شیخ مفید

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیخ مفید
شیخ مفید کا مقبرہ
ذاتی معلومات
مکمل نام محمد بن محمد بن نُعمان
لقب/کنیت ابن المعلم، عکبری، بغدادی
تاریخ ولادت 11 ذی القعدہ 336 یا 338 ھ
آبائی شہر بغداد
تاریخ وفات 2 یا 3 رمضان 412 ھ
مدفن کاظمین، عراق
علمی معلومات
اساتذہ شیخ صدوق، ابن جنید اسکافی، ابن قولویہ، ابو غالب زراری، محمد بن عمر جعابی۔
شاگرد سید مرتضی، سید رضی، شیخ طوسی، نجاشی، سلَّار دیلمی، ابو الفتح کراجکی و ابو یعلی محمّد بن حسن جعفری۔
تالیفات الارشاد، المقنعہ، الامالی (یا المجالس)، الجمل، اوائل المقالات فی المذاہب و المختارات، الافصاح فی الامامہ، العیون و المحاسن، ...
سیاسی-سماجی فعالیت
سماجی محدث، فقیہ، اصولی، متکلم۔

محمد بن محمد بن نُعمان (336 یا 338۔413 ھ) شیخ مفید کے نام سے مشہور چوتھی و پانچویں صدی ہجری کے شیعہ امامی متکلم و فقیہ ہیں۔ نقل ہوا ہے کہ شیخ مفید نے علم اصول فقہ کی تدوین کے ساتھ فقہی اجتہاد کی راہ میں ایک جدید روش کو متعارف کرایا جو افراطی عقل گرائی اور روایات کو بغیر عقلی پیمانے پر جانچے قبول کرنے کے مقابلہ میں ایک درمیانی راہ پر مبنی تھی۔

شیخ صدوق، ابن جنید اسکافی و ابن قولویہ ان کے برجستہ ترین اساتید، شیخ طوسی، سید مرتضی، سید رضی و نجاشی ان کے مشہور ترین شاگرد اور فقہ میں کتاب المُقنِعَہ، علم کلام میں اوائل المقالات اور شیعہ ائمہ کی سیرت پر کتاب الارشاد ان کی معروف‌ ترین تالیفات میں سے ہیں۔

نسب، لقب اور ولادت

محمد بن محمد نعمان[1] کی ولادت ۱۱ ذی القعدہ ۳۳۶ ھ[2] یا ۳۳۸ ھ[3] میں بغداد کے پاس عکبری نامی مقام پر ہوئی۔[4]

ان کے والد معلم تھے۔ اسی سبب سے وہ ابن المعلم کے لقب سے مشہور تھے۔ عکبری و بغدادی بھی ان کے دو دیگر القاب ہیں۔[5] شیخ مفید کے لقب سے ملقب ہونے سلسلہ میں نقل ہوا ہے: معتزلی عالم علی بن عیسی رمانی سے ہوئے ایک مناظرے میں جب انہوں نے ان کے تمام استدلالات کو باطل کرنے میں کامیابی حاصل کی تو وہ اس کے بعد سے انہیں مفید کہہ کر خطاب کرنے لگے۔[6]

تاریخی منابع میں ان کی دو اولاد کا ذکر ہوا ہے: ایک ابو القاسم علی نامی بیٹے کا اور دوسرے ایک بیٹی ہے جس کا نام ذکر نہیں ہوا ہے وہ ابو یعلی جعفری کی زوجہ ہیں۔[7]

تعلیم

انہوں نے قرآن اور ابتدائی علوم کی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اپنے والد کے ہمراہ بغداد گئے جہاں انہیں بڑے بڑے برجستہ شیعہ و اہل سنت محدثین، متکلمین اور فقہاء سے استفادہ کیا۔[8]

شیخ صدوق (متوفی ۳۸۱ ھ)، ابن جنید اسکافی (متوفی ۳۸۱ ھ)، ابن قولویہ (متوفی ۳۶۹ ھ)، ابو غالب زراری (متوفی ۳۶۸ ھ) و ابوبکر محمّد بن عمر جعابی (متوفی ۳۵۵ ھ) ان کے مشہور ترین شیعہ اساتذہ میں سے ہیں۔[9]

شیخ مفید نے بزرگ معتزلی استاد حسین بن علی بصری معروف بہ جعل اور نامور متکلم ابو الجیش مظفر بن محمد خراسانی بلخی کے شاگرد ابو یاسر سے علم حاصل کیا۔ اسی طرح سے انہوں نے ان کے کہنے پر اس زمانہ کے مشہور معتزلی عالم علی بن عیسی زمانی کے درس میں بھی شرکت کی۔[10]

تقریبا ۴۰ برس کی عمر سے شیعوں کی فقہی، کلامی و حدیثی زعامت ان کے ذمے ہوئی اور انہوں نے شیعہ عقائد کے دفاع کے لئے دوسرے مذاہب کے علماء سے مناظرات کئے۔[11]

اخلاقی خصوصیات

نقل ہوا ہے کہ شیخ مفید کثرت سے صدقہ دیتے تھے، متواضع تھے، اکثر روزے رکھتے اور بیشتر وقت نماز میں مشغول رہتے تھے۔ موٹا لباس پہنتے تھے یہاں تک کہ انہیں شیخ مشایخ الصوفیہ کہا جانے لگا۔[12] ان کے داماد ابو یعلی جعفری کے مطابق وہ شب میں کم سوتے تھے اور بیشتر اوقات مطالعہ، نماز، تلاوت قرآن اور تدریس میں بسر کرتے تھے۔[13]

مقام علمی

نقشہ حرم امامین کاظمین (ع)

شیخ طوسی نے اپنئ کتاب الفہرست میں شیخ مفید کو تیز فہم، حاضر جواب، علم کلام و فقہ میں پیش گام ذکر کیا ہے۔ ابن ندیم نے انہیں رئیس متکلمین کے عنوان سے یاد کیا ہے۔ علم کلام میں انہیں دوسروں پر فوقیت دی ہے اور انہیں بے نظیر ذکر کیا ہے۔[14]

شیخ مفید نے بہت سے شاگرد تربیت کئے جن میں بعض بڑے شیعہ عالم ہوئے۔ ان میں سے بعض مندرجہ ذیل ہیں: [15]

  • سید مرتضی (متوفی ۴۳۶ ھ)
  • سید رضی (متوفی ۴۰۶ ھ)
  • شیخ طوسی (متوفی ۴۶۰ ھ)
  • نجاشی (متوفی ۴۵۰ ھ)
  • سلَّار دیلمی (متوفی ۴۶۳ ھ)
  • ابو الفتح کراجکی (متوفی ۴۴۹ ھ)
  • ابو یعلی محمّد بن حسن جعفری (متوفی ۴۶۳ ھ)۔[16]

جدید فقہی روش

شیخ مفید نے فقہ شیعہ میں سابق عہد سے متفاوت روش پیش کی۔ سبحانی و گرجی کے مطابق، شیخ سے قبل دو فقہی روش کا رواج تھا: پہلی روش روایات پر افراطی صورت پر عمل پر مبتنی تھی، جس میں روایت کی سند و متن پر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی تھی۔ [17]دوسری روش میں روایات کے اوپر کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی تھی اور حد سے زیادہ عقلی قواعد پر تاکید کی جاتی تھی چاہے وہ قیاس کی مانند نصوص دینی کے ساتھ تعارض ہی کیوں نہ رکھتی ہوں۔[18] شیخ نے درمیانی راہ کا انتخاب کیا اور ایک جدید روش کی بنیاد رکھی کہ جس میں ابتدائی طور پر عقل کی مدد سے اسنباط و استخراج احکام کے لئے اصول و قواعد تدوین ہوتے تھے، اس کے بعد ان اصولوں کے ذریعہ متون دینی سے احکام استنباط کئے جاتے تھے۔[19] اسی سبب سے انہیں علم اصول فقہ کا مدون کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔[20]

شیخ مفید کے بعد ان کے شاگرد سید مرتضی نے اپنی کتاب الذریعہ الی اصول الشریعہ اور شیخ طوسی نے کتاب العدہ فی الاصول کے ذریعہ اس راہ کو جاری رکھا۔[21]

علمی مناظرے

کتاب الارشاد

شیخ مفید کے زمانہ میں مختلف اسلامی مذاہب کے بزرگ علماء کے درمیان بغداد میں علمی مباحثات ہوا کرتے تھے۔ ان میں بہت سے مناظرات عباسی خلفاء کی موجودگی میں ہوا کرتے تھے۔ شیخ ان جلسات میں حاضر ہوتے تھے اور شیعہ مذہب پر ہونے والے اعتراضات کا جواب دیا کرتے تھے۔[22]

شیخ مفید کے گھر میں بھی ایسی بحثوں اور گفتگو کے لئے جلسے منعقد ہوا کرتے تھے جن میں مختلف اسلامی مذاہب کے علماء جیسے معتزلی، زیدی، اسماعیلی شرکت کیا کرتے تھے۔[23]

قلمی آثار

فہرست نجاشی کے مطابق شیخ مفید کی کتابوں اور رسائل کی تعداد ۱۷۵ ہے۔[24] ان کی کتابوں کی مختلف علمی موضوعات کے اعتبار سے تقسیم بندی کی جا سکتی ہے۔

ان کی معروف ترین کتب میں علم فقہ میں المقنعہ، علم کلام میں اوائل المقالات اور سیرت ائمہ (ع) کے سلسلہ میں کتاب الارشاد قابل ذکر ہیں۔[25]

شیخ مفید کا مجموعہ آثار ۱۴ جلدوں میں تصنیفات شیخ مفید کے عنوان سے شائع ہو چکا ہے۔ یہ مجموعہ ۱۳۷۱ ش میں شیخ مفید عالمی کانگریس کے موقع پر منظر عام پر آ چکا ہے۔

عناوین کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے تو ان میں سے 60 فیصد کتابیں علم کلام کے موضوع سے متعلق ہیں۔ان میں سے 35 کتابیں امامت، 10 کتابیں حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ، 41 کتابیں فقہ، 12 کتابیں علوم قرآن، 5 کتابیں اصول فقہ، 4 کتابیں تاریخ اور 3 کتابیں حدیث کے موضوع پر لکھی ہیں جبکہ 40 کتابوں کے عنوان کا علم نہیں ہے۔

أحكام أهل الجمل۔
أحكام النساء۔
اختيار الشعراء۔
الارشاد في معرفة حجج الله على العباد۔
الأركان في دعائم الايمان۔
الاستبصار في ما جمعه الشافعي من الاخبار۔
الاشراف في أهل البيت عليهم السلام۔
اصول الفقہ۔
الاعلام۔
الافتخار۔
اقسام المولی فی اللسان و بیان معانیہ العشرہ۔
الافصاح فی الامامہ۔
الاقناع فی وجوب الدعوہ۔
الآمالی المتفرقات۔
[26] الايضاح في الإمامة۔
إيمان أبي طالب عليه السلام۔
البيان عن غلط قطرب في القرآن۔
البيان في تأليف القرآن۔
بيان وجوه الأحكام۔
التواريخ الشرعية۔
تفضيل الأئمة على الملائكة۔
تفضيل أمير المؤمنين عليه السلام على سائر الأصحاب۔
التمهيد۔
جمل الفرائض۔
جواب ابن واقد السني۔
جواب أبي الفتح محمد بن علي بن عثمان۔
جواب أبي الفرج بن إسحاق :مبطلات نماز کے بارے میں ہے۔
جواب أبي محمد الحسن بن الحسين النوبندجاني۔
جواب أهل جرجان في تحريم الفقاع۔
جواب أهل الرقة في الأهلة والعدد۔
جواب الكرماني في فضل نبينا محمد صلى الله عليه وآله على سائر الأنبياء عليهم السلام۔
جواب المافروخي في المسائل۔
جواب مسائل اختلاف الاخبار۔
الجوابات في خروج المهدي عجل الله فرجه۔
جوابات ابن الحمامي۔
جوابات الخطيب ابن نباتة۔
جوابات أبي جعفر القمي۔
جوابات أبي جعفر محمد بن الحسين الليثي۔
جوابات أبي الحسن الحضيني۔
جوابات أبي الحسن سبط المعافى ابن زكريا في مسألة إعجاز القرآن۔
جوابات أبي الحسن النيسابوري۔
جوابات الأمير أبي عبد الله۔
جوابات الحاجب أبي الليث الأواني
جوابات الإحدى والخمسين مسألة۔
جوابات البرقعي في فروع الفقه۔
جوابات ابن عرقل۔
جوابات الشرقيين في فروع الدين۔
جوابات علي بن نصر العبد جاني۔
الرجال وهو مدرج في الارشاد الآنف الذكر۔
رد العدد الشرعية۔
الرد على ابن الأخشيد في الإمامة۔
الرد على ابن رشيد في الإمامة۔
الرد علي ابن عون في المخلوق وابن عون هو أبو الحسين محمد بن جعفر بن محمد بن عون الأسدي الكوفي ساكن الري له كتاب الجبر والاستطاعة۔
الرد على ابن كلاب في الصفات وابن كلاب۔
الرد على أبي عبد الله البصري في تفضيل الملائكة على الأنبياء عليهم السلام۔
الرد على الجبائي في التفسير۔
الرد على أصحاب الحلاج۔
الرد على ثعلب في آيات القرآن ذكره السروي۔
الرد على الجاحظ العثمانية۔
الرد على الخالدي في الإمامة۔
الرد على الزيدية۔
الرد على الشعبي۔
الرد على الصدوق في عدد شهر رمضان۔
الرد على العقيقي في الشورى۔
الرد على القتيبي في الحكاية والمحكي۔
الرد على الكرابيسي في الإمامة۔
الرد على المعتزلة في الوعيد۔
الرد على من حد المهر۔
رسالته في الفقه إلى ولده۔
الرسالة إلى الأمير أبي عبد الله وأبي طاهر بن ناصر الدولة في مجلس جرى في الإمامة۔
الرسالة إلى أهل التقليد۔
الرسالة العلوية۔
الرسالة الغرية۔
الرسالة الكافية في الفقه۔
رسالة الجنيدي إلى أهل مصر۔
الرسالة المقنعة في وفاق البغداديين من المعتزلة لما روي عن الأئمة عليهم السلام۔
الزاهر في المعجزات۔
المعجزات۔
شرح كتاب الاعلام۔
عدد الصوم والصلاة۔
العمد في الإمامة۔
العويص في الأحكام۔
ويظهر من بعضها انه مختصر من العويص۔
العيون والمحاسن توجد نسخة منه في المكتبة الرضوية وغيرها۔
الفرائض الشرعية في مسألة المواريث۔
الفصول من العيون والمحاسن والذي يظهر من ذكر النجاشي له مع العيون والمحاسن انهما متعددان وهو غير الفصول للسيد المرتضى الموجود الآن۔
الفضائل ذكره السروي في المعالم۔
قضية العقل على الافعال وسماه السروي فيضة العقل على الافعال۔
الكامل في الدين أحال إليه نفسه في مسألة الفرق بين الشيعة والمعتزلة والفصل بين العدلية منهما والقول في اللطيف من الكلام وفى أواخر الفصول المختارة للمرتضى۔
كتاب في امامة أمير المؤمنين عليه السلام من القرآن۔
كتاب في قوله صلى الله عليه وآله ( أنت مني بمنزلة هارون من موسى )۔
كتاب في قوله تعالى ( فاسئلوا أهل الذكر )۔
كتاب في الخبر المختلق بغير أثر۔
كتاب القول في دلائل القرآن۔
كتاب في الغيبة۔
كتاب في القياس۔
كتاب في المتعة۔
كشف الالتباس۔
الكلام في الانسان۔
الكلام في حدوث القرآن۔
الكلام في المعدوم والرد على الجبائي۔
الكلام في وجوه إعجاز القرآن۔
الكلام في أن المكان لا يخلو من متمكن۔
لمح البرهان في عدم نقصان شهر رمضان۔
المبين في الإمامة ذكره الشيخ باسم المنير۔
المجالس المحفوظة في فنون الكلام۔
المختصر في الغيبة۔
مختصر في الفرائض۔
مختصر في القياس۔
المختصر في المتعة۔
المزار الصغير۔
المزورين عن معاني الأخبار۔
المسألة الكافية في إبطال توبة الخاطئة۔
المسألة الموضحة عن أسباب نكاح أمير المؤمنين عليه السلام۔
مسألة في المهر وأنه ما تراضى عليه الزوجان۔
مسألة في تحريم ذبايح أهل الكتاب۔
مسألة في الإرادة۔
مسألة في الأصلح۔
مسألة في البلوغ۔
مسألة في ميراث النبي صلى الله عليه وآله۔
مسألة في الاجماع۔
مسألة في العترة۔
مسألة في رجوع الشمس۔
مسألة في المعراج۔
مسألة في انشقاق القمر وتكلم الذراع۔
مسألة في تخصيص الأيام۔
مسألة في وجوب الجنة لمن ينتسب بولادته إلى النبي صلى الله عليه وآله۔
مسألة في معرفة النبي صلى الله عليه وآله بالكتابة۔
مسالة في معنى قوله صلى الله عليه وآله ( إني مخلف فيكم الثقلين )۔
مسالة فيما روته العامة۔
مسالة في النص الجلي۔
مسألة محمد بن الخضر الفارسي۔
مسألة في معنى قوله صلى الله عليه وآله ( أصحابي كالنجوم )۔
مسألة في القياس مختصر۔
المسألة الموضحة في تزويج عثمان۔
المسألة المقنعة في إمامة أمير المؤمنين عليه السلام۔
المسائل في أقضى الصحابة۔
مسألة في الوكالة۔
مسائل أهل الخلاف۔
المسألة الحنبلية۔
مسألة في نكاح الكتابية۔
المسائل العشرة في الغيبة۔
مسائل النظم۔
مسألة في المسح على الرجلين ولعله الرد على النسفي في مسح الرجلين۔
مسألة في المواريث۔
مصابيح النور في علامات أوائل الشهور۔
مقابس الأنوار في الرد على أهل الأحبار۔
المسائل المنثورة وهي نحو مأة مسألة ذكرها في الفهرست۔
المسائل الواردة من خوزستان۔
مسألة في خبر مارية القبطية۔
مسائل في الرجعة۔
مسألة في سبب استتار الحجة عجل الله فرجه۔
مسألة في عذاب القبر۔
مسألة في قوله ( المطلقات )۔
مسألة فيمن مات ولم يعرف إمام زمانه هل هو صحيح ثابت أم لا۔
مسالة الفرق بين الشيعة والمعتزلة والفصل بين العدلية منهما والقول في اللطيف من الكلام۔
مناسك الحج۔
مناسك الحج مختصر۔
الموجز في المتعة وهو الذي أشرنا إليه فيما سبق۔
النصرة في فضل القرآن۔
النصرة لسيد العترة في حرب البصرة وقد طبع في النجف باسم الجمل۔
نقض في الإمامة على جعفر بن حرب۔
نقص في الخمس عشرة مسألة على البلخي۔
النقض على ابن عباد في الإمامة۔
النقض على أبي عبد الله البصري۔
النقض على الجاحظ في فضيلة المعتزلة۔
النقض على الطلحي في الغيبة۔
النقض على علي بن عيسى الرماني في الإمامة۔
النقض على غلام البحراني في الإمامة۔
النقض على النصيبي في الإمامة۔
النقض على الواسطي۔
نقض فضيلة المعتزلة۔
نقض كتاب الأصم في الإمامة۔
نقض المروانية۔
النكت في مقدمات الأصول۔
نهج البيان إلى سبيل الايمان۔[27]

ہزار سالہ عالمی کانفرنس

جشن ہزار سالہ پر یادگاری ٹکٹ

شیخ مفید ہزار سالہ عالمی پروگرام ۲۸۔۳۰ فروردین ۱۳۷۲ ش (۲۴۔۲۶ شوال ۱۴۱۳ ھ) میں مدرسہ عالی تربیتی و قضایی قم میں منعقد ہوا۔ جس میں اسلامی و غیر اسلامی ممالک کے بزرگان و متفکرین نے شرکت کی اور شیخ مفید کی علمی و دینی شخصیت کے سلسلہ میں مقالات پیش کئے۔[28]

وفات

سن 413 ھ میں ۲ یا ۳ رمضان جمعہ کے روز شیخ مفید 75 یا 77 سال کی عمر گزار کر اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔[29] شیخ طوسی کہتے ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کی وفات پر اس سے بڑا جم غفیر نہیں دیکھا۔ لوگ اعتقادی اور مذہبی تفریق کے بغیر ان کے جنازے میں شریک ہوئے اور گریہ کیا۔[30] مؤرخین نے ان کے جنازے میں شریک ہونے والے شیعوں کی تعداد 80/000 بیان کی ہے دوسرے مذاہب کے لوگ ان کے علاوہ تھے۔ میدان "اشنان" میں ان کی نماز جنازہ سید مرتضی نے پڑھائی اور انہیں ان کے گھر کے صحن میں دفن کیا گیا۔ دو سال کے بعد ان کے جسد کو حرم کاظمین[31] کی پائنتی کی جانب قریش کی قبروں کی طرف ابو القاسم جعفر بن محمد بن قولویہ کی سمت دفنایا گیا۔

شیخ مفید پر فیلم سینمائی

۱۳۷۴ ش میں شیخ مفید پر ۹۰ مینٹ کی ایک فیچر فیلم بنائی گئی۔ جس کے رائٹر محمود حسنی اور ڈائریکٹر سیرووس مقدم و فریبرز صالح تھے۔ ۱۳۸۱ ش میں یہ فیلم سیریل اور ڈرامہ کی شکل میں خورشید شب کے نام سے ایرانی ٹیلی ویژن پر بھی دکھائی گئی۔[32]

حوالہ جات

  1. نجاشی، رجال، ۱۴۰۷ق، ص۳۹۹، رقم ۱۰۶۷.
  2. نجاشی، رجال، ۱۴۰۷ق، ص۴۰۲.
  3. ابن ندیم،‌ الفہرست، ۱۳۵۰ش، ص ۱۹۷؛ طوسی، الفہرست، ۱۴۱۷ق، ص۲۳۹.
  4. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۸-۷.
  5. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۸-۷.
  6. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۸-۹.
  7. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۳۷؛ شبیری، ناگفتہ هایی از حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۱۱۸.
  8. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۳.
  9. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۳.
  10. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۸-۹.
  11. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۲۳-۲۴.
  12. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۲۶.
  13. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۲۶-۲۷.
  14. طوسی، الفہرست، ۱۴۱۷ق، ص۲۳۸.
  15. ابن ندیم،‌ الفہرست، ۱۳۵۰ش، ص۲۲۶ و ص ۲۴۷.
  16. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۳.
  17. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۳تا۱۴۴.
  18. سبحانی، موسوعہ طبقات الفقہاء، ۱۴۱۸ق، ص ۲۴۵-۲۴۶؛ گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۵.
  19. سبحانی، موسوعہ طبقات الفقہاء، ۱۴۱۸ق، ص ۲۴۶؛ گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۵.
  20. سبحانی، موسوعہ طبقات الفقہاء، ۱۴۱۸ق، ص ۲۴۵؛ گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۵.
  21. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۶
  22. سبحانی، موسوعہ طبقات الفقہاء، ۱۴۱۸ق، ص ۲۴۵؛ گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۵.
  23. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص۱۴۶.
  24. منتظم، ج۸، ص۱۱؛ بہ نقل شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ص۲۳-۲۴.
  25. نجاشی، ۱۴۰۷، ص ۳۹۹-۴۰۲.
  26. الانتصار۔
    {{حدیث|اوائل المقالات فی مذاہب المختارات<ref>اسے شیخ مفید نے اَعلام نامی کتاب کے بعد لکھا۔
  27. مقدمہ تہذیب الاحکام ج1 ص22 تا 31
  28. گرجی، تاریخ فقہ و فقہا، ۱۳۸۵ش، ص‌۱۴۳-۱۴۴.
  29. شبیری، گذری بر حیات شیخ مفید، ۱۴۱۳ق، ص۳۹.
  30. طوسی، الفهرست، ۱۴۱۷ق، ص۲۳۹.
  31. نجاشی، رجال، ۱۴۰۷ق، ص۴۰۳-۴۰۲.
  32. بانک جامع سینمای ایران


مآخذ

  • ابن الندیم، محمد بن ابی‌ یعقوب اسحاق، الفہرست، تحقیق رضا تجدد، تہران، بی‌ تا، ۱۳۵۰ش
  • ابن‌‌ تغری‌ بردی‌، النجوم الزاہرة فی ملوک مصر و القاہرة، قاہره، وزارة الثقافہ و الارشاد القومی، بی‌ تا
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، تحقیق عطا، مصطفی عبد القادر، نشر دار الکتب العلمیہ، بیروت، ۱۴۱۷ق
  • سبحانی، جعفر، موسوعہ طبقات الفقہاء، مقدمہ (القسم الثانی)، موسسہ امام صادق (ع)، قم، ۱۴۱۸ق
  • شبیری، سید محمد جواد، «گذری بر حیات شیخ مفید»، در مقالات فارسی کنگره جہانی هزاره شیخ مفید، ش۵۵، ۱۳۷۲ش
  • شبیری، سید محمد جواد، «ناگفتہ هایی از حیات شیخ مفید»، در مقالات فارسی کنگره جہانی هزاره شیخ مفید، ۱۳۷۲ش
  • طوسی، محمد بن الحسن، الفہرست، تحقیق جواد القیومی، بی‌ جا، مؤسسة نشر الفقاہہ، ۱۴۱۷ق
  • گرجی، ابو القاسم، تاریخ فقہ و فقہا، تہران، سمت، ۱۳۸۵ش
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال نجاشی، تصحیح سید موسی شبیری زنجانی‌، قم، دفتر انتشارات اسلامی، ۱۴۰۷ق