فزت و رب الکعبۃ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

شیعوں کے پہلے امام
حضرت علی علیہ السلام


حیات
واقعۂ غدیرلیلۃ المبیتیوم الدارمختصر زندگی نامہ


علمی ورثہ
نہج البلاغہغرر الحکم و درر الکلمخطبۂ شقشقیہبے الف خطبہبے نقطہ خطبہحرم


فضائل
فضائل اہل‌بیت، آیت ولایت • آیت اہل‌الذکر • آیت شراء • آیت اولی‌الامر • آیت تطہیر • آیت مباہلہ • آیت مودت • آیت صادقین-حدیث مدینۃالعلم • حدیث رایت • حدیث سفینہ • حدیث کساء • خطبہ غدیر • حدیث منزلت • حدیث یوم‌الدار • حدیث ولایتسدالابوابحدیث وصایت


اصحاب
عمار بن یاسرمالک اشترابوذر غفاریعبیداللہ بن ابی رافعحجر بن عدیدیگر افراد

فُزْتُ وَ رَبِّ الْکَعْبَہ امام علی(ع) کا کلام ہے جس کا معنی "خدای کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہوا" اور آپ(ع) نے ضربت لگنے کے بعد یہ کلام اپنی زبان پر جاری کیا. اہل تشیع کے مختلف افراد جیسے کہ سید رضی، [1] ابن شہر آشوب [2] اور اہل سنت میں سے ابن اثیر [3] اور بلاذری[4] نے اس کلام کو نقل کیا ہے. مؤخر مآخذ کی بہت کم تعداد میں یہ تعبیر "فزت برب الکعبۃ" نقل ہوئی ہے.[5]

تیسری صدی ہجری کا مورخ ابن قتیبہ دینوری، نے اس واقعہ کو یوں نقل کیا ہے: ابن ملجم امام علی(ع) کی طرف گیا اور کہا: حکم صرف خدا کی طرف سے ہے نہ کہ تیری طرف سے، اور تلوار سے امام علی(ع) کی پیشانی پر ضربت لگائی. حضرت علی(ع) نے فرمایا: "فزت و رب الکعبہ" "خدای کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہو گیا" اس کے بعد فرمایا: یہ شخص (ابن ملجم) آپ لوگوں کے درمیان سے بھاگ نہ جائے. پھر لوگوں نے ابن ملجم کو گرفتار کر لیا. [6]

البتہ امام علی(ع) سے پہلے سن چار ہجری کو بئر کے واقعہ میں ایک شخص جس کا نام حرام بن ملحان تھا اس نے اپنی شہادت کے وقت یہ جملہ کہا تھا، پانچویں صدی کے مورخ ابن عبدالبر یوں نقل کرتا ہے:

بئر کے موقع پر معونہ نے حرام بن ملحان کے سر پر ضربت لگائی. اس نے اپنے ہاتھ میں خون لیا، اور اپنے چہرے اور سر پر مل کر کہا: "فزت و رب الکعبۃ" "خدای کعبہ کی قسم، میں کامیاب ہوا" [7]

حوالہ جات

  1. سید رضی، خصائص الأئمۃ، ۱۴۰۶ق، ص۶۳.
  2. ابن شہر آشوب‏، مناقب آل أبی طالب‏، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۱۱۹.
  3. ابن اثیر، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۳،ص۶۱۸.
  4. بلاذری، أنساب الأشراف‏، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۴۸۸.
  5. مازندرانی، شرح الکافی، ۱۳۸۲ش، ج۱۱، ص۲۲۵.
  6. ابن قتیبہ، الإمامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۸۰.
  7. ابن عبدالبر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۳۷.


مآخذ

  • ابن اثیر جزری، علی بن محمد، اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دار الفکر، ۱۴۰۹ق.
  • ابن شہر آشوب مازندرانی، مناقب آل أبی طالب علیہم السلام، قم، انتشارات علامہ، چاپ اول، ۱۳۷۹ق.
  • ابن عبدالبر، یوسف بن عبد الله‏، الاستیعاب فی معرفۃ الأصحاب، تحقیق: البجاوی، علی محمد، بیروت، دار الجیل، چاپ اول، ۱۴۱۲ق.
  • ابن قتیبہ دینوری، عبد الله بن مسلم‏، الامامۃ و السیاسۃ، تحقیق: شیری، علی، دارالأضواء، بیروت، چاپ اول، ۱۴۱۰ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: زکار، سہیل، زرکلی، ریاض، بیروت، دار الفکر، چاپ اول، ۱۴۱۷ق.
  • سید رضی، محمد بن حسین، خصائص الأئمۃ علیہم السلام (خصائص أمیر المؤمنین علیہ السلام)، محقق و مصحح: امینی، محمدہادی‏، مشہد، آستان قدس رضوی، چاپ اول، ۱۴۰۶ق.
  • مازندرانی، محمد صالح بن احمد، شرح الکافی، محقق،شعرانى، ابوالحسن‏، تہران، المکتبۃالإسلامیۃ، ۱۳۸۲ش.