آیۂ مباہلہ

ويکی شيعه سے
(آیت مباہلہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آیت مُباہلہ؛ سورہ آل عمران کی آیت نمبر 61 ہے جس میں پیغمبر اکرمؐ کا نجران کے عیسائیوں کے ساتھ پیش آنے والا مشہور واقعہ یعنی واقعہ مباہلہ کی طرف اشارہ کی گئی ہے۔ شیعہ اور بعض اہل سنت مفسرین اس آیت کو اصحاب کساء یعنی پنچتن پاک خصوصا امام علیؑ کے فضائل میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔ یہ آیت امام علیؑ کو پیغمبر اکرمؐ کی نَفْس و جان کے طور پر معرفی کرتی ہے۔ امام رضاؑ اس آیت کو قرآن کریم میں امام علیؑ کی سب سے بڑی فضیلت قرار دیتے ہیں۔

مباہلہ کے معنی

لغوی معنی

مباہلہ در حقیقت مادہ "بہل" (بر وزن "اہل") سے مشتق ہے اور اس کے معنی کسی چیز کو چھوڑ دینا اور کسی چیز سے قید و بند اٹھانے کے ہیں۔[1] "مباہلہ" کے لغوی معنی ایک دوسرے پر لعن و نفرین کرنے کے ہیں[2] "بہلہ اللہ" یعنی اس پر لعنت کرے اور اپنی رحمت سے دور کرے۔[3]

اصطلاحی معنی

قرآن اور روایات و احادیث کی اصطلاح میں مباہلہ کے معنی ملاعنہ اور ایک دوسرے پر لغنت و نفرین کرنے کے ہیں؛ یوں کہ ہر گاہ دو جماعتیں یا دو افراد مذہبی مسائل کی طرح کسی اہم مسئلے میں مذاکرہ اور گفتگو کریں لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچیں تو وہ ایک مقام پر جمع ہوتے ہیں اور آخری حربے کے طور پر اللہ کی بارگاہ میں تضرع اور التجا کرتے ہیں اور درخواست کرتے ہیں کہ خداوند متعال جھوٹے کو رسوا کردے۔

آیت مباہلہ؛ سورہ آل عمران کی اکسٹھویں آیت ہے جو رسول خداؐ اور نجران کے نصارٰی کے درمیان ہونے والے مباہلے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اصحاب کساء بطور خاص امام علیؑ کے فضائل کو عیاں کرتی ہے۔

آیت

آیت مباہلہ

فَمَنْ حَآجَّكَ فِيہِ مِن بَعْدِ مَا جَاءكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْاْ نَدْعُ أَبْنَاءنَا وَأَبْنَاءكُمْ وَنِسَاءنَا وَنِسَاءكُمْ وَأَنفُسَنَا وأَنفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَل لَّعْنَةُ اللّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ
ترجمہ: چنانچہ اب آپ کو علم (اور وحی) پہنچنے کے بعد، جو بھی اس (حضرت عیسیؑ) کے بارے میں آپ سے کٹ حجتی کرے، تو کہہ دیجیے کہ آؤ! ہم اپنے بیٹوں کو اور تمہارے بیٹوں، اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں، اور اپنے نفسوں کو اور تمہارے نفسوں کو، بلالیں، پھر التجا کریں اور اللہ کی لعنت قرار دیں جھوٹوں پر۔

سورہ آل عمران آیت 61۔

شأن نزول

شیعہ اور سنی مفسرین کا اتفاق ہے کہ یہ آیت رسول اکرمؐ کے ساتھ نجران کے نصارٰی کے مناظرے کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ کیونکہ نصارٰی (عیسائیوں) کا عقیدہ تھا کہ حضرت عیسیؑ تین اقانیم میں سے ایک اقنوم[4] ہے؛ وہ عیسیؑ کے بارے میں قرآن کریم کی وحیانی توصیف سے متفق نہیں تھے جو انہیں خدا کا پارسا بندہ اور نبی سمجھتا ہے؛ حتی کہ آپؐ نے انہیں للکارتے ہوئے مباہلے کی دعوت دی۔[5]

اہل سنت کے مفسرین (زمخشری،[6] فخر رازی،[7] بیضاوی[8] اور دیگر) نے کہا ہے کہ "ابناءنا" [ہمارے بیٹوں] سے مراد حسنؑ اور حسینؑ ہیں اور "نسا‏‏ءنا" سے مراد فاطمہ زہراءعلیہا السلام اور "انفسنا" [ہمارے نفس اور ہماری جانوں] سے مراد حضرت علیؑ ہیں۔ یعنی وہ چار افراد جو آنحضرتؐ کے ساتھ مل کر پنجتن آل عبا یا اصحاب کساء کو تشکیل دیتے ہیں۔ اور اس آیت کے علاوہ بھی زمخشری اور فخر رازی، کے مطابق آیت تطہیر اس آیت کے بعد ان کی تعظیم اور ان کی طہارت پر تصریح و تاکید کے لئے نازل ہوئی ہے۔ بہر حال رسول اللہؐ نے آیت مباہلہ کے نزول کے بعد نجران کے نصارٰی کو مباہلے کی دعوت دی اور آپؐ حکم پروردگار کے مطابق علی و فاطمہ اور حسن و حسین علیہم السلام کو ساتھ لے کر میدان مباہلہ میں حاضر ہوئے۔

نصارائے نجران نے رسول اللہؐ اور آپؐ کے ساتھ آنے والے افراد کے دلیرانہ صدق و اخلاص کا مشاہدہ کیا خائف و ہراساں اور اللہ کی عقوبت و عذاب سے فکرمند ہوکر مباہلہ کرنے کے لئے تیار نہيں ہوئے اور آپؐ کے ساتھ صلح کرلی اور درخواست کی کہ انہیں اپنے دین پر رہنے دیا جائے اور ان سے جزیہ وصول کیا جائے اور آنحضرتؐ نے ان کی یہ درخواست منظور کرلی۔[9] بالفاظ دیگر عیسائی جان گئے کہ اگر رسول خداؐ مطمئن نہ ہوتے تو اپنے قریب ترین افراد کو میدان مباہلہ میں نہ لاتے چنانچہ وہ خوفزدہ ہوکر مباہلے سے پسپا اور جزیہ دینے پر آمادہ ہوئے۔

تفسیر

اگرچہ مباہلہ پہلے مرحلے میں رسول خداؐ اور عیسائی افراد کے درمیان تھا لیکن فرزندوں اور خواتین کو بھی بیچ میں لایا گیا تاکہ معلوم ہوجائے کہ مباہلہ کی دعوت دینے والا اپنی دعوت کی سچائی سے مطمئن اور برحق ہے؛ اس حد تک کہ آپؐ اپنے عزیز ترین اور قریب ترین افراد کو میدان مباہلہ میں لائے، ایسے افراد کو جن سے انسان محبت کرتا ہے اور ان کی مدد و حمایت کے لئے اپنی جان جوکھوں میں ڈالتا ہے۔

علاوہ ازیں علامہ طباطبائی نے اپنے خاندان کو میدان مباہلہ میں لانے کے مسئلے کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "گویا اس عمل کے ذریعے کہا جارہا ہے کہ ایک جماعت دوسری جماعت کو بد دعا دے اور دونوں جماعتیں خدا کی لعنت کو جھوٹوں پر قرار دیں تاکہ لعن و عذاب لعن و عذاب اور خواتین اور جانوں کا احاطہ بھی کرلے اور دشمنوں کی جڑیں روئے زمین سے اکھڑ جائیں"[10]


اس بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ ضروری نہیں ہے کہ ابناء، نساء اور انفس دو سے زیادہ ہوں تاکہ کہا جائے کہ ان پر صیغہ جمع کا اطلاق صحیح ہے؛ کیونکہ مذکورہ بالا بیان کے مطابق، صیغہ جمع سے مقصود یہ ہے کہ نزاع کے فریقین میں سے ایک اپنے تمام اعزاء و اقارب، چھوٹے بڑوں اور مردوں اور عورتوں کے ہمراہ، سب نیست و نابود ہوجائیں؛ اور تمام مفسرین اور مؤرخین کا اتفاق ہے اور تاریخی حوالے بھی اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں کہ رسول خداؐ علی، فاطمہ، حسن اور حسین علیہم السلام کے سوا کسی کو بھی اپنے ساتھ نہیں لائے تھے؛ چنانچہ انفس یا جانیں دو (رسول خداؐ اور علیؑ)، فرزند دو (حسن اور حسین علیہما السلام) اور خواتین صرف ایک (حضر زہراءؑ) تھیں اور اس ان افراد کی شرکت سے اللہ کے فرمان کی مکمل تعمیل ہوئی ہے۔[11] قرآن میں دیگر مقامات پر بھی آیت اپنی شان نزول کے حوالے سے ایک فرد کے بارے میں نازل ہوئی ہے لیکن صیغہ جمع کا استعمال کیا گیا ہے؛ جس کی مثال سورہ مجادلہ میں آیات ظہار میں دیکھی جاسکتی ہے۔[12]

زمخشری اپنی تفسیر الکشاف میں عائشہ سے نقل کرتے ہیں:

رسول اللہؐ روز مباہلہ باہر آئے جبکہ سیاہ اون کی عبا کاندھوں پر ڈالے ہوئے تھے اور جب امام حسن آئے تو آپؐ نے انہیں اپنی عبا میں جگہ دی،؛ اس کے بعد امام حسینؑ آئے جنہیں آپؐ نے اپنی عبا میں جگہ دی اور اس کے بعد حضرت فاطمہؑ آئیں اور بعد میں علیؑ آئے اور پھر آپؐ نے فرمایا:
"إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّہُ لِيُذْہِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيراً(ترجمہ اللہ کا بس یہ ارادہ ہے کہ تم اہل بیت سے ہر پلیدی اور گناہ کو دور رکھے اور تم کو پاک رکھے جیسا کہ پاک رکھنے کا حق ہے"۔)
اہل سنت کے یہ عالم مزید کہتے ہیں: مباہلہ میں بیٹوں اور خواتین کو شامل کرنا وثوق و اعتماد کی بڑی دلیل ہے بجائے اس کہ انسان تنہائی میں مباہلہ کرے۔ آپؐ نے انہیں مباہلے میں شامل کرکے جرئت کی ہے کہ اپنے عزیزوں، اپنے جگر کے ٹکڑوں اور لوگوں میں اپنے نزدیک محبوب ترین افراد کو نفرین اور ہلاکت کے سامنے حاضر کریں اور آپؐ نے صرف اپنی حاضری کو کافی نہیں سمجھا۔ لہذا یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپؐ اپنے مخالفین کے جھوٹے ہونے پر یقین کامل رکھتے تھے یہاں تک کہ آپ نے اپنے جگر گوشوں کو ہلاکت و تباہی میں ڈالا بشرطیکہ مباہلہ واقع ہوجائے۔ اور بیٹوں اور خواتین کو اس عمل کے لئے مختص کرنے کا سبب یہ تھا کہ وہ عزیز ترین "اہل" ہیں اور دوسروں سے کہیں زیادہ دل میں جگہ رکھتے ہیں اور شاید انسان خود کو ہلاکت میں ڈال دے اس لئے کہ ان کو کوئی نقصان نہ پہنچنے پائے؛ چنانچہ جنگجو اپنی خواتین اور بچوں کو بھی اپنے ساتھ لے کر جاتے تھے تاکہ دشمن کے سامنے استقامت کریں اور میدان سے فرار نہ کریں۔ اسی بنا پر آیت مباہلہ میں خداوند متعال نے ان [ابناء و انفس] کو انفس [جانوں] پر مقدم رکھا تاکہ واضح کردے کہ وہ [بیٹے اور خواتین] جانوں پر مقدم ہیں۔ اور اس کے بعد زمخشری کہتے ہیں:
"یہ دلیل ہے اصحاب کساء کی فضیلت کی جس سے بالاتر کوئی دلیل نہیں ہے"۔[13]

متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. رجوع کریں: فرہنگ جامع عربى، فارسى، مادہ "بہل"؛ فرہنگ دانشگاہى، ترجمہ المنجد الابجدى، مادہ "بہل"۔
  2. الجوہری، اسمعیل بن حماد، الصحاح، 1407۔ ذیل مادہ بہل۔
  3. الزمخشری، محمود، 1415 ق، ج1، ص: 368۔
  4. اقنوم یا Hypostasis ایک بنیادی اور علمی اصطلاح ہے اور عیسائی اس کو تثلیث (سہ گانہ پرستی) اور مسیح شناسی کے موضوع میں بروئے کار لاتے ہیں۔ Hypostasis ایک یونانی لفظ ہے اور اس کے دقیق اور درست معنی جوہر کے مفہوم میں ہیں اور اس سے مختلف معانی اخذ کئے جاسکتے ہیں۔
    (ژیلسون، اتین، خدا و فلسفہ، ترجمہ شہرام پازوکی، انتشارات حقیقت، 1995، ص53۔)
    لفظ Hypostasis وہ واحد لفظ ہے جو مختلف علوم میں دوسرے الفاظ کے ساتھ مل کر ذات یا ذاتی ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ Hypostasis عام زبان میں عینی واقعیت (Reality) کے معنی میں آتا ہے توہم کے برعکس جیسا کہ ارسطو کے مد نظر تھا۔ نیز Hypostasis یا اقنوم ستون اور بنیاد یا راز کے معنی میں بھی آیا ہے اور عبرانی زبانی میں ملتا ہے۔
    (.Livingstone, E. A., concise Dictionary of the Christian church, (oxford university press, 2006), PP.287-8)
    لفظ اقنوم ایک جوہر کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جس کا تعلق ماوراء الطبیعی واقعیت سے ہے۔ ممکن ہے کہ یہ لفظ یہودی ادب سے ماخوذ ہو۔
    (.Bowker, John, Concise Dictionary of World Religions, (Oxford University Press, 2005), P.260)
  5. قرآن کریم، توضیحات و واژہ نامہ از بہاءالدین خرمشاہی، 1376.ذیل آیہ مباہلہ، ص 57۔
  6. الزمخشری، تفسیر الکشاف، ذیل آیہ 61 آل عمران۔
  7. الرازی، التفسیر الکبیر، ذیل آیہ 61 آل عمران۔
  8. البیضاوی، تفسیر انوار التنزیل واسرار التأویل، ذیل آیہ 61 آل عمران۔
  9. قرآن کریم، توضیحات و واژہ نامہ از بہاءالدین خرمشاہی، 1376، ذیل آیہ مباہلہ، ص 57۔
  10. الطباطبائی، المیزان، ج3، ذیل آیہ مباہلہ۔
  11. الطباطبایی، وہی ماخذ، 1391ہجری، ج 3، ص223۔
  12. الطباطبائی، محمدحسین، المیزان، ذیل آیہ مباہلہ
  13. زمخشری، وہی ماخذ، ج1، صص: 369-370۔

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ، توضیحات و واژہ نامہ از بہاءالدین خرمشاہی، تہران: جامی، نیلوفر، چاپ سوم، تابستان 1376ہجری شمسی۔
  • الزمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، ج1، قم، نشر البلاغہ، الطبعۃ الثانیۃ، 1415ہجری۔
  • طباطبایی، سید محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، ج 3، قم: اسماعیلیان، 1391 ہجری شمسی، الطبعۃ الثالثۃ۔