عمار بن یاسر

ویکی شیعہ سے
(عمار یاسر سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عمار بن یاسر
حرم عماریاسر.jpg
آرامگاہ عمار یاسر
معلومات
مکمل نام عمار بن یاسر بن عامر
کنیت ابویقظان
وجہ شہرت صحابی اور اصحاب امام علی(ع)
محل زندگی مکہ، مدینہ
مہاجر/انصار مہاجرین
مشہوراقارب والد:یاسر،والدہ: سمیہ
شہادت/وفات ربیع الثانی ۳۷ق
کیفیت شہادت جنگ صفین
مدفن رقہ (شام)
اسلام لانا سابقین اسلام
اصحاب پیغمبر اکرم(ص)،امام علی(ع)
جنگ تمام غزوات، جنگ جمل، جنگ صفین
دیگر کارنامے آزار مشرکین ، سورہ نحل کی 106ویں آیت کا نزول، امیرالمؤمنین علی(ع) کے پہلے شیعہ ؛ مخالف خلفاء اور واقعہ سقیفہ بنی ساعد


عمار بن یاسر پیغمبر اسلام(ص) کے عظیم المرتبت صحابی تھے جن کا شمار سابقین (سب سے پہلے اسلام لانے والے افراد) اور امام علی(ع) کے شیعوں میں ہوتا ہے۔ پیغمبر اکرم(ص) کی رحلت کے بعد عمار یاسر نے حضرت علی(ع) کی بھر پور حمایت کرتے ہوئے ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا۔ عثمان کے دور خلافت میں آپ ان کے مخالقین میں سے تھے اور کئی بار ان پر اعتراض کیا۔ حضرت علی(ع) کی خلافت کے دوران آپ امام علی(ع) کے نزدیک ترین افراد میں سے تھے اور جنگ صفین میں امام علی(ع) کی رکاب میں لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ پیغمبر اکرم(ص) نے ایک حدیث میں انکی شہادت کے بارے میں فرمایا تھا: عمار کو ایک باغی گروہ شہید کرے گا۔

حسب و نسب

عمار بن یاسر بن عامر جن کی کنیت‌ ابویقظان اور قبیلہ بنی مخزوم کا ہم پیمان تھا۔[1] عمار یاسر کا حسب و نسب عنس بن مالک کے خاندان سے ملتا ہے جن کا تعلق قبیلہ قحطان سے تھا اور یمن میں مقیم تھے۔ یاسر بن عامر، عمار کا والد جوانی میں مکہ مکرمہ آیا اور وہیں پر مقیم ہو گئے اور قبیلہ بنی مخزوم کے ابو حذیفہ نامی شخص سے ہم پیمان ہو گئے۔[2]

پیغمبر(ص) کی حیات طیبہ

عمار اور ان کے ماں باپ کا شمار اسلام قبول کرنے والے پہلے افراد(سابقین) میں ہوتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق جس وقت عمار نے اسلام قبول کیا اس وقت تقریبا 30 لوگوں سے زیادہ افراد نے اسلام قبول نہیں کیا تھا جبکہ ایک اور روایت کے مطابق وہ اسلام قبول کرنے والے پہلے سات لوگوں میں سے تھے۔[3] عمار، ان کے بھائی عبداللہ، ان کے والد یاسر اور والدہ سمیہ، بلال، خَبّاب اور صُہیب مشرکین قریش کے ہاتھوں نہایت ہی ظلم و بربریت کا شکار ہونے کے بعد اسلام لے آئے۔ سمیہ اور یاسر انہی مظالم کی وجہ سے اس دنیا سے چل بسے اسی لئے انہیں اسلام کے پہلے شہداء کا لقب دیا جاتا ہے۔[4]

مشرکین نے عمار کو بھی پیغمبر(ص) کی شان میں ناروا الفاظ ادا کرنے پر مجبور کیا۔ جب یہ خبر پیغمبر اکرم(ص) تک پہنچی تو آپ نے عمار کے عذر کو قبول کیا اور اس سے فرمایا اگر دوبارہ مجبور ہوا تو دوبارہ اسی طرح کرنا۔ اسی واقعہ کے بعد یہ آیت نازل ہوئی: ترجمہ: جو کوئی اللہ پر ایمان لانے کے بعد کفر کرے سوائے اس صورت کے کہ اسے مجبور کیا جائے جبکہ اس کا دل ایمان پر مطمئن ہو (کہ اس پر کوئی پکڑ نہیں ہے) لیکن جو کشادہ دلی سے کفر اختیار کرے (زبان سے کفر کرے اور اس کا دل اس کفر پر رضامند ہو) تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔ [5][6]

بعض روایات کے مطابق عمار یاسر کا شمار مہاجرین حبشہ میں بھی ہوتا ہے۔[7]

اسی طرح جب پیغمبر گرامی اسلام نے مدینہ ہجرت کی تو اس وقت عمار یاسر بھی آپ(ص) کے ہمراہ تھے اور مسجد قبا کی تعمیر میں رسول اللہ کا ساتھ دیا۔ [8] آپ مدینے میں پیغمبر اکر(ص) کے نزدیک ترین افراد میں سے تھے اور صدر اسلام کے تمام جنگوں میں شرکت کی۔[9]

عمار کے فضایل : ایک روایت میں پیغمبر اسلام(ص) نے عمار کے فضائل میں یوں بیان فرمایا ہے: بہشت علی(ع)، عمار، سلمان اور بلال کا مشتاق ہے۔[10] اسی طرح ایک اور روایت میں پیغمبر اکرم(ص) سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: عمار حق کے ساتھ ہے اور حق عمار کے ساتھ، حق جہاں بھی ہو عمار حق کے گرد چکر لگاتا ہے۔ عمار کے قاتل جہنمی ہے۔[11]

خلفاء کا دور

عمار یاسر، سلمان، مقداد اور ابوذر کو پیغمبر اکرم(ص) کے دور میں ہی امام علی(ع) کے ساتھ دوستی اور محبت رکھنے کی وجہ سے علی(ع) کے شیعوں کے نام سے جانے جاتے تھے۔[12]

عمار یاسر نے خلافت پر حضرت علی(ع) کے حق کی حمایت کرتے ہوئے شروع سے ہی ابوبکر کی بیعت سے انکار کیا۔[13] آپ نے خلیفہ اول کے زمانے میں جنگ یمامہ میں شرکت کی تھی اور اسی جنگ میں آپ کے کان کٹ گئے تھے۔[14]

عمر کی خلافت کے دور میں کوفہ کا گورنر اور مسلمان سپاہیوں کے کمانڈر بھی تھے۔[15] آپ کی کمانڈ میں جنگ نہاوند لڑی گئی جس کے نتیجے میں ایران کے بعض مناطق فتح ہوئے۔[16] لیکن کچھ عرصہ بعد آپ اس منصب سے معزول ہو گئے۔ تاریخ میں ان کی معزولی کی کوئی وجہ مذکور نہیں ہے لیکن بعض روایات میں لوگوں کی عدم رضایت اور لوگوں کی طرف سے عمر کو عمار یاسر کے عزل کرنے کی درخواست وغیرہ کو ان کی معزولی کی وجہ کے طور پر بیان کی کیا گیا ہے۔ ان اعتراضات اور عدم رضایت کی وجہ کیا تھی؟ واضح طور پر بیان نہیں ہوا صرف ایک روایت میں عمار یاسر کی سیاست سے عدم آشنائی کو اس کی وجہ بتائی گئی ہے۔[17]

خلیفہ سوم کے دور میں آپ اور خلیفہ کے درمیان کئی دفعہ شدید لفاظی ہوئیں ان میں سے ایک مورد ابوذر کے شہر بدر کرنے کے خلاف اٹھائے جانے والا اعتراض ہے۔ اس حوالے سے آپ اور خلیفہ کے درمیان شدید لفاظی ہوئی جس میں عثمان کے حکم پر آپ پر تشدد بھی کیا گیا۔ عثمان، عمار یاسر کو بھی مدینہ سے شہر بدر کرنا چاہتا تھا لیکن بنی مخزوم اور امام علی(ع) کی مخالفت کی وجہ سے انہیں اپنے فیصلے سے منصرف ہونا پڑا۔ [18] بعض روایات میں اس واقعے کو عمار یاسر اور اہل کوفہ کی طرف سے ولید بن عقبہ جسے عثمان نے کوفہ کا والی بنایا تھا، کی شرابخواری اور بی بندوباری کے خلاف احتجاج کے موقع پر ذکر کیا گیا ہے۔[19] جبکہ بعض دوسری روایات میں اس واقعے کو عثمان کے بیت المال کی تقسیم کی نوعیت پر ہونے اعتراض کے حوالے سے ذکر کیا گیا ہے۔[20]

عثمان کے خلاف اٹھنے والی تحریک میں عمار یاسر بھی عثمان کے مخالفین کے ساتھ تھے۔ آپ مصر میں مخالفین کے ساتھ شامل ہو گئے اور مدینے میں عثمان کو محاصرہ کرنے کے واقعے میں آپ بھی شریک تھے۔[21]

خلافت امیرالمومنین(ع)

عمار یاسر حضرت علی(ع) کی خلافت کے حامیوں میں سے تھے۔ عمر کے بعد خلیفہ تعیین کرنے والی چھ رکنی کمیٹی کے رکن عبدالرحمان بن عوف کے ساتھ ہونے والی گفتگو میں آپ نے عبدالرحمان کو مشورہ دیا تھا کہ حضرت علی(ع) کو منتخب کریں تاکہ لوگ تفرقہ کا شکار نہ ہو۔ [22] عثمان کے قتل کے بعد عمار یاسر ان افراد میں سے تھے جو لوگوں کو حضرت علی(ع) کی بیعت کی طرف دعوت دیتے تھے۔ [23]

آپ نے حضرت علی(ع) کی حکومت کے دوران مختلف جنگوں میں جیسے جنگ جمل اور جنگ صفین میں شرکت کیا۔ جنگ جمل میں امام علی(ع) کے لشکر کے بائیں بازو کی کمانڈ آپ کے ہاتھ میں تھی۔[24] جنگ صفین میں بھی آپ امام علی(ع) کے لشکر کی کمانڈ کر رہے تھے۔[25]

شہادت

عمار یاسر ربیع الثانی سنہ 37 ہجری قمری کو جنگ صفین میں شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز ہوئے۔ عمار کی شہادت کے بعد امام علی(ع) نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی۔[26] شہادت کے وقت آپ کی عمر 90 سال سے اوپر بتائی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں بعض نے۹۳، بعض نے ۹۱ اور بعض نے ۹۲ سال ذکر کیا ہے۔[27]

جنگ صفین میں معاویہ کے ہاتھوں عمار کی شہادت، معاویہ کی سرزنش اور اس جنگ میں امام علی(ع) کی حقانیت کی ایک دلیل کے طور پر تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ پیغمبر اکرم(ص) نے ایک مشہور حدیث میں فرمایا تھا کہ عمار کو ایک باغی(یعنی امام عادل کی اطاعت سے خارج ہونے والا) گروہ قتل کرے گا۔ [28] ابن عبدالبر اس حدیث کو متواتر اور صحیح‌ترین احادیث میں سے قرار دیتے ہیں۔[29]

کہتے ہیں خزیمہ بن ثابت جنگ جمل اور صفین دونوں میں شامل تھا لیکن کسی پر تلوار نہیں چلائی لیکن جب جنگ صفین میں معاویہ کے ہاتھوں عمار کی شہادت واقع ہوئی تو کہا: اب گمراہ گروہ میرے لئے آشکار ہو گیا ہے، یہ کہہ کر امام علی(ع) کی رکاب میں لڑنے لگا یہاں تک کہ شہادت کے مقام پر فائز ہوا۔[30]

اویس قرنی اور عمار یاسر کی مزار پر راکٹ حملہ

عمار یاسر کا مقبرہ

آپ کا مقبرہ آپ کا محل شہادت یعنی شام کے شہر رقہ میں موجود ہے۔[31] "شام کے زیارتی اور سیاحتی اماکن" نامی کتاب کے مصنف اس مقبرہ کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "یہ مقبرہ باب علی(ع) کے دائیں جانب واقع ہے کئی سالوں سے اسلامی جہوری ایران کی زیر نگرانی بہت بڑی زیارت گاہ تعمیر ہو رہی ہے۔ عمار یاسر کے مقبرہ کے اوپر ایک بلند گنبد واقع ہے۔ آپ کی قبر ٹھیک اسی گنبد کے نیچے واقع ہے۔"[32]

اس زیارتی مکان کی تعریف "شام میں اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کی زیارت گاہیں" نامی مقالے میں میں یوں درج ہے: " اس شہر میں بڑی بڑی باعظمت زیارتگاہیں موجود ہیں جنہوں نے آخری چند سالوں میں شیعہ حضرات خصوصا زائرین کی توجہ اپنی جانب موڑ لی ہے۔ یہ زیارتگاہیں صفین کے چند شہداء منجملہ عمار یاسر، اویس قرنی اور ابی بن قیس کے مزارات ہیں۔

یہ زیارت گاہ 20 سال پہلے صرف دو چھوٹے کمروں پر مشتمل تھی جو عمار یاسر اور اویس قرنی کی قبر کے اوپر بنائی ہوئی تھی۔ لیکن ایران کی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد امام خمینی(رہ) کی سفارش پر شام کے سابق صدر حافظ اسد کی اجازت سے زیارتگاہ کی زمین خریدی گئی اور اس پر موجودہ زیارتگاہ کا ڈھانچہ بنایا گیا۔ پھر کئی سال اسی حالت پر چھوڑ دی گئی یہاں تک کہ ایران کے اس وقت کے رہائش اور شہری ترقی کے وزیر کے توسط سے عمارت کی تعمیر شروع ہوئی اور سنہ 2004 میں باقاعدہ طور پر اس کا افتتاح ہوا۔ زیارتگاہ ایک وسیع صحن پر مشتمل ہے جس کے چاروں طرف دو منزل پر محیط مذہبی اور دیگر امور کی انجام دہی کیلئے مختلف کمرے اور ہال بنائے گئے ہیں۔ عمارت کا بیرونی منظر سنگ مرمر اور کاشی کاری کے ذریعے نہایت خوبصورت انداز میں بنایا گیا ہے۔ عمار یاسر کی زیارتگاہ صحن کے مغرب میں جبکہ اویس قرنی کی زیارتگاہ صحن کے مشرق میں بنائی گئی ہیں۔ صحن کے مشرقی حصے کے باہر "ابی بن قیس" کی زیارتگاہ واقع ہے جو ایک چھوٹے گنبد پر مشتمل ہے۔[33]

تخریب حرم عمّار

21 رمضان سنہ 1434 ہجری قمری شب قدر کے ایام میں تکفیریوں کے ایک گروہ نے شام میں صوبہ رقہ پر قبضہ کیا اور عمار یاسر اور اویس قرنی کے حرم پر راکٹ سے حملہ کیا جو اس حرم کے صحن میں جا گرا اور اسے خراب کردیا اس کے علاوہ پی در پی اس حرم کی دیواروں پر حملہ کے ذریعے اس کے دیواروں کو بھی منہدم کردیا گیا ہے۔[34]

24 جمادی الاول سنہ ۱۴۳۵ ہجری قمری کو ایک بار پھر تکفیری گروہ داعش نے بمب بلاسٹ کے ذریعے عمار یاسر اور اویس قرنی کے حرم کے میناروں کو بم سے اڑا دیا ۔ داعش نے دوسرے مرحلے میں 15 رجب سنہ ۱۴۳۵ ہجری قمری کو اس زیارتگاہ کو بطور کامل خراب کر دیا ۔[35]

حوالہ جات

  1. ابن اثیر، أسد الغابۃ، ۲۰۰۱، ج۴، ص۴۳.
  2. ابن اثیر، اسد الغابہ، ۲۰۰۱، ج۳، ص۳۰۸
  3. ابن اثیر، اسد الغابہ، ۲۰۰۱، ج۴، ص۳۰۹
  4. الامین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۲۰، ج۱۳، ص۲۸.
  5. سورہ نحل، آیت ۱۰۶
  6. ابن اثیر، أسد الغابہ، ۲۰۰۱، ج۴، ص۳۰۹؛الامین، اعیان الشیعۃ، ۱۴۲۰، ج۱۳، ص۲۸
  7. ابن ہشام، السیرۃ النبویۃ، ۱۳۸۳، ج۱، ص۲۲۰.
  8. ابن الأثیر، أسد الغابۃ، ۲۰۰۱، ج۴، ص۴۶.
  9. ابن سعد، طبقات الکبری، ج۳، ص۱۰۹
  10. ابن عبدالبرّ، الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۵، ج۳، ص۲۲۹.
  11. الامینی، الغدیر، ۱۳۹۷، ج۹، ص۲۵
  12. النوبختی، فرق الشیعہ، ۱۴۰۴، ص۱۸؛ شہابی، ادوار فقہ، ۱۳۶۶، ج۲، ص۲۸۲.
  13. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ترجمہ آیتی، ج۱، ص۵۲۴.
  14. ابن عبدالبرّ، الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۵، ج۳، ص۲۲۸.
  15. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷، ج۴، ص۱۴۴
  16. ابن قتیبہ، اخبار الطوال، ۱۳۶۸، ص۱۲۸
  17. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۴، ص۲۷۴
  18. یعقوبی،‌ تاریخ یعقوبی، ترجمہ آیتی، ج۲، ص۱۷۳
  19. ابن قتیبہ دینوری، اخبار الطوال، ۱۳۶۸، ج۱، ص۵۱
  20. مقدسی، البدء و التاریخ،‌ ج۵، ص۲۰۲
  21. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۴، ج۵، ص۵۴۹
  22. مقدسی، البدء و التاریخ، ج۵، ص۱۹۱
  23. الطوسی، الأمالی، ۱۴۱۴، ص۷۲۸.
  24. المفید، الجمل، قم، ص۱۷۹.
  25. البلاذری، انساب الاشراف، ۱۳۹۴، ج۲، ص۳۰۳.
  26. ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ج ۳، ص۲۶۲.
  27. ابن عبدالبرّ، الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۵، ج ۳، ص۲۳۱.
  28. ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ج ۳، صص ۲۵۱-۲۵۳.
  29. ابن عبدالبرّ، الاستعیاب فی معرفۃ الاصحاب، ۱۴۱۵، ج ۳، ص۲۳۱.
  30. ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، ج ۳، ص۲۵۹.
  31. حرزالدین، مراقد المعارف، ج۲، ص۱۰۰
  32. قائدان، اماکن زیارتی سیاحتی سوریہ، ۱۳۸۱، ص۱۹۸
  33. خامi یار،‌ "شام میں اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کی زیارت گاہیں"، ص۴۰
  34. نے عمار یاسر اور اویس قرنی کے مزارات کو منہدم کردیا۔ خبرگزاری مشرق.
  35. شامر میں عمار یاسر کا مزار خراب کر دیا گیا خبرگزاری حج و زیارت.

مآخذ

  • ابن ہشام الحمیری، السیرۃ النبویۃ، ج۱، تحقیق: محمد محیی الدین عبدالحمید، مصر: مکتبۃ محمد علی صبیح وأولادہ، ۱۳۸۳-۱۹۶۳م.
  • الأمینی، الغدیر، ج۹، بیروت:دار الکتاب العربی، ۱۳۹۷-۱۹۷۷م.
  • ابن اثیر، علی بن احمد، أسد الغابۃ فی معرفہ الصحابہ، ج۴، بیروت، دارالمعرفہ، ۲۰۰۱م.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، ج۳، بیروت:‌ دار صادر، بی‌تا.
  • ابن قتیبہ دینوری، احمد بن داود، اخبار الطوال، تحقیق عبد المنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال،قم، منشورات الرضی، ۱۳۶۸ش.
  • ابن عبدالبر، الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب، تحقیق و تعلیق: علی محمد معوض، عادل احمد عبدالموجود، بیروت: دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ق./۱۹۹۵م.
  • الامین، السیدمحسن، اعیان الشیعۃ، ج۱۳، حققہ واخرجہ وعلق علیہ حسن الامین، بیروت: دارالتعارف للمطبوعات، ۱۴۲۰ق ـ۲۰۰۰م.
  • البلاذری، احمد بن یحی بن جابر، انساب الاشراف، تحقیق: محمدباقر محمودی، بیروت: مؤسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۴ق-۱۹۷۴م.
  • حرزالدین، محمد، مراقد المعارف،
  • خامہ‌یار، احمد، «زیارتگاہ‌ہای اہل بیت و اصحاب در سوریہ»، وقف میراث جاویدان، شمارہ ۷۶، سال ۱۳۹۰
  • شہابی، محمود، ادوار فقہ، تہران: سازمان چاپ و انتشارات وزارت فرہنگ و ارشاد اسلامی، ۱۳۶۶ش.
  • طبری،‌ محمد بن جریر، تاریخ طبری،‌تحقیق محمد أبو الفضل ابراہیم، بیروت،‌دار التراث، ط الثانیۃ، ۱۳۸۷/۱۹۶۷.
  • الطوسی، محمد بن حسن بن علی بن حسن، الأمالی، تحقیق: قسم الدراسات الإسلامیۃ - مؤسسۃ البعثۃ، قم:‌ دار الثقافۃ للطباعۃ والنشر والتوزیع، ۱۴۱۴ق.
  • قائدان، اصغر، اماکن زیارتی سیاحتی سوریہ، تہران: مشعر، ۱۳۸۰.
  • مفید، الجمل، قم: مکتبۃ الداوری، بی‌تا، (نسخہ موجود در لوح فشردہ مکتبۃ اہل البیت(ع)، نسخہ دوم، ۱۳۹۱ش).
  • مقدسی، محمد بن طاہر، البدء و التاریخ، بور سعید، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ،بی تا.
  • النوبختی، الحسن بن موسی، فرق الشیعۃ، بیروت: دارالاضواء، ۱۴۰۴ق/۱۹۸۴م.
  • یعقوبی، ابن واضح احمد بن ابی یعقوب، تاریخ یعقوبی، ترجمہ محمد ابراہیم آیتی، تہران: علمی و فرہنگی، ۱۳۷۸.