پیادہ روی اربعین

ویکی شیعہ سے
(اربعین کے جلوس سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
پیادہ روی اربعین
راهپیمایی اربعین سال 1970.jpg
معلومات
مکان: عراق کے تمام شہروں سے کربلا کی طرف؛ اہم ترین نجف سے کربلا
جغرافیائی حدود: عراق اور اس کے ہمسایہ ممالک
ادعیہ: زیارت اربعین
اشعار: مرثیہ خوانی‌ اور نوحہ خوانی
اہم مذہبی تہواریں
سینہ‌زنی، زنجیرزنی، اعتکاف، شب بیداری، تشییع جنازہ، متفرقات
اربعین پیدل سفر کا ایک منظر
اربعین کیلئے نجف سے کربلا کی طرف پیدل چلنے کا راستہ
اربعین کیلئے عراق کے مختلف شہروں سے کربلا کی طرف پیدل جانے کے راستے

پیادہ روئ اربعین وہ مذہبی سفر ہے جو انفرادی یا گروہ اور کاروان کی صورت میں امام حسینؑ کے چہلم کی مناسبت سے عراق کے مختلف شہروں سے شروع ہو کر کربلائے معلی میں روضہ امام حسین علیہ السلام پر زیارت امام حسین کی قرائت کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے۔ اس سفر کو عام طور پر پیدل طے کیا جاتا ہے۔ چند سالوں سے امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر دنیا کے مختلف علاقوں سے شیعہ اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کی شرکت کی بنا پر اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایک تخمینے کے مطابق 2013 عیسوی میں ڈیڑھ کروڑ اور 2014 عیسوی میں دو کروڑ لوگوں نے شرکت کی۔

تاکید زیارت اربعین

اصل مضمون: زیارت اربعین

امام حسن عسکری سے مروی حدیث میں مؤمن کی پانچ علاماتوں میں سے ایک علامت امام حسین کی چہلم کے دن زیارت کرنا ہے۔[1] اسی طرح امام جعفر صادق علیہ السلام سے اس دن کی مخصوص زیارت منقول ہے۔[2] شیخ عباس قمی نے اس زیارت کو مفاتیح الجنان کے تیسرے باب: غیر معروف زیارت عاشورا کے بعد زیارت اربعین کے عنوان کے تحت نقل کیا ہے۔

تاریخچہ

بعض محققین کی تحقیق کے مطابق ائمہ اطہار کے زمانے سے ہی شیعوں کے درمیان امام حسین کے چہلم کے موقع پر زیارت کیلئے جانا رائج تھا یہاں تک کہ بنی امیہ اور بنی عباس کے زمانے میں بھی وہ اس سفر پر جانے کے پابند تھے۔ اس اعتبار سے تاریخی طور پر یہ سفر شیعوں کی سیرت مستمرہ میں سے ہے۔ [3]

شیخ انصاری (متوفی 1281ھ) کے زمانے کے بعد یہ سنت فراموشی کا شکار ہوئی لیکن محدث نوری نے اس سنت کو دوبارہ زندہ کیا۔[4]1927 عیسوی میں چھپنے والی کتاب ادب الطف (سال ۱۳۸۸ق/۱۹۶۷م) میں اس موقع کے سفر میں شریک اجتماع کو مکہ مکرمہ میں مسلمانوں کے اجتماع سے تشبیہ دی گئی اور کہا کہ اربعین حسینی کے موقع پر ترکی، عربی اور اردو زبان کے مختلف ماتمی دستوں میں مرثیے پڑھے جا رہے تھے۔ کتاب کے مصنف کے اندازے کے مطابق عزاداروں کی تعداد 10 لاکھ کے قریب تھی۔[5]

بعثی حکومتیں اور زیارتی سفر پر پابندی

عراق میں احمد حسن البکر کی حکومت کے آغاز سے ہی اہل تشیع جبر کا شکار تھے. بعثی حکومت اس دور میں اہل تشیع پر بہت تشدد کرتی خاص طور پر عزادرای کو روکنے کی کوشش کرتی تھی. سنہ ١٣٩٧ ق میں جب زائرین نجف سے کربلا کی جانب جا رہے تھے تو کربلا کے مکمل راستے میں مائنز (بارودی سرنگیں) بچھائی گئیں اور یہی حالت سنہ ١٣٩٠، ١٣٩٥، ١٣٩٦، میں بھی پیش آئی.[6]

صدام حسین نے اپنے تیس سالہ دور حکومت کے دوران اہل بیت(ع) پر ہر طرح سے عزاداری کرنے کو منع کر دیا. چودھویں ہجری صدی کے آخر میں عراق کی بعثی حکومت نے اس قدیمی سنت کے خلاف اقدامات کرنا شروع کئے جن میں انہیں کربلا جانے سے روکا جاتا اور کبھی ان زائرین کے ساتھ سخت برتاؤ کیا جاتا۔ اس کی وجہ سے مذہبی سفر کم رنگ ہونا شروع ہو گیا۔ زائرین حسینی کے ساتھ یہ خشونت آمیزانہ برتاؤ بالآخر سال ۱۹۷۷ میں تیر اندازی کی صورت میں کربلا کے نزدیک کئی شیعہ حضرات کی شہادت کا باعث بنا۔ اس قدر سنگین حالات کے باوجود شیعہ حضرات مخفیانہ طور پر اپنے آپ کو اربعین کے موقع پر کربلا پہنچاتے۔ انہی سالوں میں آیت‌ الله سید محمد صادق صدر نے اربعین کے موقع پر کربلا کے پیدل سفر کو واجب قرار دیا۔[7] صدام کی حکومت ختم ہوتے ہی لوگوں نے زیارت اربعین کا سلسلہ بہت زور و شور سے دوبارہ شروع کر دیا. اگرچہ سنہ ٢٠٠٩ء سے لے کر اب تک ہر سال تکفیری گروہوں کے حملات کا خدشہ رہتا ہے.[8]

شرکت کنندگان کی تعداد میں اضافہ

۲۰۰۳ عیسوی میں صدام کی حکومت کے خاتمے کے ساتھ ایک بار پھر عزاداری کی رسومات بہت ہی پر شکوہ حالت میں برقرار ہونے لگیں۔ [9] شروع شروع میں اربعین کے سفر میں شرکت کرنے والوں کی تعداد 2 سے 3 ملین کی تعداد ہوتی تھی لیکن بعد کے سالوں میں یہ تعداد بڑھ کر 10 ملین (1 کڑور) سے تجاوز کر گئی۔[10] ۱۴۳۵ ہجری قمری میں بعض اخباری اطلاعات کے مطابق ایران سے 15 ملین (ڈیڑھ کروڑ) سے زائد شیعہ زائرین نے شرکت کی۔[11] یہی تعداد بڑھ کر سال 1436ھ میں 20 ملین (2 کروڑ) کے قریب پہنچ گئی۔[12] اور سال 1437 ق میں یہی تعداد 27 ملین (2 کروڑ ستر لاکھ) کی حدوں کو چھونے لگی۔[13]

عراقی حکومت کی اطلاع کے مطابق 1435 ہجری قمری میں 13 ملین (1 کروڑ 30 لاکھ) حسینی زائرین عراق پہنچے ہیں اور انہوں نے کربلا کی طرف اپنے سفر کا آغاز کیا ہے تا کہ اربعین حسینی میں اپنی شرکت یقینی بنا کر امام حسین کے حرم میں پہنچیں۔[14]

مسافت

اربعین حسینی کے اکثر عراقی زائرین اپنے شہروں سے کربلا کی طرف پیدل اپنے سفر کا آغاز کرتے ہیں لیکن اکثر شیعہ ایران اور دیگر ممالک کے زائرین اپنے سفر کیلئے نجف سے کربلا کے راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ ان دو شہروں کے درمیان 80 کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ دونوں شہروں کے درمیان سڑک پر نصب کھمبوں کی تعداد 1452 ہے۔ ہر کیلومیٹر کے درمیان 20 کھمبے نصب ہیں جن میں سے ہر دو کھمبوں کا درمیانی فاصلہ 50 میٹر ہے۔ پیدل چلنے والوں کو یہ تمام فاصلہ طے کرنے کیلئے 20 سے 25 گھنٹے درکار ہیں۔اس سفر کو طے کرنے کیلئے بہترین زمان 16 صفر ہے۔[15]

آداب و رسومات

ہوسہ خوانی:

ہوسہ جنوب عراق کے مخصوص عربی قصائد کو کہا جاتا ہے۔ یہ اشعار بہادری اور شجاعت کے بیان گر ہیں کہ جنہیں نہایت مشکل اور سخت کاموں کے انجام دینے کی خاطر انسانوں میں جوش و ولولہ پیدا کرنے کیلئے پڑھا جاتا ہے۔ حاضرین میں سے ایک شخص کے ایک شعر پڑھنے کے بعد حاضرین اسے تکرار کرتے ہیں اور پھر حلقے کی صورت میں آگے بڑھتے جاتے ہیں۔ ہوسہ خوانی ایک رائج سنت ہے جسے اربعین کے ایام میں عراقی زائرین کربلا جاتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔[16]

اربعین کی مذہبی رسومات کا آغاز:

یہ سنتی اور قدیم اربعین کی عزاداری 20 صفر سے 5 دن پہلے زائرین امام حسین کے عزاداری کے مخصوص رائج رسومات ادا کرنے والے قافلوں کے کربلا پہنچنے سے شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد ماتمی اور زنجیر زنوں کے دستے کربلا پہنچتے ہیں اور اربعین کی اصلی عزاداری کی رسومات ظہر کے دو گھنٹے بعد شروع ہوتی ہیں۔ تمام زائرین حرم امام حسین میں داخل ہونے والے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر سینوں پر ماتم کرتے ہیں، مرثیہ گو امام حسین (ع) کا مرثیہ پڑھتے ہیں اور اسکی تکرار کرتے ہیں اور آخر میں تمام عزاداران حسین ہاتھ اٹھا کر اپنے مولا کی خدمت میں تہیہ و سلام عرض کرتے ہیں ۔[17]

زائرین کی مہمان نوازی:

دریائے فرات کے اطراف میں بسنے والے قبائل امام حسین کے اربعین کے ایام میں پیدل چلنے والوں کے راستوں میں چادروں کے بڑے بڑے خیمے نصب کرتے ہیں جنہیں موکب یا مضیف کہا جاتا ہے۔ان خیام میں زائرین کی مہمان نوازی اور استراحت کا بندوبست ہوتا ہے۔[18] قبائل اور مذہبی اجتماعات میں بہت زیادہ موکب لگائے جاتے ہیں۔ یہ تمام موکب کسی قسم کی حکومتی مدد اور تعاون کے بغیر مکمل طور پر لوگوں کی اپنی مدد کے تحت لگائے جاتے ہیں۔ان میں زائرین کو ہر طرح کے امکانات جیسے کھانا پینا رہائش وغیرہ کی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔[19]

ایران سمیت دوسرے ممالک سے بھی لاکھوں افراد اسی مقصد سے کربلا پہنچتے ہیں۔

ہدایات

امام حسن عسکری علیہ السلام سے منقولہ حدیث میں مؤمن کی پانچ نشانیاں ہیں جن میں سے ایک زیارت اربعین ہے۔[20]

نیز ایک زیارت نامہ بھی اربعین کے لئے امام جعفر صادق علیہ السلام سے منقول ہے۔[21] شیخ عباس قمی نے بھی یہ زیارت نامہ مفاتیح الجنان کے باب سوئم میں زیارت عاشورا غیر معروفہ کے بعد متن زیارت اربعین کے عنوان سے یہ زیارتنامہ نقل کیا ہے۔

مختصر تاریخ

محمد علی قاضی طباطبائی لکھتے ہیں کہ اربعین کے دن کربلا کا سفر اختیار کرنا ائمہ(ع) کے زمانے میں بھی شیعیان اہل بیت(ع) کے درمیان رائج تھا اور وہ حتی کہ بنو امیہ اور بنو عباس کے زمانے میں بھی شیعہ اس سفر کے پابند تھے۔ وہ اس عمل کو شیعیان آل رسول(ص) کی سیرت مستمرہ اور ہمیشہ سے جاری اور مسلسل سیرت سمجھتے ہیں۔[22]

سنہ 1388 ہجری قمری (بمطابق 1967 عیسوی) میں شائع ہونے والی کتاب ادب الطّف کے مؤلف سید جواد شبر کربلا میں اربعین حسینی کے موقع پر منعقدہ عظیم اجتماعاس کو مکہ مکرمہ میں حج کے موقع پر مسلمانوں کے عظیم اجتماع سے تشبیہ دیتے ہیں اور اس میں شریک ماتمی انجمنوں کی حاضری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان میں بعض ترکی میں اور بعض فارسی اور اردو میں نوحے اور مرثیے پڑھتے ہیں۔ اس عظیم اجتماع میں لوگوں کی تعداد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے موصوف لکھتے ہیں کہ یہ مبالغہ نہیں ہے اگر میں کہوں کہ دس لاکھ افراد زیارت اربعین کے لئے اکٹھے ہوئے ہیں۔[23]

حالیہ برسوں میں

عراق میں بعثی نظام حکومت کے خاتمے کے بعد ـ جو ہر قسم کی عزاداری کے راستے میں رکاوٹ تھا ـ پہلی بار سنہ 2003 عیسوی میں شیعیان اہل بیت(ع) نے اربعین کے موقع پر کربلا کا رخ کیا۔ اس عزیمت کے آغاز پر راہیان کربلا کی تعداد 20 سے 30 لاکھ تک پہنچتی تھی۔ دو سال بعد ان زائرین کی تعداد ایک کروڑ تک پہنچ گئی۔[24]

سنہ 2013 عیسوی (بمطابق سنہ 1435 ہجری قمری) کو اربعین کے لئے کربلا کے عازمین کی تعداد ڈیڑھ کروڑ تک پہنچی۔[25]

سنہ 2014 عیسوی ( بمطابق سنہ 1436 ہجری قمری) کو یہ تعداد تقریبا 2 کروڑ تک پہنچی۔[26]

جبکہ سنہ 2015 عیسوی (بمطابق سنہ 1437 ہجری قمری) کو یہ تعداد 2 کروڑ 70 لاکھ تک پہنچی ہے۔[27]

دوسرے ممالک سے

عراق کی وزارت داخلہ کے اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ 2013 میں اربعین میں حضرت امام حسین کے ساتھ تجدید عہد کی نیت سے دوسرے اسلامی ممالک نیز یورپی ممالک سے آنے والے زائرین کی تعداد تقریبا 13 لاکھ تک پہنچ گئی۔[28]

حوالہ جات

  1. شیخ طوسی، تہذیب الاحکام،‌ ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۵۲
  2. شیخ طوسی، تہذیب الاحکام،‌ ۱۴۰۷ق، ج۶، ص۱۱۳
  3. قاضی طباطبائی، تحقیق درباره اول اربعین سید الشہدا، ۱۳۶۸ش، ص۲
  4. «زندگینامہ میرزا حسین نوری»، ناشر : پایگاه اطلاع رسانی معاونت فرہنگی و تبلیغی دفتر تبلیغات اسلامی حوزه علمیہ قم مورخ (۸/فروردین/۱۳۹۵)
  5. شبر، ادب الطف و شعراء الحسین، ج۱، ص۴۱
  6. فرہنگ، زیارت ص۲۸۲
  7. مظاہری، فرہنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ ش، ص ۱۰۲.
  8. فرہنگ زیارت، ص۲۸۴تا۲۸۸
  9. مظاہری، فرہنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ ش، ص ۱۰۲.
  10. «اربعین، شکوه بیعتی مجدد با امام حسین»، منتشر شده در «خبرگزاری تسنیم» مورخ (۲۹/آذر/۱۳۹۲).
  11. ۱۵ میلن شیعہ کربلا کے راستے میں، منتشر در سایت «فردا» مورخ (۲/دی/۱۳۹۲).
  12. «کربلا میں ۲۰ ملین لوگوں کا اجتماع»، ابنا میں نشر کی تاریخ: (۲۲/آذر/۱۳۹۳).
  13. «اربعین حسینی میں زائرین کی تعداد اس سال 27 لاکھ سے تجاوز کر گئیادارہ حج و زیارت : مورخ (۱۲/آذر/۱۳۹۴)
  14. اربعین میں غیر عراقی زائرین کی تعداد فردا سائٹ : (۲/دی/۱۳۹۲).
  15. «چرا پیاده‌روی اربعین ثواب دارد»،‌ ایسنا میں نشر کی تاریخ : (۱۷/آذر/۱۳۹۳)
  16. فرہنگ زیارت، ص۱۴۶
  17. فرہنگ زیارت، ص۱۴۷
  18. فرہنگ زیارت، ص ۱۶۳
  19. مظاهری، فرهنگ سوگ شیعی، ۱۳۹۵ ش، ص ۱۰۰.
  20. طوسی، تہذیب الاحکام، ج6، ص52۔
  21. طوسی، وہی ماخذ، ج6، ص113۔
  22. قاضی‌ طباطبایی، تحقيق دربارہ اول اربعين حضرت سيدالشہدا(ع)، ص2۔
  23. شبر، ادب الطّف، ج1، ص41۔
  24. خبرگزاری تسينم۔
  25. سایت خبری فردا
  26. سایت خبری فارس
  27. سایت خبری ایران
  28. سایت خبری فردا


مآخذ

  • شبر، سید جواد، ادب الطف و شعراء الحسین(ع)،‌دار المرتضی، بیروت.
  • شیخ طوسی، محمد بن الحسن، تہذیب الاحکام،‌ دار الکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۴۰۷ ق.
  • قاضی طباطبایی، سید محمد علی، تحقیق درباره اول اربعین حضرت سیدالشہدا(ع)، بنیاد علمی و فرہنگی شہید آیت الله قاضی طباطبائی، قم، ۱۳۶۸ش.
  • قمی، عباس، مفاتیح الجنان.
  • فرہنگ زیارت، فصلنامہ فرہنگی، اجتماعی، سیاسی و خبری، سال پنجم، شماره نوزدہم و بیستم، تابستان و پاییز ۱۳۹۳ش.
  • مظاہری، محسن حسام، فرہنگ سوگ شیعی، تہران، نشر خیمہ، ۱۳۹۵ش.

بیرونی روابط