امیرالمؤمنین (لقب)

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

یہ مقالہ "لقب امیرالمومنین" کے بارے میں ہے، مقالہ امام علی علیہ السلام کیلئے یہاں کلک کریں۔

تابلوی امیرالمؤمنین1.jpg

امیرالمومنین کے معنی مؤمنین کے امیر، حاکم اور رہبر کے ہیں۔ اہل تشیع کے مطابق یہ لقب حضرت علی(ع) کے ساتھ مختص ہے۔ ان کے مطابق یہ لقب پہلی بار پیغمبر اسلامؐ کے زمانے میں حضرت علیؑ کے لئے استعمال کیا گیا اور صرف آپؑ کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی لئے شیعہ حضرات اس کا استعمال دوسرے خلفاء حتی امام علیؑ کے علاوہ دوسرے ائمہ کے لئے بھی صحیح نہیں سمجھتے ہیں۔

البتہ صدر اسلام میں پیغبر اکرمؐ کی رحلت کے بعد عام مسلمانوں کے درمیان یہ رواج قائم ہوئی کہ اس لقب کو مسلمانوں کے دینی اور سیاسی رہبر یعنی خلیفہ کے لئے استعمال کیا جانے لگا۔ یہ طریقہ بنی امیہ اور اور بنی عباسی کے دور میں بھی جاری رہا اور ان کے حکمرانوں کیلئے بھی اس لقب کا استعمال ہوتا رہا ہے۔

مفہوم شناسی

امیرالمومنین کے معنی، مسلمانوں کے رہبر اور حاکم کے ہیں۔ [1] اس کی مقابلے میں یہی معنی خلفائے راشدین اور بنی امیہ اور بنی عباسی کے خلفاء کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ لقب مسلمانوں کے درمیان سیاسی اور دینی طور پر حائز اہمیت رکھتا ہے اور لفظ خلیفہ کی طرح اس کا استعمال بھی وسیع (گستردہ) ہے۔ [2]

لفظ امیر کا استعمال

لفظ امیر، اسلام کی ابتداء سے ہی حجاز کے لوگوں کے لئے اکی مانوس لفظ تھا اور اسی بنا پر مشرکین پیغمبر اسلامؐ کو کو امیر مکہ اور امیر حجاز کے لقب سے خطاب کرتے تھے۔[3] صدر اسلام میں جب پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے کسی کو جنگ کی سپہ سالاری سونپی جاتی تو ان کو بھی امیر کہا جاتا تھا۔ [4]

اس لقب کا پہلا استعمال

لفظ امیرالمومنین کے پہلی بار استعمال میں اہل تشیع اور اہل سنت میں اختلاف ہے۔

اہل تشیع کی نظر

اہل تشیع کا اعتقاد ہے کہ اس لفظ کی شروعات حضرت پیغمبر(ص) کے زمانے کی طرف پلٹتی ہے اور یہ نام علی ابن ابی طالب(ع) کے لئے تھا لیکن جب امام علی(ع) کو خلافت سے منع کیا گیا تو یہ لفظ دوسرے اور تیسرے خلیفہ کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے۔

غدیر خم میں حضرت علی کا اس لقب سے ملقب ہونا

اہل تشیع کی نظر میں یہ لقب امام علیؑ کو پیغمبراکرمؐ نے سنہ 10 ہجری قمری کو غدیر خم کے مقام پر دیا تھا۔ اس مقام پر آنحضرتؐ نے خدا کے حکم سے حضرت علیؑ کو اپنا جانشین اور وصی مقرر فراماتے ہوئے مسلمانوں کو حکم دیا تھا کہ حضرت علی کو امیر المؤمنین کے عنوان سے سلام کریں۔ اس فرمان کے بعد مسلمان گروہ در گروہ امام علی(ع) کے خیمہ میں داخل ہوئے اور جس طریقے سے پیغمبر(ص) نے حکم کیا تھا اس طرح سلام کیا۔ [5]

اہل تشیع کی نظر میں، عمربن خطاب کا وہ مشہور جملہ جو انہوں نے غدیر کے موقع پر علیؑ کے بارے میں کہا اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ یہ لقب علی(ع) کو اسی دن دیا گیا تھا۔ عمر نے علی(ع) سے مخاطب ہو کر کہا: بخ بخ لک یا بن ابی طالب اصبحت و امسیت مولای و مولی کل مومن و مومنہ ترجمہ: مرحبا اے علی! تم میرے مولا اور سب مومن مرد اور عورتوں کے مولا ہو گئے ہو۔ [6] بعض محققین نے عمر کے لفظ مومن کہنے سے یہی ثابت کیا ہے کہ عمر نے اس لقب کو علی(ع) کے بارے میں قبول کیا تھا۔ [7]

پیغمبر اکرمؐ کے خطاب میں اس لقب کا استعمال

شیعہ منابع میں بیان کیا گیا ہے کہ غدیر کے علاوہ دوسرے موقع پر بھی پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو امیرالمومنین کا لقب دیا ہے:

١۔صرف علی(ع) کو اس لقب کے ساتھ سلام کرنے کا حکم دینا

شیخ مفید نے محدثان سے مشہور روایت نقل کی ہے کہ پیغمبر(ص) نے اپنے سات اصحاب جن میں ابوبکر، عمر، طلحہ اور زبیر بھی تھے فرمان دیا کہ علی کو امیرالمومنین کے لقب سے سلام کریں۔ [8]اور کئی دوسرے منابع میں بھی اشارہ ہوا ہے کہ حضرت پیغمبر(ص) نے حکم دیا تھا کہ علی(ع) کو امرۃ المومنین کے لقب سے سلام کریں۔[9]

٢۔زوجات پیغمبر(ص) کی گواہی

شیخ مفید کی گزارش کی مطابق، حضرت پیغمبر(ص) کی بعض زوجہ نے گواہی دی ہے کہ یہ لقب پیغمبر(ص) نے علی(ع) کو عطا کیا ہے کہ جن میں سے ایک ام سلمہ ہے۔ پیغمبر(ص) نے علی(ع) کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ام سلمہ سے فرمایا: اسمعی و اشھدی ھذا علی امیرالمومنین و سید الوصیین ترجمہ: جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اس کو سنو اور گواہی دینا! کہ یہ علی مومنوں کے امیر اور وصی ہیں۔ [10] اس کے علاوہ انس بن مالک سے گزارش نقل ہوئی ہے کہ وہ حضرت پیغمبر(ص) کی زوجہ ام حبیبہ کے گھر پر گیا اور پیغمبر(ص) نے اس سے فرمایا کہ ابھی تم پر اس دروازے سے امیرالمومنین اور خیرالوصیین۔۔۔ داخل ہوں گے انس کہتا ہے: میں نے سوچا کہ میری قوم سے کوئی مرد داخل ہو گا لیکن کچھ ہی دیر بعد علی بن ابی طالب دروازے سے داخل ہوئے۔ [11]

بعض صحابہ کی زبانی اس لقب کی خاص تعبیر

امام علی(ع) کے بعض اصحاب جیسے ابوذر اور حذیفہ بن یمان علی(ع) کے بارے میں امیرالمومنین کا لقب استعمال کرنے کے بعد خاص تعبیرحقاً حقاً استعمال کرتے تھے۔ اور یہ اس وجہ سے تھا کیونکہ یہ لقب پیغمبر(ص) کے زمانے کے بعد دوسرے اور تیسرے خلیفہ کے لئے استعمال ہوتا رہا تھا اور اس لئے کہ اس لقب کو عام نہ کیا جائے اور ہر کسی کو یہ لقب نہ دیا جائے اور یہ کہ اس لقب کے حقدار صرف علی(ع) ہیں اس لئے آپ(ع) کو اس طرح کہتے تھے۔ امیرالمومنین حقاً حقاً ترجمہ: حقیقت میں علی ہی امیرالمومنین ہے۔ [12]

اہل سنت کی نظر

اہل سنت مورخین اس بات کے معتقد ہیں کہ یہ لقب سب سے پہلے حضرت عمر کے لئے استعمال ہوا تھا۔ اس بات کی دلیل یہ بیان کرتے ہیں کہ چونکہ حضرت عمر کو خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ یعنی رسول خدا کے جانشین کا جانشین کہا جاتا تھا۔ متعدد کلمات اور سخت ترکیب کی وجہ سے انہیں امیر المؤمنین کا لقب دیا گیا تھا۔ عبداللہ بن جحش، عمروعاص، مغیرۃ بن شعبہ اور ابو موسی اشعری وہ پہلے افراد تھے جنہوں نے حضرت عمر کو امیرالمومنین کے لقب سے پکارا۔ [13] بعض مورخین من جملہ مسعودی اس بات کے معتقد ہیں کہ خلیفہ دوم اس لقب سے ملقب کرنا صرف ایک دو اشخاص کا کام نہیں تھا بلکہ یہ کام ایک کوئی مراحل طے کرنے کے بعد انجام پایا ہے۔ [14] بعض گزارشات کے مطابق اس کام میں خود خلیفہ دوم کا بھی کردار ہے۔ [15]

خلفاء کے زمانے میں اس لقب کا استعمال

خلفاء کے زمانے میں پہلا فرد جسے امیرالمومنین لقب ملا وہ دوسرا خلیفہ تھا۔ اس سے پہلے ابو بکر کو خلیفۃ رسول اللہ (ترجمہ: پیغمبر(ص) کا جانشین۔ )کا لقب دیا گیا تھا اور اس کے بعد عمر کو خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ کا لقب دیا۔ بعض گزارش کے مطابق اس لقب کے سخت ہونے کی وجہ سے کیونکہ اس لفظ کا استعمال سخت تھا خصوصاً آگے بعد والے خلفاء کے لئے اس لئے اس طولانی جملے خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ کے بجائے دوسرے خلیفہ کے لئے امیرالمومنین کا لقب استعمال کیا۔ [16] اور یہی لقب دوسرے خلیفہ کے بعد دوسرے خلفاء کے لئے بھی استعمال ہوا۔ [17] اور اموی خلفاء بھی اس لقب کو اپنے لئے استعمال کرتے کیونکہ اس لقب کی وجہ سے مسلمانوں کو اپنی اطاعت کی طرف جذب کرتے تھے۔ امویوں کے چاہنے والے زبیری اور خوارج نے بھی اپنے خلفاء کو امیرالمومنین کا لقب دیا۔ [18] امویون کے بعد، عباسی خلفاء نے بھی امیرالمومنین کے لقب کو استعمال کیا اور ان کے رقیب جیسے فاطمیان اور امویوں اندلس بھی اپنے خلفاء کے لئے اس لقب کے مدعی تھے۔ [19] محدود گزارش کے مطابق زیدی بھی یہ لقب استعمال کرتے تھے۔ محمد نفس زکیہ اور یحیی بن حسین جس کا لقب ھادی الی الحق ہے، زیدی حکومت کے یہ دو شخص ہیں جن کو امیرالمومنین کہتے تھے۔ [20] امیرالمومنین واحد لقب نہ تھا جو خلفاء کے لئے استعمال ہو بلکہ خلیفہ، جو کہ خلیفۃ خلیفۃ رسول اللہ کی مختصر ترکیب تھی یہ بھی خلفاء کے لئے استعمال ہوتا تھا۔ [21]

دوسرے ائمہ کے لئے اس لقب کا استعمال

بعض روایات کے مطابق امیرالمومنین کا لقب امام علی(ع) کے لئے مخصوص ہے اور اس کا استعمال دوسرے آئمہ معصومین(ع) کے لئے صحیح نہیں ہے۔ [22] امیرالمومنین غدیر میں اہل تشیع اس لقب امیرالمومنین کو گستردہ طور پر غدیر کے دن استعمال کرتے ہیں۔ اس لقب کے استعمال کی وجہ یہ ہے کہ بعض منابع میں ذکر ہوا ہے کہ شیعہ عید غدیر کے دن ایک دوسرے کو ملاقات کرتے وقت یہ جملہ کہیں:

"اَلحمدُ لِلهِ الّذی جَعَلَنا مِنَ المُتَمَسِّکینَ بِولایةِ اَمیرِالمؤمنینَ و الائمةِ المَعصومینَ علیهم السلام"

ترجمہ: ستایش مخصوص اس خدا کے لئے کہ جس نے ہمیں امیرالمومنین اور دوسرے آئمہ(ع) کی ولایت سے متمسک کیا۔ [23]

حوالہ جات

  1. دایرةالمعارف تشیع، ج۲، ص ۵۲۲
  2. دایرةالمعارف تشیع، ج۲، ص۵۲۳-۵۲۲
  3. ابن خلدون، مقدمہ ابن خلدون، ج۱، ص۴۳۶
  4. طبری، تاریخ الام و الملوک، ج۲، ص۴۰۲
  5. شیخ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، ج۱، ص۱۷۶
  6. شیخ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج الله علی العباد، ج۱، ص۱۷۷
  7. منتظری مقدم، بررسی کاربردهای لقب «امیرالمؤمنین» در بستر تاریخ اسلام، بهار ۸۷، ص۱۳۶
  8. شیخ مفید، الارشاد، ج۱، ص۴۸
  9. ابن‌عقده کوفی، فضائل امیرالمؤمنین، ص۱۳
  10. شیخ مفید، الارشاد، ج۱، ص۴۸
  11. ابن‌عساکر، تاریخ مدینة دمشق، ج۴۲، ص۳۰۳ و ۳۸۶؛ شیخ مفید، الارشاد، ج۱، ص۴۸؛ابونعیم اصفهانی، حلية الاولیاء و طبقات الاصفیاء، ج۱، ص۶۳
  12. شیخ طوسی، الامالی، ص۴۸۶؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۲، ص۳۶۶؛ شیخ مفید، الارشاد، ج۱، ص۴۷ و ۴۸
  13. یعقوبی، تاریخ یعقوبی، ج۲، ص۱۴۷ و ۱۵۰؛ ابن خلدون، مقدمہ ابن خلدون، ج۱، ص۴۳۵ و ۴۳۶
  14. مسعودی، مروج الذهب، ج۲، ص۳۱۳؛ منتظری مقدم، بررسی کاربردهای لقب «امیرالمؤمنین» در بستر تاریخ اسلام، بهار ۸۷، ص۱۴۴
  15. بری، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۲۰۸
  16. ابن خلدون، مقدمه ابن خلدون، ج۱، ص۴۳۵
  17. طبری، تاریخ طبری، ج۴، ص۲۰۸
  18. منتظری مقدم، بررسی کاربردهای لقب امیرالمؤمنین در بستر تاریخ اسلام ۲، تابستان ۱۳۸۷ش، ص۱۶۰-۱۶۴
  19. منتظری مقدم، بررسی کاربردهای لقب امیرالمؤمنین در بستر تاریخ اسلام۲، تابستان ۱۳۸۷ش، ص۱۶۴-۱۶۶
  20. عقیقی، المعقبین من ولد الامام امیر المؤمنین، قم، ۱۴۲۲ق، ص۱۱۷؛ کحاله، معجم القبائل العرب، الرسالة، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۴۹۳
  21. منتظری مقدم، بررسی کاربردهای لقب امیرالمؤمنین در بستر تاریخ اسلام۲، تابستان ۱۳۸۷ش، ص۱۴۵-۱۴۶
  22. مجلسی، بحارالانوار، ج۳۷، ص۳۳۴؛ وسائل‌الشیعة، حر عاملی، ج۱۴، ص۶۰۰
  23. قمی، مفاتیح الجنان، ذیل اعمال روز ۱۸ ذی الحجه۔