طلحہ بن عبیداللہ

ویکی شیعہ سے
(طلحہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ذاتی کوائف
نام کامل طلحہ بن عبیدالله بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرة بن کعب بن لؤی بن غالب قرشی تیمی
کنیہ ابومحمد
شہادت جنگ جمل میں مروان بن حکم کے ہاتہوں
دینی خصوصیات
اسلام قبول کرنے کا وقت پہلے مسلمانوں میں سے/ ابو بکر کے بعد
جنگوں میں شرکت پیغمبر(ص) کی اکثر جنگوں میں شرکت
ہجرت مدینہ کی طرف
چھ افراد پر مشتمل گروہ کی دیگر فعالیت عثمان کے قتل میں شرکت. امام علی(ع) کے خلاف جنگ جمل کے راہنماؤں میں سے

طلحہ بن عبیداللہ پیغمبر(ص) کا صحابی، اور اوائل مسلمین، ابوبکر بن ابو قحافہ پہلے خلیفہ کے چچا کا بیٹا تھا جو کہ صدر اسلام کی جنگوں میں بھی حاضر ہوا اور اپنے جوہر دکھائے. پیغمبر(ص) کی وفات کے بعد طلحہ نے پہلے خلیفہ کے ساتھ اس کے کاموں میں مدد کرنا شروع کر دی. طلحہ دوسرے خلیفہ کی طرف سے تیسرے خلیفہ کو معین کرنے کے لئے چھ افراد پر مشتمل ایک گروہ میں شامل کیا گیا. وہ عثمان بن عفان کے قتل کے وقت حاضر تھا اور خلیفہ کے قاتلوں کو اکسانے میں اس کا نام بھی تھا. اس کے قتل کے بعد حضرت علی(ع) سے بیعت کی، لیکن کچھ عرصے بعد اپنی بیعت کو توڑ دیا اور زبیر اور پیغمبر(ص) کی زوجہ عایشہ اور بعض امویوں کے ساتھ جو کہ ناکثین کے نام سے مشہور تھے، مل کر امام علی(ع) کے خلاف جنگ جمل کو شروع کیا اور اس جنگ میں مروان بن حکم (کہ جو ناکثین کے گروہ میں) کے ہاتھوں قتل ہوا.

زندگی نامہ

ابو محمد طلحہ بن عبیداللہ بن عثمان بن عمروبن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لؤی بن غالب قرشی تیمی جو کہ بنی تیم بن مرہ کے قبیلے میں بعثت کے دس سال پہلے پیدا ہوا. اس کی والدہ صعبہ بنت حضرمی جو کہ پیغمبر اکرم(ص) کے زمانے میں تھی اور طلحہ کے خاندان کے بعض افراد کے بقول وہ مسلمان اس دنیا سے گئی. [1] طلحہ کی زوجات، حمنہ بنت جحش (پیغمبر(ص) کی پھوپھی اور محمد و عمران کی والدہ)، ام کلثوم ابو بکر کی بیٹی (کہ جس نے یعقوب، اسماعیل، زکریا اور عائشہ کو دنیا میں لایا)، سعدی بنت عوف (عیسی اور یحییٰ کی والدہ)، خولہ بنت قعقاع بن معبد بن زرارہ بن عدس تمیمی (موسیٰ کی والدہ)، ام حارث بنت قسامہ طی قبیلے سے (ام اسحاق کی والدہ)، ام ابان بنت عتبہ بن ربیعہ (اسحاق کی والدہ) اور تغلبیہ خاندان کی ایک عورت (صالح کی والدہ) تھیں. اسی طرح صعبہ اور مریم دونوں ام ولد کی کنیزیں تھیں. [2]

اسلام

طلحہ بن عبیداللہ ابوبکر کی وجہ سے اسلام کی طرف مائل ہوا اور اسلام قبول کیا.[3]ایک قول کے مطابق طلحہ شام میں تھا کہ راہب نے احمد، عبدالمطلب کے فرزند کی پیغمبری کی خبر اسے دی اور وہ مکہ آنے کے بعد ابوبکر کے ہمراہ مسلمان ہو گیا. [4] طلحہ کو ابوبکر کے ہمراہ نوفل بن خویلد بن عدویہ یا عثمان بن عبیداللہ (طلحہ کا بھائی) کے ہاتھوں آزار واذیت دی گئی. نوفل (یا عثمان) ان دونوں کو ایک رسی میں باندھ دیتا تھا تا کہ انکی نماز میں رکاوٹ ہو. [5] طلحہ ان مہاجرین میں سے تھا جس نے رسول خدا(ص) کی ہجرت سے پہلے اور پیغمبر(ص) کے خاندان کے بعض افراد کے ہمراہ مدینہ کی طرف سفر کیا [6] اور حبیب بن اساف جو کہ بنی حرث بن خزرج کے خاندان سے تھا ان کے گھر رکا [7] اور ایک قول کے مطابق طلحہ نے دو سفید رنگ کے کپڑے پیغمبر(ص) اور ابوبکر کے لئے شام سے لائے اور وہ دونوں وہ سفید شامی لباس پہن کر مدینہ میں داخل ہوئے. [8] پیغمبر(ص) نے مکہ میں طلحہ اور زبیربن عوام [9] یا سعید بن زید [10] یا سعد بن ابی وقاص [11] کے درمیان اخوت کا صیغہ جاری کیا اور مدینہ ہجرت کے بعد، پیغمبر(ص) نے کعب بن مالک [12] یا ابوایوب انصاری [13] یا ابی بن کعب [14] کے درمیان بھائی چارے کا پیمان باندھا. طلحہ پیغمبر(ص) کے راویوں سے ہے اور یہ مشہور روایت اسی کی ہے: طلحہ کہتا ہے: میں نے پیغمبر(ص) سے پوچھا کہ آپ پر کس طرح صلوات پڑھیں. آپ(ص) نے فرمایا: کہو: اللھم صل علی محمد و علی آل محمد کما صلیت علی ابراھیم انک حمید مجید، و بارک علی محمد و علی آل محمد کما بارکت علی آل ابراھیم انک حمید مجید [15] طلحہ کے فرزند یحییٰ، موسی، عیسیٰ، قیس بن ابوحازم، احنف بن قیس، سائب بن یزید، ابوعثمان نھدی اور ابوسلمہ بن عبدالرحمن، آپ سے روایت نقل کرتے تھے. [16]

جنگوں میں حاضر ہونا

طلحہ جنگ غزوہ اور بدر کے وقت مدینہ میں حاضر نہیں تھا پیغمبر(ص) نے اسے اور سعید بن زید کو شام کی طرف بھیجا ہوا تھا اس وقت شام سے واپس لوٹا جب مسلمان بدر سے واپس آ چکے تھے. طلحہ سفر سے واپسی پر پیغمبر(ص) کے پاس گیا اور جنگ بدر کی مال غنیمت میں سے اپنا حصہ مانگا پیغمبر(ص) نے اس کا حصہ اسے دیا. [17] طلحہ جنگ احد میں موجود تھا اور بعض قول کے مطابق اس جنگ میں اپنے جوہر دکھائے. وہ اس جنگ میں زخمی ہو گیا اور بعض انگلیوں ناکارہ ہو گئیں. [18] طلحہ نے مسلمانوں کی شکست اور پیغمبر(ص) کے قتل کی خبر پھیلنے کے بعد بعض مہاجرین اور انصار جیسے عمر بن خطاب کے ہمراہ میدان جنگ سے نکل گیا. انس بن نضر ان کے پاس آیا اور کہا بیٹھے کیوں ہو؟ انہوں نے جواب دیا: پیغمبر(ص) قتل ہو گئے ہیں. انس نےکہا: آپ لوگ بھی اٹھو اور اسی راہ میں قتل ہو جاؤ جس راہ میں پیغمبر(ص) قتل ہوئے ہیں. [19] البتہ بعض قول کے مطابق طلحہ کا شمار ان محدود افراد سے ہے کہ جو قریش کے حملے کے بعد (جب بہت سے مسلمان فرار کر گئے) پیغمبر(ص) کے پاس ثابت قدم رہا. [20] طلحہ کو جنگ تبوک سے پہلے، جو منافقوں کا گروہ سویلم یہودی کے گھر جمع تھا انکی ہدایت کے لئے بھیجا گیا. [21]

پیغمبر(ص) کو اذیت

طلحہ نے پیغمبر(ص) کی زوجات کے بارے میں ایسی بات کہی کہ پیغمبر(ص) کو اذیت ہوئی اس لئے اس کی مذمت میں آیات نازل ہوئی. طلحہ نے کہا: اگر پیغمبر(ص) دنیا سے چلے گئے تو آپ(ص) کی زوجہ عائشہ سے شادی کرے گا. اس لئے آیتوَمَا كَانَ لَكُمْ أَن تُؤْذُوا رَ‌سُولَ اللَّـهِ وَلَا أَن تَنكِحُوا أَزْوَاجَهُ مِن بَعْدِهِ أَبَدًا ۚ إِنَّ ذَٰلِكُمْ كَانَ عِندَ اللَّـهِ عَظِيمًا ترجمہ: اور تم رسول خدا(ص) کو اذیت پہنچانے کا حق نہیں رکھتے ہو، اور پیغمبر(ص) کی وفات کے بعد انکی زوجات سے نکاح نہیں کر سکتے، کیونکہ یہ کام خداوند کے نزدیک ہمیشہ بڑا گناہ ہے. (احزاب ٥٣) نازل ہوئی. [22]

عہد خلفاء

طلحہ بن عبیداللہ پہلے خلیفہ (ابوبکر) کے ہمراہ جنگوں میں حاضر تھا. [23] وہ عمر بن خطاب، عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن ابوبکر کے ہمراہ، ابوبکر کے دفن سے پہلے اس کی قبر میں داخل ہوئے اور پھر ابوبکر کو پیغمبر(ص) کے ساتھ دفن کیا. [24] اکثر اوقات جب ابو بکر عمر بن خطاب کو حد سے زیادہ اہمیت دیتا تھا تو طلحہ ابوبکر کو اس کام سے روکتا تھا. [25]اور جب ابوبکر نے اپنے بعد عمربن خطاب کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو اس نے اعتراض کیا. [26] طلحہ نے بہت سی فتوحات، جیسے ایران کی فتح میں شرکت کی اور عمربن خطاب کی خلافت کے دور میں عبدالرحمن بن عوف اور زبیر بن عوام کے ہمراہ جنگ میں شرکت کی. [27] اور وہ بعض ملکوں کے امور میں عمر کو مشورہ دیتا تھا. [28]

تیسرے خلیفہ کے تعین کے لئے چھ افراد کا گروہ

طلحہ امام علی(ع) کے ہمراہ، عثمان بن عفان، زبیربن عوام، عبدالرحمن بن عوف اور سعد بن ابی وقاص، تیسرے خلیفہ کے انتخاب کے لئے چھ افراد پر مشتمل ایک گروہ میں شامل ہو گیا. عمر نے طلحہ کے بارے میں کہا: وہ ایسا شخص ہے کہ جو اپنی آبرو و ستایش کی خاطر اپنا مال قربان کرتا ہے تا کہ دوسروں کے مال کو حاصل کر سکے اور کبر اور غرور میں گرفتار ہے. [29] بعض قائل ہیں کہ وہ اس زمانے میں مدینہ سے باہر تھا. اور جب واپس آیا تو عثمان کے بارے میں اپنی رائے کو اعلان کیا.[30] بعض نے کہا ہے کہ وہ عمر کی وفات اور عثمان کی بیعت کے بعد مدینہ واپس چلا گیا. [31]

عثمان کے قتل میں مشارکت

طلحہ سنہ ٣٥ ہجری قمری عثمان کے گھر کا محاصرہ کرنے والوں میں موجود تھا اور خلیفہ کے گھر کا محاصرہ کرنے پر اسرار کیا اور اس کام میں بہت سختی کی حتی کہ عثمان کے گھر پر پانی بند کر دیا، جب حضرت علی(ع) کو اس بات کا پتہ چلا تو بہت ناراض ہوئے اور اس کے بعد اجازت دی گئی کہ عثمان کے گھر پانی بھیجا جائے. [32] اسی طرح محاصرہ کے ایام میں، وہ شہر مدینہ کے لوگوں کا امام جماعت تھا. [33] ابن اعثم کے بقول، طلحہ نے بنی تیم کے ہمراہ عثمان کے گھر کا محاصرہ کیا اور عثمان نے حضرت علی(ع) سے مدد کی درخواست کی. حضرت علی(ع) کے اس ماجرہ میں دخالت کے بعد، طلحہ اور اس کے دوست نے اس کے گھر کا محاصرہ ختم کر دیا. [34] طلحہ کو تیسرے خلیفہ عثمان کے قتل میں متہم کیا گیا. اس بارے میں مندرجہ ذیل شاہد موجود ہیں:

  • عثمان بن عفان نے گھر کے محاصرے کے وقت، خلیفہ کے خلاف شورش کرنے والوں میں سے طلحہ کو پہلا مخالف کہا ہے. [35].
  • اسی طرح یعقوبی نے طلحہ کا نام زبیر اور عائشہ کے ساتھ جو کہ تیسرے خلیفہ کے قتل میں ملوث تھے، لکھا ہے. [36]
  • حتی کہ طلحہ کے بیٹے محمد نے بھی اسے عثمان کے قتل میں شریک قرار دیا ہے. [37]
  • مروان بن حکم نے جنگ جمل میں طلحہ کو مارنے کی وجہ یہی کہی ہے کہ عثمان کو قتل کرنے میں سب سے زیادہ تلاش طلحہ کی تھی. [38]

بیعت شکنی اور جنگ جمل

طلحہ وہ پہلا فرد تھا جس نے عثمان کے قتل کے بعد امام علی(ع) سے بیعت کی [39] اور چونکہ اس کا ہاتھ مفلوج تھا، بنی اسد کے ایک مرد نے اس کی بیعت کو خطرے کی علامت کہا.[40] اس نے تھوڑی مدت کے بعد بیعت کو توڑ دیا اور حضرت علی(ع) کے خلاف زبیر اور عائشہ کے ساتھ مل کر جنگی دستہ تیار کیا اور بصرہ کی طرف چلا گیا اور جنگ جمل شروع کی. طلحہ نے سنہ ٣٦ ہجری زبیر اور عائشہ کے ہمراہ، امام علی(ع) کے خلاف قیام کیا. [41] کہا جاتا ہے کہ جب طلحہ اور زبیر بصرہ میں داخل ہوئے، عبداللہ بن حکیم تمیمی نے عثمان کے خلاف طلحہ کے ہاتھوں لکھا ہوا ثبوت پیش کیا. عبداللہ نے طلحہ سے کہا: کیا ہوا ہے کل تک تو تم عثمان کے خلاف لشکر تیار کرتے رہے ہو اور آج عثمان کے خون کا مطالبہ کرنے لگے ہو؟ طلحہ نے کہا آج توبہ اور عثمان کا خون طلب کرنے کے علاوہ کسی چیزکو صحیح نہیں سمجھا. [42] حضرت علی(ع) نے اس جنگ میں طلحہ کو مکار شخص کہا اور اسں کو زبیر، عائشہ اور یعلی بن منیہ کے ہمراہ اپنا سخت ترین دشمن یاد کیا ہے. [43] مروان بن حکم نے جنگ کی ابتداء میں کہا آج کے بعد عثمان کے خون کا مطالبہ نہیں کروں گا. مروان نے جنگ کی ابتداء میں یا جمل کے لشکر کے فرار اور شکست کے بعد، طلحہ کی طرف ایک تیر پھینکا کہ جو طلحہ کے گھٹنے پر لگا اور اسی تیر کے لگنے سے ختم ہو گیا اور بصرہ میں ایک نہر کے کنارے دفن کیا گیا. [44] کہا گیا ہے کہ وفات کے وقت اس کی عمر ٦٤ یا ٦٢ سال تھی.[45]

طلحہ کی مال و ثروت

طلحہ کی وفات کے بعد، اس کی بہت مال و ثروت باقی رہ گئی. عراق میں اس کے اناج کی قیمت چار سو سے پانچ سو درہم اور روزانہ تقریباً ہزار درہم تھی. اور اس کے اناج کی قیمت سراہ میں تقریباً دس ہزار دینار تھی. اور اسی طرح نقل ہوا ہے کہ اس کی میراث جیسے زمین، مال، اور نقد پیسہ (درہم اور دینار) تیس میلیون تھا. دو میلیون اور دو لاکھ درہم اور دو سو ہزار دینار نقد موجود تھا. اور اس کے علاوہ زمین اور مال تھا. اسی طرح کہا گیا ہے کہ جب طلحہ بن عبیداللہ قتل ہوا تو اس کے خزانے دار کے پاس دو میلیون اور دو سوہزار درہم نقد، اور باقی باغ اور اموال جس کی قیمت تیس میلیون تھی، موجود تھا. ایک اور قول کے مطابق طلحہ بن عبیداللہ سونے سے بھری ہوئی سو بیل کے چمڑے کی بوریاں کہ ہر بوری میں تین سو رطل سونا تھا، باقی چھوڑ کر گیا. [46]

اہل سنت کے نزدیک مقام

طلحہ کو اہل سنت کے نزدیک خاص مقام حاصل ہے اور اس کو ایک عشرہ مبشرہ (وہ دس افراد جنکو پیغمبر(ص) نے جنت کی بشارت دی ہے)، طلحہ الخیر، طلحہ فیاض، کہتے ہیں. اوراسے پیغمبر(ص) کا راوی کہا گیا اور اس کے بیٹے: یحییٰ اور موسیٰ، قیس بن ابو حازم، ابوسلمہ بن عبدالرحمن اور مالک بن ابو عامر اس سے روایت نقل کرتے تھے. [47] اور طلحہ کو پیغمبر(ص) کے بارہ حواری، حمزہ بن عبدالمطلب، جعفر بن ابی طالب، علی(ع)، ابوبکر، عمربن خطاب، ابوعبیدہ جراح، عثمان بن عفان، عثمان بن مظعون، عبدالرحمن بن عوف، سعد بن ابی وقاص اور زبیربن عوام، کے ساتھ شامل کرتے ہیں. [48]

حوالہ جات

  1. انساب الاشراف، ج۱۰، ص۱۲۹
  2. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۱۶۰ و ۱۶۱ و انساب الاشراف، ج۱، ص۸۸ و ۲۴۴ و ج۱۰، ص۱۱۷ و ص۱۳۰؛ ابن حزم، جمهرة انساب العرب، ص۱۵۷
  3. ابن هشام السیره النبویه، ج۱، ص۲۵۱ و ۲۵۲؛ مسعودی، مروج الذهب، ج۲، ص۲۷۷؛ ابن اثیر، اسد الغابه، ج۲، ص۴۶۸
  4. انساب الاشراف، ج۱۰، ص۱۱۵؛ بیهقی، دلائل النبوه، مقدمه، ص۲۷؛ ابن کثیر دمشقی، البدایه و النهایه، ج۳، ص۲۹
  5. ابن هشام السیره النبویه، ج۱، ص۲۸۲ ؛ ابن جوزی، المنتظم، ج۵، ص۱۱۲؛ ابن اثیر، اسد الغابه، ج۲، ص۴۶۸
  6. انساب الاشراف، ج۱، ص۲۶۹؛ مقریزی، امتاع الاسماع، ج۱، ص۶۸ و ۶۹
  7. ابن هشام السیره النبویه، ج۱، ص۴۷۷
  8. ساب الاشراف، ج۱۰، ص۶۱
  9. ابن هشام السیره النبویه، ج۲، ص۵۶۱
  10. هاشمی بغدادی، المحبر، ص۷۱
  11. ن قتیبه، المعارف، ص۲۲۸
  12. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۲، ص۷۶۴
  13. ن اثیر،اسد الغابه، ج۲، ص۴۶۸
  14. هاشمی بغدادی، المحبر، ص۷۳ و انساب الاشراف، ج۱، ص۲۷۱
  15. مقریزی، امتاع الاسماع، ج۱۱، ص۳۳
  16. ذهبی، تاریخ الاسلام، ج۳، ص۵۲۳
  17. التنبیه و الاشراف، ص۲۰۵؛ ابن خیاط، تاریخ خلیفه، ص۲۴؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۲، ص۷۶۴ و ۷۶۵
  18. مقریزی، امتاع الاسماع، ج۱، ص۱۵۶ و ۱۵۷
  19. طبری، تاریخ طبری، ج۲، ص۵۱۷
  20. زرکلی،الاعلام، ج۳، ص۲۲۹
  21. ابن هشام السیره النبویه، ج۲، ص۵۱۷؛ ابن کثیر دمشقی، البدایه و النهایه، ج۵، ص۳
  22. انساب الاشراف، ج۱۰، ص۱۲۳، تفسیر القران العظیم، ج۶، ص ۴۰۳
  23. بلاذری، فتوح البلدان، ص۱۰۰؛ مسعودی، البدء و التاریخ، ج۵، ص۱۵۷
  24. انساب الاشراف، ج۱۰، ص۹۵
  25. طبری،تاریخ طبری، ج۳، ص۲۷۵
  26. طبری، تاریخ طبری، ج۳، ۴۳۳
  27. طبری، تاریخ طبری، ج۳، ص۴۸۱ و ۴۸۸
  28. ابن اعثم کوفی،الفتوح، ج۲، ص۲۹۲
  29. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۵۸
  30. ابن قتیبه، الامامه و السیاسه، ج۱، ص۴۲ و ۴۴
  31. انساب الاشراف، ج۵، ص۵۰۴
  32. انساب الاشراف، ج۵، ص۵۶۱
  33. ابن کثیر دمشقی، البدایه و النهایه، ج۷، ص۱۷۷
  34. ابن اعثم کوفی،الفتوح، ج۲، ص۴۲۳
  35. طبری، تاریخ طبری، ج۴، ص۳۷۹
  36. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج۲، ص۱۷۵
  37. ابن قتیبه، الامامه و السیاسه، ج۱، ص۸۴
  38. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج۲، ص۴۷۸
  39. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۷۸؛ ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج۲، ص۴۳۶
  40. انساب الاشراف، ج۲، ص۲۰۶ و ۲۰۷
  41. ابن خیاط، تاریخ خلیفه، ص۱۰۸
  42. انساب الاشراف، ج۲، ص۲۲۹ و ۲۳۰
  43. ابن اعثم کوفی، الفتوح، ج۲، ص۴۶۳ و ۴۶۴
  44. ابن خیاط، تاریخ خلیفه، ص۱۰۸ و انساب الاشراف، ج۲، ص۲۴۶ و ۲۴۷ و ج۶، ص۲۵۷؛ ابن عبدالبر، الاستیعاب، ج۲، ص۷۶۸
  45. انساب الاشراف، ج۱۰، ص۱۲۸؛ مسعودی، البدء و التاریخ، ج۵، ص۸۲
  46. ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، ص۱۶۶ و ۱۶۷
  47. این حجر عسقلانی، الاصابه، ج۳، ص۴۳۰
  48. بغدادی، المنمق، ص۴۲۳؛ بسوی، المعرفه و التاریخ، ج۲، ص۵۳۵ و ۵۳۶