نہج البلاغہ

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نہج البلاغہ.jpg
مؤلف: سید محمد بن حسین رضی(متوفا406ہجری)
زبان: عربی
مترجم: مفتی جعفر حسین(مرحوم)
تعداد مجلد: 1
ناشر: مرکز افکار اسلامی

امیرالمؤمنین(ع):
إِنَّ أَََمْرَنَا صَعْبٌ مُسْتَصْعَبٌ، لاَ يَحْمِلُہُ إِلا عَبْدٌ مُؤْمِنٌ امْتَحَنَ اللَّہُ قَلْبَہُ لِلْإِيمَانِ، وَلاَ يَعِي حَدِيثَنَا إِلا صُدُورٌ أَمِينَۃٌ وَأَحْلاَمٌ رَزِينَۃٌ
ترجمہ: "ہمارا امر بہت سخت و دشوار ہے اور اسے برداشت کرنا ممکن نہیں ہے سوائے صاحب ایمان بندہ جس کا قلب خدا نے ایمان کے لئے آزما لیا ہے اور ہماری حدیث کو کوئی بھی نہ سیکھے گا سوائے امانتدار سینوں اور بردبار عقول کے"۔

نہج البلاغہ شہیدی، خطبہ 189۔

امیرالمؤمنین(ع):
"اتَّقُوا اللَّہَ فِي عِبَادِہِ وَبِلاَدِہِ فَإِنَّكُمْ مَسْئُولُونَ حَتَّى عَنِ الْبِقَاعِ وَالْبَہَائِمِ"۔
ترجمہ: "اللہ کا خوف کرو خدا کے بندوں اور حتی کہ شہروں، زمینوں اور چوپایوں کے حق میں"۔

نہج البلاغہ شہیدی، خطبہ 167۔

امیرالمؤمنین(ع):
"رَأْيُ الشَّيْخِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ جَلَدِ الْغُلَامِ"۔
ترجمہ: "بوڑھے کی رائے مجھے جوان کی ہمت اور دلیری سے زیادہ پسند ہے"۔

نہج البلاغہ، کلمات قصار، حکمت نمبر 86۔

امیرالمؤمنین(ع):
"بِئْسَ الزَّادُ إِلَى الْمَعَادِ الْعُدْوَانُ عَلَى الْعِبَادِ"۔
ترجمہ: "آخرت کے لیے بہت برا توشہ ہے بندگان خدا پر ظلم و تعدی کرنا"۔

نہج البلاغہ، کلمات قصار، حکمت نمبر 221۔

نہج البلاغہ امام علی(ع) کے خطبات اور مکتوبات کا منتخب مجموعہ ہے جو چوتھی صدی ہجری میں سید رضی نے تدوین کیا۔ادبی فصاحت و بلاغت کو معیار اور میزان قرار دیتے ہوئے سید رضی نے امام علی کے کلام کا انتخاب کیا۔ وہ اپنے زمانے کے معروف شاعر اورادیب تھے جبکہ مشہور تالیفات کے مؤلف ہونے کی وجہ سے اس زمانے میں مکتب تشیع کی ایک جانی پہچانی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ خود نہج البلاغہ کی تالیف کو اپنے لئے دنیا اور آخرت کا سرمایہ سمجھتے اور اس مجموعے پر فخر کرتے تھے۔ پہلے درجے کا عربی ادب نہج البلاغہ کے بہت زیادہ تحت تاثیر رہا۔

نہج البلاغہ مجموعی طور پر تین حصوں خطبات، مکتوبات اور کلمات قصار پر مشتمل ہے۔ حضرت علی نے اپنے اکثر خطبات میں لوگوں کو احکام الہی کی بجاآوری اور خدا کے نزدیک ناپسندیدہ امور سے روکنے کی ترغیب دی ہے۔ مکتوبات کا اکثر حصہ ان نصیحت آموز خطوط پر مشتمل ہے جو آپ نے اپنے گورنروں کو لکھے۔ ان خطوط میں لوگوں کے حقوق کی رعایت کی سفارش اور دیگر ضروری اقدامات ذکر کیے ہیں جبکہ کلمات قصار میں حضرت علی کے حکیمانہ اور نصیحت آموز جملے ہیں جو ادبی لحاظ سے بلاغت کی نہائی حدوں کو چھوتے ہیں۔ نہج البلاغہ میں بلاغت نے اوج کمال کو چھوتے ہوئے اسلام کے بنیادی عقائد، خلقت کائنات کی خوبصورتیوں، مختلف جانداروں کی تخلیق میں موجود پوشیدہ اسرار سے پردے اٹھائے ۔انہی وجوہ کے پیش نظر علما نے اسے مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا نیز اہل سنت اور شیعہ علما نے اس کی بہت سی شروحات لکھیں۔


تاریخ، سبب تألیف اور وجہ تسمیہ

  • تاریخ تألیف

آقابزرگ تہرانی کے مطابق سید رضی نے 400ہجری قمری میں اس کی تالیف مکمل کی۔[1]

  • سبب تألیف

سید رضی نہج‌البلاغہ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

میں نے عالم شباب کے دوران ایام طراوت اور شجر حیات کی تازگی کے دنوں میں کتاب خصائص الائمہ کی تالیف کا اہتمام کیا جو ائمہ(ع) کی اخلاقی خصوصیات اور صفات پر مشتمل اور ان سے منقولہ محاسن اخبار اور جواہر کلام پر مبنی تھی....کتاب کے آخر میں امیرالمؤمنین(ع) کے مواعظ، حکمتوں اور امثال و آداب پر مشتمل مختصر، نہایت عمدہ اور فصیح و بلیغ فصل تھی لیکن یہ انکے تفصیلی خطبوں اور خطوط پر مشتمل نہیں تھی۔بعض دوستوں اور بھائیوں نے اس فصل کے مضامین کو پسند کیا اور انہیں تحسین کی نگاہ سے دیکھاجبکہ وہ سب اس قدر بدیع الفاظ اور بلند و تابندہ معانی سے حیرت زدہ تھے۔انھوں نے مجھ سے کہا کہ ایک کتاب کی تالیف کا آغاز کردوں جو آپ(ع) کے منتخب کلام کی تمام اقسام خطبات،مکتوبات اور مواعظ حسنہ پر مشتمل ہو۔ لہذا میں نے اس کی اس خواہش کا جواب نہج البلاغہ کی صورت میں دیا۔[2]
  • وجہ تسمیہ

لفظ "نَہج (بفتح نون و سکون الہاء) کے معنا "واضح و آشکار راستے کے ہیں[3] لہذا نہج البلاغہ بلاغت کے واضح راستے کے معنا میں ہے۔

سید رضی کتاب کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

میں نے اسے نہج البلاغہ کا نام دیا کیونکہ یہ بلاغت کے دروازے ہر اس شخص پر کھول دیتی ہے جو اس میں نظر کرنا چاہتا ہے اور طالبان بلاغت کو اس کی جانب بلاتی ہے؛ دانشور بھی اس کے محتاج ہیں، طالبان دانش کو بھی اس کی ضرورت ہے، یہ اہلیان بلاغت کے لئے بھی مطلوب اور پسندیدہ ہے اور اہل زہد و پارسائی کے نزدیک بھی منظور نظر۔ اس کے ضمن میں توحید اور عدل اور مخلوقات سے مشابہت سے باری تعالی کی تنزیہ پر مبنی عمدہ اور حیرت انگیز اقوال ہیں ان عبارات کے زمرے میں، جو تشنہ لبوں کو سیراب کرتے ہیں، بیماروں کو شفا دیتے ہیں اور ہر شک و شبہے کو دلوں سے زائل کردیتے ہیں۔[4]

مصر کے سابق مفتی اور نہج البلاغہ کے اہل سنت شارح شیخ محمد عبدہ اپنی شرح کے مقدمے میں لکھتے ہیں:

میں کسی بھی ایسے نام سے واقف نہیں ہوں جو اپنے معنی پر دلالت کرنے کے حوالے سے اس سے زیادہ مناسب ہو۔ یہ میرے بس کی بات نہيں ہے کہ اس کتاب کی اس طرح سے توصیف کروں جس طرح کہ یہ نام اس پر دلالت کرتا اور اس کا تعارف کرواتا ہے....۔[5]

مضامین

سید رضی نے نہج البلاغہ میں امام علی کلام کو درج ذیل تین حصوں میں مرتب کیا:

  • خطبات، احکامات، وغیرہ،
  • مکتوبات و رسائل وغیرہ،
  • کلمات قصار(حِکَم اور مواعظ)۔

نہج البلاغہ کے مختلف قلمی نسخوں می اختلاف کے پیش نظر نہج البلاغہ کے خطبوں، خطوط اور مواعظ کی ترتیب اور نمبروں میں معمولی اختلاف پایا جاتا ہے۔کتاب المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ کے مطابق خطبات 241، مکاتیب 79 اور کلمات قصار 480 کی تعداد میں ہیں۔[6] اسی طرح کتاب کے مقدمے میں مذکور ہے کہ مختلف فصول کے درمیان عدم یکسانیت کا لحاظ کئے بغیر ترتیب دیا گیا ہے ۔ کلام امیر المومنین میں صرف موجود بلاغت اور پسندیدگی کی بنا پر اسے جمع کیا گیا ہے لہذا یہی وجہ ہے کہ فصول کے درمیان عدم یکسانیت یا نظم نہیں پایا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض کلمات میں شک و تردید کی وجہ سے انہیں مختلف عناوین کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔[7]

امیرالمؤمنین(ع):
"النَّاسُ أَعْدَاءُ مَا جَہِلُوا"۔
ترجمہ: "لوگ دشمن ہیں ان چیزوں کے جنہیں وہ نہیں جانتے"۔

نہج البلاغہ، کلمات قصار، حکمت نمبر 172۔

خطبات

نہج البلاغہ اسلامی فرہنگ اور تعلیمات کا ایک ایسا اسلامی دائرۃ المعارف ہے جو خداشناسی توحید، ملائکہ کی دنیا، خلقت کائنات، انسانی فطرت، امتوں، نیکوکار اور ستمگر حکومتوں پر بحث کرتا ہے تاہم اصل نکتہ یہ کہ اس پورے کلام سے امیرالمؤمنین علیہ السلام کا مقصد طبیعیات، حیوانیات، فلسفی یا تاریخی نقاط کی تفہیم اور تدریس مقصود نہیں تھا۔[8]

کلام امیر المومنین اس طرح کے موضوعات بیان کرنے میں قرآن کریم کی مانند ہے جسطرح قرآن پاک ان موضوعات کو موعظت اور نصیحت کی زبان میں محسوس یا معقول بیان کے ساتھ روشن اور قابل ادراک نمونوں کی صورت میں پڑھنے والے کے سامنے پیش کرتا ہے اور پھر قدم بقدم اگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ اس سرمنزل یعنی اللہ کی درگاہ کی جانب آستان پروردگار یکتا کی جانب لے جاتا ہے جہاں اسے پہنچنا چاہئے۔

جہاں آسمان، زمین و آفتاب اور چاند، تاروں اور پہاڑوں کی خلقت کی بات آتی ہے، آپ(ع) نصیحت کی زبان میں سکھا دیتے ہیں کہ جو کچھ خالق نے مخلوقات کو عطا کیا ہے، خیر ہی خیر ہے لیکن ناشکرا انسان اتنی ساری نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتا اور راہ خدا کو چھوڑ کر راہ شیطان کی طرف بھاگتا ہے اور اللہ کی بخشش و عطاء کو شرانگیزیوں اور فتنہ انگیزیوں میں صرف کر دیتا ہے اور چونکہ اس میں گذشتہ قوام و امم کی داستانوں کا تذکرہ ہے، چنانچہ آپ ان کے توسط سے حاضرین کو تعلیم دیتے ہیں کہ زمانہ آئینۂ عبرت ہے جس میں ماضی کا مشاہدہ کیا جاسکتا ہے؛ لیکن سوال یہ ہے کہ عبرت حاصل کرنے والا کون ہے؟ دیکھو دنیا سے گذرنے والی اور زیر خاک سوجانے والی امتوں کو، کیا دیکھا انھوں نے اور کیا کیا انھوں نے، ان کے نیک کاموں کی تقلید کرو اور ان بھونڈے افعال سے پرہیز کرو جو ان کی نابودی کا سبب ہوئے۔[9]

ان نصائح کے ضمن میں کبھی اپنے اصحاب پر نظر ڈالتے ہیں اور ان کے حال اور کردار کے بارے میں متفکر ہوجاتے ہیں؛ اچانک غم و اندوہ اور افسوس کا بھاری بھرکم پہاڑ آگرتا ہے اور یہ وہ موقع ہے جب آپ اپنی حقیقت بین نگاہیں اپنے منبر تلے بیٹھے سامعین پر سے پلٹا کر دور کے افق پر جمالیتے ہیں، عصر محمدی(ص) کے افق پر، جہاں آپ(ص) کے پاکدل اصحاب خدا اور روز قیامت پر یقین کی بنا پر نصرت دین کو اپنے دنیاوی مفادات پر مقدم رکھتے تھے، ایک بار حاضرین و سامعین کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے اور دیکھتے تھے کہ اس دور سے اب تک 30 سال سے زیادہ مدت نہیں گذری ہے، یہ اچانک کیا ہوا کہ اس مختصر سی مدت میں نام کے مسلمان حقیقی مسلمانوں کے مسند پر براجماں ہوئے ہیں؟ وہ لوگ، جنہوں نے دنیا کو بانہیں اپنی جانب پھیلا کر مسکراتے ہوئے دیکھا تو خدا کو فراموش کرکے اپنے امام کی نافرمانی کربیٹھے! وہ لوگ ـ جو سر اٹھا کر فخر کرتے اور کہا کرتے تھے کہ "ہم نے خدا کی راہ میں شہیدوں کی قربانی دی ہے اور ہم بھی شہادت کے آرزومند ہیں"، ـ کہاں چلے گئے؟ یہ میرے گرد جمع ہونے والے تن آسانی اور راحت طلبی کو راہ خدا میں مارے جانے پر ترجیح کیوں دینے لگے ہیں؟ اور وہ یہ دینی فریضہ دوسروں پر عائد کرنے کی کوششیں کیوں کرنے لگے ہیں؟ [یہ دیکھ کر] آپ صدر اول کے مسلمانوں کے ایثار اور مساوات [و مواسات] کے مناظر کی جانب پلٹتے ہیں جو دوسروں کو اپنے اوپر مقدم رکھتے تھے اور مال دنیا کی آلودگیوں پاک رہنے کی تدبیروں میں مگن نظر آتے تھے؛ [اور اپنے آپ سے پوچھتے تھے کہ] یہ سب اس قدر مال اندوز اور دنیا پرست کیوں ہوئے ہیں؟ یہ نمونے اور دسوں دوسرے نمونے امیرالمؤمنین(ع) کے خطبات کے مضامین و محتویات کو تشکیل دیتے ہیں۔[10]

مکتوبات

مکتوبات یا خطوط و مراسلات کا مجموعہ زیادہ تر حکام کا دستور العمل ہے کہ وہ عوام کے مختلف طبقوں کے ساتھ کیسا رویہ رکھیں، قومی خزانے کا کیونکر تحفظ کریں، اخراجات اٹھاتے ہوئے معاشرے کی خیر و صلاح کو کس طرح مد نظر رکھیں؛ تاہم مکتوبات کا مضمون و مواد اس زمانے کی نصف قابل سکونت دنیا کے فرمانروا کا حکم نہیں ہے جو وہ اپنے ماتحت عاملین کو دے رہا ہے بلکہ ایک مہربان، عمر رسیدہ اور زمانے کا تلخ و شیریں چشیدہ باپ کا نوشتہ ہے جو اپنے نورس فرزندوں کو پڑھا رہا ہے کہ وہ زندگی کی جنگ میں مشکلات کا کس انداز سے سامنا کریں۔[11]

کلمات قصار

امیرالمؤمنین(ع):
"إِذَا أَرْذَلَ اللَّہُ عَبْداً حَظَرَ عَلَيْہِ الْعِلْمَ"۔
ترجمہ: "اللہ جب کسی بندے کو ذلیل و پست کرنا چاہتا ہے اسے علم و دانش سے محروم کر دیتا ہے"۔

نہج البلاغہ، کلمات قصار، حکمت نمبر 288۔

اس حصے میں امیرالمؤمنین(ع) کے منتخب حکمت آمیز اقوال و نصائح، سوالات کے جوابات اور مختصر خطبے نقل ہوئے ہیں۔[12]

تراجم

اردو

دیگر زبانوں کی طرح مختلف زمانوں میں نہج البلاغہ کے اردو زبان میں کئی ترجمے ہوئے۔ ان میں سے چند ایک کے نام ذکر کئے جاتے ہیں:

  • ترجمۂ نہج البلاغہ: مترجم مفتی جعفر حسین (مرحوم)

فارسی

مختلف زبانوں کی طرح فارسی زبان میں بھی نہج البلاغہ کے کئی ترجمے ہو چکے ہیں۔ بعض کے اسما درج ذیل ہیں:

  • نہج البلاغہ: ع‍زی‍زاللہ ج‍وی‍ن‍ی؛پانچویں اور چھٹی صدی ہجری کا فارسی ترجمہ جس میں اصطلاحات کی وضاحت، متن کی درستگی اور تقابلی جائزہ شامل ہے۔[13]
  • ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغہ: ت‍رجمہ سید جعفر شہیدی[14]
  • نہج البلاغہ امیرالمومنین علی علیہ‌السلام؛ ترجمہ عبدالمحمد آیتی۔[15]
  • ت‍رج‍مہ و ش‍رح نہ‍ج ال‍ب‍لاغہ:ع‍ل‍ی نقی ف‍ی‍ض الاس‍لام۔[16]
  • نہج البلاغہ امام علی علیہ‌السلام‏‫‏‫: محمدمہدی فولادوند[17]
  • ن‍ہج ال‍ب‍لاغ‍ہ م‍ولا ع‍ل‍ی ب‍ن اب‍ی‍طال‍ب ام‍ی‍رال‍م‍وم‍ن‍ی‍ن(ع): اس‍داللہ م‍ب‍ش‍ری۔[18]

شرحیں

نہج البلاغہ پر کثیر شرحیں لکھی گئی ہیں جن میں سے کئی شرحیں آج کے زمانے میں نایاب ہیں۔ فہرست نگاروں نے بہت سی شرحوں کے نام ذکر کئے ہیں۔ "کتابنامہ نہج البلاغہ" میں نہج البلاغہ کو موضوع بنا کر تالیف کردہ آثار اور کاوشوں کی تعداد 300 بتائی گئی ہے جبکہ راقم کے نزدیک یہ فہرست جامع نہیں ہے [اور پورے آثار کا احاطہ نہیں کرسکی ہے]۔[19] ذیل میں نہج البلاغہ کی بعض عربی اور فارسی شرحوں کا حوالہ دیا گيا ہے جو آج بھی دستیاب ہیں:

فارسی

  1. شرح نہج البلاغہ: ابن ابی الحدید معتزلی(656ھ.ق)مترجم، غلام رضا لائقی. [20]
  2. شرح نہج البلاغہ ابن میثم، کمال الدین میثم علی بن میثم بحرانی؛ مترجمین: قربان علی محمدی مقدم، علی اصغر نوائی یحیی زادہ [21]
  3. ت‍رج‍مہ و ت‍ف‍س‍ی‍ر نہ‍ج ال‍ب‍لاغہ، م‍ح‍م‍د ت‍ق‍ی ج‍ع‍ف‍ری۔ [22]
  4. پ‍ی‍ام‌ ام‍ام‌ ام‍ی‍رال‍م‍وم‍ن‍ی‍ن‌(ع‌): آیت اللہ مکارم شیرازی.[23]

عربی

544ہجری قمری کے قلمی نہج البلاغہ کاایک صفحہ
  1. م‍ع‍ارج ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ، ظہ‍ی‍رال‍دی‍ن اب‍ی ال‍ح‍س‍ن ع‍ل‍ی ب‍ن زی‍د ال‍ب‍ی‍ہ‍ق‍ی... (متوفای 565ق.)؛ ح‍ق‍ق‍ہ و ق‍دم ل‍ہ م‍ح‍م‍دت‍ق‍ی دان‍ش پ‍ژوہ. [24]
  2. منہاج البراعۃ في شرح نہج البلاغۃ، قطب الدين الراوندي (متوفای 573ق.)؛ ‏‫المحقق عزيزاللہ العطاردي۔[25]
  3. حدائق الحقائق في شرح نہج البلاغۃ، ‏‫قطب الدين الکيذري البيہقي؛ ‏‫تحقیق عزيزاللہ العطاردي۔[26] اس شرح کی تحریر کا کام سنہ 576ہجری قمری میں مکمل ہوا ہے۔[27]
  4. اعلام نہج البلاغۃ، علي بن ناصر السرخسي (قرن 6ہجری)؛ ‏‫ضبط نصّ اور تحقیق متن: عزيز اللہ العطاردي۔[28]
  5. ش‍رح ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ۃ، لاب‍ن اب‍ي ال‍ح‍دي‍د؛ ب‍ہ ت‍ح‍ق‍ی‍ق م‍ح‍م‍داب‍وال‍ف‍ض‍ل اب‍راہ‍ي‍م۔ [29]
  6. ش‍رح ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ۃ، ک‍م‍ال ال‍دي‍ن م‍ي‍ث‍م ب‍ن ع‍ل‍ي م‍ي‍ث‍م ال‍ب‍ح‍ران‍ي۔[30]
  7. اخ‍ت‍ي‍ار م‍ص‍ب‍اح ال‍س‍ال‍ک‍ي‍ن م‍ن ک‍لام م‍ولان‍ا و ام‍ام‍ن‍ا ام‍ي‍رال‍م‍وم‍ن‍ي‍ن ع‍ل‍ي ب‍ن اب‍ي طال‍ب(ع) (ش‍رح ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ۃ ال‍وس‍ي‍ط)، م‍ي‍ث‍م ب‍ن ع‍ل‍ي ب‍ن م‍ي‍ث‍م ال‍ب‍ح‍ران‍ي؛ ت‍ح‍ق‍ی‍ق و ت‍ق‍دی‍م و ت‍ع‍ل‍ی‍ق: م‍ح‍م‍دہ‍ادي الام‍ي‍ن‍ي۔ [31]
  8. منہاج البراعۃ في شرح نہج البلاغۃ، حبيب اللہ الہاشمي الخوئي (1268ہجری-1324ہجری شمسی)۔[32]
  9. ب‍ہ‍ج ال‍ص‍ب‍اغ‍ۃ ف‍ي ش‍رح ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ۃ، م‍ح‍م‍دت‍ق‍ي ال‍ت‍س‍ت‍ري (1374-1282ہجری شمسی)۔[33]
  10. ن‍خ‍ب‍ۃ ال‍ش‍رح‍ي‍ن: ف‍ي ش‍رح ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ۃ، ع‍ب‍داللہ ش‍ب‍ر (1826-1774عیسوی) منتخبی از شرحہای ابن میثم و ابن ابی الحدید.[34]
  11. نہج البلاغۃ، شرح محمد عبدہ (1849-1905عیسوی)؛ اشرف علي تحقيقہ و طبعہ عبدالعزيز سيد الاہل۔[35]

اسناد

اہل سنت کے بعض علماء نے نہج البلاغہ کی سند میں شک و شبہے کا اظہار کیا ہے۔ ابن خلکان (متوفٰی 681ہجری) ان ہی علماء میں سے ہیں۔ ابن خلکان کا کہنا ہے:

"لوگوں کے درمیان امام علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے اقوال و کلمات سے تالیف شدہ کتاب "نہج البلاغہ" کے بارے میں اختلاف واقع ہوا ہے کہ کیا اس کے مؤلف سید مرتضی ہیں یا ان کے بھائی سید رضی؟ اور ان لوگوں نے کہا ہے کہ یہ کلام علی(ع) کا نہیں ہے؛ اور جس نے یہ کلام اکٹھا کیا ہے اس کے تخلیق کار بھی وہی ہیں! واللہ الاعلم"۔[36]

ان کے بعد ذہبی (متوفٰی 748ہجری) نے یقین کے ساتھ کہا ہے:

سید مرتضی نہج البلاغہ کے کے مؤلف ہیں، جس کے الفاظ کو امام علی رضی اللہ عنہ سے منسوب کیا گیا ہے اور اس نسبت کے لئے کوئی سند موجود نہیں ہے؛ اور ان اقوال و کلمات میں سے بعض باطل ہیں اور بعض صحیح ہیں۔ تاہم اس میں بعض اقوال وہ ہیں کہ دور ہوں امام، انہیں زبان پر لانے سے،۔۔۔؛ اور کہا گیا ہے کہ یہ مجموعہ ان کے بھائی سید رضی نے اکٹھا کیا ہے۔[37]

جس طرح کہ ابن خلکان نے "لوگوں کے شک و تردد" کا ذکر کیا ہے ابن ابی الحدید (متوفا 656ہجری) بھی اپنی کتاب شرح نہج البلاغہ میں خطبۂ شقشقیہ، کی شرح کے بعد ایک حکایت نقل کرتے ہیں جو عوام کے درمیان نہج البلاغہ کے سلسلے میں شک و تردد پر مبنی ہے؛ تاہم وہ خود اس شک و تردد کا نہایت فیصلہ کن انداز سے جواب دیتے ہیں اور کہتے ہیں:

میں نے سنہ 603ہجری میں اپنے شیخ (استاد) مصدق بن شبیب واسطی سے سنا جو کہہ رہے تھے: "میں نے یہ خطبہ (یعنی خطبۂ شقشقیہ) عبداللہ بن احمد المعروف ابن خشاب کو پڑھ کر سنایا،... اور ان سے کہا: کیا آپ اس خطبے کی امام علی سے نسبت کو جعلی سمجھتے ہیں؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں جانتا ہوں کہ یہ امام علی کا کلام ہے جیسا کہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ آپ بھی اس کے مصدق ہیں (یعنی اس کی تصدیق کرنے والے ہیں)۔ چنانچہ میں نے ان سے کہا: بہت سے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ خطبہ سید رضی رحمہ اللہ تعالی، کا ہے۔ تو انھوں نے کہا: "رضی کہاں اور رضی جیسے دوسرے کہاں اور یہ اسلوب کلام کہاں!؟" بے شک ہم رضی کے رسائل سے واقف ہیں اور نثری کلام میں ان کا طریقہ اور فن جانتے ہیں، رضی نے اس میں کسی اچھے یا برے کا اضافہ نہيں کیا ہے۔ انھوں نے کہا: خدا کی قسم! میں نے یہ خطبات ان کتابوں میں بھی دیکھے ہیں جو سید رضی کی ولادت کے 200 سال قبل لکھی گئی ہیں؛ میں نے ان خطبات کو ایسے خط میں لکھا ہوا پایا جنہیں میں جانتا ہوں اور جانتا ہوں کہ کن علماء اور ادباء نے یہ خطبات مسطور کئے ہیں قبل اس کے سید رضی کے والد نقیب ابو احمد دنیا میں آجائیں"۔[38]

ابن ابی الحدید کہتے ہیں:

میں نےاس خطبے کا بڑا حصہ اپنے استاد اور بغداد کے معتزلہ کے امام ابوالقاسم بلخی کی تصانیف میں لکھا ہوا پایا جو رضی کی ولادت سے بہت عرصہ قبل (عباسی بادشاہ) مقتدر عباسی کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ نیز ان میں سے بہت سے خطبات کو میں نے امامیہ کے متکلم ابو جعفر بن قبہ کی کتاب "الانصاف" میں دیکھا ہے۔ اور یہ ابو جعفر ہمارے استاد شیخ ابوالقاسم بلخی کے شاگردوں میں سے تھے اور اسی دور میں وفات پاچکے ہیں جبکہ ابھی رضی رحمۃ اللہ تعالی علیہ موجود نہ تھے۔[39]

نہج البلاغہ کی شرحوں کے ضمن میں ابن ابی الحدید سمیت بہت سے محققین نے اس کتاب کے تمام اقوال و کلمات کی اسناد کے سلسلے میں مستقبل کتب تالیف کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کتب میں امیرالمؤمنین(ع) کا کلام سید رضی سے قبل، ان کے ہم عصر نیز ان کے بعد کی ان کتب سے مستند کیا گیا ہے اور ان اقوال کو سید رضی اور سید مرتضی کے بغیر دوسرے علماء سے نقل کیا گیا ہے اور ثابت کیا گیا ہے کہ کلام علی(ع) کی سند میں شک و تردد بالکل بےجا ہے؛ اور اس حقیقت میں بھی شک و شبہہ بےجا ہے کہ یہ کتاب سید رضی نے تالیف کی ہے نہ کہ ان کے بھائی سید مرتضی نے۔ ذیل میں نہج البلاغہ کی اسناد اکٹھی کرنے والے بعض منابع کا حوالہ دیا جاتا ہے:

  1. اس‍ت‍ن‍اد ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ، ت‍ال‍ی‍ف ام‍ت‍ی‍از ع‍ل‍ی‍خ‍ان ع‍رش‍ی؛ ت‍رج‍م‍ہ، ت‍ع‍ل‍ی‍قات اور ح‍واش‍ی از م‍رت‍ض‍ی آی‍ت اللہ زادہ ش‍ی‍رازی۔[40]
  2. م‍ص‍ادر ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ و اس‍انی‍دہ، س‍ی‍د ع‍ب‍دال‍زہ‍راء ال‍ح‍س‍ی‍ن‍ی ال‍خ‍طی‍ب۔[41]

مستدرکات

چونکہ کتاب "نہج البلاغہ"، امیرالمؤمنین(ع) کا منتخب کلام ہے اور یہ اسلامی منابع میں منقول پورے کلام علی(ع) پر مشتمل نہيں ہے لہذا بعض محققین نے آپ کے دیگر اقوال کو جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے۔ ان تلیفات میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں:

  1. ت‍م‍ام ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ م‍م‍ا اوردہ ال‍ش‍ری‍ف ال‍رض‍ی اث‍ر م‍ولان‍ا الام‍ام ام‍ی‍رال‍م‍وم‍ن‍ی‍ن ع‍ل‍ی ب‍ن اب‍ی طال‍ب علیہ‌السلام، ت‍ح‍ق‍ی‍ق و ت‍ت‍م‍ی‍م و ت‍ن‍س‍ی‍ق ص‍ادق ال‍م‍وس‍وی؛ ت‍وث‍ی‍ق ال‍ک‍ت‍اب: م‍ح‍م‍د ع‍س‍اف؛ مراجع‍ہ و تصحیح ن‍ص‍وص: ف‍ری‍د ال‍س‍ی‍د۔[42]
  2. ن‍ہ‍ج ال‍س‍ع‍ادہ ف‍ی م‍س‍ت‍درک ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ ب‍اب ال‍ک‍ت‍ب و ال‍رس‍ائ‍ل، ت‍ال‍ی‍ف م‍ح‍م‍دب‍اق‍ر ال‍م‍ح‍م‍ودی؛ ت‍ص‍ح‍ی‍ح ع‍زی‍ز آل طال‍ب۔[43]
  3. ن‍ہ‍ج ال‍س‍ع‍ادہ ف‍ی م‍س‍ت‍درک ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ ب‍اب ال‍خطب والکلم، ت‍ال‍ی‍ف م‍ح‍م‍دب‍اق‍ر ال‍م‍ح‍م‍ودی؛ ت‍ص‍ح‍ی‍ح ع‍زی‍ز آل طال‍ب۔[44]
  4. م‍س‍ت‍درک ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ...، ال‍ہ‍ادی ک‍اش‍ف ال‍غ‍طاء۔[45]

عربی ادب پر کلام علی(ع) کے اثرات

امیرالمؤمنین(ع):
"‌قِیمَةُ كُلُّ امرءٍ مَا یُحسِنُهُ"
ترجمہ: ہر شخص کی قیمت وہ ہنر ہے جس میں وہ خوب مہارت رکھتا ہے۔
سید رضی: یہ ایسا انمول جملہ ہے کہ نہ کوئی حکیمانہ بات اس کے ہم وزن ہے اور نہ کوئی جملہ اس کا ہم پایہ ہوسکتا ہے۔

نہج البلاغہ، کلمات قصار، حکمت نمبر 81۔

عرب خطیب اور مترسلین (نامہ نگار و مراسلہ نویس) پہلی صدی ہجری ہی سے کلام کی پختگی اور بات کی حسن و جمال سے آراستگی اور بےجا اصطلاحات سے پاکیزگی اور لفظ کی متانت و سنجیدگی کی خاطر بارہا و بارہا کلامِ امیرالمؤمنین(ع) کا مطالعہ کرتے تھے اور اس کے فقروں کو بروئے کار لاتے تھے تا کہ ان کے قول یا ان کی خطابت یا کتابت میں بلاغت کی قوت حاصل ہو اور ان کا کلام سب کے نزدیک مقبول واقع ہو۔[46] ہر گاہ ایک محقق عرب ادیبوں کے کسی خطبے یا رسالے یا حتی کہ طلوع اسلام کے بعد کے عرب شعراء کے کلام کا جائزہ لیتا ہے، دیکھ لیتا ہے کہ کم ہی کوئی شاعر و ادیب ہوگا جس نے کوئی ایک معنی کلام علی(ع) سے اخذ نہ کیا ہو یا آپ کا کوئی قول اپنے مکتوب یا قول و کلام یا شاعری میں تضمین نہ کیا ہو۔[47]

عبدالحمید

عبدالحمید بن یحیی عامری (متوفی 132ھ)، آخری اموی/مروانی حکمران مروان بن محمد کا کاتب ہے۔ کہا گیا ہے کہ فن کتابت کا آغاز عبدالحمید سے شروع ہوا ہے۔ عبدالحمید خود کہتا ہے:

میں نے "اصلع"[48] کے ستر خطبے ازبر کئے اور یہ خطبے میرے ذہن میں پے در پے (چشمے کی مانند) پھوٹے۔[49]

جاحظ

ابوعثمان جاحظ (متوفٰی. 255ہجری)، جنہیں عربی ادب کا امام کہا گیا ہے اور مسعودی انہیں سلف کا فصحیح ترین قلمکار سمجھتے ہیں، امیرالمؤمنین(ع) کا فقرہ قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ[50] نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

اگر اس کتاب (بظاہر ان کی اپنی کتاب "البیان والتبیین" مقصود ہے) میں اسی ایک فقرے کے سوا کچھ بھی نہ ہوتا تو بھی ہم اس کتاب کو کافی و شافی، مکتفی اور بے نیاز کردینی والی کتاب پاتے۔ بلکہ ہم اسے کفایت کی حد سے بھی بڑھ کر غایت و مراد پر منتج ہونے والی پاتے ہیں اور سب سے احسن کلام وہ ہے جس کا اختصارتجھے کثرت و تفصیل سے بے نیاز کردے اور اس کے معنا اس کے ظاہری لفظ میں ہوں۔[51]

انھوں نے "‌البیان والتبیین" میں امیرالمؤمنین(ع) کے کئی خطبے نقل کئے ہیں۔[52]

جاحظ نے سید رضی سے پہلے امیرالمؤمنین(ع) کے 100 اقوال منتخب کئے ہیں جن پر رشید وطواط، ابن میثم بحرانی اور دیگر نے شرحیں لکھی ہیں۔ وہ ان اقوال کے بارے میں لکھتے ہیں:

ان میں سے ہر قول ایک ہزار عمدہ عرب اقوال و کلمات کے برابر ہے۔[53] جاحظ کی تالیفات میں ایک کتاب کا عنوان "‌مائۃ من امثال علي(ع)"[54] بھی ہے جو بظاہر یہی کتاب ہے۔

ابن نباتہ

سیف الدولہ کے دور میں حلب میں خطابت کے منصب پر فائز اور دنیائے عرب کے مشہور خطیب ابن نباتہ کے نام سے معروف عبدالرحمن بن محمد بن اسمعیل معروف (متوفا سنہ 374 ہجری) کہتے ہیں:

تقاریر کا ایک خزانہ ازبر کرلیا کہ اس میں سے جتنا بھی اٹھاؤں اس میں کمی نہیں بلکہ اضافت آئے گی، اور جو کچھ زیادہ تر ازبر کیا وہ علی بن ابی طالب کے مواعظ کی ایک سو فصلیں ہیں۔[55]

ابواسحٰق صابی

زکی مبارک اپنی کتاب "‌النّثر الفنّی" (فنی نثری) میں ـ جہاں ابواسحٰق صابی (متوفٰی 380ہجری) کے اسلوب کے بارے میں اظہار خیال کرتے ہیں ـ ابواسحٰق صابی کا ایک فقرہ نقل کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

اگر ہم اس عبارت کا موازنہ ان عبارتوں سے کریں جو شریف رضی نے کلام علی(ع) کو جمع کرتے ہوئے لکھی ہیں تو دیکھیں گے کہ صابی اور شریف رضی ایک ہی گھاٹ سے سیراب ہوئے ہیں۔[56]

ابن ابی الحدید

ابن ابی الحدید امیرالمؤمنین(ع) کی فصاحت کے بارے میں کہتے ہیں:

... فہو عليہ السلام إمام الفصحاء، وسيد البلغاء، وفي كلامه قيل: دون كلام الخالق و فوق كلام المخلوقين و منه تعلم الناس الخطابة والكتابة۔
ترجمہ: آپ علیہ السلام فصحاء کے امام اور بلغاء کے سردار ہیں، اور آپ(ع) کے کلام کے بارے میں کہا گیا: کلام خالق کے بعد اور مخلوقات کے کلام سے بالاتر ہے۔ لوگوں نے خطابت و کتابت آپ(ع) سے سیکھی ہے۔[57]

فارسی ادب پر اثرات

پورے اطمینان کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ ایرانی ادیبوں، خطیبوں اور مؤلفین و مصنفین نے قرآن کریم کے بعد کسی بھی کلام سے اتنا استفادہ نہیں کیا ہے جتنا علی(ع) کے کلام سے کیا ہے۔وہ اس کے علاوہ اس قدر عمدہ کلام اور بیش بہا زیور سخن نہیں پاسکے کہ جسے وہ اپنے کلام اور مکتوبات کا معیار اور پیمانہ قرار دے سکیں۔ کسی بھی تعصب کے بغیر اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ السلام کے مکاتیب اور اقوال قرآن کریم کے بعد نثر مصنوع کہ عالی ترین نمونہ ہیں۔ فصحا اور بلغا ایک ہزار سال سے زیادہ ہو گیا کہ وہ نہج البلاغہ کا اقرار کرتے آئے ہیں۔[58] اسی طرح دری زبان کے فروغ کے بعد ہم کم ہی کوئی دیوان یا کتاب دیکھ سکتے ہیں جس کے شاعر و مؤلف نے اپنے دیوان و کتاب کو علی(ع) کے کسی فقرے یا متعدد فقروں سے مزین نہ کیا ہو۔[59]

فارسی شاعری کے اکابرین میں سے ایک فردوسی ہیں [60] جنہوں نے شاہنامہ میں امیر الکلام حضرت علی(ع) کے کلام سے استفادہ کیا ہے۔ناصر خسرو قبادیانی (متولد 394 متوفا481 ہجری) اسماعیلیہ مذہب کے بزرگ متکلم، شاعر اور مؤلف تھے اور خاندان رسالت سے خاص عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے دیوان میں ایسے بہت سے مضامین اور نصائح دیکھے جاسکتے ہیں جو مولا امیر المؤمنین علیہ السلام کے کلام کا ترجمہ یا اس کلام سے ماخوذ ہیں۔[61] ڈاکٹر سید جعفر شہیدی کہتے ہیں: جہاں تک میں نے ناصر خسرو قبادیانی کے دیوان کا غائرانہ مطالعہ کیا ہے، انھوں نے اپنے پورے دیوان میں 60 سے زائد مقامات پر امیر المؤمنین(ع) کا کلام بعینہ شاعری کے سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ سنائی غزنوی، عطار نیشابوری اور مولانا جلال الدین بلخی (مولانا روم) جیسے عرفانی شعراء کا حال بھی مختلف نہيں ہے۔[62] بہرام شاہ غزنوی کے منشی خواجہ نصر اللہ بن محمد بن عبدالحمید کی تحریر اور "کلیلۂ و دمنۂ بہرامشاہی" کے نام سے مشہور کلیلہ و دمنہ جوحقیقت میں عربی کلیلہ و دمنہ کا ترجمہ ہے۔ یہ کتاب سنہ 538 تا 540 ہجری میں لکھی گئی ہے۔ اس میں کئی مقام پر نہج البلاغہ و قرآن کے حوالے سے لکھا گیا ہے۔ [63]

سافٹ ویئرز

  1. دانشنامۂ جامع نہج البلاغہ۔ تہران: کمپیوٹرائز ریسرچ سنٹر، حوزہ علمیہ اصفہان۔‏ ظاہری کوائف: 1۔ یہ سی ڈی/ڈی وی ڈی راہنما (گائيڈ) کی سہولت رکھنے کے علاوہ صوتی اور تصویری ہے اور تقابلی انداز سے ـ شرحوں اور دنیا بھر کی زندہ زبانوں میں تراجم کی سینکڑوں مجلدات پر مشتمل ہے۔ ہزاروں موضوعات کو درخت (اور شجرے) کی شکل میں مرتب کیا گیا جن تک صارف کی رسائی آسان بنائی گئی ہے۔ متن کے اندر ہی ایک فعال (Active) لغت نامہ (Dictionary) موجود ہے، فعال صورت میں مصادر و امثال کی نمائش ممکن بنائی گئی ہے اور ساتھ ہی قلمی نسخے کی نمائش بھی ہوتی ہےو... [64]
  2. منہج النور: دانشنامۂ علوی، قم: کمپیوٹر تحقیقاتی مرکز برائے اسلامی علوم۔ 1 سی ڈی/ڈی وی ڈي پانچ نسخوں کے مطابق نہج البلاغہ کی نمائش اور تقابلی نمائش کے امکان، مشکل الفاظ، صریح اور مضمر ناموں، کی وضاحت؛ عربی اور فارسی میں ضرب الامثال اور نہج البلاغہ کے مصادر کی نمائش، فہرست آیات، اشعار، دعاؤں، امثال، اعلام و مصادر کی فہرست، اور نہج البلاغہ کے بارے میں 281 جلدوں پر مشتمل 110 کتب کے کتب خانے،... نیز پروگرام سے متعلق متنوع بازیابیوں (Reoveries) کے قابل تفصیلی کتب خانے پر مشتمل ہے۔ [65]

متعلقہ مآخذ

مزید مطالعہ

  • نہج البلاغہ، ترجمہ مفتی جعفر حسین۔[2]

حوالہ جات

  1. تہرانی، الذریعہ، ۱۳۹۸ق، ج۲۴، ص۴۱۳.
  2. نہج البلاغہ، محقق عطاردی قوچانی، مقدمہ سید رضی، ص۱.
  3. دہخدا، لغت نامہ، ذیل واژہ «نہج».
  4. نہج البلاغہ، محقق عطاردی قوچانی، مقدمہ سید رضی، ص۴.
  5. عبدہ، شرح‏ نہج‏ البلاغۃ، ص10۔
  6. رجوع کریں: محمدی، سید کاظم اور دشتی، محمد، المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ، قم: مطبعہ نشر امام علی(ع)، 1369۔
  7. نہج البلاغہ، محقق عطاردی قوچانی، مقدمہ سید رضی، ص۳.
  8. شہیدی، مقدمہ نہج البلاغہ، ص: ی د۔
  9. وہی ماخذ۔
  10. شہیدی، وہی ماخذ، صص: ی د، ی ہ‍۔
  11. شہیدی، مقدمہ نہج البلاغہ، ص: ی ہ ‍۔
  12. شہیدی، نہج البلاغہ، ص361.
  13. ترجمہ عزیزاللہ جوینی۔
  14. ترجمہ سید جعفر شہیدی
  15. ت‍رج‍مہ عبدالمحمد آیتی
  16. ترجمہ فیض الاسلام
  17. [http://opac.nlai.ir/opac-prod/bibliographic/1582020%7C ترجمہ محمد مہدی فولاد وند
  18. ت‍رج‍مہ اس‍داللہ م‍ب‍ش‍ری
  19. استادی، رضا، کتابنامہ نہج البلاغہ، صص3-4.
  20. نہج البلاغہ، بن ابی الحدید، کا ترجمہ۔
  21. شرح نہج البلاغہ ابن میثم بحرانی کا ترجمہ۔
  22. ترجمہ و تفسیر علامہ جعفری۔
  23. [1]
  24. م‍ع‍ارج ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ۃ، ظہ‍ي‍رال‍دي‍ن ال‍بي‍ہ‍قي، تحقیق: محمد تقی دانش پژوہ۔
  25. منہاج البراعۃ، قطب راوندی۔
  26. حدائق الحقائق، الکيذري البيہقي۔
  27. الحسيني الخطيب، مصادر نہج البلاغۃ وأسانيدہ، ج1، ص226.
  28. اعلام نہج البلاغۃ، السرخسي۔
  29. ش‍رح الن‍ہ‍ج، إب‍ن أب‍ي ال‍ح‍دي‍د المعتزلي۔
  30. ش‍رح ک‍م‍ال ال‍دي‍ن م‍ي‍ث‍م ال‍ب‍ح‍ران‍ي۔
  31. ش‍رح ... ال‍وس‍ي‍ط، م‍ي‍ث‍م ال‍ب‍ح‍ران‍ي؛ ت‍ح‍ق‍ی‍ق: ہ‍ادي الام‍ي‍ن‍ي
  32. منہاج البراعۃ حبيب اللہ الہاشمي الخوئي۔
  33. ب‍ہ‍ج ال‍ص‍ب‍اغ‍ۃ، م‍ح‍م‍دت‍ق‍ي ال‍ت‍س‍ت‍ري۔
  34. ن‍خ‍ب‍ۃ ال‍ش‍رح‍ي‍ن، ع‍ب‍داللہ ش‍ب‍ر۔
  35. شرح محمد عبدہ۔
  36. ابن خلکان، وفیات الأعیان وأنباء أبناء الزمان، ج3، ص313.
  37. الذہبی، سیر أعلام النبلاء، ج17، ص589۔
  38. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج1، ص205۔
  39. ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج1، صص205-206۔
  40. ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ، ام‍ت‍ی‍از ع‍ل‍ی‍خ‍ان ع‍رش‍ی۔
  41. ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ عبدالزہراء الخطیب۔
  42. ن‍ہ‍ج ال‍ب‍لاغ‍ہ، تحقیق صادق الموسوی، توثیق: عساف، تصحیح:فرید السید۔
  43. ال‍م‍ح‍م‍ودی، ن‍ہ‍ج ال‍س‍ع‍ادہ، ب‍اب ال‍ک‍ت‍ب و ال‍رس‍ائ‍ل۔
  44. ال‍م‍ح‍م‍ودی ن‍ہ‍ج ال‍س‍ع‍ادہ، ب‍اب ال‍خطب والکلم،۔
  45. م‍س‍ت‍درک...ک‍اش‍ف ال‍غ‍طاء۔
  46. شہیدی، مقدمہ نہج البلاغہ، صص: ز، ح.
  47. شہیدی، مقدمہ نہج البلاغہ، ص: ح. مزید اطلاع کے لئے رجوع کریں: محمد ہادی اللامینی کے مقالے "نہج البلاغۃ وأثرہ علی الادب العربي ص119"۔
  48. اصلع، اس فرد کو کہا جاتا جس کے سر کے اگلے حصے پر بال نہ ہوں اور یہاں مروانیوں کے کاتب کی مراد امیرالمؤمنین علیہ السلام ہیں۔
  49. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج1، ص24؛ شہیدی، مقدمہ نہج البلاغہ، صح.
  50. نہج البلاغہ، کلمات قصار، حکمت 81۔
  51. جاحظ، البیان و التبیین، تصحیح عبدالسلام ہارون، ج1، ص83؛ بحوالہ: شہیدی، مقدمہ نہج البلاغہ، ص: ح۔
  52. الجاحظ، البیان والتبیین، (عالمی اہل بیت(ع) اسمبلی کے لائبریری سافٹ ویئر، نسخۂ دوئم میں موجود نسخہ) صص240-237، 312۔
  53. شرح ابن میثم علی المائۃ کلمۃ لامیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ‌السلام، المصحح: میرجلال الدین الحسینی الارموی المحدّث، تہران: سازمان چاپ دانشگاہ تہران، 1349ہجری شمسی، ص2. نیز یہی جلد: رجوع کریں: وطواط، رشید، مطلوب کل طالب من کلام امیرالمؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام، مصحح: میرجلال الدین حسینی ارموی محدّث، تہران: چاپخانہ دانشگاہ تہران، 1342ہجری شمسی، ص2۔
  54. ر.ک: دانشنامہ جہان اسلام، مدخل «‌جاحظ، ابوعثمان عمروبن بحر ».
  55. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج1، ص24؛ شہیدی، مقدمہ نہج البلاغہ، صح.
  56. النثر الفنی، ج2، ص296؛ بہ نقل شہیدی، مقدمہ نہج البلاغہ، صح.
  57. ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج1، ص24۔
  58. شہیدی، بہرہ ادبیات از سخنان علی علیہ‌السلام، ص202۔
  59. شہیدی، بہرہ ادبیات از سخنان علی علیہ‌السلام، ص205۔
  60. رجوع کریں: شہیدی، بہرہ ادبیات از سخنان علی علیہ‌السلام، صص206-209.
  61. شہیدی، بہرہ ادبیات از سخنان علی علیہ‌السلام، ص209۔
  62. شہیدی، سیدجعفر، بہرہ ‏گیری ادبیات فارسی از نہج البلاغہ، ص185۔
  63. شہیدی، بہرہ ادبیات از سخنان علی علیہ‌السلام، ص210.
  64. نہج البلاغہ کا جامع دانشنامہ [برقی مآخذ۔
  65. دانشنامہ علوی۔

مآخذ

  • نہج البلاغہ، ترجمہ سیدجعفر شہیدی، تہران: علمی و فرہنگی، 1377ہجری شمسی۔
  • نہج البلاغۃ، ترجمہ عبدالمحمد آیتی، بی‌جا: دفتر نشر فرہنگ اسلامی، 1377ہجری شمسی۔ (کتب خانہ اہل بیت(ع) برقی کتب خانے کی دوسری ایڈیشن میں موجودہ نسخہ)۔
  • ابن أبی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج1، تحقیق: محمد أبو الفضل إبراہیم، دار إحیاء الکتب العربیۃ - عیسی البابی الحلبی وشرکاہ، 1378ہجری/1959عیسوی۔
  • استادی، رضا، کتابنامہ نہج البلاغہ، تہران: بنیاد نہج البلاغہ، 1359ہجری شمسی۔
  • الحسینی الخطیب، السید عبد الزہراء، مصادر نہج البلاغۃ وأسانیدہ، ج1، بیروت: دار الزہراء، 1409ہجری۔ 1988عیسوی۔
  • ابن خلکان، وفیات الأعیان وأنباء أبناء الزمان، ج3، تحقیق: إحسان عباس، لبنان: دار الثقافۃ، بی‌تا.
  • الذہبی، سیر أعلام النبلاء، ج17، تحقیق وتخریج وتعلیق: شعیب الأرنؤوط، محمد نعیم العرقسوسی، بیروت: مؤسسۃ الرسالۃ، 1406ہجری/1986عیسوی۔
  • شہیدی، سیدجعفر، بہرہ ادبیات از سخنان امام علی علیہ السلام|علی علیہ‌السلام، در یادنامہ ‏کنگرہ ‏ہزارہ نہج‏ البلاغہ، بی‌جا: بنیاد نہج البلاغہ، 1360ہجری شمسی۔
  • شہیدی، سیدجعفر، بہرہ ‏گیری ادبیات فارسی از نہج البلاغہ، در یادنامہ ‏دومین‏ کنگرہ ‏نہج ‏البلاغہ، تہران: وزارت ارشاد اسلامی و بنیاد نہج البلاغہ، 1363ہجری شمسی۔
  • الجاحظ، البیان والتبیین، مصر: المکتبۃ التجاریۃ الکبری لصاحبہا مصطفی محمد، 1345ہجری۔/1926ہجری۔ (کتب خانہ اہل بیت(ع) برقی کتب خانے کی دوسری ایڈیشن میں موجودہ نسخہ)۔
  • عبدہ، محمد، شرح نہج البلاغۃ، تصحیح: محمدمحیی الدین عبدالحمید، قاہرہ: مطبعۃ الاستقامہ‍. (دانشنامۂ علوی کے سافٹ ویئر دانشنامۂ علوی "منہج النور"، میں موجودہ نسخہ)۔
  • محمدی، سیدکاظم، دشتی، محمد، المعجم المفہرس لالفاظ نہج البلاغہ، قم: نشر امام علی(ع)، 1369ہجری شمسی۔