علم کلام

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

علم کلام علوم اسلامی کی ایک نہایت اہم شاخ ہے۔ یہ علم عقل کی روشنی میں اسلام کے بنیادی عقائد توحید،عدل، نبوت،قیامت و غیرہ کی وضاحت ، اثبات اور ان عقائد پر ہونے والے اعتراضات اور شبہات کا جواب دیتا ہے ۔اس علم میں توحید اور اسکے متعلقہ مسائل پر خصوصی توجہ دی گئی ہے ۔اس علم کے متخصص کو متکلم کہتے ہیں ۔علم کلام کے مختلف ادوار میں معتزلہ، اشاعرہ اور شیعہ متکلمین اور ماتریدیہ گروہوں کے نام قابل ذکر ہیں۔

تعریف

لغوی اعتبار سے کلام "ک ل م" سے لیا گیا ہے نیز کلم دو معنی کیلئے آتا ہے 1:با معنی بات پر دلالت کرتا ہے[1]۔2:زخم پر دلالت کرتا ہے ۔ [2]

علوم اسلامی میں ایک مخصوص علم کیلئے اسے کلمے کو استعمال کرتے ہوئے علم کلام کہا جاتا ہے۔علم کلام کی تعریف میں مختلف تعریفیں بیان کی گئی ہیں مثلا:

  • وہ مقتدر علم ہے جس کے ذریعے عقائد دینیہ کے اثبات کیلئے دلائل اور شبہات کے جواب دئے جاتے ہیں۔[3]
  • تفتازانی نے کہا کہ علم کلام ایسے اعتقادی قواعد شرعیہ کا علم ہے جنہیں دلائل یقینیہ کے ساتھ حاصل کیا جاتا ہے ۔[4]

وجہ تسمیہ

«کلام» عربی زبان کا کلمہ سخن اور گفتار کے منا میں ہے ۔بعض معتقد ہیں کہ اسے علم کلام کہنے کا سبب:

  • مسلمانوں کے درمیان پہلا اختلاف کلام الله (قرآن کریم)کے متعلق دوسری تیسری صدی ہجری میں قران کے حادث ہونے یا قدیم ہونے میں ہوا تھا ۔اس اختلاف نے اس قدر اہمیت اختیار کر لی کہ اس وقت کی موجودہ حکومت بھی اس میں شامل ہوئے بغیر رہ نہ سکی اور قرآن کے حادث ہونے کے معتقد حاکم وقت مأمون عباسی نے ۲۱۸ق./۸۳۳م. دستور دیا کہ عقیدۂ (فتنۂ خَلق قرآن؛ مِحْنَۃُ خَلق قرآن) کے معتقد علمائے اسلام کی چھان بین کی جائے ،پھر اسکے نتیجے میں بہت سے علما کو سزا دی گئی ؛
  • کلامی بحث کے موضوع کا آغاز لفط کلام تھا جیسے الکلام فی اثبات الصانع؛
  • چونکہ یہ علم عقائد میں تکلم اور گفتگو کرنے کی توانائی فراہم کرتا ہے ؛
  • یہ علم دوسرے علوم کی نسبت مکالمے ، مباحثے اور مناظرے سے زیادہ مرتبط ہے ؛
  • منطق اور کلام باہمی مترادف ہیں ،علم کلام متکلمان کی نگاہ میں وہی مقام رکھتا ہے جو فلسفیوں کی نگاہ میں منطق رکھتی ہے ۔

علم کلام کو اصول دین بھی کہتے ہیں کیونکہ اس کے اہم ترین اہداف میں سے اصول دین کا اثبات اور انہیں بیان کرنا ہے ۔ [5]

تاریخچہ اور سبب پیدائش

مختلف عوامل کو کلامی اور عقیدتی ابحاث کو اس علم کا نقطۂ آغاز قرار دیا جا سکتا ہے جن میں سے کچھ داخلی اور کچھ خارجی عوامل تھے جو دوسرے مذاہب سے میل جول کی وجہ سے پیش ہوئے ۔

عصر پیغمبر(ص)

مسلمان رسول اللہ کے زمانے میں اپنے عقیدتی اور کلامی مسائل کو خود رسول اللہ سے یا دور کے علاقوں میں ان کے نمائندوں سے مل کر حل کر لیتے تھے ۔نیز ابھی اس زمانے میں ایک اسلامی معاشرہ معرض وجود میں نہیں آیا تھا لہذا بعد کے زمانوں میں پیش آنے والے مسائل کی طرح کے کلامی اور عقیدتی مسائل اس وقت موجود نہیں تھے ۔ اگرچہ قرآن میں بعض کلامی مسائل ،مناظرات اور رسول اکرم کے استدلالات قرآن میں بیان ہوئے ہیں جو آپ نے مشرکین کے سامنے بیان کئے لیکن یہ اس معنا میں نہیں ہے کہ کہا جائے کہ اس زمانے میں علم کلام ایک منسجم اور مرتب شدہ علم کی صورت میں موجود تھا ۔

عصر خلفا

اس زمانے کا رسول اللہ کے زمانے سے یہ فرق تھا کہ رسول اللہ کی عدم موجودگی کی وجہ سے اسلام کے اندر داخلی طور پر کچھ عقیدتی مسائل پیدا ہوگئے ۔ ان میں سے اکثر جزئی مسائل تھے جو غیر مسلموں کے ساتھ رہن سہن کی وجہ سے پیش آئے اور خود مسلمانوں کے درمیان بھی ابحاث و مختلف مسائل نے جگہ لینی شروع کر دی اور آہستہ آہستہ روز بروز انکی تعداد میں اضافہ ہونے لگا ۔ان میں سے اہم ترین مسئلہ رسول خدا کی جانشینی کا تھا ۔ گویا رسول اللہ کے وصال کے بعد پہلا کلامی اختلاف پیغمبر کی جانشینی کا تھا ۔چھٹی صدی ہجری کا تاریخ دان اور فرق اسلام کا عالم شہرستانی(۴۷۹ ـ ۵۴۸ق.) رسول اللہ کے وصال کے بعد مسلمانوں میں پہلا اختلاف اسی جانشینی پیغمبر کو ہی سمجھتا ہے، ہرچند وہ اسے ایک سیاسی اختلاف ہی سمجھتا ہے لیکن اس کا حل کلامی استدلالوں سے بے نیاز نہیں تھا ۔بعد کے سالوں سے لے کر دوسری صدی ہجری کے اوائل تک سیاسی اور اجتماعی مسائل پیش آنے کی وجہ سے مختلف مسائل پیش آتے رہے جنہوں نے مسلمانوں کے اذہان اور توجہات کو اپنی جانب مشغول رکھا ۔ ان میں سے اکثر مسائل وجوب نصب امام ، صفات امام، قضا و قدر، ایمان اور حدوث قرآن جیسے مسائل تھے جو پیغمبر اقدس کے زمانے میں موجود نہیں تھے ۔

خلیفۂ دوم کے زمانے کی مسلم فتوحات مسلمانوں کی مباحث عقلی و فلسفی سے آشنائی کے عوامل میں سے ہے ۔مسلمان دوسری اقوام سے میل جول کی وجہ سے انکی عقلی و فلسفی میراث سے آشنا ہوئے اور اس میل جول کی وجہ سے اپنے معارف دین اور مفاہیم کو انکے سامنے تبیین اور وضاحت کرنے میں مجبور ہوئے ۔

اموی دور

کہتے ہیں کہ بنی امیہ نے اجتماعی اور مذہبی محفلوں میں اپنے آپ کو لوگوں کی تنقید اور اپنی کارکردگی کو جانچ سے بچانے کی خاطر لوگوں کی توجہات کو ان کیطرف سے ہٹا کر دوسرے موضوعات جیسے انسان اور خدا کا رابطہ وغیرہ، میں مشغول رکھنے کی کوشش کی ۔[6]

عباسی دور

مسلمانوں کے کلامی مکاتب فکر

مسلمانوں کے درمیان کلامی اور فلسفی بحثوں کے زمانے کے آغاز میں ہی ان کے درمیان بہت سے کلامی مکاتب فکر پیدا ہو گئے ۔ان میں سے بعض مکاتب فکر کے پیروکاروں کی تعداد کثیر تعداد میں موجود تھی ۔اس لحاظ سے اشعری مکتب فکر پہلے نمبر پر تھا ۔اہل سنت کے فقہی مذاہب حنفی،مالکی،حنبلی اور شافعی ہیں جو کسی بھی کلامی مذہب اختیار کرنے میں مختار ہیں ۔ شیعہ اکثر مکتب امامی کے پیروکار ہیں۔ طول تاریخ میں کلامی ابحاث میں زیادہ مؤثر رہنے والے مکاتب فکر درج ذیل ہیں :

امامیہ

اصل مضمون: کلام امامیہ

کلامی مذاہب میں سے کلام امامیہ کے مکتب نے اپنے دینی معارف کے اثبات و دفاع اور تبیین و وضاحت میں اہل بیت اور انکے شاگردوں کی روش کو اختیار کیا ہے اور یہ مکتب اعتقادی مسائل میں عقل اور نقل پر اعتماد کی زیادہ تاکید کرتا ہے ۔کلام امامیہ معتزلہ ، اشاعره اور ماتریدیہ کے مقابلے میں ہے جس کا دوسرے مذاہب سے عمدہ فرق امامت سے مربوط مسائل میں ہے ۔

شیعہ علم کلام آئمہ طاہرین کے زمانے میں عقلی اور نقلی رنگ رکھتا تھا۔ان کے بعد شیعہ متکلمین میں نصوص، عقل‌، خرد فلسفی کی طرف رجحان پیدا ہو گیا ہے کہ جو خود غیبت کبری کے آغاز سے کلام شیعہ میں تحول کو بیان کرتا ہے ۔شیخ صدوق، شیخ مفید اور خواجہ نصیر الدین طوسی ترتیب وار نصوص اور عقل و خرد فلسفی کی طرف رجحان کے بانیوں اور برجستہ ترین شخصیات میں سے ہیں ۔

مرجئہ

اہل حدیث

معتزلہ

اصل مضمون: معتزلہ

اہل سنت مسلمانوں کا ایک کلامی مکتب ہے جو نقل کے مقابلے میں اصالت عقل کی شہرت رکھتا ہے ۔اہل سنت متکلمین میں سے معتزلہ امامیہ کے نزدیک تر ہیں ۔ معتزلہ معتقد تھے کہ عقل نظری کو وحی کے طریق سے حاصل ہونے والے احکام کے مقابلے میں حاکم ہونا چاہئے ۔اس اصل کے ثمرات انکے نظام فکری اور دینی عقائد میں دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ اس اصل نے توحید اور عدل الہی میں انہیں مخصوص نہج فکر بخشا اور اس جہت سے انہوں نے ان دینی متون میں تاویل کا سہارا لینا شروع کیا جنہیں وہ عقل کے ساتھ سازگار نہیں پاتے تھے ۔مثلا انکے دینی متون میں پروردگار کی آنکھوں سے دیکھنے کی تصریح کے باوجود انہوں نے اسکا انکار کیا اور تاویل کا سہارا لیا ؛کیونکہ انکے نزدیک عقلی لحاظ سے مکان اور سمت کے بغیر دیکھنا ممکن نہیں ہے اور خدا مکان اور جہت سے منزّا ہے لہذا اس کی رویت اس دنیا اور آخرت میں ممکن نہیں ہے ۔ اہل سنت کے مورد اتفاق عقائد میں سے بعض عقائد میں معتزلہ کا کھلم کھلا تضاد دیکھنے کو ملتا ہے ۔

اسلام کے گروہوں میں سے معتزلہ کو وہ پہلا گروہ سمجھا جاتا ہے کہ جنہوں نے دینی تعلیمات کی سب سے پہلے استدلال اور تحلیلی عقلی کے ساتھ اثبات اور تبیین کی کوشش کی ۔

اشاعره

اصل مضمون: اشاعرہ


اہل سنت کے کلامی گروہوں میں سے ابوالحسن علی بن اسماعیل اشعری (۲۶۰-۳۲۴ه‍.ق) کا گروہ اشعری یا اشاعرہ کہلاتا ہے ۔ ابو الحسن اشعری خود پہلے معتزلی تھا ۔ معتزلہ اور اہل حدیث کی درمیانی راہ کی جستجو میں اشعری گروہ معرض وجود میں آیا جس کا بانی ابو الحسن اشعری تھا۔اسکے نتیجے میں ابوالحسن اشعری نے اہل حدیث کی آراء کو قبول کرنے کیلئے ایک طرح کی عقلی وضاحت بیان کی ۔اگرچہ وہ اہل حدیث مکتب کے مطابق انکے اساسی اعتراضات کو رفع کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا ۔

موجودہ زمانے میں اہل سنت کی اکثریت کلامی مسائل میں اشعری مکتب کی پابند ہیں ۔ انکے معروف ترین علما میں سے قاضی ابوبکر باقلانی، عبدالقاہر بغدادی، امام الحرمین جوینی، ابوحامد غزالی، فخر رازی، عضد الدین ایجی اور سعد الدین تفتازانی کے نام لیے جا سکتے ہیں اور انکی اہم ترین کتابوں میں : الشامل فی اصول الدین جوینی، شرح المواقف سید شریف جرجانی، شرح المقاصد و شرح العقائد النسفیہ تفتازانی، تفسیر کبیر فخر رازی ہیں ۔

حوالہ جات

  1. ابن فارس،مقاييس اللغہ(5/ 106)
  2. ابن فارس،مقاييس اللغہ(5/ 106) فراہیدی،كتاب العين (5/ 378)۔
  3. ایجی، المواقف: صفحه ۷.
  4. تفتازانی ،شرح المقاصد: جلد ۱، صفحه ۱۶۵.
  5. قواعد المرام فی علم الكلام ، ص۲۰؛ مجمع البحرین، ج۵، ص۳۰۶.
  6. مشکور، فرہنگ فرق اسلامی، ص۴۰۵.


منابع

  • ابن‌ میثم‌ بحرانی‌، میثم‌، قواعد المرام‌ فی‌ علم‌ الكلام‌، احمد حسینی‌ و محمود مرعشی‌، تہران‌، ۱۴۰۶ق‌.
  • مطہری، مرتضی، یادداشتہای استاد مطہری، موسسہ فجر، ہشتم، تہران، ۱۳۸۵ش.