شیعہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ
السعید۲.jpg
اصول دین (عقائد)
بنیادی عقائد توحید  • عدل  • نبوت  • امامت  • معاد یا قیامت
دیگر عقائد عصمت  • ولایت  • مہدویت: غیبت  • انتظار • ظہور • رجعت  • بداء  • ......
فروع دین (عملی احکام)
عبادی احکام نماز • روزہ • خمس • زکات • حج • جہاد
غیرعبادی احکام امر بالمعروف اور نہی عن المنکر  • تولا  • تبرا
مآخذ اجتہاد قرآن کریم  • سنت (پیغمبر اور ائمہ کی حدیثیں)  • عقل  • اجماع
اخلاق
فضائل عفو • سخاوت • مواسات • ...
رذائل كبر  • عُجب  • غرور  • حسد  • ....
مآخذ نہج البلاغہ  • صحیفۂ سجادیہ  • .....
نمایاں عقائد
امامت  • مہدویت • رجعت • بدا • شفاعت  • توسل  • تقیہ  • عصمت  • مرجعیت، تقلید • ولایت فقیہ • متعہ  • عزاداری  • متعہ  • عدالت صحابہ
شخصیات
شیعہ ائمہ امام علیؑ  • امام حسنؑ  • امام حسینؑ  • امام سجادؑ  • امام باقرؑ  • امام صادقؑ  • امام کاظمؑ  • امام رضاؑ  • امام جوادؑ  • امام ہادیؑ  • امام عسکریؑ  • امام مہدیؑ  •
صحابہ سلمان فارسی  • مقداد بن اسود  • ابوذر غفاری  • عمار یاسر

خواتین:

خدیجہؑ • فاطمہؑ • زینبؑ • ام کلثوم بنت علی • اسماء بنت عمیس • ام ایمن  • ام سلمہ
شیعہ علما ادبا • علمائے اصول • شعرا • علمائے رجال • فقہا • فلاسفہ • مفسرین
مقامات
مسجد الحرام • مسجد النبیبقیع • مسجدالاقصی • حرم امام علیمسجد کوفہ  • حرم امام حسینؑ • حرم کاظمین • حرم عسکریینحرم امام رضاؑ
حرم حضرت زینب • حرم فاطمہ معصومہ
اسلامی عیدیں
عید فطر • عید الاضحی • عید غدیر خم • عید مبعث
شیعہ مناسبتیں
ایام فاطمیہ • محرّم ، تاسوعا، عاشورا اور اربعین
واقعات
واقعۂ مباہلہ • غدیر خم • سقیفۂ بنی ساعدہ • واقعۂ فدک • خانۂ زہرا کا واقعہ • جنگ جمل • جنگ صفین • جنگ نہروان • واقعۂ کربلا • اصحاب کساء  • افسانۂ ابن سبا
شیعہ کتب
الکافی • الاستبصار • تہذیب الاحکام • من لایحضرہ الفقیہ
شیعہ مکاتب
امامیہ • اسماعیلیہ • زیدیہ • کیسانیہ


شیعہ اہل سنت کے بعد دین اسلام کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ عدل اور امامت شیعہ مذہب کے ان دو بنیادی عقائد میں سے ہیں جو اسے دوسرے اسلامی فرقوں سے ممتاز کرتا ہے۔ شیعوں کے مطابق پیغمبر اکرمؐ نے خدا کے حکم سے حضرت علیؑ کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

شیعوں کے تمام فرقے سوائے زیدیہ کے امام کو معصوم سمجھتے ہیں اور اس بات کے معتقد ہیں کہ مہدی موعود ان کے آخری امام ہیں جو اس وقت غیبت میں ہیں اور ایک دن دنیا میں عدل و انصاف قائم کرنے کے لئے قیام کریں گے۔

حسن و قبح عقلی، اَمرٌ بَینَ الاَمرَین، تمام صحابہ کی عدالت کا انکار، تقیہ، توسل اور شفاعت کلام اسلامی میں شیعوں کے بعض مخصوص اعتقادات ہیں۔ البتہ ان کے بعض فرقے ان میں سے بعض مسائل میں اختلاف نظر رکھتے ہیں۔

شیعہ مذہب میں بھی اہل سنت کی طرح شرعی احکام کے استنباط کے منابع قرآن، سنت، عقل اور اجماع ہیں۔ البتہ اہل‌ سنت کے بر خلاف پیغمبر اکرمؐ کی سنت کے ساتھ ساتھ ائمہ معصومین کے سنت کو بھی حجت سمجھتے ہیں۔

شیعوں کے اہم فرقے امامیہ، اسماعیلیہ اور زیدیہ ہیں۔ ان میں امامیہ فرقہ شیعوں کی اکثریت پر مشتمل ہے۔ امامیہ بارہ اماموں کی امامت پر اعتقاد رکھتے ہیں جن میں سے آخری امام مہدی موعود ہیں جو اس وقت غیبت میں ہیں۔

اسماعیلیہ امامیہ کے بارہ اماموں میں سے چھٹے امام یعنی امام صادقؑ تک کی امامت کے قائل ہیں اور ان کے بعد آپؑ کے بیٹے اسماعیل اور ان کے بیٹے محمد کی امامت کے قائل ہیں اور انہی کو مہدی موعود سمجھتے ہیں۔

زیدیہ امام کو کسی خاص عدد میں محدود نہیں سمجھتے اور اس بات کے معتقد ہیں کہ حضرت زہرا(س) کی اولاد میں سے جو شخص بھی عالم، زاہد، شجاع اور سخاوتمند ہو اور قیام کریں تو وہ امام ہوگا۔

آل‌ادریس، علویان طبرستان، آل بویہ، یمن کے زیدی، فاطمی، اسماعیلیہ، سبزوار کے سربداران، صفویہ اور جمہوری اسلامی ایران تاریخ میں شیعہ حکومتیں گزری ہیں۔

پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Center) کی 7 اکتوبر 2009ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی مسلم آبادی کا 10 سے 13 فیصد شیعہ ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق شیعوں کی کل آبادی 154 میلین سے 200 میلین تک ہے۔ شیعوں کی اکثریت ایران، عراق، پاکستان اور ہندوستان میں آباد ہیں۔

مفہوم

"شیعہ" لغت میں پیروکار، مددگار اور گروہ کو کہا جاتا ہے۔ [1] اصطلاح میں ان لوگوں کو شیعہ کہا جاتا ہے جو اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ سے منقول احادیث کی بنا پر امام علیؑ آپؐ کا بلافصل جانشین اور خلیفۃ المسلمین ہیں؛[2] اس کے مقابلے میں اہل‌‌سنت کہتے ہیں کہ پبغمبر اکرمؐ نے اپنا جانشین مقرر نہیں فرمایا اس بنا پر مسلمانوں نے بطور اجماع ابوبکر کی بیعت کر کے انہیں رسول کا جانشین اور مسلمانوں کا خلیفہ بنایا ہے۔[3]

بعض مورخین کے مطابق صدر اسلام سے لے کر کچھ صدیاں پہلے تک لفظ شیعہ صرف مذکورہ معنی میں استعمال نہیں ہوتا تھا؛ بلکہ اہل‌ بیت کے ماننے والوں اور عثمان پر حضرت علیؑ کو مقدم سمجھنے والوں کو بھی شیعہ کہا جاتا تھا۔[4]

شیعہ تاریخ کے آئینے میں

شیعہ کے عنوان سے ایک گروہ جو حضرت علیؑ کے پیروکار اور آپ کو پیغمبر اکرمؐ کا جانشین سمجھتا تھا، کی پیدائش کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں بعض کہتے ہیں کہ خود پیغمبر اکرمؐ کی حیات مبارکہ میں ایک گروہ شیعہ کے نام سے پہچانے جاتے تھے؛ بعض کہتے ہیں کہ شیعہ سقیفہ کے واقعے کے بعد وجود میں آیا ہے؛ جبکہ بعض کا خیال ہے کہ شیعہ تیسرے خلیفہ عثمان کے قتل کے بعد وجود میں آیا ہے؛ اسی طرح بعض مورخین کے مطابق شیعہ حَکَمیت کے واقعے کے بعد وجود میں آیا ہے۔[5]

شیعہ علماء کے درمیان مشہور نظریہ پہلا قول ہے۔[6] شیعہ علماء ان احادیث اور تاریخی‌ استناد سے تمسک کرتے ہیں جن میں پیغمبر اکرمؐ کے زمانے میں ہی شیعیان علی کو بشارتیں دی گئی ہیں اور بعض افراد شیعیان علی کے نام پہچانے جاتے تھے۔[7]

معاصر مورخ رسول جعفریان کے مطابق خود امام علیؑ کے دور میں بھی شیعہ کی اصطلاح رائج تھی۔[8] البتہ کہا جاتا ہے کہ یہ ایک مختصر گروہ تھا یہاں تک کہ امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے دور امامت تک ان کی تعداد اتنی نہیں تھی جنہیں ایک فرقے کا نام دیا جا سکے۔[9] ان ادوار میں اکثر ائمہ معصومینؑ کے اصحاب ہی ان کے پیروکار سمجھتے جاتے تھے۔[10]

نظریہ امامت

تفصیلی مضمون: امامت

امامت کے بارے میں شیعوں کے نظریے کو تمام شیعہ فرقوں کا اشتراکی نقطہ سمجھا جاتا ہے۔[11] علم کلام میں نظریہ امامت شیعوں کا ایک اہم اور بنیادی نظریہ ہے۔[12] شیعوں کے مطابق پیغمبر اکرمؐ کے بعد دینی احکام کی تفسیر کا واحد اور عالی ترین مرجع امامت ہے۔[13] شیعہ احادیث میں امام کا مقام اس قدر بلند ہے کہ اگر کوئی شخص امام کی شناخت کے بغیر مر جائے تو وہ کفر کی موت مرے گا۔[14]

شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ امامت اصول دین میں سے ایک اہم اصل اور ایک الہی منصب ہے؛ یعنی امام کے انتخاب کو انبیاء لوگوں پر نہیں چھوڑ سکتے بلکہ ان پر واجب ہے کہ وہ اپنا جانشین خود معین کریں۔[15] اسی بنا پر شیعہ متکلمین (سوائے زیدیہ کے)[16] اس بات پر تاکید کرتے ہیں کہ "نصب امام" (یعنی پیغمبر یا پہلے والے امام کے توسط سے امام کو معین کرنا) واجب ہے،[17] اور "نص" (وہ کام یا بات جو مطلوبہ ہدف پر صراحت کے ساتھ دلالت کرتی ہو)[18] کو امام کی شناخت کا واحد راستہ قرار دیتے ہیں۔[19]

ان کی دلیل یہ ہے کہ امام کا معصوم ہونا ضروری ہے اور مقام عصمت سے خدا کے علاوہ کوئی باخبر نہیں ہو سکتا؛[20] کیونکہ عصمت انسان کی ایک باطنی صفت ہے اور انسان کے ظاہر سے اس کی عصمت کا پتہ نہیں لگایا جا سکتا۔[21] پس ضروری ہے کہ خدا خود امام کو معین کرے اور پیغمبر اکرمؐ کے ذریعے اسے لوگوں تک پہنچائے۔[22]

شیعہ کتب کلام میں معاشرے میں امام کی ضرورت پر کئی عقلی اور نقلی دلائل دئے گئے ہیں۔[23] آیہ اولوالامر اور حدیث مَن مات من جملہ امام کی ضرورت پر پیش کئے جانے والی نقلی دلائل میں سے ہیں۔[24] اسی طرح قاعدہ لطف اس سلسلے کی عقلی دلائل میں سے ہے۔ اس دلیل کی توضیح میں لکھتے ہیں:‌ ایک طرف سے امام کا وجود لوگوں کو خد کی طاعت کی طرف مائل کرنے نیز انہیں گناہوں سے دور رکھنے کا سبب ہے؛ دوسری طرف سے قاعدہ لطف کا تقاضا ہے کہ ہر وہ کام جو لوگوں کو خدا کی اطاعت سے قریب کرے اور گناہوں سے دور رکھنے کا سبب بنتا ہے ہو اسے انجام دینا خدا پر واجب۔ پس امام کو نصب کرنا خداپر واجب ہے۔[25]

عصمت امام

تفصیلی مضمون: عصمت

شیعہ اماموں کی عصمت کے قائل ہیں اور اسے امام کے شرائط میں سے ایک قرار دیتے ہیں۔[26] شیعہ اس سلسلے میں مختلف عقلی اور نقلی دلائل[27] سے استناد کرتے ہیں من جملہ ان میں آیہ اولوالامر،[28] آیہ ابتلائے ابراہیم[29] اور حدیث ثَقَلین شامل ہیں۔[30]

شیعہ فرقوں میں سے زیدیہ تمام اماموں کی عصمت کے قائل ­نہیں ہیں۔ ان کے مطابق صرف اصحاب کِساء یعنی پیغمبر اکرمؐ، حضرت علیؑ، حضرت فاطمہ(س)، امام حسنؑ اور امام حسینؑ معصوم‌ ہیں[31] ان کے علاوہ باقی ائمہ عام لوگوں کی طرح غیر معصوم ہیں۔[32]

پیغمبر اکرمؐ کی جانشینی کا مسئلہ

شیعہ اس بات کے معتقد ہیں کہ پیغمبر اسلامؐ نے امام علیؑ کو اپنے جانشین مقرر فرمایا اور اسے لوگوں تک پہنچایا ہے نیز یہ کہ آپؐ نے امامت کے منصب کو حضرت علیؑ اور حضرت فاطمہ(س) کی اولاد میں منحصر فرمایا ہے۔[33] البتہ زیدیہ ابوبکر اور عمر کی امامت کو بھی قبول کرتے ہیں؛ لیکن اس کے باوجود زیدیہ بھی امام علیؑ کو ان دو خلفاء سے افضل مانتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس وقت کے مسلمانوں نے ابوبکر اور عمر کے انتخاب میں غلطی کی ہیں لیکن چونکہ خود امام علیؑ نے بھی اس سلسلے میں اپنی رضایت کا اظہار کیا ہے اس بنا پر ان دونوں کی امامت کو قبول کرتے ہیں۔[34]

شیعہ متکلمین پیغمبر اکرمؐ کے بعد امام علیؑ کی بلافصل جانشینی کو ثابت کرنے کے لئے مختلف آیات اور روایات سے تمسک کرتے ہیں من جملہ ان میں آیہ ولایت، حدیث غدیر اور حدیث منزلت قابل ذکر ہیں۔[35]

فرقے

تفصیلی مضمون: شیعہ فرقے

شیعہ مذہب کے اہم فرقوں میں امامیہ، زیدیہ، اسماعیلیہ، غالی، کیسانیہ اور کسی حد تک واقفیہ شامل ہیں۔[36] ان میں سے بعض فرقوں کے ذیلی شاخیں بھی ہیں؛ جیسے زیدیہ جس کے دس ذیلی شاخیں کا تذکرہ ملتا ہے؛[37] اسی طرح کیسانیہ کو بھی چار ذیلی شاخوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔[38] انہی ذیلی شاخوں کی بنا پر بہت سارے فرقوں کو شیعہ فرقوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔[39] البتہ مذکورہ بالا فرقوں میں سے بہت سارے فرقے منقرض ہو چکے ہیں اور اس وقت صرف امامیہ، زیدیہ اور اسماعیلیہ کے ماننے والے موجود ہیں۔[40]

کیسانیہ محمد حنفیہ کے ماننے والے تھے۔ یہ فرقہ امام علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کے بعد امام علیؑ کے بیٹے محمد حنفیہ کو امام مانتے تھے اور اس بات کے معتقد تھے کہ محمد حنفیہ وہی مہدی موعود ہیں اور کوہ رِضوا میں زندگی گزار رہے ہیں۔[41]

واقفیہ ان لوگوں کو کہا جاتا ہے جو امام کاظمؑ کی شہادت کے بعد آپؑ کی امامت پر متوقف ہوئے ہیں؛ یعنی آپ کو آخری امام سمجھتے ہیں۔[42]غالی اس گروہ کو کہا جاتا ہے جو خاص کر شیعہ ائمہ کے حق میں حد سے تجاوز کرتے ہیں؛ یعنی ائمہ کے بارے میں الوہیت کا دعوا کرتے ہیں، ائمہ کو مخلوق نہیں سمجھتے بلکہ ان کو خدا سے تشبیہ دیتے ہیں۔[43]

امامیہ یا اثنا عشری

تفصیلی مضمون: امامیہ

شیعہ اِثناعَشَری یا امامیہ سب سے بڑا شیعہ فرقہ ہے۔[44] مذہب امامیہ کے مطابق پیغمبر اسلامؐ کے بعد آپؐ کی جانشینی میں بارہ امام ہیں جن میں سے پہلا امام، امام علیؑ اور آخری امام، امام مہدی(عج) ہیں[45] جو ابھی زندہ ہیں۔ امام مہدی غیبت میں ہیں اور ایک دن دنیا میں عدل و انصاف برقرار کرنے کے لئے تشریف لائیں گے۔[46]

رجعت اور بَداء شیعہ اثنا عشریہ کا مخصوص عقیدہ ہیں۔[47] رجعت کے عقیدے کے مطابق امام مہدیؑ کے ظہور کے بعد بعض اموات زندہ ہونگے۔ ان زندہ ہونے والوں میں نیکوکار اور گناہ کار دونوں قسم کے لوگ شامل ہونگے اسی طرح اہل بیت کے دشمن بھی دنیا میں لوٹ آئیں گے تاکہ وہ اسی دنیا میں اپنے کرتوتوں کی سزا بگھتے۔[48] بداء یعنی خدا کبھی کبھار بعض مصلحتوں کی بنا پر کسی ایسی چیز کو انبیاء یا امام پر آشکار کر دیا گیا تھا کو تبدیل کر دیتا ہے اور اس کی جگہ کسی اور چیز کو تحقق بخشتا ہے۔[49]

امامیہ مذہب کے مشہور متکلمین میں شیخ مفید(۳۳۶یا۳۳۸-۴۱۳ھ)، شیخ طوسی(۳۸۵-۴۶۰ھ)، خواجہ نصیرالدین طوسی(۵۹۷-۶۷۲ھ) اور علامہ حلی(۶۴۸-۷۲۶ھ) شامل ہیں۔[50] اسی طرح امامیہ کے برجشتہ فقہاء میں شیخ طوسی، محقق حلی، علامہ حلی، شہید اول، شہید ثانی، کاشف‌الغطاء، میرزای قمی اور شیخ مرتضی انصاری شامل ہیں۔[51]

شیعوں کی اکثریت ایران میں موجود ہیں۔ ایران کی کل آبادی کا 90 فیصد شیعہ اثنا عشری ہیں۔[52]

زیدیہ

تفصیلی مضمون: زیدیہ

مذہب زیدیہ امام سجادؑ کے فرزند زید سے منسوب ہے۔[53] زیدیہ کے مطابق صرف امام علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ کی امامت انتصابی اور پیغمبر کی طرف سے معین ہوئی ہے۔[54] ان کے مطابق ان تین اماموں کے علاوہ حضرت زہرا(س) کی نسل سے جوب بھی عالم، زاہد، شجاع، اور سخاوت مند شخص قیام کرے وہ امام ہوگا۔[55]

زیدیہ ابوبکر اور عمر کی خلافت کے بارے میں دو طرح کے موقف رکھتے ہیں: ان میں سے بعض ان دونوں کے امامت کے قائل ہیں جبکہ بعض ان کو امام نہیں مانتے ہیں[56] یمن کے موجودہ زیدیوں کا نظریہ پہلے والے گروہ کے نزدیک ہے۔[56]

جارودیہ، صالحیہ اور سلیمانیہ زیدیہ کے تین اصلی فرقے ہیں۔[57] کتاب المِلَل و النِّحَل کے مصنف شہرستانی کے مطابق زیدیوں کی اکثریت کلام میں مُعتزلہ اور فقہ میں مذہب حنفیہ سے متأثر ہیں۔[58]

کتاب اطلس شیعہ کے مطابق یمن کی 20 میلین آبادی کا 30 سے 40 فیصد آبادی زیدیوں کی ہے۔[59]

اسماعیلیہ

تفصیلی مضمون: اسماعیلیہ

اسماعیلیہ شیعوں کا ایک فرقہ ہے جو امام صادقؑ کے بعد آپ کے فرزند اسماعیل کی امامت کے قائل ہیں اور امام کاظمؑ اور دیگر شیعہ ائمہ کو امام نہیں مانتے ہیں۔[60] اسماعیلیہ اس بات کے قائل ہیں کہ امامت سات ادوار پر مشتمل ہے اور ہر دور کا آغاز ایک "ناطق" سے ہوتا ہے جو نئی شریعت لے آتا ہے اور ہر دور میں ان کے بعد سات امام ہوا کرتے ہیں۔[61]

ان کے مطابق امامت کے پہلے چھ ادوار کے "ناطق‌" اولو العزم انبیاء یعنی حضرت آدم، حضرت نوح، حضرت ابراہیم، حضرت موسی، حضرت عیسی اور حضرت محمدؐ ہیں۔[62] امام صادقؑ کی فرزند اسماعیل امامت کے چھتے دور کے آخری امام ہیں جس کا آغاز پیغمبر اسلامؐ سے ہوا تھا۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اسماعیل وہی مہدی موعود ہیں جب قیام کریں گے تو امامت کے ساتوں دور کا آغاز ہو گا۔[63] کہا جاتا ہے کہ فاطمی دور حکومت میں ان کے بعض اعتقادات میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں۔[64]

باطنی‌ گری اسماعیلیہ کی سب سے اہم خصوصیت ہے؛ کیونکہ یہ لوگ آیات، احادیث اور اسلامی تعلیمات اور احکام کی تأویل کرتے ہوئے ان کے ظاہری معنی کے برخلاف معنی لیتے ہیں۔ ان کے مطابق قرآن کی آیات اور احادیث کا ایک ظاہر اور ایک باطن ہوا کرتا ہے۔ امام ان کے باطنی معنی سے آگاہی رکھتے ہیں اور امامت کا فلسفہ ہی دین اور اس کے تعلیمات کی باطنی تفسیر بیان کرنا ہے۔[65]

قاضی نُعمان کو اسماعلیہ کا سب سے بڑا مجتہد[66] اور اس کی کتاب دعائم الاسلام کو اس فرقے کا اصلی فقہی منبع قرار دیا جاتا ہے۔[66] ابوحاتم رازی، ناصر خسرو اور اِخوان الصَّفا نامی گروہ کو اسماعیلیہ کے برجستہ دانشمندوں میں شمار کیئے جاتے ہیں۔[67] ابو حاتم رازی کی کتاب رسائل اِخوان الصفا اور اَعلام النبوّہ ان کے اہم فلسفی کتابوں میں شمار ہوتے ہیں۔[68]

اس وقت اسماعیلیہ کو آغاخانیہ اور بُہرہ میں تقسیم کیا جاتا ہے جو مصر کے فاطمی یعنی نزاریہ اور مستعلویہ کے باقیات میں سے ہیں۔[69] آغاخانیوں کی آبادی تقریبا ایک میلین ہے جو عمدتا ایشائی ممالک جیسے ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور ایران میں مقیم ہیں۔[70] جبکہ دوسرے گروہ کی آبادی تقریبا 500 نفوس پر مشتمل ہے جن کی تقریبا 80 فیصد آبادی ہندوستان میں مقیم ہیں۔[71]

مہدویت

تفصیلی مضمون: مہدویت

مہدویت تمام اسلامی مذاہب کا مشترکہ عقیده سمجھا جاتا ہے؛[72] لیکن یہ عقیدہ شیعوں کے یہاں ایک خاص اہمیت کا حامل ہے اور اس سلسلے میں بہت ساری احادیث، کتابیں، اور مقالات لکھے گئے ہیں۔[73]

تمام شیعہ فرقوں کا اس عقیدے کی اصل ماہیت میں اتفاق نظر ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی تفصیلات میں تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں امامیہ اس بات کے معتقد ہیں کہ مہدی موعود امام حسن عسکریؑ کے فرزند ارجمند ہیں اور اس وقت غیبت میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔[74] اسماعیلیہ محمد مکتوم جو کہ امام صادقؑ کی فرزند اسماعیل کے بیتے ہیں کو مہدی موعود قرار دیتے ہیں۔[75] اسی طرح زیدیہ چونکہ قیام کرنے کو امام کے شرائط میں سے قرار دیتے ہیں اس لئے غیبت اور انتظار پر اعتقاد نہیں رکھتے ہیں۔[76] زیدیہ ہر امام کو مہدی اور مُنجی قرار دیتے ہیں۔[77]

دیگر اہم کلامی نظریات

اصول دین یعنی توحید، نبوت اور معاد میں دیگر مسلمانوں کے ساتھ مشترک ہونے کے ساتھ ساتھ شیعہ بعض ایسے اعتقادات بھی رکھتے ہیں جو انہیں باقی مسلمانوں یا بعض مذاہب سے ممتاز کرتے ہیں۔ یہ اعتقادات امامت اور مہدویت جن کا ذکر ہو چکا، کے علاوہ درج ذیل ہیں: حُسن و قُبح عقلی، تَنزیہ صفات خدا، اَمرٌ بَینَ الاَمرَین، تمام صحابہ کا عادل نہ ہونا، تقیّہ، توسل اور شفاعت۔

شیعہ علماء معتزلہ کی طرح حُسن و قُبح کو عقلی سمجھتے ہیں۔[78] حسن و قبح عقلی کا معنی یہ ہے کہ ہمارے اَعمال اس بات سے قطع‌ نظر کہ خدا انہیں اچھائی یا برائی سے متصف کریں عقلی طور پر بھی اچھے اور برے میں تقسیم ہوتے ہیں۔[79] اشاعرہ اس کے برخلاف اعتقاد رکھتے ہیں اور حسن و قبح کو شرعی مانتے ہیں؛[80] یعنی وہ کہتے ہیں کہ اچھائی اور برائی کا کوئی حقیقی وجود نہیں ہوا کرتا بلکہ یہ چیزیں اعتباری ہیں۔ بنابراین جس چیز کی انجام دہی کا خدا حکم دے وہ اچھی اور جس چیز سے خدا منع کرے وہ بری ہے۔[81]

"تنزیہ صفات" کا نظریہ، نظریہ "تعطیل" اور "تشبیہ" کے مقابلے میں ہے۔ نظریہ تعطیل کہتا ہے کہ کسی بھی صفت کو خدا کی طرف نسبت نہیں دی جا سکتی جبکہ تشبیہ کا نظریہ خدا کے صفات کو بھی دوسرے مخلوقات کے صفات کے ساتل تشبیہ دیتا ہے۔[82] شیعہ کہتے ہیں کہ بعض مثبت صفات جن سے مخلوقات متصف ہوتے ہیں کو خدا کی طرف بھی نسبت دی جا سکتی ہے لیکن ان صفات کے ساتھ متصف ہونے میں خدا کو مخلوقات کے ساتھ تشبیہ نہیں دی جا سکتی۔[83] مثال کے طور پر جس طرح انسان علم، قدرت اور حیات سے متصف ہوتے ہیں اسی طرح خدا بھی ان صفات سے متصف ہوتے ہیں خدا کا علم، قدرت اور حیات عام انسانوں کے علم، قدرت اور حیات کی طرح نہیں ہے۔[84]

اَمرٌ بَینَ الاَمرَین کا معنی یہ ہے کہ انسان نہ مکمل طور پر مختار ہے جس طرح معتزلہ قائل ہیں اور نہ مکمل طور پر مجبور ہے جس طرح اہل‌ حدیث خیال کرتے ہیں؛[85] بلکہ انسان اگرچہ اپنے افعال کی انجام دہی میں مختار ہے لیکن اس کا ارادہ اور اس کی قدرت خدا سے وابستہ ہے مستقل نہیں ہے۔[86] شیعوں میں سے زیدیہ بھی معتزلہ کی طرح انسان کو مکمل مختار تصور کرتے ہیں۔[87]

شیعہ متکلمین اہل‌ سنت کے برخلاف،[88] پیغمبر اکرمؐ کے تمام اصحاب کو عادل نہیں سمجھتے[89] اور کہتے ہیں کہ صرف پیغمبر اکرمؐ کی مصاحبت کسی کی عدالت پر دلیل نہیں بن سکتی۔[90]

زیدیہ کے علاوہ[91] دیگر شیعہ فرق تقیہ کو جائز سمجھتے ہیں؛ یعنی وہ اس بات کے معتقد ہیں کہ اگسی کسی جگہ اپنے اعتقادات کا اظہار اس کے لئے نقصان کا باعث ہو تو انسان اپنے عقیدے کو چھپا سکتا ہے اور اپنے عقیدے کے برخلاف چیز کا اظہار کر سکتا ہے۔[92]

اگرچہ دیگر مسلمان فرقوں میں بھی توسل کا مفہوم رائج ہے لیکن شیعوں کے یہاں توسل ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔[93] شیعہ بعض اہل سنت فرقوں من جملہ وہابیوں کے برخلاف[94] اپنی دعاؤوں کی قبولیت اور خدا سے تقرب حاصل کرنے کے لئے اولیائے خدا کو واسطه قرار دینے کو شائستہ اقدام قرار دیتے ہیں۔[95] توسل اور شفاعت ایک دوسرے کے ساتھ محکم رابطہ رکھتے ہیں۔[96] شیخ مفید کے مطابق شفاعت سے مراد یہ ہے کہ پیغمبر اکرمؐ اور ائمہ معصومین قیامت کے دن گناہکاروں کے شفیع بنتے ہیں اور خدا ان ہستیوں کی شفاعت کی وجہ سے ان گناہگاوں کو بہت سارے گناہوں سے نجات دیتے ہیں۔[97]

فقہ

تفصیلی مضمون: فقہ

قرآن و سنت کو تمام شیعہ فرق احکام شرعی کے معتبر منابع کے طور پر قبول کرتے ہیں؛[98] لیکن احکام کے استنباط میں دیگر فقہی منابع کی طرح ان دونوں کے استعمال میں اختلاف‌ رکھتے ہیں۔

امامیہ اور زیدیہ اہل‌ سنت کی طرح قرآن و سنت کے علاوہ عقل اور اجماع کو بھی حجت مانتے ہیں؛[99] لیکن اس مسئلے میں اسماعیلیہ ان کا ساتھ نہیں دیتے۔ اسی طرح اسماعیلیہ کسی بھی مجتہد کی تقلید کو جائز نہیں سمجھتے بلکہ وہ کہتے ہیں کہ احکام شرعی کو براہ راست قرآن، سنت اور ائمہ کی تعلیمات سے اخذ کرنا چاہئے۔[100]

زیدیہ سنت میں صرف پیغمبر اکرمؐ کی احادیث کو حجت مانتے ہیں اور اہل‌ سنت حدیی منابع جیسے صِحاح سِتّہ کی طرف رجوع کرتے ہیں؛[101] لیکن امامیہ اور اسماعیلیہ ان احادیث کو بھی فقہی منابع کے طور پر قبول کرتے ہیں جو ائمہ معصومین سے نقل ہوئی ہیں۔[102]

اسی طرح زیدیہ اہل‌ سنتْ کی طرح قیاس اور استحسان کو بھی حجت مانتے ہیں؛[103] جبکہ امامیہ اور اسماعیلیہ ان کو معتبر نہیں سمجھتے ہیں۔[104] البتہ امامیہ اور اہل‌ سنت کے درمیان بعض اختلافی مسائل میں زیدیہ بھی امامیہ کا ساتھ دیتے ہیں؛ مثلا زیدیہ بھی حَیَّ عَلیٰ خَیرِ العَمِل کو اذان کا جزء سمجھتے ہیں اور اذان میں "الصلاۃ خَیرٌ مِن النَّوم" (نماز نیند سے بہتر ہے) کہنے کو حرام سمجھتے ہیں۔[105]

جبکہ متعہ کے سلسلے میں اسماعیلیہ اور زیدیہ اہل‌ سنت کا ساتھ دیتے ہیں؛[106] اور امامیہ کے برخلاف متعہ کو حرام سمجھتے ہیں۔[107]

آبادی اور جغرافیایی حدود

سنہ 2014ء کی مردم شماری کے مطابق ایران، آذربایجان، بحرین، عراق اور لبنان میں آبادی کے 50فیصد سے زیادہ شیعہ ہیں۔[108]

پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Center) کی 7 اکتوبر 2009ء کی رپورٹ کے مطابق دنیا کی مسلم آبادی کا 10 سے 13 فیصد شیعہ ہیں۔ اس تحقیق کے مطابق شیعوں کی کل آبادی 154 میلین سے 200 میلین تک ہے۔[109]

البتہ اس اعداد و شمار کو صحیح نہیں مانتے اور شیعوں کی کل آبادی کو 300 میلین سے بھی زیادہ یعنی دنیا کی مسلم آبادی کا 19فیصد سے بھی زیادہ بتاتے ہیں۔[110]

پیو ریسرچ سینٹر(Pew Research Center) کی رپورٹ کے مطابق شیعہ آبادی کا 68 سے 80 فیصد آبادی ایران، عراق، پاکستان اور ہندوستان میں موجود ہیں۔ ایران میں ۶۶ سے ۷۰ میلین شیعہ ہیں جو کل شیعہ آبادی کا ۳۷ سے ۴۰فیصد بنتا ہے۔ پاکستان، ہندوستان اور عراق میں ۱۶ میلین سے بھی زیادہ شیعہ موجود ہیں۔[111]

ایران، عراق، آذربایجان اور بحرین کی اکثریت شیعہ ہیں۔[112] براعظم ایشیاء، شمالی افریقہ، امریکہ اور کینڈا میں بھی شیعہ موجود ہیں۔[113]

حکومتیں

آل ادریس، علویان طبرستان، آل بویہ، یمن کے زیدی، فاطمیان، اَلَموت کے اسماعیلیہ، سبزوار کے سربداران، صفویہ اور جمہوری اسلامی ایران‌ دنیا میں شیعہ حکومتیں ہیں۔

مراکش اور الجزایر کے بعض حصوں پر قائم ہونے والی آل‌ ادریس کی حکومت[114] کو دنیا میں شیعوں کی پہلی حکومت تصور کی جاتی ہے۔[115] یہ حکومت سنہ ۱۷۲ھ امام حسن مجتبیؑ کے پوتے ادریس کے ذریعے قائم ہوئی اور تقریبا دو صدیاں تک باقی رہی۔[116]

حکومت علویانْ زیدی مذہب تھے۔[117] اسی طرح زیدیوں نے سنہ ۲۸۴ھ سے سنہ ۱۳۸۲ھ تک یمن پر بھی حکومت کی ہیں۔[118] الموت میں فاطمیوں اور اسماعیلیوں کی حکومت اسماعیلیہ مذہب تھی۔[119] آل بویہ کے بارے میں اختلاف‌ ہے۔ بعض انہیں زیدی سمجھتے ہیں جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ یہ لوگ امامیہ تھے۔ اسی طرح بعض کہتے ہیں کہ یہ لوگ ابتداء میں زیدی مذہب تھے لیکن بعد میں انہوں نے امامیہ مذہب اختیار کئے تھے۔[120]

سلطان محمد خدابندہ جو اولجایتو(حکومت ۷۰۳-۷۱۶ھ) کے نام سے مشہور تھے، نے ایک عرصے تک شیعہ اثناعشریہ کو اپنی حکومت کا سرکاری مذہب قرار دیا؛ لیکن ان کے حکومتی ارکان جن کی اکثریت اہل‌ سنت کی تھی، کے دباؤ میں آکر دوبارہ مذہب اہل سنت کو سرکاری مذہب قرار دیا۔[121]

سبزوار میں سربداران کی حکومت کو بھی شیعہ حکومت قرار دیا جاتا ہے۔[122] البتہ معاصر مورخ رسول جعفریان کے مطابق سربداران کے حاکموں کا اصل مذہب کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا؛‌ لیکن ان کے مذہبی رہنما صوفی مذہب تھے جو شیعہ مذہب کے طرف مائل تھے۔[123] سربدارن کے آخری حاکم خواجہ علی مؤید[124] نے امامایہ مذہب کو سرکاری مذہب قرار دیا۔[125]

سلسلہ صفویہ جسے سنہ ۹۰۷ھ میں شاہ اسماعیل نے تشکیل دیا، شیعہ اثناعشریہ تھا۔[126] اس حکومت نے ایران میں مذہب امامیہ کو ترویج دے کر ایران کو مکمل طور پر ایک شیعہ ملک میں تبدیل کیا۔[127]

جمہوری اسلامی ایران‌ میں اصول دین اور فقہ دونوں اعتبار سے شیعہ اثناعشریہ رائج ہے۔[128]

متعلقہ صفحات

فوٹو گیلری

حوالہ جات

  1. فراہیدی، العین، ذیل «شیع و شوع»۔
  2. شیخ مفید، اوائل‌المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۳۵؛ شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱۔
  3. ملاحظہ کریں: شرح‌المواقف، ۱۳۲۵ق، ج۸، ص۳۵۴۔
  4. ملاحظہ کریں: جعفریان، تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا طلوع دولت صفوی، ۱۳۹۰ش، ص۲۲و۲۷۔
  5. محرمی، تاریخ تشیع، ۱۳۸۲ش، ۴۳و۴۴؛ گروہ تاریخ پژوہشگاہ حوزہ و دانشگاہ، تاریخ تشیع، ۱۳۸۹ش، ۲۰تا۲۲؛ فیاض، پیدایش و گسترش تشیع، ۱۳۸۲ش، ص۴۹تا۵۳۔
  6. ملاحظہ کریں: صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ص۱۸تا۲۰۔
  7. صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ص۲۰۔
  8. ملاحظہ کریں: جعفریان، تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا طلوع دولت صفوی، ۱۳۹۰ش، ص۲۹و۳۰۔
  9. ملاحظہ کریں: فیاض، پیدایش و گسترش تشیع، ۱۳۸۲ش، ص۶۳تا۶۵۔
  10. فیاض، پیدایش و گسترش تشیع، ۱۳۸۲ش، ص۶۱۔
  11. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱۔
  12. انصاری، «امامت (امامت نزد امامیہ)»، ص۱۳۷؛ سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۵۶و۲۵۷۔
  13. دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۲۱۳۔
  14. ملاحظہ کریں: کلینی، کافی، ۱۴۰۷ق، ج۲، ص۲۱.
  15. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱۔
  16. امیرخانی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، ص۱۳۔
  17. امیرخانی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، ص۲۹؛ دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۱۰۵؛‌ اسی طرح ملاحظہ کریں: شیخ مفید، اوائل‌المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۴۰و۴۱۔
  18. امیرخانی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، ص۱۳.
  19. امیرخانی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، ص۱۱؛ اسی طرح ملاحظہ کریں: شیخ مفید، اوائل‌المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۳۸ و ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۸۱۔
  20. ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، الاقتصاد، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م، ص۳۱۲؛ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۸۱۔
  21. ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، الاقتصاد، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م، ص۳۱۲۔
  22. ملاحظہ کریں: شیخ طوسی، الاقتصاد، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م، ص۳۱۲؛ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۸۱۔
  23. ملاحظہ کریں: شیخ مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۲۸و۲۹؛ سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۶۰تا۲۶۳۔
  24. ملاحظہ کریں: شیخ مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۲۸.
  25. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۱۔
  26. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۲؛ دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۱۰۵۔
  27. اس سلسلے میں مزید مطالعہ کیلئے رجوع کریں:علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۲تا۴۹۴ و سبحانی، الالہیات، ۱۳۸۴ش/۱۴۲۶ق، ص۲۶تا۴۵۔
  28. علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۳؛ سبحانی، الالہیات، ۱۳۸۴ش/۱۴۲۶ق، ص۱۲۵تا۱۳۰۔
  29. سبحانی، الالہیات، ۱۳۸۴ش/۱۴۲۶ق، ص۱۱۷تا۱۲۵۔
  30. ملاحظہ کریں: سبحانی، اضواء علی عقائد الشیعہ الامامیہ، ۱۴۲۱ق، ص۳۸۹تا۳۹۴۔
  31. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۷۸۔
  32. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۷۹۔
  33. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱؛ ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۷۔
  34. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۴۱تا۱۴۳۔
  35. ملاحظہ کریں: علامہ حلی، کشف‌المراد، ۱۴۱۷ق، ص۴۹۸تا۵۰۱؛ شیخ مفید، الافصاح، ۱۴۱۲ق، ص۳۲، ۳۳، ۱۳۴
  36. ملاحظہ کریں: صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۲۔
  37. ملاحظہ کریں صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۹۵تا۱۰۴۔
  38. ملاحظہ کریں: شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۲تا۱۳۶۔
  39. ملاحظہ کریں: شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۱تا۱۷۱۔
  40. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۶۶۔
  41. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۶۴۔
  42. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۶۵۔
  43. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۵۴ہ
  44. جبرئیلی، سیر تطور کلام شیعہ، ۱۳۹۶ش، ص۴۶؛ طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۶۶۔
  45. علامہ طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۱۹۷تا۱۹۹۔
  46. علامہ طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۲۳۰، ۲۳۱۔
  47. ربانی گلپایگانی، درآمدی بہ شیعہ شناسی، ۱۳۹۲ش، ص۲۷۳؛ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۱۰۶۔
  48. ربانی گلپایگانی، درآمدی بہ شیعہ شناسی، ۱۳۹۲ش، ص۲۷۳۔
  49. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۱۱، ص۳۸۱؛ شیخ مفید، تصحیح الاعتقاد، ۱۴۱۳ق، ص۶۵۔
  50. کاشفی، کلام شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۵۲۔
  51. مکارم شیرازی، دائرۃ المعارف فقہ مقارن، ۱۴۲۷ق، ج۱، ص۲۶۰تا۲۶۴۔
  52. تقی‌زادہ داوری، گزارشی از آمار جمعیتی شیعیان کشورہای جہان، ۱۳۹۰ش، ص۲۹۔
  53. هاینس، تشیع، ۱۳۸۹ش، ص۳۵۷۔
  54. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۸۷و۲۸۸؛ صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۸۶۔
  55. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۳۷و۱۳۸۔
  56. 56.0 56.1 صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۹۵
  57. صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۱۰۲۔
  58. ملاحظہ کریں: شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۴۳۔
  59. ملاحظہ کریں: رسول جعفریان،اطلس شیعہ، ۱۳۸۷ش، ص۴۶۶۔
  60. شہرستانی، الملل و النحل، ۱۳۷۵ش، ج۱، ص۱۷۰و۱۷۱۔
  61. دفتری، تاریخ و سنت‌ ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۱۶۵۔
  62. دفتری، تاریخ و سنت‌ ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۱۶۵؛‌ صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۴ش، ج۲، ص۱۵۱۔
  63. صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۴ش، ج۲، ص۱۵۱و۱۵۲؛ دفتری، تاریخ و سنت‌ ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۱۶۵۔
  64. ملاحظہ کریں: دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۱۶۲۔
  65. ملاحظہ کریں: برنجکار، آشنایی با فرق و مذاہب اسلامی، ۱۳۸۹ش، ص۹۵۔
  66. 66.0 66.1 دفتری، تاریخ و سنت‌ ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۲۱۲۔
  67. ملاحظہ کریں: صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۴ش، ج۲، ص۱۵۳۔
  68. ملاحظہ کریں: صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۴ش، ج۲، ص۱۵۴و۱۶۱
  69. مشکور، فرہنگ فرق اسلامی،۱۳۷۲ش، ص۵۳.
  70. دفتری، «اسماعیلیہ»، ص۷۰۱۔
  71. دفتری، «بہرہ»، ص۸۱۳۔
  72. صدر، بحث حول المہدی، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م، ص۱۵؛ حکیمی، خورشید مغرب، ۱۳۸۶ش، ص۹۰۔
  73. حکیمی، خورشید مغرب، ۱۳۸۶ش، ص۹۱۔
  74. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۲۳۰و۲۳۱۔
  75. صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۴ش، ج۲، ص۱۵۲۔
  76. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۹۱۔
  77. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۹۴۔
  78. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۲۹۶؛ صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۸۸۔
  79. مظفر، اصول الفقہ، ۱۴۳۰ق، ج۲، ص۲۷۱۔
  80. مظفر، اصول الفقہ، ۱۴۳۰ق، ج۲، ص۲۷۱۔
  81. مظفر، اصول الفقہ، ۱۴۳۰ق، ج۲، ص۲۷۱۔
  82. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۷۲و۱۷۳۔
  83. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۷۲؛‌ طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۱۲۵و۱۲۶۔
  84. طباطبایی، شیعہ در اسلام، ۱۳۸۳ش، ص۱۲۵و۱۲۶۔
  85. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۲۷۷۔
  86. ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۱۷۳۔
  87. سلطانی، تاریخ و عقاید زیدیہ، ۱۳۹۰ش، ص۲۱۶۔
  88. ابن‌اثیر، اُسدالغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۰؛ ابن‌عبدالبر، الاستیعاب، ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ق، ج۱، ص۲۔
  89. شہید ثانی، الرعایة فی علم الدرایۃ، ۱۴۰۸ق، ص۳۴۳؛ امین، اعیان‌الشیعۃ، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م، ج۱، ص۱۶۱؛ ربانی گلپایگانی، درآمدی بر علم کلم، ۱۳۸۷ش، ص۲۰۹و۲۱۰۔
  90. شهید ثانی، الرعایة فی علم الدرایة، ۱۴۰۸ق، ص۳۴۳؛ امین، اعیان‌الشیعة، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م، ج۱، ص۱۶۱.
  91. صابری، تاریخ فرق اسلامی، ۱۳۸۸ش، ج۲، ص۸۷.
  92. سبحانی، «تقیہ»، ص۸۹۱و۸۹۲؛ دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۸۷۔
  93. پاکتچی، «توسل»، ص۳۶۲۔
  94. سبحانی، «توسل»، ص۵۴۱۔
  95. سبحانی، «توسل»، ص۵۴۰۔
  96. پاکتچی، «توسل»، ص۳۶۲۔
  97. ملاحظہ کریں: مفید، اوائل‌المقالات، ۱۴۱۳ق، ص۴۷۔
  98. ملاحظہ کریں: دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۲۱۲؛ مظفر، اصول الفقہ، ۱۴۳۰ق، ج۱، ۵۱؛ رحمتی و ہاشمی، «زیدیہ (فقہ زیدیہ)»، ص۹۸۔
  99. ملاحظہ کریں: مظفر، اصول الفقہ، ۱۴۳۰ق، ج۱، ص۵۱؛ رحمتی و ہاشمی، «زیدیہ (فقہ زیدیہ)»، ص۹۸و۹۹۔
  100. دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۲۱۴۔
  101. رحمتی و ہاشمی، «زیدیہ (فقہ زیدیہ)»، ص۹۸و۹۹۔
  102. دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۲۱۲؛ مظفر، اصول الفقہ، ۱۴۳۰ق، ج۱، ۵۱۔
  103. رحمتی و ہاشمی، «زیدیہ (فقہ زیدیہ)»، ص۹۸و۹۹۔
  104. دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۲۱۳و۲۱۴۔
  105. رحمتی و ہاشمی، «زیدیہ (فقہ زیدیہ)»، ص۹۸۔
  106. دفتری، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ۱۳۹۳ش، ص۲۱۴؛ رحمتی و ہاشمی، «زیدیہ (فقہ زیدیہ)»، ص۹۸
  107. رحمتی و ہاشمی، «زیدیہ (فقہ زیدیہ)»، ص۹۸۔
  108. FT_14.06.17_ShiaSunni
  109. انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ۱۳۹۳ش، ص۱۹۔
  110. ملاحظہ کریں:انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ۱۳۹۳ش، ص۱۱۔
  111. ملاحظہ کریں: انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ۱۳۹۳ش، ص۱۹۔
  112. انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ۱۳۹۳ش، ص۲۰۔
  113. انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ۱۳۹۳ش، ص۱۹، ۲۰۔
  114. سجادی، «آل‌ادریس، ص۵۶۱.
  115. سجادی، «آل‌ادریس، ص۵۶۴.
  116. سجادی، «آل‌ادریس، ص۵۶۱و۵۶۲۔
  117. چلونگر و شاہمرادی، دولت‌ہای شیعی در تاریخ، ۱۳۹۵ش، ص۵۱۔
  118. رسول جعفریان، ۱۳۸۷ش، اطلس شیعہ، ص۴۶۲.
  119. چلونگر و شاہمرادی، دولت‌ہای شیعی در تاریخ، ۱۳۹۵ش، ص۱۵۵تا۱۵۷۔
  120. چلونگر و شاہمرادی، دولت‌ہای شیعی در تاریخ، ۱۳۹۵ش، ص۱۲۵تا۱۳۰۔
  121. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران (از آغاز تا دولت صفوی)، ۱۳۹۰ش، ص۶۹۴۔
  122. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران (از آغاز تا دولت صفوی)، ۱۳۹۰ ش، ص۷۷۶۔
  123. ملاحظہ کریں: جعفریان، تاریخ تشیع در ایران (از آغاز تا دولت صفوی)، ۱۳۹۰ ش، ص۷۷۷تا۷۸۰۔
  124. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران (از آغاز تا دولت صفوی)، ۱۳۹۰ش، ص۷۷۸۔
  125. جعفریان، تاریخ تشیع در ایران (از آغاز تا دولت صفوی)، ۱۳۹۰ ش، ص۷۸۱۔
  126. ہاینس، تشیع، ۱۳۸۹ش، ص۱۵۶و۱۵۷۔
  127. چلونگر و شاہمرادی، دولت‌ہای شیعی در تاریخ، ۱۳۹۵ش، ص۲۷۶، ۲۷۷۔
  128. قاسمی و کریمی، «جمہوری اسلامی ایران»، ص۷۶۵و۷۶۶۔


مآخذ

  • ابن‌اثیر، علی بن محمد، اُسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ، دارالفکر، بیروت، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م۔
  • ابن‌عبد‌البر، یوسف بن عبداللہ، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت، دارالجیل، ۱۹۹۲م/۱۴۱۲ق۔
  • امیرخانی، علی، «نظریہ نص از دیدگاہ متکلمان امامی»، امامت‌پژوہی، ش۱۰، ۱۳۹۲ش۔
  • امین، سیدمحسن، اَعیان‌الشیعۃ، تحقق حسن امین، بیروت، دارالتعارف، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م۔
  • انجمن دین و زندگی عمومی پیو، نقشہ جمعیت مسلمانان جہان، ترجمہ محمود تقی‌زادہ داوری، قم، انتشارات شیعہ‌شناسی، چاپ اول، ۱۳۹۳ش۔
  • انصاری، حسن، «امامت (امامت نزد امامیہ)»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۱۰، تہران، مرکز دائرۃالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۰ش۔
  • ایجی، میرسیدشریف، شرح‌المواقف، تصحیح بدرالدین نعسانى‌، قم، شریف رضی، چاپ اول، ۱۳۲۵ق۔
  • برنجکار، رضا، آشنایی با فرق و مذاہب اسلامی، قم، کتاب طہ، چاپ چہارم، ۱۳۸۹ش۔
  • پاکتچی، احمد، «توسل»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۱۶، تہران، مرکز دائرۃ المعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۷ش۔
  • تقی‌زادہ داوری، محمود، گزارشی از آمار جمعیتی شیعیان کشورہای جہان براساس منابع اینترنتی و مکتوب، قم، انتشارات شیعہ‌شناسی، چاپ اول، ۱۳۹۰ش۔
  • جبرئیلی، محمدصفر، سیر تطور کلام شیعہ، دفتر دوم: از عصر غیبت تا خواجہ نصیر طوسی، تہران، انتشارات پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، چاپ پنجم، ۱۳۹۶ش۔
  • جعفریان، رسول، اطلس شیعہ، تہران، سازمان جغرافیایی نیروہای مسلح، چاپ پنجم، ۱۳۹۱ش۔
  • جعفریان، رسول، تاریخ تشیع در ایران از آغاز تا طلوع دولت صفوی، تہران، نشر علم، چاپ چہارم، ۱۳۹۰ش۔
  • چلونگر، محمدعلی و سیدمسعود شاہمرادی، دولت‌ہای شیعی در تاریخ، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۵ش۔
  • حکیمی، محمدرضا، خوشید مغرب، قم، دلیل ما، چاپ بیست و ہشتم، ۱۳۸۶ش۔
  • دفتری، فرہاد، «اسماعیلیہ»، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۸، تہران، مرکز دائرۃالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۷ش۔
  • دفتری، فرہاد، «بہرہ»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۴، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۷ش۔
  • دفتری، فرہاد، تاریخ و سنت‌ہای اسماعیلیہ، ترجمہ فریدون بدرہ‌ای، تہران، فروزان روز، چاپ اول، ۱۳۹۳ش۔
  • ربانی گلپایگانی، علی، درآمدی بر علم کلام، قم، دارالفکر، چاپ اول، ۱۳۸۷ش۔
  • ربانی گلپایگانی، علی، درآمدی بہ شیعہ‌شناسی، قم، مرکز بین‌المللی ترجمہ و نشر المصطفی، چاپ چہارم، ۱۳۹۲ش۔
  • رحمتی، محمدکاظم و سیدرضا ہاشمی، «زیدیہ»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۲۲، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۹۶ش۔
  • سبحانی، جعفر، اضواءٌ علی عقائد الشیعۃ الامامیہ و تاریخہم، تہران، مشعر، ۱۴۲۱ق۔
  • سبحانی، جعفر، الالہیات علی ہدی الکتاب و السنۃ و العقل، بہ‌قلم حسن مکی عاملی، قم، موسسہ امام صادق، چاپ ششم، ۱۳۸۶ش/۱۴۲۶ق۔
  • سبحانی، جعفر، «تقیہ»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۷، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۲ش۔
  • سبحانی، جعفر، «توسل»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۸، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۳ش۔
  • سجادی، صادق، «آل‌ادریس، دایرۃالمعارف بزرگ اسلامی، ج۱، تہران، مرکز دائرۃالمعارف بزرگ اسلامی، چاپ اول، ۱۳۷۴ش۔
  • سلطانی، مصطفی، تاریخ و عقاید زیدیہ، قم، نشر ادیان، چاپ اول، ۱۳۹۰ش۔
  • شہرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل و النحل، تحقیق محمد بن فتح‌اللہ بدران، قم، الشریف الرضی، ۱۳۷۵ش۔
  • شہید ثانی، زین الدین بن علی، الرعایۃ، فی علم الدرایۃ، تحقیق عبدالحسین محمدعلی بقال، قم، مکتبۃ آیۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی، ۱۴۰۸ق۔
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الاقتصاد فیما یتعلق بالاعتقاد، بیروت، دارالاضواء، چاپ دوم، ۱۴۰۶ق/۱۹۸۶م۔
  • صابری، حسین، تاریخ فرق اسلامی، تہران، سمت، چاپ پنجم، ۱۳۸۴ش۔
  • صدر، سیدمحمدباقر، بحثٌ حول المہدی، تحقیق عبدالجبار شرارہ، قم، مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۶م۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم، انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۱۷ق۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، شیعہ در اسلام، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ شانزدہم، ۱۳۸۳ش۔
  • علامہ حلی، کشف‌المراد فی شرح تجرید الاعتقاد، تحقیق و تعلیق حسن حسن‌زادہ آملی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، چاپ ہفتم، ۱۴۱۷ق۔
  • فراہیدی، خلیل بن احمد، العین، تصحیح مہدی مخزومی و ابراہیم سامرائی، قم، نشر ہجرت، ۱۴۱۰ق۔
  • فیاض، عبداللہ، پیدایش و گسترش تشیع، ترجمہ سیدجواد خاتمی، سبزوار، انتشارات ابن‌یمین، چاپ اول، ۱۳۸۲ش۔
  • قاسمی ترکی، محمدعلی و جواد کریمی، «جمہوری اسلامی ایران»، دانشنامہ جہان اسلام، ج۱۰، تہران، بنیاد دایرۃالمعارف اسلامی، چاپ اول، ۱۳۸۵ش۔
  • کاشفی، محمدرضا، کلام شیعہ ماہیت، مختصات و منابع، تہران، سازمان انتشارات پژوہشگاہ فرہنگ و اندیشہ اسلامی، چاپ سوم، ۱۳۸۷ش۔
  • محرمی، غلامحسن، تاریخ تشیع از آغاز تا پایان غیبت صغری، قم، مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، چاپ دوم، ۱۳۸۲ش۔
  • مشکور، محمدجواد، فرہنگ فرق اسلامی، مشہد، بنیاد پژوہش‌ہای اسلامی آستان قدس رضوی، چاپ دوم، ۱۳۷۲ش۔
  • مظفر، محمدرضا، اصول‌الفقہ، قم، دفتر انتشارات اسلامی، چاپ پنجم، ۱۴۳۰۔
  • مفید، محمد بن محمد، الافصاح، فی امامۃ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام، قم، مؤسسۃالبعثہ، چاپ اول، ۱۴۱۲ق۔
  • مفید، محمد بن محمد، اوائل المقالات فی المذاہب و المختارات، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۴۱۳ق۔
  • مفید، محمد بن محمد، تصحیح اعتقادات الامامیہ، تحقیق حسین درگاہی، قم، المؤتمر العالمی للشیخ المفید، ۱۳۷۱ش۔
  • مکارم شیرازی، ناصر، دایرۃالمعارف فقہ مقارن، قم، مدرسہ امام علی بن ابی طالب(ع)، چاپ اول، ۱۴۲۷ق۔
  • ہالم، ہاینس، تشیع، ترجمہ محمدتقی اکبری، قم، نشر ادیان، چاپ دوم، ۱۳۸۹ش۔
  • FT_14.06.17_ShiaSunni