عہد نامہ مالک اشتر

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نسخہ کا نام مکتوب نمبر
المعجم المفہرس، صبحی صالح، فیض الاسلام،
ملاصالح، ابن ابی الحدید، عبده
53
ابن میثم، خوئی، فی ظلال 52
ملافتح اللہ 56

عہد نامہ مالک اشتر، من جملہ ان مکتوبات میں سے ہے جسے امام علی(ع) نے مالک اشتر کو مصر کی گونری پر منصوب کرنے کے بعد انہیں حکمرانی کے آداب و اصول کی طرف متوجہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے۔

یہ عہدنامہ، امام علی(ع) سے منسوب مفصل ترین مکتوبات میں سے ایک ہے اور دنیا کی کئی زندہ زبانوں میں اس کا ترجمہ اور شرح لکھی گئی ہے۔ آداب الملوک نامی کتاب فارسی زبان میں اس مکتوب کی شرح ہے۔

نہج البلاغہ کے موجودہ نسخوں کی ترتیب میں اس مکتوب کا نمبر متفاوت ہے۔[1]

چاپلوسوں سے دور رہو

پھر تمہارے نزدیک لوگوں میں زیادہ ترجیح ان لوگوں کو ہونا چاہئے کہ جو حق کی کڑوی باتیں تم سے کھل کرکہنے والے ہوں اور ان چیزوں میں جنہیں اللہ اپنے مخصوص بندوں کے لئے ناپسند کرتا ہے تمہاری بہت کم مدد کرنے والے ہوں چاہئے وہ تمہاری خواہشوں سے کتنی ہی میل کھاتی ہوں۔ پرہیزگاروں اور راستبازوں سے اپنے کو وابستہ رکھنا ۔پھر انہیں اس کا عادی بنا نا کہ وہ تمہارے کسی کارنامے کے بغیر تمہاری تعریف کرکے تمہیں خوش نہ کریں ۔کیونکہ زیادہ مدح سرائی غرور پیدا کرتی ہے اور سرکشی کی منزل سے قریب کر دیتی ہے

نہج البلاغہ، ترجمہ شہیدی، نامہ ۵۳، ص۳۲۸

مضامین

ناحق خون ریزی سے پرہیز کرو

دیکھو ! ناحق خون ریزیوں سے دامن بچائے رکھنا۔ کیونکہ عذاب الہی سے قریب اور پاداش کے لحاظ سے سخت اور نعمتوں کے سلب ہونے اور عمر کے خاتمہ کا سبب نا حق خون ریزی سے زیادہ کوئی شۓنہیں ہے اور قیامت کے دن اللہ سبحانہ سب سے پہلے جو فیصلہ کرے گا وہ انہیں خونوں کا جو بندگانِ خدا نے ایک دوسرے کے بہائے ہیں ۔لہذا نا حق خون بہا کر اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی کبھی کوشش نہ کرنا کیونکہ یہ چیز اقتدار کو کمزور اور کھوکھلاکر دینے والی ہوتی ہے ،بلکہ اس کو بنیادوں سے ہلاکر دوسروں کو سونپ دینے والی، اور جان بوجھ کر قتل کے جرم میں اللہ کے سامنے تمہارا کوئی عذر چل سکے گا ،نہ میرے سامنے، کیونکہ اس میں قصاص ضروری ہے ۔

اور اگر غلطی سے تم اس کے مرتکب ہو جاؤ اور سزا دینے میں تمہارا کوڑا یا تلوار یا ہاتھ حد سے بڑھ جا ئے اس لئے کہ کبھی گھونسا اور اس سے