کعبہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
خانہ کعبہ
خانۀ کعبه.jpg

قبلۂ مسلمین خانۂ کعبہ، مکہ، حجاز
شناختی معلومات
مکمل نام کعبہ، بیت اللہ الحرام
اسماء دیگر البیت، البیت العتیق، البیت الحرام، البیت المحرم، قادس و ناذر
بانی ابراہیم و اسمعیل علیہما السلام
وجۂ شہرت قبلۂ مسلمین
کب سے قبلہ بنا سنہ 2 ہجری سے
مقام مکہ
ملک جزیرۃ العرب میں عراق اور یمن کے درمیان
قرآنی منزلت پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر ہوا (آل عمران-96)، سب پر اس کا حج واجب ہے (آل عمران-97)، مسلمانوں کا قبلہ ہے بقرہ-144)
اطراف کعبہ مسجد الحرام کے بیچ میں واقع ہے
کعبہ کے دشمن عام الفیل میں ابرہۃ الاشرم کا حملہ ناکام ہوا، یزید اور عبدالملک کے لشکروں نے کعبہ کو ویران کردیا، آج بھی کعبہ کے دشمن بکثرت ہیں
تعمیر نو آج تک 10 مرتبہ کعبہ کی مکمل تعمیر نو کی جاچکی ہے
غلاف کعبہ ابراہیم اور اسمعیل نے کعبہ پر غلاف چڑھانے کا آغاز کیا
کردار
امت مسلمہ کے اتحاد کا محور، مسلمانوں کا قبلہ


خانۂ کعبہ

کعبہ مسجد الحرام میں مکعب شکل کی مشہور عمارت ہے۔ کعبہ مسلمانوں کا قبلہ اور اہم ترین عبادت گاہ ہے جس کی ضرورت ایک عبادی عمل اور فریضۂ حج کے عنوان سے مالی استطاعت اور بعض دوسری شرطوں کی بنا پر ہر مسلمان پر زندگی میں ایک بار، واجب ہے۔

قرآن کی آیات اور احادیث کے مطابق حضرت ابراہیم اور حضرت اسمعیل علیہما السلام نے اللہ کے حکم پر کعبہ کو تعمیر کیا۔ سنہ 2 ہجری سے مسلمانوں کا قبلہ بیت المقدس سے کعبہ کی جانب تبدیل ہوا۔

حجر الاسود کی تنصیب میں حضرت محمد(ص) کی تدبیر اور امام علی(ع) کی ولادت کعبہ میں رونما ہونے والے اہم واقعات میں سے ہیں۔

لغوی معنی

کعبہ مکعب مستطیل شکل کی عمارت ہے جو مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ لفظ "کعبہ" لغت میں مربع شکل کے گھر کو کہا جاتا ہے اور خانۂ خدا بھی مربع کی شکل کے ہونے کی بنا پر کعبہ کہلایا ہے۔[1]

کعبہ اور قرآن

کعبہ کا نام دو بار قرآن کریم کی سورہ مائدہ میں آیا ہے:

  1. آیت 95 میں، جہاں حرم کی حدود اور احرام کی حالت میں قتل صید کا کفارہ معین کیا گیا ہے اور
  2. آیت 97 میں جہاں خداوند متعال نے کعبہ کی زیارت،ـ جو بیت الحرام ہے ـ، نیز حرام مہینوں اور نشان رکھنے والوں نیز قلادہ رکھنے والے جانوروں کی قربانی کو لوگوں کے دین و دنیا کے استحکام اور پائیداری کا موجب گردانا ہے۔[2]

دوسرے اسما

کعبہ کے دوسرے ناموں میں "البیت"،[3]۔[4] "البیت الحرام"[5]"البیت العتیق"[6] اور "البیت المحرم"[7] شامل ہیں اور کعبہ کے اطراف اور مسجد کو مسجد الحرام کہا جاتا ہے۔


فارسی دائرۃ المعارف میں مرقوم ہے

قدیم زمانے میں کعبہ کو "قادس"، "ناذر" اور "القریۃ القدیم" کہا جاتا تھا۔[8]۔[9]

عبدالقدوس انصاری لکھتے ہیں:

کعبہ کے قدیم اسما میں "البنيۃ، الدُّوار، القادس و ناذر، القبلۃ، الحمساء، المُذہَب، إلالً، بکۃُ" شامل ہیں۔[10]

اسلام میں کعبہ کی منزلت

کعبہ مسلمانوں کی اہم ترین اور مقدس ترین عبادتگاہ ہے، وہی جو إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبَارَكاً وَهُدًى لِّلْعَالَمِينَ (ترجمہ: یقینا سب سے پہلا گھر جو تمام لوگوں کے لیے مقرر ہوا، وہی ہے جو مکہ میں ہے، بابرکت اور سرمایہ ہدایت تمام جہانوں کے لیے) [ سورہ آل عمران–96] ، اور جس کی زیارت استطاعت اور دوسری شرطوں کی بنا پر ہر مسلمان پر اپنی زندگی میں ایک بار واجب ہے اور یہ وجوب اگلی آیت میں بیان ہوا ہے: وَلِلّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً (ترجمہ: اور اللہ کے لیے تمام لوگوں کے ذمہ خانہ کعبہ کا حج ہے، جو وہاں تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو) [ سورہ آل عمران–97] ہر مسلمان پر واجب ہے کہ واجب اور مستحب نمازوں میں کعبہ کی طرف رخ کرے۔ خداوند متعال نے سنہ 2 ہجری میں کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا اور ارشاد فرمایا: فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (ترجمہ: بس اب مسجد حرام کی طرف اپنا رخ موڑا کیجئے) [ سورہ بقرہ–144] فطری امر ہے کہ ہر علاقے کا قبلہ وہاں کے جغرایائی طول و عرض کے تابع ہے۔[11]

تاریخی پس منظر

کعبہ کی پرانی تصویر

کعبہ کی تعمیر

حضرت ابراہیم(ع) نے اللہ کے حکم پر کعبہ کو تعمیر کیا۔ کعبہ کی تعمیر میں ان کے فرزند حضرت اسمعیل(ع) نے ان کا ہاتھ بٹایا۔[12]۔[13]۔[14] اس موضوع کی طرف قرآن کریم نے بھی سورہ بقرہ میں اشارہ فرمایا ہے۔[15] گوکہ اس موضوع کے بارے میں مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں کہ کعبہ کی بنیاد سب سے پہلے کس نے رکھی۔ بعض اقوال کے مطابق کعبہ حضرت آدم علیہ السلام کی خلقت سے قبل تعمیر کیا گیا ہے۔[16] تاہم بعض مؤرخین نے اس قسم کے دعؤوں میں شک و تردد ظاہر کیا ہے۔[17]۔[18] مکہ میں اسمعیل(ع) کے فرزندوں کے سکونت پذیر ہونے کے بعد ابتداء میں قبیلہ جرہم، ان کے بعد قبیلہ خزاعہ اور آخر کار قریش نے کعبہ کا انتظام سنبھالا اور مختلف زمانوں اور صدیوں کے دوران کعبہ توحید اور یکتا پرستی کی عبادتگاہ سے ایک بتکدے میں تبدیل ہوا۔[19]

کعبہ کی تعمیر نو

دینی اور تاریخی مآخذ کے مطابق، کعبہ کی عمارت، تبدیلیوں اور تعمیر نو کے مختلف مراحل سے گذری ہے۔ کعبہ ابراہیم(ع) کے زمانے میں مسقف نہیں تھا (اور اس پر چھت نہیں تھی) اور قریش کے پیشوا اور رسول اللہ(ص) کے چوتھے جد امجد قصی بن کلاب کے زمانے میں اس پر چھت ڈالی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ قصی سے پہلے اور ابراہیم(ع) کے بعد بھی کعبہ کی مرمت اور تعمیر نو ہوئی ہے۔

کعبہ کی تعمیر کی تاریخ کو رسول خدا(ص) کی ولادت کے بعد تدوین و توثیق ملی۔ اس ِزمانے میں ـ پیغمبر معظم(ص) کی بعثت سے پانچ سال قبل ـ قریش نے ایک بار پھرکعبہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔ بعض مآخذ کے مطابق آگ اور بعض کے مطابق سیلاب کی وجہ سے کعبہ کو نقصان پہنچا تھا۔

متقدم مؤرخین کا کہنا ہے کہ اس تعمیر نو میں وہ بہت سی خصوصیات میں تبدیلی کی گئیں جو حضرت ابراہیم(ع) کی بنائی ہوئی عمارت میں پائی جاتی تھیں؛ عمارت کی بلندی میں اضافہ کیا گیا، عمارت کی لمبائی کو کم کردیا گیا، کعبہ کا مغربی دروازہ بند کیا گیا اور مشرقی دروازے کی اونچائی میں اضافہ کیا گیا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ چار تبدیلیاں اس دور کی تعمیر نو میں لائی گئیں۔[20]

اس تعمیر نو کے بعد یزید بن معاویہ کے لشکر نے حصین بن نمیر کی سرکردگی میں کعبہ کو نذر آتش کیا تو عبداللہ بن زبیر نے کعبہ کو از سر نو تعمیر کیا۔ اس حملے میں اتشزدگی اور منجنیقوں کی زد میں آکر کعبہ کی بنیادیں کمزور ہوگئیں۔ کہا جاتا ہے کہ عبداللہ بن زبیر نے کعبہ کو مکمل طور پر ویراں کردیا تا کہ ایک بار پھر اس کو ان ہی ستونوں پر تعمیر کرے جن پر اس کو ابراہیم(ع) نے تعمیر کیا تھا۔[21] لیکن کچھ عرصہ بعد عبدالملک بن مروان کے لشکر نے حجاج بن یوسف کی سرکردگی میں اس ایک ایک بار پھر منہدم کردیا۔ روایت کے مطابق عبداللہ بن زبیر نے کعبہ کو اس مقصد سے مکمل طور پر ویراں کیا تھا کہ وہ اس کے ستونوں کو اس نقطے کی جانب لوٹانا تھا جو قریش نے اس کے لئے قرار دیا تھا۔ کعبہ کے اس حصے کو حطیم کہا جاتا ہے۔ قریش نے بعثت سے 5 سال قبل کعبہ کی تعمیر نو کا کام شروع کیا تو ضروری مواد کی قلت کی وجہ سے یہ حصہ کعبہ کے باہر رہ گیا تھا اور یوں کعبہ کی لمبائی میں کمی آگئی تھی۔ ابن زبیر دسوں برسوں سے کعبہ کو اس کی تاریخی حالت کی طرف لوٹانے کا منصوبہ بناتا رہا تھا؛ لیکن عبدالملک بن مروان نے حجاج سے کہا کہ کعبہ کا وہ حصہ ہٹا دے جس کا ابن زبیر نے اضافہ کیا تھا۔[22] حجاج نے [منجنیقوں کے ذریعے کعبہ کو شدید نقصان پہنچانے اور عبداللہ بن زبیر کو قتل کرنے کے بعد] حطیم والا حصہ ایک بار پھر حذف کردیا اور اور کعبہ کی لمبائی گھٹا دی۔ حجاج کو تعمیر کعبہ میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تو امام سجاد(ع) کی مدد سے یہ امر ممکن ہوا۔[23]

تعمیر نو بدست امام سجاد(ع)

ابان بن تغلب کہتے ہیں: حجاج نے کعبہ کو ویران کردیا تو لوگ اس کی مٹی کو منتشر کرکے لے گئے (اور ہر کسی نے کچھ مٹی اپنے لئے اٹھا لی) اور جب سب نے اس کی تعمیر نو کا فیصلہ کیا تو ایک سانپ نکلا اور لوگوں کو تعمیر نو کا کام نہیں کرنے دیا۔ لوگ سانپ کے خوف سے بھاگ کر حجاج کے پاس پہنچے اور ماجرا کہہ سنایا۔ وہ یہ سوچ کر کانپ اٹھا کہ اس کو کعبہ کی تعمیر سے روک دیا جائے اور اس کو یہ توفیق نہ ملے؛ چنانچہ منبر پر بیٹھا اور لوگوں کو قسم دلاتے ہوئے کہا: "خدا رحم کرے اس بندے پر جس کے پاس اس امر کے بارے میں علم اور خبر ہو جس کا ہمیں سامنا کرنا پڑ رہا ہے وہ آکر ہمیں اس امر کی خبر دے"۔

ایک معمر شخص اٹھا اور کہا: "اگر کسی کے پاس اس بارے میں کوئی علم ہے وہ شخص وہی ہے جو کعبہ کی طرف آیا اور اس کا ایک حصہ اٹھا کر چلا گیا"۔

حجاج نے پوچھا: "وہ شخص کون ہے؟"

جواب ملا: "وہ علی بن الحسین علیہ السلام ہیں"۔

حجاج نے کہا "ان امور کا معدن وہی ہیں"۔

لہذا حجاج نے ایک شخص کو علی بن الحسین علیہ السلام کی خدمت میں روانہ کیا اور آپ(ع) کو اطلاع دی کہ کس طرح خداوند متعال نے کعبہ کی تعمیر نو سے اس کو باز رکھا ہے۔

حضرت علی بن الحسین علیہ السلام نے حجاج سے مخاطب ہوکر فرمایا: "اے حجاج! تم نے "ابراہیم" اور "اسمعیل" کی تعمیر کردہ عمارت پر حملہ کیا اور اس کو منہدم کردیا اور اس کو راستے میں پھینک دیا اور اس کو لوٹ لیا گویا وہ سب تمہاری میراث ہے۔ اب منبر پر بیٹھو اور لوگوں کو قسم دلاؤ کہ جو بھی وہاں سے کچھ اٹھا کر لے گیا ہے فوری طور پر لوٹا دے اور یہاں تک کہ وہاں سے اٹھائی گئی کوئی چیز کسی کے پاس نہ رہے"۔

حجاج نے ایسا ہی کیا اور یوں سب نے کعبہ کی کوئی چیز کسی کے پاس نہ رہی اور سب نے سب کچھ لوٹا دیا۔ جب کعبہ کی مٹی جمع ہوئی علی بن الحسین علیہ السلام آگے بڑھے اور بنیادوں کو وضع کیا اور فرمایا کہ متعینہ بنیادوں کو کھود لیا جایا۔ اسی لمحے وہ سانپ غائب ہوا۔ کھدائی جاری رہی حتی کہ قواعد اور ستون نمایاں ہوئے۔ چنانچہ آپ(ع) نے کام میں مصروف افراد سے فرمایا: "کام بند کرو اور یہآں سے چلے جاؤ"۔

علی بن الحسین علیہ السلام خود اگے بڑھے اور ان ستونوں اور قواعد کو اپنے لباس سے ڈھانپ دیا اور روئے اور اپنے ہاتھوں سے انہیں مٹی میں چھپا دیا اور لوگوں کو بلایا اور حکم دیا کہ اپنی عمارت کو بنیادوں پر استوار کریں۔ چنانچہ عمارت کی تعمیر کی گئی اور جب اس کی دیواری کسی حد تک تعمیر ہوچکیں تو آپ(ع) نے فرمایا کہ عمارت کے بیچ مٹی ڈال دیں اور یوں خانہ خدا کا فرش بلند ہوا اور اس تک پہنچنے کے لئے زینے لگانے کی ضرورت پڑی۔[24]۔[25]۔[26]۔[27]

نیز یہ بھی روایت ہے کہ حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر کے ساتھ جنگ کی خاطر خانۂ خدا کو ویران کیا اور بعد میں اس کی تعمیر نو کا اہتمام کیا اور عمارت مکمل ہوئی تو جب حجر الاسود کی تنصب کے لئے جب بھی ان [امویوں اور مروانیوں] کا کوئی عالم یا قاضی یا زاہد حجر الاسود کو نصب کرنے لگا تو وہ متزلزل اور پریشان اور مضطرب ہوجاتا اور "حجر" اپنے مقام پر مستقر نہیں ہوتا تھا۔ اسی حال میں علی بن الحسین علیہ السلام اگے بڑھے اور حجر الاسود کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور بسم اللہ الرحم الرحیم کہہ کر اس کو اپنے مقام پر نصب فرمایا اور اس بار حجر اپنے مقام پر مستقر ہوگیا اور لوگوں نے تکبیر کہی۔[28]۔[29] چنانچہ جناب فرزدق (شاعر) پر امام سجاد(ع) کی مدح میں قصیدہ انشاد کرنے اور یہ شعر کہنے کا الہام ہوا کہ:

يكاد يمسك راحته
ركن الحطيم إذا ما جاء يستلم‏

یعنی آپ(ع) کی عطاء و بخشش اور جود و سخا کا یہ عالم ہے کہ جب "رکن حطیم (حجر الاسود) کے چھونے کی غرض سے آگے بڑھتے ہیں گویا کہ رکن آپ(ص) کو اپنے پاس ٹہرانا چاہتا ہے تا کہ آپ کی عطا اور فیاضی سے بہرہ ور ہوجائے۔[30]

تعمیر نو حالیہ صدیوں میں

حجاج کے زمانے میں دسویں تعمیر نو کے بعد کعبہ کو مزید کسی بنیاد مرمت کی ضرورت نہیں پڑی حتی کہ سنہ 1039 ہجری قمری (سنہ 1660 عیسوی) میں مکہ مکرمہ میں سیلاب آیا جس کے نتیجے میں اس شہر کے 4000 افراد جاں بحق ہوئے اور سیلاب کا پانی مسجد الحرام میں داخل ہوا جس کی وجہ سے کعبہ کی دیواریں گر گئیں اور صرف جنوبی دیوار کو نقصان نہيں پہنچا گوکہ اس میں بھی دراڑیں پڑ گئی تھیں اور اس کے لئے بھی مرمت کی ضرورت تھی۔ یہ واقعہ عثمانی بادشاہ "سلطان مراد چہارم" کے زمانے میں رونما ہوا۔ والی مکہ نے اس کو خبر دی اور اس نے اپنے دو نمائندے تعمیر نو کے کام کی نگرانی کے لئے مکہ روانہ کئے۔ سلطان کے حکم پر باقیماندہ دیواریں گرا دی گئیں اور اور کعبہ کو از سر نو تعمیر کیا گیا۔ اس تعمیر نو کی روداد شیعہ عالم دین زین العابدین بن نور الدین کاشانی ـ جو ان دنوں حج و زیارت کی نیت سے مکہ میں موجود تھے ـ نے اپنی کتاب مفرحۃ الانام میں نقل کی ہے۔[31]

کویتی ماہنامے "العربی" کے مطابق سنہ 1299 ہجری قمری میں سلطان عبدالحمید خان عثمانی کے زمانے میں کعبہ کی مرمت کا اہتمام کیا گیا۔ اس تعمیر نو کو آخری تعمیر نو سمجھا جاتا ہے۔ اس تعمیر نو کے دوران بنائے گئے مسجد الحرام اور مسجد النبی(ص) کے ڈھانچے آج تک قائم ہیں۔[32]۔[33]

متذکرہ بالا مرمت کے بعد پچھلی صدی ہجری تک کعبہ کی مرمت نہیں ہوئی تھی لیکن سنہ 1377 ہجری قمری میں سعود بن عبدالعزیز کے حکم پر اور سنہ 1417 ہجری قمری میں فہد بن عبدالعزیز کی ہدایت پر کعبہ میں کچھ تعمیرات ہوئيں۔[34]

کعبہ کی خصوصیات

بیرونی خصوصیات

کعبہ اپنی خاص بیرونی خصوصیات کا حامل ہے۔ کعبہ کے ہر حصے کا اپنا نام ہے۔ اگلی سطور میں ان کی وضاحت دی جائے گی:

حجر الاسود
  • حجر الاسود: یہ ایک سیاہ رنگ کے کھوکھلے پتھر کا نام ہے اور تحفظ کے لئے اس کے گرد چاندی کا ایک کنارا یا فریم لگایا گیا ہے۔ حجر الاسود جنوب مشرقی رکن کے بیرونی حصے میں نصب کیا گیا ہے۔ طواف حجر الاسود سے شروع اور اسی پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔
  • ملتزم: ملتزم حجر الاسود اور دروازۂ کعبہ کے درمیان واقع ہے۔
  • کعبہ کا دروازہ: کعبہ کا دروازہ مشرق کی جانب لگا ہوا ہے۔ اس سلسلے میں ـ کہ کعبہ میں کب سے دروازہ نصب کیا گیا ہے ـ صحیح اور دقیق رائے دینا ممکن نہیں ہے؛ تاہم بظاہر یمن کے بادشاہ "تبع سوئم" نے قبل از بعثت پہلا شخص تھا جس نے کعبہ کے لئے دروازہ قرار دیا اور اس کے لئے کنجی تیار کروائی۔
  • مقام ابراہیم: یہ ایک پتھر ہے جو دروازۂ کعبہ کے سامنے قرار پایا ہے اور ابراہیم(ع) تعمیر کعبہ کے وقت اسی پتھر پر کھڑے ہوا کرتے تھے۔
  • حِجر اسمعیل: اس مقام کو "حطیم" بھی کہا جاتا ہے۔ یہ [کعبہ کے شمالی سمت] ایک نیم دائرے کی شکل کی دیوار ہے
  • میزاب: یا "میزاب رحمت، کعبہ کی چھت پر واقع ایک حصہ ہے جو شمال کی طرف حجر اسمعیل کی جانب کھینچا گیا ہے۔ میزاب وہ پرنالہ جو خانۂ کعبہ کی چھت پر لگا ہوا ہے اور جس سے بارش کا پانی کعبے کی چھت سے حطیم میں گرتا ہے۔ پہلی بار قریش نے کعبہ کے لئے میزاب قرار دیا۔ [یہ سونے کا بنا ہوا پرنالہ ہے]۔

دیوار کے گرد نیچے ہر چار جانب سے ایک بڑھے ہوئے کرسی نما ضلعے کا گھیرا ہے جسکی اوسط اونچائی 25 سینٹی میٹر اور چوڑائی 30 سینٹی میٹر ہے۔ اسے شاذروان کہتے ہیں

  • شاذَروان: یہ کعبہ کا ایک حصہ ہے جو قریش نے کعبہ سے حذف کردیا ہے۔ جو مرمر کا بنا ہوا ہے۔ اور حجر اسمعیل کے روبرو شاذروان سیڑھی کی صورت میں بنا ہوا ہے۔ البتہ دروازۂ کعبہ کے نیچے شاذروان موجود نہیں ہے۔[35]
  • کعبہ کی بلندی: 14 میٹر
  • طول (ملتزم کی جانب سے): 12:84 میٹر
  • طول: (حطیم کی جانب سے): 11:28 میٹر
  • رکن یمانی اور حطیم کا درمیانی فاصلہ: 12:11 میٹر
  • دو رکنوں کے درمیان فاصلہ: 11:52 میٹر
  • حجر الاسود کی اونچائی: 1:10 میٹر
  • دروازۂ کعبہ کی چوڑائی: 1:90 میٹر
  • دروازۂ کعبہ کی لمبائی: 3:10 میٹر
  • زمین سے دروازے کے نچلے حصے تک کا فاصلہ: 2:25 میٹر
  • میزاب کی لمبائی: 1:95 میٹر
  • میزاب کی چوڑائی: 26 سینٹی میٹر
  • میزاب کے دو کناروں کی اونچائی: 23 سینٹی میٹر
  • چھت کے اوپر کی چاردیواری کی اونچائی: 80 سینٹی میٹر
  • کعبہ کے آستانے کی اونچائی سب سے نچلے حصے میں: 45 سینٹی میٹر
  • اس زاويئے کی اونچائی جو آستانے کے اوپر ہے اور شاذروان اس کے اوپر بنا ہے: 13 سینٹی میٹر

اندرونی خصوصیات

  • تین ستون جن کی لمبائی تقریبا 9 میٹر ہے اور کعبہ کے وسط میں نصب ہوئے ہیں چھت کو سہارا دیئے ہیں۔
  • کعبہ کے اندر مرمر کا ایک پتھر ہے جو پیغمبر اسلام(ص) کی سجدہ گاہ کو واضح کرتا ہے۔ ملتزم کے مقام پر بھی ایک علامت لگی ہوئی جو اس مقام کو واضح کرتی ہے جہاں رسول اکرم(ص) نے اپنا داہنا رخسار اور شکم مبارک رکھا اور ہاتھ اٹھا کر اور روئے تھے۔
  • کعبہ کے اندرونی فرش کا وسطح حصہ سفید مرمر نے ڈھانپ لیا ہے۔[36]

مستجار

قول مشہور کے مطابق رکن یمانی دیوار کعبہ کا وہ حصہ جو فاطمہ بنت اسد(س) کے لئے کھل گيا تاکہ وہ اس حصے سے گذر کر کعبہ کے اندر داخل ہوسکیں اور وہ داخل ہوئیں اور وہیں ان کے فرزند ارجمند علی ابن ابی طالب علیہ السلام پیدا ہوئے۔[37]

امام علی(ع) بروز جمعہ جمعہ 13 رجب عام الفیل کے تیسویں سال مکہ میں اور کعبہ کے اندر دنیا میں تشریف لائے۔ امام علی(ع) کے مقام ولادت کے بارے میں شیخ مفید کی عبارت کچھ یوں ہے:وُلِدَ بِمَکَّةَ فِی البَیتِ الحرامِ مکہ میں بیت الحرام کعبہ کے مقام پر پیدا ہوئے"۔[38] مسعودی (متوفی سنہ 346 ہجری) نے امام علی(ع) کے مقام ولادت کے بارے میں لکھا ہے:وکان مولده فی الکعبة (ترجمہ: آپ کا مولد (مقام ولادت) کعبہ تھا"۔[39]

کعبہ میں آپ کی ولادت کی روایت سید رضی، شیخ مفید، قطب راوندی اورابن شہرآشوب سمیت تمام شیعہ علماء اور حاکم نیشابوری، حافظ گنجی شافعی، ابن جوزی حنفی، ابن صباغ مالکی، حلبی اور مسعودی سمیت بیشتر سنی علماء کے ہاں متواتر ہے۔[40]

غلاف کعبہ

<center>پردہ کعبہ کا ایک منظر

پردۂ کعبہ سیاہ رنگ کا ریشمی کپڑا ہے جس پر قرآن کریم کی آیات کریمہ مکتوب ہیں اور کعبہ کو اس سے ڈھانپا گیا ہے۔ تفسیر قرطبی میں ہے کہ سب سے پہلے یمنی بادشاہ اسعد حِمیَری ـ المعروف بہ "تبع" نے کعبہ کو پردہ پہنایا۔[41] گوکہ اس کو حضرت اسمعیل علیہ السلام سے بھی منتسب کیا گیا ہے۔[42]

غلاف کعبہ کی تیاری


غلاف کعبہ کی تاریخ

غلاف کعبہ کی تاریخ بہت پرانی ہے اور پردے کی تبدیلی کی اہم ذمہ داری کے پیش نظر ایام گذرنے کے ساتھ ساتھ پردہ داری (= حجابت) کو بھی کعبہ کے دیگر مناصب کے ساتھ ساتھ ایک منصب کے طور پر متعارف کرایا گیا۔ سب سے پہلے کس نے خانہ کعبہ پر غلاف چڑھایا؟ اس سلسلے میں مختلف افراد کی طرف اشارہ ہوا ہے؛ جیسے:

حضرت ابراہیم علیہ السلام یا حضرت اسمعیل علیہ السلام۔[43]۔[44]۔[45]

اہل سنت کی متعدد روایات میں منقول ہے کہ یمنی بادشاہ تُبّع (اسعد حمیری) نے سب سے پہلے کعبہ کے لئے غلاف اور دروازے کا انتظام کیا اور کعبے کو مکمل طور پر غلاف سے ڈھانپ دیا۔۔[46]۔[47]

ابن حجر نے تمام روایات کو نقل کرکے یوں نتیجہ لیا ہے: الف: اسمعیل نے سب سے پہلے کعبہ کو ڈھانپ دیا۔ ب: عدنان غالبا پہلے شخص ہیں جنہوں نے اسمعیل(ع) کے بعد کعبہ کو غلاف سے ڈھانپ دیا ہے۔ ج: تبع پہلے شخص ہیں جنہوں نے کعبہ کو انطاع (= چمڑے)، وصائل (= تزئینی یمانی کپڑے) سے غلاف بنا کر، دیا ہے۔[48]

امام صدادق(ع) سے منقولہ روایت کے مطابق حضرت ابراہیم(ع) یا اسمعیل(ع) نے سب سے پہلے کعبہ پر غلاف چڑھایا۔۔[49]


غلاف کعبہ کی نوعیت اور رنگ

کعبہ پر انطاع (چمڑے) کا غلاف چڑھایا جاتا تھا، رسول اللہ(ص) نے اس کو یمنی کپڑے کا غلاف بنوا کر دیا، رسول خدا(ص) کے بعد عمر بن خطاب اور عثمان بن عفان نے اس کے لئے مصری کپڑے "قباطی" کا نازک اور سفید کپڑے کے غلاف بنوا دیئے۔[50]۔[51] کچھ مؤرخین کا کہنا ہے کہ قبل از ظہور اسلام بھی کعبہ کا غلاف قباطی نامی کپڑے کا ہوا کرتا تھا۔[52]

ہارون عباسی نے ہدایت کی غلاف کعبہ مصری قباطی سے تیار کیا جائے۔[53]

سنہ 200 ہجری میں حسین بن حسین افطس نے کعبہ میں عباسیوں کے خلاف بغاوت کرکے کعبہ کے اندر موجود تمام غلاف اٹھا لئے اور پھر ہلکے ریشم کے دو ـ زرد اور سفید ـ کپڑوں کا غلاف کعبہ پر چڑھایا۔</ref>ازرقی، اخبار مکه، ج2، ص263-264۔</ref>۔[54]۔[55]

مامون عباسی نے سنہ 206 ہجری میں دیبا کے سفید رنگ کا غلاف تیار کروایا۔[56]۔[57]۔[58]

زمانۂ جاہلیت میں حجابت کا کام اشتراک عمل سے انجام پاتا تھا، رسول خدا(ص) نے کعبہ کے لئے یمانی کپڑے کا غلاف تیار کروایا۔ امیرالمؤمنین(ع) اور مامون اور متوکل نے بھی رسول خدا(ص) کی روش پر کعبہ کے لئے پردے تیار کروائے۔[59]


فاکہی کا کہنا ہے کہ مامون نے کعبہ کے لئے دیبا کا سفید کپڑے کا پردہ تیار کروایا اور یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا یہاں تک کہ فاطمیوں کے زمانے میں (297 تا 567 ه‍ تک) کعبہ کا پردہ دیبا کے سفید رنگ کے کپڑے سے تیار کروایا جاتا رہا۔ اور محمد بن سبکتگین نے پردہ کعبہ پیلے رنگ کے دیبا کے کپڑے سے قرار دیا۔[60]

سیاہ رنگ کے پردے کا آغاز

عباسی خلیفہ الناصر لدین اللہ عباسی (575 – 622 ه‍) پہلا شخص ہے جس نے کعبہ کے لئے سیاہ دیبا کے ریشمی کپڑے کا پردہ قرار دیا اور اس زمانے سے اب تک کعبہ پر سیاہ رنگ کا پردہ چڑھایا جاتا ہے۔[61] اور یہی ہمیشہ کے لئے معمول بن گیا۔۔[62]۔[63]۔[64]

سیاہ رنگ کیوں؟

شاید اس لئے کہ مکہ میں سورج کی تمازت بہت شدید ہے اور سیاہ رنگ آفتاب کے مقابلے میں سب سے زیادہ استقامت کرتا ہے؛ پردہ کعبہ سیاہ رنگ کے بہترین کپڑوں سے تیار کیا جاتا ہے۔[65]

غلاف کعبہ دور معاصر میں

سنہ 1346 ہجری قمری بمطابق 1926 عیسوی میں عبدالعزیز آل سعود نے غلاف کعبہ کی تیاری کے لئے ام القراء کے عنوان سے مستقل کارگاہ بنانے کا حکم دیا۔ اس کارگاہ میں غلاف کعبہ کی تیاری کا عمل سنہ 1977 تک جاری رہا۔ اس سال سعودی حکومت نے "ام الجود" میں نئی کارگاہ کی بنیاد رکھی اور آج تک غلاف کی تیاری کا کام اسی کارگاہ میں انجام پاتا ہے۔[66]

غلاف کعبہ کی تبدیلی قبل از اسلام عاشورا کے دن انجام پاتی تھی،[67] لیکن بعد از اسلام یہ غلاف ہر سال دو یا تین مرتبہ تبدیل کیا جاتا تھا: 1۔ عاشورا کے دن، 2۔ ماہ رمضان کے آخر میں اور 3۔ عید الضحی کے دن؛ تاہم موجودہ زمانے میں غلاف کو سال مین ایک بار عید الضحی کے دن تبدیل کیا جاتا ہے۔

اہم واقعات

کعبہ پر ابرہہ کا حملہ

مفصل مضمون: عام الفیل

مفصل مضمون: عبدالمطلب

کتاب الاعتداءات علی الحرمین کی روایت کے مطابق ایک اہم واقعہ یمن کے فرمانروا کا کعبہ پر حملہ تھا۔ یہ حملہ سنہ 571 عیسوی میں انجام پایا اور اس کا مقصد کعبہ کا انہدام تھا۔ ابرہہ نے فیل سوار لشکر لے کر کعبہ پر حملہ کیا[68] لیکن جب وہاں پہنچا تو آسمان سے پرندوں نے سنگریزوں کی بوچھاڑ کردی اور جس کو بھی سنگریزہ لگا ہلاک ہوگیا۔[69]۔[70]

کعبہ پر ابرہہ کے حملے کے اسباب بیان کرتے ہوئے مؤرخین نے کہا ہے کہ ابرہہ نے برسر اقتدار آنے کے بعد عیسائیت کی ترویج اور معاشی مفادات کے حصول کے لئے ایک شاندار گرجا گھر تعمیر کیا تا کہ لوگ اس کی زیارت کے لئے یمن کا سفر کیا کریں لیکن اس مقصد کے حصول میں ناکام ہوا جس کے بعد اس نے کعبہ کو ویران کرنے کا فیصلہ کیا[71]۔[72] لیکن ابرہہ نے حملہ کرنے کا حکم دیا تو پرندوں کی ایک عظیم فوج نے اس کے لشکر پر حملہ کیا۔ اس حملے میں ابرہہ کے معدود سپاہی جان بچا کر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔[73]

قرآن کریم کی سورہ فیل اسی واقعے کی شان میں نازل ہوئی ہے۔[74]

دینی اور مقامی روایات کے مطابق مکہ پر ابرہہ کے حملے کا واقعہ ـ جو اصحاب فیل کے حملے کے نام سے مشہور ہے ـ عبدالمطلّب کے زمانے میں رونما ہوا۔ ابرہہ نے یمن سے ایک لشکر لے کر مکہ پر حملہ کیا[75] ابرہہ کے گماشتے قریش کے اونٹ چوری کرکے لے گئے۔ عبدالمطلب اور ابرہہ کے درمیان ملاقات ہوئی۔ عبدالمطلب نے صرف اپنے اونٹوں کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ ابرہہ نے کہا: "میں نے گمان کیا کہ تم کعبہ کے بارے میں گفتگو کرنے آئے ہو"۔ عبدالمطلب نے کہا: "میں اپنے اونٹوں کا مالک ہوں اور اس گھر کا اپنا مالک ہے جس کی وہ خود حفاظت کرے گا"۔ عبدالمطلب مکہ واپس آئے اور مکیوں سے کہا کہ اپنا گھر بار چھوڑ کر پہاڑیوں میں چلے جائیں اور اپنے اموال بھی ساتھ لے جائیں۔[76]

میلاد امام علی(ع)

مفصل مضمون: امام علی علیہ السلام

کعبہ کے دیگر اہم واقعات میں سے ایک امام علی(ع) کی ولادت ہے۔

جمعہ 13 رجب المرجب سنہ 30 عام الفیل امام علی(ع) خانۂ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے۔ علی(ع) تاریخ انسانیت کی پہلی اور آخری شخصیت ہیں جنہوں نے کعبہ میں جنم لیا۔[77] اہل سنت کے متعدد مآخذ میں یہ واقعہ نقل ہوا ہے۔ حاکم نیسابوری نے اپنی کتاب المستدرک علی الصحیحین میں اور مسعودی نے اپنی تالیف مروج الذہب میں نقل کیا ہے کہ متواتر احادیث سے ثابت ہے کہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کعبہ کے اندر فاطمہ بنت اسد کے بطن مطہر سے پیدا ہوئے۔[78]۔[79]

پیغمبر خدا کے ہاتھوں حجر الاسود کی تنصیب

مفصل مضمون: حجر الاسود

کعبہ کا ایک اہم واقعہ بعثت سے کچھ عرصہ قبل میں پیش آیا جو مکہ کے عوام میں رسول اللہ(ص) کی منزلت کی غمازی کرتا ہے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب آپ(ص) کی عمر 35 سال تھی اور یہ واقعہ حجرالاسود کی تنصیب کا واقعہ تھا۔

جیسا کہ کعبہ کی تعمیر نو کے باب میں بیان ہوا ایک دفعہ سیلاب کعبہ کے اندر تک سرایت کرگیا اور اس کی دیواریں گر گئیں تو کعبہ کی تعمیر نو کی ضرورت پیش آئی۔ قریش نے دیواریں تعمیر کردیں؛ پس جب حجر الاسود کی تنصیب کی باری آئی تو قریش کے عمائدین میں اختلاف ظاہر ہوا۔ ہر قبیلے کا زعیم اس شرف کو اپنے نام کرنا چاہتا تھا۔ صلاح مشوروں کے بعد سب نے اتفاق کرلیا کہ جو بھی سب سے پہلے دروازہ بنو شیبہ سے مسجد الحرام میں داخل ہوگا اس کو قاضی و منصف قرار دیا جائے گا اور وہ جو بھی کہے گا سب کے لئے قابل قبول ہوگا۔

دوسرے دن محمد(ص) ہی تھے جو سب سے پہلے باب بنی شیبہ سے مسجد میں داخل ہوئے؛ چنانچہ قریش کے عمائدین نے کہا: وہ امین اور صادق ہیں، ہم ان کا فیصلہ قبول کرتے ہیں۔ اور پھر انھوں نے اپنا قصہ محمد(ص) کو کہہ سنایا۔

محمد(ص) نے فرمایا: ایک چادر بچھا دو؛ اور جب چادر بچھا دی گئی تو آپ نے حجر الاسود اس چادر پر رکھ دیا اور فرمایا ہر قبیلے کا زعیم چادر کا ایک گوشہ تھام لے اور پھر چادر کو اٹھا لو؛ چنانچہ سب نے مل کر چادر کو اٹھا لیا اور آپ نے خود حجر الاسود کو چادر سے لے کر مقررہ مقام پر رکھ دیا اور آپ نے اس حکیمانہ فیصلے کے ذریعے عظیم جنگ اور خونریزی کا راستہ روک لیا۔[80]۔[81]۔[82]۔[83]

ابن زبیر کا دور اور کعبہ پر اموی حکمرنوں کے حملے

مفصل مضامین:

کعبہ پر یزید بن معاویہ کا حملہ

تاریخ اسلام کا ایک اہم اور نہایت افسوسناک واقعہ یزید کے ہاتھوں مکہ کی حرمت شکنی کا واقعہ ہے۔ واقعہ یوں ہے کہ ابن زبیر نے یزید کی بیعت سے انکار کیا تو یزید نے حصین بن نمیر (اور بقولے مسلم بن عقبہ) کو لشکر دے کر مکہ روانہ کیا۔ یزیدی لشکر نے محرم الحرام سنہ 64 ہجری میں خانۂ خدا کو منجنیقوں کا نشانہ بنایا اور اس پر آگ کے گولے پھینکے جس کی وجہ سے کعبہ کو آگ لگ گئی۔[84]۔[85]

سنہ 61 ہجری میں یزید نے امام حسین(ع) کو شہید کیا؛ اور سنہ 63 ہجری میں مدینہ کو اپنی افواج کے لئے مباح قرار دیا۔ واقعۂ حرہ (سنہ 63 ہجری) میں حصین بن نمیر مسلم بن عقبہ کے ساتھ تھا اور مسلم واقعۂ حرہ میں مدینہ کو تباہ اور ہزاروں مسلمانوں کے قتل عام کے بعد گذر گیا تو محرم سنہ 64 کے اواخر میں یزید نے حصین بن نمیر کو امیر لشکر بنا کر عبداللہ بن زبیر کی سرکوبی کے لئے مکہ روانہ کیا۔[86]۔[87]۔[88]۔[89]۔[90] مکہ کے عوام نے ابن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔[91] حصین بن نمیر 25 یا 26 محرم سنہ 64 کو مکہ میں داخل ہوا اور ابن زبیر اور اس کے حامیوں نے مسجد الحرام میں پناہ لی۔ 3 ربیع الاول کو حصین بن نمیر نے شامی لشکر کو کعبہ کے اطراف کی پہاڑیوں میں تعینات کیا اور منجنیقوں اور ديگر جنگی آلات کے ذریعے پتھر اور آگ کے گولے کعبہ پر پھینک دیئے جس کی وجہ سے کعبہ ویران ہوا اور اس کا غلاف اور اندر اور باہر لکڑیاں جل کر راکھ ہوگئیں۔[92]۔[93]۔[94] شامیوں اور مکیوں کے درمیان جنگ زوروں پر تھی جب 14 ربیع الاول کے دن حصین کو یزید کی موت کی خبر ملی۔ حصین نے ابن زبیر کو خلافت سنبھالنے اور اس کے ساتھ شام جانے کی دعوت دی مگر ابن زبیر نے اس کی پیشکش ٹھکرادی چنانچہ حصین شام کی جانب پلٹ گیا۔[95]۔[96]۔[97]۔[98]۔[99]۔[100]

مکہ مکرمہ پر عبدالملک بن مروان کا حملہ

عبدالملک بن مروان نے سنہ 72 ہجری میں مصعب بن زبیر کو کوفہ ميں قتل کرڈالا[101] تو لوگوں کو عبداللہ بن زبیر کے خلاف جنگ کے لئے بلوایا اور 20000 شامی اور غیر شامی افراد کا لشکر حجاج بن یوسف کی سرکردگی میں مکہ روانہ کیا۔[102]۔خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag۔[103] حجاج نے طائف میں قیام کیا[104] اور عبدالملک بن مروان کی اجازت سے ایام حج میں مکہ پر حملہ کیا اور کوہ ابو قبیس پر منجنیق نصب کردی۔[105] اور شہر پر [بھاری] پتھروں کی بوچھاڑ کردی جس کی وجہ سے خانۂ خدا کو نقصان پہنچا۔[106]

"اقیشر اسدی" (شاعر) کہتا ہے: "میں نے کبھی بھی اپنی سپاہ کی طرح کوئی سپاہ نہیں دیکھی جس نے حج کے نام پر دھوکا کھایا، میں نے اپنی سپاہ جیسی مطمئن سپاہ کہیں نہیں دیکھی، ہم خانۂ خدا کی طرف آگے بڑھے اور پتھر پھینک کر غلاف کعبہ کو شادی میں ناچنے والے بچوں (اور لڑکیوں اور کنیزوں) کی مانند نچایا! روز سہ شنبہ ہم منٰی سے خانۂ خدا کی طرف روانہ ہوئے"۔۔[107] سپاہ میں شریک افراد مکہ پر آگ کے گولے پھینکنے سے گھبراتے تھے چنانچہ حجاج ان کا خوف زائل کرنے کی غرض سے خود اس کام میں شرکت کی اور انہیں کامیابی کی خوشخبری سنائی![108] جب ہر طرف سے خانہ خدا پر بجلیاں سی گرنے لگیں تو حجاج نے کہا: ان شعلوں سے مت ڈرو کیونکہ بے شک یہ تہامہ کی بجلیاں ہیں،[109] اور میں تہامہ سے تعلق رکھتا ہوں۔[110]

مروی ہے کہ جب منجنیق سے سنگ باری شروع کی گئی تو خانۂ خدا سے آہ و نالہ کی صدا سنائی دینے لگی گویا کوئی کہہ رہا ہے آہ، آہ۔[111]

کعبہ کو آگ لگ گئی اور حجاج نے گستاخی کی انتہا کرتے ہوئے خانۂ خدا پر گندگی پھینکنے سے بھی دریغ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ ابن زبیر کے ساتھیوں نے اس کو تنہا چھوڑ کر چلے گئے اور مکہ کے عوام اور حتی کہ عبداللہ بن زبیر کے دو بیٹے "حمزہ اور حبیب" نے حجاج کے پاس پہنچ کر اس سے امان مانگی۔[112] آخرکار جمادی الاول سنہ 73 ہجری میں ابن زبیر اور اس کے ساتھیوں کی استقامت ٹوٹ گئی اور مکہ پر حجاج قابض ہوا اور اس نے ابن زبیر کی لاش کو تختۂ دار پر لٹکایا اور اس واقعے میں خون ناحق کی ارزانی بھی دیکھنے میں آئی۔[113]

ابن زبیر 17 جمادی الثانی سنہ 73 ہجری کو قتل ہوا اور اس کا بھائی عروہ بھاگ کر شام میں عبدالملک بن مروان کی پناہ میں چلا گیا۔[114] بہر حال کچھ سرکاری منشیوں اور مستوفیوں نے ان واقعات اور کعبہ کے انہدام کی طرف اشارہ کئے بغیر صرف اس امر کی طرف اشارہ کیا ہے کہ گویا حجاج بن یوسف نے عبدالملک بن مروان کی طرف سے کعبہ کی تعمیر نو کی ذمہ داری سنبھالی تھی!

قرمطیوں کےہاتھوں کعبہ کی توہین اور حجرالاسود کی چوری

ذوالحجہ سنہ 317 ہجری میں قرمطیوں نے مکہ معظمہ پر حملہ کیا اور کئی روز تک اس مقدس شہر اور حرم امن میں لوٹ مار کا سلسلہ جاری رکھا اور وہاں کے باشندوں اور زائرین و حجاج کا قتل عام کیا اور مسجد اعظم اور دیگر مقامات مقدسہ میں قبیح اور توہین آمیز اعمال کے مرتکب ہوئے اور وسیع سطح پر تخریب کاریاں کیں اور آخر کار حجر الاسود کو کعبہ سے جدا کرکے اپنے نئے دارالحکومت میں لے گئے۔ 22 سال حجر الاسود کعبہ سے دور رہا اور سنہ 339 ہجری میں بڑی رقوم وصول کرکے حجر الاسود کو مکہ میں لوٹا دیا۔[115]

1987 میں حجاج کا قتل عام

تاریخ کے آغاز سے ہی حجاج بیت اللہ الحرام کو حرمین شریفین کے راستے میں مختلف قسم کے جانی اور مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا ہے جیسا کہ سنہ 1407 ہجری قمری کو حرام مہینے (ذوالحجہ) اور حرام سرزمین پر آل سعود کے وہابی حکمرانوں کے گماشتوں نے "برائت از مشرکین" کے الہی فریضے میں مصروف عمل ہزاروں حجاج کرام کو وحشیانہ یلغار کا نشانہ بنایا اور ایران اور کئی دوسرے ممالک کے سینکڑوں حجاج کرام کا قتل عام کیا۔[116]

حوالہ جات

  1. ابن منظور، لسان العرب، ج1، ص718۔
  2. خرمشاهی قوام‌الدین، کعبه در دانشنامه قرآن و قرآن‌پژوهی، ج2، ص1883۔
  3. سوره بقره، آیه 125۔
  4. سوره قریش، آیه 3۔
  5. سوره مائده، آیه 97۔
  6. سوره حج، آیات 29 و 33۔
  7. سوره ابراهیم، آیه 37۔
  8. خرمشاهی قوام‌الدین، کعبه، در دانشنامه قرآن و قرآن‌پژوهی، ج2، ص1883۔
  9. مشایخ فریدنی، محمدحسین، کعبه، در دایرةالمعارف تشیع، ج14، ص118۔
  10. الأنصاري، التاریخ المفصل للکعبة المشرفة، ص7۔
  11. خرمشاهی، قوام الدین، کعبه، در دانشنامه قرآن و قرآن‌پژوهی، ج2، ص1883۔
  12. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج1، صص 81 و 82۔
  13. ابن کثیر، البدایة والنهایة، ج1، ص378۔
  14. طبری، تاریخ الطبري، ج1، ص251۔
  15. سوره بقره، آیه 127۔
  16. ابو ولید الازرقی، أخبار مكة وما جاء فیها من الآثار، ج1، ص68۔
  17. ابن کثیر، البدایة والنهایة، ج1، ص379۔
  18. ابن کثیر، وہی ماخذ، ج3، ص475۔
  19. خرمشاهی قوام الدین، کعبه، در دانشنامه قرآن و قرآن‌پژوهی، ج2، ص1883۔
  20. هندی، تاریخ کعبه و مسجدالحرام، ص120۔
  21. هندی، تاریخ کعبه و مسجدالحرام، ص121۔
  22. الدقن، کعبه و جامه آن از آغاز تاکنون، ص59۔
  23. تاریخ کعبه و مسجدالحرام، ص124 ۔
  24. الکلینی الرازی، الكافي ج4، ص222۔
  25. صدوق، علل الشرائع، ص448-449۔
  26. ابن شهر آشوب، مناقب آل ابی طالب، ج3، ص281-282۔
  27. المجلسی، بحارالانوار، ج 46، ص 115، ح1۔
  28. المجلسی، بحارالانوار، ج46، ص32، ح25۔
  29. الراوندي، الخرائج و الجرائح، ج1، ص268۔
  30. الراوندي، وہی ماخذ۔
  31. الحسینی الکاشانی، مفرحة الانام في تأسيس المسجد الحرام، ص12۔
  32. المجلة الشهرية "العربي" العدد 300، صص151ـ144۔
  33. حوالۂ: مجله "میقات حج" - تابستان 1376، شماره 20 - گزارشی از دو بازسازی کعبه و مسجد الحرام۔
  34. تاريخچه بناي بخش هاي مسجد الحرام۔
  35. الكعبة المُشرفة من الخارج۔
  36. الكعبة المُشرفة من الداخل۔
  37. ركن يمانى۔
  38. المفید، الارشاد، ج 1، ص5۔
  39. مسعودی، مروج الذهب اور معادن الجوہر، ج2، ص349۔
  40. امینی، الغدیر، ج6، ص21-23۔
  41. القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، ج2، ص394۔
  42. مسرد أوليات الكعبة المشرفة ۔
  43. کلینی، الکافی، ج4، ص215، ح1۔
  44. حر عاملی، وسائل الشیعه، ج9، ص324۔
  45. عسقلانی، فتح الباری، ج3، ص585۔
  46. عسقلانی، وہی ماخذ۔
  47. ازرقی، اخبار مکه، ج2، ص250-249۔
  48. ابن حجر عسقلاني، فتح الباری، ج3، ص586۔
  49. صدوق، من لايحضره الفقيه، ج2، ص232 و ص235، ص286۔
  50. ازرقی، اخبار مکہ، ج2، ص253۔
  51. عسقلانی، فتح الباری، ج3، ص585۔
  52. ابن هشام، السیرة النبویة، ج2، ص211۔
  53. مقریزی، الخطط، ج1، ص338۔
  54. فاسی، شفاء الحرام، ج1، ص120۔
  55. قلقشندی، صبح الاعشی، ج4، ص280
  56. ازرقی، اخبار مکه، ج2، ص255۔
  57. فاسی، شفاء الحرام، ج1، ص120۔
  58. قلقشندی، صبح الاعشی، ج4، ص280۔
  59. ابن هشام، السیرة النبویة، ج1، ص25، پاورقي شماره 4.
  60. عسقلانی، فتح الباری، ج3، ص587 پاورقی۔
  61. عسقلانی، وہی ماخذ۔
  62. فاسی، عقد الثمین، ج1، ص58۔
  63. قلقشندی، صبح الاعشی، ج4، ص281۔
  64. ابن ظهیر، جامع اللطیف، ص107۔
  65. پايگاه اطلاع رساني حج؛ مجله میقات حج زمستان 1377 - شماره 26 جامه کعبه معظمه در طول تاریخ - 2۔
  66. كسوة الكعبة۔
  67. بخاری، صحیح بخاری، ص380، ح1592۔
  68. سعد بن حسین عثمان و عبدالمنعم ابراهیم الجمیعی، الاعتداءات علی الحرمین، ص18-19۔
  69. سعد بن حسین عثمان و عبدالمنعم ابراهیم الجمیعی، وہی ماخذ، ص23-24۔
  70. ابن اثیر، الکامل في التاریخ، ج1، ص342-345۔
  71. سعد بن حسین عثمان و عبدالمنعم ابراهیم الجمیعی، الاعتداءات علی الحرمین، ص18-19۔
  72. ابن اثیر، الکامل في التاریخ، ج1، ص342۔
  73. ابن هشام، السیرة النبویه، ج1، ص33 اور بعد کے صفحات/
  74. رجوع کریں: تمام شیعہ اور سنی تفاسیر۔
  75. دینوری، اخبارالطوال، ص63۔
  76. شفیعی کدکنی، آفرینش‏ وتاریخ، ج‏1، ص532۔
  77. شیخ مفید، الارشاد في معرفة حجج الله علی العباد، ج1، ص5۔
  78. حاکم نیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص593۔
  79. مسعودی، مروج الذهب ومعادن الجوهر، ج2، ص358۔
  80. طبری، تاریخ الطبري، ج2، ص290۔
  81. ابن کثیر، البدایة والنهایة، ج3، ص487۔
  82. ابن جوزی، المنتظم في تاریخ الملوک و الامم، ج2، ص324-325۔
  83. مسعودی، مروج الذهب و معادن الجوهر، ج2، ص278-279۔
  84. ابن کثیر، البدایة والنهایة، ج11، ص634۔
  85. سعد بن حسین عثمان و عبدالمنعم ابراهیم الجمیعی، الاعتداءات علی الحرمین الشریفین، ص34-35۔
  86. الدينوري، الاخبار الطِّوال، ص246۔
  87. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج2، ص251۔
  88. الطبری، وہی ماخذ، ج5، ص484۔
  89. الطبری، وہی ماخذ، ج5، ص490۔
  90. الطبری، وہی ماخذ، ج5، ص496۔
  91. تاریخ طبری، ج5، ص497۔
  92. تاریخ طبری، ج5، ص497-499۔
  93. کتاب الفتوح، ج5، ص164۔
  94. مروج الذهب، ج3، ص270۔
  95. دینوری، الاخبار الطِّوال، ص268۔
  96. الیعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج2، ص253۔
  97. الطبری، تاریخ طبری، ج5، ص498۔
  98. الطبری، تاریخ طبری، ج5، ص501-502۔
  99. المسعودی، مروج الذهب، ج3، ص281۔
  100. اس سلسلے میں مزید معلومات کے لئے رجوع کریں: تاریخ طبری، کامل ابن اثیر، تاریخ سیاسی اسلام، حسن ابراهیم حسن۔
  101. بهار، مجمل التواریخ والقصص، ص300۔
  102. یعقوبى، تاریخ یعقوبى، ج2، ص266۔
  103. ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج4، ص121 اور بعد کے صفحات۔
  104. طبری، تاریخ طبری، ج5، ص20۔
  105. دینوری، اخبار الطوال، ص304 اور بعد کے صفحات۔
  106. بلاذری، فتوح البلدان، ص54۔
  107. دینوری، اخبار الطوال، ص304۔
  108. طبری، تاریخ طبری، ج5، ص29-30۔
  109. واعظ خرگوشی، وہی ماخذ، ص335۔
  110. طبری، تاریخ طبری، ج5، ص30۔
  111. واعظ خرگوشی، شرف النبی(ص)، ص339۔
  112. مستوفى قزوینى، تاریخ گزیده، ص273۔
  113. بهار، تاریخ سیستان، ص109۔
  114. دینوری، أبو حنيفة، اخبار الطوال، ص304 اور بعد کے صفحات۔
  115. دفتری، خرافات الحشاشين وأساطير الإسماعيليين، صص42۔
  116. جمعه خونین۔



مآخذ

  • دانشنامه قرآن و قرآن پژوهی، ج2، به کوشش بهاء الدین خرمشاهی، تهران: دوستان-ناهید، 1377 ه‍ ش
  • دایرةالمعارف تشیع، جلد چهاردهم، انتشارات حکمت، 1390 ه‍ ش
  • قرآن کریم، اردو ترجمہ: سید علی نقی نقوی (لکھنوی)
  • ابن اثیر، الکامل في التاریخ، تحقیق:ابي الفداء عبدالله القاضي، بیروت: دارالکتب العلمیة، 1407 ه‍
  • ابن اعثم کوفی، محمدبن علی (م 314 ه‍ ق)، کتاب الفتوح (ترجمه فارسی: محمدبن احمد مستوفی هروی)، مصحح غلامرضا طباطبائی مجد، تهران، شرکت انتشارات علمی و فرهنگی ، 1374 ه‍ ش
  • ابن جوزی، المنتظم في تاریخ الملوک و الامم، تحقیق: محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت: دارلکتب العلمیة، 1412 ه‍
  • ابن حجر عسقلاني، احمد بن علي، فتح الباري في شرح صحيح البخاري، بيروت: دارالكتب العلميه، چاپ اول، 1410ه‍
  • ابن کثیر، البدایة والنهایة، نحقیق: دکتر عبدالله بن عبدالمحسن الترکي، مصر: هجر للطباعة والنشر والتوزيع والاعلان، 1997 ع‍
  • ابن منظور، لسان العرب، قم: نشر ادب الحوزة، محرم 1405 ه‍
  • ابن هشام، عبدالملک، السيرهْ النبوّيهْ، بيروت: داراحياء التراث العربي، (بي‌تا)
  • ابو ولید الازرقی، أخبار مکة و ما جاء فیها من الآثار، تحقیق: عبدالملک بن عبدالله بن دهیش، مکتبة الأسدي، 1424 ه‍
  • الأزرقي، أبو الوليد محمد بن عبد الله بن أحمد، أخبار مكة وما جاء فيها من الآثار، المحقق: عبد الملك بن عبد الله بن دهيش، مكتبة الأسدي مكة المكرمة 1424 ه‍ / 2003 ع‍
  • الأنصاري، عبد القدوس، التاريخ المفصل للكعبة المشرفة، نادي مكة الثقافي الأدبي، 1418 - 1419 ه‍
  • بخاری، صحیح بخاری، بیروت، دارالفکر، 1421 ه‍
  • البلاذري، أحمد بن يحيى بن جابر، فتوح البلدان، الدكتور صلاح الدين المنجد، نشره ووضع ملاحقه وفهارسه ملتزمة النشر والطبع مكتبة النهضة المصرية، القاهرة مطبعة لجنة البيان العربي۔
  • حاکم النیسابوری، المستدرک علی الصحیحین، مصر: دارالحرمین للطباعة و النشر و التوزیع، 1417 ه‍
  • الحرالعاملي، محمد بن الحسن، وسائل الشيعه، بيروت: دارالاحياء التراث العربي، چاپ پنجم، 1403ه‍
  • الحسینی الکاشانی، زین العابدین بن نورالدین، مفرحة الانام فی تأسیس بیت الله الحرام؛ تحقیق عمارعبودی نصار، حیدر لفته مال الله نشر : تهران: مشعر، 1386 ه‍ ش
  • دفتری، فرهاد، خرافات الحشاشين وأساطير الإسماعيليين، (The Assassin Legends Myths of the Isamailis)، مترجم عربی: سیف الدین القصیر، دار المدی للثقافة والنشر سوريا و لبنان 1996 ع‍
  • الدقن، محمد، کعبه وجامه آن از آغاز تا کنون/ (كسوة الكعبة المعظمة عبر التاريخ) مترجم و محقق: هادی انصاری؛ [حوزه نمایندگی ولی فقیه در امور حج و زیارت]، تهران: نشر مشعر، 1383 ه‍
  • الدينوري، أبو حنيفة أحمد بن داوُد، الأخبار الطوال، المصحح وضابط ألفاظه: محمد سعيد الرافع و الشيخ محمد الخضري، مطبعة السعادة بمصر الطبعة الأولى 1330 ه‍
  • سعد بن حسین عثمان و عبدالمنعم ابراهیم الجمیعی، الاعتداءات علی الحرمین الشریفین عبر التاریخ، 1992 ع‍
  • شفیعی کدکنی، محمدرضا، آفرینش و تاریخ، (ترجمه فارسی کتاب البدء والتاریخ المطهر بن طاهر المقدسي) چاپ نیل، تهران چاپ اول 1374 ه‍ ش
  • صدوق، محمد بن علي بن الحسين، من لايحضره الفقيه، قم: مؤسسة النشر الاسلامي، 1404ه‍
  • الطبري، محمد بن جرير، تاريخ الامم والملوك، " بريل " بمدينة ليدن في سنة 1879 ع‍ منشورات مؤسسة الاعلمي للمطبوعات بيروت - لبنان 1403 ه‍ و نسخه طبع: محمد ابوالفضل ابراهیم، مصر: دارالمعارف، 1968 ع‍
  • القرطبی، الجامع لاحکام القرآن، بیروت، مؤسسة الرسالة، 2006 ع‍
  • القلقشندي، أبو العباس أحمد بن علي بن أحمد، صبح الأعشی، مطبعة دارالكتب المصرية بالقاهرة 1340 ه‍ / 1922 ع‍
  • كليني، محمد بن يعقوب، الكافي، تهران: دارالكتب الاسلاميّه، چاپ سوم، 1367 ه‍ ش
  • المجلة الشهرية "العربي"، مطبوعة في الكويت العدد 300، نوفمبر 1983 م / محرم الحرام 1404 ه‍
  • مسعودی، مروج الذهب و معادن الجوهر، تحقیق: محمد محیی الدین عبدالحمید، بیروت: دارالفکر، 1973ع‍ و قم: منشورات دار الهجرة، 1363 ه‍ ش/1404 ه‍ ق/1984 ع‍
  • مفید، شیخ محمد بن محمد، الارشاد في معرفة حجج الله علی العباد، قم: مؤسسة آل البیت لإحیاءالتراث، 1416 ه‍
  • مستوفی قزوینی، حمد الله بن ابن ابی ‌بكر بن احمد بن نصر(قرن ۸ ه‍)، تحقیق: عبدالحسین نوایی، تهران انتشارات امیر كبیر، 1339 ه‍ ش
  • ملك الشعراء بهار، محمد تقی (مصحح)، تاریخ سیستان، (مجهول المؤلف)، به همت محمد رمضانی، تهران : مؤسسه خاور، 1314 ه ش
  • ملك الشعراء بهار، محمد تقی (محقق)، مجمل التواريخ والقصص، (مجهول المؤلف)، (سال تالیف: 520 ه‍)، تهران، کلاله خاور، بى تا
  • واعظ خرگوشی، ابو سعيد عبد الملك بن محمد النيسابوري (م ۴۰۷ ه‍)، شرف المصطفی صلی اللہ علیه وآله، ت محمد روشن، حسین رضوی برقعی، ‏تهران ـ ماهی، ‏‏‏1387 ه‍ ش
  • هندی، مبارک علی، تاریخ کعبه و مسجدالحرام، کتابخانه ملی ملک تهران شماره 3746، (فهرست کتابخانه، ج7، ص35)، مکه مکرمه 1254 ه‍، ترجمه حسین واثقی. بهار 1389 ه‍ ش
  • اليعقوبي، أحمد بن أبي يعقوب بن جعفر، تاريخ اليعقوبي، مؤسسه ونشر فرهنگ اهل بيت (ع) - قم ۔ دار صادر بيروت 1379 ه‍ / 1960 ع‍