شعبان

ويکی شيعه سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
رجب شعبان رمضان
1 2 3 4 5 6 7
8 9 10 11 12 13 14
15 16 17 18 19 20 21
22 23 24 25 26 27 28
29 30
اسلامی تقویم

ہجری کیلنڈر کا آٹھواں مہینہ ہے۔

یہ مہینہ اسلامی تعلیمات کی رو سے بابرکت مہینوں میں شمار ہوتا ہے اور احادیث میں اسے پیغمبر اکرم(ص) سے منسوب کیا گیا ہے۔

شعبان "شعب" سے مشتق ہوا ہے اور چونکہ اس مہینے میں مومنین کی رزق و روزی اور حسنات میں اضافہ ہوتا ہے اسلئے اس مہینے کو "شعبان" کا نام دیا گیا ہے۔

فضیلت

شعبان کا مہینہ پیغمبر اکرم(ص) سے منسوب ہے۔ آنحضرت شعبان کے مہینے میں روزہ رکھتے تھے اور اسے ماہ رمضان کے ساتھ متصل کرتے تھے۔ ماہ شعبان کی فضیلت کے حوالے سے معصومین(ع) سے احادیث نقل ہوئی ہیں جن کے مطابق بہشت اور اس کے نعمات اور کرامات سے بہرہ مند ہونا اس مہینے کے روزے کا ثواب بتایا گیا ہے۔

" جب شعبان کا چاند نموردار ہوتا تھا تو امام زین العابدین علیہ السلام تمام اصحاب کو جمع کرکے فرماتے تھے : جانتے ہو کہ یہ کونسا مہینہ ہے؟ یہ شعبان کا مہینہ ہے اور حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ فرمایا کرتے تھے کہ شعبان میرا مہینہ ہے۔ پس اپنے نبی کی محبت اور خدا کی قربت کے لیے اس مہینے میں روزہ رکھو۔ اس خدا کی قسم کہ جس کے قبضہ قدرت میں علی بن الحسین کی جان ہے، میں نے اپنے پدر بزرگوار حسین بن علی علیہما السلام سے سنا، وہ فرماتے تھے: میں نے اپنے والد گرامی امیرالمومنین علیہ السلام سے سنا کہ جو شخص محبت رسول اور تقرب خدا کے لیے شعبان میں روزہ رکھے تو خدائے تعالیٰ اسے اپنا تقرب عطا کرے گا قیامت کے دن اس کو عزت وحرمت ملے گی اور جنت اس کے لیے واجب ہو جائے گی۔"
"امام صادق(ع) نے مجھ سے فرمایا جو اشخاص تمہارے آس پاس میں ہیں انہیں ماہ شعبان میں روزہ رکھنے کی ترغیب دیں۔ میں نے کہا میں آپ پر قربان ہو جاوں کیا اس کی فضیلت میں کوئی چیز ہے؟ آپ(ع) نے فرمایا: ہاں بتحقیق جب بھی شعبان کا چاند نظر آتا تو رسول اکرم(ص) منادی کو حکم دیتے تھے کہ مدینہ میں اعلان کریں: اے ہل مدینہ میں پیغمبر خدا کی جانب سے یہ پیغام دے رہا ہوں، آپ فرماتے ہیں کہ آگاہ ہو جاو شعبان میرا مہینہ ہے پس خدا اس شخص پر رحمت نازل فرمائے جو اس مہینے میں میری مدد کرے یعنی اس مہینے میں روزہ رکھے۔ "[1]

امام صادق(ع) نے امیرالمؤمنین حضرت علی(ع) سے نقل کرتے ہیں کہ آنحضرت فرماتے تھے:

"جب سے پیغمبر اکرم(ص) کا منادی نے ندا یا مجھ سے شعبان کا روزہ ترک نہیں ہوا اور جب تک میں زندہ ہوں ترک نہیں ہوگا ان شاء اللہ۔ اور فرماتے تھے ماہ شعبان اور ماہ رمضان کا روزہ خدا کی مغفرت کی طرف لوٹنے کا توبہ ہے۔ " [2]

اعمال ماه شعبان

کتاب مفاتیح الجنان میں ماہ شعبان کے اعمال میں درج ذیل اعمال مذکور ہیں:

اعمال ماه شعبان
اعمال مشترک

پہلی رات
پہلا دن
روز سوم
  • روزہ رکھنا
  • اس دعا کا پڑھنا
  • اس دعا کا پڑھنا
تیرہویں رات
پندرہویں رات

  • ان اذکار میں سے ہر ایک کو 100 مرتبہ پڑھنا:
  • نماز عشاء کے بعد دو رکعت نماز مخصوص کیفیت کے ساتھ اور چار رکعت نماز جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد 100 مرتبہ سورہ توحید اور نماز کے اختتام پر مخصوص دعا[1]
  • اس دعا کا پڑھنا:
  • اس دعا کا پڑھنا:
  • اس دعا کا پڑھنا:
  • نیز اس دعا کا پڑھنا:
آخری تین دن
  • روزہ رکھنا
  • اس مہینے کی آخری دنوں میں اس دعا کا پڑھنا:: خدايا اگر ماہ شعبان کے گذرے ہوئے ایام میں مجھے نہ بخشا گیا ہے تو باقی ماندہ دنوں میں میری مغفرت فرما۔
آخری رات
  • آخری رات کی دعا:

اکثر مسلمان اس مہینے کی آخری دن کو بعنوان یوم الشک روزہ رکھتے ہیں۔

ماہ شعبان کی اہم واقعات

تفصیلی مضمون:شعبان المعظم کے واقعات



حوالہ جات

  1. مفاتیح الجنان، ص۲۸۰
  2. مفاتیح الجنان، ص۲۸۰


مآخذ

  • شیخ عباس قمی، مفاتیح الجنان، ترجمہ: الہی قمشہ ای، خط: مصباح زاده، مرکز نشر فرہنگی رجا، ۱۳۶۹ش.
‘‘http://ur.wikishia.net/index.php?title=شعبان&oldid=80276’’ مستعادہ منجانب