قاسطین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قاسطین عربی زبان کا ایک لفظ ہے جس کے معنی ستمگر گروہ کے ہیں۔ تاریخ اسلام میں یہ عنوان معاویہ اور اس کے پیروکاروں کیلئے استعمال ہوتا ہے جنہوں نے امام علیؑ کے ساتھ جنگ کی جبکہ آپؑ کو پوری امت نے بیعت کے ذریعے مسلمانوں کا خلیفہ معین کیا تھا۔ جب حضرت علیؑ بعنوان خلیفہ مسلمین منتخب ہوا تو آپ نے معاویہ کو شام کی حکومت سے برکنار کیا تو اس نے آپ کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے آپ کا حکم ماننے سے انکار کیا یوں آپؑ اور معاویہ کے درمیان صفین نامی مقام پر جنگ چھڑ گئی جسے جنگ صفین کا نام دیا جاتا ہے جس میں تقریبا 70 ہزار مسلمان مارے گئے۔

لغوی معنی

قاسط مادہ "ق ـ س ـ ط" سے اسم فاعل ثلاثی مجرد کا صیغہ ہے یہ مادہ ثلاثی مزید فیہ (باب افعال: أَقْسَطَ يُقْسِطُ) میں عدل کے معنی میں آتا ہے لیکن ثلاثی مجرد (قَسَطَ يَقْسِطُ) میں ستمگری اور ظلم کے معنی میں آتا ہے۔ اس بنا پر قاسط کے معنی ستمگر اور ظالم کے ہیں اور چونکہ قاسطین جمع کا صیغہ ہے اس لئے اسکے معنی ستمگروں اور ظالموں یعنی گروہ ستمگر کے ہیں۔[1]

اس لفظ کا استعمال

قرآن کریم یہ لفظ قاسطون(رفعی حالت میں) کی شکل میں آیا ہے: وَأَمَّا الْقَاسِطُونَ فَکانُوا لِجَهَنَّمَ حَطَبًا ترجمہ: اور نافرمان تو جہنمّ کے کندے ہوگئے ہیں۔[2]

قرآن کے بعد یہ لفظ امیرالمؤمنینؑ حضرت علیؑ نے نہج البلاغہ میں استعمال کیا ہے: وامّا القاسطون فقد جاهدت ترجمہ: اور بتحقیق میں نے حق سے روگردانی کرنے والوں کے ساتھ جہاد کیا۔ [3] اسی طرح خطبہ شقشقیہ میں آپ اپنے دشمنوں کو تین گروہ میں تقسیم کرتے ہوئے یوں ارشاد فرماتے ہیں: ...و قسط آخرون اور ایک گروہ نے ظلم و ستم کرتے ہوئے میری دل آزاری کی۔ [4] آپ کے ان کلام میں اس گروہ سے آپ کی مراد معاویہ اور اس کے پیروکار ہیں۔[5]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ابن منظور، ج‏۷، ۳۷۷؛ راغب، ص۶۷۰
  2. سورہ جن آیت نمبر ۱۵
  3. نہج البلاغہ، خطبہ ۱۹۲، ص۲۲۱.
  4. نہج البلاغہ، خطبہ ۳، ص۱۱.
  5. شہیدی، ترجمہ نہج البلاغہ، ص۴۵۱، تعلیقہ ۱۶.


مآخذ

  • نہج البلاغہ، ترجمہ سیدجعفر شہیدی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۷.
  • راغب اصفہانی، المفردات فی غریب القرآن، تحقیق وضبط ابراہیم شمس الدین،الاعلمی للمطبوعات، بیروت: ۱۴۳۰ق.
  • ابن منظور، لسان العرب، دار صادر، بیروت، ۲۰۰۳م.