رمضان

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
شعبان رمضان شوال
1 2 3 4 5 6 7
8 9 10 11 12 13 14
15 16 17 18 19 20 21
22 23 24 25 26 27 28
29 30
اسلامی تقویم

رَمَضان یا رَمَضان المُبارَک قمری سال کا نواں مہینہ ہے جس میں مسلمانوں پر روزہ رکھنا واجب ہے۔ بعض آیات کے مطابق قرآن کریم اسی مہینے میں نازل ہوئی ہے۔ شب قدر بھی اسی مہینے میں واقع ہے۔ شیعوں کے پہلے امام حضرت علی(ع) اسی مہینے کی اکیس تاریخ کو شہادت کے مقام پر فائز ہوئے جو شیعوں کیلئے اس مہینے کی فضیلت میں اضافے کا باعث بنی۔

اس مہینے کی اہم ترین عبادت‌ میں روزه رکھنا، قرآن مجید کی تلاوت، شب قدر کی راتوں میں شب بیداری کرنا، دعا و استغفار، مؤمنین کو افطاری دینا اور فقیروں اور حاجتمندں کی مدد کرنا شامل ہے۔

مسلمان اس مہینے کو عبادت کا مہینہ قرار دیتے ہوئے اس کے لئے نہایت احترام اور قدر و منزلت کا قائل ہیں۔ مؤمنین رجب اور شعبان کے مہینوں میں روزہ رکھنے اور دیگر عبادتوں کے ذریعے اس مہینے میں داخل ہونے کیلئے پیشگی تیاری کرتے ہیں تاکہ اس مہینے کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ بہرہ مند ہو سکیں۔

رمضان کا معنی

رَمَضان کا لفظ مادہ "رـ م ـ ض" کا مصدر ہے جس کے معنی شدید حرارت اور جلانے کے ہیں۔[1] بعض ماہرین لغت کا کہنا ہے کہ اس خاص مہینے کو رمضان کہنے کی وجہ اس مہینے کا گرمیوں کے موسم میں قرار پانا ہے اور اس کا روزہ رکھنے کے ساتھ کوئی ربط نہیں ہے کیونکہ روزہ ظہور اسلام کے بعد واجب ہوا ہے جبکہ اس مہینے کو ظہور اسلام سے پہلے بھی اسی نام سے یاد کیا جاتا تھا۔[2]

ماه رمضان قرآن کی روشنی میں

رمضان کا لفظ ایک بار قرآن کریم میں آیا ہے جس سے مراد رمضان المبارک کا مہینہ ہے۔ یہ واحد مہینہ ہے جس کا قرآن میں صراحت اور احترام کے ساتھ نام لیا گیا ہے: شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِی أُنزِلَ فِیهِ الْقُرْآنُ هُدًی لِّلنَّاسِ وَبَینَاتٍ مِّنَ الْهُدَیٰ وَالْفُرْقَانِ ۚ فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْیصُمْهُ ۖ...ترجمہ» ماہ رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا ہے جو لوگوں کے لئے ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور حق و باطل کے امتیاز کی واضح نشانیاں موجود ہیں لہٰذا جو شخص اس مہینہ میں حاضر رہے اس کا فرض ہے کہ روزہ رکھے۔[3]

ماه رمضان احادیث کی روشنی میں

اس مہینے کی عظمت اور اس کے اعمال کے بارے میں معصومین (ع) سے کئی احادیث نقل ہوئی ہیں جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • رمضان خدا کے ماموں میں سے ایک ہے۔[4]
  • ایک ایسا مہینہ ہے کہ اگر اس کی صحیح شناخت ہوجائے تو لوگ پورا سال رمضان ہونے کی تمنا کرتے۔ [5]
  • مغفرتوں کا مہینہ ہے اگر کسی شخص کے گناہ اس مہینے میں معاف نہ ہوئے تو کسی دوسرے مہینے میں معاف ہونے کی امید نہیں ہے۔[6]
  • آسمانی کتابوں کے نازل ہونے کا مہینہ۔[7]
  • ماہ رمضان خدا کا مہینہ ہے۔[8]
  • خدا کی رحمت اور بخشش کا مہینہ۔[9]
  • گناہوں کے ختم ہونے کا مہینہ۔[10]
  • آسمان کے دروازوں کے کھلنے کا مہینہ۔[11]
  • ثواب میں کئی گنا اضافہ ہونے کا مہینہ۔ [12]
  • قرآن کی بہار۔ [13]
  • جہنم کے دروازوں کے بند ہونے کا مہنہ۔
  • بہشت کے دروازوں کے کھلنے کا مہینہ۔
  • شیاطین کا زنجیر میں جکڑے جانے کا مہینہ۔[14]

امام صادق(ع) سے منقول ایک حدیث کی روشنی میں ماہ رمضان میں اچھے اخلاق(حسن خلق) کا مظاہرہ کرنا پل صراط پر ثابت قدمی کا باعث بنتا ہے۔[15]

ماہ رمضان کی پہلی اور آخری تاریخ کا تعیّن

ماہ رمضان نیز دوسرے قمری مہینوں کی طرح چاند نظر آنے (رؤیت ہلال) یا ماہ شعبان کے 30 دن پورے ہونے کے ساتھ آغاز اور شوال کا چاند نظر آنے یا ماہ رمضان کے 30 دن پورے ہونے پر اس کا اختتام ہوتا ہے۔ماہ رمضان میں انجام پانے والے مستحب امور میں سے ایک اس کے آغاز میں چاند دیکھنا(استہلال) ہے۔

بعض احادیث ماه رمضان کو ہمیشہ30دن قرار دیتی ہیں اور اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کبھی بھی اسے کمتر واقع نہیں ہوتا ہے [16] اسی بنا پر قدیم فقہاء کا ایک گروہ اس بات کے قائل تھے کہ ماہ رمضان ہمیشہ 30 دن کا ہوتا ہے۔[17] اس کے مقابلے میں بعض روایات سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ماہ رمضان بھی دوسرے قمری مہینوں کی طرح کبھی 30 اور کبہی 29 دن کا ہوتا ہے۔ [18] اکثر فقہاء اسی بات کے قائل ہیں۔ [19]

ماه رمضان کے اعمال

اصلی مضمون:ماہ رمضان کے اعمال

ماه رمضان مسلمانوں کے لئے نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس میں اسلام کے فروعات میں سے ایک اہم فریضہ یا عبادت یعنی روزہ مسلمانوں پر واجب ہوتا ہے۔ احادیث میں اس مہینے کے حوالے سے مختلف عبادتوں کا تذکرہ ملتا ہے ان اعمال میں سے بعض کو اعمال مشترک یعنی ماہ رمضان کے تمام دنوں اور راتوں میں انجام دینے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ بعض اعمال مخصوص ایام کے ساتھ مخصوص ہیں۔ جیسے شب قدر کے اعمال وغیرہ۔

ماه رمضان کے اہم واقعات

اصلی مضمون:ماہ رمضان کے اہم واقعات

یوم القدس

اصلی مضمون:یوم القدس

امام خمینی نے فلسطین کے مسئلے کی حمایت میں ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس کا نام دیا۔ مسلمان ہر سال اس دن مختلف ملکوں میں فلسطین کے مظلوم عوام کی حمایت میں ریلیاں نکالتے ہیں۔

حوالہ جات

  1. مسعودی،ج۲، ص۱۸۹
  2. مصطفوی، التحقیق لکلمات القرآن الکریم، ۴، ۲۴۳.
  3. سورہ بقرہ، آیت نمبر 185۔
  4. حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: لا تَقُولُوا رَمَضانَ فإنَّ رَمَضانَ إسمٌ من أسماءِ اللهِ تعالی، ولکن قُولُوا: شَهرُ رَمَضانَ نگویید: رمضان مت کہو کیونکہ یہ خدا کے ناموں میں سے ہے لھذا ماہ رمضان کہو۔ میزان الحکمه، روایت ۷۴۴۲
  5. حضرت محمد صلی الله علیہ و آلہ و سلم: لو یعلم العبد ما فی رمضان لود ان یکون رمضان السنة؛ بحار الانوار، ج ۹۳، ص۳۴۶
  6. امام صادق (علیہ السلام): مَن لَم یغفَر لَهُ فی شهرِ رمضانَ لَم یغفَر لَهُ إلی مِثلِهِ مِن قابِلٍ الّا أن یشهَدَ عَرَفَةَ -- میزان الحکمه، روایت ۷۴۶۱
  7. حضرت امام صادق(ع) فرماتے ہیں: "پورا قرآن کریم ماه رمضان میں بیت المعمور پر نازل ہوا، اس کے بعد 20 سال کے عرصے میں تدریجا پیغمبر اکرم(ص) پر نازل ہوا۔ صحف ابراہیم ماه رمضان کی پہلی رات، تورات ماه رمضان کے چھٹے دن، انجیل ماه رمضان کے تیرویں دن اور زبور ماه رمضان کے اٹھارویں دن نازل ہوئی ہیں۔ الکافی، ج ۲، ص۶۲۸
  8. امام علی علیہ السلام: شهر رمضان شهر الله و شعبان شهر رسول الله و رجب شهری ماہ رمضان، خدا کا شعبان، رسول خدا کا اور رجب میرا مہینہ ہے۔ وسائل الشیعه، ج ۷ ص۲۶۶، ح ۲۳
  9. حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: هو شهر اوله رحمة و اوسطه مغفرة و اخره عتق من النار ماہ رمضان این ایسا مہینہ ہے جس کی ابتداء رحمت اس کا درمیان مغفرت اور اس کا انتہاء جہنم کی آگ سے نجات پانا ہے۔ بحار الانوار، ج ۹۳، ص۳۴۲
  10. حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: إنَّما سُمِّی الرَّمَضانُ لأنَّهُ یرمَضُ الذُّنوبَ ماہ رمضان کو اس لئے رمضان کہا جاتا ہے کہ اس میں انسانوں کے گناہ جلائے جاتے ہیں۔ میزان الحکمه، روایت ۷۴۴۱
  11. حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: إنَّ أبوابَ‏ السَّماءِ تُفتَحُ فی أوَّلِ‏ لَیلَةٍ مِن شَهرِ رَمَضانَ و لا تُغلَقُ إلی آخِرِ لَیلَةٍ مِنهُ آسمان کے دروازے ماہ رمضان کی پہلی رات کو کھول دئیے جاتے ہیں اور اس مہنے کی آخری رات تک یہ دروازے بند نہیں کئیے جاتے ہیں۔ بحارالأنوار - ج ۹۶ - ص۳۴۴
  12. حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: شَهرُ رَمَضانَ شَهرُ اللّه عَزَّوَجَلَّ وَ هُوَ شَهرٌ یضاعِفُ اللّه‏ُ فیهِ الحَسَناتِ وَ یمحو فیهِ السَّیئاتِ وَ هُوَ شَهرُ البَرَکةِ ماه رمضان، خدا کا مہنہ ہے جس میں خدا نیکیوں میں اضافہ اور گناہوں کو ختم کر دیتا ہے اور یہ اس مہینے کی برکت سے ہے۔ بحار الانوار(ط-بیروت) ج۹۳ ، ص۳۴۰
  13. امام محمد باقر علیہ السلام: لکل شیء ربیع و ربیع القرآن شهر رمضان هر چیز کی کوئی نہ کوئی بہار ہوا کرتی ہے اور قرآن کی بہار ماہ رمضان ہے۔ کافی (ط-الاسلامیہ) ج۲،ص۶۳۰
  14. حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: إذا استَهَلَّ رَمَضانُ غُلِّقَت أبوابُ النارِ، و فُتِحَت إبوابُ الجِنانِ، و صُفِّدَتِ الشَّیطانُ جب ماه رمضان کا چاند نظر آتا ہے تو جہنم کے دروازے بند کئے جاتے ہیں، بہشت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور شیاطین کو زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں۔میزان الحکمه، روایت ۷۴۵۳
  15. شیخ صدوق (رَحمَة‌ُاللہ) نے معتبر سند کے ساتھ پیغمبراکرم(ص) سے روایت کی ہے کہ: أَیهَا النَّاسُ مَن حَسَّنَ مِنکُم فِی هَذَا الشَِهرِ خُلُقَهُ کَانَ لَهُ جَوَازٌ عَلَی الصِّرَاطِ یومَ تَزِلُّ فِیهِ الأَقدَامُ وَ مَن خَفَّفَ فِی هَذَا الشَّهرِ عَمَّا مَلَکَت یمِینُهُ خَفَّفَ اللهُ عَلَیهِ حِسَابَهُ وَ مَن کَفَّ فِیهِ شَرَّهِ کَفَّ اللهُ عَنهُ غَضَبَهُ یومَ یلقَاهُ "اے لوگو! تم میں سے جو شخص بھی اس مہینے میں اپنے اخلاق کی اصلاح کرے گا تو جس دن پل صراط سے لوگوں کے قدم پھسل جائیں گے اسے پل صراط سے عبور کرنے کا پروانہ مل جائے گا۔ اور تم میں سے جو بھی اپنے غلاموں یا کنیزوں سے نرمی سے برتاؤ کرے خدا وند عالم قیامت کے دن اس کے حساب و کتاب میں آسانی کرے گا۔ أمالی شیخ صدوق، ص۱۵۴؛ روضۃ الواعظین، ج۲، ص۳۴۶.
  16. وسائل الشیعۃ، ج۱۰، ص۲۶۸-۲۷۴
  17. الإقبال، ج۱، ص۳۳-۳۵
  18. وسائل الشیعۃ، ج۱۰، ص۲۶۱-۲۶۸
  19. الحدائق الناضرۃ، ج۱۳، ص۲۷۰-۲۷۱ ؛ مصباح الہدی ، ج۸، ص۳۸۴

مآخذ

  • قرآن کریم
  • علامہ مجلسی محمد باقر، بحار الانوار، دارالکتب اسلامیۃ، تہران، ۱۳۶۲ش.
  • نجفی، محمد حسن، جواہرالکلام، انتشارات دایرۃ المعارف فقہ اسلامی.
  • محمدی ری شہری، میزان الحکمہ، انتشارات دارالحدیث.
  • سید بن طاووس، الاقبال باعمال الحسنہ، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی.
  • بحرانی، شیخ یوسف، الحدائق الناضرہ، دارالکتب الاسلامیہ.
  • آملی، میرزا محمدتقی، مصباح الہدی فی شرح عروۃ الوثقی.
  • محمدی ری شہری، شہراللہ فی الکتاب و السنّۃ (و ترجمہ فارسی: شہرخدا)، انتشارات دارالحدیث.
  • کلینی، محمد بن یعقوب‏، کافی، دار الکتب الإسلامیۃ، ۱۴۰۷ق.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، امالی، نشر صدوق، ۱۳۶۷ش.
  • شیخ حر عاملی، محمد بن حسن‏، وسائل الشیعہ، مؤسسۃ آل البیت علیہم السلام‏، قم، ۱۴۰۹ق.
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق، داغر، اسعد، قم، دار الہجرۃ، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق.

بیرونی رابطے

‘‘http://ur.wikishia.net/index.php?title=رمضان&oldid=79770’’ مستعادہ منجانب