اجتہاد

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اجتہاد اسلامی فقہ کی رائج اصطلاحوں میں سے ایک اصطلاح کا نام ہے جس کا معنی مخصوص شرائط کے ساتھ فقہی مصادر میں سے عملی احکام اور وظائف کا استنباط کرنا ہے . یعنی انسان میں ایسی صلاحیت کا ہونا جس کے ذریعے وہ اسلامی احکام کو اس کے مخصوص مصادر اور مآخذوں سے اخذ کر سکے اس قابلیت کو "اجتہاد" کہا جا تا ہے۔جس شخص میں یہ صلاحیت ہائی جائے اسے "مجتہد" کہا جاتا ہے. اکثر شیعہ علماء کے نزدیک فقہی مصادر، قران، سنت، اجماع اور عقل ہیں.

اجتہاد کا لغوی معنی

دوسروں پر اجتہاد کے ثابت ہونے کے تین طریقے ہیں:
  • تقلید کرنے والے کو فقیہ کے اجتہاد کے بارے میں یقین حاصل ہو جائے .
  • فقیہ کے اجتہاد کی شہرت اتنی حد تک ہو کہ انسان کے لئے یقین حاصل ہو جائے.
  • دو آگاہ اور ماہر افراد کسی کے اجتہاد پر گواہی دیں، بشرطیکہ دو دوسرے افراد اس کے خلاف گواہی نہ دیں.
حکیم، سید محسن، مستمسک العروه،ج۱، ص۳۸
  • ابن منظور لفظ جُہد کا معنی اس طرح سے بیان کرتے ہیں:الجَہد و الجُہد الطاقه... قيل الجَهْد المشقه والجُهْدالطاقه طاقت اور توان ہے نیز کہا گیا ہے:جہد کا معنی مشقت اور جُہد کا معنی طاقت ہے کو بیان کرتا ہے۔پھر اس آیت: وَالَّذِينَ لَا يَجِدُونَ إِلَّا جُهْدَهُمْکا معنی فراء نحوی سے ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:الجہد فی ھذہ الآیه الطاقه تقول ھذا جہدی ای طاقتی۔

اس آیت میں جہد توان اور طاقت کے معنی میں ہے۔ آپ کہتے ہیں کہ میری توان اور طاقت میں ہے۔ ابن عرفہ سے اس معنی کو مبالغہ اور نہایت کے معنی کے اضافے کے ساتھ نقل کرتے ہیں:الجُهد بضم الجيم الوُسع والطاقه والجَهْدُ المبالغه والغايه ومنه قوله عزّ وجل جَهْد أَيمانهم أَي بالغوا في اليمين واجتهدوا فيها" اور پھر لکھتے ہیں کہ الاجتہاد و التجاہد بذل الوسع و المجہوداجتہاد اور تجاہد طاقت اور توان کو بروئے کار لانا ہے"۔[1]

  • ابن اثیر سے اس طرح مرقوم ہے کہ ’’ لفظ جَہد اور جُہد احادیث میں جیم کی زبر اور جیم کی پیش کے ساتھ ذکر ہوا ہے جَہد بمعنی مشفقت اور سختی کے ہے جبکہ جُہد اپنی پوری توانائی کے ساتھ کام کرنے کو کہتے ہیں اور اجتہاد طلب اور جستجو میں اپنی توانائی صرف کرنا ہے ۔

اہل سنت اور اجتہاد

اہل سنت علماء نے اجتہاد کا معنی بیان کرتے ہوئے مختلف معانی ذکر کیے ہیں انہیں دو حصوں میں تقسیم کیا سکتا ہے:

اجتہاد کا مخصوص معنی

اس کی توضیح کے لیے ضروری ہے کہ ان کے علماء اور محققین کی کتابوں سے چند ایک نمونے ذکر کئے جائیں تاکہ قارئین کو معلوم ہو سکے کہ اجتہاد مختلف معنوں کے لئے استعمال ہوا ہے ان میں سے کچھ معانی ایسے ہیں جنہیں اسلام نے اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا اور ایسا اجتہاد کرنے کی اسلام نے اجازت نہیں دی ہے اور اسلام نے اس اجتہاد سے منع کیا ہے اور کچھ معانی ایسے ہیں جن کی روایات سے تائید ہوتی ہے۔

" قیاس کیا ہے ؟ کیا یہ وہی اجتہاد ہے ؟یا ان کے درمیان کوئی فرق ہے؟ میں کہتا ہوں کہ اجتہاد اور قیاس کے ایک ہی معنی ہیں"۔ پھر مزید لکھتے ہیں : شریعت میں جس جگہ ایک خاص موضوع کے لیے کوئی معین حکم موجود نہ ہو وہاں "اجتہاد" کے ذریعے اس کا حکم لیا جائے گا۔اجتہاد وہی قیاس ہے " ۔[2]

  • ابن منظور اجتہاد شرعی کا معنی اس طرح بیان کرتے ہیں:اجتہاد کرنا "یعنی کسی مسئلہ کے لیے کتاب و سنت سے قیاس کے ذریعے حکم معلوم کرنا" ہے ۔

آیۃ اللہ حسین علی منتظری دراسات فی [[ولایۃ الفقیہ و فقہ الدولۃ الاسلامیۃ میں ابن منظور کے قول کو لسان العرب سے نقل کرنے کے بعد کہتے ہیں :ابن منظور کی قیاس سے شاید عقلی و ظنی استحسانات اور قیاس سے عام معنی مراد ہو اور آئمہ ؑ کے زمانے میں یہی معنی رائج تھا اوراسی اجتہاد اور رائے کو ہماری روایات میں منع کیا گیا ہے ۔

  • استاد عبد الوہاب کے نزدیک اجتہاد کے معنی کو محمد تقی حکیم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے :"ایسے مسائل اور موضوعات کہ جن کے بارے میں کوئی خاص نص بیان نہ ہو ئی ہو وہاں رائے اور اپنی شخصی نظر کو بروئے کار لاتے ہوئے کسی حکم کو اخذ کرنا اجتہاد کہلاتا ہے" ۔[4]
  • جمال عبد الناصر اجتہاد کی دو اقسام میں سے دوسری قسم کے ذیل میں لکھتے ہیں "جس مسئلے کے متعلق شریعت میں نہ تو کوئی نص ہو اور نہ ہی وہاں فقہاء کا اجماع ہو، وہاں مجتہد کا نظر و قیاس کے ذریعہ حکم اخذ کرنا اجتہاد کہلاتا ہے "۔[5]

بہر حال علماء کی ان تحریروں سے اس بات کا یہ نتیجہ نکالنا کوئی مشکل نہیں کہ برادران اہل سنت کے نزدیک قیاس، رائے ،شخصی فکر، استحسان وغیرہ کا دوسرا نام اجتہاد ہے یعنی معنی کے لحاظ سے ان تمام الفاظ میں کوئی خاص تفاوت نہیں ہے ۔

اہل سنت علماء کا قیاس اور رائے وغیرہ کو اجتہاد کے ہم معنی سمجھنے کی وجہ شاید صحابہؓ کا اپنی زندگی میں رائے اور قیاس پر عمل کرنا ہو جس کا تذکرہ بعض علماء نے روش صحابہ کو یوں ذکر کرتے ہیں :

  • خضری بک کہتے ہیں "صحابہؓ کے پاس جب ایسے مسائل پیش ہوتے کہ جن کے بارے میں کتاب و سنت میں کوئی واضح حکم موجود نہ ہوتا تو صحابہؓ مجبور ہو کر قیاس کا سہارا لیتے جسے وہ رائے سے تعبیر کرتے ۔حضرت ابوبکر اسی طرح کرتے تھے۔ جب کتاب میں کسی حکم کو نہ پاتے اور لوگوں کے پاس سنت بھی موجود نہ ہوتی تو وہ لوگوں کو جمع کرتے اور ان سے مشورہ کرتے۔ جب تمام ایک رائے پر متفق ہو جاتے تو اس کے مطابق حکم لگاتے اسی طرح جب حضرت عمر نے شریح کو کوفہ کا قاضی مقرر کیا تو اسے کہا: "جس چیز کے بارے میں قرآن کا حکم نہ ہو وہاں سنت میں دقت کرو اور اگر سنت سے بھی حکم نہ مل پائے تو اپنی رائے اور اجتہاد کے ذریعے حکم بیان کرو"۔ اسی طرح حضرت عبد اللہ بن مسعود کے بارے میں نقل کرتے ہیں:"ان سے مفوضہ کے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا ان کے متعلق اپنی رائے کو بیان کرتا ہوں اگر صحیح ہو تو یہ خدا کی جانب سے اور اگر درست نہ ہو تو یہ میری اور شیطان کی طرف سے ہے ؛ خدا اور اس کا رسولؐ اس سے بری الذمہ ہیں" ۔[6]
  • تاریخ مذاہب اسلامی کے مصنف ابو زہرہ کے بقول "صحابہؓ کے نزدیک اجتہاد ؛ قیاس ، استحسان ، برائت اصلیہ اور مصالح مرسلہ" کو شامل تھا ۔

اجتہاد کا عام معنی

  • ابو اسحاق شیرازی نے کہا کہ فقہاء کی اصطلاح میں حکم شرعی کی جستجو میں ممکنہ حد تک کوشش کرنا اجتہاد ہے ۔[7].
  • آمدی نے کہا کہ اصولیوں کے نزدیک احکام شرعیہ میں سے کسی چیز کے متعلق ظنی حکم حاصل کرنے کیلئے انسان کا اس حد تک کوشش کرنا ہے کہ اس سے زیادہ مزید کوشش سے وہ عاجز ہو تو اسے اجتہاد کہتے ہیں۔[8].

اجتہاد کی اقسام

اجتہاد کو چند لحاظ سے تقسیم کیا گیا ہے مثلا:

  • اجتہاد تام اور ناقص:حکم جاننے کیلئے مطلق نظر کرنا اجتہاد ناقص ہے اور یہ قسم حالات کے لحاظ سے مختلف ہوتی ہے۔اجتہاد تام میں مجتہد حکم شرعی کے حصول میں اس حد تک کوشش کرتا ہے کہ وہ مزید کوشش کرنے سے سے عاجز ہوتا ہے ۔[9]

آئمہ طاہرین(علیہم السلام) کا نکتہ نظر

فقہائے شیعہ کے نزدیک ایسا اجتہاد "جس میں رائے، استحسان اور قیاس" پایا جائے درست نہیں ہے اور اس کے متعلق آئمہ طاہرین سے سخت لہجے میں "نہی" وارد ہوئی ہے کہ جس کے مطابق "دین اسلام میں شخصی رائے اورقیاس کی کوئی جگہ نہیں ہے" نیز شیعہ فقہاء اور علماء نے ابتداء سے لے کر آج تک اس کی مذمت کی ہے کہ شریعت میں اجتہاد سے یہ مراد نہیں ہے۔علمائے شیعہ نے جب بھی اجتہاد کے متعلق گفتگو کی تو وہاں اس کی تصریح کی ہے شریعت میں اس اجتہاد ( قیاس ، رائے، استحسان ) کی کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ایسا قیاس یا شخصی رائے کہ جسے علمائے اہل سنت نے اجتہاد کا نام دیا اسے آئمہ ؑ کی احادیث میں اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا بلکہ بہت ہی سخت الفاظ میں اس سے منع کیا گیا ہے اور ایسے عملِ اجتہاد کو فعل ابلیس کے مشابہ قرار دیا گیا ہے۔جیسا کہ درج ذیل احادیث سے اس کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے:

  • اصول کافی میں روایت ہے: جس نے قیاس پر عمل کیا ہے وہ ہمیشہ اشتباہ میں رہا ہے اور جس نے رائے کے ذریعے اللہ کی اطاعت کی وہ ہمیشہ (بحر ظلمت میں) غرق رہا ہے۔[11]
  • وسائل الشیعہ میں امام صادق ؑ سے روایت ہے : اصحاب قیاس پر نفرین خدا ہو کیونکہ انہوں نے کتاب خدا و سنت رسول ﷺ کو تبدیل کر دیا ہے اور دین خدا میں سچوں پر تہمت لگائی ہے۔[12]
  • امیر المؤمنین نے فرمایا: دین خدا میں قیاس سے کام نہ لیں کیونکہ امر خدا کو قیاس نہیں کیا جاتا اور عنقریب ایک قوم آئے گی جو ( امر دین میں )قیاس سے کام لے گی اور یہ لوگ دین کے دشمن ہیں ۔[13]

اس کے علاوہ اور احادیث بھی ہیں جن میں قیاس سے منع کیا گیا ہے۔نیز حضرت امام جعفر صادق ؑ سے ایسی روایات بھی منقول ہیں جن میں آپ نے "ابو حنیفہ" کا نام لے کر ان کی سرزنش کی اور یا "اباحنیفہ" یا " یانعمان" کہہ کر انہیں قیاس پر عمل کرنے سے منع کیا کیونکہ ابو حنیفہ احکام شرعی میں قیاس پر عمل کرتے تھے ۔ ایک دفعہ ابو حنیفہ ایک صحابی کے ساتھ حضرت امام صادق کی خدمت میں آئے تو آپ نے فرمایا: اے نعمان! قیاس سے دوری اختیار کرو کیونکہ میرے والد نے مجھ سے اپنے والد بزرگوار رسول اللہ کی حدیث بیان کی :"جو شخص دین کے معاملے میں اپنی رائے استعمال کرے گا وہ جہنم میں ابلیس کے ساتھ ہو گا کیونکہ اس نے یہ کہہ : تو نے مجھے آگ سے اور آدم کو مٹی سے ہیدا کیا ہے،سب سے پہلے قیاس کیا۔ لہذا تم رائے اور قیاس کو چھوڑ دو۔کسی نے یہ نہیں کہا:دین خدا میں کوئی برہان نہیں ہے کیونکہ دین الہی رائے اور اندازوں پر نہیں بنایا گیا۔[14] ان احادیث کی روشنی میں قیاس کے درست نہ ہونے کے بارے میں کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا اس مقام پراس بات کوبھی جان لینا چاہئے کہ مکتب تشیع میں احکام دین میں اپنی رائے اور قیاس سے کسی موضوع کے متعلق حکم لگانے کو اجتہاد نہیں کہا جاتا بلکہ اس مکتب میں اجتہاد کا معنی اور ہے ۔

اس کی وضاحت آسان لفظوں میں اس طرح کی جا سکتی ہے کہ اجتہاد کہ جسے اہل سنت کے ہاں قیاس اور رائے کہا گیا ہے اس کی حقیقت یہ تھی کہ فقیہ نص کے نہ ہونے کی صورت میں اپنی رائے اور ذوق کے ذریعے ایک حکم بیان کرتا ہے یعنی اگر اس فقیہ سے پوچھا جائے کہ اس حکم شرعی کا ماخذ، منبع اور دلیل کیا ہے؟ تو وہ کہے گا میری اپنی نظر اور رائے اس حکم کی دلیل ہے۔ یہ وہ اجتہاد ہے جسے اہل سنت قیاس سے تعبیر کرتے ہیں ۔یہی قیاس(اجتہاد) آئمہ کی نظر میں درست نہیں تھا اسی اجتہاد اور قیاس کو روایات میں منع کیا گیاہے اور شروع سے لے کر آج تک علمائے شیعہ ایسے اجتہاد اور قیاس کی نفی کرتے چلے آ رہے ہیں۔

رسول اکرم(ص) اور اجتہاد

رسول گرامی قدر کے اجتہاد کرنے کے بارے میں اہل سنت کے مختلف مکاتب فکر کے علماء میں اختلاف نظر پایا جاتا ہے لیکن شیعہ مکتب فکر رسول اکرمﷺ اور آئمہ معصومین کے اجتہاد کے بارے میں اتفاق نظر رکھتا ہے جن کی تفصیل ذکر کی جاتی ہے :۔

علمائے اہل سنت کا نکتہ نظر

  • اجتہاد کے حوالے سے اہل سنت علماء کے درمیان اختلاف کی نشاندہی کرتے ہوئے جمال عبد الناصر لکھتے ہیں :
  1. رسول اکرم ﷺکی نسبت اجتہاد جائز نہیں ہے کیونکہ ان کا رابطہ خدا کے ساتھ وحی کے ذریعے رہتا تھا اور وحی کے ہوتے ہوئے اجتہاد کی کوئی ضرورت نہیں ۔ ابو علی جبائی اور ابو ہاشم اس نظریے کے قائل ہیں۔ ابو منصور ماتریدی نے اسے "اصحاب رائے" سے نقل کیا ہے اگر پیغمبر کے لیے اجتہاد جائز ہو تو رسول خدا کی مخالفت بھی جائز ہو گی چونکہ مخالفت اجتہادی جائز ہے ۔
  2. رسول اکرم ﷺ کے لیے اجتہاد جائز ہے صرف جائز ہی نہیں بلکہ تاریخ آپ کے اجتہاد کو بیان کرتی ہے مثلا۔۔۔۔۔۔۔اکثر حنفی اس کے قائل ہیں کہ رسول اکرم ﷺ وحی کے ذریعہ احکام بیان کرتے تھے اور بعض اوقات وحی کا انتظار کرتے رہتے جب وحی نہ آتی تو اپنے اجتہاد کے ذریعہ اس کا حکم بیان کرتے ۔
  3. احکام شرعیہ میں اجتہا دنہیں کرتے تھے صرف جنگوں اور مشوروں میں اجتہاد کرتے تھے ۔
  4. علم کے ہوتے ہوئے بھی اس موضوع میں توقف کیا جائے ، آمدی نے اس قول کو شافعی سے نقل کیا ہے۔

ان اقوال کو نقل کرنے کے بعد مصنف قائلین اجتہاد کی طرف سے آیات قرآنی اور اقوال پیغمبر کے ذریعے اجتہاد اور آپ کے قیاس پر عمل کرنے کی دلیلوں کو بیان کرتے ہیں۔[15]

  • محمد خضری بک نے جواز الاجتہادللنبی (ص) کے عنوان کے تحت اس مسئلے کے بار ے میں علماء کے درمیان پائے جانے والے مختلف نظریات کی درج ذیل تفصیل ذکر کی ہے:
  1. حنفی قائل ہیں کہ جب بھی کوئی نیا واقعہ رونما ہوتاتو آپؐ کے لیے ضروری تھا کہ آپ وحی کا انتظار کریں جب وحی نہ آتی اور واقعہ کے فوت ہو جانے کا خطرہ ہوتا تو آپ کو اجتہاد کا حکم دیا گیا تھا اورآپ کا اجتہاد صرف قیاس کے ساتھ مخصوص تھا۔ اگر آپ اس کا اقرار کرتے تو یہ اس کے صحیح ہونے کی دلیل ہے کیونکہ آپ اپنی خطا کا اقرار نہیں کرتے تھے۔ اسی وجہ سے آپؐ کے اجتہاد کی مخالفت جائز نہیں جیسا کہ دوسرے مجتہدوں کی مخالفت جائز ہے۔حنفی آپ کے اس اجتہاد کو ایک قسم کی "وحی" شمار کرتے ہیں اور اسے "وحی باطن" کہتے ہیں۔
  2. اکثر اصولی قائل ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کو انتظار وحی کے بغیر اجتہاد کا حکم دیا گیا تھا ۔
  3. اشاعرہ اور اکثر معتزلہ یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ احکام شرعیہ میں آپؐ کو اجتہاد کا اختیار نہیں ہے۔
  4. بعض قائل ہیں کہ آپ صرف جنگوں میں اجتہاد کا اختیار رکھتے ہیں.

ان اقوال کو ذکر کرنے کے بعد مصنف اپنے نظریے کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "رسول اکرم ﷺ کے لیے اجتہاد جائز ہے جنگوں اور احکام شرعیہ میں آپ نے اجتہاد کیا ہے ۔[16]

شیعہ علماء کا نکتہ نظر

رسول اکرم ﷺ کے اجتہاد کے متعلق شیعہ نقطہ نظر واضح ہے کہ رسول اکرمﷺ کی نسبت اجتہاد جائز نہیں چونکہ اجتہاد در حقیقت کسی بھی مسئلہ سے آگاہی نہ ہونے کی صورت میں کیا جاتا ہے اور مجتہد اجتہاد کے ذریعے اس مسئلے سے آگاہ ہوتا ہے اور یہ علم بھی یقینی نہیں ہوتا بلکہ ظنی ہوتا ہے جب کہ رسول اکرم معصوم ہیں اور عصمت علم کی ہی ایک قسم ہے ۔ اس بنا پر نظریہ اجتہاد عصمت کے ساتھ سازگار نہیں ہے۔ علامہ حلی اس کے متعلق بحث کرتے ہوئے شیعہ مکتب فکر کی ان الفاظ میں ترجمانی کرتے ہیں :

"نبی اکرمﷺ کے حق میں اجتہاد صحیح نہیں ہے اور جبائیان بھی یہی عقیدہ رکھتے ہیں پھر برداران اہل سنت کے نظریے کی تضعیف اور اپنے نظریے کی تائید درج ذیل دلیلوں سے کرتے ہیں :

  1. خدا نے فرمایا ہے :
    وَ ما يَنْطِقُ عَنِ الْهَوى‏ (3)إِنْ هُوَ إِلاَّ وَحْيٌ يُوحى‏ (4)
ترجمہ:وہ خواہش سے نہیں بولتا(3)یہ تو صرف وحی ہوتی ہے جو اس پر نازل ہوتی ہے(4)۔[17]
  1. رسول اکرم ﷺ کا تعلق وحی اور یقین کے ساتھ تھا جبکہ اجتہاد کے ذریعے صرف ظن حاصل ہوتا ہے ۔
  2. رسول اکرم ﷺ اکثر احکام شرعی کے بیان میں وحی کے منتظر رہتے تھے اگر آپ کے لیے اجتہاد جائز ہوتا تو اس پر عمل کرتے اور اجتہاد کے ذریعہ احکام بیان کرتے جبکہ اجتہاد کا ثواب بھی زیادہ تھا جیسا کہ مفسرین نے سورہ مجادلہ کی ابتدائی آیات کے شان نزول میں بیان کیا ہے کہ آپ چالیس دن تک وحی کے منتظر رہے اور کوئی حکم بیان نہیں کیا ۔
  3. اگر رسول اکرم ﷺ کے لیے اجتہادجائز ہوتا تو جبرائیل کے لیے بھی جائز ہوتااور اس صورت میں خدا کی جانب سے رسول اکرم کے ذریعہ لائی جانے والی شریعت کے متعلق یقین ختم ہو جاتا ہے ۔
  4. اجتہاد کے ذریعے انسان کبھی حق تک پہنچتاہے اور کبھی غلطی کرتا ہے اس صورت میں رسول اکرم کی اتباع کا حکم دینا جائز نہیں کیونکہ اس کی وجہ سے اس کی وثاقت ختم ہو جاتی ہے ۔

پھر آخر میں آئمہ طاہرین کے اجتہاد کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اسی طرح آئمہ کے لیے بھی اجتہاد جائز نہیں کیونکہ وہ تمام معصوم ہیں اور ان کی تمام احکام شرعیہ سے آگاہی تعلیم پیغمبر کے ذریعے یا الہام کے ذریعے حاصل ہوئی ہے ۔

رسول خدا ﷺاور آئمہ معصومین کی نسبت اجتہاد کی نفی کرنے کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو جب کسی چیز کا علم نہ ہو تو اس وقت انسان اجتہاد کے ذریعہ کوشش کرتا ہے کہ حقیقت تک رسائی حاصل کرے مثلا جب کوئی شخص نماز ، روزہ یا اسلام کے دوسرے احکامات میں سے کسی حکم سے آگاہ نہ ہو اور وہ آگاہی حاصل کرنا چاہے تو اپنی اس جہالت کو ختم کرنے کے لیے وہ قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرتا ہے تاکہ قرآن و حدیث کے ذریعہ اس کا علم حاصل کرے یعنی حقیقت میںانسان اپنی جہالت کو اجتہاد کے ذریعہ علم میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتا ہے اب اگر یہ کہا جائے کہ نبی یا امام بھی اجتہاد کرتے تھے گویا ہم اس بات کا اقرار کر رہے ہیں کہ نبی یا امام جاہل تھے اور وہ اس جہالت کو اپنے شخصی اجتہاد کے ذریعے علم میں تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ بات عقل اور قرآنی تعلیمات کے مخالف ہے کیونکہ قرآن کا نبی اکرم ﷺ کے متعلق سورہ نساء میں صریح حکم ہے:

وَ أَنْزَلَ اللَّهُ عَلَيْكَ الْكِتابَ وَ الْحِكْمَةَ وَ عَلَّمَكَ ما لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ (113)
ترجمہ:خدا نے آپ پر کتاب اور حکمت نازل کی ہ اور آپ کو ان تمام چیزوں کا علم عطا کیا ہے جو آپ کو معلوم نہ تھیں

نبی ﷺ کے اجتہاد کرنے کی صورت میں لازم آتا ہے کہ نبی کو پہلے مرحلہ میں جاہل فرض کریں جبکہ آیت کے مطابق خدا نے انہیں تمام حقائق کا علم دیا ہے اور پھر دوسرے مرحلہ میں یہ لازم آتا ہے کہ ممکن ہے کہ آپ اجتہاد کے ذریعہ درست اور صحیح علم حاصل نہ کر سکیں۔ اس صورت میں

وَ ما آتاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَ ما نَهاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا
ترجمہ: جو چیز آپ لے کر آئیں (مسلمانوں کو چاہئے) اس پر عمل کریں اور جس سے آپ منع کریں اس سے رُکے رہیں؛

کے حکم کے مطابق خدا کا انسانوں کو رسول خداﷺ کی پیروی کا حکم دینا معقول نہیں کیونکہ رسول خدا کی پیروی کا حکم اس لیے دیا گیا ہے کہ رسول خداﷺ جو فعل و قول انجام دیں گے وہ علم اور مرضی خدا کے مطابق ہو گا جبکہ اجتہاد کی وجہ سے وہ غلطی کا ارتکاب کر سکتے ہیں ۔خدا کی ذات ایسے عیوب سے پاک و منزہ ہے کہ وہ تمام انسانوں کو ایسے نبی کی پیروی کا حکم دے جس کا قول و فعل واقع کے مطابق نہ ہو۔ اس لیے شیعہ مذہب میں نبی اور امام کے لیے اجتہاد جائز نہیں ہے ۔

پیغمبر کے زمانے میں صحابہ کا اجتہاد

  • اس کے لیے سیرت نبی اکرم ﷺ سے بنی قریظہ کے واقعہ کو پیش کیا جاتا ہے اس واقعہ کو کتب حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ احزاب سے واپسی کے موقع پر رسول اکرم نے ارشاد فرمایا:

ان لا یصلین احد العصر الا فی بنی قریظہ... کوئی ایک نماز عصر کو بنی قریظہ سے پہلے نہ پڑھے ۔

دوران سفر کچھ لوگوں نے نماز کا وقت گزر جانے کے خوف کی وجہ سے بنی قریظہ پہنچنے سے پہلے نماز عصر کو ادا کیا اور کچھ لوگوں نے بنی قریظہ پہنچنے سے پہلے حکم رسول خدا کے مطابق نماز ادا نہیں کی اور آپ نے انہیں گناہگار بھی شمار نہیں کیا۔ پہلے گروہ نے لا یصلین .... سے یہ سمجھا کہ نبی اکرم ﷺ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم سفر کو سرعت سے طے کریں تاکہ نماز عصر کو وہاں جا کر ادا کیا جائے اور جب دیکھا کہ ہم وادی بنی قریظہ میں وقت نماز عصر میں نہیں پہنچ سکیں گے تو انہوں نے نماز کو اس کے وقت کے اندر ادا کیا اور رسول اکرمﷺ نے ان دو گروہوں کے مختلف عمل کے باوجود ان کی سرزنش اور توبیخ نہیں کی ۔[18]

  • اسی طرح کتب تاریخ اور حدیث میں سعد بن معاذ کا بنی قریظہ کے متعلق فیصلہ منقول ہے کہ جب رسول اکرمﷺ نے انہیں بنی قریظہ کے معاملے میں حاکم مقرر کیا تو انہوں نے تمام مردوں کے قتل اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنانے کا حکم دیا ۔رسول اکرم ﷺ نے ان کے اس فیصلے کے بارے میں صرف یہ کہا: تم نے خدا کے حکم سے یہ فیصلہ کیا ہے اور بعض احادیث میں ہے کہ آپؐ نے کہا:’’ تم نے مَلک کے ذریعے فیصلہ کیا ہے‘‘ [19]

صحابہ کرام جب رسول خداﷺ کی صحبت سے دور ہوتے اور رسول خداؐ تک ان کے لیے رسائی ممکن نہ ہوتی تو اس وقت بھی اصحاب اپنے اجتہاد پر عمل کرتے جیسے :

  • تفسیر عیاشی میں حضرت زرارۃ کی حضرت امام محمد باقرؑ سے روایت منقول ہے: ایک دن حضرت عمار بن یاسر رسول خدا کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی اے پیغمبر خدا! میں رات کو مجنب ہو گیا اور میرے پاس غسل کے لیے پانی نہ تھا آپ نے فرمایا تو پھر تم نے کیا کیا عمار نے جواب دیا میں نے لباس اتارا اور اپنے آپ کو مٹی میں غلطاں کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا اس طرح تو گدھے کرتے ہیں اور اس کے بعد حضرت عمار کو تیمم کا طریقہ بتلایا ۔[20]

اصول کافی میں یہ واقعہ کچھ مختلف الفاظ سے نقل ہوا ہے ۔[21]

  • اہل سنت کی کتب میں یہ واقعہ اس طرح نقل ہوا ہے کہ حضرت عمار اور حضرت عمر بن خطاب ایک سفر میں اکیلے تھے ۔دونوں مجنب ہو گئے تو حضرت عمار نے گزشتہ طریقے کے ذریعے تیمم کیا اور حضرت عمر نے نماز نہیں پڑھی اور پھر جس طرح ہوا تھا اسے رسول خدا کے سامنے بیان کیا تو آپ نے فرمایا حدث اصغر اور حدث اکبر کے بدلے میں ایک ہی طرح سے تیمم کیا جاتا ہے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔

"الاجتہاد ومدی حاجاتنا الیہ فی ھذا العصر" کے مصنف اس واقعے کو تحریر کرنے کے بعد کہتے ہیں۔ آپؐ نے حضرت عمار اور حضرت عمر کو کوئی ایسی بات نہیں کی جس سے اجتہاد کے جائز نہ ہونے کا پتہ چلتا ہو ۔

شیعہ اور اجتہاد

اجتہادکے اصطلاحی معنی کی وضاحت میں کئی تعریفیں بیان ہوئی ہیں ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں :

  • ظنی ادلہ یا غیر واضح نصوص سے حکم شرعی کو جاننے کیلئے فقیہ کا اپنی پوری کوشش کرنا یا حکم شرعی سے متعلق کسی چیز(جیسے قبلہ کی جہت معوم کرنا) کے حکم کو جاننے کیلئے کوشش کرنا اجتہاد ہے ۔[22]
  • حکم شرعی کا ظن حاصل کرنے کیلئے ممکنہ حد تک کوشش کرنا ہے ۔[23]
  • احکام شرعی یا وظائف عملی پر شرعی یا عقلی دلائل کو حاصل کرنا اجتہاد کرنا ہے۔[24]

اجتہاد کی اقسام

اجتہاد مطلق:فقہ کے تمام ابواب میں استنباط کی قدرت اور صلاحیت کو اجتہاد مطلق کہا جاتا ہے ۔ اجتہاد تجزی: فقہ کے بعض ابواب میں استنباط کی قدرت اور صلاحیت کو کہا جاتا ہے ۔[25]

اجتہاد بالقوہ و الملکہ : مجتہد میں حکم شرعی کے استنباط کی قدرت یا صلاحیت ہو لیکن اس نے عملی طور پر استنباط نہیں کیا یا بہت کم مسائل کے بارے میں کیا ہے ۔

اجتہاد بالفعل :مجتہد میں حکم شرعی کے استنباط کی قدرت یا صلاحیت ہو اور وہ عملی طور استنباط کرتا ہو اور احکام شرعیہ کو ان کی ادلہ کے ساتھ جانتا ہو ۔ [26]

مقدمات اجتہاد

علم صرف، نحو، لغت، منطق، رجال، اصول فقہ و كتاب و سنّت و محاورات عرفى وغیرہ ایسے علوم ہیں کہ اجتہاد کیلئے ان علوم سے واقفیت ضروری ہے۔[27]

شرائط مجتہد

ایک مجتہد کا بالغ،عاقل،مذکر ہونا، ایمان، عدالت، دنیا کا حریص نہ ہونا ،حلال زادہ ہوناوغیرہ ہوناضروری ہے ۔[28] بعض علماء نے مجتہد کے غلام نہ ہونے کی شرط ذکر کی لیکن ساتھ ہی ذکر کہا کہ اس شرط پر کوئی عقلی یا شرعی دلیل موجود نہیں ہے لیکن یہ کہا جائے گا کہ مرجعیت کا منصب اس کے ساتھ سازگاری نہیں رکھتا ہے ۔[29]

اجتہاد کا حکم

اجتہاد حکم تکلیفی (یعنی وجوب ،حرمت، استحباب ، کراہت ،اباحہ) اور حکم وضعی (حکم تکلیفی کے علاوہ احکام " حکم وضعی" کہلاتے ہیں جیسے ملکیت ،زوجیت،رقیت ،باطل ہونا، فاسد ہونا....) کے لحاظ سے قابل توجہ ہے ۔

حکم تکلیفی

فقہائے امامیہ کے درمیان وجوب اجتہاد کا نظریہ مشہور ہے جبکہ اخباریوں کے طرف اجتہاد کے عدم وجوب کی نسبت بھی دی گئی ہے لیکن اس نسبت کا درست ہونا ممکن نہیں ہے چونکہ اخباری علماء اصولیوں کے قواعد کے مطابق اجتہاد کی نفی کرتے ہیں لیکن وہ اپنے قواعد کے مطابق اجتہاد کرنے سے منع نہیں کرتے بلکہ انہوں نے کہا ہے کہ وہ بھی اصولیوں کی طرح اس کے وجوب کے قائل ہیں ۔[30]

اجتہاد کے وجوب کو دو طرح:انسان کے اعمال انجام دینے یا فتوا اور قضاوت کے لحاظ سے بیان کیا جاتا ہے:

  • خدا کی طرف سے انسان کیلئے کچھ احکامات مقرر ہوئے ہیں جنہیں اسے انجام دے کر اطمینان حاصل کرنا ہے ۔ اس بات کے پیش نظر کچھ علماء اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد کا وجوب انسان کیلئے تخییری(اختیاری) ہے کیونکہ عام طور پر انسان ان احکامات کو تین راستوں میں سے کسی ایک کغ ذریعے ان احکامات کو بجا لاسکتا ہے[31]۔پہلا طریقہ:انسان اس حکم کی تمام احتمالی صورتوں کو بجا لائے تا کہ اسے اطمینان حاصل ہو جائے میں نے حکم الہی کو انجام دے دیا ہے۔ اسے احتیاط کہا جاتا ہے ۔دوسرا طریقہ:کہ وہ کسی ایسے شخص کی طرف رجوع کرے جو اس حکم کے انجام دینے کے طریقے کو جانتا ہو اور وہ اس شخص کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق حکم کو انجام دے ۔یہ تقلید کہلاتا ہے۔تیسراطریقہ:انسان خود علم حاصل کرے کہ حکم الہی کو کس طرح انجام دیا جائے اور پھر اس علم کے مطابق حکم الہی کو بجا لائے۔ اسے اجتہاد کہا جاتا ہے ۔

اجتہاد کے وجوب کا سبب کیا ہے؟ اس کے بارے میں تین اقوال ذکر ہوئے ہیں:پہلا قول:انسانی فطرت کہتی ہے کہ احتمالی ضرر سے بچاؤ ضرروی ہے۔[32] ۔دوسرا قول:انسانی عقل کہتی ہے کہ نعمتیں نوازنے والے کا شکر بجا لانا ضروری ہے اور وہ احکامات الہی کے انجام دینے سے حاصل ہوتا ہے۔ [33]۔تیسرا قول:شریعت نے اس کے وجوب کو بیان کیا ہے ۔[34]

  • فتوا دینے کیلئے اجتہاد کا ہونا ضروری ہے یا ہر زمانے میں حاکم اور قضاوت کیلئے اس کی ضرورت کی وجہ سے اجتہاد ضروری ہے ۔پس ہر زمانے میں مجتہد کا ہونا ضروری ہے ۔اس لحاظ سے کسی نے بھی اجتہاد کے وجوب کا انکار نہیں کیا ہے ۔

اکثر علمائے امامیہ اس بات کے قائل ہیں کہ اجتہاد واجب کفائی میں سے ہے البتہ اخباری اور حلب کے علماء کی مانند کچھ متقدمین علماء اجتہاد کے واجب عینی ہونے کے قائل تھے ۔[35]

حکم وضعی

حکم وضعی کے لحاظ سے اجتہاد پر مترتب ہونے والے متعدد آثار میں سے چند اہم آثار درج ذیل ہیں:

  • مجتہد کے فتوے کی حجیت میں کسی قسم کا شبہ نہیں ہے ۔[36]
  • امامیہ کے نزدیک مشہور ہے کہ ایک مجتہد کسی دوسرے مجتہد کی طرف رجوع نہیں کر سکتا ہے ۔کیونکہ تقلید جاہل کیلئے جائز ہے جبکہ مجتہد جاہل نہیں ہے ۔شہید ثانی اور ان کے بیٹے کے بارے میں نقل ہوا ہے کہ وہ مجتہد مطلق کی طرف مجتہد متجزی کے رجوع کو جائز سمجھتے تھے [37]۔
  • مجتہد مطلق میں شرائط پائی جاتی ہوں تو اس کی طرف رجوع کرنا اور اس کی تقلید کرنا جائز ہے جبکہ مجتہد متجزی کی طرف رجوع کرنے میں اختلاف ہے[38] ۔
  • فقہائے امامیہ کے درمیان مشہور ہے کہ مجتہد مطلق کا قضاوت کرنا جائز اور اس کا حکم نافذ العمل ہوتا ہے لیکن مجتہد متجزی کے بارے میں اختلاف ہے ۔
  • شیعہ اور علماء کی ایک جماعت کے نقطہ نظر کے مطابق خدا کے نزدیک ہر موضوع کیلئے حکم موجود ہے مجتہد اپنے اجتہاد کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کرتا ہے کبھی اس کا اجتہادی حکم اس واقعی حکم کے مطابق ہوتا اور کبھی ایسا نہیں ہوتا ہے ۔اس نظریے کو "تخطئہ" اور ان کے قائلین کو "مخطئۃ" کا جاتا ہے ۔اس مقام اشاعرہ اور بعض معتزلہ شیعہ مکتب سے اختلاف نظر رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ واقعے میں تمام چیزوں کے احکامات موجود نہیں ہیں ۔مجتہد اپنے اجتہاد کے ذریعے جو حکم اخذ کرتا ہے وہ ہی حکم اس چیز کیلئے قرار پاتا ہے ۔اس نظریے کو "تصویب" اور ان کے قائلین کو "مصوبہ" کہا جاتا ہے ۔
  • اجزا( کافی ہونا) کی بحث بھی اجتہاد کے وضعی احکام میں سے ہے ۔مخطئہ مجتہد اپنے اجتہاد کی بنا پر ایک حکم شرعی بیان کرتا ہے ۔مجتہد اور اس کی تقلید کرنے والے اس کے مطابق عمل کرتے ہیں ۔کچھ عرصے بعد مجتہد کی رائے تبدیل ہو جاتی ہے ۔یہاں اجزا کی بحث کی جاتی ہے کہ پہلی رائے کے مطابق انجام کیے گئے اعمال دوبارہ اس نئے حکم کے مطابق انجام دینا چاہیے یا وہی پہلے والے کافی ہیں ۔

فتوے کی حجیت

علماء نے مجتہد کے فتوے کی حجیت کے دلائل ذکر کرتے ہوئے قرآن، احادیث،سیرت عقلاء سے دلائل ذکر کئے ہیں:

قرآن

  • و‌ما‌کانَ المُؤمِنونَ لِینفِروا کافَّةً فَلَولا نَفَرَ مِن کلِّ فِرقَة مِنهُم طَائِفَةٌ لِیتَفَقَّهوا فِی الدّینِ ولِینذِروا قَومَهُم اِذا رَجَعوا اِلَیهِم لَعَلَّهُم یحذَرون[39]

ترجمہ : اور یہ نہیں ہو سکتا کہ سب کے سب مؤمنین نکل کھڑے ہوں، پھر کیوں نہ ہر گروہ میں ایک جماعت نکلے تا کہ وہ دین کی سمجھ پیدا کریں اور جب وہ واپس آئیں تو اپنی قوم کو ڈرائیں تا کہ وہ ہلاکت سے بچے رہیں۔

خداوند کریم نے اس آیت میں:

(1)لفظ "لولا" کے ذریعے مومنین کو ترغیب دی ہے کہ ان میں سے ایک جماعت دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے نکلے؛(2)اس جماعت پر واجب ہے کہ وہ واپسی پر مؤمنین کو انذار (ڈرانا) کرے ۔(3) جس چیز سے انذار کیا گیا اسے جان لینے بعد حکم الہی کی وجہ سے اس پر عمل کرتے ہوئے بچنا واجب ہے اگر ایسا نہ ہو تو وجوب انذار کی لغویت لازم آتی ہے نیز عرف وجوب انذار اور انذار کے بعد بچنے کے درمیان ملازمے کا لحاظ کرتا ہے ۔(4) مجتہد کا فتوی اس انذار کا ایک مصداق ہے ۔لہذا اس پر عمل کرنا بھی واجب ہے تا کہ اس پر عمل کر کے مخالفت الہی سے بچا جائے ۔[40]۔

  • فَسـئَلوا اَهلَ الذِّكرِ اِن كُنتُم لاتَعلَمون[41]

پس اگر تم نہیں جانتے ہو تو تم اہل ذکر سے سوال کرو۔ خدا وند کریم نے جہالت کی صورت میں اہل ذکر (یعنی علماء) سے سوال کرنے کا وجوبی حکم دیا ہے اور آیت کا ظاہر یہ ہے کہ سوال کرنا عمل کیلئے مقدمہ ہے پس آیت کا یہ معنی ہے کہ تم اہل ذکر سے سوال کرو تا کہ ان کے جواب کے مطابق عمل کرو ۔یہاں یہ کہنا کہ آیت میں تو صرف سوال کرنے حکم دیا گیا ہے اس پر عمل کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ، یہ درست نہیں کیونکہ اہل ذکر سے صرف سوال کرنے کا حکم دینا اور انکے جواب پر عمل کرنے کا وجوبی حکم نہ ہو تو ایسے سوال کرنے کا حکم دینا لغو اور عبث ہے اور خدا کا عبث کام کا حکم دینا قبیح ہے ۔ پس عالم کا فتوی جاہل کیلئے حجت ہے اگر وہ حجت نہ ہو تو جاہل کو عالم سے سے پوچھنے کا حکم دینے کا لغو ہونا لازم آتا ہے ۔شان نزول کی وجہ سے صرف اہل کتاب کے علماء مراد لینا درست نہیں جیسا کہ شان نزول میں ذکر کیا گیا ہے چونکہ شان نزول مخصص نہیں ہوتا ہے نیز یہ کہنا کہ : آیت کہہ رہی کہ نہ جاننے کی صرت میں اہل ذکر سے پوچھو تا کہ تمہیں علم حاصل ہو جائے ،بھی صحیح نہیں ہے کیونکہ یہ فہم عرفی کے خلاف ہے چونکہ یہاں جاہل کا عالم کی طرف رجوع کرنا مریض کے ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنے کی مانند ہے۔ مریض کا ڈاکٹر کی طرف رجوع کرنے سے مقصود صرف بیماری کو جاننا نہیں ہوتا بلکہ ڈاکٹر کے بتائے ہوئے کے مطابق عمل کرنا مقصود ہوتا ہے ۔[42]

احادیث

تقلید کے جواز اور فروعات دین میں فتوے کی حجیت پر تواتر اجمالی کی حد تک روایات مذکور ہیں ۔ان روایات کے مختلف گروہ ہیں ۔[43]

پہلا گروہ ایسی روایات کا ہے جن میں لوگوں کو مخصوص افراد مثلا عمری ، اس کے بیٹے ، یونس بن عبد الرحمن ،زکریا بن آدم ،وغیرہ کی طرف یا ایسے عنوان ذکر کیے گئے ہیں جو ان پر صادق آتے ہیں، رجوع کرنے کا حکم دیا گیا ہے مثلا :

  • علی بن مسیب نے حضرت امام رضا سے عرض کیا : میرا گھر یہاں سے دور ہے۔ میرے لئے ہر وقت آپ تک رسائی حاصل کرنا ممکن نہیں ہے میں دین کس سے لوں ؟ تو آپ نے ارشاد فرمایا :زکریا بن آدم قمی سے پوچھو اس کا دین اور دنیا دونوں محفوظ ہیں ۔

دوسرا گروہ :ایسی روایات کا ہے جن میں آئمہ نے اپنے اصحاب کو واضح طور فتوی دینے کا حکم دیا ہے جیسے : امام نے ابان بن تغلب کو کہا : تم مدینے کی مسجد میں بیٹھو اور لوگوں کیلئے فتوی دو کیونکہ میں اپنے شیعوں میں تمہارے جیسے شیعہ دیکھنے کو بہت زیادہ دوست رکھتا ہوں۔[45] معاذ بن مسلم نحوی سے حضرت امام جعفر صادق ؑ نے کہا : مجھے خبر ملی ہے کہ تم جامعہ مسجد میں بیٹھ کو لوگوں کیلئے ھتوے دیتے ہو ۔معاذ نے جواب دیا : جی ہاں ایسا ہی ہے میرا ارادہ تھا کہ میں آپ سے رخصت ہونے سے پہلے آپ سے اس کے بارے میں سوال کروں ؛ میں مسجد میں بیٹھتا ہوں جب مخالفین میں کوئی شخص مجھ سے سوال کرتا ہے تو جیسے اس مسلک کے لوگ کرتے ہیں میں اسے وہی بتاتا ہوں اور جب کوئی آپ کے محبین میں سے آتا ہے کہ جسے میں جانتا ہوں تو میں اسے وہی بتاتا ہوں جو کچھ مجھے آپ کی جانب سے پہنچا ہوتا ہے اور جب کوئی ایسا شخص آجائے جسے کے حالات سے میں واقف نہیں تو میں اسے کہتا ہوں فلاں نے یہا فلان نے یہ کہا فلاں نے یہ کہا اس کے درمیان آپ کا حکم بھی بیان کر دیتا ہوں۔معاذ کی یہ بات سن کر امام نے ارشاد فرمایا : ایسا ہی کیا کرو کیونکہ میں بھی ایسے ہی کرتا ہوں ۔[46]

فتوے کی حجیت پر دلالت کرنے میں ان دونوں گروہوں کی روایات کی دلالت میں کوئی مشکل نہیں کیونکہ اگر فتوے پر عمل کرنا واجب نہ تو امام کا لوگوں کو ان کی رجوع کرنے اور فتوی دینے کا حکم دینا ایک لغو کام ہو گا ۔

تیسرا گروہ: ایسی روایات کا ہے جن میں علم کے بغیر فتوی دینے اور قیاس ،استحسان وغیرہ کے ذریعے قضاوت کرنے سے منع کیا گیا ہے ایسی روایات کی کثیر تعداد موجود ہے ۔ گویا آئمہ طاہرین کی یہ روایات ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق فتوی دینے کے جواز کو بیان کرتی ہیں۔

سیرت عقلا

دنیا کے عقلاء کی سیرت رہی ہے کہ جاہل عالم کی طرف رجوع کرتا ہے اسی طرح مریض علاج کیلئے طبیب کی طرف رجوع کرتا ہے۔ جب عقلاء کی یہ سیرت رہی اور شارع کی طرف سے کوئی ممنوعیت بھی نہیں آئی ہے تو اس سے کشف کرتے ہیں کہ اس نے اس کی اجازت دی ہے اور وہ اس رجوع پر راضی ہے ۔

اعتراض :عقلاء کی یہ سیرت اور عمل اس وقت حجت ہے جب اس پر شارع کی رضایت موجود ہو اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب یہ سیرت نسل عن نسل آئمہ کے زمانے تک منتہی ہوتی ہو جبکہ یہ سیرت آئمہ کے زمانے تک منتہی نہیں ہوتی ہے کیونکہ علم فقہ ہمارے زمانے کے علوم نظری میں سے ہے کہ جس میں فقیہ اپنے اجتہاد کے ذریعے ایک ظنی حکم کو حاصل کرتا ہے لہذا جاہل اس عالم کی طرف رجوع کرتا ہے کہ جس کا علم ظنی اجتہاد پر موقوف ہوتا ہے جبکہ اصحاب آئمہ کا علم وجدانی ہوتا تھا چونکہ وہ آئمہ سے خود ملاقات کے ذریعے علم حاصل کرتے تھے لہذا اصحاب آئمہ کا آج کے زمانے کی مانند اجتہاد ظنی نہیں تھا اس وجہ سے ان کے زمانے کے جاہل کا عالم کی طرف رجوع بھی آج کے زمانے کے جاہل کے عالم کی طرف رجوع کی مانند نہیں ہے ۔ پس جس سیرت کے آپ مدعی ہیں وہ آئمہ کے زمانے میں موجود نہیں ہے اور جو سیرت آئمہ کے زمانے میں موجود تھی اور اس پہ آئمہ کی رضایت موجود تھی وہ آپ کے پاس نہیں ہے اس وجہ سے اس سیرت پہ شارع کی رضایت موجود نہیں ہے ۔ پس یہ سیرت عقلاء آئمہ کی رضایت کے نہ ہونے کی وجہ سے قابل استدلال نہیں ہے ۔

جواب : مذکورہ اعتراض کا جواب دینے کیلئے ضروری ہے کہ دو امور کو ثابت کیا جائے یا کم از کم ایک امر کو ثابت کیا جائے ۔ پہلا امر:ہمارے زمانے کا رائج اجتہاد آئمہ کے زمانے کے اجتہاد سے مختلف نہیں تھا اور عوام کی سیرت تھی کہ وہ علماء کی طرف رجوع کرتے تھے نیز آئمہ نے بھی اپنے اصحاب کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دی ہے۔ دوسرا امر:آئمہ کی طرف سے لوگوں کے اذہان میں راسخ اس بات :جہالت کی صورت میں عالم کی طرف رجوع کرنے کی، ممانعت ثابت نہ ہو ۔

  • پہلا امر

آئمہ کے زمانے کا اجتہاد آج کے زمانے کے اجتہاد کی مانند

اس پر بہت سی روایات کی اقسام دلالت کرتی ہیں کہ آئمہ کے زمانے کا اجتہاد ہمارے زمانے کے اجتہاد کی مانند تھا یا اس کے قریب تھا ۔ مثلا قوانین کی احادیث جیسے: انما علینا ان نلقی الیکم الاصول و علیکم ان تفرعوا[47]ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم اصول بیان کریں اور تم پر ضروری ہے کہ تم ان سے فروعات اخذ کرو۔ علینا القاء الاصول و علیکم التفریع [48] ہماری ذمہ داری اصول بیان کرنا اور تمہاری ذمہ داری اس کی فرعیں بنانا ہے ۔ لا تنقض الیقین بالشک[49]۔اپنے یقین کو شک کے ساتھ مت توڑو۔ رفع عن امتی تسعه.....۔میری امت سے نو چیزوں کی جواب دہی اٹھا لی گئی ہے ........ ان جیسی قوانین کی احادیث ہیں جن سے علماء نے کثیر تعداد میں فروعات اخذ کی ہیں اور یہ بات امام صادق ؑ اور امام رضا ؑ کے زمانے میں رائج تھی اور ہمارے زمانے میں صرف قلت اور کثرت کے فرق کے ساتھ رائج ہے نیز ہمارے زمانے کے مجتہدین اسی پر عمل کرتے ہیں ۔

کچھ ایسی احادیث ہیں جن میں متشابہات کو محکمات کی طرف لوٹانے کا حکم دیا گیا ہے مثلا : من رد متشابہ القرآن الي محكمه فقد ھدی الی صراط مستقیم ثم قال : ان فی اخبارنا محکما کمحکم القرآن ، متشابھا کمتشابہ القرآن ، فردوا متشابھھا الی محکمھا ، و لا تتبعوا متشابھھا دون محکمھا فتضلوا[50]جس نے متشابہ کو محکمہ کی طرف پلٹایا تو اس نے صراط مستقیم کی طرف ہدایت کی ہے۔ پھر فرمایا :ہماری احادیث بھی قرآن کی مانند متشابہ اور محکمات ہیں پس تم متشابہ کو محکمات کی طرف لوٹاؤ اور محکمات (کی طرف لوٹائے) بغیر متشابہ کی پیروی نہ کرو اگر ایسا کرو گے تو گمراہ ہو جاؤ گے۔ واضح سی بات ہے کہ متشابہ کو محکم کی طرف پلٹانا دو کلاموں میں سے ایک کو دوسرے پر قرینہ قرار دینا صرف اجتہاد کے ذریعے ہی ممکن ہے ۔

معانی الاخبار میں ارشاد ہے: انتم افقہ الناس اذا عرفتم معانی کلامنا ،ان الکلمه لتنصرف علی وجوہ ، فلو شاء انسان لصرف کلامہ کیف شاء ولا یکذب[51]

اسی طرح بنی فضال کے بارے میں امام کا یہ قول خذوا ما رووا و ذروا ما راوا[52]۔بنی فضال جو روایت کرتے ہیں اسے لے لو اور ان کے نظریات کو چھوڑ دو۔ یہ حدیث اس بات کو بیان کرتی ہے کہ بنی فضال کے نظریات احادیث کے علاوہ تھے اور وہ باطل نظریات تھے اور حدیث کے اطلاق سے صرف اصول عقائد مراد لینا درست نہیں ہے ۔

بعض ایسی روایات ہیں جو قرآن سے استنباط کی کیفیت کو بیان کرتی ہیں جیسے :زرارہ کا سر اور پاؤں کے کچھ حصے کا مسح کرنا کیسے جان لیا آپ نے مسکرا کر فرمایا :اے زرارہ !ارشاد پروردگار ہے فاغسلوا وجوھکم اس سے جان لیا مکمل چہرہ دھونا چاہئے ۔پھر ارشاد ہوا ایدیکم الی المرافق پس ہاتھوں کو چہرے کے ساتھ ملایا اور اس سے ہم نے جان لیا کہ ہاتھوں کو کہنیوں تک دھونا چاہئے ۔پھر ارشاد ہوا و امسحوا برؤسکم تو ہم نے لفظ برؤسکم کی با سے جان لیا کہ مسح کچھ حصہ کا کرنا چاہئے.....لوگوں نے رسول خدا کی اس تفسیر کو ضائع کر دیا ہے ۔

یہ تمام احادیث کی اقسام اس بات کو بیان کرتی ہیں کہ آئمہ معصومین کے زمانے اور ہمارے زمانے کے اجتہاد میں کوئی فرق نہیں ہے ۔

آئمہ طاہرین کا لوگوں کو فقہاء کی طرف رجوع کرنے کا حکم دینا:

بہت سی روایات میں آئمہ طاہرین نے اپنے اصحاب کی طرف سائلین کو رجوع کرنے کا حکم دیا ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے اس زمانے میں لوگوں کے درمیان یہ چیز رائج تھے جیسے :

مقبولہ عمر بن حنظلہ کا ظاہری معنی اسے بیان کرتا ہے کہ امام نے شبہ حکمیہ اجتہادیہ میں لوگوں کو فقہاء کی طرف رجوع کرنے کا حکم دیا۔ ابی خدیجہ کی روایت بھی اسی کی مانند ہے ۔نیز آیۃ النفر کے ذیل میں آنے والی حديث بھی اسی زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ان احادیث میں جب امام سے جھگڑے کی صورت کا پوچھا گیا تو امام نے فرمایا ایسے شخص کو حاکم قرار دو جو ہماری حلال اور حرام کی احادیث کو جانتا ہو اور ہمارے احکام کی معرفت رکھتا ہو پھر کہا جب وہ ہمارے حکم کے مطابق فیصلہ کر دے تو کوئی اسے قبول نہ کرے تو اس نے ہمیں رد کیا ہے ۔[53]

اما الحوادث...... کی توقیع اسی کو بیان کرتی ہے ۔

شعیب عقرقوفی نے امام جعفر صادق ؑ سے سوال کیا جب ہمیں کسی چیز کی ضرورت پیش آئے توو ہم کسسے پوچھیں تو آپ نے فرمایا : ابو اسدی سے پوچھو یعنی ابو بصیر اسدی سے ۔[54]۔نیز اس سے پہلے علی بن مسیب ہمدانی کی حدیث بھی گزر چکی ہے ۔ان تمام احادیث سے اس پتہ چلتا تھا اس زمانے میں بھی لوگوں کے ذہن یہ بات راسخ تھی کہ علماء کی طرف رجوع کرنا ہے پس انہوں نے امام سے اس سلسلے میں سوال تو کیا امام نے ایک باوثوق اور مامون شخص کی طرف انکی راہنمائی کی ہے۔

  • دوسرا امر:

آئمہ طاہرین کی طرف اس سیرت کی مخالفت کے ثابت نہ ہونے سے ہم کشف کرتے ہیں کہ آئمہ اس سیرت پر راضی تھے ۔کیونکہ کسی بھی چیز سے جاہل کا اس چیز کے عالم کی طرف رجوع کرنا ہر ایک کیلئے ایک واضح اور بدیہی امر ہے ۔ آئمہ جانتے تھے کہ زمانۂ غیبت میں علمائے شیعہ کیلئے امام سے اتصال ممکن نہیں لہذا ان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارۂ کار نہیں کہ وہ اصول، جوامع اور احادیث کی کتب کی طرف رجوع کریں جیسا کہ روایات میں مذکور ہے اور شیعہ عوام اس سیرت عقلائی کی بنا پر خواہ نخواہ ان علماء کی طرف رجوع کریں گے کہ جو ان کے ذہنوں میں راسخ ہو چکی ہے اور ہر کوئی اس سے آگاہ ہے ۔پس اگر وہ اس سیرت سے راضی نہیں تھے تو ان پر اس عدم رضایت کا اظہار کرنا ضروری تھا ۔[55]

اثبات اجتہاد کے راہ

پہلا: انسان کو خود کسی کے اجتہاد کا یقین ہو جیسے تقلید کرنے والا اہل خبرہ(آگاہ اور ماہر) میں سے ہو اور اسے کسی کے اجتہاد کا علم ہو۔دوسرا:اہل خبرہ میں سے دو شخص کسی کے اجتہاد کی گواہی دیں جبکہ دوسرے دو اشخاص دیگر اس کے اجتہاد کی نفی نہ کرتے ہوں۔تیسرا:کسی کے اجتہاد کا شیوع[56] ہو جائے کہ جو یقین کا موجب بنے ۔[57] اعلم مجتہد کی تشخیص بھی ان ہی تین طریقوں کے ذریعے کی جاتی ہے ۔

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب ج2 ص 133
  2. محمد بن ادیس شافعی، الرساله، صفحہ ۴۷۶
  3. مقدمہ ابو مجتبی، النص والاجتہاد عبد الحسین شرف الدین موسوی ص ۱۵
  4. محمد تقی حکیم ، الاصول العامۃ للفقہ المقارن ص ۵۶۴
  5. الفقہ الاسلامی المقارن ،جمال عبد الناصر ج ۳ ص ۹
  6. تاریخ التشریع الاسلامی،خضری بک، ص ۶۲
  7. اللمع فی اصول الفقہ ، ابو اسحاق شیرازی
  8. الاحکام فی اصول الاحکام ،آمدی،ج4 ص 162َ
  9. المدخل الی مذہب الامام احمد بن بن حنبل،عبد القادر بدران ج1 ص191
  10. المقاصد عند الشاطبی دراسۃ اصولیۃمحمود فاعور ج2 ص8
  11. من نصب نفسہ للقیاس لم یزل دہرہ فی التباس و من دان اللہ بالرائ لم یزل دہرہ فی ارتماس ۔اصول کافی ،کلینی ج۱ باب البدع والرای والمقاییس ص 109
  12. وسائل الشیعہ ، حرعاملی ،ج26 ص59 ش33194
  13. لا تقیسوا الدین فان امر اللہ لا یقاس و سیاتی قوم یقیسون و ہم اعداء الدین ۔وسائل الشیعہ، حر عاملی، ج27 ص52 ش33186۔
  14. یا نعمان!ایاک والقیاس فان ابی حدثنی عن ابیه رسول اللہ: من قاس شیئا من الدین برایه قرنه اللہ مع ابلیس فی النار فان اول من قاس ابلیس حین قاس قال :خلقتنی من نار و خلقتہ من طین ، فدعوا الرائ و القیاس و ما قال قوم لیس لہ فی دین اللہ برھان فان دین اللہ لم یوضع بالاراء و المقاییس۔علل الشرایع ، شیخ صدوق ،ج1 ص89
  15. موسوعہ الفقہی،جمال عبد الناصر، ج ۳ ص ۹
  16. اصول الفقہ، محمد خضری بک ،ص۳۱۱ ۔
  17. نجم 3،4
  18. صحیح بخاری ،کتاب مغازی باب مرجع النبی الی الاحزاب؛ صحیح مسلم کتاب الجہاد السیر، حدیث نمبر ۱۷۶۹؛ تاریخ اسلام ذہبی ج۲ ص ۱۶۶؛ سیرہ ابن ہشام ۳/۲۶۷ا؛ور البدایۃ و النہایۃ ج۴ ص ۱۱۷
  19. تاریخ اسلام ذہبی ج۲ ص ۱۷۰ و ۱۷۱ ؛ صحیح بخاری کتاب مغازی باب مرجع النبی من الاحزاب؛ صحیح مسلم ۱۷۶۸ کتاب الجہاد و السیر
  20. كتاب التفسير، عیاشی ،ج‏1، ص: 302
  21. اصول کافی، کلینی ج۲ ص ۶۲ ۔
  22. رسائل المرتضى،سید مرتضی ،ج2 ص 262۔
  23. کفایۃ الاصول،اخوند خراسانی،ص463؛ معالم الدين وملاذ المجتهدين، ابن الشهيد الثاني،ص238.
  24. الأصول العامة للفقه المقارن،تقی حکیم ،ص 563۔
  25. كتاب الاجتهاد والتقليد، سید خوئی،ص27؛کفایہ الاصول، خراسانی، ص 463۔
  26. كتاب الاجتهاد والتقليد، سید خوئی،ص27۔
  27. زبدۃ البیان ،شیخ بہائی،164۔
  28. عناية الأصول في شرح كفاية الأصول،فیروز حسینی،ج 6 ص188۔ دانشنامۂ جہان اسلام ،غلام علی حداد عادل ج 7 ص 792 تا 794
  29. دانشنامۂ اسلام ،غلام علی حداد عادل، ج7 ص 792
  30. الموسوعۃ الفقہیہ ،محمد علی انصاری،ج1 ص477۔
  31. العروۃ الوثقی، سید یزدی ، ج1 ص12۔
  32. مستمسک العروۃ الوثقی، سید حکیم ،ج1 ص 6۔
  33. مستمسک العروۃ الوثقی، سید حکیم ،ج1 ص 7۔
  34. التنقیح ، سید خوئی ،ص12۔
  35. الموسوعۃ الفقہیہ ،محمد علی انصاری،ج1 ص477۔الاجتہاد و التقلید (ہدایہ الابرار الی طریقہ آئمہ الاطہار)،شہاب الدین کرکی، ص204۔
  36. الموسوعۃ الفقہیہ ،محمد علی انصاری،ج1 ص482۔
  37. موسوعہ الفقیہ، محمد علی انصاری۔ ج1 ص482۔
  38. کفایہ الاصول ، اخوند خراسانی ،ج2 ص428۔
  39. سورہ توبہ 122۔
  40. مدارک العروۃ الوثقی ،بیار جمندی،ج1 ص 6۔
  41. سورہ نحل 43 ؛ سورہ انبیاء 7۔
  42. التنقیح فی شرح العروۃ الوثقی ، الاجتہاد و التقلید ص 88 و 89۔
  43. التنقیح فی شرح العروۃ الوثقی ، الاجتہاد و التقلید ص91۔
  44. وسائل الشیعہ،حر عاملی،ابواب صفات قاضی باب 11۔
  45. رجال نجاشی ،نجاشی ،ص10۔
  46. اختیار معرفۃ الرجال ،شیخ طوسی ،ج2 ص 524 ش 470۔
  47. مستطرفات السرائر، ابن ادریس حلی ،575۔
  48. مستطرفات السرائر، ابن ادریس حلی ،575۔
  49. وسائل الشیعہ ، حر عاملی ،نواقض الوضو،باب 1
  50. عیون اخبار الرضا ،شیخ صدوق،ج1 ص 290 ش39۔
  51. معانی الاخبار ،شیخ صدوق،ج1 ص1۔
  52. الغیبۃ ،شیخ طوسی ،239۔
  53. تہذیب الاحکام ،شیخ طوسی، ج6 ٍ301،ش845و ص 303،ش846
  54. وسائل الشیعہ، حر عاملی ، ج27،ص142،ش15۔
  55. امام خمینی کی کتاب الاجتہاد و التقلید سے سیرت عقلاء کی دلیل کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے ۔
  56. کسی کے اجتہاد کی شہرت لوگوں(بعض نے لوگوں کی بجائے متشرعین کی قید ذکر کی ہے ۔رک:موسوعۃ الفقیہ، محمد علی انصاری ج1 ذیل طرق اثبات اجتہاد)کے درمیان اس قدر ہو جائے کہ جو اطمینان اور وثوق کا باعث بنے ۔ معجم الفاظ الفقہ الجعفری،ڈاکٹر احمد فتح اللہ ، ص249
  57. العروة الوثقى، السيد اليزدي ج1 ص 23۔