خطبہ متقین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

خطبہ متقین، امیر المؤمنین(ع) کے مشہور خطبوں میں سے ایک ہے جو آپ کے شیعوں میں سے ہمّام نامی شخص کی درخواست پر آپ نے بیان کیا ہے۔ یہ خطبہ نہج البلاغہ میں ذکر ہوا ہے اور اس میں امام علی (ع) متقی لوگوں کے اوصاف بیان فرماتے ہیں۔ اس خطبے میں متقی لوگوں کی فردی، اجتماعی اور عبادی کردار اور رفتار کو یوں بیان کیا ہے کہ کہا جاتا ہے ہمام ان کو سننے کے بعد بے ہوش ہوئے اور وفات پاگئے۔

نام نسخہ خطبہ نمبر[1]
المعجم المفہرس و صبحی صالح ۱۹۳
فیض الاسلام، ابن میثم ۱۸۴
خوئی، ملاصالح ۱۹۲
ابن ابی الحدید، عبدہ ۱۸۶
ملافتح اللہ ۲۲۱
فی ظلال ۱۹۱
مفتی جعفر حسین (اردو) ۱۹۱
ذیشان حیدر جوادی (اردو) ۱۹۳

خطبہ دینے کی وجہ

امیر المومنین علی علیہ السلام کے شیعوں میں سے ایک شخص بنام ہمام نے آپ سے متقی لوگوں کی صفات بیان کرنے کی خواہش ظاہر کی.[2] اس نے امیرالمؤمنین(ع)، سے عرض کی: « یا امیرالمومنین مجھ سے پرہیز گاروں کی حالت اس طرح بیان فرمائیں کہ ان کی تصویر میری نظروں میں پھرنے لگے۔حضرت نے جواب دینے میں کچھ تامل کیا۔پھر اتنا فرمایا کہ اے ہمام اللہ سے ڈرو اور اچھے عمل کرو،کیونکہ اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو متقی و نیک کردار ہوں۔ہمام نے آ پ کے اس جواب پر اکتفا نہ کیا اور آپ کو (مزید بیان فرمانے کے ليے) قسم دی جس پر حضرت نے خدا کی حمد و ثنا کی اور نبی پر درود بھیجا اور اس کے بعد یہ خطبہ دیا.[3] کہا جاتا ہے کہ خطبہ ختم ہونے کے بعد ہمام بے ہوش ہوا اور بے ہوشی کے عالم میں دنیا سے چل بسا۔ امیرالمومنین (ع) نے کہا: خدا کی قسم! ان کے بارے میں اسی سے ڈرتا تھا۔ پھر