21 رمضان

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شعبان رمضان شوال
1 2 3 4 5 6 7
8 9 10 11 12 13 14
15 16 17 18 19 20 21
22 23 24 25 26 27 28
29 30
اسلامی تقویم

21 رمضان ہجری قمری کیلنڈر کے مطابق سال کا 256 واں دن ہے۔

  1. شہادت امیرالمومنین علی(ع) (سنہ 40 ہجری بمطابق 31 جنوری 661 عیسوی)۔
  2. مسلمانوں کی امام حسن مجتبی علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت (سنہ 40 ہجری بمطابق 31 جنوری 661 عیسوی)۔
  3. ابن ملجم کا انتقال بسوئے یوم الحساب(سنہ 40 ہجری بمطابق 31 جنوری 661 ہجری)۔
  4. وفاتِ شیخ حُرّ عاملی (سنہ 1104 ہجری بمطابق 26 مئی 1693 عیسوی)۔



ماہ رمضان کے اکیسویں دن کی نمازیں اور دعائیں
اکیسویں رات کے اعمال
  • اس دعا کا پڑھنا:يَا مُولِجَ اللَّيْلِ فِي النَّهَارِ وَ مُولِجَ النَّهَارِ فِي اللَّيْلِ وَ مُخْرِجَ الْحَيِّ مِنَ الْمَيِّتِ وَ مُخْرِجَ الْمَيِّتِ مِنَ الْحَيِّ يَا رَازِقَ مَنْ يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ يَا اللَّهُ يَا رَحْمَانُ يَا اللَّهُ يَا رَحِيمُ يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ يَا اللَّهُ لَكَ الْأَسْمَاءُ الْحُسْنَى وَ الْأَمْثَالُ الْعُلْيَا وَ الْكِبْرِيَاءُ وَ الْآلاءُ أَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْ تَجْعَلَ اسْمِي فِي هَذِهِ اللَّيْلَةِ فِي السُّعَدَاءِ وَ رُوحِي مَعَ الشُّهَدَاءِ وَ إِحْسَانِي فِي عِلِّيِّينَ وَ إِسَاءَتِي مَغْفُورَةً وَ أَنْ تَهَبَ لِي يَقِينا تُبَاشِرُ بِهِ قَلْبِي وَ إِيمَانا يُذْهِبُ الشَّكَّ عَنِّي وَ تُرْضِيَنِي بِمَا قَسَمْتَ لِي وَ آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَ قِنَا عَذَابَ النَّارِ الْحَرِيقِ وَ ارْزُقْنِي فِيهَا ذِكْرَكَ وَ شُكْرَكَ وَ الرَّغْبَةَ إِلَيْكَ وَ الْإِنَابَةَ وَ التَّوْفِيقَ لِمَا وَفَّقْتَ لَهُ مُحَمَّدا وَ آلَ مُحَمَّدٍ عَلَيْهِ وَ عَلَيْهِمُ السَّلامُ.
اکیسویں دن کے اعمال نماز:آٹھ رکعت جس کی ہر رکعت میں سورہ حمد کے بعد کوئی بھی سورہ ؛
دعا:اَللَّهُمَّ اجْعَلْ لى فيهِ اِلى مَرْضاتِكَ دَليلاً وَ لاتَجْعَلْ لِلشَّيْطانِ فيهِ عَلَىَّ سَبيلاً وَ اجْعَلْ الْجَنَّةَ لى مَنْزِلاً وَ مَقيلاً يا قاضِىَ حَوآئِجِ الطَّالِبينَ
خدایا میرے لئے اس میں اپنی مرضی کی جانب رہنمائی قرار دے اور مجھ پر شیطان کے لئے راہ نہ قرار دے اور جنت کو میرے لۓ منزل اور مقام قرار دے اے طلب گاروں کی حاجتوں کو پورا کرنے والے ۔
شب قدر کے اعمال
مشترک اعمال
  • غسل کرنا؛
  • دو رکعت نماز جس کی ہر رکعت میں حمد کے بعد 7 مرتبہه سورہ توحید اور نماز کے ختم ہونے کے بعد 70مرتبہ پڑھا جائے؛
  • شب بیداری کرنا شب قدر کی تینوں راتوں میں؛
  • 100 رکعت نماز پڑھنا؛
  • اس دعا کا پڑھنا اَللَّهُمَّ إِنِّی أَمْسَیتُ لَک عَبْدا دَاخِرا لا أَمْلِک لِنَفْسِی نَفْعا وَ لا ضَرّا وَ لا أَصْرِفُ عَنْهَ سُوءاً أَشْهَدُ بِذَلِک عَلَی نَفْسِی وَ أَعْتَرِفُ لَک بِضَعْفِ قُوَّتِی وَ قِلَّةِ حِیلَتِی فَصَلِّ عَلَی مُحَمَّدٍ وَ آلِ مُحَمَّدٍ وَ أَنْجِزْ لِی مَا وَعَدْتَنِی وَ جَمِیعَ الْمُؤْمِنِینَ وَ الْمُؤْمِنَاتِ مِنَ الْمَغْفِرَةِ فِی هَذِهِ اللَّیلَةِ وَ أَتْمِمْ عَلَی مَا آتَیتَنِی فَإِنِّی عَبْدُک الْمِسْکینُ الْمُسْتَکینُ الضَّعِیفُ الْفَقِیرُ الْمَهِینُ اللَّهُمَّ لا تَجْعَلْنِی نَاسِیا لِذِکرِک فِیمَا أَوْلَیتَنِی وَ لا [غَافِلا] لِإِحْسَانِک فِیمَا أَعْطَیتَنِی وَ لا آیسا مِنْ إِجَابَتِک وَ إِنْ أَبْطَأَتْ عَنِّی فِی سَرَّاءَ [کنْتُ] أَوْ ضَرَّاءَ أَوْ شِدَّةٍ أَوْ رَخَاءٍ أَوْ عَافِیةٍ أَوْ بَلاءٍ أَوْ بُؤْسٍ أَوْ نَعْمَاءَ إِنَّک سَمِیعُ الدُّعَاءِ؛
  • دعائے جوشن کبیر پڑھنا؛
  • سورہ دخان اور سورہ قدر کی تلاوت کرنا؛
  • زیارت امام حسین(ع)

  • قرآن سر پر اٹھا کر چودہ معصومین کا وسیلہ دینا: قرآن مجید کو کھول کر سامنے رکھے اور یہ کہے:

پھر قرآن کریم کو سر پر رکھ کر یہ مناجات پڑھے:

اس کے بعد چودہ معصومین میں سے ہر ایک کا نام لے کر خدا کو وسیلہ دے اور آخر میں اپنی حاجت خدا سے مانگے:

  • بِکَ یا اَللہ
  • بِمُحَمَّدٍ
  • بِعَلِی
  • بِفاطِمَۃ
  • بِالْحَسَنِ
  • بِالْحُسَینِ
  • بِعَلِی بْنِ الْحُسَینِ
  • بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِی
  • بِجَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ
  • بِمُوسَی بْنِ جَعْفَرٍ
  • بِعَلِی بْنِ مُوسی
  • بِمُحَمَّدِ بْنِ عَلِی
  • بِعَلِی بْنِ مُحَمَّدٍ
  • بِالْحَسَنِ بْنِ عَلِی
  • بِالْحُجَّۃ
انیسویں رات کے مخصوص اعمال
  • 100مرتبہ
  • 100مرتبہ
  • اس دعا کو پڑھا جائے: (کذا و کذا کی جگہ اپنی حاجت کا ذکر کیا جائے)
  • اس دعا کا پڑھنا: [1]
اکیسویں رات کے مخصوص اعمال
  • رمضان کی آخری دس راتوں سے مختص دعاوں کا پڑھنا؛
  • اس دعا کا پڑھنا:
  • اس دعا کا پڑھنا: اَللّهُمَّ صَلِّ عَلی مُحَمَّد وَ آلِ مُحَمَّد، وَاقْسِمْ لی حِلْماً یسُدُّ عَنّی بابَ الْجَهْلِ، وَهُدی تَمُنُّ بِهِ عَلَی مِنْ کُلِّ ضَلالَه، وَغِنی تَسُدُّ بِهِ عَنّی بابَ کُلِّ فَقْر، وَقُوَّهً تَرُدُّ بِها عَنّی کُلَّ ضَعْف، وَعِزّاً تُکْرِمُنی بِهِ عَنْ کُلِّ ذِلَّه، وَرِفْعَهً تَرْفَعُنی بِها عَنْ کُلِّ ضَعَه، وَاَمْناً تَرُدُّ بِهِ عَنّی کُلَّ خَوْف، وَعافِیهً تَسْتُرُنی بِها مِنْ کُلِّ بَلاء، وَعِلْماً تَفْتَحُ لی بِهِ کُلَّ یقین، وَیقیناً تُذْهِبُ بِهِ عَنّی کُلَّ شَکٍّ، وَدُعآءً تَبْسُطُ لی بِهِ الاِْجابَهَ فی هذِهِ اللَّیلَهِ، وَفی هذِهِ السّاعَهِ السّاعَهِ السّاعَهِ یا کَریمُ، وَ خَوْفاً تَنْشُرُ لی بِهِ کُلَّ رَحْمَه، وَعِصْمَهً تَحُولُ بِها بَینی وَ بَینَ الذُّنُوبِ، حَتّی اُفْلِحَ بِها بَینَ الْمَعْصُومینَ عِنْدَکَ، بِرَحْمَتِکَ یا اَرْحَمَ الرّاحِمینَ.
  • محمد و آل محمد پر بہت زیادہ صلوات اور ان پر ظلم ڈھانے والوں اور انے کے حقوق کو غصب کرنے والوں اور امیر المومین حضرت علی علیہ السلام کے قاتل پر لعنت بھیجا جائے:
  • اس دعا کا پڑھنا: وَ أسْألُکَ بِجَمیعِ ما سَأَلْتُکَ وَ ما لَمْ أَسْأَلْکَ مِنْ عَظیمِ جَلالِکَ، ما لَوْ عَلِمْتُهُ لَسَأَلْتُکَ بِهِ، أَنْ تُصَلِّی عَلی مُحَمَّد وَ أَهْلِ بَیتِهِ، وَ أَنْ تَأْذَنَ لِفَرَجِ مَنْ بِفَرَجِهِ فَرَجُ أَوْلِیائِکَ وَ أَصْفِیائِکَ مِنْ خَلْقِکَ، وَ بِهِ تُبیدُ الظّالِمینَ وَ تُهْلِکُهُمْ، عَجِّلْ ذلِکَ یا رَبَّ الْعالَمینَ
تیسویں رات کے مخصوص اعمال
  • سورہ عنکبوت، سورہ روم اور سورہ دخان کی تلاوت کرنا
  • سورہ قدر کی ہزار بار تلاوت کرنا
  • دعائے فرج اَللّهُمَّ کنْ لِوَلِیک...پڑھنا:
  • یہ دعا پڑھنا: اَللّهُمَّ امْدُدْ لی فی عُمْری وَاَوْسِعْ لی فی رِزْقی...
  • اس دعا کو پڑھنا: یا باطِناً فی ظُهُورِهِ وَیا ظاهِراً فی بُطُونِهِ وَیا باطِناً لَیسَ...
  • رات کے آخری حصے میں ایک غسل کرنا [2]

حوالہ جات

  1. اے وہ ذات جو ہر چیز سے پہلے موجود تھی اور ہر چیز کو اسی نے ہی پیدا کیا اور وہ باقی ہے جبکہ باقی سب چیزیں فانی ہو جائیگی۔ اے وہ ذات جسکی کوئی مثال نہیں، اے وہ ذات جس کے سوا نہ بلند آسمانوں میں، نہ پست زمین پر، نہ انکے اوپر اور نہ انکے نیچے اور نہ انکے درمیان کوئی معبود حقیقی نہیں سوای اسی کے۔ تمام تعریفیں اسی کیلئے ہے جس کے سوا کوئی انہیں شمار نہیں کر سکتے پس محمد اور انکی آل پر سلام و درود بھیجو ایسی درود جسے تیرے سوا کوئی شمار نہ کر سکے۔
  2. قمی، شیخ عباس، مفاتیح الجنان، اعمال مخصوصہ شبہای قدر، ص۴۰۰-۴۱۶.