ابو لہب

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

ابولہب، عبدالعُزّی بن عبدالمُطَّلب (وفات ۲ ق) کی کنیت ہے۔ پیغمبر اسلام(ص) کا چچا اور اسلام کا سخت دشمن تھا۔ ابولہب اور اس کی زوجہ،ام جمیل، نے پیغمبر اسلام(ص) کو بہت اذیت دی اور اسلام کی مخالفت میں بہت کوشش کی۔ سورہ مسد ابولہب اور اس کی زوجہ کی مذمت میں نازل ہوئی ہے۔

ابولہب کی کنیز ثوبیہ نے پیغمبر اسلام(ص) کو کچھ عرصہ دودھ پلایا۔ ابولہب کے دو بیٹے عتبہ اور عتیبہ نے پیغمبر اسلام(ص) کی دو بیٹیوں ام کلثوم اور رقیہ سے شادی کی تھی لیکن ظہور اسلام اور سورہ مسد کے نزول کے بعد، ابولہب اور اس کی زوجہ نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ پیغمبر اسلام(ص) کی بیٹیوں کو طلاق دے دیں۔ وہ حضور اکرم(ص) کے معجزات کو جادو سمجھتا تھا، ہمیشہ حضور(ص) کی مخالفت کرتا اور اسلام کی تبلیغ میں رکاوٹ ڈالتا تھا۔ جب قریش نے مسلمانوں اور بنی ہاشم پر پابندیاں عائد کرنے کا ارادہ کیا، تو ابولہب بنی ہاشم کا وہ واحد فرد تھا جس نے قریش کا ساتھ دیا۔ وہ قریش کے ان افراد میں شامل تھا جنہوں نے پیغمبر اسلام(ص) کو رات کے وقت قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ ابولہب خود جنگ بدر میں حاضر نہیں ہوا، لیکن اپنی جگہ ایک اور شخص کو بھیجا. وہ جنگ بدر کے سات دن بعد بیماری کی وجہ سے وفات پا گیا۔

زندگی نامہ

ابولہب کا اصلی نام عبدالعزی تھا اور ابولہب، اس کا لقب اور کنیت ہے۔ اس کی اصلی کنیت ابوعتبہ تھی لیکن اس کے والد عبدالمطلب، اسے چہرے کے خوبصورت اور سرخ ہونے کی وجہ سے، ابولہب بلاتے تھے[1] بعض منابع میں اس کے خوبصورت چہرے کے ساتھ اس کی آنکھ کی خرابی کا بھی ذکر ہوا ہے۔ [2] ابولہب کی والدہ لبنیٰ جو حاجر بن عبدمناف کی بیٹی اور خزاعہ قبیلہ سے تعلق رکھتی تھی، ابولہب اس کا اکلوتا فرزند تھا۔ [3]

ظہور اسلام سے پہلے ابولہب کی زندگی کے بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ملتیں، لیکن سورہ مسد کی دوسری آیت: "مَا أَغْنَىٰ عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ" [4]:(اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا اس کے کام نہ آیا) سے معلوم ہوتا ہے کہ ابولہب بھی اکثر قریش کی طرح کاروبار کرتا تھا اور زیادہ مال و دولت اکٹھی کی ہوئی تھی، جناب عبدالمطلب نے ایک سونے سے بنی ہرن کو کعبہ میں ہدیہ کے طور پر دیا تھا اسے ابولہب اور اس کے ساتھ کچھ دوسرے افراد نے چوری کر لیا۔ چوروں کو گرفتار کرنے کے بعد ان کے ہاتھوں کو کاٹا گیا، لیکن ابولہب کے ماموں نے خزاعہ قبیلہ والوں کو اس کے ہاتھ کاٹنے سے روک لیا۔ [5]

محمد(ص) کی ولادت کے بعد اس سے پہلے کہ حلیمہ آپ(ص) کو دودھ پلائے کچھ عرصہ ابولہب کی کنیز ثوبیہ نے آپ(ص) کو دودھ پلایا۔ اس کے بعد پیغمبر(ص) نے چاہا کہ ثوبیہ کو ابولہب سے خرید کر آزاد کر دیں لیکن اس نے یہ بات نہ مانی، پیغمبر اکرم(ص) نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کی تو اس وقت ابولہب نے ثوبیہ کو آزاد کر دیا۔ [6]

جب محمد(ص) آٹھ سال کے ہوئے تو حضرت عبدالمطلب نے بستر بیماری پر اپنے فرزندوں کو اکٹھا کیا اور محمد(ص) کی سرپرستی سھنبالنے کی وصیت کی۔ ابولہب نے سرپرستی قبول کرنے کے لئے کہا تو عبدالمطلب نے جواب دیا: "تم اسے اپنے شر سے دور رکھنا" اور پیغمبر(ص) کی سرپرستی ابوطالب کے حوالے کر دی۔ [7]

جب پیغمبر(ص) نے اسلام کی تبلیغ شروع کی تو ابولہب جو کہ آپ(ص) کا چچا تھا، وہ ہرگز ایمان نہ لایا اور ہمیشہ اسلام کا دشمن رہا۔ اس نے اسلام کے مقابلے میں بت "عزی" کی حمایت شروع کر دی۔ نقل ہوا ہے کہ وہ کہتا تھا: "اگر عزی جیت گیا تو میں اس کا غلام ہوں، اور اگر محمد جیت گیا -کہ ایسا نہیں ہو سکتا- تو وہ میرے بھائی کا بیٹا ہے۔"[8]

وہ آخر جنگ بدر کے سات دن بعد "عدسہ" نام کی بیماری کی وجہ سے وفات پا گیا۔ [9]یہ بیماری دوسروں میں منتقل نہ ہو اس لئے وہ کسی ایسی جگہ پر رہا کہ جہاں اس کے بدن سے بو آنا شروع ہو گئی۔ اس کے بعد، اس کے جنازے کو مکہ کے باہر ایک دیوار کے ساتھ رکھ کر دور سے اوپر پتھر پھینکے گئے اس طریقے سے اس کے جنازے کو اوپر سے ڈھانپ دیا گیا۔ [10] ابن بطوطہ نے لکھا ہے کہ ابولہب اور اس کی زوجہ کی قبر مکہ سے باہر تھی اور ہر آنے جانے والا اس پر پتھر مارتا تھا۔ [11]

پیغمبر(ص) کو اذیت اور اسلام کی تبلیغ میں رکاوٹ

پیغمبر اسلام(ص) کی بعثت کے بعد، ابولہب آپ حضرت(ص) کے سخت دشمنوں میں سے تھا اور تاریخ اسلام میں اس کا نام اسی وجہ سے ہے۔ جب پیغمبر(ص) نے اسلام کی علنی دعوت کا آغاز کیا تو اس وقت سے ہی اس نے اسلام کی مخالفت شروع کر دی، جب آیت "انذار" کا نزول ہوا اور پیغمبر(ص) کو حکم ملا کہ عمومی دعوت کا آغاز اپنے قریبی رشتے داروں سے کیا جائے تو آپ(ص) نے عبدالمطلب کے فرزندوں کو اپنے گھر پر دعوت دی، اگرچہ کھانا کم تھا لیکن پیغمبر(ص) کی کرامت کی وجہ سے سب نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ ابولہب نے اسے پیغمبر(ص) کا جادو سمجھا لیکن پیغمبر(ص) نے اس کے نتیجے میں خاموشی اختیار کی اور اسلام کی دعوت کو دوسرے دن پر منتقل کر دیا۔[12]

بعض اوقات جب پیغمبر(ص) کسی گروہ کو اسلام کی دعوت دیتے تو ابولہب اور عباس بن عبدالمطلب آگے آ جاتے اور کہتے: "ہمارا یہ بھتیجا جھوٹا ہے آپ لوگوں کو آپ کے دین سے گمراہ نہ کر دے" [13] حج کے موقع پر بھی جب مختلف قافلے کعبہ کی زیارت کے لئے آتے تو پیغمبر(ص) انکو اسلام کی دعوت دینے کے لئے جاتے تو، قریش وہاں پر پہنچ جاتے اور پیغمبر(ص) کے بارے میں برا بھلا کہتے، ان میں ابولہب سب سے آگے ہوتا تھا۔ [14]

وہ حضور(ص) کو جسمی اذیت بھی دیتا تھا۔ بعض اوقات پیغمبر(ص) کے پیچھے چل پڑتا اور آپ(ص) پر پتھر پھینکتا، یہاں تک کہ آپ(ص) کے پاؤں خون آلود ہو جاتے اور آپ(ص) کو جھوٹا کہہ کر پکارتا تھا۔[15] ایک بار جب حضور(ص) سجدے میں تھے اور ابولہب نے پتھر اٹھایا تا کہ آپ(ص) کے سر مبارک پر مارے لیکن اس کا ہاتھ اسی حالت میں خشک ہو گیا، پھر جب التماس کرنے کے بعد پیغمبر(ص) نے اس کے ہاتھ کو ٹھیک کیا تو آپ(ص) کو جادوگر کہنے لگا۔ [16] پیغمبر(ص) نے فرمایا میرا گھر بدترین ہمسایوں کے درمیان ہے، عقبہ بن ابی معیط اور ابولہب، آپ(ص) کے گھر کے دروازے پر کوڑا پھینکتے تھے۔ [17]

جب قریش نے مسلمانوں اور بنی ہاشم کا شعب ابی طالب میں معاشی محاصرہ کیا، ابولہب اگرچہ بنی ہاشم سے تھا لیکن قریش کے ساتھ ملا ہوا تھا۔[18] اور ان افراد سے تھا جنہوں نے پابندی والے عہدنامہ پر مہر لگائی تھی۔ [19]

حضور(ص) کی حمایت

ابولہب کی اسلام کے ساتھ دشمنی کے باوجود، بعض مآخذ میں ذکر ہوا ہے کہ اس نے ابوطالب اور پیغمبر اسلام(ص) کی حمایت کی ہے۔ ابوطالب نے جب ایک مسلمان کی حمایت کی تو قریش نے اس پر اعتراض کیا، ابولہب نے ابو طالب کی حمایت کی اور دھمکی دی کہ وہ اس کا ساتھ دے گا۔ ابوطالب اس کے اس عمل اور گفتگو سے خوش ہو گئے اور کوشش کی کہ اس کو اسلام کی دعوت دیں لیکن ان کی کوشش کا کوئی نتیجہ نہ نکلا۔[20] ایک بار مشرکین نے پیغمبر اکرم(ص) کو قتل کرنے کی سازش کی لیکن ابولہب کی مخالفت کے ڈر سے اسے اطلاع نہ دی۔ جس رات اس سازش کو عملی کرنا تھا، ابوطالب نے علی(ع) کو ابولہب کے پاس بھیجا اور اسے اس سازش سے آگاہ کیا۔ ابولہب بہت غصے کی حالت میں مشرکین کے پاس گیا اور انکو اس قتل کی سازش سے روکا اور لات و عزی کی قسم دی کہ وہ مسلمان ہو جائے گا، جس کے نتیجے میں مشرکین نے اس سے معذرت خواہی کی اور اس کام سے رک گئے۔ [21]

اہل سنت کے منابع کے مطابق، ابوطالب اور خدیجہ کی وفات کے بعد، قریش نے حضور(ص) پر حد سے زیادہ ظلم کرنا شروع کر دیا جب یہ خبر ابولہب کو ملی تو اس نے اعلان کیا کہ عبدالمطلب کے دین سے دست بردار نہیں ہوا لیکن اپنے بھتیجے کی حمایت کریں گے لیکن جب اس نے سنا کہ پیغمبر(ص) کی نظر میں عبدالمطلب اور اس کے حامی جہنم میں جائیں گے تو اس نے پیغمبر اکرم(ص) پر زیادہ سختی شروع کر دی۔ [22] لیکن شیعہ عقیدے کے مطابق، حضور(ص) کے اجداد مشرک نہیں ہیں، اس وجہ سے شیعہ علماء نے اس روایت کو قبول نہیں کیا ہے۔ [23]


حضور اکرم(ص) کے قتل کی سازش

ابوطالب کی وفات کے بعد، مشرکین نے ایک جگہ پر اکٹھے ہو کر پروگرام بنایا کہ رات کے وقت پیغمبر اکرم(ص) کو قتل کیا جائے، ابولہب بھی ان افراد میں شریک تھا۔[24] جب پیغمبر اکرم(ص) کے قتل میں شریک ہونے کے لئے قریشی قبیلوں سے کچھ افراد کا انتخاب کرنے لگے تو بنی ہاشم قبیلے سے ابولہب نے شریک ہونے کا اظہار کیا۔ [25] جب انہوں نے ارادہ کیا کہ پیغمبر(ص) کے گھر پر حملہ کیا جائے تو ابولہب نے انہیں رات کے وقت حملہ کرنے سے روکا اور کہا: "اگر اندھیرے میں خواتین اور بچوں کو نقصان پہنچا تو عرب قبیلے پر یہ داغ ہمیشہ کے لئے باقی رہ جائے گا" جس کے نتیجے میں صبح حملہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ [26]

جنگ بدر

ابولہب نے جنگ بدر میں شرکت نہیں کی۔ بعض منابع میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بیماری ذکر ہوئی ہے۔ [27] بعض دوسرے ماخذ میں اس کی وجہ عاتکہ بنت عبدالمطلب کا خواب تھا جس میں اس نے مکہ والوں کی شکست کی پیشگوئی کی تھی۔[28] ابولہب نے اپنی جگہ پر عاص بن ہشام بن مغیرہ کو بھیجا اسے ابولہب کا کچھ قرض دینا تھا اس وجہ سے ابولہب نے اس کے قرض کو معاف کر دیا۔ [29]

قرآن میں

مفسرین معتقد ہیں کہ قرآن کی بعض آیات ابولہب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں، ان میں سب سے مشہور سورہ مسد ہے۔ جب حضوراکرم(ص) نے اپنی دعوت کو علنی کیا اور قریش کے قبیلوں کو بلایا اور انہیں عذاب الہیٰ سے ڈرایا اور توحید کی دعوت دی، ابولہب نے پیغمبر(ص) کو "تبًّا لک" اس جملے کے ساتھ برا بھلا کہا۔ پھر سورہ مسد نازل ہوا: "تَبَّت يَدا أَبي لَهَبٍ وَتَبَّ..." (ابولہب کے دونوں ہاتھ ٹوٹ گئے اور وہ ہلاک ہو گیا)[30] اس سورہ کے شان نزول کے بارے میں اور نظریے بھی ذکر ہوئے ہیں۔ [31] اس سورہ کے نزول کے بعد ابولہب دس سال سے زیادہ زندہ رہا لیکن ایمان نہ لایا اور شرک کی حالت میں دنیا سے چلا گیا۔ یہ قرآن کی ایک پیشگوئی اور معجزہ ہے۔ [32]

سورہ مسد میں ابولہب کو کنیت سے یاد کیا گیا، حالانکہ کنیت میں ایک طرح کا احترام چھپا ہوا ہے۔ اس کی مختلف وجوہات ذکر ہوئی ہیں جو درج ذیل ہیں:

  • عام طور پر اس کی شناخت کنیت سے ہوتی تھی جس کہ نتیجے میں اس کی کنیت کی وجہ نہیں بنتی۔
  • ابولہب اس کا نام تھا نہ کہ کنیت۔

جیسے کہ ابولہب کا نام عبدالعزی (بت عزی کا بندہ) تھا خدا نے نہیں چاہا کہ اسے "عزی" کا بندہ کہے، حتی کہ اگر اس کا نام ہو۔ [33] اس کے بعد آیت میں آیا ہے۔ "سَيَصْلَىٰ نَارًا ذَاتَ لَهَبٍ" (وہ جلد ہی بھڑکتی ہوئی آگ میں پڑے گا) اس لئے "لھب" جو کہ اس کی کنیت میں آیا ہے وہ "لھب" (آگ کے شعلوں) سے مناسبت رکھتا ہے اور اس مناسبت کی وجہ سے حقارت کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ [34]

دوسری آیات کی تفسیر میں بھی ابولہب کا نام نظر آتا ہے۔ وہ من جملہ ایسے افراد سے تھا جو پیغمبر(ص) کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے سورہ حجر کی آیت ٩٥ میں پیغمبر(ص) کو وعدہ دیا کہ ان کے شر کو دور کرے گا۔ [35] کہا گیا ہے کہ سورہ زمر کی آیت ١٩ (جن کے بارے میں عذاب کا حکم پکا ہو چکا ہے) ابولہب اور اس کے بیٹے اور پیغمبر(ص) کے قریبی رشتہ دار جنہوں نے اسلام قبول نہیں کیا ان کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ [36] سورہ زمر کی آیت ٢٢ کی تفسیر میں کہا گیا ہے کہ (جس کا سینہ اللہ نے دین اسلام کے لئے کھول دیا ہے) اس سے مراد علی(ع) اور حمزہ ہیں اور ان کے مقابلے میں "جن کے دل خدا کے ذکر کے سامنے سخت ہو چکے ہیں" ان سے مراد ابولہب اور اس کے فرزند ہیں۔ [37] نقل ہوا ہے کہ مشرکین جو حضور(ص) کو قتل کرنے کی سازش کر رہے تھے تو ابولہب نے ان کے درمیان بیٹھ کر کہا: "میں محمد(ص) کو شاعر ہونے سے متہم کرتا ہوں" جس پر سورہ حاقہ کی آیت ٤١ نازل ہوئی اور قرآن نے کہا کہ شاعر نہیں ہیں۔ [38]

اسلام کے ساتھ دشمنی کی وجہ

ابولہب کی حضور(ص) کے ساتھ دشمنی کے بارے میں درج ذیل دلائل ذکر ہوئے ہیں:

  • ابو طالب کے ساتھ مقابلہ: حضرت عبد المطلب کے بعد بنی ہاشم کا اختیار ابوطالب کے پاس تھا اور وہ پیغمبر اسلام(ص) کی حمایت کرتے تھے۔

تاریخی قول سے معلوم ہوتا ہے کہ ابو لہب اور ابو طالب کے درمیان اچھے رابطے نہیں تھے۔ [39]

  • خاندانی تعصب اور رجحانات: ابولہب کی زوجہ، ام جمیل بنت حرب، ابو سفیان کی بہن جس کا تعلق بنی امیہ سے تھا، جس کے نتیجے میں ابولہب بنی امیہ کی حمایت کرتا تھا۔ [40] اور دوسری طرف اس کی والدہ کا تعلق خزاعہ قبیلہ سے تھا جو قریش سے کینہ رکھتے تھے۔[41]
  • عرب قبائل سے جنگ کا خوف: ابولہب اسلام قبول کرنے کا معنی پورے عرب قبائل کے ساتھ جنگ کا اعلان کرنا سمجھتا تھا۔ [42]

زوجہ اور اولاد

ام جمیل، ابولہب کی زوجہ، حرب بن امیہ کی بیٹی اور ابوسفیان کی بہن ہے۔ اس نے پیغمبر اکرم(ص) کو تکلیف پہنچانے میں بہت کوشش کی۔ سورہ مسد میں اس کو جہنم کی آگ کے لئے ایندھن فراہم کرنے والی عورت کہا گیا ہے۔

ابولہب کے بیٹے، جن کے نام عتبہ، معتب، عتیبہ [43] اور لہب [44] ہیں اور بیٹیاں جن کے نام درہ [45] عزہ، اور خالدہ [46] تھا.

عتبہ اور عتیبہ نے پیغمبر اکرم(ص) کی بیٹیوں رقیہ اور ام کلثوم سے شادی کی ہوئی تھی۔[47] سورہ مسد کے نزول کے بعد، ابولہب اور ام جمیل [48] نے اپنے بیٹوں سے کہا کہ پیغمبر(ص) کی بیٹیوں کو طلاق دے دیں۔ [49]

عتبہ کے بارے میں بیان ہوا ہے کہ اس نے پیغمبر(ص) کے ساتھ بدتمیزی کی اور پیغمبر(ص) نے اسے بد دعا دی۔ تجارتی سفر کے دوران رات کے وقت جب قافلے کے درمیان سویا ہوا تھا تو شیر نے اسے مار ڈالا حالانکہ قافلے میں کسی اور کو کوئی نقصان نہ پہنچایا۔ [50] کہتے ہیں یہ ماجرا عتیبہ یا لہب کے بارے میں تھا۔ [51] عتبہ اور معتب، فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گئے اور دو جنگوں حنین [52] اور طائف [53] میں شرکت کی۔ یہ دونوں جنگ حنین میں ان افراد سے تھے جو پیغمبر اکرم(ص) سے دور نہیں ہوئے۔ [54]

جب درہ بنت ابی لہب مسلمان ہوئی تو اس نے مدینہ ہجرت کی، مدینہ کی عورتیں اس کے والد کی وجہ سے اس کا مذاق اڑاتی تھیں۔ پھر اس نے پیغمبر(ص) سے ان کی شکایت کی اور آپ(ص) نے انہیں اس کام سے روکا۔ [55] اس نے پیغمبر اکرم(ص) سے حدیث بھی روایت کی ہے۔ [56]

متعلقہ مضامین

حوالہ جات

  1. ابن سعد، الطبقات الکبری، دار صادر، ج۱، ص۹۳.
  2. ابن حبیب، المنمق، ۱۴۰۵ق، ص۴۲۳.
  3. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، دار المعرفۃ، ج۱، ص۱۱۰.
  4. مسد:۲
  5. ابن حبیب، المنمق فی اخبار قریش، ۱۴۰۵ق، ص۵۹-۷۱؛ ابن درید، الاشتقاق، ۱۳۷۸ق، ص۱۲۱؛ ابن قتیبہ، المعارف، ۱۹۶۰م، ص۱۲۵.
  6. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۱، ص۱۰۸؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۹۶، یعقوبی، تاریخ، ۱۳۷۹ق، ج۲، ص۹.
  7. ابن شہراشوب، مناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۹ق، ج۱، ص۳۵.
  8. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۳، ص۸۷۴؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۴۷۸.
  9. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۴، ص۷۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۱۳۱.
  10. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۴۷۸.
  11. ابن بطوطہ، رحلہ، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۳۸۲.
  12. خصیبی، الهدایہ الکبری، ۱۴۱۹ق، ص۴۶.
  13. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۸، ص۲۰۳.
  14. ابن خلدون، تاریخ، دار احياء التراث العربی، ج۳، ص۱۱.
  15. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۸، ص۲۰۲.
  16. ابن شہراشوب، مناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۹ق، ج۱، ص۷۸.
  17. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۱۳۱.
  18. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۱، ص۲۰۹.
  19. طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ص۵۰.
  20. ابن ہشام، السیرة النبویۃ، دار المعرفۃ، ج۱، ص۳۷۱.
  21. کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۸، ص۲۷۷.
  22. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۱، ص۲۱۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۱۲۱.
  23. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۹، ص۲۲.
  24. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۱، ص۲۲۸.
  25. طبرسی، اعلام الوری، ۱۴۱۷ق، ج۱، ص۱۴۵.
  26. قطب الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص۱۴۳.
  27. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۲۹۲.
  28. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۸، ص۴۳.
  29. واقدی، المغازی، ۱۹۶۶م، ج۱، ص۳۳.
  30. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۱، ص۷۴؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۱۱۹؛ طبرسی، مجمع البیان، دارالمعرفۃ، ج۷، ص۳۲۳.
  31. فخر رازی، التفسیر الكبير، ۱۴۲۰ق، ج۳۲، ص۳۴۹-۳۵۰.
  32. کراجکی، کنز الفوائد، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۷۸؛ قطب الدین راوندی، الخرائج و الجرائج، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۱۰۵۳.
  33. طبرسی، مجمع البیان، دارالمعرفۃ، ج۱۰، ص۸۵۲.
  34. فخر رازی، التفسیر الكبير، ۱۴۲۰ق، ج۳۲، ص۳۵۰.
  35. ابن بابویہ، الخصال، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۲۷۹.
  36. شوکانی، فتح القدیر، ۱۴۱۴ق، ج۴، ص۵۲۴.
  37. واحدی، اسباب نزول القرآن، ۱۴۱۹ق، ص۳۸۳.
  38. ابن شہراشوب، مناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۹ق، ج۱، ص۸۰.
  39. ر.ک: بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۱۳۰.
  40. شوشتری، احقاق الحق، ج۲۹، ص۶۱۳
  41. حسنی، سيره المصطفى، ۱۴۱۶ق، ص۲۲۳.
  42. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۸، ص ۴۳.
  43. ابن حزم، جمہره انساب العرب، ۱۴۰۳ق، ص۷۲.
  44. بیہقی، دلائل النبوه، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۳۳۸-۳۳۹.
  45. ابن حزم، جمہره انساب العرب، ۱۴۰۳ق، ص۷۲.
  46. ابن سعد، طبقات الکبری، دارصادر، ج۸، ص۵۰
  47. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۸، ص۳۷-۳۶، بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۱۲۲-۱۲۳.
  48. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۹۵۹م، ج۱، ص۱۲۲-۱۲۳، ۴۰۱.
  49. ابن سعد، الطبقات الکبری، دارصادر، ج۸، ص۳۶-۳۷.
  50. قطب الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، ۱۴۰۹ق، ج۱، ص ۵۶؛ ابن شہراشوب، مناقب آل ابی طالب، ۱۳۷۹ق، ج۱، ص۸۰؛ هر دو به نقل از اہل سنت.
  51. بیہقی، دلائل النبوه، ۱۴۰۵ق، ج۲، ص۳۳۸-۳۳۹.
  52. طبری، تاریخ، دارالتراث، ج۱۱، ص۵۳۰.
  53. ابن اثیر، اسد الغابہ، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۴۶۵.
  54. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۴۱.
  55. ابن اثیر، اسد الغابہ، ج۶، ص۱۰۳.
  56. طبرسی، مجمع البیان، دارالمعرفۃ، ج۲، ص۸۰۷.


نوٹ

  • "أَفَمَنْ حَقَّ عَلَيْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ" (پس کیا جسے عذاب کا حکم ہو چکا ہے اسے چھوڑوا سکتے ہو؟)
  • "أَفَمَن شَرَحَ اللَّهُ صَدرَهُ لِلإِسلامِ فَهُوَ عَلىٰ نورٍ مِن رَبِّهِ ۚ فَوَيلٌ لِلقاسِيَةِ قُلوبُهُم مِن ذِكرِ اللَّهِ ۚ أُولٰئِكَ في ضَلالٍ مُبينٍ" (بھلا جس کا سینہ اللہ نے دین اسلام کے لئے کھول دیا ہے سو وہ اپنے رب کی طرف سے روشنی میں ہے، سو جن کے دل اللہ کے ذکر سے متاثر نہیں ہوتے ان کے لئے بڑی خرابی ہے، یہ لوگ کھلی گمراہی میں ہیں)
  • "وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَاعِرٍ" (یہ کسی شاعر کی کلام نہیں ہے)

مآخذ

  • ابن اثیر، علی بن محمد، اسد الغابۃ، دار الفکر، بیروت، ۱۴۰۹ق/۱۹۸۹م.
  • ابن بابویہ، محمد بن علی، الخصال، علی اکبر غفاری، جامعہ مدرسین، قم، ۱۳۶۲ش.
  • ابن بابویہ، محمد بن علی، عیون اخبار الرضا(ع)، نشر جہان، تہران، ۱۳۷۸ق.
  • ابن بطوطہ، رحلہ ابن بطوطہ، عبدالہادی التازی، اکادیمیہ المملکہ المغربیہ، رباط، ۱۴۱۷ق/۱۹۹۷م.
  • ابن حبیب، محمد، المنمق فی اخبار قریش، خورشید احمد فارق کی کوشش، عالم الکتاب، بیروت، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵م.
  • ابن حزم، علی بن احمد، جمہرة انساب العرب، بیروت، ۱۴۰۳ق/۱۹۸۳م.
  • ابن خلدون، تاریخ، دار احياء التراث العربی، بیروت، بی تا.
  • ابن درید، محمد بن حسن، الاشتقاق، عبدالسلام محمد هارون کی کوشش، قاہره، ۱۳۷۸ق/۱۹۵۸م.
  • ابن سعد، محمد، الطبقات الکبری، تصحیح مصطفی السقا و دیگران، بیروت، دار صادر، بی تا.
  • ابن شہراشوب، محمد بن علی، مناقب آل ابی طالب، علامہ، قم، ۱۳۷۹ق.
  • ابن قتیبہ، عبدالله بن مسلم، المعارف، ثروت عکاشه کی کوشش، قاہره، ۱۹۶۰م.
  • ابن ہشام، عبدالملک، السیرة النبویۃ، مصطفی السقااور دوسروں کی کوشش، دارالمعرفۃ، بیروت، بی تا.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، محمد حمید الله کی کوشش، قاہره، ۱۹۵۹م.
  • بیہقی، احمد بن حسین، دلائل النبوة، عبدالمعطی قلعجی کی کوشش، دارالکتب العلمیۃ، بیروت، ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵م.
  • حسنی، ہاشم معروف، سيره المصطفى نظره جديده، دار التعارف للمطبوعات، بیروت، ۱۴۱۶ق/۱۹۹۶م.
  • خصیبی، حسین بن حمدان، الہدایه الکبری، البلاغ، بیروت، ۱۴۱۹ق.
  • شوشتری، نورالله بن شریف الدین، احقاق الحق و ازہاق الباطل، کتابخانه آیت الله مرعشی نجفی، قم، ۱۴۰۹ق.
  • شوکانی، محمد بن علی، فتح القدیر، دار ابن کثیر، دمشق، ۱۴۱۴ق/۱۹۹۴م.
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی، موسسہ آل البیت، قم، ۱۴۱۷ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، مجمع البیان، دارالمعرفۃ، بیروت، بی تا.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الطبری، محمد ابوالفضل ابراہیم، دارالتراث، بیروت، بی تا.
  • فخر رازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۲۰ق/۱۹۹۹م.
  • قطب الدین راوندی، سعید بن حبه الله، الخرائج و الجرائح، موسسہ الامام المہدی، قم، ۱۴۰۹ق.
  • کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد، دارالزخائر، قم، ۱۴۱۰ق.
  • کلبی، ہشام بن محمد، جمہرة النسب، ناجی حسن کی کوشش، بیروت، ۱۴۰۷ق/۱۹۸۶م.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح علی اکبر غفاری و دیگران، دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۴۰۷ق.
  • مجلسی، محمدباقر بن محمدتقی، بحار الانوار، دار احیاء التراث العربی، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفہ حجج الله علی العباد، کنگره شیخ مفید، قم، ۱۴۱۳ق.

‌* واحدی، علی بن احمد، اسباب نزول قرآن، تحقیق کمال بسیونی زغلول، دار الکتب العلمیۃ، بیروت، ۱۴۱۹ق/۱۹۹۸م.

  • واقدی، محمد بن عمر، المغازی، مارسدن جونز کی کوشش، لندن، ۱۹۶۶م.
  • یعقوبی، احمد بن اسحاق، تاریخ، بیروت، ۱۳۷۹ق/۱۹۶۰م.