واقعہ کربلا

ويکی شيعه سے
(واقعۂ عاشورا سے پلٹایا گیا)
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسین (ع) کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسین(ع)
علی اکبر بن امام حسین • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم عباس بن علی • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تعزیہ • مجلس • زنجیر زنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس
امام حسین(ع):

"أما بعد فإنّي لا أعلم أصحابا أوفى ولا خيراً من أصحابي، ولا أہل بيت أبرّ ولا أوصل من أہل بيتي"۔
ترجمہ: میں نہیں جانتا کسی کو جو میرے اصحاب سے زيادہ وفادار اور بہتر ہوں اور میں نہیں جنتا کسی کو جو میرے خاندان سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا اور نیکو کار ہو۔

مفید، الارشاد، ص496-497۔

واقعۂ کربلا یا واقعۂ عاشورا اہل بیت رسول(ص) اور شیعیان اہل بیت کے لئے حزن انگیز ترین واقعہ ہے جو سنہ 61 ہجری کے محرم الحرام کے دسویں دن کربلا میں رونما ہوا۔ اس دن امام حسین(ع) 56 سال کی عمر میں اپنے قلیل ساتھیوں کے ہمراہ، عمر سعد کی سرکردگی میں یزید بن معاویہ کی فوج کے ساتھ غیر مساوی جنگ میں جام شہادت نوش کرگئے؛ اور آپ کے پسماندگان اسیر کرکے کوفہ اور شام لے جائے گئے۔ شیعیان آل رسول(ص) ہر سال اس واقعے کی مناسبت سے عزاداری مناتے ہیں۔

واقعۂ عاشورا اہل تشیع کے درمیان متعدد تحریکوں کا سبب بنا جن میں تحریک توابین اور قیام مختار خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ ایرانی عوام نے بھی اسی واقعے سے متاثر ہوکر اسلامی انقلاب بپا کیا۔

عاشورا اور امام حسین(ع) کی شہادت کا واقعہ شیعہ تشخص کو تشکیل دینے والے اہم عناصر میں سے ایک ہے اور مذہبی نیز روزمرہ کی زندگی میں شیعہ عاشورائی تعلیمات سے متاثر ہیں۔ عاشورائی تعلیمات و ثقافت کو ـ صدیوں پر محیط شیعہ معاشروں کی سوچ کی مختلف تہہوں میں ادب، مصوری اور یادگاروں کے فنی و ہنری اظہار کے سانچے میں،ـ دیکھا جاسکتا ہے۔

فہرست

عاشورا کے معنی

عاشور اور عاشورا اور عاشوراء علمائے لغت کے مشہور قول کے مطابق دس محرم کو کہا جاتا ہے۔[1] بعض علمائے لغت کا کہنا ہے کہ لفظ عاشورا لفظ عاشور کا معرّب ہے اور عاشورا ایک عبرانی لفظ ہے۔ عبرانی میں لفظ عاشورا (یہودی مہینے) ماہ " تِشْری" کی دسویں تاریخ کو کہا جاتا ہے۔[2]

عاشوراء، محرم کا دسواں دن ہے، وہی دن جب حسین بن علی(ع) شہید ہوئے تھے۔[3]

عاشورا شیعیان آل رسول(ص) کے نزدیک

عبیداللہ بن زیاد مکاری اور خوف و دہشت پھیلا کر کوفہ پر مسلط ہوا اور کربلا امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب و اہل خاندان کو گھر کر عاشورا کے دن بےدردی سے شہید کیا۔ اس نے ابوعبداللہ الحسین(ع) کی شہادت کے بعد اہل بیت رسول(ص) کی خواتین اور بچوں کو اسیر کرکے کرکے کچھ عرصہ کوفہ میں قید میں رکھا اور پھر یزید کو خط لکھ کر امام حسین(ع) اور اصحاب حسین(ع) کی شہادت سے باخبر کیا۔ یزید بن معاویہ نے جواب میں ابن زياد کو حکم دیا کہ اسرائے آل رسول(ص) کو شہداء کے سروں اور ان [لوٹے ہوئے] ساز و سامان کے ہمراہ دمشق منتقل کردے۔[4]

چنانچہ مسلمانوں اور بالخصوص شیعیان اہل بیت(ع) کے نزدیک عاشورا سے مراد وہ سارے واقعات ہیں جن میں شب عاشورا سے شام غریباں تک کے واقعات، سپاہ امام حسین(ع) کی جنگ کے لئے تیاری سے متعلق واقعات، ان سب کی شہادت نیز پسماندگان کی اسیری، خیام لوٹے اور جلائے جانے والے واقعات، شامل ہیں۔

عصر تاسوعا کے واقعات

اصل مضمون: تاسوعا

نویں محرم کے دن نماز عصر کے تھوڑی دیر بعد ـ عصر تاسوعا ـ ابن سعد نے سپاہ یزید، کو "یا خیل اللہ" (اے لشکر خدا) کہہ کر جنگ کا فرمان دیا تو وہ جنگ کے لئے تیار ہوئی۔ تاہم امام حسین کی مہلت کی درخواست پر ابن سعد نے آپ اور آپ کے اصحاب کو ایک شب کی مہلت دی تا کہ وہ یہ شب نماز اور دعا میں گذار دیں اور اپنے معاملے میں میں بھی غور کریں۔ چنانچہ جنگ عاشورا کے دن تک ملتوی ہوئی اور سپاہ کوفہ اپنی لشکر گاہ میں پلٹ گئی۔[5]

عصر تاسوعا ہی امام(ع) نے اس خواب کے بارے میں بہن زینب(ع) کے ساتھ بات چیت کی اور فرمایا: "میں نے رسول اللہ(ص) کو خواب میں دیکھا جو فرما رہے تھے کہ تم بہت جلد ہمارے پاس آرہے ہو"۔[6]

شب عاشورا، اللہ عز و جل کی بارگاہ میں امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب کی دعا اور نماز کی رات تھی۔ ضحاک بن عبداللہ مشرقی سے منقول ہے کہ: امام حسین (ع)]] اور آپ کے اصحاب نے رات کا ایک حصہ راز و نیاز اور نماز و استغفار میں گذارا[7] اور خیام سے ذکر و عبادت کی مسلسل صداؤں کی گونج میدان کربلا میں کچھ یوں سنائی دے رہی تھی کہ گویا شہد کی مکھیاں بھنبھنا رہی ہیں۔[8]

شب عاشور

اصل مضمون: شب عاشورا

تاسوعا کا دن ڈھل گیا اور رات چھاگئی تو امام حسین(ع) نے اپنے اصحاب کو جمع کیا اور ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: میں اپنے اصحاب سے زيادہ وفادار اور بہتر کسی کو نہیں جانتا اور میں اپنے خاندان سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والا اور نیکو کار کسی خاندان کو نہیں جانتاہوں اور چونکہ کل جنگ کا دن ہے چنانچہ میری طرف سے تم پر کوئی ذمہ نہیں ہے میں نے اپنی بیعت تم سے اٹھا دی۔ پس میں اجازت دیتا ہوں کہ رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر اپنا راستہ لو اور چلے جاؤ۔

امام حسین (ع) کا کلام اختتام پذیر ہوا تو اصحاب و انصار یکے بعد دیگر اٹھے اور آپ کا ساتھ دینے پر زور دیتے ہوئے اپنی بیعت کی پابندی اور آپ سے مکمل وفاداری کا یقین دلایا اور آپ کے ساتھ بیعت میں ثابت قدمی کے سلسلے میں اظہار خیال کیا۔ سب سے پہلے ابوالفضل العباس(ع) اٹھے اور ان کے بعد ان کے سگے بھائی اور اہل بیت رسول(ص) کے دوسرے نوجوانوں نے ان کی پیروی کرتے ہوئے سیدالشہداء(ع) کی مدد و حمایت کے سلسلے میں خطاب کیا۔[9]۔[10]

امام(ع) اولاد عقیل سے مخاطب ہوئے اور فرمایا: "اے فرزندان عقیل! مسلم کی شہادت تمہارے لئے کافی ہے، پس تم اٹھ کر چلے جاؤ میں نے تمہیں جانے کی اجازت دے دی!"، لیکن انھوں نے جواب دیا: "...خدا کی قسم! ایسا ہرگز نہیں کریں گے ہم اپنی جان, مال اور خاندان کو آپ پر قربان کریں گے اور اور آپ کے ساتھ مل کر لڑیں گے..."۔[11]

اہل بیت(ع) کے بعد مسلم بن عوسجہ،[12] سعید بن عبداللہ حنفی،[13] اور زہیر بن قین[14] اور ان کے بعد دوسرے اصحاب نے شہادت تک آپ کے ہمراہ لڑنے اور آپ کی مدد کرنے پر تاکید کی۔[15]

بعدازاں امام(ع) نے اصحاب سے مخاطب ہوکر فرمایا: "بے شک میں کل مارا جاؤں گا اور تم سب بھی ـ جو میرے ساتھ ہو ـ مارے جاؤگے"۔

اصحاب نے کہا: خدا کا شکر کہ اس نے ہمیں آپ کی نصرت کی توفیق دے کر عزت بخشی اور ہمیں آپ کے ساتھ شہادت کا شرف بخشا؛ اے فرزند دختر رسول(ص)! کیا آپ پسند نہیں کرتے کہ ہم بھی آپ کے ساتھ جنت کے ایک درجے میں ہوں۔


امام سجاد(ع) سے مروی ہے کہ امام حسین(ع) کے خطاب اور اصحاب کے پرجوش جواب کے بعد، امام(ع) نے ان سب کے حق میں دعا کی۔[16]

اس رات بریر بن خضیر نے امام حسین (ع) سے اجازت مانگی کہ جاکر عمر بن سعد کو نصیحت کریں۔ امام(ع) نے اجازت دی۔ بریر بن خضیر عمر بن سعد کی طرف گئے اور جب واپس آئے تو عرض کیا: "اے فرزند رسول خدا(ص) ابن بن سعد ملک رے کی حکمرانی کے عوض آپ کے قتل کے لئے تیار ہوا ہے"۔[17]

عسکری اقدامات

امام حسین(ع) اس شب مؤثر عسکری اقدامات سے بھی غافل نہ تھے؛ مروی ہے کہ آپ آدھی رات اکیلے خیام سے باہر آئے اور اطراف کی بلندیوں اور پستیوں کا جائزہ لیا اور کل کے حملے سے قبل ضروری اقدامات انجام دیئے۔[18]

اس رات امام حسین (ع) نے خیام کے ارد گرد خندق کھدوائی اور آپ کے ہدایت پر اس خندق کو لکڑیوں اور سوکھی جڑی بوٹیوں سے بھر دیا۔ آپ نے حکم دیا کہ دشمن کا حملہ شروع ہوتے ہی ان لکڑیوں اور خس و خاشاک کو آگ لگا دیں تاکہ جنگ کے دوران دشمن خیام کے عقب سے حملہ آور نہ ہوں اور حرم اہل بیت کی طرف دست اندازی نہ کرسکیں۔ یہ تدبیر عاشورا کے دن اصحاب حسین(ع) کے لئے بہت مفید رہی۔[19]

نیز امام(ع) نے حکم دیا کہ اپنے خیمے ایک دوسرے سے ملا دیں اور ایک خیمے کی رسیاں دوسری خیموں کی رسیوں سے متصل کردیں اور انہیں اس طرح سے نصب کریں کہ خود خیام کے اندر ہوں [اور باہر سے کوئی خیام کے بیچ داخل نہ ہوسکے] اور صرف ایک طرف سے دشمن کا سامنا کریں اور خیام ان کی پشت پر اور دائیں اور بائیں اطراف میں واقع ہوں اور صرف وہی رستہ کھلا رہے جہاں سے دشمن آتا ہے اور باقی ہر طرف سے آنے والے رستے بند رہیں۔[20]

اصحاب کا تجدید عہد

آدھی رات کو ابو عبداللہ الحسین(ع) اطراف میں واقع پہاڑیوں اور دروں کا معائنہ کرنے کے لئے باہر نکلے تو نافع بن ہلال جملی کو معلوم ہوا اور امام(ع) کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔

خیام کے اطراف کا معائنہ کرنے کے بعد امام حسین(ع) بہن زینب کبری(س) کے خیمے میں داخل ہوئے۔ نافع بن ہلال خیمے کے باہر منتظر بیٹھے تھے اور سن رہے تھے کہ زینب(س) نے بھائی حسین(ع) سے عرض کیا:

کیا آپ نے اپنے اصحاب کو آزمایا ہے؟ مجھے اندیشہ یہ ہے کہ وہ بھی ہم سے منہ پھیر لیں اور جنگ کے دوران آپ کو دشمن کی تحویل میں دےدیں"۔

امام حسین (ع) نے فرمایا: "خدا کی قسم! میں نے انہیں آزما لیا ہے اور انہیں دیکھا کہ سینہ سپر ہوگئے ہیں اس طرح سے کہ موت کو گوشۂ چشم سے دیکھتے ہیں اور میری راہ میں موت سے ـ ماں کے سینے سے طفل شیرخوار کی انسیت کی مانند ـ انسیت رکھتے ہیں۔

نافع نے محسوس کیا کہ اہل بیتِ امام حسین آپ کے اصحاب کی وفاداری کے سلسلے میں فکرمند ہیں چنانچہ وہ حبیب بن مظاہر اسدی سے مشورہ کرنے گئے اور دونوں نے آپس کے مشورے سے فیصلہ کیا کہ دوسرے اصحاب کے ساتھ مل کر اہل بیتِ امام حسین کو یقین دلائیں کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک امام حسین(ع) کا دفاع کریں گے۔

حبیب بن مظاہر نے اصحاب امام حسین (ع) کو بلایا اور ان کے ہمراہ سونتی ہوئی تلواروں کے ساتھ حرم اہل بیت کے قریب گئے اور بآواز بلند کہا: "اے حریم رسول خدا(ص) یہ آپ کے جوانوں اور جوانمردوں کی شمشیریں ہیں جو کبھی بھی نیام میں واپس نہ جائيں تا آنکہ آپ کے بدخواہوں کی گردنوں پر اتر آئیں؛ یہ آپ کے فرزندوں کے نیزے ہیں اور انھوں نے قسم اٹھا رکھی ہیں انہیں صرف اور صرف ان لوگوں کے سینوں گھونپ دیں جنہوں نے آپ کی دعوت سے روگردانی کی ہے۔[21]

امام حسین(ع) اور زینب کبری(س) کی گفتگو

شب عاشورا امام حسین (ع) نے اپنے بیٹے امام سجاد(ع) کی موجودگی میں بہن حضرت زینب کبری(س) کو صبر و بردباری کی دعوت دی۔[22]

امام حسین کی طرف سے بعض خطوط

جو خطوط اشخاص یا گروہوں کے لئے لکھنے تھے وہ امام حسین (ع) نے شب عاشور لکھ دیئے لیکن چونکہ محاصرے میں تھے لہذا آپ نے وہ خطور اپنی بیٹی فاطمہ(س)، بہن زینب(س) اور امام سجاد(ع) کو امانتاً سپرد کئے تاکہ آپ کی شہادت کے بعد ان خطوط کی ترسیل ممکن ہوسکے۔ آپ نے ایک خط اہل کوفہ کو لکھا تھا اور اس میں کوفیوں کی عہدشکنی او بدبختیاں بیان کی تھیں۔

صبح عاشورا کے واقعات

عاشورا کی کی صبح کو امام حسین (ع) نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز ادا کی۔[23] نماز کے بعد آپ نے اپنی 40 سواروں اور 32 پیادوں پر مشتمل سپاہ کی صفیں[24] منظم کیا۔ آپ نے لشکر کے دائیں بازو (میمنہ) کو زہیر بن قین اور بائیں بازو (میسرہ) کو حبیب بن مظاہر کے سپرد کیا اور پرچم بھائی ابوالفضل العباس(ع) کے حوالے کیا۔[25]

امام(ع) کے حکم پر، اصحاب نے خیموں کو اپنے عقب میں قرار دیا،[26] اور ان کے اطراف میں بنی خندق میں پہلے سے موجود لکڑیوں اور جڑی بوٹیوں کو آگ لگا دی تا کہ عقب سے دشمن کی یلغار ممکن نہ ہو۔[27]

میدان کے دوسرے سرے پر عمر سعد نے نماز کے بعد اپنے لشکر کے لئے ـ جو ایک قول کے مطابق 4000 افراد پر مشتمل تھاـ[28] سالار معین کئے، اس نے عمرو بن حجاج زبیدی کو میمنہ پر، شمر بن ذی الجوشن کو میسرہ پر، عزرة بن قیس احمسی کو سواروں پر اور شبث بن ربعی کو پیادوں پر مقرر کیا۔[29]


عمر بن سعد نے عبداللہ بن زہیر اسدی کو کوفہ کے شہریوں، عبدالرحمن بن ابی اسیرہ کو مذحج اور بنو اسد، قیس بن اشعث بن قیس کو ربیعہ اور کندہ اور حر بن یزید ریاحی کو بنو تمیم اور ہمدان کی امارت دی اور پرچم کو اپنے غلام زوید (یا درید) کے سپرد کیا[30] اور ابو عبداللہ الحسین(ع) کے خلاف صف آرا ہوا۔

مروی ہے کہ امام حسین (ع) کی نظر دشمن کی سپاہ عظیم پر پڑی تو آپ نے اپنے ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے اور التجا کی: "بار خدایا! تو ہے ہر دشواری میں سہارا اور میری امید ہے ہر مشکل میں، الجھنوں میں میری امیدیں صرف تجھ سے وابستہ ہیں اور کس قدر زيادہ ہیں وہ غم جو دلوں کو تحمل سے خالی کردیتے ہیں اور انہیں رفع دفع کرنے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔ کیا غموم ہیں جن میں ہمار دوست ہمیں تنہا چھوڑ دیتے ہیں اور دشمن ہم پر ملامت کرتا ہے اور میں صرف تیری طرف رغبت کی بنا پر ـ نہ کہ دوسروں کی طرف رغبت کی وجہ سے ـ ان غموں کی شکایت تیرے حضور لایا ہوں اور تو نے ان میں میرے لئے فراخی قرار دی ہے اور ان غموں اور دشواریوں کو میرے لئے ہموار کردیا ہے۔ پس تو ہے ہر نعمت کا ولی اور صرف تیری ہیں ساری خوبیاں اور تو ہی ہے ہر مقصود کی انتہا"۔[31]

صبح ہی سے ـ یا شاید تھوڑی دیر بعد سے ـ اصحاب میں سے کئی افراد ـ خیموں کے بیچوں بیچ پہرہ دے رہے تھے کہ سپاہ یزید میں سے کوئی خیموں کے قریب نہ آئے اور کئی اشقیاء وہیں ہلاک کئے گئے۔[32]

امام(ع) اور اصحاب کے خطابات

امام حسین(ع) جنگ شروع ہونے سے قبل دشمن کی سپاہ پر اتمام حجت کرنے کے لئے گھوڑے پر سوار ہوکر اپنے چند اصحاب کے ہمراہ، ان کے سامنے پہنچے۔ بریر بن خضیر آگے آگے تھے۔ امام حسین (ع) نے فرمایا: "اے بریر ان سے خطاب کرو اور ان کو نصیحت کرو"۔[33] پس بریر بن خضیر سپاہ دشمن کے سامنے قرار پائے اور انہیں موعظہ کرنا شروع کیا۔[34]

امام حسین(ع) لشکر ابن سعد کے سامنے آگئے اور اونچی صدا سے ان سے مخاطب ہوئے ـ جبکہ بیشتر لوگ آپ کی آواز سن رہے تھے ـ ان کو موعظمہ کیا اور انہیں عدل و انصاف کا راستہ اپنانے کی دعوت دی اور حمد و ثنائے الہی کے بعد سب سے پہلے اپنا تعارف کرایا کہ "میں بنت الرسول(ص) اور وصی پیغمبر(ص) کا بیٹا ہوں، اور حمزہ سید الشہداء اور جعفر طبار میرے چچا ہیں"، اور اس کے حدیث نبوی کی طرف اشارہ کیا کہ "حسن اور حسین جوانان جنت کے سردار ہیں"، اور فرمایا کہ رسول اللہ(ص) کے زندہ صحابی جابر بن عبداللہ انصاری، ابوسعید خدری، سہل بن سعد ساعدی، زید بن ارقم اور انس بن مالک اس حدیث کے گواہ ہیں۔

امام حسین(ع):

"فَاِنّى‏ لا ارى الموتَ الاّ شہادةً ولا الحیاةَ مع الظالمینَ الاّ بَرَماً "
ترجمہ: میں موت کو نہیں جانتا مگر شہادت اور ظالمین کے ساتھ حیات کو مگر ملامت۔

شوشتری، احقاق الحق، ج11، ص605۔

اس کے بعد امام حسین(ع) سپاہ یزید کے سپہ سالاروں شبث بن ربعی، حجار بن ابجر، قيس بن اشعث بن قیس اور يزيد بن حارث، سے مخاطب ہوئے اور انہیں ان کے بھیجے ہوئے خطوط کا ان میں تحریر شدہ عبارتوں کے ساتھ، حوالہ دیا، مگر انھوں نے انکار کیا اور کہا کہ آپ اپنے آپ کو ان کی تحویل میں دے دیں چنانچہ آپ نے فرمایا: نہيں، خدا کی قسم! میں کبھی بھی ذلت کا ہاتھ ان کی طرف نہيں بڑھاؤں گا۔[35]

امام حسین(ع) کے خطاب کے بعد زہیر بن قین نے کوفیوں سے خطاب کیا اور امام حسین(ع) کے فضائل بیان کرتے ہوئے انہیں موعظہ کیا۔[36] گوکہ سپاہ یزید بن معاویہ میں شمر نے ـ جیسا کہ اس نے امام حسین(ع) کے خطاب کے درمیان خلل ڈالتے ہوئے کہا ـ ان باتوں میں سے کسی کو بھی نہیں سمجھ رہا تھا۔ زہیر بن قین کا جواب بدزبانی اور دشنام طرازی سے دیا۔[37]

امام(ع) کی طرف سے آغاز جنگ کی مخالفت

ابن سعد کی سپاہ جنگ کے لئے تیار ہوئی تو امام حسین(ع) کے حکم پر خیام کے عقب میں بنی خندق میں آگ لگا دی گئی۔ اسی اثناء میں شمر بن ذی الجوشن نے سواروں کی ایک جماعت کے ساتھ خیام کے عقب سے قریب آنے کی کوشش کی، مگر اس کو خندق کا سامنا کرنا پڑا جس میں آگ کے شعلے بھڑک رہے تھے چنانچہ اس نے امام حسین(ع) کو برا بھلا کہا۔

اس کے باوجود کہ مسلم بن عوسجہ خندق کے قریب تھے اور کہنے لگے کہ وہ شمر کو تیر کا نشانہ بنانے کے لئے تیار ہیں مگر امام حسین(ع) نے فرمایا: میں جنگ شروع کرنے والا نہیں بننا چاہتا۔[38]

حر بن یزید ریاحی کی توبہ

عاشورا کے روز حر بن یزید نے جب دیکھا کہ کوفیان امام حسین ؑ کے قتل کا مصمم ارادہ رکھتے ہیں تو لشکر کو چھوڑ کر حضرت امام حسین ؑ سے مل گئے۔بالآخر انکی معیت میں جنگ کرتے ہوئے شہادت سے ہمکنار ہوئے۔ندامت کی وجہ سے کوفی لشکر کو چھوڑ کر حضرت امام حسین سے ملحق ہونے کی وجہ سے شیعہ ان کی نہایت عظمت و احترام کے قائل ہیں۔اسی وجہ سے شیعہ حضرات امید ،وبولیت توبہ اور کامیابی کے نمونے کے طور حضرت حر کو پہچانتے ہیں۔

مروی ہے کہ حر بن یزید ریاحی نے امام حسین(ع) سے اجازت طلب کی کہ سب سے پہلے سپاہ یزید پر حملہ آور ہوں چنانچہ امام(ع) نے انہیں اجازت دی اور حر بن یزید نے یزیدی لشکر پر حملہ کیا اور لڑتے رہے حتی کہ جام شہادت نوش کرگئے۔[39]

عمر بن سعد کی طرف سے جنگ کا آغاز

جنگ اس وقت شروع ہوئی جب عمر بن سعد نے اپنے غلام درید (زوید) سے کہا: پرچم آگے لاؤ پس درید پرچم لے کر آگے آیا اور پسر سعد نے تیر کمان میں رکھا اور لشکر گاہ امام حسین(ع) کی طرف پھینکا اور کہا: امیر (یعنی ابن زياد) کے سامنے گواہی دو کہ میں پہلا شخص تھا جس نے تیر پھینکا۔[40] جس کے بعد اس کے لشکریوں نے بھی یکبارگی سے تیر اندازی کی۔[41]

چنانچہ جنگ کے آغاز پر حملے اجتماعی طور پر انجام پائے اور ان حملوں میں امام حسین(ع) کے زیادہ تر ساتھی شہید ہوئے۔ یہ حملہ ابتدائی حملے کے عنوان سے مشہور ہے اور بعض روایات کے مطابق ان حملوں میں امام حسین(ع) کے پچاس سے زائد اصحاب شہید ہوئے۔ اس کے بعد اصحاب امام حسین(ع) نے انفرادی طور پر جنگ جاری رکھی یا پھر دو دو افراد مل کر لڑتے رہے اور بہر صورت اصحاب دشمن کو امام حسین(ع) کے قریب نہيں آنے دے رہے تھے۔[42]

مسلم بن عوسجہ کی شہادت

اصل مضمون: مسلم بن عوسجہ

عمرو بن حجاج نے سپاہ امام(ع) کے دائیں بازو (میمنہ) پر حملہ کیا مگر اصحاب امام(ع) ان کی پیشقدمی میں رکاوٹ بنے۔ عمرو بن حجاج نے یہ دیکھا تو پسپا ہوا اور اپنے ٹھکانے کی طرف پلٹ گیا۔ پسپائی کے وقت اصحاب امام(ع) نے انہیں اپنے تیروں کا نشانہ بنایا جس کی وجہ سے لشکر یزید کو کئی سوار ہلاک یا زخمی ہوئے۔[43]

دو بدو جنگ میں لشکر یزید کے متعدد افراد کی ہلاکت کے بعد عمر سعد نے حکم دیا کہ کوئی بھی جانبازان حسینی کے سامنے دو بدو لڑنے کے لئے باہر نہ آئے۔[44]

عمرو بن حجاج نے ایک بار پھر فرات کی جانب سے امام(ع) پر حملہ کیا۔ گھمسان کی جنگ ہوئی اور سپاہ امام(ع) کی استقامت کی وجہ سے اس کو ایک بار پھر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور وہ پسپا ہوگئے۔ اس لڑائی میں مسلم بن عوسجہ اسدی نے جام شہادت نوش کیا۔[45]

چنانچہ کہا گیا ہے کہ اس جنگ میں شہادت پانے والے امام(ع) کے سب سے پہلے صحابی مسلم بن عوسجہ تھے۔[46]البتہ بعض روایات کے مطابق مسلم بن عوسجہ وقت زوال کے قریب ہونے والی لڑائی اپنے دوسرے ساتھیوں کے ہمراہ جام شہادت نوش کرگئے۔[47]

عمیر بن عبداللہ کلبی کی لڑائی

تیراندازی کے بعد زیاد بن ابیہ کا غلام "یسار" اور عبیداللہ بن زیاد بن ابیہ کا غلام سالم میدان میں آئے اور حریف طلب کیا تو حبیب بن مظاہر اور بریر بن خضیر نے اٹھ کر جنگ کی اجازت مانگی لیکن امام(ع) نے انہیں اجازت نہ دی اور ان کے بعد عمیر بن عبداللہ [48] نے اٹھ کر عرض کیا: "یا ابا عبداللہ! اللہ کی رحمت ہو آپ پر، مجھے جنگ کی اجازت دیں۔ امام(ع) نے انہیں اجازت دی۔ عبداللہ میدان میں آئے اور ان دونوں کا کام تمام کردیا۔[49]

شمر اور جنگ کا سب سے زیادہ کا اشتیاق

عمرو بن حجاج کے حملے کے تھوڑی دیر بعد شمر بن ذی الجوشن نے لشکر امام حسین(ع) کے بائیں بازو (میسرہ) پر حملہ کیا تاہم اس کو بھی شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔[50]

یزیدی فوج میں کم ہی کوئی افسر شمر بن ذی الجوشن کی طرح جنگ کی نسبت اشتیاق رکھتا تھا؛ جس نے حتی امام حسین(ع) کی موجودگی میں بھی خواتین کا قتل عام کرنے اور خیام کو نذر آتش کرنے کے عزم کا اظہار کرنے سے گریز نہیں کیا۔[51]

ہمہ جہت یلغار

ظہر سے پہلے یزیدی سپاہ نے سپاہ امام(ع) پر ہمہ جہت حملہ کیا؛ اصحاب [[امام حسین علیہ السلام|امام(ع)] نے اس دوران شدید استقامت کی۔ گو کہ ان کی تعداد 32 افراد سے زيادہ نہ تھی مگر ان کی مزاحمت اس قدر شدید تھی کہ یزیدی فوج کے سواروں کا کمانڈر عزرة بن قیس عمر سعد سے کمک طلب کرنے پر مجبور ہوا۔[52]

ابن سعد نے حصین بن تمیم کو بلایا اور اس کو زرہ پوش گھوڑوں پر سوار افراد نیز 500 تیر انداز دے کر عزرہ بن قیس کی مدد کے لئے روانہ کیا جنہوں نے امام(ع) کی سپاہ پر تیروں کی بارش کردی۔[53]

اصحاب امام(ع) تین اور چار افراد کے دستوں میں بٹ گئے اور خیام امام(ع) کے دفاع میں مصروف ہوگئے۔ وہ دشمن کی طرف سے حملہ آور افراد کو تیروں اور تلواروں سے ہلاک کرتے رہے اور جو لوگ خیام لوٹنے کی کوشش کرتے وہ ان پر حملہ آور ہوتے تھے۔ ابن سعد کی سپاہ کو ناکامی ہوئی تو اس نے خیموں کو تباہ کرنے کا حکم دیا چنانچہ انھوں نے ہر طرف سے خیام پر حملہ کیا۔ ایک حملہ شمر نے خیموں کے عقب سے کیا۔ زہیر بن قین نے دس افراد کے ہمراہ شمر پر حملہ آور ہوئے اور اس کو خیموں سے دور کردیا۔[54]

جنگ سورج کے زوال تک (ظہر) تک شدت سے جاری رہی۔[55] اس مدت میں امام(ع) کے بہت سے اصحاب شہید ہوگئے۔ ایک روایت کے مطابق اس حملے میں لشکر امام(ع) کے میسرہ میں مسلم بن عوسجہ کے علاوہ عبداللہ بن عمیر کلبی ہانی بن ثبیت حضرمی اور بکیر بن حی تمیمی بھی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔[56] عمرو بن خالد صیداوی، جابر بن حارث سلمانی، سعد غلام عمرو بن خالد، مجمع بن عبداللہ عائذی اور ان کے بیٹے عائذ بن مجمع سب دشمن کے ساتھ جھڑپوں میں جام شہادت نوش کرگئے۔[57] امام(ع) کے دیگر اصحاب بھی ـ جن کی تعداد بعض مؤرخین نے 50 سے زائد بتائی ہے ـ اس مدت میں شہید ہوگئے۔[58]

ظہر عاشورا کے واقعات

آفتاب عاشورا کے وقت ظہر پر پہنچنے پر ابو ثمامہ صائدی نے امام(ع) کو وقت ظہر اور نماز ظہر کی یاد دلائی۔ امام(ع) نے سر اٹھا کر ایک نگاہ آسمان پر ڈالی اور ابوثمامہ کے حق میں دعا دی اور فرمایا: "ان (یعنی سپاہ یزید) سے کہہ دو کہ نماز ظہر کے لئے ہمیں مہلت دیں"۔[59] اسی اثناء میں حصین بن تمیم نے چلّا کر کہا کہ "ان (حسین(ع)) کی نماز قبول نہیں ہے!"۔ حبیب بن مظاہر یہ بات سن کر غضبناک ہوئے اور بلند آواز سے کہا: "تو نے گمان کیا ہے کہ اہل بیت رسول(ع) کی نماز قبول نہیں ہوتی اور تجھ گدھے کی نماز قبول ہوتی ہے"، حصین اور اس کے اہل قبیلہ اور ساتھی یہ بات سن کر حبیب بن مظاہر کی طرف حملہ آور ہوئے اور ان کے ساتھ لڑپڑے؛[60] حتی کہ بُدَیل بن صُریم اور حصین بن تمیم نے حبیب بن مظاہر کو شہید کردیا۔[61]

نمازِ ظہرِ عاشورا

ظہر عاشورا امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب نماز کے لئے کھڑے ہوئے۔ امام(ع) نے زہیر بن قین اور سعید بن عبداللہ حنفی سے فرمایا: آپ اور آپ کے آدھے ساتھیوں کے سامنے کھڑے ہوجائیں اور نماز کی حالت میں دشمن کے ممکنہ حملوں کی صورت میں ان کو تحفظ فراہم کریں۔ نماز شروع ہوتے ہی[62] عمر بن سعد کی سپاہ نے امام(ع) اور اصحاب امام(ع) کو اپنے تیروں اور حملوں کا نشانہ بنایا تاہم زہیر بن قین اور سعید بن عبداللہ حنفی نے دشمن کے حملوں کے سامنے سینہ سپر کرکے تیروں کو امام(ع) اور اصحاب امام(ع) تک نہیں پہنچنے دیا۔[63]

نماز کے بعد سعید بن عبداللہ حنفی ـ جو امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب کا تحفظ کرتے ہوئے شدید زخمی ہوئے تھے ـ زخموں کی شدت کی وجہ سے جام شہادت نوش کرگئے۔[64] نماز کے بعد زہیر بن قین، بریر بن خضیر ہمدانی، نافع بن ہلال جملی، عابس بن ابی شبیب شاکری، حنظلہ بن اسعد شبامی اور دوسرے صحابی یکے بعد دیگرے میدان میں پہنچے اور شہید ہوئے۔[65]

عصر عاشورا کے واقعات

سید بن طاؤس نے اقبال الاعمال نے لکھا ہے: عصر عاشورا [اصحاب و خاندان حسین(ع) کی شہادت کے بعد] امام حسین(ع) کے بچے اور خواتین سپاہ عمر سعد کی سپاہ کے ہاتھوں اسیر ہوئے۔ انھوں نے روز و شب اپنے اوقات غم و اندوہ اور گریہ و بکاء کے ساتھ بسر کئے۔ ایک ایسا دن ان پہ گذرا اور ایک ایسی رات جس کو بیان کرنا قلم کی قوت سے باہر ہے۔ شب یازدہم کربلا میں رہے [شام غریبان کو تشکیل دینے] نہ ان کا کوئی مرد تھا اور نہ ہی کوئی مددگار۔ وہ تنہا و بےکس رہ گئے تھے اور دشمن عمر بن سعد اور ابن زیاد کو خوش کرنے کے لئے ان کو آزار و اذیت دیتے اور ان کی توہین کرتے تھے۔[66] عصر عاشورا کو ہوا کیا؟

خاندان امام حسین (ع) کی شہادت

اصحاب امام حسین (ع) کی شہادت کے بعد اہل بیت امام(ع) جنگ کے لئے آگے بڑھے۔ بنی ہاشم میں سب سے پہلے فرزند امام حسین (ع) علی بن الحسین (علی اکبر) تھے جو [امام(ع) سے اذن جہاد لینے کے بعد میدان کارزار میں اترے اور شہید ہوئے۔ امام حسین (ع) نے انہیں جنگ کی اجازت دی۔[67]

علی اکبر(ع) نے امام حسین (ع) سے اجازت لے کر میدان کارزار کا رخ کیا اور امام حسین (ع) نے ایک دعا کے ضمن میں فرمایا کہ لوگوں کے درمیان ہر لحاظ سے رسول(ص) سے سب سے زیادہ مشابہت رکھتے ہیں۔[68]

حضرت علی اکبر علیہ السلام کی شہادت کے بعد امام حسین (ع) کے دوسرے بھائی عباس بن علی(ع) سے قبل جام شہادت نوش کرگئے۔[69] خاندان بنو ہاشم کے دوسرے افراد بھی یکے بعد دیگرے میدان گئے اور جام شہادت نوش کرگئے جن میں اولاد عقیل بن ابی طالب جیسے: عبداللہ بن مسلم بن عقیل اولاد جعفر بن ابی طالب جیسے: عدی بن عبداللہ بن جعفر طیار نیز اولاد امام حسن(ع) جیسے: قاسم بن حسن اور ابوبکر بن حسن؛ اور حضرت عباس اور آپ کے بھائی عبداللہ، عثمان اور جعفر اور دوسرے ہاشمی شامل تھے۔[70]

اور سپاہ حسینی کے علمبردار ابوالفضل العباس(ع) ـ جو سپاہ امام حسین (ع) کی ناکہ بندی کی وجہ سے پانی کی فراہمی کے ذمہ دار بھی تھے ـ پانی لانے کی غرض سے نکلے تھے لیکن شریعۂ فرات، پر متعین یزیدی لشکر کے پہرے داروں کے ساتھ لڑائی میں شہید ہوگئے۔[71]

مروی ہے کہ اصحاب امام(ع) کے سب سے آخری شہید "سوید بن عمرو خثعمی]]" تھے۔[72]


امام سجاد(ع) کا عزم جہاد

اصحاب و انصار اور بنو ہاشم کی شہادت کے بعد ابا عبداللہ(ع) میدان جنگ میں گئے۔ اہل بیت(ع) کی بےچینی دیکھ کر امام(ع) رنجیدہ خاطر ہوگئے تھے۔ آپ نے ادھر ادھر نظر ڈال دی تو کوئی ناصر و مددگار نظر نہ آیا۔ امام(ع) کی نگاہ کربلا کی تپتی خاک پر اپنے اصحاب اور افراد خاندان کے پارہ پارہ جسموں پر پڑی اور سپاہ یزید سے مخاطب ہوکر فرمایا: "کیا کوئی ہے جو حرم رسول اللہ(ص) کا دفاع کرے؟ اور کیا تم میں کوئی خدا پرست ہے جو ہمارے سلسلے میں خدا کا خوف کرے؟ کیا ہے کوئی فریاد رس جو اللہ کی خاطر ہماری امداد کرے، کیا کوئی ناصر و مددگار ہے جو ہماری مدد و نصرت کو آئے؟[73] [لیکن] کوفیوں سے کوئی جواب نہ ملا۔

ابا عبداللہ(ع) نے شہداء کے مطہر جسموں کی طرف رخ کیا اور فرمایا: "اے حبیب بن مظاہر، اے زہیر بن قین، اے مسلم بن عوسجہ، اور اے برے دنوں کے پردل شیر دل بہادرو! میں تمہیں بلا رہا ہوں، تم میرا کلام کیوں نہيں سن رہے ہو اور میری دعوت کو لبیک کیوں نہيں کہہ رہے ہو؟ تم سو چکے ہو لیکن میں امید کررہا ہوں کہ تم میٹھی نیند چھوڑ کر سر اٹھاؤ کیونکہ یہ آل رسول(ص) کی خواتین ہیں، جن کا تمہارے بعد کوئی یار و یاور نہیں ہے۔ جاگ اٹھو اے کریمو! اور گناہ و طغیان کے مقابلے میں آل رسول(ص) کا دفاع کرو"۔

امام کی غم بھری صدا سن کر خواتین حرم گریہ و بکا اور نالہ و فریاد کی صدائیں بلند ہوئیں۔ مروی ہے کہ اس اثناء میں امام سجاد(ع) ـ جو ایک عصا کا سہارا لئے ہوئے تھے بابا کی صدا سن کر خیموں سے باہر آئے؛ لیکن تلوار اٹھانے کی طاقت سے محروم تھے۔ ابا عبداللہ(ع) بیٹے سجاد(ع) کی طرف متوجہ ہوئے اور ام کلثوم(س) سے مخاطب ہوئے: انہیں لوٹا دو تاکہ زمین فرزندان محمد(ص) سے خالی نہ رہے۔[74]

مفصل مضمون: امام سجاد(ع)

جنگ کے لئے تیاری

امام(ع) خیمے میں آئے، اہل خاندان کو خاموشی کی تلقین کی اور اپنی بہنوں، اور اولاد اور بچوں سے آخری دفاع کیا۔ اس کے بعد آپ کے لئے ایک کرتا لایا گیا جو آپ نے کئی جگھوں سے پھاڑ کر اپنے لباس کے نیچے پہن لیا تاکہ سپاہ یزید کی دستبرد سے محفوظ ہو؛ گوکہ [بزدل اشقیاء] نے وہی پھٹا پرانا کرتا بھی لوٹ لیا!۔[75]

عبداللہ بن حسین(ع) کی شہادت

امام حسین(ع) نے اپنے طفل شیرخوار کو دیکھا جو پیاس کی شدت سے رو رہے تھے، چنانچہ آپ نے انہيں ہاتھ پر اٹھایا اور میدان جنگ میں آئے اور فرمایا: اے جماعت! اگر تم مجھ پر رحم نہیں کرتے ہو تو کم از کم اس طفل شیرخوار پر رحم کرو۔ مگر انھوں نے دودھ پینے والے بچے پر بھی رحم نہ کیا اور حرملہ بن کاہل اسدی نے سپاہ یزید کی صفوں سے اس طفل کے گلے کو تیر مار کر باپ کی آغوش میں شہید کردیا۔[76]

عصر عاشور کی لڑائیاں

امام حسین کے تمام اصحاب و اقرباء جام شہادت نوش کرگئے تھے اور آپ تنہا رہ گئے تھے لیکن کافی دیر تک لشکر یزید میں سے کوئی آپ کا سامنا کرنے کے لئے نہیں آرہا تھا۔ البلاذری کی رپورٹ کے مطابق ایک بار جب آپ نے پانی نوش کرنے کا ارادہ کیا[77] تو ایک شقی نے آپ کے دہان مبارک کی طرف تیر پھینکا اور بقول بلاذری جب آپ نے اپنا گھوڑا شریعۂ فرات کی طرف دوڑایا تو لشکر یزید نے آپ کا راستہ بند کیا۔[78]

امام حسین(ع) تنہا بھی تھے اور آپ کے سر اور جسم کو گہرے زخم بھی لگے تھے لیکن شجاعت و بےباکی سے شمشیر چلا رہے تھے۔[79]

حُمَيد بن مسلم روایت کرتا ہے: "خدا کی قسم! میں نے ہرگز کسی شکست خوردہ شخص کو نہیں دیکھے جس کے بچے اور اہل خاندان اور اصحاب و انصار سب مارے گئے ہوں اور وہ اس قدر بےباک، قوی دل اور بہادر رہا ہو۔ پیادے ہر طرف سے ان پر حملہ آور ہوتے تھے اور وہ امام حسین(ع) ان پر جوابی حملہ کرتے تھے پس وہ دائیں بائیں اطراف سے بھاگ جاتے تھے، ان بھیڑ بکریوں کی مانند جو بھیڑیے کو سامنے پا کر بھاگتے اور بکھر جاتے ہیں۔[80]

سید بن طاؤس نے بھی نقل کیا ہے کہ امام حسین(ع) دشمن کی صفوں پر حملہ کرتے تو دشمن کے 30 ہزار فوجی یکبارگی سے پسپا ہوجاتے تھے اور ٹڈیوں کی طرح صحرا میں بکھر جاتے تھے۔[81]

کافی جنگ کے بعد امام حسین (ع) حرم کی طرف آئے اور خواتین کو صبر و تحمل کی دعوت دی۔[82] اور تمام خواتین (بہنوں، بیٹیوں اور زوجات مکرمات) سے الگ الگ وداع کیا؛[83] اور پھر بیٹے امام سجاد(ع) کی بالین پر حاضر ہوئے۔[84]

امام(ع) اہل حرم سے وداع کررہے تھے اور اسی اثناء میں سپاہ یزید نے عمر بن سعد کے حکم پر خیام پر حملہ کیا اور آپ کو تیروں کا نشانہ بنایا۔ دشمن کی طرف سے آنے والے تیر خیموں کی رسیوں اور خیموں سے گذر گئے اور اہل حرم کے خوف و دہشت کا موجب بنے۔[85]

امام علیہ السلام کی شہادت

مفصل مضمون: شہادت امام حسین

اس روز کا سب سے زیادہ غم و اندہ واقعہ فرزند رسول ،جگر گوشۂ علی و بتول کا پیاسہ شہید ہونا ھے ۔ حضرت امام حسین بنی ہاشم اور اصحاب کی شہادت کے بعد میدان جنگ میں تشریف لائے مبارزہ طلب کیا جو بھی آپ کے مقابلے میں اسے واصل جہنم کیا اور بالآخر اشقیا نے مل کر آپ پر حملے کئے اور آپ کو پیاس کے عالم میں شہید کر دیا .

امام(ع) کے پیکر پر گھوڑے دوڑانا

ابن سعد نے ابن زياد بن ابیہ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے سپاہ یزید میں سے 10 افراد کو چن لیا جو اس کام کے لئے رضاکارانہ طور پر تیار ہوئے تھے اور ان میں اسحاق بن حویہ اور اخنس بن مرثد بھی شامل تھے اور ان افراد نے ابن سعد کے حکم پر امام(ع) کے جسم مبارک پر گھوڑے دوڑائے اور آپ کے جسم بےجان کو پامال کردیا۔[86]

امام(ع) اور دیگر شہداء کے سر جدا کرنا

عمر بن سعد نے اسی دن امام(ع) کے سر مقدس کو خولى بن يزيد اصبحى اور حميد بن مسلم ازدى کے سپرد کرکے عبیداللہ بن زیاد بن ابیہ کے لئے روانہ کیا؛ نیز حکم دیا کہ اصحاب امام(ع) اور جوانان بنی ہاشم کے سرہائے مبارک کو تن سے جدا کیا جائے۔ ابن سعد نے ان سروں کو ـ جن کی تعداد 72 تک پہنچ رہی تھی ـ شمر بن ذی الجوشن، قيس بن اشعث اور عمرو بن حجاج زبیدی کے ہاتھوں کوفہ روانہ کیا۔[87]

حرم اہل بیت کو شہادت امام(ع) کی خبر

امام(ع) کی شہادت کے بعد ایک کنیز خیمے سے باہر آئی۔ ایک شخص نے اس کو خبر دی کہ "تمہارے مولا کو قتل کیا گیا"، کنیز تیزرفتاری سے خیام میں پہنچی اور گریہ و بکاء کرتے ہوئے اہل بیت رسول(ع) کو امام(ع) کی شہادت خبر دی۔ خواتین حرم اٹھ کھڑی ہوئیں اور ان کی بکاء کی آواز بلند ہوئی۔[88]

بعد از جنگ کے واقعات

عاشورا کے دن جنگ تو ختم ہوئی، لاشے بھی پامال ہوئے اور سروں کی فصل بھی کاٹی گئی مگر دشمن کا بغض و عنان ختم ہونے کا نام نہ لے رہا تھا۔

خیموں میں لوٹ مار اور آتشزدگی

شہادت امام(ع) کے بعد دشمن کی سپاہ نے موجودہ سازو سامان اور لباس کو لوٹنے کے لئے خیام آل رسول(ص) پر حملہ کیا، گھوڑے، اونٹ اور گھریلو سامان لوٹ لیا اور خواتین کے زیورات اور البسہ و اقمشہ بھی لوٹ لئے۔ وہ خیام آل رسول(ص) کو لوٹنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے رہے تھے۔

شمر بن ذی الجوشن دشمن کی سپاہ کے ایک گروہ کے ہمراہ خیام میں داخل ہوا۔ شمر امام سجاد(ع) کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا لیکن حضرت زینب(س) نے اس کو ایسا نہیں کرنے دیا۔ اور ایک روایت کے مطابق سپاہ یزید میں ہی بعض افراد نے شمر کے اس ارادے پر اعتراض کیا۔

ابن سعد نے حکم دیا کہ دختران رسول اللہ(ص) کو ایک خیمے میں جمع کیا جائے اور ان پر پہرا لگایا۔ رواى کہتا ہے کہ سپاہ یزید نے خیموں کو لوٹ لیا اور اور خواتین کو باہر نکال کر انہیں آگ لگا دی اور آل رسول(ص) کی خواتین سر و پا برہنہ خیموں سے باہر نکلیں جبکہ ان کی چادریں لوٹ لی گئی تھیں۔[89]

اصحاب میں سے وہ جو زندہ رہے

ضحاک بن عبداللہ مشرقی اور عبد الرحمان بن عبد رب انصاری محاصرے سے نکل کر فرار ہوئے؛ موقع بن ثمامہ اسدی کو ابن زیاد نے جلاوطن کیا اور زوجۂ امام(ع) رباب بنت امرؤ القیس کے خادم عقبہ بن سمعان کو ابن سعد نے غلام ہونے کی وجہ سے رہا کردیا۔

اہل بیتِ امام(ع) کی اسیری

واقعہ عاشورا کے روز علی بن حسین(ع) سخت بیمار تھے ۔ وہ حضرت زینب(س) سمیت دوسرے بچ جانے والوں کے ساتھ اسیر ہوئے ۔ عمر بن سعد اور اسکے سپاہی اسرا کو کوفہ میں وہاں کے حاکم ابن زیاد کے پاس لے گئے اور پھر انہیں وہاں سے شام میں یزید بن معاویہ کے پاس لے جایا گیا ۔

شہدائے عاشورا کی تدفین

مؤرخین کے مطابق عمر بن سعد کے کربلا سے چلے جانے کے بعد شہداء کو 11 محرم الحرام کے دن دفن کیا گیا؛[90] جبکہ بعض دوسروں نے کہا ہے کہ 13 محرم[91] شہداء کی تدفین کا دن ہے۔ سنی مؤرخین کا اتفاق ہے کہ امام حسین(ع) اور آپ کے اصحاب کو 11 محرم سنہ 61 ہجری کے دن سپرد خاک کیا گیا ہے۔[92]

مسعودی کے مطابق عمر بن سعد نے امام حسین(ع) کی شہادت کے بعد حکم اپنے لشکر کے ہلاک ہونے والے 88افراد کی تدفین کا حکم دیا[93] ـ دفن کیا جائے اور شہداء کے اجساد مطہر کو دفن کئے بغیر چھوڑ دیا جائے۔[94]

بعض اقوال کے مطابق ابن سعد کے چلے جانے کے بعد، کربلا کے قریب رہنے والے قبیلے بنو اسد کی ایک جماعت میدان کربلا کی طرف آئی اور شہداء کی بےگور و کفن پڑی لاشوں کو دیکھا تو رات کے وقت ـ جب وہ دشمن سے محفوظ تھے ـ کربلا میں لوٹ آئے اور شہداء کی میتوں پر نماز ادا کی اور انہیں دفنا دیا۔[95]

امام(ع) کو موجودہ مقام پر اور علی اصغر کو آپ کی پائنتی کی جانب دفن کیا۔ ایک قبر امام(ع) کے پائینتی کی جانب خاندان امام(ع) کے لئے تیار کی گئی اور ایک قبر آپ کے اصحاب کے لئے اور انہیں وہیں دفن کیا۔ لیکن ان کی قبروں کا صحیح مقام ہمیں معلوم نہيں ہے گوکہ بلاشک وہ سب حائر حسینی میں دفنا دیئے گئے ہیں۔ [96]

عباس بن علی(ع) کا جسم مبارک وہیں دفنا دیا گیا جہاں وہ شہید ہوئے تھے۔[97]

نیز مروی ہے کہ تدفین شہداء کے وقت حر بن یزید ریاحی کے اقارب اور ایک قول کے مطابق ان کی والدہ نے ان کا جسم اس مقام پر منتقل کر کے دفنایا جہاں آج ان کی قبر واقع ہوئی ہے اور مقبرہ حر کے نام سے مشہور ہے۔[98]

بنو اسد بھی اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ اپنے ابن عمّ حبیب بن مظاہر کو دوسرے شہداء کے ساتھ ایک قبر میں دفن کریں چنانچہ انہیں امام(ع) کے سر مبارک کی جانب دفنایا گیا اور ان کی قبر آج بھی قبر حبیب کے نام سے پہچانی جاتی ہے۔[99]

دفن سر امام حسین (ع)

عبید اللہ بن زياد بن ابیہ نے سر مبارک امام(ع) کو کوفہ میں سولی پہ لٹکایا اور پھر دوسرے شہداء کے سروں کے ہمراہ زَحْربن قیس جعفی کے سپرد کرکے اپنے حکمران یزید بن معاویہ کے پاس دمشق روانہ کیا۔[100]، عاتکہ بنت یزید (جو عبدالملک بن مروان کی زوجہ تھی) نے سر امام(ع) کو پورے عقیدت و احترام سے دھو لیا اور اس کو خوشبو لگائی اور دمشق کے ایک باغ (محل کے باغ یا کسی اور باغ) میں سپرد خاک کیا۔ اور ایک دوسری روایت کے مطابق سر امام(ع) کو کوفہ و شام ، عسقلان اور مصر لے جایا گیا[101]، اور پھر مدینہ لےجایا گیا اور کفن دے کر بقیع میں اپنی والدہ حضرت فاطمہ(س) کے پہلو میں دفنایا گیا۔[102] جبکہ علم الہدی[103]، کا کہنا ہے کہ سر امام(ع) کو شام سے دوبارہ کربلا لایا گیا اور آپ کے جسم مبارک کے ساتھ دفنا دیا گیا۔

عاشورا کی پیامبر

مفصل مضمون: حضرت زينب(س)

شہادت امام حسین علیہ السلام کے بعد آپ کی ماں جائی حضرت زینب(س) نے ـ جو اسیروں کے قافلے میں تھیں ـ کوفہ میں مجلس بن زیاد میں، دمشق میں مجلس یزید میں بلیغ خطبات دیئے اور تحریک حسینی کا خد و خال اور اہداف و مقاصد بیان کئے، نیز یزید کے مفاسد، برائیوں، بدعنوانیوں اور انحرافات کو طشت از بام کیا اور کوفیوں کی بےوفائی اور دھوکے بازی کو بےنقاب کیا۔[104]

حوالہ جات

  1. دہخدا، علی اکبر، لغت نامہ، ج 10، ص 15663۔
  2. دائرة المعارف تشیع، ج11، ص15۔
  3. دہخدا، لغت نامہ، ج 10، ص 15663۔
  4. محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم، الملوک(تاریخ الطبری)، ص463، علی بن ابی الکرم ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ج4، ص84۔
  5. احمد بن یحیی البلاذری، انساب الاشراف، ج3، صص391-392؛ الطبری، التاریخ، ج5، صص416-418، احمد دینوری، الاخبار الطوال، ص 256، ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ج5، صص97- 98۔، محمدبن محمدبن نعمان "شیخ مفید"، الارشاد فی معرفة حجج اللّہ علی العباد؛ ج2، ص90؛ الموفق بن احمد الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، صص249-250، ابوعلی مسکویہ، تجارب الامم، ج2، صص73- 74۔
  6. احمد دینوری،الاخبار الطوال، ص 256۔
  7. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص186؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص421 و ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص99 و الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، ص251 و ابن اثیر، الکامل، ج4، ص59۔
  8. ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص99؛ الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، ص251؛ سید بن طاوس؛ اللہوف، ص94، ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص52۔ الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج5، ص421، المفید، الارشاد، ج2، ص95۔
  9. احمد بلاذری، انساب الاشراف، ج3، صص378-379، الطبری، التاریخ، ج5، ص369۔
  10. أبو مخنف الازدی، مقتل الحسین(ع)، ص107،177،تاریخ طبری، ج4، ص318 اور ارشاد مفید، ج2 ، ص91۔
  11. الطبری، التاریخ، ج5، ص419؛ المفید، الارشاد، ج2، ص92۔
  12. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص185؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص419؛ المفید، الارشاد، ج2، ص92۔
  13. الطبری، التاریخ، ج5، ص419؛ سید بن طاوس؛ اللہوف، ص92۔
  14. الطبری، التاریخ، ج5، صص419-420؛ احمد بلاذری، انساب الاشراف، ج3، صص393؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص117۔
  15. الطبری، التاریخ، ج5، ص420؛ المفید، الارشاد، ج2، ص91؛ الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، صص250-251، ابن اثیر، الکامل، ج4، صص57-58۔
  16. قطب الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، ج2، ص848، عبداللہ البحرانی، العوالم الامام الحسین(ع)، ص350۔
  17. ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص96، الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، ص248۔
  18. عبدالرزاق الموسوی المقرم، مقتل الحسین(ع)، ص219۔
  19. الطبری، التاریخ، ج5، ص422؛ احمد بلاذری، انساب الاشراف، ج3، صص395؛ احمد دینوری، الاخبار الطوال، ص 256؛ الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، ص248، عبداللہ البحرانی، العوالم الامام الحسین(ع)، ص165۔
  20. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص 395، الطبری، التاریخ، ج5، ص 421، المفید، الارشاد، ج2، ص 94، ابن اثیر، الکامل، ج4، ص59، طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی، ج1، ص 457۔
  21. المقرم، مقتل الحسین(ع)، ص 219۔
  22. الطبری، التاریخ، ج5، صص420-421؛ البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص393؛ ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، ص 112- 113، المفید، الارشاد، ج2، صص93-94، ابن اثیر، الکامل، ج4،صص58-59، ابن شہرآشوب؛ مناقب آل ابیطالب، ج4، ص99۔
  23. الطبری، التاریخ، ج5، ص423۔
  24. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص395؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص422؛ احمد دینوری، الاخبار الطوال، ص 256، ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص101، ابن اثیر، الکامل، ج5، ص59۔
  25. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص395؛ احمد بن داوود الدینوری، الاخبار الطوال، ص256؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص422؛ المفید؛ الارشاد، ج2، ص95، ابن اثیر، الکامل، ج4، ص59۔
  26. المفید؛ الارشاد، ج2، ص96۔
  27. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص395-396؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص423-426؛ المفید، الارشاد، ج2، ص96۔
  28. سید بن طاوس نے اللہوف، ص119 اور عبد الرزاق الموسوی المقرم نے مقتل الحسین(ع)، ص276 پر لکھا ہے کہ آخر وقت امام(ع) 30000 ہزار کے لشکر کو بھیڑ بکریوں کی طرح ادھر ادھر مار بھگاتے تھے۔ جس سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ لشکر کی تعداد 30000 تھی۔
  29. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص395-396؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص422-426۔
  30. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص395-396؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص422؛ المفید، الارشاد، ج2، صص95-96 و ابن اثیر، الکامل، ج4، ص60۔
  31. الطبری، التاریخ، ج5، ص423؛ المفید، الارشاد، ج2، ص96 و ابن اثیر، الکامل، بیروت، ج4، صص60-61۔
  32. الطبری، التاریخ، ج5، ص438؛ البلاذری، انساب الاشراف، ج3،ص394۔
  33. الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، ص252۔ البلاذری، انساب الاشراف، ج3،ص396-398۔
  34. ابن اعثم، الفتوح، ج5،ص100؛ الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج1، ص252؛ عبد الرزاق الموسوی المقرم، مقتل الحسین(ع)، صص232-233۔
  35. الطبری، التاریخ، ج5، صص426-424؛ البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص395-396؛ المفید، الارشاد، ج2، صص96–98۔
  36. الطبری، التاریخ، ج5، صص424-427۔
  37. الطبری، التاریخ، ج5، ص425-426؛ و البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص397۔
  38. الطبری، التاریخ، ج5، صص423-426؛ البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص393-396؛ المفید، الارشاد، ج2، ص96، طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی، ج1، ص458۔
  39. المفید، الارشاد، ج2، ص104۔
  40. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص398؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص429 و المفید، الارشاد، ج2، ص101۔
  41. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص398؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص429-430؛ المفید، الارشاد، ج2، ص101۔
  42. الطبری، التاریخ، ج5، ص429-430۔
  43. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص400؛ و الطبری، التاریخ، ج5، ص430-436۔
  44. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص400؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص430-437۔
  45. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص400؛ الطبری، التاریخ، ج5، صص435-436؛ المفید، الارشاد، ج2، صص103-104۔
  46. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص400۔
  47. الطبری، التاریخ، ج5، ص437، ابن اثیر، الکامل، ج4،ص68۔
  48. عمیر بن عبداللہ کلبی امیرالمؤمنین علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کے صحابی تھے۔ بعض مورخین کے مطابق ان کے والد کا نام عمیر نہیں "عمر" (الحسین والسنة، ص74) بعض کے کہنے کے مطابق "عمرو" تھا۔ (روضة الشہداء، ص287) بعض نے انہیں "عبد بن عمیر کلبی" کے نام سے یاد کیا ہے۔(عاشورا چہ روزی است، ص253)۔
  49. الطبری، التاریخ ج4، ص326-327۔
  50. الطبری، التاریخ، ج5، ص436-438۔
  51. الطبری، التاریخ، ج5، صص 438-439۔
  52. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص400؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص437-436 و المفید، الارشاد، ج2،ص104۔
  53. الطبری، التاریخ، ج5، ص437 -436۔
  54. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص400؛ و الطبری، التاریخ، ج5، صص437-439؛ و المفید، الارشاد، ج2، ص105۔
  55. الطبری، التاریخ، ج5، صص437- 438۔
  56. الطبری، التاریخ، ج5، ص437، ابن اثیر، الکامل، ج4،ص68۔۔
  57. الطبری، التاریخ، ج5، ص446۔
  58. ابن اعثم، الفتوح، ج5، ص101۔
  59. الطبری، التاریخ، ج5، ص438-439، ابن اثیر، الکامل، ج4،ص70۔
  60. الطبری، التاریخ، ج5، صص439؛۔
  61. الطبری، التاریخ، ج5، صص439-440۔
  62. الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج2، ص17؛ سید بن طاوس؛ اللہوف، صص110-111۔
  63. الطبری، التاریخ، ج5، ص441 و المفید؛ الارشاد، ج2، ص105۔
  64. سید بن طاوس، اللہوف فی قتلی الطفوف، ص111۔
  65. الطبری، التاریخ، ج5،ص441 و الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج2، ص20۔
  66. ابوالقاسم رضی الدین علی بن موسی المعروف سید علی ابن طاووس (یا سید بن طاؤس)، نفس المہموم، ص 208۔
  67. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص361-362؛ ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، ص80؛ ابوحنیفہ احمد بن داوود الدینوری، الاخبار الطوال، ص256؛ الطبری، التاریخ، ج5،ص446؛ جعفر ابن نما، مثیرالاحزان، ص68؛ ابن طاووس، اللہوف علی قتلی الطفوف، ص49۔
  68. ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، ص115-116۔
  69. ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، ص80-86؛ الطبری، التاریخ، ج5،ص446-449۔
  70. ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، ص89-95؛ الطبری، التاریخ، ج5،ص446-449؛ ابن سعد، ج6، ص440-442؛ دینوری، ص256-257۔
  71. الطبری، التاریخ، ج5،ص446-449؛ ابن شہرآشوب، المناقب، ج4، ص108۔
  72. الطبری، التاریخ، ج5، صص446، 453۔
  73. الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج2، ص32؛ سید بن طاوس، اللہوف فی قتلی الطفوف، ص116 و ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص70۔
  74. الخوارزمی، مقتل الحسین(ع)، ج2، ص32۔
  75. سید بن طاوس، اللہوف فی قتلی الطفوف، ص123؛ البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص409؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص451-453؛ المفید، الارشاد، ج2،ص111۔
  76. الطبری، التاریخ، ج5، ص448؛ ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، ص95؛ المفید، الارشاد، ج2، ص108۔
  77. گوکہ حضرت عباس(ع) کے پانی کی غرض فرات کے کنارے پہنچ کر وہاں شہید ہونے (رجوع کریں: الطبری، التاریخ، ج5،ص446-449؛ ابن شہرآشوب، المناقب، ج4، ص108) نیز حضرت علی اصغر کے لئے اشقیاء سے پانی مانگنے کی روایت (رجوع کریں الطبری، التاریخ، ج5، ص448؛ ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، ص95؛ المفید، الارشاد، ج2، ص108) کے پیش نظرامام(ع) کے پانے پینے کی روایت کچھ زیادہ صحیح معلوم نہيں ہوتی اور پھر پانی پینے کے بعد امام(ع) کے سوئے فرات گھوڑا دوڑانا بھی روایت میں کچھ تضاد کا سبب بنتا ہے۔
  78. بلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص407؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص449-450؛ ابن سعد، الطبقات الکبیر، ج6، ص 440؛ دینوری، الاخبار الطوال، ص 258۔
  79. الطبری، التاریخ، ج5، ص452؛ المفید؛ الارشاد، ج2، ص111؛ مسکویہ، تجارب الامم، ج2، ص80 و ابن اثیر، الکامل، ج4، ص77۔
  80. الطبری، التاریخ، ج5، ص452؛ المفید؛ الارشاد، ج2، ص111؛ مسکویہ، تجارب الامم، ج2، ص80 و ابن اثیر، الکامل، ج4، ص77۔
  81. سید بن طاوس؛ اللہوف، ص119؛ المقرم، مقتل الحسین(ع)، ص276۔
  82. محمد باقر مجلسی، جلاء العیون، ص408، المقرم، مقتل الحسین(ع)، صص276-278۔
  83. ابن شہرآشوب؛ المناقب، ص109؛ المقرم، مقتل الحسین(ع)، ص277۔
  84. علی بن الحسین المسعودی، اثبات الوصیة للامام علی بن ابیطالب(ع)، صص177-178۔
  85. المقرم، مقتل الحسین(ع)،صص277-278۔
  86. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص411؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص455؛ المسعودی، مروج الذہب، ج3، ص 259۔
  87. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص411؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص455؛ المسعودی، مروج الذہب، ج3، ص 259۔
  88. علي نظري منفرد، قصہ کربلا، ص 375، سید بن طاووس، اللہوف، ص 55۔
  89. سید بن طاؤوس، اللہوف، ص55۔
  90. محمد بن جریرالطبری، التاریخ، ج5، ص455؛ المسعودی، مروج الذہب، ج3، ص63 ۔
  91. المقرم، مقتل الحسین(ع)، ص319۔
  92. سید بن طاوس؛ اللہوف علی قتلی الطفوف، ص107۔
  93. گوکہ زیادہ تر شیعہ منابع نے لشکر شام کے ہلاک شدگان کی تعداد 2814 یا اس سے بھی کہیں زیادہ بتائی ہے جن میں امام(ع) کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے 1950 اشقیاء بھی شامل ہیں: جبکہ ابو الفضل(ع) نے فرات پر چار ہزار افراد کے پہرے کو چیر کر اسی سے زائد اشقیاء کو ہلاک کر ڈالا۔ رجوع کریں: بعض مقاتل میں لشکر یزید کے ہلاک شدگان کی تعداد 8008 تک بتائی گئی ہے جو اصحاب امام(ع) کے ایثار اور شوق شہادت کے پیش نظر مبالغہ آمیز تعداد نہيں ہے۔کشتگان سپاہ عمر سعد در عاشورا بحارالانوار علامہ مجلسی، نفس المہموم شیخ عباس قمی، ـ مقتل الحسين(ع)، سید عبدالرزاق مقرم، وقعۃ الطف ابي مخنف، اللہوف ابن طاؤس، تاريخ طبري، مناقب آل ابي طالب ابن شہر آشوب۔
  94. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص411؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص455؛ مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص 259۔
  95. البلاذری، انساب الاشراف، ج3، ص411؛ الطبری، التاریخ، ج5، ص455؛ مسعودی، مروج الذہب، ج3، ص 259۔
  96. مفید، الارشاد فی معرفة حجج اللّہ علی العباد، صص125ـ126۔
  97. المفید؛ الارشاد، ج2، ص114 و طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی، ج1، ص417۔
  98. مقرم؛ مقتل الحسین(ع)، ص319۔
  99. مقرم؛ مقتل الحسین(ع)، ص319۔
  100. بلاذری، انساب الاشراف، ج2، ص507؛ طبری، 1382ـ 1387الف، ج5، ص459؛ دربار یزید میں سر امام(ع) کی موجودگی کے بارے میں ایک روایت دیکھنے کے لئے رجوع کریں: بلاذری، ج2، ص507ـ508؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج5، ص459ـ460)۔ بلاذری کے بقول (انساب الاشراف، ج 2، ص508ـ509۔
  101. ابن شداد، الاعلاق الخطیرہ فی ذاکر امراء الشام و الجزیرہ، ص291؛ قزوینی، ص222۔
  102. ابن سعد، ج6، ص450۔
  103. سید مرتضی، رسائل الشریف المرتضی، ج 3، ص130۔
  104. حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبات کا متن دیکھئے: ابن طیفور، بلاغات النساء، ص20 تا 25؛ دربار یزید میں حضرت زینب سلام اللہ علیہا کے خطبے کے لئے رجوع کریں: ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج5، ص121ـ122؛ عقیلہ بنی ہاشم(س) کے موزون فارسی ترجمے کے لئے رجوع کریں: ڈاکٹر سید جعفر شہیدی، زندگانی فاطمہ زہرا(ع)، ص249ـ260۔

مآخذ

  • ابن اعثم، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، چاپ اول، ص1991۔
  • ابن الدمشقی؛ جواہر المطالب فی مناقب الامام علی(ع)، تحقیق محمد باقر المحمودی، قم، مجمع احیاء الثقافة الاسلامیہ، چاپ اول، 1416۔
  • ابن شداد، عزالدین ابی عبداللّہ، الاعلاق الخطیرہ فی ذاکر امراء الشام و الجزیرہ، تحقیق سامی الدہان، دمشق 1382 / 1962۔
  • ابن شہرآشوب؛ مناقب آل ابیطالب، قم، علامہ، 1379ق،
  • ابن طیفور، احمد، بلاغات النساء، قم، بی‌تا۔
  • ابن عبدربہ؛ العقد الفرید، بیروت، دارالکتب العلمیہ، چاپ اول، 1404۔
  • ابن نما حلی، مثیر الاحزان، قم، مدرسہ امام مہدی(عج)، 1406۔
  • ابن عساکر؛ تاریخ مدینہ دمشق، بیروت، دارالفکر، 1415۔
  • ابن منظور؛ لسان العرب، بیروت، دارصادر، چاپ سوم، 1414، ج15۔
  • ابوالفداء اسماعیل بن عمر ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دارالفکر، 1986۔
  • ابوالفضل احمد بن محمد المیدانی، مجمع الأمثال، تعلیق نعیم حسین زرزور، بیروت، دارالکتب العلمیہ، چاپ اول، 1988۔
  • ابوحنیفہ احمد بن داوود الدینوری، الاخبار الطوال، تحقیق عبدالمنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال، قم، منشورات رضی، 1368ہجری شمسی۔
  • ابوعلی مسکویہ، تجارب الامم، تحقیق ابوالقاسم امامی، تہران، سروش، چاپ دوم، 1379ہجری شمسی۔
  • ابومخنف الازدی، مقتل الحسین(ع)، تحقیق و تعلیق حسین الغفاری، قم، مطبعة العلمیہ، بی تا۔
  • احمد بن علی الطبرسی، الاحتجاج، مشہد، نشر مرتضی، چاپ اول، 1403۔
  • احمد بن یحیی البلاذری، انساب الاشراف، تحقیق سہیل زکار و ریاض زرکلی، بیروت، 1417ق، 1996عیسوی۔
  • احمد بن یوسف القرمانی، اخبار الدول، تحقیق فہمی سعد و احمد حطیط، بیروت، عالم الکتب، چاپ اول، 1992۔
  • احمد یعقوبی، تاریخ یعقوبی، نجف، 1358 ہجری۔
  • بلاذری، احمدبن یحیی، انساب الاشراف، چاپ محمود فردوس عظم، دمشق 1996ـ2000۔
  • حمید بن احمد المحلی، الحدائق الوردیہ فی مناقب الائمۃ الزیدیہ، صنعاء، مکتبہ بدر، چاپ اول، 1423۔
  • علی اکبر دہخدا، لغت نامہ دہخدا، ج6، تہران: 1377ہجری شمسی۔
  • دایرة المعارف تشیع، زیر نظر احمد صدر، کامران فانی، بہاءالدین خرمشاہی، تہران، موسسہ انتشاراتی حکمت، چ اول، 1390 ش/ 1432 ہجری۔
  • سید بن طاوس؛ اللہوف فی قتلی الطفوف، قم، انوار الہدی، چاپ اول، 1417۔
  • سید بن طاوس؛ اللہوف علی قتلی الطفوف، نجف، 1369 ہجری۔
  • سیدمرتضی علم الہدی، رسائل الشریف المرتضی، چاپ مہدی رجائی، قم 1405۔
  • شیخ صدوق؛ الامالی، کتابخانہ اسلامیہ، 1362ہجری شمسی۔
  • شیخ مفید؛ الارشاد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413ہجری۔
  • شہیدی، جعفر، زندگانی فاطمہ زہرا(ع)، تہران 1364ہجری شمسی۔
  • طبرانی؛ المعجم الکبیر، تحقیق حمدی عبدالمجید السلفی، بی جا، دار احیاء التراث العربی، بی تا۔
  • طبری ، محمدبن جریر، تاریخ الامم و الملوک، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت 1382ـ1387۔
  • طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، 1390ہجری۔
  • عبد الرزاق موسوی مقرم، مقتل الحسین(ع)، بیروت، دارالکتاب الاسلامیہ، چاپ پنجم۔
  • عبدالرحمن بن علی ابن جوزی، المنتظم فی تاریخ الأمم و الملوک، تحقیق محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکتب العلمیہ، چاپ اول، 1992۔
  • عبداللہ البحرانی، العوالم الامام الحسین(ع)، تحقیق مدرسہ الامام المہدی(عج)، قم، مدرسہ الامام المہدی(عج)، چاپ اول، 1407۔
  • عبداللہ المامقانی، تنقیح المقال فی علم الرجال۔ تحقیق محیی الدین المامقانی و محمدرضا المامقانی، قم، آل البیت(ع)، لاحیاء التراث، چاپ اول، 1430۔
  • علی ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبین، بہ کوشش احمد صقر، قاہرہ، 1368ق/ 1949عیسوی۔
  • علی ابوالفرج الاصفہانی، مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی تا، 1992عیسوی۔
  • علی بن ابی الکرم ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر-داربیروت، 1965۔
  • علی بن الحسین مسعودی، اثبات الوصیہ للامام علی بن ابیطالب(ع)، بیروت، دار الاضواء، چاپ دوم، 1988۔
  • علی بن الحسین المسعودی، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق اسعد داغر، قم، دارالہجرہ، چاپ دوم، 1409۔
  • علی بن الحسین المسعودی، مروج الذہب، بہ کوشش شارل پلا، بیروت، 1974 عیسوی۔
  • قطب الدین راوندی، الخرائج و الجرائح، قم، مؤسسہ امام مہدی(عج)، چاپ اول، 1415۔
  • قندوزی؛ ینابیع المودہ لذوی القربی، تحقیق سیدعلی جمال اشرف حسینی، دار الاسوہ، چاپ اول، 1416ہجری۔
  • محسن الامین، اعیان الشیعہ؛ تحقیق حسن الامین، بیروت، دارالتعارف، بی تا۔
  • محمد ابن سعد، کتاب الطبقات الکبیر، بہ کوشش علی محمد عمر، قاہرہ، 1421 ق، 2001 عیسوی۔
  • محمد ابن سعد؛ الطبقات الکبری، تحقیق محمد بن صامل السلمی، طائف، مکتبہ الصدیق، چاپ اول، 1993، خامسہ1۔
  • محمد السماوی، ابصار العین فی انصار الحسین(ع)]]، تحقیق محمد جعفر الطبسی، مرکز الدرسات الاسلامیہ لممثلی الولی الفقیہ فی حرس الثورة الاسلامیہ، چاپ اول۔
  • محمد باقر مجلسی، بحارالانوار الجامعة لدرر اخبار الأئمہ الاطہار، تہران، اسلامیہ، بی تا۔
  • محمد باقر مجلسی، جلاء العیون، جاویدان، بی تا۔
  • محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، 1967۔
  • محمد بن عمر کشی، رجال الکشی، مشہد، دانشگاہ مشہد، 1348ہجری شمسی۔
  • مفید، محمدبن محمدبن نعمان، الارشاد فی معرفة حجج اللّہ علی العباد، قم 1413۔
  • خوارزمی، مقتل الحسین(ع)، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم، مکتبہ المفید، بی تا۔
  • ہیثمی؛ مجمع الزوائد، بیروت، دارالکتب العلمیہ، 1988۔