شیخ مفید

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیخ مفید، ابن معلم
محمد بن محمد بن نعمان
پیدائش 11 ذیقعدہ 336 یا 338 ھ
عکبرا (عراق)
وفات 413ھ
کاظمین (عراق)
مدفن بغداد
رہائش بغداد
قومیت عرب
تعلیم اجتہاد
وجہِ شہرت علمی شخصیت
مذہب اسلام (شیعہ اثنا عشری)
ذہبی:

"محمد بن محمد بن نعمان، ابو عبد اللہ ابن معلم رافضی جس کا لقب مفید تھا۔ کثیر التصانیف تھا جس میں اس نے اصحاب سلف کے بارے میں طعن کیا ہے۔413 ھ میں فوت ہوا حکومت بویہ میں بہت عظمت اور جلالت کا حامل تھا"

میزان الاعتدال، ذہبی[1]

محمد بن محمد بن نُعمان (336 یا 338۔413 ھ)، شیخ مفید کے نام سے مشہور، چوتھی و پانچویں صدی ہجری میں عالَم تشیع و امامیہ کے معروف ترین متکلم و فقیہ ہیں۔ جنھوں نے اپنی زندگی امام زمانہ کے نزدیک ترین ایام میں بسر کی۔ آپ ۳۳۶ یا ۳۳۸ ھ کو پیدا ہوئے اور آپ نے ۴۱۳ ھ میں اس دار فانی کو چھوڑا۔ اپنی زندگی کے تمام شب و روز علوم آل محمد (ع) کی ترویج میں مشغول رہے۔ آپ نے جب ذات پروردگار کی آواز پہ لبیک کہا تو اس وقت تک آپ نے اپنے علمی اساسے کے طور پر نہایت اہم علمی ذخیرہ مذہب تشیع کیلئے چھوڑا۔ اس ذخیرے کی تعداد ۲۰۰ کے قریب ذکر کی جاتی ہے۔ جن میں حدیث جیسے اہم موضوع سمیت علم کلام کے موضوع پر بیشتر کتب لکھیں لیکن علم اصول فقہ، علوم قرآن ،امام شناسی جیسے موضوعات پر بھی آپ نے قلم اٹھایا۔ آپ کی زندگی کا ایک نہایت اہم پہلو جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے دوسرے اسلامی مکاتب فکر کے علماء سے مختلف علمی موضوعات پر گفتگو کی اور ہمیشہ اپنے علمی دلائل سے اپنے مخاطب کو زیر کیا۔ اپنے اس زندگی کے سفر میں تحریر و تالیف کے ساتھ ساتھ آپ نے شاگرد پروری کی اور اپنے بعد شاگردوں کا ایک بے نظیر نمونہ چھوڑا۔

زندگی نامہ

نام

شیخ مفید کا نام محمد بن محمد بن نعمان اور آپ کی کنیت ابو عبد اللہ ہے۔

نسب

شیخ مفید کے نسب کو نجاشی نے یوں بیان کیا ہے: محمد بن محمد بن النعمان بن عبد السلام بن جابر بن النعمان بن سعيد بن جبير بن وهيب بن هلال بن أوس بن سعيد بن سنان بن عبد الدار بن الريان بن قطر بن زياد بن الحارث بن مالك بن ربيعہ بن كعب بن الحارث بن كعب بن علہ بن خلد بن مالك بن أدد بن زيد بن يشجب بن عريب بن زيد بن كهلان بن سبإ بن يشجب بن يعرب بن قحطان‏ بیان کیا ہے۔[2]عکبرا اور بغداد میں رہائش پذیر ہونے کی وجہ سے انھیں "عکبری" اور "بغدادی" کہا جاتا ہے۔

گنجینہ آثآر کے مصنف نے ابن شہر آشوب کی رجال کی کتاب کے حوالے سے شیخ مفید کے قم میں شیخ صدوق اور ان کے بھائی ابو عبد اللہ حسین بن علی بن بابویہ سے سماع حدیث کی بنا پر آپ کے "قمی" ہونے کا تذکرہ کیا ہے[3] لیکن یہ درست معلوم نہیں ہوتا ہے چونکہ شیخ مفید کے قم آنے کا ذکر کسی نے نہیں کیا ہے۔ جبکہ شیخ صدوق کے متعلق ذکر کیا جاتا ہے کہ آپ دو دفعہ بغداد تشریف لے گئے۔

پیدائش

شیخ مفید دجیل کی طرف دس فرسخ کے فاصلے پر عکبرا کے علاقے میں سویقہ بن بصری نامی مقام پر 11 ذیقعدہ 336 یا 338 ھ ق میں پیدا ہوئے۔

ذاتی خصوصیات

ابن عماد حنبلی نے ان الفاظ میں آپ کے جسمانی خدوخال بیان کئے ہیں: آپ نحیف اور گندمی رنگ کے مالک تھے۔ سخت اور موٹا لباس زیب تن کرتے، کثرت سے صدقہ دیتے، اکثر روزے رکھتے اور بیشتر وقت نماز میں مشغول رہتے تھے [4]ابو حیان توحیدی آپ کی زندگی کے شب و روز کے بارے میں کہتے ہیں: رات کو بہت کم سوتے، رات کے اکثر حصے میں نماز، تلاوت قرآن، مطالعہ یا درس و تدریس میں مشغول رہتے۔[5]

القاب

ابن معلم اور مفید

ابن معلم: آپ کے والد شعبہ تدریس سے وابستہ ہونے کی وجہ سے "معلم" کے نام سے مشہور تھے۔ اسی نسبت سے آپ کو بھی "ابن معلم" کہا جانے لگا یہاں تک کہ اہل سنت برادران کی کتب میں اسی شہرت کی بدولت یہ آپ کے لئے لقب قرار پایا۔ [6]

'''مفید''': بزرگان دین اور احوال علماء کی تمام کتب میں آپ کے یہ لقب ہوا ہے لہذا ان کا لقب مفید ہونے میں کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہے بلکہ یوں کہا جائے کہ مفید کا لقب ایک نا قابل انکار حقیقت ہے۔ البتہ آپ کو اس لقب دئے جانے کی تفصیل میں اختلاف ہے۔ مجموعی طور پر اس سلسلے میں تین اقوال پائے جاتے ہیں:

پہلا قول: ابن شہر آشوب نے اپنی کتاب معالم العلماء میں بیان کیا ہے: انہیں یہ لقب امام زمانہ (ع) نے دیا ہے اور اس کی تفصیل میں نے مناقب آل ابی طالب میں ذکر کی ہے۔[7] لیکن موجودہ مناقب ابی طالب میں موجود نہیں البتہ احتجاج طبرسی میں وہ توقیع کسی بھی سلسلہ سند کے بغیر ذکر ہوئی ہے جس میں شیخ مفید کو امام زمانہ نے مفیدکہہ کر خطاب کیا ہے یہ توقیع 410 ھ ق صفر کے مہینے میں نکلی[8] اس بنا پر مفید کا لقب آپ کو زندگی کے آخری زمانے میں امام زمانہ سے ملا۔ اسی وجہ سے آیت اللہ خوئی اسے درست تسلیم نہیں کرتے ہیں لیکن اس کے بر عکس شہید سید محمد صادق صدر اس توقیع کو متن کی پختگی اور اخبار غیب پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اسے صحیح کہتے ہیں۔ ریاض العلماءکے مصنف نے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے بعض توقیعوں کو اردبیل میں شیخ مفید کے شاگرد شیخ مقداد کے پاس دیکھا[9]شیخ مفید کے متعلق پانچ توقیعوں کو ذکر کیا جاتا ہے جن میں سے تین احتجاج[10] کے آخر میں ،چوتھی توقیع ریاض العلماء[11] اور مجالس المؤمنین[12] میں اور پانچویں توقیع قصص العلماء[13] مذکور ہیں۔

دوسرا قول: یہ لقب علی بن عیسی رمانی نے شیخ مفید سے ایک علمی گفتگو کے اختتام پر ان کے استاد کے نام ایک رقعہ لکھا جس میں انھیں مفید کہا گیا ہے۔ابن ادریس حلی نے اس واقعے کی مکمل تفصیل کو مستطرفات السرائر میں ذکر کیا ہے[14]یہ قول واقعیت کے زیادہ قریب معلوم ہوتا ہے کیونکہ ابن ادریس حلی نے اسے شیخ مفید کی کتاب العیون و المحاسن سے نقل کیا ہے۔نیز العیون و المحاسن کو شیخ مفید نے اپنی کتاب الافصاح میں اسے اپنی تالیف قرار دیا ہے [15]اس قول کی بنا پر میں آپ کو زندگی کے ابتدائی مراحل میں اہل سنت کے جید عالم دین نے اس لقب سے نوازا۔العیون و المحاسن کو مختصر صورت میں سید مرتضی نے تالیف کیا جس کا نام انھوں نے الفصول المختارہ من العیون و المحاسن رکھا موجودہ اس کتاب میں یہ واقعہ موجود نہیں ہے۔

تیسرا قول :قاضی نور اللہ شوستری نے مصابیح القلوب سے نقل کرتے ہوئے اپنی کتاب مجالس المومنین میں کہا ہے کہ معتزلی عالم دین عبد الجبار معتزلی نے اس لقب سے نوازا[16]لیکن واقعے کی تفصیل میں عبد الجبار سے یہ لفظ مفید اس صورت:انت المفید حقاَ
میں نقل ہوا ہے اس سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے سے ہی آپ کو مفید کے نام سے جانتا تھا۔

اساتذہ

شیخ مفید کی ابتدائی تعلیم کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہے۔البتہ اپنے والد کے استاد ہونے کی وجہ سے کوئی بعید نہیں کہ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد بزرگوار سے ہی حاصل کی ہو گی۔

  • شیخ نجاشی نے کہا ہے کہ آپ کے والد بغداد میں منتقل ہوئے تو ابو جیش کے شاگرد طاہر کے پاس پڑھنا شروع کیا۔
  • شیخ طوسی نے کہا ہے کہ انہوں نے اپنے زمانے کے متکلم اور مؤلف "ابو جیش" " مظفر بن محمد خراسانی" کے پاس پڑھا۔
  • مجموعہ ورام بن ابی فراس کے مطابق آپ نے "عبد اللہ بجعل" کے پاس تعلیم حاصل کی پھر ابو جیش کے شاگرد "ابو یاسر" کے پاس پڑھا۔ انھوں نے ہی شیخ مفید کو "علی بن عیسی رمانی" کے پاس بھیجا۔[17] لیکن علی بن عیسی رمانی اور شیخ مفید کے درمیان ہونے والی گفتگو میں شیخ مفید نے اپنے استاد کا نام عبد اللہ بجعل ذکر کیا ہے۔(واللہ اعلم)۔
  • ابو عبد اللہ بصری معروف بجعل: مظفر بن محمد خراسانی کے بعد آپ نے ان سے پڑھنا شروع کیا۔ ان کا مکمل اسم گرامی حسین بن علی بن ابراہیم تھا۔ یہ اپنے زمانے کے فقیہ، متکلم اور معتزلہ کے شیوخ میں سے شمار ہوتے تھے۔

شیخ مفید کے شیوخ

شیخ مفید نے اپنی زندگی میں جن بزرگان سے کسب فیض کیا ان کی فہرست :

  1. ابو حسن احمد بن محمد بن حسن ولید قمی
  2. ابو غالب احمد بن محمد بن سلیمان زراری
  3. ابو حسن احمد بن حسین بن اسامہ بصری(اجازہ)
  4. ابو علی احمد بن علی بن محمد بن جعفر صولی
  5. شریف ابو محمد احمد بن محمد بن عیسی علوی زاہد
  6. ابو حسن احمد بن محمد جرجانی
  7. احمد بن ابراہیم بن ابو رافع صیمری
  8. اسماعیل ابو قاسم بن محمد انباری کاتب
  9. ابو احمد اسماعیل بن یحیی عبسی
  10. جعفر بن حسین مؤمن
  11. ابو قاسم جعفر بن محمد بن قولویہ
  12. شریف ابو محمد حسن بن حمزہ علوی حسینی طبری
  13. ابو علی حسن بن عبد اللہ قطان
  14. ابو محمد حسن بن محمد عطشی
  15. ابو علی حسن بن فض رازی بصری
  16. ابو محمد حسن بن محمد بن یحیی شریف
  17. ابو عبد اللہ حسین بن علی بن ابراہیم معروف بجعل
  18. شیخ ابو عبد اللہ حسین بن علی بن شیبان قزوینی
  19. حسین بن احمد بن موسی بن ہدیہ ابو عبد اللہ
  20. ابو طیب حسین بن علی بن محمد تمّار
  21. ابو عبد اللہ حسین بن احمد بن مغیرہ
  22. ابو حسن زید بن محمد بن جعفر سلمی
  23. ابو یاسر طاہر (شاگرد ابو جیش)
  24. ابو محمد عبد اللہ بن محمد ابہری
  25. عبد اللہ بن جعفر بن محمد بن اعین بزاز
  26. ابو عبد اللہ بن ابو رافع کاتب
  27. ابو عمرو عثمان بن احمد دقاق(اجازہ)
  28. ابو حسن علی بن خالد مراغی
  29. ابو حسن علی بن مالک نحوی
  30. ابو حسن علی بن محمد بن جیش کاتب
  31. ابو حسن علی بن بلال مہلی
  32. ابو حسن علی بن حسین بصری بزاز
  33. ابو حسن علی بن محمد بن زبیر کوفی
  34. ابو حسن علی بن محمد بن خالد
  35. ابو حسن علی بن احمد بن ابراہیم کاتب
  36. ابو قاسم بن علی بن محمد رفا
  37. ابو حسن علی بن محمد قرشی
  38. ابو بکر عمر بن سالم بن براء معروف ابن جعابی
  39. ابو حفص عمر بن محمد بن علی صیرفی معروف ابن زیات
  40. ابو جعفر محمد بن علی بن حسین بن بابویہ صدوق
  41. ابو علی محمد بن جنید کاتب اسکافی
  42. ابو حسن محمد بن احمد بن داؤد بن علی قمی
  43. ابو بکر محمد بن سالم بن محمد براء معروف حافظ جعابی
  44. ابو عبد اللہ محمد بن عمران مرزبانی
  45. ابو نصر محمد بن حسن نصیر شہرزوری مقرئ
  46. ابو طیب محمد بن احمس ثقفی
  47. ابو حسن محمد بن مظفر زیات
  48. ابو جعفر محمد بن عمر زیات
  49. شریف ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن طاہر
  50. ابو محمد بن عبد اللہ بن ابو شیخ
  51. ابو بکر محمد بن احمد شافعی
  52. ابو حسن محمد بن جعفر بن محمد کوفی نحوی تمیمی
  53. ابو جعفر محمد بن حسین بزوفری
  54. ابو عبد اللہ محمد بن حسن جوانی
  55. ابو عبد اللہ محمد بن علی بن ریاح قرشی
  56. ابو عبد اللہ محمد بن داؤد حتمی
  57. محمد بن احمد بن عبید اللہ منصوری
  58. محمد بن احمد بن عبد اللہ بن قضاعہ صفوانی
  59. ابو نصر محمد بن حسین خلال
  60. محمد بن سہل بن احمد دیباجی
  61. مظفر بن محمد بلخی[18]

شیخ مفید کی عظمت

شیخ مفید کی عظمت کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جسے معتزلی عالم دین ابن ابی الحدید نے شرح نہج البلاغہ میں سید فخار بن علوی سے ان الفاظ سے نقل کیا ہے:

"شیخ مفید ابو عبد اللہ محمد بن نعمان امامی نے خواب میں دیکھا کہ وہ کرخ کی مسجد میں بیٹھے ہیں کہ اسی اثنا میں سیدہ کونین حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام اپنے ساتھ اپنے دونوں فرزند حضرت امام حسن حضرت ٌامام حسین علیہم السلام کو لئے ان کے پاس آئیں۔اپنے بیٹوں کو شیخ مفید کے سپرد کرتے ہوئے سیدہ نے فرمایا :تم انہیں فقہ کی تعلیم دو۔شیخ مفید اس خواب کو دیکھ کر نہایت حیران ہوئے۔ صبح جب مدرسے میں تدریس کیلئے آئے تو کیا دیکھتے ہیں سیدہ فاطمہ بنت ناصر اپنی کنیزوں کو ساتھ لئے اپنے دو بیٹوں: سید محمد رضی اور سید علی مرتضی کو شیخ مفید کے پاس آئیں اور ان سے کہا : انھیں فقہ کی تعلیم دو۔یہ ماجرا دیکھ کر شیخ مفید کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ آپ نے رات کا خواب ان کے سامنے بیان کیا۔

شیخ مفید نے ان کی سرپرستی کو قبول فرمایا اور تعلیم کا سلسلہ شروع کیا۔خداوند کریم نے سیدین پر اپنے انعامات کو نازل فرمایا اور ان پر ایسے علم وفضائل کے ابواب کھولے کہ جن کی بدولت رہتی دنیا تک آفاق میں ان کا نام ہمیشہ باقی رہے گا۔"[19] ٗ

شاگردوں کی تربیت

آپ کے اندر علم کو دوسروں تک پھیلانے کا جذبہ بہت زیادہ تھا۔اس کا اندازہ ذہبی کے درج ذیل بیان سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:

"شیخ مفید جب بھی گھر سے باہر جاتے اور کسی بھی ذہین بچے کو دیکھتے تو اس کے والدین سے اسے پڑھانے کی اجازت طلب کرتے اور اس کی تعلیم و تربیت میں مشغول ہو جاتے۔اپنے شاگردوں کی حاجت روائی میں کسی قسم کی کم و کسر نہ آنے دیتے۔ ہمیشہ اپنے شاگردوں سے کہتے " علم کے حصول سے مت گھبرائیں محنت اور مشقت سے اس کا حصول آسان ہو جاتا ہے "[20]ذیل میں ان اسماء کا ذکر کیا جاتا ہے جو اس مدرسے سے فیضیاب ہوئے:

  1. ابو عباس، احمد بن علی بن أحمد بن عباس نجاشی۔
  2. احمد بن علی بن قدامہ۔
  3. ثقۃ العین، جعفر بن محمد بن احمد بن عباس دوريستی۔
  4. حسين بن علی نيشاپوری۔
  5. فقیہ ابو يعلى، سلار بن عبد العزيز ديلمی۔
  6. ابو حسن، علی بن محمد بن عبد الرحمن فارسی۔
  7. شريف سيد مرتضى "علم الہدى" علی بن حسين بن موسى موسوی۔
  8. ابو فوارس بن علی بن محمد بن عبد الرحمن فارسی۔
  9. شريف سيد رضی محمد بن حسين بن موسى موسوی۔
  10. شيخ الطائفہ، محمد بن حسن طوسی۔
  11. ابو يعلى، محمد بن حسن بن حمزة جعفری (داماد شیخ مفید )۔
  12. ابو فتح، قاضی محمد بن علی كراجكی ۔
  13. ابو محمد، (علی بن محمد فارسی کے بھائی جن کا نام پہلے گزر چکا ہے)۔
  14. شيخ الفقیہ، ابو فرج، مظفر بن علی بن حسين حمدانی (امام زمانہ عجل الله فرجہ کے سفیروں میں سے ہیں) ۔
  15. شريف ابو الوفا محمدی موصلی۔
  16. ابو شجاع تاج الملت عضد الدولہ علی بن حسن بن بویہ دیلمی[21]
  17. اسحاق بن حسن بن محمد بغدادی: ابن ابی طی نے "رجال شیعہ میں انہیں شیخ مفید کے شاگردوں میں شمار کیا ہے۔انھوں نے "نونیہ" کے نام سے ایک طویل قصیدہ اور "مثالب النصواب" کے نام سے ایک کتاب لکھی [22]
  18. حسن بن عنبس بن مسعود بن سالم بن محمد بن شریک ابو محمد مرافقی [23]
  19. حسین بن احمد بن محمد قطان بغدادی۔ حلب اور طرابلس میں رہے۔انہوں نے 4 جلدوں میں فقہ پر کتاب لکھی جو 420 ھ میں موجود تھی۔[24]
ٗ

تالیفات کی فہرست

شیخ مفید کی کتابوں کی عناوین کے لحاظ سے درجہ بندی کی جائے تو ان میں سے 60 فیصد کتابیں علم کلام کے موضوع سے متعلق ہیں۔ان میں سے 35 کتابیں امامت،10 کتابیں حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ،41 کتابیں فقہ،12 کتابیں علوم قرآن،5 کتابیں اصول فقہ،4 کتابیں تاریخ اور 3 کتابیں حدیث کے موضوع پر لکھی ہوئیں ہیں جبکہ 40 کتابوں کے عنوان کا علم نہیں ہے۔[25]

أحكام أهل الجمل۔
أحكام النساء۔
اختيار الشعراء۔
الارشاد في معرفة حجج الله على العباد۔
الأركان في دعائم الايمان۔
الاستبصار في ما جمعه الشافعي من الاخبار۔
الاشراف في أهل البيت عليهم السلام۔
اصول الفقہ۔
الاعلام۔
الافتخار۔
اقسام المولی فی اللسان و بیان معانیہ العشرہ۔
الافصاح فی الامامہ۔
الاقناع فی وجوب الدعوہ۔
الآمالی المتفرقات۔
خطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag الايضاح في الإمامة۔
إيمان أبي طالب عليه السلام۔
البيان عن غلط قطرب في القرآن۔
البيان في تأليف القرآن۔
بيان وجوه الأحكام۔
التواريخ الشرعية۔
تفضيل الأئمة على الملائكة۔
تفضيل أمير المؤمنين عليه السلام على سائر الأصحاب۔
التمهيد۔
جمل الفرائض۔
جواب ابن واقد السني۔
جواب أبي الفتح محمد بن علي بن عثمان۔
جواب أبي الفرج بن إسحاق :مبطلات نماز کے بارے میں ہے۔
جواب أبي محمد الحسن بن الحسين النوبندجاني۔
جواب أهل جرجان في تحريم الفقاع۔
جواب أهل الرقة في الأهلة والعدد۔
جواب الكرماني في فضل نبينا محمد صلى الله عليه وآله على سائر الأنبياء عليهم السلام۔
جواب المافروخي في المسائل۔
جواب مسائل اختلاف الاخبار۔
الجوابات في خروج المهدي عجل الله فرجه۔
جوابات ابن الحمامي۔
جوابات الخطيب ابن نباتة۔
جوابات أبي جعفر القمي۔
جوابات أبي جعفر محمد بن الحسين الليثي۔
جوابات أبي الحسن الحضيني۔
جوابات أبي الحسن سبط المعافى ابن زكريا في مسألة إعجاز القرآن۔
جوابات أبي الحسن النيسابوري۔
جوابات الأمير أبي عبد الله۔
جوابات الحاجب أبي الليث الأواني
جوابات الإحدى والخمسين مسألة۔
جوابات البرقعي في فروع الفقه۔
جوابات ابن عرقل۔
جوابات الشرقيين في فروع الدين۔
جوابات علي بن نصر العبد جاني۔
الرجال وهو مدرج في الارشاد الآنف الذكر۔
رد العدد الشرعية۔
الرد على ابن الأخشيد في الإمامة۔
الرد على ابن رشيد في الإمامة۔
الرد علي ابن عون في المخلوق وابن عون هو أبو الحسين محمد بن جعفر بن محمد بن عون الأسدي الكوفي ساكن الري له كتاب الجبر والاستطاعة۔
الرد على ابن كلاب في الصفات وابن كلاب۔
الرد على أبي عبد الله البصري في تفضيل الملائكة على الأنبياء عليهم السلام۔
الرد على الجبائي في التفسير۔
الرد على أصحاب الحلاج۔
الرد على ثعلب في آيات القرآن ذكره السروي۔
الرد على الجاحظ العثمانية۔
الرد على الخالدي في الإمامة۔
الرد على الزيدية۔
الرد على الشعبي۔
الرد على الصدوق في عدد شهر رمضان۔
الرد على العقيقي في الشورى۔
الرد على القتيبي في الحكاية والمحكي۔
الرد على الكرابيسي في الإمامة۔
الرد على المعتزلة في الوعيد۔
الرد على من حد المهر۔
رسالته في الفقه إلى ولده۔
الرسالة إلى الأمير أبي عبد الله وأبي طاهر بن ناصر الدولة في مجلس جرى في الإمامة۔
الرسالة إلى أهل التقليد۔
الرسالة العلوية۔
الرسالة الغرية۔
الرسالة الكافية في الفقه۔
رسالة الجنيدي إلى أهل مصر۔
الرسالة المقنعة في وفاق البغداديين من المعتزلة لما روي عن الأئمة عليهم السلام۔
الزاهر في المعجزات۔
المعجزات۔
شرح كتاب الاعلام۔
عدد الصوم والصلاة۔
العمد في الإمامة۔
العويص في الأحكام۔
ويظهر من بعضها انه مختصر من العويص۔
العيون والمحاسن توجد نسخة منه في المكتبة الرضوية وغيرها۔
الفرائض الشرعية في مسألة المواريث۔
الفصول من العيون والمحاسن والذي يظهر من ذكر النجاشي له مع العيون والمحاسن انهما متعددان وهو غير الفصول للسيد المرتضى الموجود الآن۔
الفضائل ذكره السروي في المعالم۔
قضية العقل على الافعال وسماه السروي فيضة العقل على الافعال۔
الكامل في الدين أحال إليه نفسه في مسألة الفرق بين الشيعة والمعتزلة والفصل بين العدلية منهما والقول في اللطيف من الكلام وفى أواخر الفصول المختارة للمرتضى۔
كتاب في امامة أمير المؤمنين عليه السلام من القرآن۔
كتاب في قوله صلى الله عليه وآله ( أنت مني بمنزلة هارون من موسى )۔
كتاب في قوله تعالى ( فاسئلوا أهل الذكر )۔
كتاب في الخبر المختلق بغير أثر۔
كتاب القول في دلائل القرآن۔
كتاب في الغيبة۔
كتاب في القياس۔
كتاب في المتعة۔
كشف الالتباس۔
الكلام في الانسان۔
الكلام في حدوث القرآن۔
الكلام في المعدوم والرد على الجبائي۔
الكلام في وجوه إعجاز القرآن۔
الكلام في أن المكان لا يخلو من متمكن۔
لمح البرهان في عدم نقصان شهر رمضان۔
المبين في الإمامة ذكره الشيخ باسم المنير۔
المجالس المحفوظة في فنون الكلام۔
المختصر في الغيبة۔
مختصر في الفرائض۔
مختصر في القياس۔
المختصر في المتعة۔
المزار الصغير۔
المزورين عن معاني الأخبار۔
المسألة الكافية في إبطال توبة الخاطئة۔
المسألة الموضحة عن أسباب نكاح أمير المؤمنين عليه السلام۔
مسألة في المهر وأنه ما تراضى عليه الزوجان۔
مسألة في تحريم ذبايح أهل الكتاب۔
مسألة في الإرادة۔
مسألة في الأصلح۔
مسألة في البلوغ۔
مسألة في ميراث النبي صلى الله عليه وآله۔
مسألة في الاجماع۔
مسألة في العترة۔
مسألة في رجوع الشمس۔
مسألة في المعراج۔
مسألة في انشقاق القمر وتكلم الذراع۔
مسألة في تخصيص الأيام۔
مسألة في وجوب الجنة لمن ينتسب بولادته إلى النبي صلى الله عليه وآله۔
مسألة في معرفة النبي صلى الله عليه وآله بالكتابة۔
مسالة في معنى قوله صلى الله عليه وآله ( إني مخلف فيكم الثقلين )۔
مسالة فيما روته العامة۔
مسالة في النص الجلي۔
مسألة محمد بن الخضر الفارسي۔
مسألة في معنى قوله صلى الله عليه وآله ( أصحابي كالنجوم )۔
مسألة في القياس مختصر۔
المسألة الموضحة في تزويج عثمان۔
المسألة المقنعة في إمامة أمير المؤمنين عليه السلام۔
المسائل في أقضى الصحابة۔
مسألة في الوكالة۔
مسائل أهل الخلاف۔
المسألة الحنبلية۔
مسألة في نكاح الكتابية۔
المسائل العشرة في الغيبة۔
مسائل النظم۔
مسألة في المسح على الرجلين ولعله الرد على النسفي في مسح الرجلين۔
مسألة في المواريث۔
مصابيح النور في علامات أوائل الشهور۔
مقابس الأنوار في الرد على أهل الأحبار۔
المسائل المنثورة وهي نحو مأة مسألة ذكرها في الفهرست۔
المسائل الواردة من خوزستان۔
مسألة في خبر مارية القبطية۔
مسائل في الرجعة۔
مسألة في سبب استتار الحجة عجل الله فرجه۔
مسألة في عذاب القبر۔
مسألة في قوله ( المطلقات )۔
مسألة فيمن مات ولم يعرف إمام زمانه هل هو صحيح ثابت أم لا۔
مسالة الفرق بين الشيعة والمعتزلة والفصل بين العدلية منهما والقول في اللطيف من الكلام۔
مناسك الحج۔
مناسك الحج مختصر۔
الموجز في المتعة وهو الذي أشرنا إليه فيما سبق۔
النصرة في فضل القرآن۔
النصرة لسيد العترة في حرب البصرة وقد طبع في النجف باسم الجمل۔
نقض في الإمامة على جعفر بن حرب۔
نقص في الخمس عشرة مسألة على البلخي۔
النقض على ابن عباد في الإمامة۔
النقض على أبي عبد الله البصري۔
النقض على الجاحظ في فضيلة المعتزلة۔
النقض على الطلحي في الغيبة۔
النقض على علي بن عيسى الرماني في الإمامة۔
النقض على غلام البحراني في الإمامة۔
النقض على النصيبي في الإمامة۔
النقض على الواسطي۔
نقض فضيلة المعتزلة۔
نقض كتاب الأصم في الإمامة۔
نقض المروانية۔
النكت في مقدمات الأصول۔
نهج البيان إلى سبيل الايمان۔[26]

شیخ مفید کے زمانے کا بغداد

عباسی خلیفہ منصور نے 145 ھ میں بغداد نامی دیہات کا نام "مدینۃ السلام" میں بدل کر اس شہر کی تعمیرات پر خصوصی توجہ دی لیکن یہ شہر اپنے قدیمی نام کی شہرت پر باقی رہا۔ اس شہر کے ایک محلے کا نام "کرخ" تھا۔ قرائن کی بنا پر وثوق سے کہا جاسکتا ہے کہ چوتھی صدی میں کافی تعداد میں شیعہ یہاں موجود تھے [27] ساتویں صدی میں صرف شیعہ نشین ہی تھے جبکہ باقی اطراف اہل سنت رہائش پذیر تھے۔[28]

مامون کے زمانے سے یہ شہر ایک علمی مرکز کی حیثیت اختیار کر گیا فقہاء ،متکلمین ادباءوغیرہ نے اس شہر میں سکونت اختیار کی جیسا کہ اس کی بارے میں ابن طیفور کی "کتاب بغداد " میں اس کی تصریح موجود ہے۔[29] ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہی صورتحال شیخ مفید کے زمانے میں اسی طرح باقی تھی کیونکہ بغداد کی مختلف شخصیات سے مختلف جگہوں پر شیخ مفید کی دوسرے مذہب کے علماء سے علمی بحثیں اس کا ایک عمدہ مؤید ہے۔جہاں یہ علمی بحثیں بغداد کی علمی حیثیت کو اجاگر کرتی ہیں اس کے ساتھ ہی وہ شیخ مفید کے بلند علمی مقام کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

شیخ مفید اور دوسرے مذاہب کے علماء

شیخ مفید نے مختلف اوقات میں دوسرے مذہب کے جن علماء سے علمی گفتگو کی۔ ان کے اسماء درج ذیل ہیں :

  1. کتبی۔[30]
  2. قاضی ابو بکر احمد بن سیار : ان سے بغداد میں محمد بن محمد بن طاہر کے گھر اور دوسری مرتبہ تاجروں کی موجودگی میں بحث کی۔[31]
  3. عرزالہ معتزلی
  4. ابو عمرو شطوی۔مذکورہ علماء معتزلہ مکتب سے تعلق رکھتے تھے۔[32]
  5. مذہب کرابیسی اختیار کرنے والا محدث۔[33]
  6. قاضی ابو محمد عمانی:نقیب ابو الحسن عمری کے ہاں گفتگو ہوئی۔[34]
  7. ابو بکر بن دقاق۔نقیب ابو الحسن عمری کے ہاں گفتگو ہوئی۔ یہ بھی معتزلی ہیں۔[35]
  8. ورثانی:ان سے ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن طاہر کے گھر پر گفتگو ہوئی۔[36]
  9. جراحی: ان سے ابو عبد اللہ محمد بن محمد بن طاہر کے گھر پر گفتگو ہوئی۔[37]
  10. ابو بکر بن صرایا : ان سے ابو منصور بن مرزبان کے گھر معتزلہ کی موجودگی میں بات ہوئی۔
  11. طبرانی: مذہب زیدیہ کے ایک بزرگ تھے۔
  12. ابن لؤلؤ: اسماعیلیہ مذہب کے عالم دین۔
  13. ابو القاسم دارکی
  14. شیخ ابو الحسن
  15. ابو طاہر
  16. ابو الحسن علی بن نصر[38]
  17. ابو عباس ہبۃ اللہ بن منجم۔ابو عیسی وراق کی موجودگی میں بات ہوئی۔
  18. زیدی مسلک کے ایک شیخ طبرانی سے۔

جن افراد کے نام معلوم نہیں ہیں :

  1. بعض قاضیوں کی موجودگی میں بہت سے فقہاء اور متکلمین۔[39]
  2. بعض معتزلی۔[40]
  3. احمد بن قاسم علوی کے ہاں چند مجبرہ،چند معتزلہ اور ایک زیدی مسلک کے ایک شخص سے گفتگو۔
  4. حاذق معتزلی بزرگ اور دیگر متدین معتزلی۔
  5. بہت سے اہل نظر اور فقیہوں کی موجودگی میں بعض معتزلہ سے بحث ہوئی۔
  6. امرا کی موجودگی میں ری کے ایک معتبر معتزلی سے بحث ہوئی۔
  7. سر من رای میں عباسیوں اور غیر عباسیوں کے بزرگان سے بحث ہوئی۔[41]
ٗٗ

عام لوگوں کی موجودگی میں شیخ مفید کا ان اہل سنت کے بزرگان سے مناظرے اور علمیں بحثین کرنے اور ان کے سامنے مذہب حقہ کی حقانیت کو بیان کرنے کی وجہ سے بغداد میں تشیع کا فروغ اور اسی طرح ان کی تصانیف کا تشیع میں مؤثر ہوناایک طبعی امر تھا۔ شیخ مفید کا نزدیک ترین معاصر خطیب بغدادی بغداد میں شیخ مفید کی وجہ سے تشیع کے فروغ کی حقیقت کا اقرار ان الفاظ میں کرتا ہے :محمد بن محمد بن نعمان کی وجہ سے لوگ ہلاک ہوئے (یعنی انہوں نے مذہب شیعہ اختیار کیا)۔[42]پھران کی وفات پر خوشی کا اظہار ان الفاظ میں کرتا ہے:یہانتک کہ اللہ نے لوگوں کو اس کی موت سے سکھ فراہم کیا۔[43] شاید یہی وجہ تھی کہ شیخ مفید کی وفات پر اہل سنت کے کچھ علماء نے نہایت خوشی کا اظہار کیا جیسے ابن کثیر اور ابن جوزی نے اہل سنت کے آئمہ میں سے "عبيد الله بن عبد الله ابن الحسين أبو القاسم الخفاف، المعروف بابن النقيب" کے حالات کے ذیل میں لکھا ہے کہ جب اسے شیخ مفید کی وفات کی خبر ملی تو اس نے سجدہ شکر کیااور لوگوں سے مبارکباد وصول کرنے کیلئے بیٹھ گیا۔[44]۔ذہبی نے کہا: اس نے مخلوق کو ہلاک کیا۔ اللہ نے اسے رمضان میں ہلاک کیا اور مسلمانوں کو اس سے راحت نصیب ہوئی[45]

مکتب شیخ مفید

چوتھی صدی میں شیخ صدوق مذہب شیعہ کے رئیس مانے جانے جاتے تھے۔ انہوں نے بہت ہی سادہ طریقے سے تصنیف و تالیف کو رواج دیا۔ فقہی اور دینی عقائد میں اپنے نظریات کو ثابت کرنے کیلئے کسی بحث وتمحیص کے بغیر آیات قرآنی ، احادیث نبوی اور آئمہ طاہرین (علیہم السلام)کے فرامین بیان کرتے۔اس بات کا اندازہ انکی تصانیف کی روش کو دیکھ کر بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔اس روش کی وجہ شاید یہ ہو کہ قم ابتدا سے ہی شیعوں کا ایک نہایت مضبوط مرکز رہا ہے لہذا اس وجہ سے یہاں کے علماء کو اپنے اعتقادی اور مذہبی مسائل کو پیچیدہ ابحاث کے ذریعے لوگوں کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔ پس اس بنا پر لوگوں کو قائل کرنے کیلئے کسی بحث و تمحیص کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی اور علماء صرف احادیث کے بیان کو ہی سمجھتے تھے۔

شیخ مفید نے شیخ صدوق کی روش کے برعکس س انداز تالیف کو تبدیل کیا اور اسے وسعت بخشی۔اصول فقہ اور علم کلام کے بنیادی اصولوں پر ابحاث کو شیعوں میں رائج کیا لہذا انہوں نے شیعہ عقائد کو قرآنی آیات احادیث کے ساتھ ساتھ علم کلام کے اصولوں اور اور معیاروں پر میزان کرنے کی کوشش کی۔ اپنے عقائد کے بیان اور ثابت کرنے میں "معقولات" پر انحصار کرنے کی روش نے شیخ مفید کو ایک نئے مکتب کے طور پر متعارف کروایا ہے۔نیز بغداد میں شیخ مفید کے علمی مقام کی وجہ سے بغداد کو جلدی ہی شیعوں کے علمی مقام کا درجہ حاصل ہو گیا اور ایک ہی وقت میں "بغداد اور قم" شیعوں کے دو علمی مرکز شمار کئے جانے لگے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس زمانے میں تشیع کے دو مکتب "مکتب بغداد" جس کی علمی ریاست شیخ مفید کے پاس اور "مکتب قم" کہ جس کی علمی ریاست شیخ صدوق کے ہاتھوں تھی تو یہ بے جا نہ ہو گا۔

اسلام اور عقل

شیخ مفید اسلام کے عقائد اور معارف دین کے مسائل میں بحث و تمحیص کو جائز سمجھتے جبکہ بعض علماء بحث وتمحیص کو جائز نہیں سمجھتے تھے بلکہ اسے بدعت قرار دیتے ہوئے منطقی اور عقلی دلیلوں سے استدلال کرنے کو بدعت اور حرام کہتے تھے۔مثلا عبد الرحمن بن علی بن محمد ابو الفرج احمد بن حنبل سے نقل کرتے ہیں :علم کلام جاننے والا کبھی فلاح نہیں پائے گا علمائے علم کلام زنادقہ ہیں [46]۔ اسی طرح ابن قدامہ علم کلام کی مخالفت میں اپنے بزرگان کے اقوال نقل کرتے ہوئے ابو یوسف کا یہ قول نقل کرتے ہیں:جس نے علم کلام کی تعلیم حاصل کی وہ زندیق یعنی کافر ہو گیا [47]

یقینی خبر

شیخ مفید خبر واحد کے ساتھ استدلال کو جائز نہیں سمجھتے تھے۔ وہ صرف اس صورت میں خبر واحد کے ساتھ استدلال جائز سمجھتے جب اس کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ موجود جو اس کے سچے ہونے پر دلالت کرے۔اس نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے "اوائل المقالات" میں کہتے ہیں" اسلام میں خبر واحد پر اعتماد کرتے ہوئے کسی چیز پر ایمان پر رکھنا جائز نہیں ہے۔ہاں اگر خبر واحد کے ساتھ کوئی ایسی چیز موجود ہو جو راوی کے سچے ہونے پر دلالت کرے تو تو درست ہے۔شیعوں میں جمہور، معتزلہ، محکمہ اور مرجئہ میں سے ایک طائفے کا یہی مسلک ہے۔[48]۔نیز شیخ صدوق کی جانب سے نقل کی گئی روایات کی نفی کرتے ہوئے کہتے ہیں ایسی اخبار کہ جو یقین آور نہ ہوں وہ اس بات کا موجب نہیں بنتی کہ ان پر اعتقاد رکھا جائے یا ان پر عمل کیا جائے لہذا اس لئے ان روایات پر اعتماد کرنا صحیح نہیں ہے۔ [49]۔اسی طرح ان کے شاگرد سید مرتضی بھی اسی نظریے کے قائل تھے اور وہ کہتے ہیں ہمارے تمام اصحاب سلف سے ہوں یا خلف سے ہوں انہوں نے نے اسلام میں خبر واحد اور قیاس پر عمل کرنے سے منع کیا ہے۔

سہو نبیؐ

شیخ مفید سہوِ نبی( نبی اکرمؐ کا بھولنا) کے قائل نہیں تھے اور آپ نے نبی اکرمؐ سے سہو و نسیان کی نفی میں ایک رسالہ "عدم سہو النبی " کے نام سے تالیف کیا جس میں اس بات کو بیان کیا کہ نبی پیدائش سے لے کر آخر عمر تک زندگی کے کسی بھی حصے میں کبیرہ یا صغیرہ گناہ اور سہو و نسیان کا ارتکاب نہیں کرتا ہے۔اس رسالے میں آیات قرانی کے حوالے سے ظن اور گمان پر عمل کرنے کو دلیل کے طور پر ذکر کیا اور کہا کہ جب کسی خبر واحد میں رسول گرامی کے بارے یہ کہا جائے کہ آپ سے فراموشی سرزد ہوئی ہے اور اس خبر سے یقین پیدا نہ تو ایسی خبر پر اعتقاد پر رکھنا حرام ہے نیز ہمیں اس خبر سے عدول کرنا چاہئے اور نبی اکرمؐ کے بارے میں ان کی عصمت کا یقین رکھنا چاہئے جبکہ شیخ صدوق اس کے برعکس آپ کی روز مرہ کی زندگی کے بارے میں سہو نبی کے قائل تھے البتہ وہ بھی احکام دین کی تبلیغ میں نبی اکرمؐ کی نسبت سہو کی نفی کرتے ہیں۔

درست ہے کہ بغداد میں تشیع کافی تعداد میں موجود تھی لیکن اس کے باوجود اہل سنت برادران پھر بھی اکثریت میں تھے۔ اسی وجہ سے شیعہ علماء کا اکثر سروکار اہل سنت علماء سے رہتا تھا۔ اس کے علاوہ یہاں معتزلین کی ایک قابل توجہ تعداد بھی یہاں مقیم تھی اور اہل سنت میں سے یہ مکتب عقلانیت کی جانب زیادہ میلان رکتا تھا۔اس کی وجہ سے عقلانیت نے شیعہ اکابرین پر اثر چھوڑا۔اس بات کو شیخ مفید کی تصانیف میں واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔

اقوال علماء

اہل سنت اور شیعہ کی رجال و تراجم کی تمام کتب میں ان کا تعارف مذکور ہے لیکن ہم یہاں ان میں صرف چند ایک سے ان کے بارے میں اقتباسات نقل کرتے ہیں۔

علمائے شیعہ

  • شیخ طوسی ان کا تعارف ان الفاظ میں کرواتے ہیں:۔۔۔مذہب امامیہ کے متکلمین میں سے تھے۔اپنے زمانے کی علمی ریاست ان پر منتہی ہوتی،وہ علوم اور علم کلام میں مقدم، فقہاء پر برتر، حسن خاطر ،دقیق الفطین اور حاضر جواب تھے۔
  • نجاشی کہتے ہیں :ہمارے بزرگ، ہمارے استاد(اللہ ان سے راضی ہو) فقہ، کلام ،روایت ، موثق اور صاحب علم ہونے میں ان کے فضل کی جس قدر توصیف بیان کی جائے وہ اس سے کہیں زیادہ مشہور ہیں۔
  • ابن ندیم: ہمارے زمانے میں ابو عبد اللہ کی طرف شیعہ متکلمیں کی علمی ریاست منتہی ہوتی،اپنے دور کے تمام اصحاب پر علم کلام میں فوقیت رکھتے،تاریخ سے مطلع اور بہترین یادداشت کے مالک تھے میں نے جب انہیں دیکھا تو ایک بارع شخص پایا۔
  • ابن طی حلبی نے "تاریخ امامیہ" میں کہا :وہ ایک صوفی منش انسان تھے۔امامیہ مذہب کے ترجمان،فقہ اور کلام کے ماہر جو حکومت بویہ میں اپنی جلالت اور ابوہت کے ساتھ ہر عقیدے کے شخص سے مناظرہ کرتے تھے۔کثرت سے صدقہ دیتے ، پرہیزگار ، صوم و صلات کے پابند اور حسن لباس کے مالک تھے۔
  • آیت اللہ حلی:شیعہ مشائخین میں سب سے افضل اور ان کے رئیس ،تمام متاخرین کے استاد، فقہ اور کلام میں جس قدر انکی تعریف کی جائے ان کی فضیلت کی شہرت اس سے کہیں زیادہ ہے۔

علمائے اہل سنت

  • ذہبی لکھتے ہیں : "محمد بن محمد بن نعمان، ابو عبد اللہ ابن معلم رافضی جس کا لقب مفید تھا۔ کثیر التصانیف تھا جس میں اس نے اصحاب سلف کے بارے میں طعن کیا ہے۔413ھ میں فوت ہوا حکومت بویہ میں بہت عظمت اور جلالت کا حامل تھا"۔ پھر ص 30 پر لکھتے ہیں :"۔۔۔۔۔۔شیخ مفید رافضی عالم تھا جس نے 200 سے زیادہ بدیع کتابیں لکھیں جن میں سلف کے بارے میں لکھا ہے۔اس کے جنازے میں اسی ہزار(80/000) سے زیادہ لوگوں نے شرکت کی۔عضد الدولہ کی وجہ سے عظمت کا مالک تھا۔413ھ میں فوت ہوا۔"[50]۔
  • ابن کثیر "البدایۃ و النہایۃ " میں "ابن نعمان " کے ذیل میں کہتے ہیں"ابن نعمان امامیہ رافضیوں کا بزرگ عالم دین ،صاحب تصانیف تھا۔اس زمانے میں اس کی وجہ سے لوگوں کی کثیر تعداد شیعیت کی طرف مائل ہو گئی جس کی وجہ سے وہ حاکمان وقت کے نزدیک وجاہت کا حامل تھا۔اس کی مجلس میں دیگر مذاہب کے علماء کی کثیر تعداد حاضر ہوتی تھی۔سید مرتضی اور سید رضی اس کے شاگردوں میں سے ہیں سید مرتضی نے 413 ھ میں اس کی وفات پر قصیدہ کہا۔
  • یافعی نے مراۃ الجنان میں کہا :413ھ میں شیعوں کا عالم اور رافضیوں کا امام فوت ہوا جو کثیر التصانف ، شیخ مفید اور ابن معلم کے نام سے معروف تھا۔کلام ،جدل اور فقہ میں بارع شخص تھا۔وہ حکومت بویہ میں جلالت و عظمت کے ساتھ ہر عقیدے کے صاحب سے مناظرہ کرتا تھا۔ابن طی نے کہا ہے :کثرت سے صدقہ دینے والا،نہایت خاشع،کثیر الصوم و الصلات ،۔۔۔۔۔۔۔وہ 76 سال زندہ رہا اور رمضان میں فوت ہوا۔ اس کے جنازے میں اسی ہزار رافضیوں اور شیعوں نے شرکت کی۔[51]

شہر بدری

مامون کے زمانے سے ہی بغدادایک سیاسی شہر ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی شہر کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔بغداد میں قلائین ، محول ، باب البصرہ اور کرخ محل وقع کے لحاظ سے قریب قریب واقع ہوئے ہیں۔اس شہر میں شیعہ آبادی اس کے "کرخ " نامی محلے میں آباد تھی جس میں کوئی غیر شیعہ آباد نہیں تھا اور اس کے ایک جانب "محول " نامی محلہ تھا۔[52]کرخ کے اطراف میں بسنے والے لوگ اہل سنت مکتب سے تعلق رکھتے تھے۔جیسا کہ یاقوت حموی نے اپنے زمانے میں کرخ کے محل وقوع کو بیان کرتے ہوئے کہا ہے :کرخ کے مشرق میں باب البصرہ جس کے تمام ساکنین سنی نشین"حنبلی" تھے۔جنوب میں محلہ "نہر القلائین" تھا اس کے بھی ساکنین سنی ہی تھے اور اسی طرح اس کے ایک طرف محلہ "محول "تھا اس کے بھی ساکنین سنی ہی تھے۔پس اس محل وقع کے اعتبار سے کرخ سنی نشینوں میں گھرا ہوا تھا۔[53]

مؤرخین نے اس شہر کے حالات ذکر کرتے ہوئے اس میں کئی بار فسادات کے ہونے کا ذکر کیا ہے۔بغداد جیسے ایک سیاسی اور مذہبی شہر ہونے کے لحاظ سے اس میں فسادات کا ہونا ایک طبعی امر ہے کیونکہ بغداد کی آبادی عربی،ترکی اور ایرانی نسل کے لوگوں پر مشتمل تھی۔ اسکے علاوہ ہر مذہب کے پیروکار بھی اس شہر کا ہی حصہ تھے۔لہذا کئی مرتبہ اس شہر میں فسادات کی آگ بھڑکی جس میں قتل وغارت کا بازار گرم ہوا۔ 364ھ، 380ھ، 384ھ، 406ھ، 417ھ اور 421ھ، کے فسادات قابل ذکر ہیں۔[54]ان تمام فسادات میں عیارین کا کردار نمایا ہے۔ان فسادات میں کسی جرم کے بغیر اہل سنت کی تشفی کی خاطر شیخ مفید کو حکومت وقت نے تین مرتبہ شہر بدر کیا۔

پہلی مرتبہ

392ھ میں انہیں شہر بدر کِا گِا[55] اور مارٹن کے بقول ان کے شہر بدر کئے جانے کا سبب ذکر نہیں ہوا۔[56] ابن اثیر نے 393ھ میں بھی شہر بدری کو ذکر کیا ہے۔[57] مذکورہ واقعات کی تفصیل سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ایک ہی سال کے واقعے ہیں۔[58]

دوسری مرتبہ

398ھ کے واقعات کے ذیل میں بھی ان کے شہر بدر کئے جانے کا ذکر ہے۔ابن جوزی کے بقول"یہ فسادات رجب کے مہینے میں شروع ہوئے اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ابن جوزی نے منتظم میں لکھا کہ ان فسادات کے شروع ہونے کا سبب یہ تھا کہ باب البصرہ(جس کی آبادی سنی نشین تھی) کے کچھ عباسی شیخ مفید سے متعرض ہوئے تو شیخ مفید کے ساتھی اس تعرض پر خشمناک ہوئے۔وہ قاضی کے پاس اس بات کی شکایت لے کر گئے۔پس ابو حامد اسفرائینی اور فقہاء کی موجودگی میں مصحف مسعود پیش ہوا تو ابو حامد اسفرائینی اور فقہاء نے اسے جلانے کا اشارہ کیا تو ان کی موجودگی میں اسے جلا دیا گیا۔ اہل باب البصرة وباب الشعير والقلائين کے اہل کرخ کے ساتھ فسادات شروع ہو ئے"۔[59] جبکہ "الکامل فی التاریخ" میں مصحف کے جلائے جانے کے ذکر کے بغیر ابتدائے فسادات کا سبب باب بصرہ کے عباسیوں کا شیخ مفید کو برا بھلا کہنا، اذیت دینا ذکر ہوا ہے[60]۔مارٹن نے ان واقعات کے بارے میں یہی کہا ہے کہ مؤرخین نے ان واقعات میں بھی شیخ مفید کی کسی قسم کی مداخلت کا ذکر نہیں کیا ہے اور حاکم وقت نے اہل سنت کی ناراضگی ختم کرنے کیلئے اسے شہر بدر کیا۔[61]

تیسری مرتبہ

409ھ میں ایک بار پھر انہی خراب حالات کی وجہ سے بغداد چھوڑنا پڑا۔لیکن اس کا سبب مذکور نہیں ہے۔[62]

وفات

413 ھ کے رمضان کے مہینے میں شیخ مفید 75 یا 77 سال کی پر برکت عمر گزار کر اس دنیا فانی سے رخصت ہوئے۔ بعض نے ان کی تاریخ وفات میں جمعرات کا دن اور رمضان کی دو تاریخ نقل کی ہے۔[63] شیخ طوسی کہتے ہیں کہ "میں نے اپنی زندگی میں کسی کی وفات پر اس سے بڑا جم غفیر نہیں دیکھا۔ لوگ اعتقادی اور مذہبی تفریق کے بغیر ان کے جنازے میں شریک ہوئے تھے۔ ہر مذہب و عقیدے کے شخص نے ان کے جنازے میں شرکت کی[64]مؤرخین نے ان کے جنازے میں شریک ہونے والے شیعوں کی تعداد 80/000 بیان کی ہے دوسرے مذاہب کے لوگ ان کے علاوہ تھے۔ میدان "اشنان" میں ان کی نماز جنازہ سید مرتضی نے پڑھائی اور انہیں ان کے گھر کے صحن میں دفن کیا گیا۔ دو سال کے بعد ان کے جسد کو حرم کاظمین کی پائنتی کی جانب قریش کی قبروں کی طرف ابو القاسم جعفر بن محمد بن قولویہ کی سمت دفنایا گیا۔

حوالہ جات

  1. میزان الاعتدال ج4 ص26 و 30۔
  2. رجال نجاشی ص 399 ش 1067
  3. گنجینہ آثار قم ج 1 ص 265
  4. شذرات الذہب
  5. الامتاع و الموانسہ
  6. مقدمہ تہذیب الاحکام ج1 ص6
  7. معالم العلماء ص148 ش265
  8. احتجاج ج2 ص322
  9. ریاض العلماء ص178
  10. احتجاج ج2 ص318تا325
  11. ریاض العلماء
  12. مجالس المؤمنین
  13. قصص العلماء
  14. مستطرفات السرائر ص648 ص
  15. الافصاح ص192
  16. مجالس المومنین ص
  17. تنبیہ الخواطر نزہہ النواظر معروف بہ مجموعہ ورام ج1 ص310
  18. مقدمہ تہذیب الاحکام ج1 ص11 تا 13
  19. شرح ابن ابی الحدید ج1 ص41
  20. تاریخ اسلام ج9 ص381 ش5297
  21. مقدمہ تہذيب الأحكام - الشيخ الطوسي - ج 1 ص 15 - 16
  22. لسان المیزان ج1 ص 360 ش1112
  23. لسان المیزان ج2 ص242 ش1018
  24. لسان المیزان ج2 ص267 ش1115
  25. مقدمہ مصنفات شیخ مفید ج1 ص
  26. مقدمہ تہذیب الاحکام ج1 ص22 تا 31
  27. ر ک :المنتظم چوتھی صدی کے اواخر کی دہائی واقعات دیکھیں۔
  28. معجم البلدان ج4 ص 448۔
  29. کتاب بغداد ج1 ص36۔
  30. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص25۔
  31. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص18۔
  32. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص25۔
  33. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص36۔
  34. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص30
  35. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص30۔
  36. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص31۔
  37. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص34۔
  38. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص327۔
  39. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص81۔
  40. الفصول المختارہ من العیون و المحاسن ص81۔
  41. مقدمہ تہذیب الاحکام ج1 ص17 و 18۔
  42. تاریخ بغداد ،خطیب بغدادی ج3 ص 450 ش1615(محمد بن محمد بن نعمان )۔
  43. تاریخ بغداد ،خطیب بغدادی ج3 ص 450 ش1615(محمد بن محمد بن نعمان )۔
  44. البداية والنهاية ج12 ص18(سن 415ھ) المنتظم، ابن جوزی،ج4 ص339( سن 415ھ۔)
  45. تاريخ الإسلام ذہبی ج28 ص333
  46. تلبیس ابلیس ص102
  47. تحریم النظر فع علم الکلام ص102
  48. اوئل المقالات ص122۔
  49. مسائل السرویہ ص72
  50. میزان الاعتدال ج4 ص26 و 30۔
  51. مرآة الجنان وعبرة اليقظان في معرفة حوادث الزمان ج1 ص 410(حوادثات 413ھ کے ذیل میں مذکور ہے)
  52. تاریخ بغداد ج1 ص98۔
  53. معجم البلدان ج4 ص 448۔
  54. تاریخ الاسلام ذہبی ج26 ص 257 ،487؛ ج27 ص17،ج28 ص255 ج29 ص5۔
  55. المنتظم في تاريخ الملوك والأمم ج7 ص220۔
  56. اندیشہ ہای کلامی شیخ مفید ص24۔
  57. الکامل فی التاریخ ج7 ص218۔
  58. المجازر والتعصبات الطائفية في عهد الشيخ المفيد ص82
  59. المنتظم ،جوزی، ج4 ص304
  60. الكامل في التاريخ ج7 ص218۔
  61. اندشہ ہائے شیخ مفید ص 25 تا 28۔
  62. الكامل في التاريخ ج7 ص300۔
  63. تاریخ بغداد ج3 ص450 ش1615۔
  64. كتاب : الفہرست ص239