آیہ شراء

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

آیہ شِراء یا اِشْتراء سورہ بقرہ کی آیت نمبر 207 کو کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید کی اس آیت میں ان لوگوں کی تعریف کی گئی ہے جو اللہ تعالی کی رضایت حاصل کرنے کے لئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ شیعہ علماء اور اہل سنت بعض علما قائل ہیں کہ یہ آیہ امام علیؑ کی شان میں لیلۃ المبیت (شب ہجرت) کو نازل ہوئی۔

آیت کا متن

سورہ بقرہ کی آیت نمبر 207 آیۂ شراء یا اشتراء سے مشہور ہے۔

وَ مِنَ النَّاسِ مَن یشْرِی نَفْسَہُ ابْتِغَاءَ مَرْضَاتِ اللَّـهِ وَ اللَّـهُ رَءُوفٌ بِالْعِبَادِ۔ [1]

اور لوگوں میں وہ بھی ہیں جو اپنے نفس کو مرضی پروردگار کے لئے بیچ ڈالتے ہیں اور اللہ اپنے بندوں پر بڑا مہربان ہے


شان نزول

اصل مضمون: لیلۃ المبیت

شیعہ علما[2] اور بعض اہل سنت علما[3]قائل ہیں کہ یہ آیت شب ہجرت، امام علیؑ کی شان میں نازل ہوئی۔ جبکہ بعض دوسرے اہل سنت علما قائل ہیں کہ آیت امام علیؑ کے علاوہ دوسرے بعض افراد؛ جیسے ابوذر، صہیب بن سنان،[4] عمار یاسر اور اس کے والدین، خباب بن ارت اور بلال حبشی[5] کی شان میں نازل ہوئی ہے۔

حوالہ جات

  1. سورہ بقرہ: آیہ 207۔
  2. طباطبایی، المیزان، ۱۳۹۳ق، ج۲، ص۱۰۰.
  3. حاکم نیشابوری،المستدرک علی الصحیحین، ۱۴۱۱ق، ج۳، ص۵؛ ابن الاثیر الجزری، أسد الغابۃ، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۶۰۰-۶۰۱؛ ابن صباغ المالکی، الفصول المہمۃ، ۱۴۲۲ق، ج۱، ص۲۹۴-۲۹۵؛ الدیار بکری، تاریخ الخمیس، دارصادر، ج۱، ص۳۲۵.
  4. طبری، جامع البیان، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۵۹۱.
  5. فخر الرازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۲۰ق، ج۵، ص۳۵۰.


مآخذ

  • ابن الاثیر الجزری، علی بن أبی الکرم، أسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۹ق.
  • ابن صباغ المالکی، علی بن محمد، الفصول المہمۃ في معرفۃ الأئمۃ، تحقیق سامی الغُریري، قم، دار الحدیث للطباعۃ و النشر، ۱۴۲۲ق.
  • حاکم نیشابوری، محمد بن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دار الکتب العلمیۃ، ۱۴۱۱ق.
  • الدیار بکری، حسین بن محمد، تاریخ الخمیس، بیروت، دارصادر، بی تا.
  • فخر الرازی، محمد بن عمر، التفسیر الکبیر، بیروت، دار إحیاء التراث العربی، الطبعۃ الثالثۃ، ۱۴۲۰ق.
  • طباطبايی، محمد حسین، المیزان فی تفسیر القرآن، بیروت، موسسۃ الاعلمی للمطبوعات، ۱۳۹۳ق.
  • طبری، محمد بن جریر، جامع البیان، تحقیق عبداللہ بن عبدالمحسن بن الترکی، الجیزۃ، دار ہجر للطباعۃ والنشر والتوزيع والإعلان، ۱۴۲۲ق.