عثمان بن علی

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


عثمان بن علی کربلا کے شہدا میں سے حضرت علی علیہ السلام کے فرزند ہیں ۔ ان کی والدہ کا نام فاطمہ بنت حزام جن کی کنیت ام البنین ہے ۔ اس لحاظ سے آپ حضرت عباس ؑ کے بھائی قرار پائے ۔بعض روایات کی بنا پر شہادت کے وقت آپ کا سن 21سال تھا ۔ اپ کا کوئی بیٹا نہیں مذکور نہیں ہے ۔آپ کا مدفن "گنج شہدا" ہے ۔

زندگی نامہ

نقل کے مطابق شہادت کے وقت آپکا سن 21 سال تھا.[1] ۔ اس اعتبار سے آپ 39ق میں حضرت علی ؑ کی خلافت کے دوران کوفہ میں پیدا ہوئے ہونگے ۔ کربلا کے واقعے کے علاوہ آپ کی زندگی کے بارے میں کوئی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ بعض احادیث کے سلسلۂ سند میں آپ کا نام مذکور ہے۔ آپ نے ازدواج کی تھی اور آپ کا کوئی فرزند نہیں تھا۔[2]

عاشورا

اصحاب کی شہادت کے بعد بنو ہاشم نے میدان شہادت میں جانا شروع کیا ۔حضرت علی کی اولاد میں سے سب سے پہلے ابو بکر بن علی میدا جہاد میں گئے ۔ایک نقل کے مطابق اس کے بعد عبد اللہ اور عثمان میدان میں گئے اور شہید ہوئے ۔ان کے بعدعثمان بن علی میدان میں گئے[3] اور شہادت سے ہمکنار ہوئے ۔

شہادت

خولی بن یزید نے آپ کی پیشانی پر تیر مارا جس کی وجہ سے آپ گھوڑے سے نیچے گر پڑے بنی دارم کے ایک شخص نے آگے بڑھ کر آپ کا سر تن سے جدا کیا ۔[4]

زیارت ناحیہ

زیارت ناحیہ میں ان الفاظ کے ساتھ آپ کا نام مذکور ہے: السَّلَامُ عَلَیک یا عُثْمَانَ بْنَ عَلِی بْنِ أَبِی طَالِبٍ وَ رَحْمَةُ اللَّهِ وَ بَرَکاتُه فَمَا أَجَلَّ قَدْرَک وَ أَطْیبَ ذِکرَک وَ أَبْینَ أَثَرَک وَ أَشْهَرَ خَیرَک وَ أَعْلَی مَدْحَک وَ أَعْظَمَ مَجْدَک ِ[5]

حوالہ جات

  1. مجلسی،بحار الانوارج45 ص 37
  2. مفید ،الارشاد،ج2 ص 109؛مجلسی بحار الانوار ج45 ص 37
  3. صدوق،الامالی ص 152
  4. مجلسی، بحار الانوار، ج ۴۵، ص۳۷؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج ۳، ص۲۰.
  5. مجلسی بحار الانوار 98 ص245ِ


مآخذ

  • مفید، الارشاد فی معرفہ حجج الله علی العباد، کنگره شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ق.
  • صدوق، الامالی، کتابچی، تہران، ۱۳۷۶ش.
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار الجامعۃ لدرر الاخبار الائمہ الاطہار، دار احیاء التراث العربیف بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی بن جابر، انساب الاشراف، دارالفکر، بیروت، ۱۴۱۷ق.