غزوہ خندق

ویکی شیعہ سے
(جنگ خندق سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
غزوہ خندق / غزوہ احزاب
سلسلۂ محارب:
رسول خداؐ کے غزوات
غزوۂخندق.png
تاریخ
مقام حجاز، مدینہ
محل وقوع مسجد نبوی سے 1400 میٹر شمال کی جانب
نتیجہ مسلمانوں کی فتح
سبب بنی نضیر کی سازش
ملک حجاز
فریقین
مسلمین یہود اور مشرکین قریش
قائدین
حضرت محمدؐ ابو سفیان
نقصانات
6 مسلمانوں کی شہادت 8 افراد کی ہلاکت
مسلمانوں نے سلمان فارسی کی تجویز پر مدینہ کے گرد [شمال کی طرف سے آنے والے راستوں کی بندش کے لئے] خندق کھود لی اور علی(ع) نے مشرکین کے ایک پہلوان عمرو بن عبد ود کو ہلاک کردیا۔ سورہ بقرہ کی آیت 214، سورہ نساء کی آیات 51 تا 55 اور سورہ احزاب کی آیات 9 تا 25 جنگ خندق کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔


پیغمبر اکرمؐ کی مدنی زندگی
ہجرت نبوی 622ء بمطابق 1ھ
معراج 622ء بمطابق 1ھ
غزوہ بدر 624ء بمطابق 17 رمضان سنہ 2ھ
بنی‌قینقاع کی شکست 624ء بمطابق 15 شوال سنہ 2ھ
غزوہ احد 625ء بمطابق شوال سنہ 3ھ
بنو نضیر کی شکست 625ء بمطابق سنہ 4ھ
غزوہ احزاب 627ء بمطابق سنہ 5ھ
بنو قریظہ کی شکست 627ء بمطابق سنہ 5ھ
غزوہ بنی مصطلق 627ء بمطابق سنہ 5 یا 6ھ
صلح حدیبیہ 628ء بمطابق سنہ 6ھ
غزوہ خیبر 628ء بمطابق سنہ7ھ
پہلا سفرِ حجّ 629ء بمطابق 7ھ
جنگ مؤتہ 629ء بمطابق 8ھ
فتح مکہ 630ء بمطابق 8ھ
غزوہ حنین 630ء بمطابق 8ھ
غزوہ طائف 630ء بمطابق 8ھ
جزیرة العرب پر تسلط 631ء بمطابق 9ھ
غزوہ تبوک 632ء بمطابق 9ھ
حجۃ الوداع 632ء بمطابق 10ھ
واقعۂ غدیر خم 632ء بمطابق 10ھ
وفات 632ء بمطابق 11ھ

غزوہ خندق یا غزوہ احزاب جسے عربی میں غزوة الخندقکہتے ہیں۔یہ غزوہ سنہ 5 ہجری میں قببیلۂ بنی نضیر کی سازش کے نتیجے میں شروع ہوا اور قبیلۂ قریش اسلام کی بیخ کنی کے لئے کفار اور عرب کے تمام حلیف قبائل کے ساتھ متحد ہوا۔ اس جنگ میں مشرکین اور یہود کی سپاہ 10000 افراد پر مشتمل تھی جبکہ مسلمین کی سپاہ میں 3000 افراد شامل تھے۔ مدینہ میں سکونت پذیر بنو قریظہ نے عہد کیا تھا کہ وہ جنگ کی صورت میں رسول اللہؐ کا ساتھ دیں گے نہ ہی آپؐ کے دشمنوں کی مدد کریں گے، لیکن اس کے باوجود انھوں نے اپنا عہد پامال کرتے ہوئے مشرکین کے ساتھ اتحاد کرلیا۔ مشرکین کا مقابلہ کرنے کی غرض سے سلمان کی تجویز پر مسلمانوں نے شہر مدینہ کے اطراف میں ایک خندق کھود لی۔ یہ جنگ مسلمانوں کی فتح پر اختتام پذیر ہوئی اور دشمنوں کو پسپا ہونا پڑا۔

عمرو بن عبد ود ایک بہادر شخص تھا اور اس کی شجاعت زبانزد عام و خاص تھی۔ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ خندق پھلانگ کر مسلمانوں کی جانب آیا اور جنگ کے لئے مبارز طلب کیا؛ مسلمانوں نے خوف کے مارے خاموشی اختیار کرلی۔ بالآخر علی بن ابی طالب(ع) رضاکارانہ طور پر ـ اور رسول خداؐ کی اجازت سے ـ میدان میں آئے اور عمرو کو ہلاک کر ڈالا۔ علی(ع) کا یہ اقدام ـ جو عمرو کے قتل پر منتج ہوا ـ جنگ میں اسلام کی فتح و نصرت اور کفار کی شکست میں اس قدر مؤثر تھا کہ رسول خداؐ نے فرمایا:

ضَربَةُ عَليٍ يَومَ الخَندقِ افضلُ من عبادة الثقلين۔
یعنی غزوہ خندق کے روز علی(ع) کی ایک ضربت ثقلین ( جنات اور انسانوں) کی عبادت سے افضل و برتر ہے۔

اس جنگ کا دوسرا نام

یہ جنگ غزوہ احزاب کے نام سے بھی مشہور ہے؛[1] کیونکہ اس جنگ اور اسلام کی بیخ کنی کے لئے مشرکین قریش نے اپنے حلیفوں کے ہمراہ عرب کے دیگر کافر قبائل اور یہودیوں سے اتحاد کرلیا۔[2]

تاریخ

اکثر مؤرخین نے لکھا ہے کہ یہ غزوہ سنہ 5 ہجری میں واقع ہوا۔[3] بعض مآخذ میں منقول ہے کہ جنگ خندق شوال میں انجام پائی[4] جبکہ بعض دوسروں کے مطابق یہ جنگ ذوالقعدہ میں لڑی گئی۔[5] نیز مروی ہے کہ رسول خداؐ نے پنج شنبہ 10 شوال المکرم کو اس جنگ کے لئے عزیمت کی اور شنبہ یکم ذوالقعدۃ الحرام کو اختتام پذير ہوئی۔[6]

آغاز جنگ کے اسباب

بنو نضیر نے خیانت کی تو رسول خداؐ نے انہیں مدینہ بدر کیا؛ وہ خیبر کی طرف چلے گئے اور دوسرے یہودیوں کو رسول اللہؐ کے خلاف جنگ کے لئے اکسایا اور بنو نضیر کے اسی اقدام کو جنگ خندق کی بنیادی وجہ قرار دیا جاسکتا ہے۔ بعدازاں بنو نضیر اور بنو وائل کے بعض یہودیوں ـ منجملہ حُیی بن اَخْطَب نضری، سلام بن ابی الحُقَیق نضری، کنانۃ بن ربیع بن ابی الحقیق نضری، ہَوذۃ بن قیس وائلی اور ابوعمّار وائلی[7]، مکہ چلے گئے اور ابو سفیان اور قریش کو رسول خدا(ص اور مسلمانوں کے خلاف اکسایا۔ ابو سفیان نے یہودیوں کے ساتھ عہد و پیمان اور رسول خداؐ کے ساتھ دشمنی جنگ کی اس تجویز کا خیر مقدم کیا اور یوں مشرکین اور یہودی اتحادی بن گئے۔[8] بعدازاں قبیلۂ غلطفان کے یہودی (عُیینَۃ بن حِصن فَزاری) کی سرکردگی میں مشرکین کے پاس پہنچے اور انہیں خیبر کے نخلستانوں کی ایک سال کی پیداوار دینے کا وعدہ دیا چنانچہ قریش نے حامی بھر لی۔[9] اس کے بعد وہ بنی سُلَیم بن منصور کے پاس پہنچے اور ان کی حمایت بھی حاصل کی۔[10]

مسلمین اور مشرکین کی تعداد اور چھاؤنیاں

اس جنگ میں مشرکین اور احزاب میں شامل تمام قبائل کے جنگجؤوں کی تعداد 10000 تک پہنچتی تھی۔[11] قریش اور ان کے حلیفوں کے مشترکہ لشکر 4000 افراد شامل تھے جن کے پاس 300 گھوڑے اور 1500 اونٹ تھے۔[12] بعض مآخذ و منابع میں بیان ہوا ہے کہ (قریش، غطفان، سُلَیم، اَسد، اَشجع، قُرَیظہ، نضیر و دیگر یہودیوں) کا لشکر مجموعی طور پر 24000 افراد پر مشتمل تھا۔[13] بہرحال، مشرکین اور یہودیوں کے اس اتحاد اور لام بندی سے معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے اسلام کو نیست و نابود کرنے کا عزم کررکھا تھا۔ اسی بنا پر رسول اللہؐ نے [عمرو کی للکار کے بعد علی(ع) کے میدان میں آنے پر] فرمایا: برز الإيمان كلہ إلى الشرك كلہ۔
یعنی "آج پورا ایمان پورے شرک کے مقابلے میں میں آیا ہے۔[14] جبکہ دوسری طرف سے بعض مؤرخین نے مسلم مجاہدین کی تعداد صرف 3000 بتائی ہے۔[15] یعقوبی نے مسلمانوں کی تعداد 700 بیان کی ہے۔[16]

مشرکین کی سپاہ تین لشکروں پر مشتمل تھی:

  1. ابو سفیان بن حرب کی سرکردگی میں قریش اور حلیفوں کا مشترکہ لشکر؛ خالد بن ولید،، عکرمہ بن ابی جہل، عمرو بن عاص، صفوان بن عمرو اور عمرو بن عبدود۔ بنو سلیم کے بھجوائے گئے۔ ابو سفیان کے لشکر میں بنو سلیم اور متحدہ قبائل منجملہ "کنانہ اور تِہامہ" سمیت مختلف چھوٹے بڑے حلیف قبائل (جنہیں احابیش کہا جاتا تھا) کے سپاہیوں سمیت 4700 افراد شمال تھے جن کے پاس 300 گھوڑے اور 1500 اونٹ بھی تھے۔ یہ لشکر جُرف اور زَغابہ کے درمیان واقع "رومہ" نامی علاقے میں تعینات تھا۔[17]
  2. عیینہ بن حصن فزاری، مسعود بن رخیلہ اور حارث بن عوف کی سرکردگی میں غطفان اور نجد سے ان کے حلیف قبائل کا مشترکہ لشکر جن کی تعداد 1800 تک پہنچتی تھی اور یہ کوہ احد کے قریب تعینات تھے۔ اس لشکر میں بھی 300 گھڑ سوار بھی شامل تھے۔[18]
  3. طلیحہ بن خویلد اسدی کی سرکردگی میں بنو اسد بھی حاضر تھے اور بنو نضیر کے یہودی بھی قریش کا ساتھ دے رہے تھے جو زیادہ تر فکری اور ترغیبی کردار ادا کررہے تھے۔ بنو قریظہ کے یہودی بھی جنگ کے دوران اپنا معاہدہ توڑ چکے تھے اور احزاب کے اتحادیوں میں شمار ہوتے تھے۔ زیادہ تر مؤرخین کا خیال ہے کہ احزآب کی سپاہ 10000 افراد پر مشتمل تھی۔[19]۔[20]

احزاب کی سپاہ غزوہ خندق سے قبل حجاز میں بے مثل تھی اور ماضي میں اس کی مثال نہیں ملتی تھی۔ اس سپاہ کی ایک امتیازی خصوصیت ـ جو اس کو مسلمانوں پر برتری دے رہی تھی ـ یہ تھی کہ اس میں 600 گھڑ سوار شامل تھے۔ یقینا مسلمانوں کی ایک فکرمندی یہی رہی ہوگی کہ کسی طرح دشمن کے سواروں کا راستہ روکا جائے اور ان کو کوئی مؤثر کام انجام دینے کا موقع نہ دیا جائے۔

سلمان فارسی کی تجویز پر خندق کی کھدائی

قبیلۂ خزاعہ رسول خداؐ کے حلیفوں میں شمار ہوتا تھا۔ اس قبیلے کے بعد افراد نے آپؐ کو مشرکین کے ارادے سے آگاہ کیا تو آپؐ نے [[مدینہ میں دشمن کی مزاحمت کرنے یا پھر شہر سے نکل کر مقابلہ کرنے کے بارے میں، لوگوں سے صلاح مشورے کئے۔ سلمان فارسی نے عرض کیا "ملک فارس" میں بت ددشمن کے سواروں کی جانب سے خطرہ محسوس کرتے تھے تو اپنے گرد خندق کھود لیتے تھے۔ اہلیان مدینہ کو یاد تھا کہ رسول خداؐ نے جنگ احد میں انہیں شہر میں رہ کر دفاع کرنے کا مشورہ کیا تھا لیکن وہ آپؐ کا مشورہ نہ مان کر اس جنگ میں شکست سے دوچار ہوئے تھے چنانچہ انھوں نے شہر میں رہ کر دفاع کرنے کا فیصلہ کیا اور سلمان فارسی کی خندق کھودنے کی تجویز سے اتفاق کیا۔ خندق کھودنا اس زمانے تک عربوں میں رائج نہ تھا اور چنانچہ خندق مسلمانوں نیز مشرکین کی حیرت کا سبب بنی۔[21]

دوسری طرف سے مسلمانوں کا لشکر رسول اللہؐ کی قیادت میں کوہ سَلْع کے دامن میں تعینات تھا اور آپؐ نے مسلمانوں کے بچوں اور خواتین کو مدینہ کے قلعوں میں بسایا۔[22]


خندق کی کھدائی

رسول خداؐ نے مسلمانوں کو فرما دیا کہ کوہ سَلْع، کی پشت پر اپنے سامنے کے علاقے میں خندق کھود لیں۔[23] اور اس کی کھدائی کا آغاز "مُذاد" (= جو مسجد فتح کے مغرب میں واقع ایک قلعہ تھا) سے کریں اور کھدائی کا سلسلہ کوہ ذُباب اور کوہ راتِجْ (= کوہ بنی عبید) کے برابر میں اور بَطْحان کے مغرب میں واقع ہے) تک جاری رکھیں۔[24] آپؐ نے ہر 10 آدمیوں کو چالیس ذراع خندق کھودنے کی ذمہ داری سونپ دی[25] اور ہر حصہ ایک قبیلے کے سپرد کیا[26] ایک روایت کے مطابق قرار یہ پایا کہ مہاجرین راتج سے ذباب تک اور انصار ذباب سے کوہ بنی عبید تک کھدائی کریں۔[27] رسول خداؐ نے مسلمانوں کو رغبت دلانے کے لئے خود بھی خندق کی کھدائی میں شرکت کی[28] اور خندق کے لئے دروازے یا دہانے قرار دیئے اور ہر قبیلے کے ایک فرد کو ان کی پہرہ داری پر مامور کیا۔[29]

مسلمانوں نے خندق کھودنے کے لئے بیلچوں، کدالوں، تیشوں اور ٹوکریوں سمیت بہت سے آلات اور اوزار بنو قریظہ سے بطور امانت لئے تھے جو اس وقت مسلمانوں کے حلیف سمجھے جاتا تھے۔[30]

ابن ہشام اور طبری کی روایت کے مطابق، خداوند متعال نے رسول اللہؐ کی اجازت کے بغیر کام سے ہاتھ نہ کھینچنے والوں نیز کام میں سستی اور کاہلی دکھانے والے اور آپؐ کی اجازت کے بغیر اپنے خاندانوں کے پاس جانے والے منافقوں کے بارے میں بعض آیات نازل فرمائیں؛ جیسے:

إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَرَسُولِهِ وَإِذَا كَانُوا مَعَهُ عَلَى أَمْرٍ جَامِعٍ لَمْ يَذْهَبُوا حَتَّى يَسْتَأْذِنُوهُ إِنَّ الَّذِينَ يَسْتَأْذِنُونَكَ أُوْلَئِكَ الَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ فَإِذَا اسْتَأْذَنُوكَ لِبَعْضِ شَأْنِهِمْ فَأْذَن لِّمَن شِئْتَ مِنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمُ اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (62) لَا تَجْعَلُوا دُعَاء الرَّسُولِ بَيْنَكُمْ كَدُعَاء بَعْضِكُم بَعْضاً قَدْ يَعْلَمُ اللَّهُ الَّذِينَ يَتَسَلَّلُونَ مِنكُمْ لِوَاذاً فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَن تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ۔[31]
ترجمہ: ایمان والے بس وہ ہیں جو اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہوں اور جب اس (پیغمبر) کے ساتھ کسی مشترک معاملہ پر غور میں مصروف ہوں تو جائیں نہیں جب تک آپ سے اجازت نہ لے لیں، یقینا وہ جو آپ سے اجازت طلب کرتے ہیں، وہ یہ ہیں جو اللہ اور اس کے پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں تو جب وہ آپ سے اپنی کچھ ضروریات کی وجہ سے اجازت مانگیں تو ان میں سے جسے چاہیے اجازت دے دیجئے اور ان کے لیے اللہ سے بخشش کی دعا کیجئے، بلاشبہ اللہ بخشنے والا ہے، بڑا مہربان (62) نہ بناؤ پیغمبر کے پکارنے کو اپنے درمیان اس طرح جیسے تم میں سے ایک دوسرے کو پکارتا ہے۔ اللہ جانتا ہے تم میں کے ان لوگوں کو جو پناہ لیتے ہوئے کھسک جاتے ہیں تو ڈرنا چاہیے انہیں جو اس کے حکم سے انحراف کرتے ہیں اس بات سے کہ پہنچے انہیں کوئی آزمائش یا پہنچے انہیں دردناک عذاب (63)۔[32]

خندق کی کھدائی کے دوران ایک سخت چٹان ظاہر ہوئی تو رسول اللہؐ نے اس پر تین ضربیں لگائیں اور ہر بار چٹان پر کدال پڑنے سے چنگاری اڑی اور ہر چنگاری اڑنے پر آپؐ نے اللہ اکبر کہہ کر فرمایا کہ "مجھے شام، یمن اور فارس کی چابیاں مل گئي ہیں۔ اور یوں آپؐ نے مسلمانوں کو ان ممالک کی فتح کی بشارت دی۔[33] خندق کی کھدائی 6 دنوں میں مکمل ہوئی۔[34]

بنو قریظہ کی غداری

مسلمانوں کو شدید صعوبتیں جھیلنا پڑ رہا تھا کہ اسی اثناء میں خبر ملی کہ بنو قریظہ ـ جو عہد کرچکے تھے کہ جنگ کی صورت میں رسول اللہؐ کا ساتھ دیں گے اور نہ آپ(ع) کے خلاف کسی کا ساتھ دیں گے ـ عہد توڑ چکے ہیں اور مشرکین کے اتحادیوں میں شامل ہوئے ہیں۔ بنو قریظہ کا زعیم کعب بن اسد قُرَظی ـ اگرچہ ابتداء میں نقض عہد کا ارادہ نہیں رکھتا تھا ـ حُیی بن اَخْطَب کی تحریک پر عہدشکنی کا مرتکب ہوا تھا۔[35]

رسول اللہؐ نے ان اطلاعات کی نسبت حصول اطمینان کی غرض سے دو قبائل "اوس و خزرج" کے سربراہوں (بالترتیب "سعدبن مُعاذ" اور "سعد بن عُبادہ") کو بنو قریظہ کی جانب روانہ کیا اور ان کو ہدایت کی کہ بنو قریظہ کے نقض عہد کی خبر کو ـ اگر صحیح ہے ـ تو اجمالی طور پر آپؐ ہی تک پہنچا دیں تاکہ مسلمانوں کے حوصلے پست نہ ہوں۔ بنو قریظہ نے شدید ترین لب و لہجے اور نہایت بھونڈے جملوں کے ساتھ ان دو کا جواب دیا۔ وہ دونوں پلٹ آئے اور دو دیگر قبائل (عضل اور قارہ) کا نام لے کر بنو قریظہ کی غداری کی خبر آتؐ کو کہہ سنائی۔ ان دو قبائل نے قبل ازاں "رجیع" کے المیے میں خُبَیب بن عَدی اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ خیانت کی تھی چنانچہ ان دو افراد نے بنو قریظہ کی خیانت کی خبر دینے کے لئے ان کا نام لیا۔[36]

مسلمانوں کو درپیش مسائل

مسلمانوں کو اب مدینہ میں ہی میں اپنے عقبی علاقوں میں بنو قریظہ کی جانب سے اپنے خاندانوں کے تحفظ کا مسئلہ درپیش تھا اور سامنے سے مشرکین کی ایک بڑی اور طاقتور فوج کا سامنا تھا جن کے بعض دستے وقتا فوقتا خندق کے تنگ حصوں سے گذر کر مسلمانوں کے ساتھ لڑ جاتے تھے،[37] چنانچہ وہ شدید خوف وہراس میں مبتلا تھے۔

قرآن کریم نے مسلمانوں کے خوف و ہراس اور اللہ کے وعدوں پر ان کی بدگمانی کو واضح طور پر بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے[38]:

 : إِذْ جَاؤُوكُم مِّن فَوْقِكُمْ وَمِنْ أَسْفَلَ مِنكُمْ وَإِذْ زَاغَتْ الْأَبْصَارُ وَبَلَغَتِ الْقُلُوبُ الْحَنَاجِرَ وَتَظُنُّونَ بِاللَّهِ الظُّنُونَا (10) هُنَالِكَ ابْتُلِيَ الْمُؤْمِنُونَ وَزُلْزِلُوا زِلْزَالاً شَدِيداً (11) وَإِذْ يَقُولُ الْمُنَافِقُونَ وَالَّذِينَ فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ مَّا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ إِلَّا غُرُوراً (12)۔[39]
ترجمہ: جس وقت آئے وہ تمہاری طرف اوپر سے اور نیچے سے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل کھنچ کر گلوں تک آ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے (10) اس وقت آزمائش ہوئی ایمان لانے والوں کی اور وہ بڑے سخت زلزلے میں مبتلا کیے گئے (11) اور جب منافق لوگ اور وہ جن کے دلوں میں بیماری تھی کہنے لگے کہ ہم سے اللہ اور اس کے پیغمبر نے وعدہ نہیں کیا تھا مگر دھوکا دینے کے لئے (12)۔

یہ خوف اس قدر شدید تھا کہ مُعَتّب بن قُشیر، ـ جو منافقین میں سے تھا ـ نے کہا: "محمد نے ہمیں کسری اور فیصر کے قصور و محلات کی تسخیر کے وعدے دے رہے تھے جبکہ اس وقت ہماری حالت یہ ہے کہ قضائے کسی میں حاجت کے لئے گھر سے نکلنے کی جرات تک نہیں ہے![40] معتب کے بارے میں دوسرا قول یہ ہے کہ مسلمان تھا، اہل بدر تھا اور منافقین میں شمار نہیں ہوتا تھا۔[41]

مسلمان شب و روز شدید سردی میں اور بھوک کی حالت میں باری باری خندق کی نگرانی کرتے تھے۔[42]

اس دوران مسلمانوں کی بھوک مٹانے کے سلسلے میں رسول خداؐ سے بعض معجزات بھی نقل ہوئے ہیں۔[43]

ایک روز دشمن کا حملہ اس قدر شدید تھا کہ رسول خداؐ کہ ـ کہا گیا ہے کہ ـ رسول خداؐ ظہر اور عصر کی نماز ادا نہیں کرسکے اور آپؐ نے رات ایک پہر گذرنے کے بعد مغرب اور عشاء کے ساتھ نماز ظہر و عصر بھی ادا کی۔[44]

بعض مسلمان ـ منجملہ بنو حارثہ نے ـ اَوس بن قَیظی، کو ـ اس بہانے سے کہ ان کے گھروں کا کوئی حصار نہیں ہے اور انہیں دشمن کے حملے اور گھروں سے چوری کے سلسلے میں تشویش لاحق ہے ـ رسول خداؐ کے پاس بھیج کر آپؐ سے واپسی کی اجازت لیتے تھے۔[45]

خالد بن ولید، عمرو بن عاص، اور ابو سفیان کے حملوں اور شدید تیر اندازیوں اور فریقین کے بہت سے افراد ـ منجملہ مسلمانوں میں سے سعد بن معاذ کے زخمی ہونے کے بارے میں بھی روایات نقل ہوئی ہیں۔[46]

بنو قریظہ کی عہد شکنی اور شدید سردی، نیز قحط اور بھوک کی وجہ سے مسلمانوں کو شدید ترین دباؤ کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔[47] یہاں تک کہ رسول خداؐ نے اللہ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہوئے عرض کیا: "اے اللہ! کیا تو چاہتا ہے کہ کوئی تیری بندگی نہ کرے"۔[48] قرآن کریم نے بھی بعض آیات کریمہ کے ضمن میں اس مسئلے کی طرف اشارہ فرمایا ہے[49]:

أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا يَأْتِكُم مَّثَلُ الَّذِينَ خَلَوْاْ مِن قَبْلِكُم مَّسَّتْهُمُ الْبَأْسَاء وَالضَّرَّاء وَزُلْزِلُواْ حَتَّى يَقُولَ الرَّسُولُ وَالَّذِينَ آمَنُواْ مَعَهُ مَتَى نَصْرُ اللّهِ أَلا إِنَّ نَصْرَ اللّهِ قَرِيبٌ۔[50]
ترجمہ: کیا تم سمجھتے ہو کہ تم بہشت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی تمہیں تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کی سی صورتیں پیش نہیں آئیں کہ انہیں فقروفاقہ اور سختیاں درپیش ہوئیں اور انہیں ہچکولے دئیے گئے یہاں تک کہ پیغمبر اور ان کے ساتھ کے ایمان لانے والے کہنے لگے کہ آخر اللہ کی مددکب آئے گی ، خبردار رہو کہ بلاشبہ اللہ کی مدد نزدیک ہی ہے۔

بنو قریظہ کا خطرہ

جب رات کی تاریکی میں مدینہ کے مرکز پر بنو قریظہ کے حملے کا خطرہ بڑھ گیا تو رسول خداؐ نے 500 اصحاب کو دو دستوں میں منظم کرکے مسلمانوں کے گھروں کی حفاظت کے لئے روانہ کیا؛ مسلمان پوری رات تکبیر کے نعرے لگاتے رہے کیونکہ ان کو قریش کی طرف سے اپنے اوپر کسی حملے کی اتنی فکر نہ تھی جتنے کہ وہ بنو قریظہ کی طرف اپنے بیوی بچوں پر حملے سے تشویش لاحق تھی۔[51] ایک رات انجانے میں مسلمانوں کے دو مسلح دستوں کے درمیان جھڑپ ہوئی اور دونوں دستوں نے ایک دوسرے پر تیر برسائے۔ اس واقعے کے بعد مسلمان گشت کے دوران "حم؛ لایُنصَرون‌" کا نعرہ لگایا کرتے تھے تاکہ اس قسم کا واقعہ دوبارہ پیش نہ آئے۔[52]

علی(ع) عمرو بن عبدود کے مد مقابل

اس معرکے میں عمرو بن عبدود ـ جس کی شجاعت زبانزد خاص و عام تھی اور ایک ہزار سواروں کے برابر سمجھا جاتا تھا ـ چند ساتھیوں کے ہمراہ خندق کے ایک تنگ حصے کو پھلانگنے میں کامیاب ہوئے۔ علی(ع) اور چند دوسرے مسلمانوں نے اس کا راستہ روک لیا۔ عمرو بن عبدود، جو جنگ بدر میں زخمی ہوا تھا اور جنگ احد میں شرکت نہیں کرسکا تھا، اس جنگ میں پوری طرح تیار ہوکر آیا تھا۔ وہ رجز خوانی کرتا ہوا مبارز طلب کررہا تھا۔ حضرت علی(ع) لڑنے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے لیکن رسول خداؐ نے آپ(ع) کو رکنے کا حکم دیا تا کہ شاید کوئی دوسرا مسلمان اٹھے۔ مسلمانوں نے عمرو اور اس کے ساتھ آنے والے دلیروں کے خوف سے چھپ سادھ لی تھی اور کوئی بھی رضاکارانہ طور پر عمرو کا سامنا کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔ بات طویل ہوئی تو عمرو نے نہایت غرور و نخوت کے ساتھ کہا: "میری آواز مبارز طلبی کرتے کرتے بیٹھ گئی"، چنانچہ علی(ع) رسول اللہؐ کے اذن سے جنگ کے لئے تیار ہوئے۔ پیغمبر اسلامؐ نے اپنا عمامہ اٹھا کر علی(ع) کے سر پر رکھا اور اپنی تلوار بھی عطا کی اور انہیں جنگ کے لئے روانہ کیا۔ حضرت علی(ع) آگے بڑھے اور عمرو کے سامنے ٹہرے اور فرمایا: اسلام قبول کرو یا جنگ ترک کرکے واپس چلے جاؤ۔ عمرو نے دونوں تجاویز مسترد کردیں۔ چنانچہ ان کے درمیان لڑائی کا آغاز ہوا اور علی(ع) نے عمرو کے وار کو ڈھال کے ذریعے روک لیا اور پھر ایک ضرب لگا کر اس کو ہلاک کر ڈالا؛ یہ دیکھ کر عمرو کے ساتھی فرار ہوگئے۔ علی(ع) نے اس کامیابی پر اللہ اکبر کا نعرہ لگایا اور بعدازاں نوفل بن عبداللہ کو ـ جو خندق کی گذرگاہ میں پھنس چکا تھا ـ مختصر سی جنگ کے بعد ہلاک کردیا اور رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔[53]

علی(ع) کی شان میں رسول خداؐ کے ارشادات

اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
ایک ضرب ید اللہٰی، اک سجدہ شبیری

علی(ع) کا یہ اقدام ـ جو عمرو کے قتل پر منتج ہوا ـ جنگ میں اسلام کی فتح و نصرت اور کفار کی شکست میں اس قدر مؤثر تھا کہ رسول خداؐ نے فرمایا:

ضَربَةُ عَليٍ يَومَ الخَندقِ افضلُ من عبادة الثقلين۔
ترجمہ: غزوہ خندق کے روز علی(ع) کی ایک ضربت ثقلین (جن و انس) کی عبادت سے افضل و برتر ہے۔[54]

نیز حاکم نیشابوری نے روایت کی ہے کہ رسول اللہؐ نے فرمایا:

لمبارزة علي بن ابى طالب لعمرو بن عبدود يوم الخندق افضل من اعمال امتى إلى يوم القيامة۔
ترجمہ: عمرو کے ساتھ علی(ع) کی جنگ میری امت کے قیامت تک کے اعمال سے افضل و برتر تھی۔[55]

اور عمرو کی للکار کے بعد علی(ع) کے میدان میں آنے پر] فرمایا:

برز الإيمان كله إلى الشرك كله ۔
ترجمہ: آج پورا ایمان پورے شرک کے مقابلے میں میں آیا ہے۔[56] نیز منقول ہے کہ رسول خداؐ نے فرمایا: برز الإيمان كله إلى الکفر كله ۔
؛ یعنی آج پورا ایمان پورے کفر کے مقابلے میں میں آیا ہے۔

فتح و نصرت

عمرو کے ساتھ علی(ع) کا کارساز اور فیصلہ کن مقابلہ مشرکین کی جماعتوں کے فرار ہوجانے کا سبب بنا،[57] تاہم مؤرخین کا کہنا ہے کہ جنگ خندق میں مسلمانوں کی فتح و نصرت میں تین دوسرے عوامل نے بھی کردار ادا کیا ہے:

  1. نُعَیم بن مسعود اَشْجَعی، کا کردار:
    نعیم کا تعلق قبیلہ غطفان سے تھا جس نے خفیہ طور پر اسلام قبول کیا اور مشرکین میں کوئی بھی اس کے اسلام لانے سے باخبر نہ تھا۔ نعیم رسول خداؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ نے ہدایت کی: "جاؤ اور دشمنوں کو سستی اور انتشار سے دوچار کرو"۔ نعیم نے اجازت مانگی کہ وہ مشرکین کے درمیان تفرقہ ڈالنے کے لئے تمام حربوں کو بروئے کار لائے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا: إنَّ الحَربَ خُدعة ٌ۔ یعنی جنگ چال ہے۔[58] چنانچہ نعیم بن مسعود ـ جو بنو قریظہ کے ساتھ پرانی شناسائی رکھتا تھا ـ اسی قبیلے کے پاس پہنچا اور باتوں باتوں میں اشارہ کیا کہ ان کی حالت قریش کے مشرکین سے مختلف ہے، مشرکین کے خاندان اور اہل خاندان مسلمانوں کی دسترس سے باہر ہيں اور ضرورت کے وقت گھر بار چھوڑ کر بغیر کسی تشویش کے انہیں تنہا چھوڑ سکتے ہیں، لہذا تم کو چاہئے کہ محمدؐ کے خلاف جنگ میں غطفان اور قریش کے درمیان تعاون سے اطمینان حاصل کرنے کے لئے ان (غطفان اور قریش) سے کچھ یرغمالیوں کا مطالبہ کرو۔ نعیم بعدازاں غطفان اور قریش کے پاس پہنچا اور ان سے کہا کہ بنو قریظہ اس جنگ میں شمولیت سے پشیمان ہوکر تمہارے ساتھ اپنا عہد توڑ چکے ہیں چنانچہ وہ غطفان اور قریش سے یرغمالی حاصل کرکے انہیں محمدؐ کے سپرد کرکے آپؐ سے صلح کرنا چاہتے ہیں۔ نعیم نے ان کو تلقین کی کہ بنو قریظہ کو یرغمالی نہ دیں۔ نتیجے کے طور پر ان کے درمیان اختلاف نے شدت اختیار کی۔[59]
  2. دشمن کے حیوانات کا لاغر ہوجانا:
    واقدی لکھتا ہے: جس وقت مشرکین کی سپاہ مدینہ پہنچی زمینوں پر کوئی زراعت باقی نہیں رہی تھی اور لوگ اس سے ایک مہینہ قبل اپنی فصلیں کاٹ چکے تھے۔ نتیجے کے طور پر قریش اور غطفان کے سینکڑوں گھوڑوں اور اونٹوں کے لئے کافی مقدار میں کھاس موجود نہ تھی اور ان کے اونٹ اس قدر لاغر اور کمزور اور مریل ہوچکے تھے اور مدینہ کی زمینیں بارش نہ ہونے کی وجہ سے سوکھ چکی تھیں۔[60]
  3. رسول اللہؐ کی دعا:
    ابن سعد نے رسول اللہؐ کی دعا اور اس کی استجابت اور غیبی امداد[61] کی طرف اشارہ کیا ہے۔ رسول اللہؐ نے دوشنبہ، سہ شنبہ اور چہار شنبہ کو مسجد احزاب میں دعا کی اور عرض کیا: "یا اللہ! احزاب کو بھگا دے اور انہیں شکست سے دوچار کر"۔ آخر کار پیغمبرؐ کی دعا چہارشنبہ کے دن ظہر و عصر کے درمیان مستجاب ہوئی۔ موسم سرما کی ایک انتہائی ٹھنڈی رات کو اس قدر شدید آندھی چلی کہ دشمن کا کوئی بھی خیمہ بپا نہ رہا، کوئی آگ بجھے بغیر نہ رہی اور کوئی دیگچی الٹے بغیر نہ رہی۔[62]

قرآن کریم نے بھی اللہ کی اس امداد کی طرف اشارہ کیا ہے اور فرمایا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَاءتْكُمْ جُنُودٌ فَأَرْسَلْنَا عَلَيْهِمْ رِيحاً وَجُنُوداً لَّمْ تَرَوْهَا وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيراً۔[63]
ترجمہ: اے ایمان لانے والو! یاد کرو اللہ کے فضل و احسان کو جو تم پر ہوا، جب تمہاری طرف آئیں فوجیں تو ہم نے ان کے مقابلے پر بھیجا ایک ہوا کو اور ان فوجوں کو جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اس کا دیکھنے والا ہے۔

مشرکین کی شکست

جنگ خندق میں احزاب کی شکست اور واپسی مشرکین کے لئے بہت بھاری نقصان سمجھی جاتی تھی؛ جس کے بعد نہ صرف ان سے ہر قسم کی لشکر کشی کا امکان سلب ہوا بلکہ مدینہ میں اسلامی حکومت کی طاقت اور استحکام میں زبردست اضافہ ہوا۔ اسی بنا پر پیغمبر خداؐ نے علی(ع) کے ہاتھوں عمرو بن عبدود کے مارے جانے کے بعد، یا مشرکین کی ہزیمت کے دو یا تین دن کے بعد، فرمایا:

الآن نغزوهم ولا يغزونا؛ یعنی آج کے بعد ہم ان سے لڑیں گے اور وہ ہمارے ساتھ لڑیں گے؛ اور ایسا ہی ہوا یہاں تک کہ خداوند متعال نے رسول اللہؐ کے ہاتھوں فتح مکہ کے اسباب فراہم کردیئے۔[64]

اعداد و شمار

مسلمانوں کا محاصرہ 15 دن تک جاری رہاخطا در حوالہ: Closing </ref> missing for <ref> tag 20 دن سے زیادہ، ایک مہینے تک[65] جاری رہا۔ یہ ایام زیادہ تر تیروں کے تبادلوں میں صرف ہوئے اور کوئی جنگ نہیں ہوئی۔[66] اور رسول خداؐ نے ابن مکتوم کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر کیا تھا۔[67]

جنگ خندق میں 6 مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ مشرکین کے ہالکین کی تعداد 8 تھی۔[68]

جنگ کے مقام پر مساجد کی تعمیر

کوہ ذباب (المعروف بہ جبل الرایہ) ـ جو مسجد نبوی سے 1400 میٹر شمال مغرب کی جانب اور کوہ سلع سے تقریبا 150 میٹر شمال کی جانب ایک مسجد تعمیر کی گئی تھی۔ یہ وہی مقام ہے جہاں سے رسول اکرمؐ خندق کی کھدائی کی نگرانی کرتے تھے۔ مذکورہ مسجد حال ہی میں تعمیر نو کے مراحل سے گذری ہے اور مسجد الرایہ کے نام سے مشہور ہے۔[69]

نیز کوہ سلع پر مسجد نبوی سے تقریبا 700 میٹر دور ـ جہاں جنگ خندق کے وقت رسول اللہؐ کا خیمہ بپا تھا اور آپؐ وہیں نماز بجا لاتے تھے اور حالات کی نگرانی کرتے تھے اور اللہ نے اسی مقام پر آپؐ کو مشرکین پر فتح و نصرت کی بشارت دی تھی ـ مسجد فتح کے نام سے ایک مسجد تعمیر کی گئی ہے جو مسجد احزاب اور مسجد اعلی بھی کہلاتی ہے۔ یہ مسجد اور کوہ سلع کے دامن میں کئی مساجد ہیں جو مساجد فتح یا مساجد سبعہ کے نام سے مشہور ہیں۔ سنہ 1424 ہجری میں کوہ سلع کے اوپر ایک بڑی مسجد بنام مسجد خندق تعمیر کی گئی اور مساجد سبعہ میں سے بعض مساجد اسی میں ضم کی گئیں۔[70]

مسجد فاطمہ زہرا بھی مساجد سبعہ میں سے ایک ہے جس کے دروازے مدتوں سے زائرین پر بند کردی گئی ہیں اور باعث افسوس یہ کہ حالیہ چند برسوں سے اس کو درواز کو سیمنٹ کے بلاکوں کے ذریعے مکمل طور پر بند کردیا گیا۔[71]

غزوہ احزاب قرآنی آیات میں

اس غزوہ کی اہمیت اس قدر زیادہ ہے کہ اس کے وقوع کے سال کو "عام الاحزاب" کا دام دیا گیا اور بعد میں اسی نام سے ایک سورت نازل ہوئی۔

غزوہ خندق کو قرآن کریم کی 22 آیات کریمہ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ آیات قرآن کی چار سورتوں میں ہیں اور ان میں جنگ کے مختلف مسائل بیان ہوئے ہیں۔

غزوہ خندق / یا غزوہ احزاب کی شان میں کئی آیات تینتیسویں سورت کے ضمن میں اتری ہیں اور اسی بنا پر یہ سورت "سورہ احزاب" کہلاتی ہے۔ اس سورت کی 9 سے آیت 27 تک کی آیات کا تعلق غزوہ خندق سے ہے۔ سورہ بقرہ کی آیت 214، سورہ آل عمران کی آیات 26 و 27، اور سورہ نور کی آیات 62 تا 64 بھی غزوہ خندق کی شان میں نازل ہوئی ہیں۔

سورہ نساء کی آیت 51:

جیسا کہ بیان ہوا بنو نضیر کے یہودیوں کی ایک جماعت بعض دوسرے یہودیوں کے ہمراہ قریش کو ساتھ ملانے کی غرض سے مکہ پہنچے اور ان کے استفسار پر کہا کہ "تم (مشرکین) کا دین محمدؐ کے دین سے بہتر ہے۔ چنانچہ یہ آیت نازل ہوئی۔

کیا تم نے نہیں دیکھا انہیں کہ جن کو کتاب کا کچھ حصہ دیا گیا کہ وہ جبت اور طاغوت کے معتقد ہوتے ہیں اور کافروں کو کہتے ہیں کہ تمارا راستہ ہدایت سے قریب تر ہے ان لوگوں کی نسبت جو ایمان لائے ہیں۔


سورہ احزاب:

عبداللہ بن عباس کہتے ہیں: خداوند متعال نے جنگ خندق اور مسلمانوں کو دی ہوئی نعمت کے تذکرے اور دشمنوں کے مقابلے میں ان کی نصرت کے بارے میں ـ وہ بھی اس کے بعد کہ مسلمانوں خدا پر بدظن ہوئے اور نفاق آمیز الفاظ ادا کئے ـ یہ آیت نازل فرمائی:

اے ایمان لانے والو! یاد کرو اللہ کے فضل و احسان کو جو تم پر ہوا، جب تمہاری طرف آئیں فوجیں تو ہم نے ان کے مقابلے پر بھیجا ایک ہوا کو اور ان فوجوں کو جنہیں تم نے نہیں دیکھا اور اللہ جو کچھ تم کرتے ہو، اس کا دیکھنے والا ہے۔

سورہ احزاب کی آیت 10:

ابن عباس نے مزید کہا ہے: مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کے لئے قریش، غطفان، بنو اسد اور بنو سلیم کی سپاہ آئی اور جو سپاہ اللہ کی جانب سے مسلمانوں کی مدد کے لئے آئی طوفان اور آندھی پر مشتمل تھی۔ نیز غزوہ خندق کے بارے میں خداوند متعال نے فرمایا:

جس وقت آئے وہ تمہاری طرف اوپر سے اور نیچے سے اور جب آنکھیں پتھرا گئیں اور دل کھنچ کر گلوں تک آ گئے اور تم اللہ کی نسبت طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

ابن عباس کہتے ہیں: جو لوگ اوپر سے آئے تھے وہ بنو قریظہ تھے اور جو نیچے سے آئے تھے وہ قریش، بنو اسد، غطفان اور بنو سلیم تھے۔ لیکن اللہ پر ان کی بد گمانی کچھ یوں تھی کہ بعض (منافقین اور دلوں میں مرض رکھنے والے افراد( نے کہا: کفار بہت جلد ہم پر غلبہ پائیں گے اور مدینہ پر مسلط ہونگے اور بعض دوسروں نے کہا: اسلام بہت جلد ختم ہوکر رہ جائے گا؛ اور تیسرے گروہ نے کہا کہ اسلام مٹ جائے گا اور چوتھے نے کہا: خدا اور رسولؐ نے لوگوں کو دھوکا دیا؛ خلاصہ یہ کہ اس قسم کے افکار سامنے آنا شروع ہوئے۔

سورہ احزاب کی آیت 11:

اس آیت کا تعلق اس وقت سے ہے جب دشمن کی سپاہ خندق کے عقب میں آپہنچے اور یہ روداد ایک آزمائش تھی اور ایک امتحان تھا جس کا حل لوگوں کے ذہنوں سے دور نظر آرہا تھا۔ پس آیت کے معنی یوں ہونگے:

اس وقت آزمائش ہوئی ایمان لانے والوں کی اور وہ بڑے سخت زلزلے [خوف اور شدید اضطراب] میں مبتلا کیے گئے۔

سورہ احزاب آیت 12:

مروی ہے کہ اس آیت کا اشارہ معتب بن قشیر اور اس کے ساتھیوں سے ہے جنہوں نے کہا:

ہم سے اللہ اور اس کے پیغمبر نے وعدہ نہیں کیا تھا مگر دھوکا دینے کے لیے۔

سورہ احزاب آیت 13:

خداوند متعال نے بارہویں آیت میں منافقین کے ایک گروہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے:

اور جب ایک گروہ نے ان میں سے کہا کہ اے یثرب کے رہنے والو! تمہارے ٹھہرنے کا موقع نہیں ہے تو واپس چلو اور کچھ لوگ ان میں کے پیغمبر سے اجازت مانگ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں، حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں ہیں۔ وہ تو صرف جنگ سے بھاگنا چاہتے تھے۔

سورہ احزاب آیات 14 اور 15:

یہ دو آیات منافقین کے ان ہی گروہوں کے بارے میں ہیں جن کا ذکر پچھلی آیات میں گذر چکا۔

سورہ احزاب آیات 15 اور 16:

کہا گیا ہے کہ یہ دو آیتیں ثعلبہ اور اس جیسوں کے بارے میں نازل ہوئی ہیں کیونکہ اس نے احد کے دن وعدہ کیا کہ "آج کے بعد ہرگز جنگ سے پیٹھ نہیں پھراؤں گا"، آیت کا ترجمہ یوں ہوگا کہ:

منافقین اور بیمار دلوں والوں نے تیزی سے جنگ سے ہاتھ کھینچ کر پلٹنا چاہا حالانکہ انھوں نے قبل ازاں اللہ سے عہد کیا تھا اس کے پہلے کہ وہ پیٹھ نہیں پھرائیں گے اور اللہ سے جو عہد ہو، اسے پوچھا جائے گا (15) کہئے کہ تمہیں بھاگنا کبھی فائدہ نہیں پہنچائے گا۔ اگر تم مرنے سے یا مارے جانے سے بھاگو اور اس وقت میں بھی تمہیں (زندگی دنیا سے) بہرہ مند ہونے کا موقع نہیں دیا جائے گا مگر بہت کم۔ (16)

سورہ احزاب آیات 17 تا 20:

ان آیات ـ بالخصوص آیت 20 ـ میں غزوہ خندق میں منافقین کی خصوصیات اور بعض کرداروں کی طرف اشارہ ہوا ہے؛ جیسے انتشار پھیلانا، جنگ سے لوگوں کو خوفزدہ کرنا اور جنگ سے فرار کی ترغیب دلانا وغیرہ۔۔۔

سورہ احزاب آیت 21:

یہ آیت غزوہ خندق سے متعلق ہے اگرچہ اس کے ظاہری معنی وسیع تر ہیں۔ آیت کا ترجمہ کچھ یوں ہوگا:

تمہارے لیے پیغمبر خدا کی ذات میں اچھا نمونہ عمل موجود ہے اس کے لیے جو اللہ اور روز آخرت کی امید رکھتا ہو اور اللہ کو خوب یاد رکھے۔

یہ آیت کریمہ بیان کرنا چاہتی ہے کہ رسول خداؐ کی رسالت اور تمہارے ایمان لانے کے تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم ہر حال میں آپ کی پیروی کرو؛ کلام اور گفتار میں بھی اور اعمال و کردار میں بھی۔ اور تم دیکھتے ہو کہ آپؐ اللہ کی راہ میں کیا کیا صعوبتیں جھیلتے ہیں اور کس طرح جنگوں میں حاضر ہوتے ہیں اور [[جہاد] جس طرح کہ جہاد کرنے کا حق ہے پس تم بھی سیکھ لو اور آپؐ کی پیروی کرو۔[72]

حوالہ جات

  1. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص65۔
  2. صالحی شامی، سبل الہدی والرشاد فی سیرة خیرالعباد، ج5، ص415۔
  3. ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص224؛ طبری، تاریخ، ج2، ص564۔
  4. ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص224؛ طبری، تاریخ، ج2، ص564۔
  5. واقدی، المغازی، ج2، ص440 8 تا 23 ذیقعدہ؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص409۔
  6. ابن حبیب، المحبر، ص113۔
  7. یا ابوعامر راہب: واقدی، المغازی، ج1، ص441۔
  8. واقدی، وہی ماخذ، ص441ـ442؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص409؛ طبری، تاریخ، ج2، ص565۔
  9. واقدی، وہی ماخذ، ص442ـ443؛ طبری، تاریخ، ج2، ص566۔
  10. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص409۔
  11. ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص230؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص66۔
  12. واقدی، المغازی، ج2، ص443۔
  13. مسعودی، التنبیہ والاشراف، ص250۔
  14. بہ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص381۔
  15. واقدی، المغازی، ج2، ص453؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص66؛ طبری، تاریخ، ج1، ص570؛ مسعودی، التنبیہ والاشراف، ص250۔
  16. الیعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج2، ص50 کہ ۔
  17. واقدی، المغازى، ج‏2، ص 331۔
  18. واقدی، المغازى، ج‏2، ص 332۔
  19. واقدى، ہمان، ج 2، ص 335
  20. ابن ہشام، ہمان، ج 3، ص 230؛ \طبرى، تاريخ، ج3، ص1073۔
  21. واقدی، المغازی، ج2، ص445؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص235؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص409ـ410۔
  22. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص66؛ ابن اثیر، الکامل، ج2، ص70۔
  23. بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص410۔
  24. واقدی، المغازی، ج2، ص445۔
  25. طبری، تاریخ، ج2، ص568۔
  26. الیعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج2، ص50۔
  27. واقدی، المغازی، ج2، ص446؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص66۔
  28. ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص226؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص66، 71۔
  29. الیعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج2، ص50۔
  30. واقدی، المغازی، ج2، ص445ـ446۔
  31. سوره نور، آیات 62ـ63۔
  32. ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص226ـ227؛ طبری، تاریخ، ج2، ص566ـ567۔
  33. ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص230؛ طبری، تاریخ، ج2، ص568ـ569؛ ابونعیم اصفہانی، دلائل النبوة، ص432؛ قس واقدی، المغازی، ج2، ص449ـ450۔
  34. واقدی، المغازی، ج2، ص453ـ454؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص67۔
  35. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص67؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص410۔
  36. واقدی، المغازی، ج2، ص458ـ459؛ طبری، تاریخ، ج2، ص571ـ572۔
  37. رجوع کنید بہ واقدی، المغازی، ج2، ص464ـ474۔
  38. طبری، جامع البیان، ج21، ص155 اور بعد کے صفحات۔
  39. سوره احزاب، آیات 10 تا 12۔
  40. الیعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج2، ص51؛ طبری، تاریخ، ج2، ص572۔
  41. ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص233۔
  42. واقدی، المغازی، ج2، ص465، 468۔
  43. رجوع کریں: ابو نعیم اصفہانی، دلائل النبوة، ص433۔
  44. واقدی، المغازی، ج2، ص472ـ473؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص68ـ69، 72؛ الیعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج2، ص50۔
  45. رجوع کنید بہ احزاب: 13؛ واقدی، المغازی، ج2، ص463؛ ابن حبیب، المحبر، ص469؛ طبری، جامع، ذیل احزاب: 13۔
  46. رجوع کنید بہ واقدی، المغازی، ج2، ص264ـ266؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص67؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج1، ص414۔
  47. رجوع کریں: ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج2، ص243۔
  48. واقدی، المغازی، ج2، ص477؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج2، ص412ـ413۔
  49. واقدی، المغازی، ج2، ص495۔
  50. سورہ بقرہ، آیہ 214۔
  51. واقدی، المغازی، ج2، ص460، 468؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص67۔
  52. واقدی، المغازی، ج2، ص474۔
  53. رجوع کریں: واقدی، المغازی، ج2، ص471ـ470؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص237ـ234؛ طبری، تاریخ، ج2، ص574ـ573؛ مفید، ج1، ص109ـ98؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص382ـ379۔
  54. حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص32۔
  55. حاکم نیشابوری، وہی ماخذ؛ عضدالدین ایجی، المواقف فی علم الکلام، ص412۔
  56. کراجکی، کنزالفوائد، ج1، ص297؛ طبرسی، اعلام الوری باعلام الہدی، ج1، ص381؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج13، ص261؛ ابن ابی الحدید، وہی ماخذ، ج19، ص61؛ سید ابن طاووس، الطرائف، ص35۔
  57. مفید، الارشاد، ج1، ص105؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج5، ص7۔
  58. حر عاملی، وسائل الشیعہ، ج16، ص133۔
  59. واقدی، المغازی، ج2، ص480ـ482؛ ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص241ـ242؛ طبری، تاریخ، ص578ـ579۔
  60. واقدی، المغازی، ج2، ص444۔
  61. ابن سعد، الطبقات، ج2، ص73ـ74۔
  62. ابن ہشام، السیرة النبویہ، ج3، ص242ـ243؛ طبری، تاریخ، ج2، ص578ـ579؛ ابونعیم اصفہانی، دلائل النبوة، ص435ـ436۔
  63. سورہ احزاب، آیہ 9۔
  64. رجوع کریں: مفید، الارشاد، ج1، ص106 ـ 105؛ ابن اثیر، الکامل، ج2، ص74؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، ج19، ص62؛ العاملی، الصحيح من سيرة النبي الاعظم ؐ، ج11، ص292۔
  65. رجوع کریں: ابن حبیب، المحبر، ص113 20 تا 21 روز۔
  66. طبری، تاریخ، ج2، ص572۔
  67. واقدی، المغازی، ج2، ص441۔
  68. واقدی، المغازی، ج2، ص495ـ496؛ الیعقوبی، تاریخ الیعقوبی، ج2، ص51۔
  69. صالحی شامی، سبل الہدی و الرشاد فی سیرة خیرالعباد، ج3، ص277؛ عبدالغنی، محمد الیاس، تاریخ المدينة المنورة، ص94۔
  70. رجوع کریں: واقدی، المغازی، ج2، ص454، 466، 488؛ سمہودی، وفاءالوفاء باخبار دارالمصطفی، ج3، ص838ـ830؛ عبدالغنی، محمد الیاس، تاریخ المدینة المنورة، ص100ـ98؛ جعفریان، رسول، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، ص244ـ236۔
  71. مدینہ میں مسجد حضرت زہراء کا غم انگیز انجام۔
  72. طبری، جامع البیان، ج21، ص141 اور بعد کے صفحات؛ طبرسی، مجمع‌البيان، ج‌2، ص‌546 و 726؛ مجلسی، بحارالانوار، ج‌20، ص‌186‌ـ‌188؛ ابن اثیر، الكامل، ج‌2، ص‌178؛ ابن کثیر، تفسیر ابن کثیر، ج6، ص375؛ سيد محمدحسين طباطبائي- تفسیر المیزان ج16، ص272 اور بعد کے صفحات؛ سیوطی- الدرا المنثور ج11 کے آخری اور ج12 کے ابتدائی صفحات؛ محمدبن عمر واقدی، مغازی، ج2، ص495-494؛ طبری، تاریخ طبری، ج2، ص565.؛ رجوع کریں: واقدی، المغازی، ج2، ص494ـ495ؐرجوع کریں: طبری، تاریخ، ج2، ص565۔


مآخذ

  • قرآن کریم، اردو ترجمہ: سید علی نقی نقوی (لکھنوی)۔
  • ابن اثیر الجزری، علی بن ابی الکرم محمد بن محمد، الكامل في التاريخ، دارالکتب العلمیہ، بیروت لبنان ۔ 1407 ہجری قمری / 1987 عیسوی۔
  • ابن أبی الحدید، عبد الحمید بن ہبة اللہ معتزلی، شرح نہج البلاغہ، عيسی البابی الحلبی، دار احياء الكتب العربيہ مصر، الطبعہ الثانيہ (1967 عیسوی - 1387 ہجری قمری) منشورات مكتبہ آيۃ اللہ العظمی المرعشی النجفی قم - ايران 1404 ہجری قمری
  • ابن كثير دمشقي، إسماعيل بن عمر، تفسير القرآن العظيم (تفسير ابن كثير)، سامی بن محمد السلامہ، دار طیبہ، الریاض الطبعہ الاولی 1418 ہجری قمری / 1997 عیسوی۔
  • ابن حبیب، کتاب المحبـّر، چاپ ایلزہ لیشتن شتتر، حیدرآباد دکن 1361 ہجری قمری /1942 عیسوی چاپ افست بیروت.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، بیروت، دار صادر، 1968 عیسوی۔
  • ابن طاؤس، رضي الدين علي بن موسى الحلی، مذاہب الطرائف في معرفۃ الطوائف، مطبعہ الخيام - قم 1399 عیسوی۔
  • ابن ہشام، السیرة النبویہ، چاپ مصطفی سقا، ابراہیم ابیاری و عبدالحفیظ شبلی، قاہرہ 1355 ہجری قمری / 1936 عیسوی، چاپ افست، بیروت، بی‌تا.
  • اصفہانی، ابونعیم، دلائل النبوۃ، چاپ سیدشرف الدین احمد، 1397 ہجری قمری / 1977 عیسوی۔
  • ایجی، عضدالدین، المواقف فی علم الکلام، بیروت: عالم الکتب، بی‌تا.
  • بلاذری، انساب الاشراف، چاپ محمود فردوس، دمشق 1977 عیسوی۔
  • جعفریان، رسول، آثار اسلامی مکہ و مدینہ، نشر مشعر، تہران، 1379 ہجری شمسی۔
  • حر العاملی، الشيخ محمد بن الحسن، وسائل الشيعہ إلى تحصيل مسائل الشريعہ، تصحيح: محمد الرازي، تعليقات: أبو الحسن الشعراني، دار احياء التراث العربي بيروت - لبنان۔
  • حاکم نیشابوری، محمدبن عبداللہ، المستدرک علی الصحیحین، وبذیلہ التلخیص للحافظ الذہبی، بیروت: دارالمعرفہ، بی‌تا.
  • حلبی، علی بن ابراہیم نورالدین، السیرۃ الحلبیہ، چاپ عبداللہ محمد خلیلی، بیروت، 1422 ہجری قمری / 2002 عیسوی۔
  • سمہودی، علی بن عبداللہ، وفاءالوفاء باخبار دارالمصطفی، چاپ محمد محیی الدین عبدالحمید، بیروت 1404 ہجری قمری / 1984 عیسوی۔
  • سیوطی، جلال الدین، الدر المنثور في التفسیر بالمأثور، عبداللہ بن عبدالمحسن الترکی، مرکز ہجر للبحوث والدراسات العربیہ والاسلامیہ، الطبعہ الاولی 1424 ہجری قمری / 2003 عیسوی۔
  • صالحی شامی، محمد بن یوسف، سبل الہدی و الرشاد فی سیرۃ خیرالعباد، چاپ عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت 1414 ہجری قمری/ 1993 عیسوی۔
  • طباطبائي، علامہ السيد محمد حسين، الميزان في تفسير القران، منشورات جماعۃ المدرسين في الحوزۃ العلميۃ في قم المقدسہ۔
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الہدی، قم 1417 ہجری قمری۔
  • طبرسي، امين الاسلام أبي على الفضل بن الحسن، مجمع البيان في تفسير القران، قدم لہ: السيد محسن الامين العاملي، منشورات مؤسسہ الاعلمي للمطبوعات بيروت - لبنان 1415 ہجری قمری / 1995 عیسوی۔
  • طبري، محمد بن جرير، جامع البيان عن تأويل آي القرآن، قدم لہ: الشيخ خليل الميسو ضبط وتوثيق وتخريج: صدقي جميل العطار ـ دار الفکر للطباعہ، بيروت 1415 ہجری قمری / 1995 عیسوی۔
  • عاملي، السيد جعفر مرتضي، الصحيح من سيرة النبي الاعظم ؐ، دار الہادي للطباعہ ـ دار السيرہ - بيروت لبنان - الطبعہ الرابعہ 1415 ہجری قمری / 1995 عیسوی۔
  • عبدالغنی، محمد الیاس، تاریخ المدینہ المنورہ، مدینہ، 1424 ہجری قمری۔
  • کراجکی، محمد بن علی، کنزالفوائد، چاپ عبداللہ نعمہ، بیروت 1405 ہجری قمری /1985 عیسوی۔
  • مجلسی، العلامة محمد باقر بن محمد تقی، بحار الانوار الجامعہ لدرر أخبار الائمہ الاطہار، مؤسسہ الوفاء بيروت - لبنان 1403 ہجری قمری / 1983 عیسوی۔
  • مسعودی، علی بن حسین بن علی، التنبیہ والاشراف، لیدن، 1894 عیسوی۔ دار صادر بیروت۔
  • مفید، محمد بن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، قم، 1413 ہجری قمری۔
  • واقدی، محمدبن عمر، کتاب المغازی، چاپ مارسدن جونز، لندن 1966 عیسوی، چاپ افست قاہرہ، بی‌تا۔
  • یعقوبی، أحمد بن أبي يعقوب بن جعفر بن وہب ابن واضح، تاریخ الیعقوبی، مؤسسہ ونشر فرہنگ اہل بيت (ع) - قم - دار صادر بيروت۔

بیرونی روابط

  • مضمون کا ماخذ: دانشنامہ جہان اسلام ج 16، ص207 ـ 202۔ مضمون میں کمی بیشی کی گئی ہے۔
پچھلا غزوہ:
بنی مصطلق
رسول اللہؐ کے غزوات
خندق یا احزاب
اگلا غزوہ:
بنی قریظہ