عام الفیل

ويکی شيعه سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ہمزہ سورہ فیل قریش
ترتیب کتابت: 105
پارہ : 30
نزول
ترتیب نزول: 19
مکی/ مدنی : مکی
اعداد و شمار
آیات: 5
الفاظ: 23
حروف: 97

عام الفیل فیل یا وہی ہاتھی کا سال، یمن کے بادشاہ ابرحہ نے اپنے لشکر کے ساتھ مکہ کو خراب کرنے کے لئے حملہ کیا. چونکہ ابرحہ کے لشکر ہاتھیوں (فیل) پر سوار تھے اسی لئے اس سال کو عام الفیل کہا گیا ہے. قرآن کریم نے سورہ فیل میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے. تاریخ نگاران نے عام الفیل کو سنہ ٥٧٠ میلادی کہا ہے. اور مشہور قول کے مطابق حضرت پیغمبر(ص) کی ولادت بھی اسی سال ہوئی ہے.

لشکر تیار کرنے کی وجہ

جب یمن کی حکومت ابرحہ کے ہاتھ آئی تو اس نے دیکھا کہ لوگ دور اور نزدیک سے اس شہر میں ایک خاص عزت اور احترام کے ساتھ داخل ہوتے ہیں اور اس عزت کی وجہ کعبہ ہے، اسی لئے صنعاء شہر میں ایک کلیسا بنایا اور حبشہ کے بادشاہ کو خط لکھا جس میں یوں تحریر کیا: (میں ایک ایسا کلیسا بنوا رہا ہوں جس کی مانند ابھی تک کسی نے نہیں دیکھا. اور اس کلیسا کے تیار ہوتے ہی کعبہ کے زائرین کو اس کی طرف لے جاؤں گا.)

لوگوں نے اس کا زیادہ احترام نہ کیا حتی کے بنی فقیم کے ایک فرد نے ابرحہ کے اس کلیسے میں پیشاب کر کے اس کی بے حرمتی کی، ابرحہ جو کہ ایک مناسب فرصت کی تلاش میں تھا تا کہ کعبہ کو خراب کرے، اس بے حرمتی وجہ سے اس نے ایک لشکر تیار کیا اور ١٤ ہاتھی کے ہمراہ مکہ کی جانب حرکت کی تا کہ کعبہ کو خراب کرے اور لوگوں کی توجہ صرف یمن کی جانب ہو جائے. (١)

ابرحہ کا مقابلہ

یمن کے دو بزرگوار ذونفر اور نفیل بن حبیب خثعمی اس لشکر کے مقابلے کے لئے اٹھے لیکن ابرحہ کے ہاتھوں ان دونوں کو شکست ہوئی.

حضرت عبدالمطلب کو پیغام

جب ابرحہ کا لشکر مکہ کے قریب پہنچا تو، ابرحہ نے ایک پیک مکہ کی جانب روانہ کیا تا کہ مکہ کے بزرگ کے ساتھ گفتگو کرے اور انکو مکہ کی تخریب کے بارے میں بتائے. اس نے مکہ کے بزرگوار، عبدالمطلب کو پیغام بھیجا (میں مکہ میں لوگوں کو کوئی نقصان پہنچانے نہیں آیا بلکہ صرف کعبہ کی عمارت کو خراب کرنے آیا ہوں)

عبدالمطلب نے ابرحہ کے پیک کو واپس بھیجا اور کہا جا کر ابرحہ کو کہہ دو کہ ہماری کسی قسم کی جنگ ابرحہ کے ساتھ نہیں کیونکہ ہماری جنگ کے لئے کوئی تیاری نہیں ہے اور اگر خانہ کعبہ کو خراب کرنے کی نیت سے آیا ہے تو اسے کہہ دو کہ یہ گھر خدا اور اس کے خلیل ابراہیم(ع) کا گھر ہے اگر وہ اپنے اور اپنے خلیل کے گھر کی خود حفاظت کرنا چاہے گا تو کرے گا اگر نہیں چاہے گا تو نہیں کرے گا ہم اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے.

عبدالمطلب کی ابرحہ سے ملاقات

ابرحہ کے لشکر نے قریش کے کچھ اونٹ چوری کئے تھے. عبدالمطلب ابرحہ کے پاس گئے اور درخواست کی کہ ہمارے ٢٠٠ اونٹ جن کو تمہارے لشکر نے چوری کئے گئے ہیں ان کو واپس لوٹایا جائے. جس کے نتیجے میں ابرحہ کی عزت اور بھی خراب ہوئی اور ابرحہ نے عبدالمطلب سے کہا میں نے سوچا تھا کہ تم مکے کی تعظیم اور حرمت کی خاطر مجھ سے بات کرنے آئے ہو لیکن تم نے تو اونٹ واپش لوٹانے کے علاوہ کوئی درخواست مجھ سے نہیں کی. عبدالمطلب نے جواب میں کہا: انا ربّ الابل و للبیت ربّ یمنعه ترجمہ: میں اونٹوں کا مالک ہوں، کعبہ کا مالک بھی ہے جو خود اپنے گھر کی حفاظت کرے گا.

ابرحہ نے غرور سے کہا: (کوئی مجھے اپنے مقصد سے نہیں روک سکتا) اور حکم دیا کہ اس کے اونٹ کو واپس لوٹا دیں.

قریش کا مکے سے خارج ہونا

جب عبدالمطلب نے اپنے اونٹ واپس لوٹا لئے تو اہل مکہ کی جانب آکر حکم دیا کہ اپنے مال کے ہمراہ پہاڑوں کے اوپر چلے جائیں. جب شہر مکہ خالی ہو گیا، تو حضرت عبدالمطلب کعبہ کے نزدیک جاکر کعبہ کے غلاف کو ہاتھ میں لیا اور دعا اور گریہ وزاری میں مشغول ہو گئے اور کہا:

خدایا! تمہارے بندے نے اپنے گھر کو آباد اور تمہارے گھر کو ویران اور خراب کرنے کا ارادہ کر لیا ہے تو خود اپنے گھر کی حفاظت فرما اور اپنے گھر کی شوکت کو اس کے گھر کی شوکت سے کم نہ ہوںے دے. لیکن اگر دشمن تیرے گھر اور ہمارے قبلے کو خراب کر دے تو خود ہمیں بتا کہ اس کے بعد ہم کس جگہ پر تیری عبادت کریں. (٢)

ابرحہ کے لشکر پر ابابیل کا حملہ

جیسے ہی ابرحہ کے لشکر نے کعبہ کی جانب حرکت کی خداوند نے آسمان سے ابابیل نام کے پرندوں کو حکم دیا تا کہ وہ اپنی چونچ میں پتھر لے کر ابرحہ کے لشکر پر حملہ کریں اور انکو ہلاک کر دیں. اچانک آسمان پر اندھیرا چھا گیا اور پرندوں کا ایک بہت بڑا لشکر ظاہر ہو گیا. ہر ایک کی چونچ میں ایک چھوٹا پتھر تھا اور وہ پتھر کو پھیںک رہے تھے جس کو بھی یہ پتھر لگتا تھا وہی پر ہلاک ہوجاتا تھا بہت کم تعداد میں لوگ زندہ بچے جو یمن کی طرف زخمی اور خون آلود حالت میں لوٹ گئے. (٣)

قرآن نے اس واقعہ کو سورہ فیل کے نام سے یاد کیا ہے. عام الفیل کے واقعہ کے بعد قریش کو اعراب میں خاص منزلت اور مقام و عزت حاصل ہوئی.