عبد صالح

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

عبد صالح، نیک بندہ کے معنی اور قرآنی اصطلاحات میں سے ایک ہے جو بعض حضرات کے لئے استعمال ہوئی ہے۔ شیعہ و اہل سنت مصادر میں امام موسی کاظم (ع) کو کثرت عبادت کے سبب عبد صالح کا لقب دیا گیا ہے۔

عبد صالح کے معنی نیک بندہ کے ہیں۔ یہ لفظ قرآن کریم میں جمع (عبادک الصالحین) کی صورت میں استعمال ہوا ہے۔[1] قرآن مجید نے حضرت نوح (ع) و حضرت لوط (ع) کو خداوند عالم کے دو نیک بندوں کے عنوان سے یاد کیا ہے۔[2] ایک روایت میں جناب ذوالقرنین کو بھی عبد صالح کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔[3]

شیعہ و اہل سنت مصادر کے مطابق، امام موسی کاظم (ع) کو کثرت عبادت کی وجہ سے عبد صالح کا لقب دیا گیا ہے۔[4] ان سے منقول بعض روایات کی سند میں ان کے لئے یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے۔[5]

حضرت عباس (ع) کی زیارت میں جو امام جعفر صادق (ع) سے نقل ہوئی ہے، اس میں ان کا ذکر عبد صالح کے عنوان سے کیا گیا ہے۔[6] اسی طرح سے مسلم بن عقیل[7] اور ہانی بن عروہ[8] کے زیارت نامہ میں ان دونوں پر بھی عبد صالح کے عنوان سے سلام کیا گیا ہے اور اسی طرح سے نماز کے سلام میں اللہ کے صالح بندوں پر درود و سلام بھیجا گیا ہے۔

حوالہ جات

  1. سوره نمل، آیہ۱۹
  2. سوره تحریم، آیہ ۱۰
  3. مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۱۲، ص۱۹۹؛ عیاشی، تفسیر، ۱۳۸۰ق، ج۲، ص۳۴۳.
  4. بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۷ق، ج۱۳، ص۲۹؛ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۴۱۴.
  5. برای نمونہ: کلینی، الکافی، ۱۴۰۷ق، ج۱، ص۱۷۷، ۵۳۹، ج۳، ص۵۹، ۱۰۹، ج۴، ص۷۲،۴۱۲.
  6. ابن قولویہ، کامل الزیارات، ۱۳۵۶ش، ص۲۵۷؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۸، ص۲۷۷.
  7. ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۱۷۸؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۷، ص۴۲۸.
  8. ابن مشہدی، المزار الکبیر، ۱۴۱۹ق، ص۱۸۰؛ مجلسی، بحار الانوار، ۱۴۰۳ق، ج۹۷، ص۴۲۸.


مآخذ

  • ابن قولویہ، جعفر بن محمد، کامل الزیارات، تصحیح: عبد الحسین امینی، نجف، دار المرتضویہ، ۱۳۵۶ش
  • بغدادی، خطیب، تاریخ بغداد، بیروت، دار الکتب العلمیہ، ۱۴۱۷ق
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تصحیح: علی اکبر غفاری و محمد آخوندی، تہران، دار الکتب الاسلامیہ، ۱۴۰۷ق
  • مجلسی، محمد باقر، بحار الانوار، بیروت، دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۳ق
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌ یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت، دار صادر، بی‌ تا
  • عیاشی، محمد بن مسعود، تفسیر العیاشی، تصحیح: سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران، المطبعہ العلمیہ، ۱۳۸۰ق
  • ابن مشہدی، المزار الکبیر، تصحیح: جواد قیومی اصفہانی، قم، دفتر انتشارات اسلامی وابستہ بہ جامعہ مدرسین حوزه علمیہ قم، ۱۴۱۹ق