دعائے مشلول

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
دعا و مناجات
مسجد جامع خرمشهر.jpg

دعائے مشلول یا دعائے "الشاب الماخوذ بذنبہ"، یہ دعا امام علی(ع) سے نقل کی گئی ہے، آپ نے اس دعا کی تعلیم ایسے جوان کو دی کہ جس کا ہاتھ اپنے والد کی بد دعا سے فلج ہو گیا تھا اور فرمایا جب بھی با ایمان شخص اللہ تعالی کو خالصانہ طور پر اس دعا کے وسیلے سے پکارے گا، اس کی دعا مستجاب ہو گی۔

دعا کی سند

مشلول کا معنی، یعنی جس کے جسم کا کوئی عضو فلج ہو گیا ہو۔ سید بن طاووس نے اس دعا کو سند کے ساتھ کتاب مہج الدعوات [1] میں نقل کیا ہے، کفعمی نے بلد الامین میں، [2] علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں [3] اور شیخ عباس قمی نے مفاتیح الجنان میں نقل کیا ہے۔

اس دعا کو "الشاب الماخوذ بذنبہ" [4] کا نام بھی دیا گیا ہے۔

دعا کا شان نزول

امام حسین(ع) نقل فرماتے ہیں کہ ایک رات اپنے والد گرامی کے ہمراہ خانہ کعبہ کے طواف میں مشغول تھا کہ ایک جوان کے رونے کی آواز سنی۔ میرے والد نے مجھے اس آواز کی طرف جانے کو کہا۔ ایک خوبصورت جوان کو روتے اور دعا کرتے دیکھا اور اسے امام(ع) کے پاس لے آیا۔ اس نے اپنا ماجرا اس طرح بیان کیا:

اپنے وقت کو خوشی میں گزارنے والا نوجوان تھا اور میرے والد اس موضوع سے سخت پریشان تھے۔ ایک دن میں نے اپنے والد کے پیسے ان کی اجازت کے بغیر اٹھا لئے اور انہیں مارا، ان کا دل ٹوٹ گیا اور انہوں نے مکہ کے سفر کے دوران مجھے بد دعا دی۔ اسی وقت میرا ہاتھ شل ہو گیا اس کے بعد کئی سال ہو گئے ہیں کہ میں رو رو کر اپنے والد کو راضی کرنے کی کوشش کر رہا تھا اب وہ راضی ہوئے اور اس سال دوبارہ میرے ساتھ مکہ آ رہا تھے تا کہ میرے لئے خدا سے شفا طلب کریں لیکن راستے میں ہی وفات پا گئے اور میں اکیلا مکہ آیا ہوں۔

میرے والد گرامی نے اس جوان کو بشارت دی کہ تمہیں شفا ملنے کا وقت آ گیا ہے اور یہ دعا جو کہ حضور(ص) سے سیکھی تھی اسے سکھائی اور اس کی حاجت پوری ہونے کے لئے کچھ شرائط بیان فرمائے۔ [5]

دعا کا ترجمہ

اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں تیرے نام کے واسطے سے اﷲ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو رحمن ورحیم ہے اے صاحب جلالت و عظمت،

اے زندہ، اے نگہبان، اے زندہ سوائے تیرے کوئی معبود نہیں اے وہ کہ جسے کوئی نہیں جانتا کہ وہ کیا ہے اور کیسا

ہے ،وہ کہاں ہے ،وہ کیوں کر ہے ہاں وہ خود ہی جانتا ہے۔ اے صاحب ملک و ملکوت اے صاحب عزت و اقتدار، اے بادشاہ،

اے پاک، اے سلا متی والے، اے امن دینے وا لے، اے پاسبان، اے عزت والے، اے زبردست ،اے بڑائی والے،

اے پیدا کرنے والے، اے وجود دینے والے، اے صورت بنانے والے ،اے فائدہ دینے والے، اے تدبیر والے، اے محکم کار

اے صاحب ایجاد، اے مرجع خلق، اے ظالم کو ختم کرنے والے، اے محبت والے، اے نیک صفات والے، اے معبود

اے بعید، اے قریب، اے دعا قبول کرنے والے، اے نگہبان ،اے حساب کرنے والے ،اے ایجاد کرنے والے، اے بلند مرتبہ

اے عالی مقام، اے سننے والے، اے علم والے، اے حلم والے، اے مہربان، اے حکمت والے ،اے وجود قدیم، اے عالی شان

اے بزرگی والے، اے محبت کرنے والے، اے احسان کرنے والے، اے حسا ب کرنے والے، اے جز ادینے والے، اے مدد کرنے

والے، اے جلالت والے، اے صا حب جما ل، اے کارساز، اے سرپرست ،اے معاف کرنے والے ،اے پہنچانے والے

اے باعظمت ،اے رہنما ،اے رہبر، اے ابتداء کرنے والے ،اے اول، اے آخر، اے ظاہر، اے باطن ،اے استوار ،اے ہمیشہ رہنے

والے، اے علم والے، اے صاحب حکم، اے منصف ،اے عدل کرنے والے، اے سب سے جدا، اے سب سے ملے ہو ئے، اے پاک ،

اے پاک کرنے والے، اے قدرت والے، اے اقتدار والے، اے بزرگ، اے بزرگی والے، اے یگانہ، اے یکتا ،اے بے نیاز، اے وہ

جو کسی کا باپ نہیں اور نہ کسی کا بیٹا ہے اور جسکا کوئی ہمسر نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کوئی زوجہ ہے نہ اس کیلئے کوئی وزیر ہے اور نہ اس نے

اپنا کوئی مشیر بنایا ہے نہ وہ کسی مددگار کی حاجت رکھتا ہے اور نہ اسکے ساتھ کوئی اور معبود ہے سوائے تیرے کوئی معبود نہیں

پس تو اس سے بہت زیادہ بلند ہے جو یہ ظالم کہا کرتے ہیں۔اے عالی شان اے بلند مرتبہ والے اے عالی مرتبہ اے کھولنے والے

اے بخشنے والے اے ہوا کو چلانے والے اے راحت دینے والے اے مدد کرنے والے اے مدد دینے والے اے پہنچنے والے اے

ہلاک کرنے والے اے بدلہ لینے والے اے اٹھانے والے اے وارث اے طالب اے غالب اے وہ جس سے بھاگنے والا بھاگ

نہیں سکتا اے توبہ قبول کرنے والے اے پلٹنے والے اے بہت دینے والے اے اسباب مہیاکرنے والے اے دروازوں کے

کھولنے والے اے وہ کہ جسے پکارا جا ئے تو وہ دعا قبول کرتا ہے اے بہت پاکیزہ اے بہت شکر کرنے والے اے معاف کرنے والے

اے بخشنے والے اے نور کے پیدا کرنے والے اے امورکی تدبیر کرنے والے اے مہربان اے خبردار اے پناہ دینے والے اے

روشن کرنے والے اے بینا اے مددگاراے سب سے بڑے اے بزرگ اے یکتا اے تنہا اے ہمیشگی والے اے نگہبا ن اے بے نیاز

اے کافی اے شفا د ینے والے اے وفا کرنے والے اے معا ف کرنے و الے اے احسا ن کرنے والے اے نیکوکار اے نعمت دینے

والے اے بزرگواراے بڑے مرتبے والے اے یگانگی والے اے وہ جو بلندی کے ساتھ غالب ہے اے وہ جو مالک ہے پھر قادر ہے

اے وہ جو نہاں ہے اور باخبر ہے اے وہ جو معبود ہے تو بدلہ دیتا ہے اے جو نافرمانی پر بخشتا ہے اے وہ جو فکر میں سما نہیں سکتا اور نگاہ

اسے دیکھ نہیں پاتی اور کوئی نشان اس سے پوشیدہ نہیں ہے اے انسانوں کو رزق دینے والے اے ہر اندازہ کے مقرر کرنے والے

اے بلند مرتبہ اے محکم وسائل والے اے زمانے کو بدلنے والے اے قربانی قبول کرنے والے اے صاحب نعمت و احسان

اے صاحب عزت اور ابدی حکومت والے اے رحیم اے رحمن اے وہ کہ ہر روز جسکی نئی شان ہے اے وہ

جسے ایک کام دوسرے کام سے غافل نہیں کرتا اے بڑے مقام والے اے وہ جو ہر جگہ موجود ہے اے آوازوں کے

سننے والے اے دعا ئیں قبول کرنے والے اے مرادیں برلانے والے اے حاجات پوری کرنے والے اے برکتیں نازل کرنے

والے اے آنسوئوں پر رحم کھانے والے اے گناہوں کے معاف کرنے والے اے سختیاں دور کرنے والے اے نیکیوں کو پسند کرنے

والے اے مرتبے بلند کرنے والے اے مرادیں پوری کرنے والے اے مردوں کو زندہ کرنے والے اے بکھروں کو اکٹھا کرنے

والے اے نیتوں کی خبر رکھنے والے اے کھوئی ہوئی چیزیں لوٹانے والے اے وہ جس پر آوازیں مشتبہ نہیں ہوتیں اے وہ جسے

کثرت سوال سے تنگی نہیں ہوتی اور تاریکیاں اسے گھیرتی نہیں ہیں اے آسمانوں اور زمین کی روشنی اے نعمتوں کے پورا کرنے

والے اے بلائیں ٹالنے والے اے جانداروں کو پیدا کرنے والے اے امتوں کو جمع کرنے والے اے بیماروں کو شفا دینے والے

اے روشنی اور تاریکی کے پیدا کرنے والے اے صاحب جودو کرم اے وہ جس کے عرش پر کسی کا قدم نہیں آیا اے سخیوں میں سے

سب سے بڑے سخی اے بزرگی والوں سے زیادد بزرگ اے سننے والوں میں سے زیادہ سننے والے اے دیکھنے والوں میں سے زیادہ

دیکھنے والے اے پناہ گزینوں کی پناہ گاہ اے ڈرے ہوئوں کی جائے امن اے پناہ چاہنے والوں کی جائے پناہ اے مومنوں کے

سرپرست اے فریادیوں کے فریاد رس اے طلبگاروں کی امید اے ہر سفر کرنے والے کے ساتھی اے ہر اکیلے کے ہم نشیں

اے ہر نکالے گئے کی جائے پناہ اے بے ٹھکانوں کی قرارگاہ اے گمشدہ کے نگہبان اے بڑے بوڑھے پر رحم

کرنے والے اے ننھے بچے کو روزی دینے والے اے ٹوٹی ہڈی کو جوڑنے والے اے ہر قیدی کو رہائی دینے والے اے بے چارے

مفلس کو غنی بنانے والے اے خائف پناہ گزین کی جائے قرار اے تدبیر اور تقدیر کے مالک

اے وہ جس کے لیے ہر مشکل کام آسان اور ہلکا ہے اے وہ جو تفسیر کا محتاج نہیں اے وہ جو ہر چیز پر قدرت

رکھتا ہے اے وہ جو ہر چیز سے واقف ہے اے وہ جو ہر چیز کو دیکھتا ہے اے ہوائوں کو چلانے والے

اے صبح کی پو کھولنے والے اے روحوں کو بھیجنے والے اے عطا و سخاوت والے اے وہ جس کے ہاتھ میں ساری کنجیاں ہیں

اے ہر آواز کے سننے وا لے اے ہر گزرے ہوئے سے پہلے اے ہر نفس کو اس کی موت کے بعد زندہ کرنے والے اے سختیوں میں

میری پناہ اے سفر میں میرے محافظ اے میری تنہائی کے ہم دم اے میری نعمتوں کے مالک

اے میری پناہ جب مجھ پر راہیں بند ہوجائیں اور رشتہ دار مجھے دور کر دیں اور احباب مجھے چھوڑ جائیں اے اسکے سہارے جس کا

کوئی سہارا نہیں اے اسکی سند جسکی کوئی سند نہیں اے اسکے ذخیرے جسکا کوئی ذخیرہ نہیں

اے اسکی پناہ جسکی کوئی پناہ نہیں اے اسکی اما ن جسکی کوئی امان نہیں اے اسکے خزانے جسکا کوئی خز انہ نہیں

اے اسکے پشت پناہ جسکا کوئی پشت پناہ نہیں اے اسکے فریاد رس جسکا کوئی فریاد رس نہیں اے اسکے ہمسائے جسکا کوئی

ہمسایہ نہیں جو نزدیک تر ہے اے میرا مضبوط ترین سہارا اے میرے حقیقی معبود اے خانہ کعبہ کے پروردگار اے مہربان اے دوست

مجھے تنگ گھیرے سے آزاد کر مجھ سے ہر غم و اندیشہ اور تنگی دور فرما دے مجھے اس شر سے بچا جو میری طاقت

سے زیادہ ہے اور اس میں مدد دے جو میں سہہ سکتا ہوں اے وہ جس نے یعقوب (ع)کو یوسف(ع) واپس دلایا اے ایو ب (ع)کا دکھ دور کرنے

والے اے داؤود(ع) کی خطا معاف کرنے والے اے عیسی (ع)بن مریم کو آسمان پر اٹھانے والے۔ اور انہیں یہودیوں کے چنگل سے

چھڑانے والے اے تاریکیوں میں یونس(ع) کی فریاد کو پہنچنے والے اے موسیٰ(ع) کو اپنے کلام کیلئے منتخب کرنے والے اے آدم(ع)

کے ترک اولی کو معاف کرنے والے اور ادریس (ع)کو اپنی رحمت سے بلند مقام پر لے جانے والے اے نوح (ع) کو ڈوبنے سے بچانے

والے اے وہ جس نے عاد اولی اور ثمود کوہلا ک کیا پس کسی کو باقی نہ چھوڑا اور ان سے پہلے قوم نوح (ع)کو ہلاک کیا جو بڑے ظالم سرکش اور

دین میں افترا کرنے والے تھے اے وہ جس نے قوم لوط کی بستیوں کو الٹ دیا اور قوم شعیب پر عذاب بھیجا تھا اے وہ جس

نے ابراہیم(ع) کو اپنا خلیل بنایا اے وہ جس نے موسی(ع) کو اپنا کلیم بنایا اور محمد

کو اپنا حبیب قرار دیا کہ خدا کی رحمت ہو ان پر انکی آل (ع) پر اور ان سب ہستیوں پر جن کا ذکر ہو ا ہے اے لقما ن (ع)کو حکمت عطا کرنے والے

اور سلیما ن (ع)کو ایسی سلطنت د ینے و الے کہ جیسی سلطنت انکے بعد کسی کو نہیں ملی اے وہ جس نے جابر بادشاہوں کے خلاف ذوالقرنین

(ع)کی مدد فرمائی اے وہ جس نے خضر (ع)کو دائمی زندگی دی اور یوشع (ع)بن نون کی خاطر آفتاب کو پلٹایا جب کہ وہ غروب ہو چکا تھا اے وہ جس

نے مادر موسی(ع) کے دل کو سکون دیا اور مریم بنت عمران(ع) کو پاکدامنی سے سرفراز فرمایا اے وہ جس نے

یحییٰ(ع) بن زکریا(ع)کو گناہ سے محفوظ رکھا اور موسی (ع)سے غضب کو دور فرمایااے وہ جس نے زکریا(ع) کو یحیی(ع) کی بشارت دی

اے وہ جس نے اسماعیل(ع) کے ذبح ہونے کو ذبح عظیم میں بدلااے وہ جس نے ہابیل(ع) کی قربانی قبول فرمائی اور قابیل پر لعنت مسلط کر

دی اے حضرت محمد کی خاطر کفار کے جتھو ں کو شکست دینے والے محمد(ص) و آل محمد(ص) پر

رحمت نازل کر اپنے تمام رسولوں پر اور اپنے مقرب فرشتوں پر اور فرمانبردار بندوں پر رحمت نازل فرما اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے

ہر اس سوال کے واسطے سے جو تیرے ہر اس بندے نے کیا جس سے تو راضی و خوش ہے پھر تو نے اسکی دعا یقینا قبول فرمائی یااللہ

یااللہ یااﷲ یارحمن یارحمن یارحمن یارحیم یارحیم یارحیم اے جلالت

و بزرگی والے اے جلالت وبزرگی والے اے جلالت و بزرگی والے اسی کا واسطہ اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا اسی کا

میں سوال کرتا ہوں تیرے ہر اس نام کے واسطہ سے جس سے تو نے اپنی ذات کو پکارایا اپنے صحیفوں میں سے کسی میں اتارا یا اسے

علم غیب میں اپنے لئے مقرر و خاص کیا ہے ان مقامات بلند کا واسطہ جو تیرے عرش میں ہیں اس انتہائی رحمت کا واسطہ

جو تیری کتاب میں ہے اور اس آیت کا واسطہ کہ اگر زمین کے تمام درخت قلم اور سمندر روشنائی بن جائیں اسکے بعد سات سمندر

اور ہوں تو بھی خدا کے کلمات تمام نہیں ہوں گے بے شک اللہ غا لب ہے حکمت والا اور میں سوال کرتا ہوں تیرے پیارے ناموں

کیساتھ جنکی تو نے قرآن میں توصیف کی پس تو نے کہا اور اللہ کیلئے ہیں پیارے پیارے نام تو تم اسے انہی سے پکارو اور تو نے کہا

مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور تونے کہا کہ جب میرے بندے مجھے پکاریں تو میں ان کے قریب ہی ہوتا ہوں میں دعا

کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ دعا کرے اور تو نے کہا اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے کہ تم اللہ کی

رحمت سے ناامید نہ ہو جانا کہ بے شک اللہ تمام گناہ بخش دے گا یقینا وہ بہت بخشنے والا مہربان ہے اور میں سوال کرتا ہوں تجھ سے

اے معبود تجھے پکارتا ہوں اے پروردگار اور تجھ سے امید رکھتا ہوں اے میرے آقامیں دعا کے قبول ہونے کی طمع رکھتا ہوں اے

میرے مولا جیسے تو نے وعدہ کیا اور میں نے تجھے پکارا جیسا کہ تو نے مجھے حکم دیا پس اے کریم ذات تو بھی مجھ سے وہ سلوک کر جسکا تو

اہل ہے اور تعریف بس خدا کیلئے ہے جو عالمین کا رب ہے اور محمد(ص) اوراسکی تمام آل محمد(ص) پر اﷲ رحمت فرمائے۔

دعا کا مضمون

اور آخر میں حق تعالیٰ کو اس کے بعض ناموں کی قسم دے کر اور قرآن کی آیات کا ذکر کر کے، شخص اس سے اپنی حاجات کو طلب کرتا ہے اور محمد و آل محمد پر صلوات بھیج کر ختم کرتا ہے : أَنَا أَسْأَلُكَ يَا إِلَهِي وَ أَدْعُوكَ يَا رَبِّ وَ أَرْجُوكَ يَا سَيِّدِي وَ أَطْمَعُ فِي إِجَابَتِي يَا مَوْلايَ كَمَا وَعَدْتَنِي وَ قَدْ دَعَوْتُكَ كَمَا أَمَرْتَنِي فَافْعَلْ بِي مَا أَنْتَ أَهْلُهُ يَا كَرِيمُ وَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِهِ أَجْمَعِينَ۔ امام علی(ع) نے فرمایا اس دعا میں اسم اعظم کا ذکر ہوا ہے۔

روایت میں بیان ہوا ہے کہ اس دعا کو وضو کے بغیر نہیں پڑھنا چاہیے۔

حوالہ جات

  1. مہج الدعوات ص۱۵۱
  2. بلد الامین، ص۳۳۷
  3. بحار الانوار، ج۹۲ ص۲۸۲
  4. "وہ جوان جو اپنے گناہ کی سزا میں گرفتار ہوا تھا"
  5. بحارالانوار ج۹۲ ص۲۸۲


منابع

  • محمد باقر مجلسی، بحارالانوار، دار احیاء التراث العربی، بیروت
  • سید بن طاووس، مہج الدعوات و منہج العبادات‏، دار الذخائر، قم