جعفر بن علی بن ابی طالب

ویکی شیعہ سے
(جعفر بن علی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر بن امام حسین • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم عباس بن علی • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


جعفر بن علی، حضرت علی علیہ السلام کے بیٹوں اور حضرت عباس کے مادری بھائیوں میں سے ہیں جو کربلا میں روز عاشورا حضرت امام حسین ؑ کی معیت میں شہید ہوئے۔آپ کی والدہ گرامی فاطمہ بنت حزام ہیں۔آپ کا سن شہادت 19 سال یا 21 سال تھا۔

زندگی نامہ

جعفر حضرت علی ؑ اور فاطمہ بنت حزام بن خالد کے بیٹے ہیں ۔حضرت علی نے اپنے بھائی جعفر طیار سے محبت کی بنا پر آپ کا نام جعفر رکھا تھا۔[1]۔

بعض معتقد ہیں کہ شہادت کے وقت آپ 19 سال کے تھے۔[2] اس بنا پر آپ کی پیدائش اپنے والد کی شہادت کے بعد ہوئی ہے جبکہ بعض قائل ہیں کہ شہادت کے وقت ان کا سن 21 سال تھا۔ [3]اس بنا پر آپ نے دو سال کا عرصہ اپنے والد کے ساتھ گزارا ہے ۔

شہادت

آپ مدینہ سے ہی حضرت امام حسین ؑ کے ساتھ موجود تھے۔[4] ۔مؤرخین کے مطابق روز عاشورا حضرت عباس نے اپنے بھائیوں کو شہادت کی طرف ترغیب دی تا کہ وہ ظہر سے پہلے میدان کارزار میں جائیں ۔پس جعفر میدان میں گئے اور یہ رجز پڑھے :

إِنِّی أَنَا جَعْفَرٌ ذُو الْمَعَالِی ابْنُ عَلِی الْخَیرِ ذُو النَّوَالِ‏
ذَاكَ الْوَصِی ذُو السَّنَا وَ الْوَالِی حَسْبِی بِعَمِّی جَعْفَرٍ وَ الْخَالِ
أَحْمِی حُسَیناً ذَا النَّدَى الْمِفْضَال


میں عزت و شرف کا ملک جعفر ہوں جو نیک اور معاف کرنے والے علی کا فرزند ہوں۔وہ علی کہ جو رسول اللہ کے وصی ، بلند مرتبہ اور ولی ہیں۔ میرے لئے میرے چچا جعفر اور ماموں باعث فخر و سربلندی کیلئے کافی ہے۔ میں صاحب کرم اور بزرگوار حسین(ع) سے دفاع کروں گا ۔

خولی بن یزید نے ان کی طرف تیر پھینکا جو آنکھ یا شقیقہ پر لگا [5]۔ایک نقل کے مطابق ہانی بن ثبیت حضرمی نے انہیں شہید کیا[6]۔

زیارت ناحیہ میں آپ کا تذکرہ

زیارت ناحیہ میں آپ کے متعلق یہ جملہ مذکور ہے :

السَّلَامُ عَلَی جَعْفَرِ بْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ الصَّابِرِ نَفْسُهُ مُحْتَسِباً وَ النَّائِی عَنِ الْأَوْطَانِ مُغْتَرِباً الْمُسْتَسْلِمِ لِلْقِتَالِ الْمُسْتَقْدِمِ لِلنِّزَالِ الْمَکثُورِ بِالرِّجَالِ لَعَنَ اللَّهُ قَاتِلَهُ هَانِی بْنَ ثُبَیتٍ الْحَضْرَمِی[7]

حوالہ جات

  1. ابصار العین، ص۶۹
  2. اعیان الشیعہ، ج۴، ص۱۲۹
  3. ابصار العین، ص۶۹
  4. دینوری، الاخبار الطوال، ص۳۳۷
  5. مناقب ابن شہرآشوب، ج۴، ص۱۱۶
  6. تاریخ طبری، ج۵، ص۴۴۹
  7. مجلسی،بحار الانوار ج98 ص270

مآخذ

  • الارشاد فی معرفہ حجج الله علی العباد، شیخ مفید، چاپ کنگره شیخ مفید، اول، قم، ۱۴۱۳ق.
  • تاریخ الأمم و الملوک، محمد بن جریر طبری،‌دار التراث، بیروت، دوم، ۱۳۸۷ ق.
  • المناقب، ابن شہرآشوب، علامہ، قم، ۱۳۷۹ ق.
  • أعیان الشیعہ، سید محسن امین عاملی،‌دار التعارف، بیروت، ۱۴۰۳ ق.
  • إبصار العین فی أنصار الحسین، سماوی، دانشگاه شہید محلاتی، قم، اول، ۱۴۱۹ ق.