دار الندوہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

دارُ النَّدْوَۃ، عصر جاہلیت کے دوران سعودی عرب کے شہر مکہ میں قریش کے اکٹھے ہونے کی جگہ ہے جہاں وہ اہم مسائل کے متعلق مشورے اور فیصلے کیا کرتے تھے جیسے خُزاعہ اور بنی ہاشم کا معاہدہ، حِلف الفضول کے ابتدائی معاملات اور پیامبر اسلام(ص) کے قتل جیسے پروگرام یہیں ترتیب دیئے گئے۔

تعارف

لغوی معنا

ندوہ کا لفظ ن د و سے اکٹھے ہونے اور جمع ہونے کے معنا میں ہے۔[1]

تأسیس

یہ عمارت قُصَی بن کلاب کی ملکیت تھی[2] اہل عرب نے تاسیس میں قصی کی اس نئی ایجاد اور قبائل قریش کو اکٹھے کرنے کی وجہ سے مُجَمِّع لقب دیا گیا۔[3]

دار الندوہ قصی کا گھر تھا [4] جو مسجدالحرام کے ساتھ غربی سمت میں واقع تھا اور اس کا دروازہ کعبہ کی جانب کھلتا تھا۔[5]

دار الندوہ کی عمارت قریش کے مشورہ کرنے کی جگہ تھی جہاں وہ اپنے سیاسی اور اجتماعی مسائل کے بارے میں مشورہ کرتے تھے۔ اعلان جنگ، ازدواج، بیٹیوں کے بلوغ کے اعلان اور انہیں لباس پہنانے اور بیٹوں کے ختنے جیسے تمام کام اسی جگہ انجام دیے جاتے تھے۔ اسی طرح مکہ کے تجاری قافلوں کے آنے اور جانے کا نقطۂ آغاز و اختتام بھی دار الندوہ ہی تھا۔[6]

قصی نے اس دار الندہ کی بنیاد رکھ کر حقیقت میں مکہ میں شہری زندگی کی بنیاد رکھی،[7] کیونکہ کعبہ کے علاوہ اسی دار الندوہ کو تعمیر کیا گیا دیگر افراد نے اسی کو دیکھتے ہوئے اپنے گھروں کی تعمیرات انجام دیں۔[8]

ارکان

قصی کی ساری اولاد اس کی ارکان تھی لیکن قریش کے دیگر گروہ ۴۰ سال کی عمر کے بعد اس کے عضو بن سکتے تھے ہر چند کہا گیا ہے کہ ابوجہل کو ۳۰ سال میں ہی اس کا عضو مان لیا گیا۔[9]

قصی کے بعد

قصی کی وفات کے بعد دار الندوہ کی سرپرستی اس کے بیٹے عبدالدار کے پاس پہنچی[10]اور اس کے بعد عبدالدار اور عبد مناف کے بیٹوں کے درمیان سرپرستی کے اختلافات کے بعد آخر کار عبدالدار کے بیٹوں کے حصے میں اس کی سرپرستی آئی۔[11] یہانتک کہ حکیم بن حزام نے دار الندوہ کو منصور بن عامر بن ہشام بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصی سے خرید لیا۔[12] پھر عکرمۃ بن ہشام نے حکیم بن حزام سے خرید لیا۔[13] اسلام کے بعد ۱۰۰ ہزار درہم کے بدلے میں معاویہ (حکـ: ۴۱۶۰) کو بیچ دیا۔[14] معاویہ نے دار الندوہ کو مکہ کا دارالامارہ بنا دیا۔[15]

اس کے بعد امویوں اور عباسیان کے ابتدائی دور میں حج کے موسم میں خلفا کی اقامت گاہ رہا۔[16] اسی دوران ہارون عباسی (حکـ: ۱۷۰۱۹۳) نے اقامت کیلئے ایک نئی عمارت کی تعمیر کا حکم دیا ۔اس عمارت کی تعمیر کے بعد دار الندہ ویران ہو گیا۔

تیسری صدی ہجری کے آواخر میں المعتضد باللہ (خلیفہ عباسی) کے دوران اس عمارت کی دوبارہ تعمیرات اور مرمت کا کام ہوا اور اس میں نئے ستونوں اور طاقچے بنا کر مسجد الحرام کے ساتھ ملحق کر دئے گئے اور وہ مسجد الحرام کا حصہ شمار ہونے لگے۔[17]

اہم فیصلے

دار الندوہ میں ہونے والے بعض تاریخ ساز فیصلے:

حوالہ جات

  1. خلیل بن احمد، ج۸، ص۷۶، ذیل «‌ندو”؛ ابن درید، ۱۹۸۷ – ۱۹۸۸، ج۲، ص۶۸۶؛ جوہری ذیل «‌ندا‌»
  2. ابن سعد، ج۱، ص۵۲؛ طبری، ج۲، ص۲۵۹
  3. ابن کلبی، ج۱، ص۲۵؛ ابن قتیبہ، ص۷۰
  4. ابن ہشام، ج۱، ص۱۳۷، ج۲، ص۱۲۴؛ ابن اثیر، ج۲، ص۱۰۲
  5. ابن سعد، ہمانجا؛ اصطخری، ص۱۸
  6. خلیل بن احمد، ہمانجا؛ ابن ہشام، ج۱، ص۱۳۷؛ ابن سعد، ہمانجا؛ یعقوبی، ج۱، ص۲۴۰؛ طبری، ج۲، ص۲۵۹ - ۲۶۰
  7. زریاب، ص۴۲
  8. بلاذری، ص۵۲؛ یعقوبی، ج۱، ص۲۳۹
  9. ابن درید، ۱۳۹۹، ج۱، ص۱۵۵؛ زریاب، ص۴۲
  10. ابن سعد، ج۱، ص۵۵
  11. ہمان، ج۱، ص۵۸ – ۵۹؛ ابن اثیر، ج۲، ص۲۲
  12. مصعب بن عبداللہ، ص۲۵۴
  13. ابن حزم، ص۱۲۷
  14. ابن کلبی، ج۱، ص۶۶؛ ابن حبیب، ص۲۱؛ قس ابن حزم، ص۱۲۱، معتقد ہے کہ معاویہ نے اسے خود حکیم بن حزام سے خریدا۔
  15. ابن سعد، ج۱، ص۵۹؛ ابن حبیب، ہمانجا
  16. ابن سعد، ج۱، ہمانجا
  17. ابن اثیر، ج۲، ص۲۳؛ ابن عبدالحق، ج۲، ص۵۰۸
  18. ابن مسعود، ج۱، ص۶۶؛ ابن حبیب، ص۸۹
  19. مسعودی، ج۳، ص۹
  20. ابن ہشام، ج۲، ص۱۲۴؛ ابن سعد، ج۱، ص۱۹۳ - ۱۹۴

مآخذ

  • یہ مقالہ دانش نامہ جہان اسلام ج۱۶ سے لیا گیا ہے.
  • ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، ۱۳۸۵ – ۱۳۸۶ / ۱۹۶۵ – ۱۹۶۶، چاپ افست ۱۳۹۹ – ۱۴۰۲ / ۱۹۷۹ - ۱۹۸۲؛
  • ابن حبیب، کتاب المُنَمَّق فی اخبار قریش، چاپ خورشید احمد فاروق، حیدرآباد، دکن ۱۳۸۴ / ؛۱۹۶۴
  • ابن حزم، جمہرۃ انساب العرب، بیروت، ۱۴۰۳ / ۱۹۸۳؛
  • ابن درید، کتاب الاشتقاق، چاپ عبدالسلام محمد ہارون، بغداد۱۳۹۹ / ۱۹۷۹؛
  • _____، کتاب جمہرۃ اللغۃ، چاپ رمزی منیر بعلبکی، بیروت، ۱۹۸۷ – ۱۹۸۸؛
  • ابن سعد، کتاب الطبقات الکبیر، چاپ علی محمد عمر، قاہرہ ۱۴۲۱ / ۲۰۰۱؛
  • ابن عبدالحق، مراصد الاطلاع، چاپ علی محمد بجاوی، بیروت ۱۳۷۳ – ۱۳۷۴ / ۱۹۵۴ – ۱۹۵۵؛
  • ابن قتیبہ، المعارف، چاپ ثروت عکاشہ، قاہرہ ۱۹۶۹؛
  • ابن کلبی، جمہرۃ النسب، ج۱، چاپ ناجی حسن، بیروت ۱۴۰۷ / ۱۹۸۶؛
  • ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، چاپ مصطفی سقا، ابراہیم ابیاری، و عبدالحفیظ شلبی، قاہرہ ۱۳۵۵ / ۱۹۳۶، چاپ افست بیروت [بی تا]؛
  • ابراہیم بن محمد اصطخری، مسالک و ممالک، ترجمہ فارسی قرن پنجم / ششم ہجری، چاپ ایرج افشار، تہران ۱۳۴۰ش، ۱۳۴۷ش، ۱۳۶۸ش؛
  • احمد بن یحیی بلاذری، کتاب فتوح البلدان، چاپ دخویہ، لیدن ۱۸۶۶، چاپ افست فرانکفورت ۱۴۱۳ / ۱۹۹۲؛
  • اسماعیل بن حماد جوہری، الصحاح: تاج اللغۃ و صحاح العربیۃ، چاپ احمد عبدالغفور عطار، بیروت [بی تا]، چاپ افست تہران ۱۳۶۸ش؛
  • خلیل بن احمد، کتاب العین، چاپ مہدی مخزومی و ابراہیم سامرائی، قم۱۴۰۵؛
  • عباس زریاب، سیرۀ رسول اللہ: از آغاز تا ہجرت، تہران ۱۳۷۶ش؛
  • محمد بن جریر طبری، تاریخ الطبری: تاریخ الامم و الملوک، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت ۱۳۸۲ – ۱۳۸۷ / ۱۹۶۲ - ۱۹۶۷؛
  • علی بن حسین مسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، چاپ شارل پلّا، بیروت ۱۹۶۵ - ۱۹۷۹؛
  • مصعب بن عبداللہ، کتاب نسب قریش، چاپ لوی پرووانسال، قاہرہ ۱۹۵۳؛
  • احمد بن اسحاق یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، بیروت: دار صادر [بی تا]، چاپ افست قم [بی تا].
  • EI, s.v. "Dar al-Nadwa" (by R. Paret).