چودہ معصومین

ویکی شیعہ سے
(معصومین سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحید توحید ذاتی • توحید صفاتی • توحید افعالی • توحید عبادی • صفات ذات و صفات فعل
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (افعال الهی)
حُسن و قُبح • بداء • امر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام  • اعجاز • عدم تحریف قرآن
امامت
اعتقادات عصمت • ولایت تكوینی • علم غیب • خلیفۃ اللہ • غیبتمہدویتانتظار فرجظہور • رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخ • معاد جسمانی • حشر • صراط • تطایر کتب • میزان
اہم مسائل
اہل بیت • چودہ معصومین • تقیہ • مرجعیت


چودہ معصومین سے مراد وہ ہستیاں ہیں جن کے بارے میں شیعہ معتقد ہیں کہ یہ ہستیاں کسی بھی گناہ یا غلطی سے مبرا اور منزّہ ہیں۔ ان ہستیوں میں پیغمبر اکرم(ص) سمیت آپ کی اہل بیت میں سے 13 شخصیتیں یعنی آپ کی بیٹی حضرت زہرا(س) اور شیعوں کے بارہ امام شامل ہیں۔

ش‍یعہ حضرات اس صفت ( گناہ اور اشتباہ سے مبرا اور منزّہ ہونا) کو عصمت اور یہ صفات جن ہستیوں میں ہو انہیں معصوم کہتے ہیں۔ ان کا یہ اعتقاد آیت تطہیر، آیت اولو الامر، حدیث ثقلین اور دیگر کئی آیات اور روایات سے مستدل ہیں۔ بارہ معصوم اماموں کا نام بالترتیب درج ذیل ہیں:

  1. امیرالمؤمنین امام علی ابن ابیطالب علیہ‌السلام (امامت: ۱۱-۴۰ق)
  2. حسن بن علی امام حسن مجتبی علیہ‌السلام (امامت: ۴۰-۵۰ق)
  3. سید الشہداءامام حسین علیہ‌السلام (امامت: ۵۰ -۶۱ق)
  4. زین العابدین امام سجاد علیہ‌السلام (امامت :۶۱ -۹۴ق)
  5. محمد بن علی امام باقر علیہ‌السلام (امامت :۹۴-۱۱۴ق)
  6. جعفر بن محمد امام صادق علیہ‌السلام (امامت: ۱۱۴- ۱۴۸ق)
  7. موسی بن جعفر امام کاظم علیہ‌السلام (امامت: ۱۴۸-۱۸۳ق)
  8. علی بن موسی امام رضا علیہ‌السلام (امامت: ۱۸۳-۲۰۳ق)
  9. محمد بن علی امام جواد علیہ‌السلام (امامت: ۲۰۳-۲۲۰ق)
  10. علی بن محمد امام ہادی علیہ‌السلام (امامت: ۲۲۰-۲۵۴ق)
  11. حسن ابن علی امام حسن عسکری علیہ‌السلام (امامت: ۲۵۴-۲۶۰ق)
  12. حجت ابن الحسن امام مہدی علیہ‌السلام (امامت: از ۲۶۰ق)

چودہ معصومین کا مقام

اصل مضمون: عصمت

شیعوں کے مطابق چودہ معصومین جنہیں وہ اکثرا محمد و آل محمد یا اہل بیت سے یاد کرتے ہیں، مقام عصمت پر فائز ہستیاں ہیں اور تقوا اور پرہیزگاری کے لحاظ سے خدا کی خصوصی توجہات کے سایے میں تمام اصحاب سے افضل اور بہتر ہیں۔ ان کے مطابق ان ہستیوں کی مودت و محبت ہر مسلمان پر واجب ہے۔ شیعہ اعتقادات کے مطابق مسلمانوں کی امامت و رہبری کا حق صرف اور صرف اہل بیت(ع) کو حاصل ہے اور مسلمانوں کو اپنی دینی اور مذہبی مسائل میں صرف اور صرف انہی ہستیوں کی طرف مراجعہ کرنا ضروری ہے۔

اسم القاب کنیت مقام ولادت تاریخ پیدائش محل تولد تاریخ شہادت سنہ محل شہادت علت شہادت محل دفن
محمد بن عبداللہ رسول اللہ ابوالقاسم پیغمبر اسلام 12 یا 17 ربیع الاول ۱ عام الفیل- ۵۶۹م مکہ 28 صفر ۱۱ہجری قمری-۶۳۲م مدینہ -- مدینہ
فاطمہ زہرا- صدیقہ- بتول ام ابیہا- ام الائمہ مادر ائمہ 8جمادی الثانی ۵ بعثت مکہ ۳ جمادی الثانی ۱۱ ہجری قمری مدینہ شیعوں کے مطابق ابوبکر کی خلافت کیلئے بیعت لینے کے واقعے میں عمر کی طرف سے مورد ظلم واقع ہوا اور شہادت پر فائز ہوئیں نامعلوم
علی بن ابیطالب امیرالمؤمنین اباالحسن- ابوتراب شیعوں کا پہلا امام ۱۳ رجب ۳۰ عام الفیل مکہ (کعبہ) 21 رمضان ۴۰ ہجری قمری کوفہ ابن ملجم مرادی کے ہاتھوں مسجد کوفہ کے محراب میں شہید ہوئے نجف
حسن بن علی مجتبی ابامحمد دوسرا امام 15 رمضان ۲ یا ۳ ہجری قمری مدینہ 28 صفر ۵۰ ہجری قمری مدینہ معاویہ کی ترغیب پر اپنی بیوی جعدہ بنت اشعث بن قیس کے ہاتھوں مسموم ہوئے مدینہ(بقیع)
حسین بن علی سید الشہداء اباعبداللہ تیسرا امام ۳ شعبان ۳ یا ۴ ہجری قمری مدینہ ۱۰ محرم عاشورا ۶۱ ہجری قمری کربلا یزید کی فوج سے لڑتے ہوئے اپنے با وفا اصحاب کے ساتھ شہید ہوئے کربلا
علی بن الحسین سجاد، زین العابدین اباالحسن چوتھا امام ۵ شعبان ۳۸ ہجری قمری مدینہ ۲۵ محرم ۹۵ ہجری قمری مدینہ ولید بن عبدالملک کے حکم سے مسموم اور شہید ہوئے مدینہ(بقیع)
محمد بن علی باقر العلوم ابا جعفر پانچواں امام ۱ رجب ۵۷ ہجری قمری مدینہ ۷ ذی الحجہ ۱۱۴ ہجری قمری مدینہ ہشام بن عبدالملک کے حکم سے مسموم اور شہید ہوئے مدینہ(بقیع)
جعفر بن محمد صادق اباعبداللہ چھٹا امام ۱۷ ربیع‌الاول ۸۳ ہجری قمری مدینہ ۲۵ شوال ۱۴۸ ہجری قمری مدینہ منصور کے حکم سے مسموم اور شہید ہوئے مدینہ(بقیع)
موسی بن جعفر کاظم اباالحسن ساتواں امام ۷ صفر ۱۲۸ ہجری قمری مدینہ ۲۵ رجب ۱۸۳ ہجری قمری کاظمین ہارون الرشید کے حکم سے مسموم اور شہید ہوئے کاظمین
علی بن موسی رضا اباالحسن آٹھواں امام ۱۱ ذی القعدہ ۱۴۸ ہجری قمری مدینہ آخر صفر ۲۰۳ ہجری قمری طوس مشہد مأمون کے ہاتھوں مسموم اور شہید ہوئے مشہد
محمد بن علی تقی، جواد اباجعفر نواں امام ۱۰ رجب ۱۹۵ ہجری قمری مدینہ آخر ذی القعدہ ۲۲۰ ہجری قمری کاظمین معتصم عباسی کے حکم سے اپنی بیوی ام فضل بنت مأمون کے ہاتھوں مسموم اور شہید ہوئے کاظمین
علی بن محمد ہادی، نقی اباالحسن دسواں امام ۱۵ ذی الحجۃ ۲۱۲ ہجری قمری مدینہ(صریا) ۳ رجب ۲۵۴ ہجری قمری سامرا المعتز باللہ کے حکم سے مسموم اور شہید ہوئے سامرا
حسن بن علی زکی، عسکری ابامحمد گیارہواں امام ۱۰ ربیع الثانی ۲۳۲ ہجری قمری مدینہ ۸ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری قمری سامرا المعتمد باللہ کے حکم سے مسموم اور شہید ہوئے سامرا
حجۃ بن الحسن قائم اباالقاسم بارہواں امام ۱۵ شعبان ۲۵۵ ہجری قمری سامرا آغاز امامت ۹ ربیع الاول ۲۶۰ ہجری قمری آپ اب بھی خدا کے اذن سے زندہ اور لوگوں کی نظروں سے غائب ہیں

متعلقہ صفحات