دعائے ناد علی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ناد علی

ناد علی کے نام سے معروف دعا ہے جو ناد علیا مظہر العجائب کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے ۔ شیعہ منابع میں کسی معصوم سے اسناد کے بغیر اور اہل سنت منابع میں جنگ احد کے دن ہاتف غیبی کی صدا کے حوالے سے نقل ہوئی ہے ۔اس دعا کی سند معتبر نہیں ہے ۔ یہ دونوں دعائیں کسی معتبر سند سے رسول اکرم یا آئمہ طاہرین سے منقول نہیں ہیں۔

مستند

شیعہ مستند:

ابراہیم کفعمی (905ق) نے اپنی کتاب المصباح-جنة الأمان الواقية و جنة الإيمان الباقية - کے باب ادعیہ الضالہ و الآبق(گمشدہ چیزیں اور بھاگے ہوئے غلام) کی لوٹانے کی دعاؤں کے ذیل میں لکھتے ہیں :

میں نے شہید کے ہاتھ سے گمشدہ چیزوں اور بھاگے ہوئے غلام کی واپسی کے اعمال میں ان دو بیتوں کے تکرار کرنے کا لکھا ہوا دیکھا:

نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِبِ
كُلُّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَيَنْجَلِي بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ[1]


محدث نوری نے مستدرک الوسائل میں کفعمی کی مصباح سے ذکر کیا ہے ۔[2]جیسا کہ ظاہر ہے کہ شہید نے ان دو اشعار کو کسی معصوم کی طرف نسبت دیے بغیر ذکر کیا ہے ۔علامہ مجلسی(1111ق) نے بحار الانوار[3] میں اسے اہل سنت کی کتاب شرح دیوان امام علی کے حوالے سے ذکر کیا ہے ۔

اہل سنت مستند:

اہل سنت عالم دین قاضی کمال الدین میر حسین بن معین الدین میبدی یزدی(909ق یا 911ق) نے امام علی سے منسوب دیوان کی شرح میں یوں نقل کیا: کہتے ہیں کہ جنگ احد کے دن رسول خدا نے عالم غیب سے یہ صدا سنی:

نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ،تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِبِ،كُلُّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَيَنْجَلِي بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ۔[4]

اسی کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار 20ویں جلد ص72 پر ذکر کیا ہے۔نیز کتاب ناسخ التواریخ میں مذکورہ اشعار کے بارے میں کہا گیا کہ ان اشعار کے ساتھ خدا نے رسول کو خطاب کیا ہے۔[5]

متن ناد علی

شرح دیوان منسوب امام علی اور مصباح میں مذکور ناد علی کی نسبت زاد المعاد میں طویل دعا ذکر ہوئی ہے ۔بعید نہیں کہ اسی لئے طویل دعا کو ناد علی کبیر کے نام سے تعبیر کیا جاتا ہو ۔ علامہ مجلسی نے زاد العاد (مفتاح الجنان) میں ناد علی کو دعا کے عنوان سے اس متن کے ساتھ نقل کیا ہے : نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَادِ عَلِيّاً مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ تَجِدْهُ عَوْناً لَكَ فِي النَّوَائِبِ لِي إِلَى اللَّهِ حَاجَتِي وَ عَلَيْهِ مُعَوَّلِي كُلَّمَا رَمْيَتُهُ وَ رَمَيْتَ مُقْتَضَي كُلِّ هَمٍّ وَ غَمٍّ سَيَنْجَلِي بِعَظَمَتِكَ يَا اللَّهُ وَ بِنُبُوَّتِكَ يَا مُحَمَّدُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ وَ سَلَّمَ وَ بِوَلَايَتِكَ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ يَا عَلِيُّ أَدْرِكْنِي بِحَقِّ لُطْفِكَ الْخَفِيِّ، اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ أَنَا مِنْ شَرِّ أَعْدَائِكَ بَرِي‌ءٌ بَرِي‌ءٌ بَرِي‌ءٌ اللَّهُ صَمَدِي بِحَقِّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ يَا أَبَا الْغَيْثِ أَغِثْنِي يَا عَلِيُّ أَدْرِكْنِي يَا قَاهِرَ الْعَدُوِّ وَ يَا وَالِيَ الْوَلِيِّ يَا مَظْهَرَ الْعَجَائِبِ يَا مُرْتَضَى عَلِيُّ، يَا قَهَّارُ تَقَهَّرْتَ بِالْقَهْرِ وَ الْقَهْرُ فِي قَهْرِ قَهْرِكَ يَا قَهَّارُ يَا ذَا الْبَطْشِ الشَّدِيدِ أَنْتَ الْقَاهِرُ الْجَبَّارُ الْمُهْلِكُ الْمُنْتَقِمُ الْقَوِيُّ وَ الَّذِي لَا يُطَاقُ انْتِقَامُهُ وَ أُفَوِّضُ أَمْرِي إِلَى اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ بَصِيرٌ‌ بِالْعِبَادِ وَ إِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ حَسْبِيَ اللَّهُ وَ نِعْمَ الْوَكِيلُ نِعْمَ الْمَوْلَى وَ نِعْمَ النَّصِيرُ يَا غِيَاثَ الْمُسْتَغِيثِينَ أَغِثْنِي يَا رَاحِمَ الْمَسَاكِينِ ارْحَمْنِي يَا عَلِيُّ وَ أَدْرِكْنِي يَا عَلِيُّ أَدْرِكْنِي يَا عَلِيُّ أَدْرِكْنِي بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ.[6]

پڑھنے کا حکم

جن دعاؤں کی سند کا اعتبار معلوم نہ ہو انہیں ثواب کی نیت سے پڑھنے میں کوئی اشکال نہیں ہے۔[7] معصومین سے ہم تک پہنچنے والی روایات کی بنا پر شخص اپنی طرف سے خدا کے ساتھ اس شرط کے ساتھ مناجات کر سکتا ہے کہ وہ اسلامی اور دینی تعلیمات کے منافی نہ ہوں ۔ [8]

حوالہ جات

  1. مصباح کفعمی
  2. محدث نوری،مستدرک الوسائل ،15/483/18935،مؤسسہ آل البيت عليہم السلام لإحياء التراث - بيروت - لبنان
  3. مجلسی ،بحار الانوار ،20/72، دار إحياء التراث العربي - بيروت - لبنان
  4. میبدی یزدی،شرح دیون منسوب بہ امیر المؤمنین ،ص434، کوشش اکرم شفائی ،بی تا ،بی جا۔
  5. ناسخ التواریخ،ج۱، ص۳۵۵.
  6. مجلسی،زاد المعاد-مفتاح الجنان-،429،تاریخ نشر1423ق بیروت لبنان۔
  7. ناد علی پڑھنے کا حکم
  8. ناد علی پڑھنے کا حکم شرعی


مآخذ

  • محدث نوری،مستدرک الوسائل ،مؤسسہ آل البيت عليہم السلام لإحياء التراث - بيروت - لبنان
  • مجلسی،زاد المعاد-مفتاح الجنان-،تاریخ نشر1423ق بیروت لبنان۔
  • سپہری،ناسخ التواریخ۔
  • میبدی یزدی،شرح دیون منسوب بہ امیر المؤمنین ،ص434، کوشش اکرم شفائی ،بی تا ،بی جا۔
  • مجلسی ،بحار الانوار ،20/72، دار إحياء التراث العربي - بيروت - لبنان
  • ابراہیم کفعمی ،المصباح-جنۃ الأمان الواقيۃ و جنۃ الإيمان الباقيۃ، دار الرضى( زاہدى) تاريخ نشر: 1405 ه‍ ق‌ نوبت چاپ: دوم‌۔