سریہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

سَريِّہ یا بعث، رسول خدا کے دور کی ان جنگوں کو کہا جاتا ہے جن میں آپ (ص) نے شرکت نہیں کی اور اپنی جگہ فوج کا سپہ سالار کسی صحابی کو بنا کر بھیجا۔

معنا

سریہ کے وجہ تسمیہ میں دو احتمال بیان کئے جاتے ہیں:[1]

  1. «سریہ» ایسی سپاہ کیلئے بولا جاتا ہے جس کی نہائی تعداد چار سو تک پہنچتی ہو عبارت دیگر چنی ہوئی یا تجربہ کار سپاہ۔
  2. ایسا مخفی گروہ جسے مخفی طور پر کسی مشن پر بھیجا جائے۔

البتہ کہا گیا ہے کہ دوسرا احتمال درست نہیں کیونکہ «سرّ» لغوی اعتبار سے «سَرِی» کا غیر ہے۔

تعداد سریات

ابن اسحاق کہتا ہے: رسول اللہ کے بعوث اور سریات کی کل تعداد اڑتیس کے لگ بھگ تھی۔ مسعودی ایک جماعت سے پینتیس بعوث اور طبری سے سریات کی تعداد اڑتالیس نقل کرتا ہے۔ اور بعض سے چھیاسٹھ سریات و بعوث کی تعداد نقل کرتا ہے۔ طبرسی اعلام الوری میں چھتیس سریات لکھتا ہے۔[2]

نمبر نام سریہ تعداد مسلمان سپہ سالار تعداد دشمن سپہ سالار مقام تاریخ نتیجہ جنگ
1 سریہ عبداللہ بن جحش ۸ مہاجر عبداللہ بن جحش ۴ افراد عمروبن حضرمی نخلہ رجب، ۲ ہجری قتل مشرکین،پہلا مال غنیمت ہاتھ آیا
2 سریہ زید بن حارثہ ۱۰۰ سورا افراد زید بن حارثہ قافلہ قریش صفوان بنی امیہ قردہ ربیع‌الاول، ۲ ہجری علاقے سے مشرکین کا چلے جانا
3 سریہ ابی سلمہ ۱۵۰ افراد پیادہ اور سوار ابوسلمہ فرزند بنی اسد طلیحہ ---- ذی‌الحجہ، ۲ ہجری شکست، فرار بنی اسد
4 سریہ عبداللہ بن انیس جاسوسی دستہ عبداللہ بن انیس بنی لحیان خالد بن ابوسفیان نخیلہ ذی‌الحجہ، ۲ ہجری قتل خالد، بنی لحیان کا پراگندہ ہونا
5 سریہ عبداللہ بن عتیک ۱ شخص عبداللہ بن عتیک یہود خیبر نامعلوم خیبر ذیقعدہ، ۵ ہجری قتل ابی حقیق
6 سریہ عکاشہ ۴۰ افراد پیادہ عکاشہ بنی اسد قبیلہ بنی اسد نامعلوم غمر ربیع‌الاول، ۶ ہجری فرار بنی اسد،مال غنیمت ۲۰۰
7 سریہ محمد بن مسلمہ ۱۰ افراد محمد بن مسلمہ بنی ثعلبہ نامعلوم ذوالقصہ ربیع الاول، ۶ ہجری ----
8 سریہ ابن عبیدہ ۴۰ افراد ابوعبیدہ جراح بنی محارب نامعلوم ذوالقصہ ربیع الاول، ۶ ہجری ----
9 سریہ زید بن حارثہ ۴۰ افراد زید بن حارثہ بنی سلیم نامعلوم جموم ربیع‌الاخر، ۶ ہجری فرار مشرکین،گوسفند مال غنیمت
10 سریہ زید بن حارثہ ۴۰ افراد بنی سلیم کاروان قریش نامعلوم عیص جمادی‌الاول، ۶ ہجری کاروان کا اسیر ہونا
11 سریہ عبدالرحمن بن عوف ۱۵ افراد عبدالرحمن بنی کلب نامعلوم دومۃالجندل شعبان، ۶ ہجری بنی کعب کا اسلام لانا
12 سریہ ابی قتادہ ۵ افراد ابوقتادہ بطن افتحم نامعلوم بطن اضم(اضنحم) رمضان، ۸ ہجری مسلمانوں کی کامیابی
13 سریہ علی بن ابیطالب ۱۵۰ افراد علی(ع) محلہ آل حاتم نامعلوم قبیلہ طی ربیع‌الاخر، ۹ ہجری
فلس بت کی نابودی اور کامیابی
14 سریہ علی بن ابیطالب ۳۰۰ افراد علی(ع) مردم یمن ---- یمن رمضان، ۱۰ ہجری مکمل کامیابی
15 سریہ علی بن ابیطالب ۱۰۰ افراد علی(ع) قبیلہ سعد نامعلوم فدک شعبان، ۸ ہجری جنگ کے بغیر فتح
16 سریہ زید بن حارثہ ۱۰۰ افراد زید قبیلہ بدر ام قرند وادی‌القری شعبان، ۶ ہجری امیر بن زارع کا قتل، دشمن کی اسیری
17 سریہ عبداللہ بن رواحہ ۳۰ افراد عبداللہ قبیلہ امیر بن زارع امیر بن زارع وادی‌القری شوال، ۶ ہجری اسارت اور قتل ہونا
18 سریہ کرز بن جابر غبری ۲۰ افراد سوار کرز عرانیان نامعلوم ---- ---- دو مشرکوں کا قتل، ابوسفیان تک دسترسی نہ ہونا
19 سریہ عمرو بن امیہ نمیری ۲ افراد عمرو ابوسفیان ---- مکہ ---- دو مشرکوں کا قتل، ابوسفیان تک دسترسی نہ ہونا
20 سریہ عمر بن خطاب ۳۰ افراد عمر ----- ---- تربہ شعبان، ۷ ہجری جنگ کے بغیر واپسی
21 سریہ ابوبکر ---- ---- ---- ---- فدک شعبان، ۷ ہجری تادیب بنی کلاب
22 سریہ بشیر ۳۰افراد بشیر قبیلہ بنی‌مرہ ---- فدک ۷ ہجری چند مسلمانوں کا قتل، سپہ سالار کا زخمی ہونا
23 سریہ زبیر بن عوام ---- زبیر ---- ---- فدک ۷ ہجری زبیر کی فتح
24 سریہ غالب لیث ۱۳۰ افراد عالب ---- ---- نجد رمضان، ۷ ہجری مشرکوں کی فتح
25 سریہ بشیر سعد انصاری ۳۰۰ افراد بشیر ---- ---- یمن رمضان، ۷ ہجری تادیب بنی سُلَیم
26 سریہ ابی‌العوجا ۵۰ افراد ابو‌العوجا ---- ---- دیار بنی سلیم ذی‌الحجہ، ۷ ہجری مسلمانوں کی شکست
26 سریہ لیث چند افراد غالب جمعی از مشرکان نامعلوم کویہ صفر، ۸ ہجری فتح اور غنیمت کا حصول
27 سریہ غالب لیث ۲۰۰۰ افراد غالب بنی صرہ نامعلوم فدک صفر، ۸ ہجری فتح اور غنیمت کا حصول
28 سریہ شجاع بن وہب ۲۴ افراد غالب مشرکوں کی جماعت نامعلوم ---- ربیع‌الاول، ۸ ہجری تأدیب
29 سریہ کعب ۲۵ افراد کعب ---- ---- ذات اطلاح ---- تأدیب اور مال غنیمت
30 سریہ خبط ۳۰۰ افراد خبط جہنہ ---- ---- ربج، ۸ ہجری جنگ نہیں ہوئی
31 سریہ ابی قتادہ ۱۵ افراد ابوقتادہ حاضر ---- حضرہ رمضان، ۸ ہجری تأدیب، غنیمت گوسفند
32 سریہ حمزہ ۳۰ افراد مہاجرین حمزة بن عبدالمطلب ۳۰۰ افراد سوار ابوجہل‌ بن ہشام احمیص رمضان، ۱ ہجری جنگ نہیں ہوئی
33 سریہ عبیدہ بن حارث ۶۰ افراد عبیدہ بن حارث ۲۰۰ افراد سوار اور پیادہ ابوسفیان صحرای رابغ شوال، ۱ ہجری صرف ایک تیر سعد نے پھینکا
34 سریہ سعد بن ابی ‌وقاص ۳۰ مہاجرین سعد بن ابی‌وقاص ---- ---- خرار ذی‌القعدہ، ۱ ہجری فرار مشرکین
35 سریہ خالدبن ولید ---- ---- ---- ---- بحران ربیع‌الاول، ۱۰ ہجری ----
36 سریہ خالدبن ولید ---- ---- ---- ---- یمن ---- ----
37 سریہ اسامہ بن زید ---- ---- ---- ---- بلقاء موتہ صفر، ۱۱ ہجری ----[3]

سریات کے نام، ترتیب اور تاریخ

  1. سریہ «حمزہ بن عبدالمطلب» «عیص» کے پاس ساحل سمندر پر، - سال دوم بعد از غزوہ ابواء کے بعد، ہجرت کا دوسرا سال۔
  2. سریہ «عبیدہ بن حارث بن مطّلب» «ثنیہ المرّہ» سے نچلے علاقے میں-ایضا. [4]
  3. سریہ «سعد بن ابی وقاص» «جحفہ» میں پانی کا ایک مقام «خرّار» سریہ حمزہ کے بعد،ہجرت کا دوسرا سال.
  4. سریہ «عبد اللّہ بن جحش» مقام «نخلہ»- ماہ رجب میں ، بدر اولی کے بعد.
  5. سریہ «عمیر بن عدی» [5]- رمضان ہجرت کے دوسرے سال ۔
  6. سریہ «سالم بن عمیر» «أبی عفک» کے قتل کیلئے- شوال ہجرت کے دوسرے سال ۔
  7. سریہ «محمّد بن مسلمہ» «کعب بن أشرف» کے قتل کیلئے- ربیع الاول ہجرت کے تیسرے سال۔
  8. سریہ «زید بن حارثہ» «قردہ»- جمادی الآخر ہجرت کے تیسرے سال ۔
  9. سریہ «مرثد بن ابی مرثد غنوی»: «سریہ رجیع»- صفر،ہجرت کے چوتھے سال ۔ [6]
  10. سریہ «منذر بن عمرو»: سریہ «بئر معونہ»- صفر، ہجرت کے چوتھے سال۔ [7]
  11. سریہ «ابو سلمہ بن عبد الاسد» سرزمین «قطن»- محرّم، ہجرت کے چوتھے سال۔
  12. سریہ «عبد اللّہ بن انیس» جہنی «سفیان بن خالد بن نبیح ہذلی لحیانی» کے قتل کیلئے- محرّم، ہجرت کے چوتھے سال۔
  13. سریہ «عمرو بن أمیہ ضمری» اور «سلمہ بن أسلم بن حریش» مکہ میں «أبو سفیان» کے ساتھ-ہجرت کے چوتھے سال۔ [8]
  14. سریہ «أبو عبیدہ بن جرّاح» مقام «سیف البحر»- ذی الحجّہ ہجرت کے پانچویں سال۔[9]
  15. سریہ «عبد اللّہ بن عتیک» برای قتل «أبو رافع سلّام بن أبی الحقیق» رمضان،ہجرت کے چھٹے سال۔
  16. سریہ «محمّد بن مسلمہ» «قرطاء» کی جانب، «بنی بکر بن کلاب» محرّم، ہجرت کے چھٹے سال۔
  17. سریہ «عمر بن خطاب» از غزوہ لحیان مقام قارہ- ربیع الأول، ہجرت کے چھٹے سال۔
  18. سریہ «ہلال بن حارث مزنی» از غزوہ لحیان بر سر «بنی مالک بن فہر»- ربیع الأوّل، ہجرت کے چھٹے سال۔
  19. سریہ «بشر بن سویید جہنی» از غزوہ لحیان بر سر «بنی حارث بن کنانہ»- ربیع الأوّل، ہجرت کے چھٹے سال۔
  20. سریہ «سعد بن عبادہ جہنی مقام غمیم پر- ربیع الأوّل، ہجرت کے چھٹے سال۔
  21. سریہ «عکاشہ بن محصن أسدی» تا «غمر» آبگاہی از بنی أسد- ربیع الأوّل، ہجرت کے چھٹے سال۔
  22. سریہ «محمّد بن مسلمہ» «ذی القصّہ» کے ساتھ «بنی ثعلبہ» اور «بنی- عوال» کی وجہ سے- ربیع الآخر[10]
  23. سریہ «أبو عبیدہ بن جرّاح» عراق کے راستے میں «ذی القصّہ» کے ساتھ۔[11]
  24. سریہ «زید بن حارثہ» بہ «جموم»: سرزمین «بنی سلیم». [12]
  25. سریہ «زید بن حارثہ» بہ عیص- جمادی الأولی، ہجرت کے چھٹے سال۔.
  26. سریہ «زید بن حارثہ» بہ «طرف» - جمادی الآخرہ، ہجرت کے چھٹے سال۔.
  27. سریہ «زید بن حارثہ» بہ «حسمی» بر سر جذام- جمادی الآخرہ، ہجرت کے چھٹے سال۔
  28. سریہ «زید بن حارثہ» بہ «مدین».[13]
  29. سریہ «زید بن حارثہ» بہ «وادی القری» «أمّ قرفہ» پر ہوا- رجب ،ہجرت کے چھٹے سال۔.
  30. سریہ «علی بن ابی طالب (ع)» بہ «فدک» بر سر «سعد بن بکر»- شعبان سال ششم.
  31. سریہ «عبد الرحمن بن عوف» بہ «دومہ الجندل» بر سر «بنی کلب»- شعبان سال ششم.
  32. سریہ «ابو عبیدہ بن جراح» بہ دو کوہ «أجأ» و «سلمی».[14]
  33. سریہ «زید بن حارثہ» بہ «وادی القری»- رمضان سال ششم.
  34. سریہ «عبد اللّہ بن رواحہ» بہ «خیبر» [15].
  35. سریہ «عبد اللّہ بن رواحہ» بہ «خیبر» بر سر «یسیر بن رزام» یہودی- شوّال سال ششم.
  36. سریہ «کرز بن جابر فہری» بہ «ذی الجدر»- شوّال سال ششم.
  37. سریہ «عمر بن خطّاب» بہ «تربہ»- شعبان سال ہفتم.
  38. سریہ «أبو بکر» بہ «نجد» بر سر «بنی کلاب»- شعبان سال ہفتم.
  39. سریہ «بشیر بن سعد» بہ «فدک» بر سر «بنی مرّہ»- شعبان سال ہفتم.
  40. سریہ «زبیر بن عوام» بہ «فدک» بر سر «بنی مرّہ».
  41. سریہ «غالب بن عبد اللّہ لیثی» بہ «میفعہ» بر سر «بنی ثعلبہ» و «بنی عوال»- رمضان سال ہفتم.
  42. سریہ «بشیر بن سعد» بہ «یمن» و «جبار» در ناحیہ خیبر [16].
  43. سریہ «ابن أبی العوجاء» بر سر «بنی سلیم»- ذی الحجہ سال ہفتم.
  44. سریہ «عبد اللّہ بن أبی حدرد أسلمی» بہ «غابہ»- ذی حجّہ سال ہفتم.
  45. سریہ «محیصہ بن مسعود» بہ ناحیہ فدک- ذی حجّہ سال ہفتم.
  46. سریہ «عبد اللّہ بن أبی حدرد» بہ «إضم»- ذی حجّہ سال ہفتم.
  47. سریہ «غالب بن عبد اللّہ لیثی» بہ «کدید» بر سر «بنی ملوّح» [17] صفر سال ہشتم.
  48. سریہ «غالب بن عبد اللّہ لیثی» بہ «فدک» بر سر «بنی مرّہ»- صفر سال ہشتم.
  49. سریہ «کعب بن عمیر غفاری» بہ «ذات أطلاح» از سرزمین شام- ربیع الأوّل سال ہشتم.
  50. سریہ «شجاع بن وہب أسدی» بہ «سی»: آبی از «ذات عرق»- ربیع الأوّل سال ہشتم.
  51. سریہ «عیینہ بن حصن فزاری» بر سر «بنی العنبر».
  52. سریہ «قطبہ بن عامر بن حدیدہ» بہ «تبالہ» بر سر قبیلہ «خشعم» بعد از سریہ شجاع بن وہب.
  53. سریہ «مؤتہ»- جمادی الأولی سال ہشتم.
  54. سریہ «عمرو بن عاص»: سریہ «ذات السلاسل» آبی در آن طرف وادی القری بر سر «بلی» و «قضاعہ»- جمادی الآخرہ سال ہشتم.
  55. سریہ «أبو عبیدہ بن جرّاح»: سریہ «خبط» بر سر «جہینہ»- رجب سال ہشتم.
  56. سریہ «أبو قتادہ بن ربعی أنصاری» بہ «خضرہ» از سرزمین نجد، مسکن محارب بر سر «غطفان» شعبان سال ہشتم.
  57. سریہ «أبو قتادہ بہ «بطن إضم»- رمضان سال ہشتم [18].
  58. سریہ «خالد بن ولید» برای ویران کردن بتخانہ «عزّی».[19]
  59. سریہ «أبو عامر أشعری» بہ «أوطاس»- بعد از حنین.[20]
  60. سریہ «عمرو بن عاص» بہ «رہاط» برای ویران کردن بتخانہ «سواع»- رمضان سال ہشتم.
  61. سریہ «سعد بن زید أشہلی» بہ «مثلّل» برای ویران کردن بتخانہ «مناہ»- رمضان سال ہشتم.
  62. سریہ «خالد بن سعید بن عاص» بہ «عرنہ»- رمضان سال ہشتم.
  63. سریہ «ہشام بن عاص» بہ «یلملم»- رمضان سال ہشتم.
  64. سریہ «طفیل بن عمرو دوسی» برای خراب کردن بتخانہ «ذی- الکفّین» بت «عمرو بن حممہ دوسی»- شوّال سال ہشتم.
  65. سریہ «غالب بن عبد اللّہ» بر سر «بنی مدلج» (بعد از فتح مکہ).
  66. سریہ «عمرو بن أمیہ» بر سر «بنی الہذیل» [21] بعد از فتح مکہ.
  67. سریہ «عبد اللّہ بن سہیل بن عمرو» بر سر «بنی معیص» و «محارب بن فہر»- بعد از فتح مکہ.
  68. سریہ «خالد بن ولید» بر سر «بنی جذیمہ».
  69. سریہ «ضحّاک بن سفیان کلابی» بر سر «بنی کلاب»- ربیع الأوّل سال نہم.
  70. سری‌ہای کہ «ثمامہ بن أثال حنفی» را اسیر کرد. [22]
  71. سریہ «علقمہ بن مجزّز مدلجی» بہ بندر «شعیبہ»- ربیع الآخر سال نہم.
  72. سریہ «عکاشہ بن محصن أسدی» بہ جناب: سرزمین عذرہ و بلی -ربیع الآخر سال نہم.
  73. سریہ «علی بن أبی طالب» برای خراب کردن بتخانہ «فلس» از «بنی طیئ» ربیع الآخر سال نہم.
  74. سریہ «خالد بن ولید» بہ «دومہ الجندل» بر سر «أکید بن عبد الملک»- ربیع الآخر سال نہم.
  75. سریہ «خالد بن ولید» بر سر بنی حارث بن کعب- ربیع الآخر یا جمادی الأولی سال دہم.
  76. سریہ «أسامہ بن زید» بہ «أبنی» از ناحیہ «بلقاء»- صفر سال دہم.
  77. سریہ «خالد بن ولید» بر سر «بنی عبد المدان» در نجران - ربیع الأوّل سال دہم.
  78. سریہ «علی بن أبی طالب» بہ یمن [23]- رمضان سال دہم.
  79. سریہ «خالد بن ولید» بہ یمن [24].
  80. سریہ «اسامة بن زید» بہ سرزمین «بلقاء» و «أذرعات» و «مؤتہ»- صفر سال یازدہم.
  81. سریہ «بنی عبس».

بعض الفاظ کے معانی

مسعودی لکھتا ہے:

  • سرایا: تین سے لے کر پانچ سو افراد کا رات کو باہر جانا۔
  • سوارب: دن کے وقت ایک دستے کا باہر جانا۔
  • مناسر: پانچ سو سے زیادہ اور آٹھ سو سے کم افراد۔
  • جیش: آٹھ سو تک افراد۔
  • خشخاش:آٹھ سے زیادہ اور ہزار سے کم۔
  • جیش ازلم: ہزار افراد کی تعداد۔
  • جیش جحفل: چار ہزارافراد کی سپاہ۔
  • جیش جرّار: بارہ ہزار افراد کی سپاہ۔
  • جب سرایا اور سوارب باہر جانے کے بعد پراگندہ اور ٹولیوں میں بٹ جائیں، اگر چالیس سے کم ہوں تو «جرائد»،چالیس سے تین سو کے درمیان «مقانب»، تین سو سے پانچ سو کے درمیان «جمرات» کہلاتے ہیں۔ جب چالیس افراد کو بھیجتے تھے تو انہیں «عصبہ» کہتے تھے۔
  • «کتیبہ»: ایسی سپاہ جو بھیجی جائے لیکن پراگندہ نہ ہو۔
  • «حضیرہ»: دس سے کم افراد جنگ کیلئے بھیجے جائیں۔
  • «أرعن»: بڑا لشکر
  • «خمیس»: بڑا لشکر۔[25]

حوالہ جات

  1. النہایہ، ج ۲، ص ۱۵۹
  2. اعلام الوری، ص ۶۹- ۷۰.
  3. حسنی، ص۹۱-۹۳
  4. ان دو سریوں کے مقدم و موخر یا ایک ساتھ ہونے میں اختلاف ہے۔ بعض نے سریہ «عبیدہ» کو مقدّم اور بعض نے ایک ہی زمان لکھا۔
  5. جوامع السیرہ عمرو بن عدی (ص ۲۱، چاپ دار المعارف مصر) م. «عصماء» بنت «مروان» کے قتل کیلئے
  6. امتاع الاسماع، جلد ۱، صفحہ ۱۷۴
  7. امتاع الاسماع، جلد اول، صفحہ ۱۷۰.
  8. التنبیہ و الاشراف، ص ۲۱۳.
  9. التنبیہ و الاشراف، ص ۲۱۷
  10. التنبیہ و الاشراف: ربیع الاول (ص ۲۱۹، چاپ بیروت) م.سال کے چھٹی ہجری.
  11. احتمالاً تکرار است. م. ربیع الآخر، ہجرت کے چھٹے سال۔
  12. سیرہ النبی، ج ۴، ص ۲۸۴..- ربیع الآخر، ہجرت کے چھٹے سال۔
  13. سیرہ النبی، ج ۴، ص ۳۱۲.
  14. التنبیہ و الاشراف، ص ۲۱۸
  15. سیرہ النبی، ج ۴، ص ۲۹۲. یعقوبی، ص ۴۳۸
  16. ر. ک: سیرہ النبی، ج ۴، ص ۲۸۴. امتاع الاسماع، ص ۳۳۵.- در شوّال سال ہفتم
  17. سیرہ النبی، ج ۴، ص ۲۸۲. امتاع الاسماع، ص ۳۴۲- ۳۴۳.-
  18. از ۵۲- ۵۸: سیرہ النبی، ج ۴، ص ۲۹۶. یعقوبی، ص ۴۳۸
  19. انسان العیون، ج ۳، ص ۲۲۱
  20. انسان العیون، ج ۳، ص ۲۲۵
  21. در نسخہ اصل بر این گونہ است ولی صحیح: بنی دیل است. ر. ک: تاریخ یعقوبی ص ۴۳۷. اعلام الوری ص ۶۹- ۷۰.
  22. سیرہ النبی، ج ۴، ص ۳۱۵
  23. سیرہ النبی، ج ۴، ص ۳۱۹.
  24. سیرہ النبی، ج ۴، ص ۳۱۹
  25. آیتی، تاریخ پیامبر اسلام، ص ۲۸۳


مآخذ

  • آیتی، محمد ابراہیم، تاریخ پیامبر اسلام، تہران، دانشگاہ تہران، ۱۳۷۸ ش.
  • ابن اسحاق، سیرہ النبی، چاپ مصطفی الحلبی، ۱۳۵۵ ہ. م.
  • ابن اثیر، مبارک بن محمد، النہایہ فی غریب الحدیث و الأثر، قم، موسسہ مطبوعاتی اسماعیلیان، ۱۳۷۶ ق.
  • حسنی، علی اکبر، تاریخ تحلیلی صدر اسلام، تہران، انتشارات پیام نور.
  • طبرسی؛ فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی، تحقیق علی اکبر غفاری بیروت، دارالمعرفہ، ۱۳۹۹ ق.
  • مقریزی، احمد بن علی، امتاع الاسماع، بیروت، دار الکتب العلمیہ.
  • مسعودی، علی بن حسین، التنبیہ و الاشراف، تہران، شرکت انتشارات علمی فرہنگی، ۱۳۵۶ ش.