واقعہ کربلا تاریخ کے آئینے میں

ويکی شيعه سے
(واقعۂ عاشورا کی تقویم سے پلٹایا گیا)
:چھلانگ بطرف رہنمائی, تلاش

سنہ 60 ہجری قمری

تاریخ واقعات
15 رجب معاویہ بن ابی سفیان کی موت۔[1]
28 رجب (اتوار کی رات) امام حسین علیہ السلام کی مدینہ سے روانگی۔[2]
3 شعبان (شب جمعہ) امام حسین علیہ السلام کا مکہ میں ورود۔[3]
10 رمضان عبداللہ بن مسمع ہمدانی اور عبداللہ بن وال کے توسط سے امام حسین(ع) کے لئے کوفیوں کے پہلے خطوط کی وصولی۔[4]
12 رمضان قیس بن مُسْهِر صَیداوی، عبدالرحمٰن بن عبداللہ ارحبی اور عمارۃ بن عبد سلولی کے توسط سے امام حسین علیہ السلام کو 150 خطوط کی وصولی۔[5]
14 رمضان ہانی بن ہانی سبیعی اور سعید بن عبداللہ حنفی کے توسط سے کوفہ کے عمائدین کے خطوط کی وصولی۔[6]
15 رمضان مسلم بن عقیل کی مکہ سے فرض کی انجام دہی کے لئے کوفہ کی جانب روانگی۔[7]
5 شوال مسلم کا کوفہ میں ورود۔[8]
8 ذوالحجہ (بروز منگل) امام حسین علیہ السلام کی مکہ سے عراق روانگی۔[9]
8 ذوالحجہ کوفہ میں مسلم بن عقیل کا قیام۔[10]
9 ذوالحجہ حضرت مسلم کی شہادت۔[11]

سنہ 61 ہجری قمری

تاریخ واقعات
2 محرم امام علیه السلام کا کربلا میں ورود۔[12]
3 محرم عمر بن سعد کی 4000 کے لشکر کے ساتھ کربلا آمد۔[13]
6 محرم حبیب بن مظاہر کی قبیلہ بنی اسد سے امام حسین علیہ السلام کی نصرت کی درخواست اور اس دعوت میں ان کی ناکامی۔[14]
7 محرم امام حسین علیہ السلام اور اصحاب و انصار پر پانی کی بندش۔[15]
9 محرم تاسوعا اور کربلا میں شمر بن ذی الجوشن کی آمد۔[16]
9 محرم عمر بن سعد کا امام علیہ السلام کو اعلان جنگ اور آپ(ع) کی طرف سے مہلت کی درخواست۔[17]
10 محرم واقعۂ عاشورا اور شہادت امام حسین علیہ السلام اور اہل بیت علیہم السلام و اصحاب کی شہادت۔
11 محرم اسیران اہل بیت(ع) کی کوفہ روانگی۔[18]
11 محرم (غاضریہ کے بنی اسد کے ہاتھوں شہداء کی تدفین).[19]
1 صفر اہل بیت علیہم السلام اور امام حسین علیہ السلام کے سر مبارک کا شام میں ورود۔[20]
20 صفر اربعین حسینی اور اہل بیت علیہم السلام کا کربلا میں ورود۔[21]
20 صفر اہل بیت علیہم السلام کی شام سے مدینہ روانگی (بعض اقوال کے مطابق)۔[22]

متعلقہ مآخذ

حوالہ جات

  1. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص32۔
  2. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص34۔
  3. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص35۔
  4. شیخ مفید، الارشاد، ج2، ص37۔
  5. شیخ مفید، همان، ج2، ص37ـ 38۔
  6. شیخ مفید، همان، ج2، ص38۔
  7. مسعودی، مروج الذهب، ج3، ص65۔
  8. مسعودی، مروج الذهب، ج3، ص65۔
  9. شیخ مفید، وہی ماخذ، ج2، ص38۔
  10. شیخ مفید، همان، ج2، ص66۔
  11. ابن کثیر، البدایة و النهایه، ج8، ص171۔
  12. مفید، همان، ج2، ص84۔
  13. شیخ مفید، همان، ج2، ص84۔
  14. ابن اعثم، کتاب الفتوح، ج5، ص90ـ91۔
  15. شیخ مفید، همان، ج2، ص86۔
  16. ابن سعد، ترجمة الحسین و مقتله، ص179۔
  17. شیخ مفید، همان، ج2، ص89.۔
  18. شیخ مفید، همان، ج2، ص114 ۔
  19. ابن کثیر، همان، ج 8، ص205۔
  20. ابوریحان محمد بن احمد بیرونی خوارزمی، آلاثار الباقیة عن القرون الخالیہ، ص31، البتہ بعض مآخذ میں اہل بیت علیہم السلامکے ورود شام کی تاریخ 16 ربیع الاول بیان کیا گیا ہے: رجوع کریں: (عمادالدین حسن بن علی طبری، کامل بهائی (الکامل البهائی فی السقیفہ)، ج2، ص293)۔
  21. بیرونی، همان، ص331۔
  22. .شیخ مفید، مسارّ الشیعہ، ص46۔


مآخذ

  • ابن اعثم، کتاب الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالاضواء، 1411 ہجری۔
  • ابن سعد، «ترجمة الحسین و مقتله»، تحقیق سید عبدالعزیز طباطبایی، فصلنامه تراثنا، سال سوم، شماره 10، 1408 ہجری۔
  • ابن کثیر دمشقی، ابوالفداء اسماعیل، البدایة و النهایه، تحقیق علی شیری، بیروت، داراحیاء التراث العربی، 1408ہجری۔
  • بیرونی خوارزمی، ابوریحان محمد بن احمد، الآثار الباقیة عن القرون الخالیه، بیروت، دارصادر، [بی تا].
  • . شیخ مفید، الارشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، تحقیق مؤسسة آل البیت لاحیاء التراث، قم، دارالمفید، 1413 ہجری۔
  • شیخ مفید، مسارّ الشیعه، (چاپ شده در جلد 7 مؤلفات شیخ مفید)، تحقیق مهدی نجف، چاپ دوم: بیروت، دارالمفید، 1414ہجری۔
  • طبری، عماد الدین حسن بن علی، کامل بهائی (الکامل البهائی فی السقیفه)، تهران، مکتبة المصطفوی، [بی تا].
  • مسعودی، مروج الذهب و معادن الجوهر، تحقیق سعید محمد لحّام، بیروت، دارالفکر، 1421 ہجری۔