شرک

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحید توحید ذاتی • توحید صفاتی • توحید افعالی • توحید عبادی • صفات ذات و صفات فعل
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (افعال الهی)
حُسن و قُبح • بداء • امر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام  • اعجاز • عدم تحریف قرآن
امامت
اعتقادات عصمت • ولایت تكوینی • علم غیب • خلیفۃ اللہ • غیبتمہدویتانتظار فرجظہور • رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخ • معاد جسمانی • حشر • صراط • تطایر کتب • میزان
اہم مسائل
اہل بیت • چودہ معصومین • تقیہ • مرجعیت


شرک گناہان کبیرہ میں سے ہے جس کے معنی خدا کے لئے شریک قائل ہونے کے ہیں۔ شرک توحید کے مقابلے میں قرار پاتا ہے اسی بنا پر علماء اسے بھی توحید کی طرح ذاتی، صفاتی، افعالی اور عبادی میں تقسیم کرتے ہیں۔ اسی طرح شرک کو شرک جلی اور شرک خفی میں بھی تقسیم کرتے ہیں اور شرک جلی سے علم کلام جبکہ شرک خفی سے علم اخلاق میں بحث کی جاتی ہے۔
ہواپرستی، حس‌گرایی، شک و تردید اور جہالت کو شرک کے علل و اسباب میں سے قرار دئے جاتے ہیں۔ قرآن کریم میں حبط اعمال، غفران الہی سے محرومیت، بہشت سے دوری اور جہنم کا مستحق قرار پانے کو شرک کے آثار میں سے شمار کئے جاتے ہیں۔
ابن تیمیہ اور ان کی اتباع میں وہابی حضرات مذہبی شخصیات سے متوسل ہو کر ان سے شفاعت طلب کرنے کو شرک قرار دیتے ہیں؛ حالانکہ باقی تمام مسلمان خاص کر شیعہ حضرات ان ہستیوں سے متوسل ہونے کو شعائر دینی کا احترام قرار دیتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ مردوں سے متوسل ہونا صرف اس صورت میں شرک میں شامل ہوگا جب یہ کام ان ہستیوں کی عبادت اور بندگی کی قصد سے انجام دیا جائے۔ اسی طرح قرآن کی بعض آیات سے غیر خدا کا خدا کے اذن سے شفیع ہونا بھی ثابت ہوتا ہے۔

مفہوم شناسی

شرک کے معنی خدا سے مختص امور جیسے وجوب وجود، الوہیت، بندگی اور خالیقت وغیرہ میں دوسروں کو خدا کے ساتھ شریک قرار دینے کے ہیں[1] شرک توحید کے مقابلے میں ہے۔[2] البتہ آیت اللہ جوادی شرک کو ایمان کے مقابلے میں قرار دیتے ہوئے اس بات کے معتقد ہیں کہ شرک ہمیشہ توحید اور مؤمنین کے دائرے سے خارج ہونے کا موجب نہیں بنتا اسی بنا پر قرآن میں مشرک کا عنوان بت پرست،[3] اہل کتاب[4] اور بعض مواقع پر مؤمنوں[5] پر بھی اطلاق ہوا ہے۔[6]
مشرک اس شخص کو کہا جاتا ہے جو خدا کیلئے شریک یا غیرخدا میں خدا کے صفات پائے جانے یا خلقت کے کچھ امور غیر خدا کے سپرد کئے جانے کا قائل ہو یا خدا کے علاوہ بھی کسی کو امر و نہی[7] یا عبادت[8] کا سزاوار قرار دے۔

اہمیت اور منزلت قرآن و احادیث کی روشنی میں

قرآن کریم کی متعدد آیات میں شرک کی حقیقت بیان کرتے ہوئے اس سے منع کی گئی ہے۔ بعض آیات میں آیا ہے کہ مشرکین اپنے مشرکانہ ادعا پر کوئی دلیل و برہان نہیں رکھتے؛[9][نوٹ 1] بلکہ یہ لوگ وہم و گمان یا اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کرتے ہوئے ایسی بات کہہ دیتے ہیں۔[10] [نوٹ 2] سورہ نساء کی آیت نمبر 48 إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ(ترجمہ: اللہ اس بات کو معاف نہیں کرسکتا کہ اس کا شریک قرار دیا جائے اور اس کے علاوہ جس کو چاہے بخش سکتا ہے۔) کے مطابق شرک کے علاوہ باقی تمام گناہ معاف ہو سکتے ہیں (لیکن شرک نہیں)۔ بعض مفسرین اس آیت کی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ خدا کے نزدیک شرک سب سے بڑا گناہ ہے اگر یہ گناہ بخش دیا جائے تو باقی سارے گناہ بخش دئے جائیں گے۔[11] مفسرین اس آیت سے توبہ کو مستثنی قرار دیتے ہیں پس اگر کوئی مشرک بھی توبہ کے تو اس کی توبہ قابل بخشش ہے لیکن اگر توبہ کئے بغیر اس دنیا سے چلا جائے تو یہ شخص کبھی بھی نجات نہیں پائے گا۔[12] بعض احادیث میں بھی شرک کو سب سے بڑے گناہوں میں شمار کیا گیا ہے۔ عبداللہ بن مسعود نے پیغمبر اکرمؐ سے ایک حدیث نقل کی ہے جس میں خدا کے ساتھ شریک یا مثل قرار دینے کو سب سے بڑا گناہ قرار دیا گیا ہے۔[13]
امام علیؑ قرآن کی روشنی میں شرک کو چار قسموں شرک زبانی، شرک عملی، شرک زنا اور شرک ریا میں تقسیم کرتے ہیں۔ آپؑ شرک زبانی کو ثابت کرنے کیلئے آیت مجیدہ لَّقَدْ كَفَرَ الَّذِینَ قَآلُواْ إِنَّ اللَّـهَ هُوَ الْمَسِیحُ ابْنُ مَرْیمَ؛(ترجمہ: یقینا وہ لوگ کافر ہیں جن کا کہنا یہ ہے کہ مسیح علیہ السّلام ابن مریم ہی اللہ ہیں)[14] سے اور شرک عملی کو ثابت کرنے کیلئے آیات مجیدہ وَمَا یؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّـهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُونَ(ترجمہ: اور ان کی اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ)[15] اور اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّـهِ؛(ترجمہ: ان لوگوں نے اپنے عالموں اور راہبوں اور مسیح بن مریم کو خدا کو چھوڑ کر اپنا رب بنالیا ہے)[16] سے نیز شرک زنا کو ثابت کرنے کیلئے آیت وَ شارِكْهُمْ فِی الأَمْوالِ وَالأَوْلادِ؛(ترجمہ: اور ان کے اموال اور اولاد میں شریک ہوجا)[17] سے اور شرک ریا کو ثابت کرنے کیلئے آیتفَمَن کانَ یرْجُوا لِقاءَ رَبِّهِ فَلْیعْمَلْ عَمَلاً صالِحاً وَ لایشْرِکْ بِعِبادةِ رَبِّهِ أَحَدا؛(ترجمہ: لہذا جو بھی اس(خدا) کی ملاقات کا امیدوار ہے اسے چاہئے کہ عمل صالح کرے اور کسی کو اپنے پروردگار کی عبادت میں شریک نہ بنائے)[18] سے استفادہ کرتے ہیں۔[19]

مراتب

توحید کی طرح شرک کے بھی مراتب ہیں من جملہ وہ مراتب یہ ہیں:

  • شرک ذاتی؛ شرک کے اس قسم کے دو معنی ہیں؛ ایک یہ کہ خدا کی ذات کو دو یا چند چیزوں سے مرکب ہونے کا عقیدہ رکھنا۔[20] دوسرا یہ کہ مختلف خداؤوں کا عقیدہ رکھنا۔[21]
  • شرک صفاتی؛ اس بات کا اعتقاد رکھنا کہ خدا کی ذات اس کے صفات سے الگ ہیں اور خدا کے صفات اس کی ذات سے ہٹ کر مستقل وجود رکھتے ہیں۔[22]
  • شرک افعالی؛ شرک کی یہ قسم توحید افعالی کے مقابلے میں ہے اور توحید افعالی کی طرح یہ بھی خالقیت اور ربوبیت میں تقسیم ہوتی ہے۔
  1. خالقیت میں شرک؛ دو یا دو سے زیادہ خالق کے وجود پر اس طرح اعتقاد رکھنا کہ ان میں سے کوئی بھی دوسرے کے ماتحت نہ ہو۔ خیر اور شر کے علیحدہ علیحدہ خالق کا عقیدہ خالقیت میں شرک کے نمونوں میں سے ہے جس کے مطابق خالق خیر فقط خیرات کو جبکہ خالق شر مخلوقات شر کو خلق کرتا ہے۔[23]
  2. ربوبیت میں میں شرک؛ اس کی بھی دو قسم ہے:
    1. ربوبیت تکوینی میں شرک؛ یہ عقیدہ رکھنا کہ خدا نے کائنات کو خلق کیا ہے لیکن اس کی تدبیر اور نظم و نسق دوسرے خداؤں کے سپرد کی ہیں۔
    2. ربوبیت تشریعی میں شرک؛ غیر الہی قوانین کو قبول کرنا اور انہیں لازم الاجراء ماننا۔[24]
  • شرک عبادی؛ خدا کے علاوہ کسی اور شخص یا چیز کے سامنے بندگی اور خضوع و خشوع کا اظہار کرنا۔[25]

البتہ شرک کو نظری اور عملی میں بھی تقسیم کیا جاتا ہے اور عقاید سے مربوط امور جیسے خدا کی ذات، صفات، ربوبیت اور خالقیت میں شرک کے مرتکب ہونے کو شرک نظری جبکہ عبادات میں شرک کے مرتکب ہونے کو جو عمل کے ساتھ مربوط ہوا کرتا ہے، شرک عملی کہا جاتا ہے۔[26]

اقسام

اصل مضمون: شرک خفی

شرک ایک لحاظ سے شرک جَلی(آشکار) اور شرک خَفی(مخفی) میں تقسیم ہوتا ہے۔ شرک جلی خاص عبادی اعمال مانند رکوع، سجود اور قربانی وغیرہ کو خدا علاوہ کسی اور کیلئے اس کی الوہیت کا عقیدہ رکھتے ہوئے انجام دینے کو کہا جاتا ہے[27] جبکہ شرک خفی ہر قسم کی دنیاپرستی، ہواپرستی، ریا و... کو کہا جاتا ہے۔[28]امام صادقؑ سورہ یوسف کی آیت نمبر 106[نوٹ 3] کی تفسیر میں اگر فلان نہ ہوتا تو میں ہلاک ہو جاتا یا اگر فلان نہ ہوتا تو میں فلان مصیبت میں گرفتار ہو جاتا وغیرہ جیسے جملوں کو خدا کی حاکمیت میں شرک قرار دیتے ہیں۔[29] پیغمبر اسلامؐ شرک کو رات کی تاریکی میں چیونٹیوں کا صاف پتھر پر چلنے سے زیادہ مخفی قرار دیتے ہیں۔[30] شرک خفی سے غالبا علم اخلاق میں بحث کی جاتی ہے۔

علل و اسباب

شرک کے مختلف علل و اسباب بیان کی گئی ہیں:

  • شک و تردید کی پیروی: سورہ یونس میں خدا مشرکین سے مخاطب ہو کر فرماتے ہیں: "تم لوگ ہمیشہ شک و تردید کی پیروی کرنے کی وجہ سے شرک میں گرفتار ہو گئے ہو۔"[31]
  • حس‌ گرایی: عالم طبیعت کے ساتھ زیادہ مانوس ہونے کی وجہ سے بعض انسانوں کی معلومات صرف محسوسات تک محدود ہوتی ہیں اسی بنا پر وہ خدا شناسی جیسے امور کو بھی محسوسات کی حد تک تنزل دیتے ہیں۔[32]
  • جہالت: قرآن کریم خدا کیلئے شرک قائل ہونے کی علت کو جہل اور نادانی قرار دیتے ہیں۔[33]

اسی طرح حب دنیا، ہواپرستی، خدا سے غفلت، غلو، تعصب اور فاسد حکومتوں کو بھی قرآن کریم شرک کے علل و اسباب میں سے قرار دیتے ہیں۔[34]

انجام

قرآن کریم میں شرک کے مختلف انجام کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں:

  • بہشت سے محروم ہونا؛ سورہ مائدہ کی آیت نمبر 82 کے مطابق مشرک پر بہشت حرام قرار دی گئی ہے۔[35]
  • مغفرت الہی سے محروم؛ سورہ نساء کی آیت نمبر 48 اور 116 کے مطابق مشرک خدا کی مغفرت اور بخشش سے محروم ہوگا اور شرک کے علاوہ باقی گناہ قابل بخشش ہیں۔ [36][نوٹ 4].[37]
  • جہنم میں داخل ہونا؛ سورہ مائدہ کی آیت نمبر 82 کے مطابق مشرک کا مقام جہنم ہے۔[38]
  • حبط اعمال؛ شرک انسان کے نیک اعمال کے خاتمے کا سبب بنتا ہے۔[39] [نوٹ 5][40]

حکم شرعی

دین اسلام شرک کو حرام اور گناہان کبیرہ میں شمار کرتے ہیں۔[41] فقہا آیہ إِنَّمَا الْمُشْرِكُونَ نَجَسٌ فَلاَ يَقْرَبُوا الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ[42] سے استناد کرتے ہوئے مشرکوں کے نجس ہونے کا فتوی دیتے ہیں اور انہیں مسجد الحرام میں داخل ہونے سے منع کرتے ہیں۔[43]
شیخ طوسی کتاب النہایہ میں مسلمان مردوں کا مشرک عورتوں سے شادی بیاہ کو جائز نہیں سمجھتے لیکن یہودی اور نصرانی عورتوں سے متعہ کو جائز قرار دیتے ہیں۔[44]

وہابیوں کا شیعوں پر شرک کی تہمت

وہابی مردوں سے توسل، انبیاء اور اولیائے الہی سے استغاثہ، قبور اور مقدس چیزوں سے متبرک ہونے اور ان سے عالم برزخ میں شفاعت طلب کرنے کو شرک عبادی کے مصادیق میں شمار کرتے ہیں۔ ابن تیمیہ کا عقیدہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اور صالحین سے ان کی زندگی میں متوسل ہونے کو شرک نہیں سمجھتے لیکن ان کی موت کے بعد ان سے متوسل ہونے کو شرک قرار دیتے ہیں۔[45] ابن تیمیہ کے مطابق جو شخص بھی پیغمبر اکرمؐ یا کسی بھی اولیائے الهی کے قبر کے پاس جا کر ان سے حاجت مانگے تو یہ شخص مشرک ہے، اسے توبہ کرنے پر مجبور کیا جانا چاہئے اور توبہ نہ کرنے کی صورت میں اسے قتل کر دینا چاہئے۔[46] وہابی مفتی عبدالعزیز بن‌باز اپنی کتابوں میں اہل قبور سے دعا اور استغاثہ کرنا نیز بیماریوں سے شفا اور دشمن پر فتح و نصرت طلب کرنے کو شرک اکبر کے مظاہر میں سے قرار دیتے ہیں۔[47] وہابی مسلمانوں کے مذکورہ اعمال کو صدر اسلام کے مشرکوں کے اعمال جیسے بت پرستی وغیرہ کی طرح قرار دیتے ہیں۔[48]
وہابیوں کے ان تہمتوں کا جواب علمائے کرام یوں دیتے ہیں: مشرکین بتوں کی ربوبیت اور مالکیت پر عقیدہ رکھتے ہوئے ان کی پوجھا کرتے تھے جبکہ مسلمان مذکورہ اعمال کو اولیاء خدا کی ربوبیت اور مالکیت کے عقیدے کے ساتھ انجام نہیں دیتے بلکہ اولیاء الہی کے قبور پر جا کر ان سے طلب حاجت اور استغاثہ شعائر اللہ کی تعظیم کے عنوان سے انجام دیتے ہیں۔[49] اور ان اعمال کو انجام دینے والے مسلمان کبھی بھی ان مقدس ہستیوں کی بندگی اور عبادت کے قصد سے انجام نہیں دیتے، بلکہ ان کاموں سے ان کا مقصد ان ہستیوں کی تکریم اور ان کے توسط سے خدا سے تقرب حاصل کرنا ہے۔[50]
قرآن کریم کی متعدد آیات سے بھی یہ مطلب واضح اور آشکار ہے کہ غیر خدا سے شفاعت طلب کرنا براہ رست اور خدا کی اجازت کے بغیر ہو تو شرک اور حرام ہے؛[51] کیونکہ اس صورت میں یہ کام خدا کی ربوبیت اور تدبیر الہی میں شرک شمار ہوگا۔[52] اسی طرح قرآن کریم کی جن آیات سے وہابی استناد کرتے ہیں درحقیقت یہ آیات بتوں سے شفاعت طلب کرنے سے ممانعت پر دلالت کرتی ہیں اور پیغبروں اور الیاء الہی سے شفاعت طلب کرنا اور بتوں سے شفاعت طلب کرنے میں زمین اور آسمان کا فرق ہے کیوں مشرکین بتوں کی الوہیت اور ربوبیت کے عقیدے کے ساتھ ان سے شفاعت مانگتے ہیں جبکہ مسلمان کبھی بھی پیغمبروں اور اولیاء الہی کے معبود یا رب ہونے کے عقیدے کے ساتھ یہ کام انجام نہیں دیتے۔[53]

متعلقہ صفحات

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۰۵ش، ج۱، ص۲۲۳-۲۲۷.
  2. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۰ش، ج۶، ص۴۹.
  3. سورہ توبہ، آیہ 5؛ سورہ توبہ، آیہ 2.
  4. سورہ توبہ، آیات 30-31
  5. سورہ یوسف، آیہ 105.
  6. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۵۷۱.
  7. حسینی شیرازی، تقریب القرآن الی الاذہان، ۱۴۲۴ق، ج۲، ص۳۹۰.
  8. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۰ش، ج۶، ص۵۰.
  9. مکارم شیرازی، پیام قرآن، ۱۳۷۴ش، ج۳، ص۲۰۹-۲۱۰.
  10. مکارم شیرازی، پیام قرآن، ۱۳۷۴ش، ج۳، ص۲۱۱-۲۱۵؛ سورہ نجم، آیہ ۲۳ و سورہ انبیاء، آیہ ۲۴.
  11. قمی، تفسیر قمی، ۱۳۶۷ش، ج۱، ص۱۴۸.
  12. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۶۵
  13. محدث نوری، مستدرک الوسائل، ۱۴۰۸ق، ج۱۴، ص۳۳۲.
  14. سورہ مائدہ، آیہ 17.
  15. سورہ یوسف، آیہ 106
  16. سوره توبہ، آیہ 31.
  17. سورہ اسراء، آیہ 64.
  18. سورہ کہف، آیہ 110.
  19. مجلسی، بحارالانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۰، ص۶۱-۶۲.
  20. مصطفوی، التحقیق فی کلمات القرآن الکریم، ۱۳۶۰ش، ج۶، ص۴۹.
  21. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۵۷۸.
  22. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۵۷۸.
  23. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۵۷۹-۵۸۰.
  24. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۵۸۰-۵۸۳.
  25. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۵۸۱-۵۸۲.
  26. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۵۸۱-۵۹۵.
  27. آملی، تفسیر المحیط الاعظم، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۱۸۹-۱۹۰.
  28. جوادی آملی، توحید در قرآن، ص۵۹۱-۵۹۲.
  29. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۱۴۸.
  30. ابن شعبہ حرانی، تحف العقول، ۱۴۰۴ق، ص۴۸۷.
  31. سورہ یونس، آیہ 66.
  32. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۶۴۴.
  33. سورہ انعام، آیہ 100.
  34. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۶۳۵-۶۸۰.
  35. سورہ مائدہ، آیہ 82
  36. سورہ نساء، آیہ 116.
  37. سوره نساء، آیه ۴۸.
  38. سورہ مائدہ، آیہ 82
  39. سورہ زمر، آیہ65.
  40. جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۶۸۱-۶۹۱.
  41. سورہ نساء، آیہ 48۔
  42. سورہ توبہ، آیہ 28.
  43. فاضل لنکرانی، تفصیل الشریعہ، ۱۴۰۹ق، ص۲۰۶.
  44. شیخ طوسی، النہایہ، ۱۴۰۰ق، ص۴۵۷.
  45. ابن تیمیہ، مجموعۃالفتاوی، ۱۴۱۶ق، ج۱، ص۱۵۹.
  46. ابن تیمیہ، زیارۃ القبور والاستنجاد بالمقبور، ۱۴۱۲ق، ص۱۹.
  47. بن باز، «بعض الممارسات الشرکیۃ عند القبور».
  48. قفاری، اصول مذہب الشیعہ، ج۱، ص۴۸۰.
  49. سبحانی، آیین وہابیت، ص۴۱.
  50. استادی، شیعہ و پاسخ بہ چند پرسش، ۱۳۸۵ش، ص۸۴.
  51. سورہ طہ، آیہ ۱۰۹.
  52. استادی، شیعہ و پاسخ بہ چند پرسش، ۱۳۸۵ش، ص۸۴-۸۵.
  53. سبحانی تبریزی، مرزہای توحید و شرک در قرآن، ۱۳۸۰ش، ص۱۵۹؛ جوادی آملی، توحید در قرآن، ۱۳۹۵ش، ص۶۰۰-۶۰۰۴.


نوٹ

  1. «وَ مَنْ یدْعُ مَعَ اللَّـهِ إِلهاً آخَرَ لابُرْهانَ لَهُ بِهِ؛ اور وہ جو خدا کے ساتھ کسی اور کو بھی معبود قرار دیتے ہیں ان کے پاس (اس بات پر) کوئی دلیل نہیں ہے(سورہ مؤمنون، آیت 117)
  2. وَ ما یتَّبِعُ الَّذینَ یدْعُونَ مِنْ دُونِ اللَّـهِ شُرَكاءَ إِنْ یتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَ إِنْ هُمْ إِلاَّ یخْرُصُون؛ اور وہ لوگ جو خدا کے غیر کو اس کا شریک قرار دیتے ہیں، ایک بے بنیاد وہم گمان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ لوگ صرف جھوٹ بولتے ہیں۔(سورہ یونس، آیت 66)
  3. «وَمَا یؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّـهِ إِلا وَهُمْ مُشْرِكُون اور ان کی اکثریت خدا پر ایمان بھی لاتی ہے تو شرک کے ساتھ (سورہ یوسف، آیہ 106.)
  4. إِنَّ اللَّـهَ لَا يَغْفِرُ أَن يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَٰلِكَ لِمَن يَشَاءُ وَمَن يُشْرِكْ بِاللَّـهِ فَقَدِ افْتَرَىٰ إِثْمًا عَظِيمًا(سورہ نساء، آیہ 48).
  5. وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَلَتَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔(سورہ زمر، آیہ65.)

منابع

  • خرمشاہی، بہاء الدین، دانشنامہ قرآن و قرآن پژوہی، تہران، دوستان و ناہید، ۱۳۷۷ش.
  • طباطبائی، محمدحسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، مؤسسہ اعلمی، ۱۴۰۳ش.
  • صدرالمتالہین، تفسیر، قم، بیدار، ۱۳۶۱ش.
  • ابن منظور، محمد بن مکرم، لسان العرب، قم، ادب الحوزة، ۱۴۰۵ش.
  • سعیدی مہر، محمد، آموزش کلام اسلامی، قم؛ طہ، ۱۳۸۳ش.
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، تہران؛ صدرا، ۱۳۸۷ش.
  • گاتہا؛ سرودهای مینوی زرتشت، گزارش وحیدی، حسین، تہران؛ فرزین، ۱۳۷۶ش.
  • ہین لز، جان آر، فرہنگ ادیان جہان، ویراستہ ع. پاشایی، تہران، مرکز مطالعات و تحقیقات ادیان و مذاہب، ۱۳۸۵ش.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الأنوار، بیروت، مؤسسہ الوفاء ۱۴۰۴ق.
  • نوری، حسین، مستدرك الوسائل، قم، مؤسسہ آل البیت، ۱۴۰۸ق.
  • شیخ حر عاملی، وسائل الشیعہ، قم، مؤسسہ آل البیت، ۱۴۰۹ق.
  • مکارم شیرازی، ناصر، پیام قرآن، قم، مطبوعاتی ہدف، ۱۳۷۴ش.
  • مصباح یزدی، محمد تقی، خداشناسی در قرآن، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، ۱۳۸۴ش.
  • محمد بن عبدالوہاب، مجموعہ الفتاوی و الرسائل و الاجوبہ، بیروت، ۱۴۰۷ق.
  • عبدالرحمن ابن حسن آل الشیخ، فتح المجید (شرح کتاب التوحید)، بی­تا.
  • سبحانی، جعفر، الالهیات، به قلم محمد مکی عاملی، قم، قدس.
  • ربانی گلپائگانی، علی، عقائد استدلالی، قم، مؤسسہ امام صادق، ۱۳۸۰.