا اعزاز حاصل ہے۔ مشہور ہے کہ چھٹے امام کے حوزۂ درس سے 4000 محدثین اور علماء فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔[82]

امامین صادقین (یعنی امام باقر اور امام صادق) علیہما السلام سے منقولہ احادیث کی تعداد پیغمبر اکرم(ص) اور باقی 10 ائمہ سے منقولہ حدیثوں سے زیادہ ہے۔[83]

چھٹے امام(ع) کو اپنے دور امامت کے اواخر میں عباسی خلیفہ منصور عباسی کے ظلم سے دچار ہونا پڑا۔ منصور نے آپ(ع) کی کڑی نگرانی شروع کی، آپ(ع) کو محدود کیا۔ منصور نے سادات اور علویوں کے حق میں مختلف قسم کے مظالم اور تشدد آمیز اقدامات روا رکھے، جو بنو امیہ نے ـ سنگ دلی اور لاپروائیوں کے باوجود ـ روا نہیں رکھے تھے۔ علویوں کو منصور کے حکم پر گرفتار کیا جاتا تھا اور تاریک زندانوں کی گہرائیوں میں تشدد اور آزار و اذیت کرکے ان کی زندگیوں کا خاتمہ کیا جاتا تھا اور بعض کے سر اجتماعی طور پر قلم کئے جاتے تھے، بعض کو زندہ در گور کیا جاتا اور بعض کو عمارتوں کی بنیادوں اور دیواروں کے بیچ قرار دیا جاتا تھا اور ان کے اوپر عمارتیں بنائی جاتی تھیں۔[84]

منصور نے حکم دیا کہ امام صادق(ع) کو مدینہ سے گرفتار کیا جائے (چھٹے امام اس سے قبل بھی ایک بار عباسی خلیفہ سفاح کے حکم پر عراق لایا گیا تھا اور اس سے قبل ایک بار اپنے والد امام محمد باقر(ع) کے ہمراہ، ہشام بن عبدالملک کے حکم پر، دمشق لے جایا گیا تھا)۔ منصور نے امام(ع) کو بلوایا تو کچھ عرصے تک آپ(ع) کی نگرانی کی اور کئی بار آپ(ع) کے قتل کے منصوبے بنائے اور آپ(ع) کی بےحرمتی کی لیکن آخر کار اس نے اجازت دی کہ آپ(ع) مدینہ واپس چلے جائیں؛ امام(ع) مدینہ واپس چلے گئے اور باقی عمر شدید تقیے اور تقریبا گوشہ نشینی کی حالت میں گذاری، یہاں تک کہ منصور کی سازش کے تحت مسموم اور شہید کردیئے گئے۔[85]

منصور نے چھٹے امام کی شہادت کی خبر وصول کرکے مدینہ کے والی کو لکھا کہ پسماندگان کو دلاسہ دینے کے بہانے امام(ع) کے گھر چلا جائے اور امام(ع) کا وصیت نامہ منگوا کر پڑھ لے اور دیکھ لے کہ جس کو امام(ع) نے وصی اور جانشین کے طور پر متعارف کرایا ہو اس کا سر فی المجلس ہی قلم کردے؛ اور البتہ منصور کا مقصود یہ تھا کہ مسئلۂ امامت کا خاتمہ کیا جائے اور تشیع کے چراغ کو ہمیشہ کے لئے گل کردے؛ لیکن اس کی سازش کے برعکس، مدینہ کے والی نے جب امام(ع) کی وصیت کو پڑھ لیا تو دیکھا کہ آپ(ع) نے پانچ افراد کو بحیثیت جانشین متعین کیا ہے: 1۔ منصور عباسی، 2۔ مدینہ کا والی، 3۔ بڑا بیٹا عبداللہ افطح، 4۔ چھوٹا بیٹا موسی اور ان کی والدہ 5۔ حمیدہ خاتون (جو امام موسی کاظم علیہ السلام کی والدہ تھیں۔ امام صادق(ع) نے اس تدبیر کے ذریعے منصور کی سازش کو خاک میں ملایا تھا۔[86]

ساتویں امام

امامین کاظمین(ع) کا قدیم حرم

مفصل مضمون: امام موسی کاظم علیہ السلام

امام موسی بن جعفر (کاظم) چھٹے امام(ع) کے فرزند ہیں جو سنہ 128 ہجری قمری میں پیدا ہوئے اور سنہ 183 ہجری قمری کو [ہارون عباسی کے حکم پر] قیدخانے میں مسموم اور شہید ہوئے۔ آپ(ع) [سابقہ ائمہ(ع) کی طرح] امر پرورگار اور والد کی وصیت سے عہدۂ امامت پر فائز ہوئے۔[87]

ساتویں امام عباسی خلفاء میں سے منصور، ہادی، مہدی اور ہارون کے ہم عصر تھے اور شدید ترین گھٹن اور تاریک دور میں سخت تقیے کی حالت میں زندگی گذارنے پر مجبور تھے۔ یہاں تک کہ بالآخر ہارون حج کے عنوان سے مدینہ چلا گیا اور اس کے حکم پر امام کاظم(ع) کو ـ مسجد النبی(ص) میں نماز بجا لارہے تھے ـ گرفتار کرکے زنجیروں میں جکڑ لیا اور قیدخانے میں مقید کرلیا۔ آپ(ع) کو مدینہ سے بصرہ اور بصرہ منتقل کیا گیا اور برسوں تک ایک قید خانے سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے میں منتقل کیا جاتا رہا اور بالآخر آپ(ع) کو بغداد میں سندی بن شاہک کی زندان میں قید کیا گیا جہاں آپ(ع) کو مسموم اور شہید کیا گیا اور مقبرہ قریش میں سپرد خاک کیا گیا جو اس وقت شہر کاظمیہ کہلاتا ہے۔[88]

آٹھویں امام

حرم امام رضا علیہ السلام مشہد


مفصل مضمون: امام علی ابن موسی الرضا(ع)

امام علی بن موسی (رضا) ساتویں امام کے فرزند ہیں جو مشہور ترین تاریخ کے مطابق سنہ 148 ہجری قمری میں پیدا ہوئے اور سنہ 203 کو [مامون کے ہاتھوں مسموم ہوکر] شہید ہوئے۔[89]

آٹھویں امام اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد اللہ کے امر اور اسلاف کی جانب سے متعارف کئے جانے کی بنا پر، عہدۂ امامت پر فائز ہوئے اور ہارون عباسی، امین عباسی اور مامون عباسی کے ہم عصر تھے۔[90]

باپ کے انتقال کے بعد بھائیوں "مامون اور امین" کے درمیان اختلافات پیدا ہوئے جس کی وجہ سے خونریز جنگیں ہوئیں اور امین مارا گیا چنانچہ مامون سریر خلافت پر مسلط ہوا۔ اس دن تک علوی سادات کے خلافت بنو عباس کی روش تشدد پسندانہ اور کشت و خون پر مبنی تھی اور یہ روش مسلسل شدید سے شدید تر ہوتی رہی تھی؛ جس کی وجہ سے کچھ عرصہ خاموشی چھا جاتی تھی لیکن پھر بھی کوئی علوی عباسیوں کے خلاف قیام کرتا اور خونریز جنگ اور آشوب کا ماحول بن جاتا تھا اور یہ بجائے خود عباسی حکمرانوں کے لئے شدید اور ناخوشگوار آزمائش تھی جس سے انہیں گذرنا پڑتا تھا۔ اور اہل بیت میں شیعیان اہل بیت کے ائمہ(ع) اگرچہ قیام اور تحریک بپا کرنے والوں کے ساتھ تعاون نہیں کرتے تھے اور ان مسائل میں مداخلت سے دور رہتے تھے، لیکن ان دنوں شیعہ آبادی اچھی خاصی تھی اور وہ سب ائمۂ اہل بیت کو اپنے پیشوا اور مفترض الطاعہ امام، اور پیغمبر اکرم(ص) کے حقیقی خلفاء اور جانشین سمجھتے تھے۔ وہ خلافت کے نظام کو ـ جو قیصر کسرٰی کے دربار کی صورت اختیار کرگیا تھا، اور بعض بےراہرو افراد کے زیر انتظام ہوتا تھا ـ ناپاک نظام سمجھتے تھے اور اس کو اپنے پاک پیشواؤں کے مقدس دامن سے دور دیکھتے تھے، چنانچہ اس صورت حال کا دوام و تسلسل عباسی نظام خلافت کے لئے خطرناک تھا اور اس کے وجود کو خطرے سے دوچار کرتا تھا۔[91]

مامون نے سوچا کہ ان آزمائشوں کو ـ جنہیں اس کے اسلاف کی ستر سالہ روش ختم نہیں کرسکی تھی ـ نئی روش اور نئی سیاست سے ختم کردے؛ اور وہ روش یہ تھی کہ آٹھویں امام(ع) کو ولایت عہدی کا منصب سونپ دے اور یوں ہر مسئلے کا خاتمہ کرے؛ کیونکہ اس صورت میں علوی ایسی حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہ کرتے جن میں ان کا اپنا بھی کردار ہوتا اور شیعہ بھی ـ جو خلافت اور اس کے کارگزاروں کو پلید و ناپاک سمجھتے تھے ـ جب اپنے امام کے ہاتھوں کو خلافت کی پلیدی سے آلودہ دیکھتے تو وہ ـ جو ائمۂ اہل بیت کے تئیں معنوی اعتقاد اور باطنی عقیدہ رکھتے تھے ـ اپنا عقیدہ کھوجائیں گے، ان کا مذہبی نظم و نسق ختم ہوجائے گا اور اس کے بعد ان کی طرف سے خلافت کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہوسکے گا۔[92]

نویں امام

حرم امام کاظم و امام جواد(ع) کاظمین

مفصل مضمون: امام محمد جواد علیہ السلام

امام محمد بن علی (تقی) (امام جواد، اور ابن الرضا) آٹھویں امام کے فرزند ہیں جو سنہ 195 ہجری کو مدینہ میں پیدا ہوئے اور شیعہ احادیث کے مطابق سنہ 220 ہجری میں معتصم عباسی کے حکم پر اپنی زوجہ ام الفضل بنت مامون کے ہاتھوں مسموم اور شہید ہوئے ہیں اور کاظمین کے مقام پر اپنے جد امجد ساتویں امام(ع) کے پہلو میں مدفون ہیں۔[93]

آپ(ع) اپنے والد بزرگوار کی شہادت کے بعد امر خدا اور اسلاف طاہرین کی وصیت کے مطابق، منصب امامت پر فائز ہوئے۔ امام جواد(ع) والد کی شہادت کے وقت مدینہ میں تھے۔ مامون نے آپ(ع) کو بغداد طلب کیا ـ جو ان دارالخلافہ تھا ـ اور آپ(ع) کے ساتھ بظاہر محبت سے پیش آیا اور بڑی مہربانی برتی اور اپنی بیٹی کا آپ(ع) سے عقد کیا۔ اور آپ(ع) کو بغداد میں روکے رکھا۔ وہ درحقیقت اس واسطے سے آپ(ع) پر اندرون خانہ و بیرون خانہ کڑی نگرانی کا انتظام کیا۔ امام(ع) کچھ عرصے تک بغداد میں روہے اور پھر مامون کی اجازت سے مدینہ گئے اور مامون کے عہد حکومت کے آخر تک مدینۃ الرسول میں رہے۔ مامون کا انتقال ہوا تو معتصم نے زمام خلافت سنبھال لی، امام(ع) کو دوبارہ بغداد طلب کرکے زیر نگرانی رکھا اور آخرکار ـ جیسا کہ بتایا گیا ـ معتصم کی تحریک پر اپنی زوجہ ام الفضل بنت مامون کے ہاتھوں مسموم اور شہید ہوئے۔[94]

دسویں امام

حرم امام ہادی(ع) سامرا

مفصل مضمون: امام ہادی علیہ السلام

امام علی بن محمد (نقی) (ہادی) نویں امام(ع) کے فرزند سنہ 212 ہجری قمری کو مدینہ میں پیدا ہوئے اور سنہ 254 ہجری قمری کو (شیعہ روایات کے مطابق) عباسی خلیفہ معتز کے ہاتھوں ـ زہر کے ذریعے سے ـ شہید ہوئے[95] اور سامرا میں مدفون ہوئے۔

دسویں امام سات عباسی خلفاء ـ مامون، معتصم، واثق، متوکل، منتصر، |مستعین اور معتز ـ کے ہم عصر تھے۔ سنہ 220 میں آپ(ع) کے والد بزرگوار بغداد میں مسموم ہوکر شہید ہوئے تو آپ(ع) اس وقت مدینہ میں تھے۔ بأمر خدا اور اسلاف طاہرین کی وصیت کے مطابق منصب امامت پر فائز ہوئے۔ آپ(ع) نے دینی معارف کی تبلیغ اور نشرواشاعت کا اہتمام کیا۔ یہاں تک کہ متوکل نے خلافت پر قبضہ کیا۔[96]

متوکل نے سنہ 243 ہجری کو [حاسدین کی] چغلیوں کے نتیجے میں اپنے ایک امیر کو حکم دیا کہ امام(ع) کو مدینہ سے سامرا لے آئے اور آپ(ع) کے نام ایک محبت آمیز اور تعظیم و تکریم سے بھر پور خط لکھا اور سامرا کی طرف روانہ ہوکر ملاقات کے لئے آنے کی درخواست کی۔ امام(ع) سامرا آئے تو بظاہر کوئی اقدام عمل میں نہیں لایا گیا لیکن متوکل نے آپ(ع) کے لئے آزار و اذیت اور ہتک حرمت کے تمام ممکنہ اسباب فراہم کئے اور کئی بار قتل اور توہین کی غرض سے آپ(ع) کو طلب کیا اور اس کے حکم سے آپ(ع) کے گھر کی تلاشی لی گئی۔[97]

خاندان رسالت کے ساتھ دشمنی میں عباسی خلفاء میں متوکل کی کوئی مثال نہ تھی اور بطور خاص علی(ع) کی ساتھ شدید دشمنی برتتا تھا اور آشکارا دشنام طرازی کرتا تھا۔ اس نے ایک نقل اتارنے والے مسخرے کو حکم دیا تھا کہ بزم عیش میں امیرالمؤمنین(ع) کا مذاق اڑاتا رہے اور یوں وہ دیکھ کر ہنستا تھا!! اس نے سنہ 237 ہجری میں کربلا میں ضریح امام حسین(ع) کو منہدم کیا جائے چنانچہ حرم امام حسین(ع) اور اطراف میں بنے ہوئے بے شمار گھروں کو منہدم کرکے زمین کے برابر کردیا گیا! اور حکم دیا کہ حرم امام حسین(ع) پر پانی باندھا جائے اور متوکل نے حکم دیا کہ ہموار کی ہوئی زمین میں ہل چلایا جائے تا کہ حرم کا اسم و رسم تک مٹ جائے۔[98]

متوکل کے زمانے میں حجاز میں سکونت پذیر علوی سادات کی زندگی کے حالات افسوسناک حد تک خراب تھے جن کی خواتین کے پاس چہرہ چھپانے کے لئے کوئی ساتر نہیں ہوتا تھا اور اکثر خواتین کے پاس پھٹی پرانی چادر ہوتی تھی جس کو وہ نماز کے وقت باری باری استعمال کرتی تھیں۔ اسی طرح کے مظالم اس نے مصر میں مقیم علوی سادات کے ساتھ بھی روا رکھے۔ دسویں امام(ع) متوکل کے تشدد اور آزار و اذیت پر صبر کرتے تھے حتی کہ متوکل چل بسا اور اس کے بعد منتصر، مستعین اور معتر یکے بعد دیگرے بر سر اقتدار آئے اور آپ(ع) معتز کی سازش کے نتیجے میں مسموم اور شہید ہوئے۔[99]

گیارہویں امام

امامین عسکریین کے حرم شریف کی تعمیر نو

مفصل مضمون: امام حسن عسکری علیہ السلام امام حسن بن علی (عسکری) دسویں امام کے فرزند ہیں جو سنہ 232 ہجری قمری میں پیدا ہوئے اور سنہ 260 ہجری قمری کو (شیعہ روایات کے مطابق) عباسی خلیفہ معتمد کی سازش سے مسموم اور شہید ہوئے۔[100]

گیارہویں امام اپنے والد ماجد کی شہادت کے بعد بامر خدا اور گذشتہ معصوم پیشواؤں کے تعین کے نتیجے میں منصب امامت پر فائز ہوئے اور سات سال کے عرصے تک امام رہے۔ اس عرصے میں آپ(ع) کو عباسی خلافت کی ناقابل برداشت دباؤ اور نگرانی کے تحت نہایت تقیے کی حالت میں زندگی گذارنا پڑی اور آپ کی روش نہایت محتاطانہ تھی۔ آپ(ع) کے گھر کا دروازہ عوام ـ یہاں تک کہ شیعیان اہل بیت ـ کے لئے بند رہتا تھا اور صرف خواصّ شیعہ کو ملاقات کی اجازت دیتے تھے۔ بایں وجود آپ اکثر و بیشتر قید میں رہتے تھے اور اس قدر شدید دباؤ کا سبب یہ تھا کہ:

  • اولاً: ان زمانوں میں شیعہ کی آبادی اور قوت میں قابل قدر اضافہ ہوا تھا؛ اور سب کو معلوم ہوچکا تھا کہ "شیعہ وہ ہیں جو امامت کے قائل ہیں" ائمۂ شیعہ پہچانے گئے تھے اور معروف و مشہور تھے؛ اسی بنا پر عباسی خلافت نے پہلے سے کہیں زیادہ، ائمہ(ع) کی نگرانی شروع کررکھی تھی اور ہر ممکنہ روش کو بروئے کار لاکر اسرار آمیز سازشوں کے ذریعے انہیں محو و نابود کرنے کے درپے تھی۔ ثانیا
  • ثانیاً: عباسی خلافت جان چکی تھی کہ خواص شیعہ گیارہویں امام کے لئے ایک فرزند کے قائل ہیں اور وہ جو احادیث امام(ع) اور آپ(ع) کے آباء و اجداد سے نقل کرتے ہیں ان کی رو سے آپ(ع) کے یہ فرزند وہی مہدی موعود(عج) ہیں جن کی خبر شیعہ اور سنی راویوں اور محدثین نے نقل کی ہے اور انہیں امام دوازدہم کہا جاتا ہے۔[101]

چنانچہ گیارہویں امام پر گذشتہ ائمہ(ع) کی نسبت زیادہ سخت نگرانی کی جاتی تھی اور خلیفۂ وقت نے قطعی فیصلہ کیا تھا کہ داستان امامت کا خاتمہ کردے اور اس گھر کا درواز ہمیشہ کے لئے بند کردے۔ چنانچہ جبب معتمد عباسی کو معلوم ہوا کہ امام(ع) بیمار ہیں تو اس نے ایک طبیب آپ(ع) کے پاس روانہ کیا اور اپنے معتمدین اور قضات (= قاضیوں) میں سے چند افراد کو حکم دیا کہ آپ(ع) کے گھر کی نگرانی کریں اور گھر کے اندرونی حالات پر نظر رکھیں، اور امام(ع) کی شہادت کے بعد گھر کی تلاشی لیں۔ خلیفہ کے گماشتوں نے دائیوں کے توسط سے امام(ع) کی کنیزوں کا معائنہ کروایا اور دو سال تک اس کے جاسوس گیارہویں امام کا خلف ڈھونڈنے میں مصروف رہے حتی کہ مکمل طور پر مایوس اور ناامید ہوئے۔[102]

شہادت کے بعد گیارہویں امام کو سامرا میں اپنے گھر کے اندر آپ(ع) کے والد بزرگوار دسویں امام کے پہلو میں سپرد خاک کیا گیا۔[103]

بارہویں امام

مسجد جمکران کی پرانی تصویر
جدید مسجد جمکران کی ایک تصویر
مسجد سہلہ

مفصل مضمون: امام مہدی علیہ السلام

حضرت مہدی موعود (جو غالبا امام عصر، صاحب الزمان [اور امام زمانہ] کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں) سنہ 256 ہجری قمری کو سامرا میں پیدا ہوئے اور سنہ 260 ہجری قمری میں اپنے والد ماجد کی شہادت تک آپ(ع) کے زیر تربیت رہے اور لوگوں کی نظروں سے اوجھل رہتے تھے اور خواص شیعہ میں سے معدودے چند افراد کے سوا کسی کو آپ(عج) کی ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوتا تھا اور والد کی شہادت کے بعد آپ(عج) امامت کے منصب پر فائز ہوئے تو بامر خدا غائب ہوئے اور اپنے نُوّابِ خاص (= نائبین خاص) کے سوا کسی کے سامنے ظاہر نہیں ہوتے تھے سوائے خاص استثنائی حالات کے۔[104]

نوّاب خاص

مفصل مضمون نواب اربعہ بارہویں امام نے کچھ عرصے تک عثمان بن سعید عَمری کو ـ جو آپ(عج) کے والد اور جد امجد کے اصحاب میں سے تھے اور ان کے معتمد اور امین تھے ـ نائب خاص قرار دیا اور ان کے توسط سے شیعیان اہل بیت کے سوالات کا جواب دیتے تھے۔ عثمان بن سعید کی وفات کے بعد ان کے بیٹے محمد بن عثمان عَمری امام(عج) کے نائب مقرر ہوئے جن کی وفات کے بعد یہ منصب ابو القاسم حسین بن روح نوبختی کو سونپ دیا گیا۔ حسین بن روح کی وفات کے بعد علی بن محمد سمری ناحیۂ مقدسۂ امام عصر(عج) کے نائب خاص تھے۔[105]

سنہ 329 ہجری قمری میں علی بن محمد سمری کی وفات کو ابھی چند روز باقی تھے کہ ناحیۂ مقدسہ کی جانب سے ایک توقیع صادر ہوئی جس میں علی بن محمد سمری کو ہدایت کی گئی تھی کہ "تم آج سے چھ دن بعد دنیا سے رخصت ہوجاؤگے اور اس کے بعد نیابت خاصہ کا دروازہ بند ہوچکا ہے اور اب غیبت کبری واقع ہوگی اور اس دن تک جاری رہے گی جب خداوند متعال اذن ظہور دے گا۔

چنانچہ اس توقیع کے مطابق بارہویں امام(عج) کی غیبت کے دو مرحلے ہیں:

  1. غیبت صغری: جس کا آغاز سنہ 260 ہجری اور اختتام سنہ 329 ہجری کو ہوا اور یہ غیبت تقریبا 70 سال تک جاری رہی۔
  2. غیبت کبری: جو سنہ 329 سے شروع ہوئی اور جب تک خدا چاہے گا جاری رہے گی۔ رسول اللہ(ص) شیعہ اور سنی کے ہاں متفق علیہ حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں:
اگر باقی نہ رہا ہو اس دنیا کی عمر سے مگر ایک دن، خداوند متعال اس دن کو طول دے گا یہاں تک کہ میرے فرزندوں میں سے مہدی ظہور کرے اور اس دنیا کو عدل و انصاف سے بھر دے جس طرح کہ یہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔[106]

آئمہ(ع) کے بارے میں اہل سنت کی کتابیں

سطور بالا کے علاوہ، اہل سنت کے حلقوں میں بھی ائمہ(ع) کی شخصیت کا ذکر نہایت عزت و احترام کے ساتھ کیا جاتا تھا اور یہی احترام کبھی ان کے فضائل میں کسی کتاب کی تالیف کے اسباب فراہم کرتا تھا۔

اہل سنت کے ہاں فضائل اہل بیت(ع) میں تالیف ہونے والی کتب کی تعداد کم نہیں ہے۔ اس سلسلے میں مؤلفین کے لئے ایک الہام بخش اثر، "ابوالفضل یحیی بن سلامہ حصکفی (متوفٰی سنہ 551 یا 553ہجری قمری) کا قصیدہ ہے جس میں تمام ائمۂ طاہرین کے نام لے کر ان کی مدح کی گئی ہے۔[107]۔[108]

علمائے اہل سنت کے توسط سے بارہ اماموں کے فضائل میں لکھی جانی والی کتابوں کے بعض نمونے درج ذیل ہیں:

  1. مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول، تالیف: کمال الدین ابن طلحہ شافعی (متوفٰی 562ق)، مطبوعہ نجف، دارالکتب التجاریہ؛
  2. تذکرۃ خواص الامۃ فی خصائص الائمۃ، تالیف: حنفی عالمی دین یوسف بن قزاوغلی سبط ابن جوزی (متوفٰی 654ہجری قمری)، اشاعت مکرر، منجملہ نجف، 1369ہجری قمری؛
  3. الفصول المہمۃ فی معرفۃ الائمہ، تالیف: ابن صباغ مالکی (متوفٰی 855ہجری قمری) جو بارہا، منجملہ نجف میں، دارالکتب التجاریہ کے توسط سے زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے۔ اور اس کے متعدد اور مختلف النوع اور کثیر نسخے عالم اسلام کے قلمی کتب خانوں میں محفوظ ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کتاب مختلف صدیوں میں رائج اور دستیاب رہی ہے۔ [109]. ابن صباغ نے اپنی اس کاوش میں شیعہ کتب منجملہ شیخ مفید کی کتاب الارشاد سے بکثرت اقتباسات لئے ہیں۔ (ص 192، 213، جم)؛
  4. الشذرات الذہبیہ یا "الائمۃ الاثنا عشر"، تالیف: حنفی دمشقی عالم شمس الدین ابن طولون، (متوفٰی 953ق)، ط بیروت، 1958عیسوی، باہتمام صلاح الدین المنجد؛
  5. الاتحاف بحب الاشراف، تالیف: مصر کے شافعی عالم عبداللہ بن عامر شبراوی، (متوفٰی 1172ہجری قمری)، ط قاہرہ، 1313ہجری قمری؛
  6. نور الابصار فی مناقب آل بیت النبی المختار، تالیف: سید مؤمن شبلنجی (متوفٰی بعد از 1290ہجری قمری)، طبع مکرر منجملہ قاہرہ میں، سنہ 1346ہجری قمری؛
  7. ینابیع المودۃ، تالیف: حنفی عالم سلیمان بن ابراہیم قندوزی، (متوفٰی 1294ہجری قمری)، ط استنبول، 1302ہجری قمری۔[110]
نام القاب کنیت روز ولادت سال ولادت مولد یوم شہادت سال شہادت مقام شہادت قاتل امامت مدت امامت والدہ کا نام
علی بن ابی طالب امیرالمؤمنین ابو الحسن 13 رجب سنہ 30 عام الفیل مکہ (کعبہ) 21 رمضان 40ھ‍ کوفہ ابن ملجم 11-40ھ‍ 23 سال فاطمہ بنت اسد
حسن بن علی مجتبی ابو محمد 15 رمضان 2ھ‍ مدینہ 28 صفر 50ھ‍ مدینہ جعدہ بحکم معاویہ 40-50ھ‍ 10 سال فاطمہ بنت رسول اللہ(ص)
حسین بن علی سید الشہداء ابوعبد اللہ 3 شعبان 3 ھ‍ مدینہ 10 محرم عاشورا 61ھ‍ کربلا شمر و سپاہ عمر سعد بحکم یزید 50-61ھ‍ 10 سال فاطمہ بنت رسول اللہ(ص)
علی بن الحسین سجاد، زین العابدین ابو الحسن 5 شعبان 38ھ‍ مدینہ 25 محرم 95ھ‍ مدینہ ولید یا اس کا بھائی ہشام 61-94ھ‍ 35 سال شہربانو
محمد بن علی باقر العلوم ابو جعفر 1 رجب 57 ھ‍ مدینہ 7 ذو الحجہ 114ھ‍ مدینہ ابراہیم بن ولید بن عبدالملک بحکم ہشام 94-115ھ‍ 19 سال فاطمہ
جعفر بن محمد صادق ابوعبداللہ 17 ربیع الاول 83 ھ‍ مدینہ 25 [شوال 148ھ‍ مدینہ منصور عباسی 114-148ھ‍ 34 سال فاطمہ
موسی بن جعفر کاظم ابوالحسن 7 صفر 128ھ‍ مدینہ 25 رجب 183ھ‍ کاظمین سندی بن شاہک بحکم ہارون عباسی 148-183ھ‍ 35 سال حمیدہ بربریہ
علی بن موسی رضا ابوالحسن 11 ذو القعدہ 148ھ‍ مدینہ آخر صفر 203ھ‍ مشہد مامون عباسی 183-203ھ‍ 20 سال تکتم
محمد بن علی تقی، جواد ابو جعفر 10 رجب 95 ھ‍ مدینہ آخر ذو القعدہ 220ھ‍ کاظمین لبابہ بنت مامون بحکم معتصم 203-220ھ‍ 17 سال سبیکہ خاتون
علی بن محمد ہادی، نقی ابوالحسن 15 ذو الحجہ 212 ھ‍ مدینہ (صریا) 3 رجب 254ھ‍ سامرا معتز عباسی کا بھائی معتمد 220-254ھ‍ 34 سال سمانہ مغربیہ
حسن بن علی زکی، عسکری ابومحمد 10 ربیع الثانی 232 ھ‍ مدینہ 8 ربیع الاول 260 ھ‍ سامرا معتمد 254-260ھ‍ 6 سال حدیثہ یاسلیل
حجة بن الحسن قائم ابوالقاسم 15 شعبان 255ھ‍ سامرا 9 ربیع الاول260ھ‍ امام قائم(ع) زندہ اور نظروں سے اوجھل ہیں 1175 سال، اب تک نرجس خاتون

حوالہ جات

  1. طباطبائی، شیعه در اسلام، صص 197-199۔
  2. سورہ بقرہ، آیت 124۔
  3. کلینی، كافى ج1 ص294۔
  4. ابن بابویہ، عیون اخبار الرضا، ج2،ص100، مجلسی، بحار الانوار، ج23، ص32۔... ويمنع ظالمهم من مظلومهم ، ومنها أنه لو لم يجعل لهم إماما قيما أمينا حافظا مستودعا لدرست الملة، وذهب الدين وغيرت السنة والاحكام، ولزاد فيه المبتدعون، ونقص منه الملحدون، وشبهوا ذلك على المسلمين...۔
  5. سورہ انبیاء، آیت 73۔
  6. نیز دیکھئے:وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ۔
    ترجمہ: اور ان میں سے ہم نے کچھ پیشوا قرار دیئے جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے ہیں جب کہ انہوں نے صبر سے کام لیا اور وہ ہماری آیتوں پر یقین کرتے تھے۔ سورہ انبیاء، آیت 24۔
  7. سورہ یس، آیات 82 و 83۔
  8. طباطائی، تفسیر المیزان، ج14، ص430۔
  9. سلیم بن قیس ہلالی، اسرار آل محمد(ص)، ص227۔
  10. دیکھیں: نجاشی، رجال، 440۔
  11. نجاشی، رجال، صص 219، 298۔
  12. بخاری، صحیح، ج8،ص127۔
  13. مسلم، صحیح، ج3، ص1452-1453۔
  14. ابوداؤد، سنن، ج4،ص106۔
  15. ترمذی، سنن، ج4،ص501۔
  16. نعمانی، الغیبه، ص62۔
  17. ابن بابویه، الخصال، ص469 اور بعد کے صفحات۔
  18. خزاز، کفایه الاثر، ص49 اور بعد کے صفحات۔
  19. ابن عیاش، مقتضب الاثر، ص4۔
  20. احمد بن حنبل، مسند، ج1،ص398، 406۔
  21. حاکم، المستدرک علی الصحیحین، ج4، ص501۔
  22. نعمانی، الغیبه، 74- 75۔
  23. خزاز، کفایة الاثرو ص23 اور بعد کے صفحات۔
  24. ابن عیاش، مقتضب الاثر، 3۔
  25. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص199۔
  26. طباطبائی، وہی ماخذ، ص199۔
  27. طباطبائی، وہی ماخذ، صص199-200۔
  28. طباطبائی، وہی ماخذ، ص200۔
  29. طباطبائی، وہی ماخذ، صص200-201۔
  30. طباطبائی، وہی ماخذ، ص201۔
  31. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص201۔
  32. طباطبائی، وہی ماخذ، صص201-202۔
  33. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص202۔
  34. طباطبائی، وہی ماخذ، صص202-203۔
  35. طباطبائی، وہی ماخذ، ص203۔
  36. طباطبائی، وہی ماخذ، ص203-204۔
  37. طباطبائی، وہی ماخذ، ص204۔
  38. طباطبائی، وہی ماخذ، ص204-205۔
  39. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص205۔
  40. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص205۔
  41. طباطبائی، شیعه در اسلام، صص205-206۔
  42. طباطبائی، شیعه در اسلام، صص206-207۔
  43. طباطبائی، شیعه در اسلام، صص207۔
  44. طباطبائی، وہی ماخذ، ص214-215۔
  45. طباطبائی، وہی ماخذ، ص215۔
  46. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص207۔
  47. طباطبائی، شیعه در اسلام، صص208-207۔
  48. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص208۔
  49. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص208۔
  50. طباطبائی، شیعه در اسلام، صص208-207۔
  51. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص208۔
  52. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص208۔
  53. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص209۔
  54. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص209۔
  55. طباطبائی، شیعه در اسلام، صص209-210۔
  56. طباطبائی، وہی ماخذ، ص210۔
  57. طباطبائی، وہی ماخذ، ص210۔
  58. طباطبائی، وہی ماخذ، ص210۔
  59. طباطبائی، وہی ماخذ، ص211۔
  60. طباطبائی، وہی ماخذ، ص211۔
  61. طباطبائی، وہی ماخذ، ص211-212۔
  62. طباطبائی، وہی ماخذ، ص212۔
  63. طباطبائی، وہی ماخذ، ص212۔
  64. طباطبائی، وہی ماخذ، ص212۔
  65. امین العاملی، سید محسن، أعيان‏الشيعه، ج7، ص241۔
  66. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص212-213۔
  67. طباطبائی، وہی ماخذ، ص213۔
  68. طباطبائی، وہی ماخذ، ص213۔
  69. طباطبائی، وہی ماخذ، ص214۔
  70. طباطبائی، وہی ماخذ، ص214-215۔
  71. طباطبائی، وہی ماخذ، ص215۔
  72. طباطبائی، وہی ماخذ، صص 215-216۔
  73. طباطبائی، وہی ماخذ، ص216۔
  74. طباطبائی، وہی ماخذ، ص216۔
  75. طباطبائی، وہی ماخذ، ص216۔
  76. طباطبائی، وہی ماخذ، صص216-217۔
  77. طباطبائی، وہی ماخذ، ص217۔
  78. طباطبائی، شیعه در اسلام، ص217۔
  79. طباطبائی، وہی ماخذ، صص217-218۔
  80. طباطبائی، وہی ماخذ، ص218۔
  81. طباطبائی، وہی ماخذ، صص218-219۔
  82. طباطبائی، وہی ماخذ، ص219۔
  83. طباطبائی، وہی ماخذ، ص219۔
  84. طباطبائی، وہی ماخذ، صص219-220۔
  85. طباطبائی، وہی ماخذ، ص220۔
  86. طباطبائی، وہی ماخذ، ص220-221۔
  87. طباطبائی، وہی ماخذ، ص221۔
  88. طباطبائی، وہی ماخذ، ص221۔
  89. طباطبائی، وہی ماخذ، ص222۔
  90. طباطبائی، وہی ماخذ، ص222۔
  91. طباطبائی، وہی ماخذ، ص222-223۔
  92. طباطبائی، وہی ماخذ، ص223۔
  93. طباطبائی، وہی ماخذ، صص 224-225۔
  94. طباطبائی، وہی ماخذ، ص225۔
  95. طباطبائی، شیعه در اسلام، صص225-226۔
  96. طباطبائی، وہی ماخذ، ص226۔
  97. طباطبائی، وہی ماخذ، ص226۔
  98. طباطبائی، وہی ماخذ، صص226-227۔
  99. طباطبائی، وہی ماخذ، ص227۔
  100. طباطبائی، وہی ماخذ، صص 227-228۔
  101. طباطبائی، وہی ماخذ، ص228۔
  102. طباطبائی، وہی ماخذ، ص229۔
  103. طباطبائی، وہی ماخذ، ص229۔
  104. طباطبائی، وہی ماخذ، ص230۔
  105. طباطبائی، وہی ماخذ، صص230-231۔
  106. طباطبائی، وہی ماخذ، ص231۔
  107. دیکھیں: سبط ابن جوزی، تذکرة خواص الامة فی خصائص الائمة، 365- 367۔
  108. ابن طولون، الشذرات الذهبیه یا الائمه الاثنا عشر، 40-43۔
  109. طباطبایی، اهل البیت(ع) فی المکتبة العربیة، شمارہ 17، ص109-113۔
  110. دیگر آثار و تالیفات کے لئے رجوع کریں: طباطبایی، اهل البیت(ع) فی المکتبة العربیة، شمارہ 2، ص52، شمارہ 4، ص100، 101، شمارہ 17، ص100۔

مآخذ

  • قرآن کریم
  • نهج البلاغه، ترجمه سیدجعفر شهیدی، تهران: علمی و فرهنگی، 1377 ہجری شمسی۔
  • طباطبائی، سید محمد حسین، شیعہ در اسلام، قم: دفتر انتشارات اسلامی، 1383ہجری شمسی۔
  • ابن بابویه، محمد، الخصال، به کوشش علی اکبر غفاری، قم، 1403ہجری قمری۔
  • وہی مؤلف، عیون اخبار الرضا(ع)، منشورات موسسة الاعلمي للمطبوعات بيروت، 1404ہجری قمری۔
  • ابن صباغ مالکی، علی، الفصول المهمه، نجف، دارالکتب التجاریه.
  • ابن طولون، محمد، الائمه الاثنا عشر، به کوشش صلاح الدین منجد، بیروت، 1958عیسوی۔
  • ابن عیاش جوهری، احمد، مقتضب الاثر، قم، 1379ہجری قمری۔
  • ابن یمین فریومدی، دیوان اشعار، تصحیح: حسین علی باستانی راد، بی‌جا: انتشارات کتابخانه سنائی، 1344ہجری شمسی۔
  • ابوداؤد سجستانی، سلیمان، سنن، به کوشش محمد محیی الدین عبدالحمید، قاهره، داراحیاء السنه النبویه.
  • احمد بن حنبل، مسند، قاهره، 1313ہجری قمری۔
  • امین العاملی، سید محسن، أعيان‏الشيعه۔
  • بخاری، محمد، صحیح، استانبول، 1315ہجری قمری۔
  • ترمذی، محمد، سنن، به کوشش احمد محمدشاکر و دیگران، قاهره، 1357ہجری قمری/1938عیسوی۔
  • حاکم نیشابوری، محمد، المستدرک علی الصحیحین، حیدرآباد دکن، 1334ہجری قمری۔
  • خزاز قمی، علی، کفایه الاثر، قم، 1401ہجری قمری۔
  • سبط ابن جوزی، یوسف، تذکره الخواص، نجف، 1383ہجری قمری/1964عیسوی۔
  • سید مرتضی، علی، الذخیره، به کوشش احمد حسینی، قم، 1411ہجری قمری۔
  • طباطبایی، عبدالعزیز، «اهل البیت(ع) فی المکتبة العربیة»، تراثنا، قم، 1405ہجری قمری۔
  • علامه حلی، حسن، کشف المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، قم، مکتبه المصطفوی.
  • کتاب سلیم بن قیس، به کوشش علوی حسنی نجفی، بیروت، 1400ہجری قمری/1980عیسوی۔
  • کلینی رازی، محمد بن یعقوب، الناشر دار الكتب الاسلامية، تهران - بازار سلطاني، الجزء الاول الطبعة الثالثة 1388ہجری قمری۔
  • مسلم بن حجاج نیشابوری، صحیح، به کوشش محمدفؤاد عبدالباقی، قاهره، 1955عیسوی۔
  • نجاشی، احمد، الرجال، به کوشش موسی شبیری زنجانی، قم، 1407ہجری قمری۔
  • نعمانی، محمد، الغیبه، بیروت، 1403ہجری قمری/1983عیسوی۔

بیرونی روابط

چودہ معصومین علیہم السلام
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بارہ امام
امام علی علیہ السلام امام سجّاد علیہ‌السلام امام موسی کاظم علیہ السلام امام ہادی علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام امام باقر علیہ السلام امام رضا علیہ السلام امام عسکری علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام امام صادق علیہ السلام امام جواد علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام