اجماع

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اصحاب اجماع

امام باقرؑ کے اصحاب
۱. زُرارَۃ بن اَعین
۲. مَعروفِ بنِ خَرَّبوذ
۳. بُرَید بن معاویہ
۴. ابوبصیر اَسَدی یا (ابوبصیر مرادی)
۵. فُضَیل بن یسار
۶. محمد بن مُسلِم

امام صادقؑ کے اصحاب
۱. جَمیل بن دَرّاج
۲. عبداللہ بن مُسکان
۳. عبداللہ بن بُکَیر
۴. حَمّاد بن عثمان
۵. حماد بن عیسی
۶. اَبان بن عثمان

امام کاظمؑ اور امام رضاؑ کے اصحاب
۱. یونس بن عبد الرحمن
۲. صَفوان بن یحیی
۳. اِبن اَبی عُمَیر
۴. عبداللہ بن مُغَیرِہ
۵. حسن بن محبوب یا (حسن بن علی بن فَضّال، فَضالَۃ بن ایوب و عثمان بن عیسی)
۶. احمد بن ابی نصر بزنطی

اجماع ایک فقہی اصطلاح ہے جو کسی شرعی حکم پر دینی علماء کے اتفاق کو کہا جاتا ہے۔ اہل سنت کے ہاں اس کی خاص اہمیت ہے اور اسے کتاب اور سنت کے مقابلے میں استنباط اور اجتہاد کیلئے ایک مستقل دلیل قرار دیتے ہیں۔ اسی بنا پر سیاسی مسائل میں بھی وہ معاشرے کے سیاہ و سفید کے مالک اشخاص (اہل حل و عقد)، کے اتفاق کو حجت سمجھتے ہیں اور حضرت ابوبکر کی خلافت پر وہ اسی اجماع کے ذریعے دلائل قائم کرتے ہیں۔

اہل سنت کے برخلاف اہل تشیع اجماع کو من حیث اجماع معتبر نہیں سمجھتے ہیں بلکہ اجماع کی حیثیت صرف اس صورت میں ہے کہ اس کے ذریعے معصوم علیہ السلام کی سنت تک رسائی حاصل ہو یعنی سنت کو کشف کرے تو اجماع حجت ہے اگر اس سے سنت کشف نہ ہو تو اجماع حجت نہیں ہے۔

اجماع کو بعض علماء قاعدہ لطف کی بنا پر اور بعض حدس کی بنا پر معتبر سمجھتے ہیں۔ اجماع کی کئی قسمیں ہیں جیسے اجماع منقول، محصّل اور اجماع مرکب۔

لغوی اور اصطلاحی معنی

لغوی معنی

اجماع "ج ـ م ـ ع" کے مادہ سے ہے اور یہ مادہ ایک چیز کا دوسری چیز سے مخلوط کرنے اور ایک کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ [1] بنا بر این "اجماع" کے معنی لغوی اعتبار سے کسی چیز پر اتفاق نظر قائم کرنے کے ہیں۔[2]

اصطلاحی معنی

مسلمان علماء کی اصطلاح میں اجماع کی مختلف تعریف ہوئی ہے جن میں سے کچھ یوں ہے:

اجماع کی تعریف میں اختلاف کا سبب اجماع کرنے والے افراد کی حقیقت اور حیثیت میں موجود اختلاف کی وجہ سے ہے۔ اسلامی مذاہب میں سے ہر ایک نے اس حوالے سے مختلف مصادیق ذکر کئے ہیں یہاں تک کہ اس بارے میں بعض عجیب و غریب اقوال بھی فقہی اور اصولی کتابوں میں موجود ہیں مثلا بعض کہتے ہیں کہ اجماع کرنے والوں کا تعلق حرمین (مکہ اور مدینہ) سے ہونا چاہئے ایک دوسرے قول کے مطابق ان کا تعلق اہل مصرین یعنی کوفہ اور بصرہ سے یا یشخین یا خلفاء اربعہ وغیرہ میں سے ہونا چاہئے۔ اس طرح کے دوسرے اقولا۔

حیثیت

اجماع کا شمار احکام شرعی کے استنباط میں بروئے کار آنے والی ادلہ اربعہ میں ہوتا ہے اور علم اصول کی امارات کی بحث میں مختلف حوالے سے اس سے بحث ہوتی ہے۔

اہل سنت کے ہاں اجماع ایک مستقل دلیل کی حیثیت رکھتی ہے اور ادلہ اربعہ میں سے ایک مستقل دلیل کے طور پر احکام کے استنباط میں اس کو دلیل قرار دیتے ہیں اسی وجہ سے ان کے ہاں اجماع کی بہت زیادہ اہمیت پائی جاتی ہے اور انہیں اہل سنت و الجماعت اسی وجہ سے کہا جاتا ہے۔ [5]

لیکن اہل تشیع اجماع کو قرآن اور سنت کے مقابلے میں ایک مستقل دلیل شمار نہیں کرتے بلکہ اسے معصوم علیہ السلام کے قول کو کشف کرنے کا ایک ذریعے جانتے ہیں اور صرف اسی صورت میں اسے حجت قرار دیتے ہیں ورنہ اجماع من حیث اجماع کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔[6]

حجیت

علم اصول فقہ کے علماء کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ اجماع کی حجیت کو قرآن، سنت اور عقل کی رو سے ثابت کیا جائے۔ اس حوالے سے جن آیات سے یہ حضرات تمسک کرتے ہیں وہ سورہ نساء کی آیت نمبر 115 ہے جس میں مؤمنین کی اتباع اور پیروی کرنے کو تخلف ناپذیر قرار دیا گیا ہے اسی طرح سورہ بقرہ کی آیت نمبر143 اور سورہ آل عمران کی آیت نمبر110 ہے جن میں پیغمبر کی امت کی تعریف کی گئی ہے۔ لیکن بعض محققین کا خیال ہے کہ ان آیات میں سے کوئی ایک بھی اجماع کی حجیت کو صراحیت سے بیان نہیں کرتی اسی بنا پر بعض حضرات اجماع کی حجیت کو ثابت کرنے کے حوالے سے ان آیات سے استدلال کرنے کو مخدوش سمجھتے ہیں۔ [7]

معصوم کی رائے کشف ہونا

اجماع کے ذریعے معصوم علیہ السلام کی رائ کو کشف کرنے کے حوالے سے علماء کے درمیان اختلاف نظر پایا جاتا ہے:

  • قاعدہ لطف کی بنا پر: قاعدہ لطف کا تقاضا ہے کہ خداوند عالم اپنے بندوں پر لطف کرتے ہوئے انہیں سعادت کے راستے کی ہدایت اور گمراہی سے نچات دے۔ اس بنا پر اگر امت اسلام یا علماء اور فقہاء کسی ایک مسئلے یا حکم پر غلطی سے اتفاق کررہے ہوں تو یہ معصوم کی ذمہ داری ہے کہ کسی نہ کسی طرح ان کو اپنی غلطی سے آگاہ کیا جائے اور یہ کام ان علماء اور فقہاء میں سے کسی ایک کے نظریے میں دوسروں سے مختلف نظریہ ایجاد کرنے کے ذریعے سے بھی انجام دیا جاسکتاہے اس طرح تمام علماء کا کسی غلط حکم پر اتفاق کرنے سے روکا جا سکتا ہے اور جب ایسا نہ ہو اور ایک زمانے کے تمام علماء کسی ایک حکم پر متفق ہونا اور کسی کی مخالفت نہ کرنا ہی شارع مقدس کے ہاں اس حکم کے صحیح ہونے کی علامت ہے۔ اس طرح علم فقہ میں اس اجماع کو اجماع لطفی سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کے موجد شیخ طوسی علیہ رحمہ ہیں۔
  • اجماع حسی یا اجماع دخولی: اس بحث میس حس سے مراد یہ ہے کہ انسان کو یقین حاصل ہو کہ اجماع کرنے والوں کے درمیان معصوم علیہ السلام بھی موجود تھے۔ یہ اطمینان تین راستوں سے حاصل ہوسکتے ہیں:
  1. اجماع کرنے والوں میں سے کسی ایک کا امام معصوم کے ساتھ ملاقات کرنا اور آنحضرت سے حکم کو اجماع کی شکل میں بیان کرنا اسے "اجماع تشرفی" کہا جاتا ہے۔
  2. فقہا کا ایک گروہی امام کے سامنے کسی حکم شرعی پر اتّفاق کریں اور امام علیہ السلام ان کے اس اتفاق کی تقریر کے ذریعے تائید کرے۔
  3. فقہاء کسی حکم پر اس طرح متفق ہوں کہ اس سے امام معصوم(ع) بھی ان کے درمیان موجود ہونے پر علم حاصل ہو اگرچہ شخصا امام علیہ السلام پہچانا نہ جائے اس قسم کے اجماع کو " اجماع دخولی" کہا جاتا ہے سید مرتضی علیہ رحمہ اس نظریے کے قائل تھے۔[8]
  • اجماع حدسی: اس سے مراد یہ ہے کہ چونکہ اکثر مسائل میں علماء ایک دوسرے سے اختلاف نظر رکھتے ہیں اور جب کسی مسئلے میں تمام کے تمام علماء متفق ہو تو اس سے یہ اطمنان حاصل ہوجاتا ہے کہ ضرور ان علماء کا نظریہ معصوم علیہ السلام کے کسی قول یا فرمان پر اعتماد کرتے ہوئے سب نے یہ نظریہ دیا ہے۔ اس اجماع کو "اجماع حدسی" کہا جاتا ہے۔ متاخرین نے جہاں جہاں بھی اجماع کا دعوا کیا ہے اس سے مراد اسی قسم کا اجماع مراد ہے جبکہ قدماء کے اقوال میں موجود اجماع سے مراد اجماع حسی ہے۔
  • اجماع تقریری:اس اتفاق نظر کو کہا جاتا ہے جو کسی معصوم کی زندگی میں قائم ہوا ہو اور معصوم علیہ السلام نے اس اجماع کی مخالفت نہ کی ہو۔ [9]

اقسام

فقہا اور اصولیوں نے اجماع کی مختلف اقسام بیان کی ہیں:[10]

  • اجماع محصّل، اس اجماع کو کہا جاتا ہے جو خود فقیہ کے جستجو کے ذریعے وہ اس تک پہنچا ہے۔ اس میں اجماع کا دعوا کرنے والا فقیہ علماء اور فقہاء کے اقوال اور نظریوں میں جستجو اور تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہچتا ہے کہ اس مسئلے میں تمام علماء متفق القول ہیں۔
  • اجماع منقول، اس اجماع کو کہا جاتا ہے جسے خود فقیہ نے اپنی تحقیق کے ذریعے حاصل نہیں کیا بلکہ کسی اور فقیہ جس نے یہ اجماع حاصل کیا ہے، سے با واسطہ یا بدون واسطہ نقل کرے ۔ [11]
  • اجماع بسیط، یہ ہے کہ تمام فقہا کسی حکم پر ایک ہی فتوا دیں جیسے سب فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ حرام گوشت حیوان کا مدفوع نجس ہے۔ فقہ میں موجود اکثر اجماع اسی نوعیت کے ہیں۔
  • اجماع مرکب، یہ اس اجماع کو کہا جاتا ہے جو دو یا دو سے زیادہ نظریات کے آپس میں ضمیمے سے حاصل ہوتا ہے جس کا لازمہ کسی دوسرے قول یا نظریے کا نفی ہونا ہے۔ دوسرے لفظوں میں کبھی کبھار ایک زمانے کے فقہاء کسی چیز کے بارے میں دو یا اس سے زیادہ نظریات کے قائل ہوتے ہیں مثلا ایک چیز کے بارے میں بعض فقہاء حرمت اور بعض فقہاء کراہت کے قائل ہوتے ہیں ان دونوں نظریوں کو آپ میں ملانے سے یہ نتیچہ ملتا ہے کہ تمام فقہاء متفق ہیں اس بات کے اوپر کہ یہ چیز واجب اور مستحت نہیں ہو سکتی۔
  • اجماع تعبّدی، اس اجماع کو کہا جاتا ہے جس کا مآخذ معلوم نہ ہو۔ فقہ میں موجود معروف اجماع سے مراد یہی ہے اور جب اجماع کو بغیر کسی قید و شرط کے استعمال کیا جاتا ہے تو اس سے مراد یہی قسم ہوا کرتی ہے۔
  • اجماع مدرکی، اس اجماع کو کہا جاتا ہے جس کا مآخذ معلوم اور مشخص ہو. [12]
  • اجماع عملی، علماء اور مجتہدین کا کسی اصولی مسئلہ یا سیرت پر عملا متفق ہونا [13] اس طرح کہ احکام کے استنباط میں اس اصولی مسئلہ پر اعتماد کرے، جیسے فقہ کے مختلف ابواب میں استصحاب پر عمل کرنے کے بارے میں موجود اجماع۔ [14]
  • اجماع قولی، کسی جزئی شرعی حکم پر متفق القول فتوا دینا۔
  • اجماع فعلی، مسلمانوں کا عملا کسی مسئلے میں متفق ہونا جسے سیرہ عقلاء بھی کہا جاتا ہے۔
  • اجماع قطعی، اس اجماع کو کہا جاتا ہے جو قطع اور یقین تک پہنچ جائے اور حدس و گمان کے راستے حاصل نہ ہوا ہو دوسرے لفظوں میں ادلہ اربعہ میں سے کوئی ایک اس کی تائید کرے۔ [15]

اجماع کی حجیت

  • اصل اجماع: اگرچہ اجماع کو ادلہ اربعہ میں شمار کیا جاتا ہے لیکن اہل تشیع کے نزدیک اجماع خود ایک مستقل دلیل نہیں ہے بلکہ اس میں جو چیز معتبر ہے وہ معصوم علیہ السلام کا فرمان اور ان کی سیرت ہے اور اجماع صرف اس صورت میں معتبر ہے کہ یہ معصوم علیہ السلام کی سنت کو کشف کرنے کا ذریعہ بن جائے اور اس کے ذریعے ہم معصوم علیہ السلام کے نظریے کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائے اس بنا پر علم فقہ میں اسے قرآن اور سنت اور عقل کے ساتھ مورد بحث قرار دینا صرف ایک ظاہری پہلو رکھتی ہے۔ لیکن اہل سنت کے ہاں اجماع، قرآن اور سنت کے مقابلے میں ایک مستقل دلیل کی حیثیت رکھتی ہے اور اسے مستقل طور پر حجت سمجھتے ہیں۔
  • اجماع مرکب: حجیت اور عدم حجیت کے حوالے سے اجماع مرکب کی دو صورتیں ہیں:
  1. پہلی صورت : مورد اتفاق دو نظریے کے قائلین میں سے ہر ایک تیسرے نظریے کو صراحت کی ساتھ باطل سمجھتے ہیں مثلا کہتے ہیں کہ اس کا حکم یا واجب ہے یا مستحب۔ اس صورت میں دونوں گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ اس کا حکم مکروہ یا حرام نہیں ہے اس بنا پر قول سوم کی نفی اور بطلان کے حوالے سے تمام مبانی اور کے مطابق یہ اجماع حجت ہے جس کا نتیجہ بطلان قول سوم ہے۔
  2. دوسری صورت: مورد اتفاق دو نظریے کے قائلین میں سے ہر ایک تیسرے نظریے کو صراحت کی ساتھ باطل نہیں سمجھتے بلکہ ان دو نظریوں کا لازمہ یہ ہے کہ تیسرا قول یا نظریہ باطل ہو۔ مثلا کسی چیز کے واجب ہونے پر اعتقاد رکھنے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ چیز حرام نہیں ہے کیونکہ وجوب اور حرمت ایک دوسرے کے ساتھ جمع نہیں ہو سکتے ہیں اور ایک چیز کبھی بھی واجب اور حرام دونوں کے ساتھ متصف نہیں ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں قاعدئے لطف یا اجماع دخولی کی بنیاد پر اجماع حجّت ہے لیکن دوسرے مبانی کے مطابقاجماع مرکب حجت نہیں ہے۔ [16]
  • اجماع مدرکی: اجماع مدرکی حجت نہیں ہے کیونکہ اجماع کا ججت ہونا معصوم علیہ السلام کے قول کو کشف کرنے کی وجہ سے ہے اور اس اجماع میں اجماع کا سرچشمہ فقیہ کے ہاتھ میں ہے اس صورت میں اسی دلیل کی طرف رجوع کیا جائے گا اگر وہ معتبر ہے تو فتوا دے گا ورنہ اسے رد کرے گا۔[17]
  • اجماع محصل: اجماع محصّل اسی فقیہ کیلئے جس نے اسے حاصل کیا ہے حجت ہے لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ایک ایسے راستے سے اس نے یہ اجماع حاصل کیا ہو جسے خود معتبر سمجھتا ہو۔ [18]
  • اجماع منقول: اجماع کی یہ قسم اگر کسی خبر متواتر کے ذریعے نقل ہوا ہو اور بہت زیادہ فقہاء نے اسے حاصل کیا ہو اور اسے دوسروں کے لئے نقل کیا ہو تو یہ حجت ہے لیکن اگر خبر واحد کے ذریعے نقل شدہ ہوا ہو تو اس کی حجیت میں اختلاف ہے اور علماء کے اقول میں اجماع منقول بغیر کسی قرینے کے ذکر ہوا ہو تو اس سے مراد خبر واحد کے ذریعے نقل ہونے والا اجماع مراد ہے۔ [19]

حوالہ جات

  1. التحقيق فى كلمات القرآن الكريم، ج‏2، ص: 126.
  2. التحقيق فى كلمات القرآن الكريم، ج‏2، ص: 126؛ دہخدا، ذیل مدخل «اجماع».
  3. غزالی، ص۱۷۳
  4. اصول فقہ، مظفر، ص۸۱
  5. دایرة المعارف فقہ مقارن، ص۳۷۶
  6. اصول الفقہ، مظفر، ص۸۱و۸۲
  7. برای نمونہ نک: طوسی، عدة، ج1، 234؛ ابن شہر آشوب، ج2، ص156
  8. سید مرتضی، ج۱، ص۱۲
  9. مظفر، اصول الفقہ، ص۹۱
  10. اصول الفقہ، ج۲، ص۸۷- ۱۰۶ و الموسوعة الفقہیة المیسّرة، ج۱، ص۵۰۰- ۵۱۷
  11. مطہری، مجموعہ آثار، ج۲۰، ص۵۲
  12. عوائد الایام، ص۳۶۰
  13. القواعد الفقہیة، مکارم، ج۱، ص۱۱۷؛ کتاب الطہارة، امام خمینی، ج۳، ص۳۲۴
  14. فوائد الاصول، ج۳، ص۱۹۱
  15. عوائد الایام، ص۳۶۰
  16. صدر، بحوث فی علم الاصول، ج۴، ص۳۱۷
  17. الموجز فی اصول الفقہ، ج۲، ص۵۶؛ منتہی الدرایة، ج۴، ص۳۸۶
  18. مظفر، اصول الفقہ، ج۲، ص۹۳-۱۰۱
  19. مظفر، اصول الفقہ، ج۲، ص۱۰۱- ۱۰۶


مآخذ

  • جزائری، سید محمد حسن، منتہی الدرایة، نشر فقاہت، ۱۳۸۵.
  • جمعی از پژوہشگران زیر نظر شاہرودی، سید محمود ہاشمی، فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، مؤسسہ دائرة المعارف فقہ اسلامی، قم، ۱۴۲۶ہ‍ ق.
  • جمعی از پژوہشگران زیر نظر مکارم، ناصر، دایرہ المعارف فقہ مقارن، قم، مدرسہ امام علی بن ابیطالب.
  • جمعی از پژوہشگران، موسوعہ الفقیہ المیسرہ، قم، مجمع الفکر الاسلامی، ۱۳۷۳ش.
  • خمینی (امام)، سید روح اللہ، کتاب الطہارة، قم، موسسہ تنظیم و نشر آثار امام خمینی، ۱۳۸۶.
  • بجنوردی، دایرةالمعارف بزرگ اسلامی،
  • سبحانی، جعفر، الموجز فی اصول الفقہ، قم، موسسہ امام صادق، ۱۳۸۷.
  • سید مرتضی، علی بن حسین موسوی، رسائل شریف مرتضی، قم، دار القرآن الکریم، ۱۴۰۵ق.
  • صدر، محمد باقر، بحوث فی علم الاصول، تقریر: محمود ہاشمی شاہرودی، قم، موسسہ دایرة المعارف فقہ اسلامی.
  • طباطبایی، سید علی، ریاض المسائل، قم، نشر اسلامی، ۱۴۱۲ق.
  • غزالی، محمد بن محمد، المستصفی من علم الاصول، نشر دار صادر، ۱۳۲۲.
  • مطہری، مرتضی، مجموعہ آثار، فقہ و حقوق، قم، نشر صدرا.
  • مظفر، محمد رضا، اصول الفقہ، قم، موسسہ اسماعیلیان، ۱۳۸۰ش، چاپ دہم.
  • مکارم شیرازی، ناصر، القواعد الفقہیہ، قم، مدرسہ امام علی بن ابیطالب، ۱۳۸۷.
  • نائینی، محمد حسین، فوائد الاصول، تقریر: محمد کاظم خراسانی، قم، نشر اسلامی.
  • نراقی، احمد، عوائد الایام، قم، مکتبہ بصیرتی، ۱۳۶۶.
  • نجفی، محمد حسن، جواہر الکلام، بیروت، دار احیاء التراث، ۱۳۶۲.