سورہ حجرات

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فتح سورۂ حجرات ق
سوره حجرات.jpg
ترتیب کتابت: 49
پارہ : 26
نزول
ترتیب نزول: 106
مکی/ مدنی: مدنی
اعداد و شمار
آیات: 18
الفاظ: 353
حروف: 1533

سورہ حجرات قرآن مجید کی 40ویں سورت ہے جسکا شمار مدنی سورتوں میں ہوتا ہے۔ یہ سورت 26ویں پارے میں واقع ہے۔ حجرات کا لفظ، حجرہ کی جمع ہے۔اور یہ لفظ اس سورت کی چوتھی آیت میں آیا ہے۔ سورہ حجرات میں رسول اللہؐ کے ساتھ آداب معاشرت کا بیان ہوا ہے تو ساتھ ہی بعض معاشرتی اخلاق جیسے بدگمانی، تَجَسُّس اور غیبت کے بارے میں بھی ذکر ہوا ہے۔ اس سورت کی مشہور آیات میں سے ایک آیت اخوت ہے جس میں مومنین کو ایک دوسرے کا بھائی کہا گیا ہے۔ ایک اور مشہور آیت آیہ نبأ ہے جس میں ہر خبر لانے والے پر اعتماد نہ کرنے کا کہا گیا ہے نیز اس سورت کی 13ویں آیت میں اللہ کے ہاں سب سے معزز اور مکرم شخص متقی انسان کو قرار دیا گیا ہے۔

تعارف

  • نام

حجرات کا لفظ اس سورت کی چوتھی آیت میں ذکر ہوا ہے اور اسی وجہ سے اس سورت کو حُجُرات کا نام دیا گیا ہے۔[1] حجرات حُجرہ کی جمع ہے اور ان کمروں کو کہا گیا ہے جو مسجد نبوی کے اطراف میں ازواج نبی کے لیے بنائے گئے تھے۔[2]

  • ترتیب اور محل نزول

سورہ حجرات مدنی سورتوں میں سے ہے اور ترتیب نزول کے اعتبار سے پیغمبر اکرمؐ پر نازل ہونے والی سورتوں میں 107ویں سورت ہے جبکہ قرآن مجید کے موجودہ مصحف میں 49ویں سورت ہے۔[3] یہ سورت قرآن کے 26ویں پارے میں واقع ہے۔

  • آیات اور کلمات کی تعداد

سورہ حجرات میں ۱۸ آیات 353 کلمات اور 1533 حروف ہیں۔ یہ سورت مثانی سورتوں میں سے ہے اور ایک حزب کے آدھے حصے پر مشتمل ہے۔[4]

اس سورت کو ممتحنات سورتوں میں بھی شمار کیا گیا ہے[5]اور کہا جاتا ہے کہ یہ سورت مضمون کے اعتبار سے سورہ ممتحنہ سے زیادہ تناسب رکھتا ہے۔[6] [نوٹ 1]

مضمون

تفسیر المیزان کے مطابق اس سورت میں اخلاقی کچھ احکام ہیں۔ جیسے اللہ تعالی سے ارتباط، پیغمبر اکرمؐ کے ساتھ جن آداب کی رعایت کرنی چاہیے اور معاشرے میں لوگوں سے رابطے کے دوران کیسا اخلاق ہونا چاہیے۔ اسی طرح اس سورت میں لوگوں کو ایک دوسروں پر برتری کا معیار بھی ذکر ہوا ہے اور آخر میں ایمان اور اسلام کی حقیقت کی طرف بھِی اشارہ کیا ہے۔[7]اس سورت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دھریں، دوسروں کی غیبت اور بدگوئی سے پرہیز کریں اور دوسروں کے عیوب میں تجسس نہ کریں، گمانوں سے اجتناب کریں اور مسلمانوں کے درمیان صلح قائم کریں۔[8]

سورہ حجرات کے مضامین[9]
 
 
 
 
مؤمنوں کی دینی اور سماجی ذمہ داریاں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری گفتار؛ آیہ ۱۳-۱۸
دین خدا کے بارے میں مسلماںوں کی ذمہ داریاں
 
دوسری گفتار؛ آیہ ۹-۱۲
ایک دوسرے کے بارے میں مؤمنوں کی سماجی ذمہ داریاں
 
پہلی گفتار؛ آیہ ۱-۸
پیغمبر کے بارے میں مؤمنوں کی ذمہ داریاں
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۱۳
نسلی برتری پر فخر کرنے کے بجائے تقوی کی رعایت
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۹-۱۰
مؤمنوں کے درمیان صلح کا قیام
 
پہلی ذمہ داری؛ آیہ ۱
دینی احکام بیان کرنے میں اللہ اور رسول پر سبقت نہ لینا
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۴-۱۵
اللہ کے راہ میں دین اور جہاد میں ثابت قدم رہنا
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۱
ایک دوسرے کا مذاق اڑانے اور تحقیر کرنے سے اجتناب
 
دوسری ذمہ داری؛ آیہ ۲-۵
بات کرتے ہوئے پیغمبر کی احترام کی رعایت
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
تیسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۶-۱۸
اسلام لانے پر پیغمبر پر احسان نہ جتانا
 
تیسری ذمہ داری؛ آیہ ۱۲
بدگمانی، تجسس اور غیبت سے اجتناب
 
تیسری ذمہ داری آیہ؛ ۶-۸
دوسروں کے مطالبات ماننے کے لیے پیغمبر پر دباؤ ڈالنا


مشہور آیات

آیہ نبأ

تفصیلی مضمون: آیہ نبأ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَکُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ (ترجمہ: اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔) [ حجرات–6]
اکثر مفسروں نے اس سورت کے شان نزول کو ولید بن عقبہ کا واقعہ قرار دیا ہے جن کو پیغمبر اکرم نے زکات جمع کرنے کے لیے بنی مصطلق قبیلے کی طرف بھیجا تھا۔[10] تفسیر المیزان کے مطابق اس قبیلے کے لوگوں نے طے کیا کہ وہ اپنی زکات کو پیغمبر اکرمؐ کے حوالے کر دیں گے؛ جبکہ پیغمبر اکرمؐ کی طرف سے اس کام کو انجام دینے کے لیے ولید کو بھیجا گیا تھا۔ راستے میں ولید ان سے ڈر گیا اور واپس آکر پیغمبر اکرمؐ سے جھوٹ بولا اور کہا کہ ان لوگوں نے زکات دینے سے انکار کیا ہے اور مجھے قتل کرنا چاہتے تھے۔ اس بات پر پیغمبر اکرمؐ نے ان سے مقابلہ کرنے کے لیے ایک لشکر تیار کیا اور جب دونوں گروہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے تو پتہ چلا کہ ولید نے جھوٹ بولا تھا۔ اور یہ آیت نازل ہوئی۔[11]

علم اصول فقہ میں آیت نباء پر بہت بحث ہوتی ہے۔ علم اصول کے ماہرین نے اس آیت کو خبر واحد کی حجیت کے لیے اس آیت کو مورد بحث قرار دیا ہے۔[12]

آیہ اُخُوَّت

تفصیلی مضمون: آیت اخوت
إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُواْ بَينَ أَخَوَيْکمُ‏ْ وَ اتَّقُواْ اللَّهَ لَعَلَّکمُ‏ْ تُرْحَمُونَ (ترجمہ: بےشک اہلِ اسلام و ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو تم اپنے دو بھائیوں میں صلح کراؤ اور اللہ (کی عصیاں کاری) سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔) [ حجرات–10]
اس آیت کے مطابق مومن ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور اگر ان میں کوئی لڑائی جھگڑا ہوجائے تو دوسرے مسلمانوں کی ذمہ داری بنتی ہے وہ ان کے درمیان صلح کرائیں۔ جب آیتِ اخوت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرمؐ نے مسلمانوں کے درمیان عقد اخوت برقرار کیا؛ ابوبکرؓ و عمرؓ کے درمیان، عثمانؓ اور عبدالرحمن بن عوف کے درمیان اور اسی طرح دوسرے اصحاب کو ان کی حیثیت کے مطابق عقد اخوت پڑھا؛ پھر علی بن ابی طالبؑ کو اپنا بھائی بنا دیا اور فرمایا: «آپ میرے بھائی ہو اور میں تمہارا بھائی ہوں»۔[13]

آیہ غیبت

تفصیلی مضمون: آیہ غیبت
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ  (ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو (بچو) کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو اور کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھا ئے؟ اس سے تمہیں کراہت آتی ہے اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو بےشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔) [ حجرات–10]
اس آیت میں تین اخلاقی مسئلے بیان ہوئے ہیں: بدگمانی سے پرہیز، تَجَسُّس اور غیبت؛[14] تفسیر نمونہ کے مطابق ان تینوں مسائل میں باہمی رابطہ ہے؛ بدگمانی سے تجسس کے لئے موقع فراہم ہوتا ہے اور دوسروں کے امور میں تجسس کرنے سے ان کی غیبت اور ان کے راز فاش ہونے کا باعث بنتا ہے۔[15] تفسیر المیزان میں آیا ہے کہ غیبت جذام کی طرف ہے جو معاشرے کے بدن کے اعضاء کو آہستہ آہستہ ختم کر دیتا ہے۔[16] فقہا نے غیبت حرام ہونے کو اسی آیت سے استناد کیا ہے۔[17]

بزرگی کا معیار، تقوا

يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُم مِّن ذَکَرٍ‌ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَ‌فُوا ۚ إِنَّ أَکْرَ‌مَکُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاکُمْ  (ترجمہ: اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد (آدم(ع)) اور ایک عورت (حوا(ع)) سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہیں مختلف خاندانوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بےشک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے یقیناً اللہ بڑا جاننے والا ہے، بڑا باخبر ہے۔) [ حجرات–13]
یہ آیت انسانوں کا ایک دوسرے پر نسلی امتیاز کی نفی کے لیے اخلاقی اور عقائد کے مباحث میں مورد توجہ قرار پائی ہے۔ تفسیر نمونہ کے مطابق یہ آیت بتاتی ہے کہ تمام انسان ایک ہی نسل سے ہیں اس لئے نسب اور قبیلے کی بنا پر ایک دوسرے پر فخر نہیں کرنا چاہیے۔ آیت میں اللہ کے نزدیک بزرگی کا معیار صرف تقوی قرار دیا گیا ہے۔[18] اس آیت کو شعوبیہ سیاسی و فکری تحریک نے بھی استناد قرار دیا ہے۔ شعوبیان ایران میں ایک گروہ تھا جنکا اس آیت سے مستند کرتے ہوئے یہ عقیدہ تھا کہ کوئی قوم دوسرے پر فوقیت نہیں رکھتی اور یہ لوگ بنی امیہ کی نسل پرستی کی سیاست کے مخالف تھے۔[19]

فضیلت اور خواص

تفسیر مجمع البیان میں پیغمبر اکرم سے منقول ہے کہ اگر کسی نے سورہ ہجرات کی تلاوت کی، اللہ تعالی اسے ہر وہ شخص جو اس کی اطاعت کرتا ہے اور جو اس کی مخالفت کرتا ہے ان سب کے دس برابر حسنات عطا کرتا ہے۔[20] اسی طرح شیخ صدوق نے اپنی کتاب ثواب الاعمال میں لکھا ہے کہ جس نے ہر رات یا ہر دن سورہ حجرات کی تلاوت کی، وہ رسول اللہ کے زائرین میں سے ہوگا۔[21]

متن اور ترجمہ

سورہ حجرات
ترجمہ
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّ‌حْمَـٰنِ الرَّ‌حِيمِ

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ﴿1﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ﴿2﴾ إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِندَ رَسُولِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَى لَهُم مَّغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ﴿3﴾ إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِن وَرَاء الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ﴿4﴾ وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّى تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿5﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ ﴿6﴾ وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ حَبَّبَ إِلَيْكُمُ الْإِيمَانَ وَزَيَّنَهُ فِي قُلُوبِكُمْ وَكَرَّهَ إِلَيْكُمُ الْكُفْرَ وَالْفُسُوقَ وَالْعِصْيَانَ أُوْلَئِكَ هُمُ الرَّاشِدُونَ ﴿7﴾ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَنِعْمَةً وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴿8﴾ وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَى فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّى تَفِيءَ إِلَى أَمْرِ اللَّهِ فَإِن فَاءتْ فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا بِالْعَدْلِ وَأَقْسِطُوا إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ ﴿9﴾ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ ﴿10﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا يَسْخَرْ قَومٌ مِّن قَوْمٍ عَسَى أَن يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ وَلَا نِسَاء مِّن نِّسَاء عَسَى أَن يَكُنَّ خَيْرًا مِّنْهُنَّ وَلَا تَلْمِزُوا أَنفُسَكُمْ وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ بِئْسَ الاِسْمُ الْفُسُوقُ بَعْدَ الْإِيمَانِ وَمَن لَّمْ يَتُبْ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ﴿11﴾ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّنِّ إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَب بَّعْضُكُم بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ ﴿12﴾ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَى وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّهِ أَتْقَاكُمْ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ﴿13﴾ قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا قُل لَّمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِن قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ وَإِن تُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَا يَلِتْكُم مِّنْ أَعْمَالِكُمْ شَيْئًا إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ ﴿14﴾ إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ لَمْ يَرْتَابُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ ﴿15﴾ قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ﴿16﴾ يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا قُل لَّا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُم بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿17﴾ إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ﴿18﴾

(شروع کرتا ہوں) اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے

اے ایمان والو! تم (کسی کام میں) خدا اور رسول(ص) سے آگے نہ بڑھو (سبقت نہ کرو) اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو۔ بےشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا جاننے والا ہے۔ (1) اے ایمان والو! تم اپنی آوازوں کو نبی(ص) کی آواز پر بلند نہ کیا کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ اونچی آواز میں کرتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت ہو جائیں اورتمہیں خبر بھی نہ ہو۔ (2) جو لوگ رسولِ خدا(ص) کے پاس (بات کرتے ہوئے) اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کیلئے آزمایا ہے ان کے لئے مغفرت اور اجرِ عظیم ہے۔ (3) اے رسول(ص)) جو لوگ آپ کو حجروں میں باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر عقل سے کام نہیں لیتے۔ (4) اور اگر وہ اتنا صبر کرتے کہ آپ خود ان کے پاس باہر نکل کر آجائیں تو یہ ان کیلئے بہتر ہوتا اور اللہ بڑا بخشنے والا اور بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (5) اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو تحقیق کر لیا کرو کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو لاعلمی میں نقصان پہنچا دو اور پھر اپنے کئے پر پچھتاؤ۔ (6) اور خوب جان لو کہ تمہارے درمیان رسولِ خدا(ص) موجود ہیں اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم زحمت و مشقت میں پڑ جاؤ گے لیکن اللہ نے ایمان کو تمہارا محبوب بنایا ہے اور اسے تمہارے دلوں میں مرغوب بنایا (آراستہ کیا) اور کفر، فسق اور نافرمانی کو تمہارے نزدیک مبغوض بنایا (اور تم کو ان سے متنفر کیا) یہی لوگ راہِ راست پر ہیں۔ (7) اللہ کے فضل و کرم اور اس کے انعام و احسان سے اور اللہ بڑا جاننے والا، بڑا حکمت والا ہے۔ (8) اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو تم ان کے درمیان صلح کراؤ پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے پر تعدی و زیادتی کرے تو تم سب ظلم وزیادتی کرنے والے سے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ حکمِ الٰہی کی طرف لوٹ آئے پس اگر وہ لوٹ آئے تو پھر تم ان دونوں کے درمیان عدل و انصاف کے ساتھ صلح کرا دو اور انصاف کرو۔ بےشک اللہ انصاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔ (9) بےشک اہلِ اسلام و ایمان آپس میں بھائی بھائی ہیں تو تم اپنے دو بھائیوں میں صلح کراؤ اور اللہ (کی عصیاں کاری) سے ڈرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔ (10) اے ایمان والو! کوئی قوم کسی قوم کامذاق نہ اڑائے ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کامذاق اڑائیں ہو سکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں اور نہ آپس میں ایک دوسرے کو طعنہ دو اور نہ ایک دوسرے کو برے القاب کے ساتھ پکارو۔ ایمان لانے کے بعد فاسق کہلانا کتنا برا نام ہے اور جو توبہ نہیں کریں گے (باز نہیں آئیں گے) وہی لوگ ظالم ہیں۔ (11) اے ایمان والو! بہت سے گمانوں سے پرہیز کرو (بچو) کیونکہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو اور کوئی کسی کی غیبت نہ کرے کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ وہ اپنے مُردہ بھائی کا گوشت کھا ئے؟ اس سے تمہیں کراہت آتی ہے اور اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو بےشک اللہ بڑا توبہ قبول کرنے والا، رحم کرنے والا ہے۔ (12) اے لوگو! ہم نے تمہیں ایک مرد (آدم(ع)) اور ایک عورت (حوا(ع)) سے پیدا کیا ہے اور پھر تمہیں مختلف خاندانوں اور قبیلوں میں تقسیم کر دیا ہے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔ بےشک اللہ کے نزدیک تم میں سے زیادہ معزز و مکرم وہ ہے جو تم میں سے زیادہ پرہیزگار ہے یقیناً اللہ بڑا جاننے والا ہے، بڑا باخبر ہے۔ (13) اعراب (صحرائی عرب) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں ان سے کہئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ابھی تمہارے دلوں میں داخل ہوا ہی نہیں ہے اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول(ص) کی اطاعت کرو گے تو وہ (اللہ) تمہارے اعمال سے کچھ بھی کمی نہیں کرے گا۔ بےشک اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔ (14) مؤمن تو پس وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور پھر کبھی شک نہیں کیا اور اپنے مالوں اور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد (بھی) کیا یہی لوگ سچے ہیں۔ (15) آپ(ص) کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کرتے ہو؟ حالانکہ اللہ وہ کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے اللہ ہر شے کو جانتا ہے۔ (16) (اے رسول(ص)) یہ لوگ اسلام لا کر آپ(ص) پر احسان جتاتے ہیں کہئے تم اپنے اسلام کا مجھ پر احسان نہ جتاؤ بلکہ تم پر اللہ کا احسان ہے کہ اس نے تمیں ایمان لانے کی ہدایت (توفیق) دی اگر تم (اپنے دعوائے ایمان میں) سچے ہو۔ (17) بےشک اللہ آسمانوں اور زمین کے سب غیب جانتا ہے اور تم جو کچھ کر رہے ہواللہ وہ سب کچھ خوب دیکھ رہا ہے۔ (18)

پچھلی سورت:
سورہ فتح
قرآن کریم اگلی سورت:
سورہ ق
سورہ 49

١.فاتحہ ٢.بقرہ ٣.آل‌عمران ٤.نساء ٥.مائدہ ٦.انعام ٧.اعراف ٨.انفال ٩.توبہ ١٠.یونس ١١.ہود ١٢.یوسف ١٣.رعد ١٤.ابراہیم ١٥.حجر ١٦.نحل ١٧.اسراء ١٨.کہف ١٩.مریم ٢٠.طہ ٢١.انبیاء ٢٢.حج ٢٣.مؤمنون ٢٤.نور ٢٥.فرقان ٢٦.شعراء ٢٧.نمل ٢٨.قصص ٢٩.عنکبوت ٣٠.روم ٣١.لقمان ٣٢.سجدہ ٣٣.احزاب ٣٤.سبأ ٣٥.فاطر ٣٦.یس ٣٧.صافات ٣٨.ص ٣٩.زمر ٤٠.غافر ٤١.فصلت ٤٢.شوری ٤٣.زخرف ٤٤.دخان ٤٥.جاثیہ ٤٦.احقاف ٤٧.محمد ٤٨.فتح ٤٩.حجرات ٥٠.ق ٥١.ذاریات ٥٢.طور ٥٣.نجم ٥٤.قمر ٥٥.رحمن ٥٦.واقعہ ٥٧.حدید ٥٨.مجادلہ ٥٩.حشر ٦٠.ممتحنہ ٦١.صف ٦٢.جمعہ ٦٣.منافقون ٦٤.تغابن ٦٥.طلاق ٦٦.تحریم ٦٧.ملک ٦٨.قلم ٦٩.حاقہ ٧٠.معارج ٧١.نوح ٧٢.جن ٧٣.مزمل ٧٤.مدثر ٧٥.قیامہ ٧٦.انسان ٧٧.مرسلات ٧٨.نبأ ٧٩.نازعات ٨٠.عبس ٨١.تکویر ٨٢.انفطار ٨٣.مطففین ٨٤.انشقاق ٨٥.بروج ٨٦.طارق ٨٧.اعلی ٨٨.غاشیہ ٨٩.فجر ٩٠.بلد ٩١.شمس ٩٢.لیل ٩٣.ضحی ٩٤.شرح ٩٥.تین ٩٦.علق ٩٧.قدر ٩٨.بینہ ٩٩.زلزلہ ١٠٠.عادیات ١٠١.قارعہ ١٠٢.تکاثر ١٠٣.عصر ١٠٤.ہمزہ ١٠٥.فیل ١٠٦.قریش ١٠٧.ماعون ١٠٨.کوثر ١٠٩.کافرون ١١٠.نصر ١١١.مسد ١١٢.اخلاص ١١٣.فلق ١١٤.ناس


حوالہ جات

  1. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۲، ص۱۳۰.
  2. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۲، ص۱۴۱.
  3. معرفت، آموزش علوم قرآن، ۱۳۷۱ش، ج۲، ص۱۶۶.
  4. خرم شاہی، دانش نامہ قرآن،۱۳۷۷شمسی ہجری، ص.
  5. رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۳۶۰و۵۹۶.
  6. فرهنگ‌نامہ علوم قرآن، ج۱، ص۲۶۱۲.
  7. علامہ طباطبایی، المیزان، ۱۴۱۷ق، ج۱۸، ص۳۰۵.
  8. خرم شاہی، دانش نامہ قرآن، ج۲، ص۱۲۵۲ـ۱۲۵۱.
  9. خامہ‌گر، محمد، ساختار سورہ‌ہای قرآن کریم، تہیہ مؤسسہ فرہنگی قرآن و عترت نورالثقلین، قم، نشر نشرا، چ۱، ۱۳۹۲ش.
  10. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۴ش، ج۲۲، ص۱۵۳.
  11. طباطبایی، المیزان، ترجمہ، ج۱۸، ص۴۷۵ـ۴۷۶.
  12. مرکز اطلاعات و مدارک اسلامى، فرہنگ‌ نامہ اصول فقہ، ۱۳۸۹ش، ص۶۲.
  13. بحرانی، البرہان فی تفسیر القرآن، ج۵، ص۱۰۸؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج۳، ص۱۴.
  14. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۲۲، ۱۳۷۴ش، ص۱۸۱.
  15. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ج۲۲، ۱۳۷۴ش، ص۱۸۴.
  16. طباطبایی، المیزان، ج۱۸، ص۴۸۴.
  17. فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت، ج۱، ص۱۹۹ـ۲۰۰.
  18. مکارم شیرازی، تفسیر نمونہ، ۱۳۷۳شمسی ہجری، ج۲۲، ص۱۹۷.
  19. احمدی بہرامی، شعوبیہ و تأثیرات آن در سیاست و ادب ایران و جہان اسلام، ۱۳۸۲شمسی ہجری، ص۱۳۶.
  20. طبرسی، مجمع البيان، ۱۳۷۲ش، ج‏۹، ص۱۹۶.
  21. صدوق، ثواب الاعمال، ۱۴۰۶ق، ص۱۱۵.
  1. قرآن کی 16 سورتوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ سیوطی نے انہیں ممتحنات کا نام دیا ہے۔رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲ش، ص۵۹۶ اور وہ سولہ سورتیں یہ ہیں:: فتح، حشر، سجدہ، طلاق، قلم، حجرات، تبارک، تغابن، منافقون، جمعہ، صف، جن، نوح، مجادلہ، ممتحنہ اور تحریم۔ (رامیار، تاریخ قرآن، ۱۳۶۲شمسی ہجری، ص۳۶۰.)

مآخذ

  • قرآن کریم، ترجمہ محمد حسین نجفی (سرگودھا)۔
  • احمدی بہرامی، حمید، «شعوبیہ و تأثیرات آن در سیاست و ادب ایران و جہان اسلام»، مجلہ پژوہشی دانشگاہ امام صادق(علیہ السلام)، ش۱۸و۱۹، ۱۳۸۲شمسی ہجری۔
  • الحاکم النیشابوری، الامام الحافظ ابوعبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، دارالمعرفہ، بیروت (لبنان)، بی‌تا.
  • رامیار، محمود، تاریخ قرآن، تہران، انتشارات علمی و فرہنگی، ۱۳۶۲شمسی ہجری۔
  • بحرانی، ہاشم بن سلیمان، البرہان فی تفسیر القرآن، بنیاد بعثت، تہران، ۱۴۱۶ھ۔
  • خرمشاہی، بہاء الدین، دانشنامہ قرآن و قرآن‌پژوہی، تہران: دوستان-ناہید، ۱۳۷۷شمسی ہجری۔
  • صدوق، ابن بابویہ، محمد بن علی، ثواب الأعمال و عقاب الأعمال‏، قم: دار الشریف رضی، ۱۴۰۶ھ۔
  • طباطبایی، سیدمحمدحسین، المیزان فی تفسیرالقرآن، قم: انتشارات اسلامی، ۱۴۱۷ھ۔
  • طبرسى، فضل بن حسن، مجمع البيان فى تفسير القرآن، تہران: ناصرخسرو، ۱۳۷۲شمسی ہجری۔
  • فرہنگ فقہ مطابق مذہب اہل بیت علیہم السلام، تحقیق و تألیف: مؤسسہ دائرۃ المعارف فقہ اسلامی، زیر نظر: محمود ہاشمی شاہرودی، قم، مؤسسہ دائرة المعارف فقہ اسلامی، ۱۳۸۲شمسی ہجری۔
  • فرہنگ‌نامہ علوم قرآن، قم، دفتر تبلیغات اسلامی حوزہ علمیہ قم.
  • مركز اطلاعات و مدارك اسلامى، فرہنگ نامہ اصول فقہ، قم، پژوہشگاہ علوم و فرہنگ اسلامي،‏ چاپ اول،۱۳۸۹شمسی ہجری۔
  • معرفت، محمدہادی، آموزش علوم قرآن، قم: تمہید، ۱۳۷۱شمسی ہجری۔
  • مكارم شيرازى، ناصر، تفسیر نمونہ، تہران: دار الكتب الإسلاميۃ، ۱۳۷۴شمسی ہجری۔