جمادی الثانی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
جمادی الاول جمادی الثانی رجب
1 2 3 4 5 6 7
8 9 10 11 12 13 14
15 16 17 18 19 20 21
22 23 24 25 26 27 28
29 30
اسلامی تقویم

جُمادی‌الآخر یا جمادی الثانی یا جمادی الثانیہ یا جمادی الآخرۃ، ہجری قمری کیلنڈر کا چھٹا مہینہ ہے۔ جمادی‌ ‌جمادا (جَمُدَ) کے مادے سے انجماد اور یخ بندی کے معنی میں ہے ۔ اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے کی نام گزاری کے وقت سردی کا موسم تھا اور پانی جم جاتا تھا۔[1]

اعمال ماه جمادی الآخر

اعمال ماه جُمادی الآخر
اعمال مشترک
  • دو رکعتی دو نماز پڑھی جائے پہلی نماز کے پہلی رکعت میں حمد کے بعد آیۃ الکرسی ایک دفعہ اور سورہ قدر 25 مرتبہ جبکہ دوسری رکعت میں سورہ حمد کے بعد سورہ تکاثر ایک مرتبہ اور سورہ اخلاص 25 مرتبہ۔ دوسری نماز کی پہلی رکعت میں حمد کے بعد سورہ کافرون ایک دفعہ اور سورہ فلق 25 دفعہ جبکہ دوسری رکعت میں حمد کے بعد سورہ نصر ایک دفعہ اور سورہ ناس 25 دفعہ۔ نماز کے بعد 70 مرتبہ [[تسبیحات اربعہ]، 70 مرتبہ صلوات اور تین دفعہ: اَللّهُمَّ اغْفِرْ لِلْمُؤمِنینَ وَالْمُؤمِناتِ پھر سجدے میں جاکر 3 مرتبہ کہے: یا حِی یا قَیومُ یا ذَاالْجَلالِ وَالْإِکرامِ یا رَحْمنَ الدُّنْیا وَالْاخِرَةِ وَرَحیمَهُما یا اَرْحَمَ الرَّاحِمینَ
تیسرے دن
  • سوگواری حضرت زہراؑ
  • حضرت زہرا پر ظلم ڈھانے والوں اور آپ کا حق چھیننے والوں پر لعنت بھیجنا
  • حضرت زہراء(س) کی زیارت اس دعا کے ساتھ پڑھنا: اَلسَّلامُ‏ عَلَیک یاسَیدَةَ نِسآءِالْعالَمینَ اَلسَّلامُ‏ عَلَیک یا والِدَةَ الْحُجَجِ عَلَی‏ النَّاسِ اَجْمَعینَ اَلسَّلامُ عَلَیک اَیتُهَا الْمَظْلُومَةُ الْمَمْنُوعَةُ حَقُّها، اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی‏ اَمَتِک وَابْنَةِ نَبِیک وَزَوْجَةِ وَصِی نَبِیک صَلوةً تُزْلِفُها فَوْقَ زُلْفی عِبادِک الْمُکرَّمینَ مِنْ اَهْلِ السَّمواتِ وَاَهْلِ‏ الْأَرَضینَ!
بیسویں دن
  • روزہ رکھنا
  • زیارت حضرت زہراءؑ کا پڑھنا
  • صدقات اور خیرات دینا

اس مہینے کے اہم واقعات

تفصیلی مضمون: ماہ جمادی الثانی کے واقعات

  1. شہادت حضرت زہراؑ (3 جمادی‌ الثانی سنہ 11 ہجری)
  2. رحلت حضرت ام البنینؑ (13 جمادی الثانی سنہ 64 ہجری)
  3. ولادت حضرت فاطمہ زہراؑ (20 جمادی‌ الثانی 5 بعثت)

حوالہ جات

  1. مسعودی،ج۲، ص۱۸۹


مآخذ

  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق، داغر، اسعد، قم، دار الہجرۃ، چاپ دوم، ۱۴۰۹ق.