سیدہ نفیسہ

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
سیدہ نفیسہ
ضریح سیده نفیسه.jpg
سیدہ نفیسہ کی ضریح
نام سیدہ نفیسہ
تاریخ پیدائش 11 ربیع الاول 145 ھ
جائے پیدائش مکہ
وفات رمضان 208 ھ،
مدفن مصر
محل زندگی مدینہ
والد ماجد حسن بن زید بن حسنؑ
شریک حیات اسحاق موتمن
اولاد قاسم و ام کلثوم
عمر 63 سال
مشہور امام زادے
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


سیدہ نفیسہ، امام حسن مجتبی ؑ کی نسل سے حسن بن زید بن حسنؑ کی بیٹی ہیں جو مصر میں مدفون ہیں۔ تاریخی مصادر میں انہیں ایک عابدہ، زاہدہ، محدثہ، نیک خاتون اور حافظ قرآن ذکر کیا گیا ہے۔ وہ امام جعفر صادق ؑ کے فرزند اسحاق موتمن کی زوجہ تھیں۔ ان کا مقبرہ میں مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں مسلمانوں خاص طور پر شیعوں کی مشہور زیارت گاہ ہے۔

سوانح حیات

سیدہ نفیسہ کی ولادت 11 ربیع الاول 145 ھ میں[1] مکہ میں ہوئی۔[2] ان کے والد حسن بن زید بن حسین بن علی بن ابی طالب ؑ اور والدہ ام ولد تھیں۔ وہ اپنے والد حسن بن زید کے پاس مدینہ میں رہتی تھیں۔ جس گھر میں ان کا قیام تھا وہ مدینہ میں مغرب کی سمت میں تھا جس کے ٹھیک سامنے والا گھر امام صادق ؑ کی ملکیت تھا۔[3]

شادی

سیدہ نفیسہ کی شادی 15 برس کی عمر میں امام صادق ؑ کے فرزند اسحاق موتمن سے ہوئی۔[4]

اسحاق موتمن کا تذکرہ تاریخی منابع میں ایک پرہیز گار اور نقل حدیث میں معتبر انسان کے طور پر ہوا ہے۔ اسحاق کا شمار امام موسی کاظم ؑ کی امام علی رضا ؑ کے بارے میں کی گئی وصیت کے گواہوں میں ہوتا ہے۔ اسحاق کی کنیت ابو محمد تھی اور امانت داری میں شہرت کی وجہ سے ان کا لقب موتمن پڑ گیا تھا۔ اسحاق کی ولادت اور نشو و نما مدینہ کے نواحی علاقہ عریض میں ذکر ہوئی ہے۔[5]

سیدہ نفیسہ اور اسحاق موتمن نے دو بچے قاسم اور ام کلثوم یادگار چھوڑے۔[6]

مصر کی طرف ہجرت

سیدہ نفیسہ نے سن 193 ھ میں مصر کا سفر کیا۔ جہاں عوام نے ان کا استقبال کیا اور ناسخ التواریخ میں ذکر ہوا ہے: وہاں ان کا حکم عظیم اور ان کی شان رفیع قرار پائی اور ان کی با عفت بارگاہ مشتاق عوام کی پناہ گاہ بن گئی۔[7]

وہاں انہوں نے اپنے شوہر کے ہمراہ ایک تاجر جمال الدین بن عبدالله بن جَصّاص کے مکان میں قیام کیا۔ کچھ ماہ کے بعد انہوں نے ام ہانی کے یہاں نقل مکان کیا اور اس کے بعد ابوالسریا ایوب بن صابر کے گھر میں منتقل ہو گئیں۔ عوام میں آپ کا استقبال اس طرح سے تھا کہ آُپ کو محسوس ہوتا کہ صاحب خانہ کی اذیت کا سبب بن رہا ہے۔ لہذا آپ نے ترک مصر کا قصد کیا۔ لوگوں نے حاکم سے درخواست کی کہ وہ ان کی رہائش کے لئے اقدام کرے۔ حاکم نے ایک مکان سیدہ کے لئے مخصوص کر دیا اور اس طرح آپ نے ہمیشہ کے لئے مصر میں رہائش اختیار کر لی۔[8]

قرآن سے انس

سیدہ نفیسہ کو قرآن کریم سے بیحد تعلق خاطر تھا۔[9] زیادہ تر مورخین نے لکھا ہے کہ انہیں قرآن کریم مکمل حفظ تھا۔ حالانکہ بعض نے ذکر کیا ہے کہ وہ لکھنے پڑھنے سے بے بہرہ تھیں۔[10] البتہ نقل ہوا ہے کہ انہوں نے قرآن مجید کو انیس سو بار ختم کیا تھا۔[11] نقل ہوا ہے کہ ان کا انتقال اس آیہ کریمہ: لهم دار السلام عند ربهم وهو ولیّهم بما کانوا یعملون۔[12] کی تلاوت کے وقت ہوا۔[13]

انہوں نے اپنی زندگی میں 30 بار حج بیت اللہ کیا۔[14] وہ اہل نماز شب تھیں اور اکثر اوقات روزہ رکھا کرتی تھیں۔[15] نقل ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی قبر خود اپنے ہاتھوں سے کھود کر رکھی تھی۔ وہ روزانہ اس قبر میں جا کر نماز پڑھتی تھیں اور قرآن مجید کی تلاوت کرتی تھیں۔[16]

القاب و اوصاف

سیرت نگاروں اور مورخین نے سیدہ نفیسہ کے لئے نیک و پسندیدہ القاب ذکر کئے ہیں۔ جن کا تذکرہ ذیل میں کیا جا رہا ہے:

1۔ احمد ابو کف نے ان کے لئے نفیسۃ الدارین، نفیسۃ الطاہره، نفیسۃ العابدۃ، نفیسۃ المصریہ و نفیسۃ المصریین جیسے القاب ذکر کئے ہیں۔[17] وہ تحریر کرتے ہیں کہ سید نفیسہ عابد، زاہد اور اہل عمل صالح خاتون تھیں ۔۔۔ وہ اہل مصر کے لئے گرانبہا گوہر تھیں۔ اہل مصر حق کی راہ طے کرنے کے سلسلہ میں ان سے مدد طلب کرتے تھے۔ سیدہ نفیسہ کریمۃ الدارین ہیں اس لئے کہ اہل مصر نے ان کی حیات کے زمانہ میں اور حتی ان کی وفات کے بعد بھی ان سے حیرت انگیز کرامات دیکھی ہیں۔[18]

2۔ زرکلی نے اپنی کتاب الاعلام میں ان کے لئے تقیہ، صالحہ، عالمہ تفسیر و حدیث جیسے القاب ذکر کئے ہیں اور ان کا ماننا ہے کہ اہل مصر ان کے اوپر مکمل و راسخ عقیدہ رکھتے تھے۔[19]

3۔ مصری داشمند شیخ محمد شبان کہتے ہیں: سیدہ نفیسہ آسایش و آرام کے وسائل اور فراوان مالی ذرائع سے استفادہ کر سکتی تھیں لیکن انہوں نے ایسا کرنے سے گریز کیا اور انہوں نے اپنے زاہدانہ زندگی کا انتخاب کیا۔ اسی سبب سے لوگ ان کے گرویدہ ہوگئے اور اپنی پریشانی و مصیبت میں لوگ ان کی طرف رجوع کرتے تھے۔[20]

4۔ ابو بصر بخاری تحریر کرتے ہیں کہ ان کا مرتبہ اس قدر بلند ہے کہ اہل مصر اپنے دعوی کو ثابت کرنے کے لئے ان کی قسم کھاتے ہیں۔[21]

5۔ جمال الدین بن تغری بردی لکھتے ہیں: سیدہ نفیسہ سے بہت سی کرامات مشاہدہ میں آئی ہیں۔ جن سے یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ اہل فضیلت و اہل معنویت تھیں اور ان کی یہ کرامات سب جگہ معروف ہیں۔[22]

6۔ محمود شرقاوی رقم کرتے ہیں: یہ بلند مرتبہ خاتون کمال کے اس درجہ پر پہچ چکی تھیں جہاں بعض افراد ان کے علم سے استفادہ کرتے تھے اور بہت سے مومنین کے قلوب ان کی طرف متوجہ تھے۔[23]

7۔ مقریزی ان کی توصیف میں لکھتے ہیں: سیدہ نفیسہ نے پرہیز گاری اور ترک دنیا میں عالمی شہرت حاصل کر لی تھی۔[24]

8۔ ابن خلکان تحریر کرتے ہیں: سیدہ نفیسہ نقل روایات میں مہارت رکھتی تھیں اور بعض مشاہیر اور بزرگان نے ان سے احادیث نقل کی ہیں۔[25]

9۔ صالح الوردانی لکھتے ہیں: سیدہ نفیسہ خوف خدا میں بیحد گریہ کرتی تھیں، حافظ قرآن تھیں اور علم تفسیر سے آگاہی رکھتی تھیں۔[26]


کرامات

سیدہ نفیسہ کے سلسلہ میں کثرت سے کرامات کتابوں میں ان سے منسوب ہیں۔[27] جیسے مریضوں کو شفا دینا[28] اور حتی مصر اور دریائے نیل کو خشک سالی سے نجات دلانا۔[29]

شاگرد

منابع کے مطابق بعض بزرگان نے سیدہ نفیسہ سے کسب علم اور اخذ حدیث کی ہیں۔ جیسے:

  • محمد بن ادریس شافعی: جنہوں نے اپنی عمر کے تیسرے عشرے میں فقہ کی طرف توجہ دی۔ وہ مصر گئے اور جس وقت وہ مسجد فسطاط میں تدریس کے لئے جاتے تھے تو اثنائے راہ میں سیدہ نفیسہ کے گھر میں توقف کرتے تھے اور ان کے اخذ حدیث کرتے تھے۔[30]
  • احمد بن محمد بن حنبل بن ہلال جو احمد بن حنبل کے نام سے معروف ہیں، وہ سیدہ نفیسہ کی علمی اور اخذ حدیث کی نشستوں میں شرکت کیا کرتے تھے۔[31]
  • ذوالنون مصری۔

وفات

سیدہ نفیسہ سن 208 ھ میں مریض اور صاحب فراش ہو گئیں اور اسی سال ماہ مبارک رمضان میں شب جمعہ میں ان کی بیماری نے شدت اختیار کر لی۔ نقل ہوا ہے کہ وہ تلاوت قرآن کی حالت میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں۔[32]

اسحاق موتمن جو ان کی بیماری کے ایام میں مدینہ میں تھے۔ وہ خط کے ذریعہ ان کی بیماری سے آگاہ ہوئے اور جس دن وہ مصر پہچے اسی دن سیدہ نفیسہ کا انتقال ہو چکا تھا اور لوگ ان کے کفن دفن کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اسحاق کا ارادہ تھا کہ وہ ان کا جنازہ مدینہ لے جائیں لیکن مصر کے لوگوں کی خواہش تھی کہ انہیں مصر میں ہی دفن کیا جائے۔ وہ لوگ حاکم مصر کے پاس گئے اور اس سے چاہا کہ وہ اسحاق کو سیدہ کی میت مدینہ لے جانے سے روکیں۔ لوگوں کا حاکم کو واسطہ بنانا بھی کام نہیں آیا۔ لوگوں نے بہت سا مال جمع کیا اور ان کے پاس لے گے تا کہ اس کی وجہ سے اپنا ارادہ بدل لیں لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا۔ لیکن آخر کار انہوں نے ایک خواب دیکھا جس کے بعد انہوں نے اپنا ارادہ بدل دیا۔ گویا انہوں نے خواب میں رسول خدا (ص) کو دیکھا انہوں نے فرمایا کہ لوگوں سے پیسا قبول نہ کرو لیکن اپنی بیوی کو یہیں دفن کر دو۔[33]

بارگاہ سیدہ نفیسہ

قاہرہ (مصر) میں سیدہ نفیسہ کا روضہ

سیدہ نفیسہ اپنے گھر میں دفن ہوئیں اور اس وقت ان کا مقبرہ وہیں ہے۔ ان کے شوہر نے چاہا کہ ان جنازہ مدینہ لے جائیں لیکن مصر کے لوگوں نے ان سے چاہا کہ وہ انہیں تبرک اور توسل کے لئے وہیں مصر میں دفن کر دیں۔[34]

سیدہ نفیسہ کا روضہ مصر کی معروف عمارتوں میں سے ہے۔ روزانہ خاص طور پر اتوار اور جمعرات کو لوگ کثرت سے ان کی زیارت کے لئے جاتے ہیں۔ اسی طرح سے مصر میں رسم ہے لوگ شادی کا جشن ان کے روضے کے اطراف میں مناتے ہیں۔ ہر سال مصر میں سیدہ نفیسہ اور حضرت زینب ؑ کے روز ولادت پر جشن منایا جاتا ہے۔ ان کی ولادت کا پہلا جشن سن 889 ھ میں چرکسی سلسلہ کے بادشاہ ملک اشرف قایتبای (872۔901 ھ) کے زمانہ میں منایا گیا۔ سیدہ نفیسہ کی شب ولادت میں بڑی تعداد میں لوگ ان کے روضے میں آتے ہیں اور شیعوں کے مخلتف فرقوں کے لوگ اہل سنت کے ساتھ مل کر شب میں ولادت سے متعلق اشعار پڑھ کر جشن مناتے ہیں۔ اہل مصر ان کی ضریح کا بوسہ لیتے ہیں، اپنی حاجات کے طلب کرنے کے سلسلہ میں ان سے تضرع و توسل کرتے ہیں اور ان کے حرم میں نئی دلہن کے طواف کرنے کی رسم ہے۔[35]

قاجار حکومت کے زمانہ میں بعض ایرانی شیعہ سفر حج میں شامات اور مصر بھی جاتے تھے اور سیدہ نفیسہ کی زیارت بھی کرتے تھے۔ یہ زیارتیں بعض اہل قلم کے سفرنامہ حج میں بیان ہوئی ہیں۔ ان کے روضے اور خود ان کے سلسلہ میں اطلاعات اور اہل مصر کے عقائد کا تذکرہ بھی ملتا ہے۔[36]

زیارت نامہ

مذہبی شخصیتوں کی سیرت نگاری کی کتابوں میں سیدہ نفیسہ کے بارے میں زیارت نامے ذکر ہوئے ہیں۔ ان زیارت ناموں میں ان کی معنوی منزلت، نسبی شرافت کی تعریف کی گئی ہے اور ان پر خاندان عصمت و طہارت کی خاتون ہونے کی حیثیت سے درود و سلام بھیجا گیا ہے۔[37]

بعض نقل کے مطابق، صدیوں پہلے مسلمان ان کی زیارت کے موقع پر خاص متن کے ساتھ زیارت پڑھتے تھے اور یہ خاص زیارت نامہ کتاب درر الاصداف میں ذکر ہوا ہے جس میں بعض حصوں کا ذکر یہاں پر کیا جا رہا ہے:

السلام و التحیۃ و الاکرام و الرضا من العلی الاعلی الرحمن علی سیدۃ نفیسۃ سلالۃ نبی الرحمۃ و هادی الامۃ... و اقض حوائجنا فی الدنیا و الاخرۃ یا رب العالمین۔[38]

اہل مصر روز چہارشنبہ کو آپ کی زیارت کے روز کے طور پر مانتے ہیں۔[39]

احمد فہمی محمد

قِف لائذاً بسلیلۃ الزراء بنت النبی کریمۃ الآباء
ذات العلا و المکرمات نفیسۃ بنت الامیر و سید الکرماء۔[40]

حوالہ جات

  1. عطاردی، گوہر خاندان امامت، ۱۳۷۳ش، ص۷
  2. کحالہ، اعلام النساء، ۱۴۱۲ق، ج۵، ص۱۸۷؛ زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۸، ص۴۴.
  3. گلی زواره، بانوی کرامت، ۱۳۸۲ش، ص۳۸.
  4. عطاردی، گوہر خاندان امامت، ۱۳۷۳ش، ص۱۰؛ ابوکف، آل بیت النبی فی مصر، ۱۹۷۵م، ص۱۰۱، ۱۰۲.
  5. محلاتی، ریاحین الشریعہ، دار الکتب الاسلامیہ، ج۵، ص۹۵.
  6. ابن زیات، الکواکب السیارۃ في تربۃ الزیارہ، ۲۰۰۹م، ص۳۴؛ شیخ محمد صبان، إسعاف الراغبين، نسخہ خطی، ص۸۱.
  7. سپہر، ناسخ التواریخ، ۱۳۵۲ش، ج۳، ص۱۲۰؛ محلاتی، ریاحین الشریعہ، دار الکتب الاسلامیہ، ج۵، ص۸۸.
  8. عطاردی، گوہر خاندان امامت، ۱۳۷۳ش، ص۱۳، ۲۰-۲۱؛ ابو کف، آل بیت النبی فی مصر، ۱۹۷۵م، ص۱۰۸
  9. سپہر، ناسخ التواریخ، ۱۳۵۲ش، ج۳، ص۱۱۹
  10. زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۸، ص۴۴.
  11. محلاتی، ریاحین الشریعہ، دار الکتب الاسلامیہ، ج۵، ص۹۲
  12. سوره انعام،آیه ۱۲۷
  13. ابن زیات، الکواکب السیارۃ في تربۃ الزیارۃ، ۲۰۰۹م، ص۳۳.
  14. زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج‏۸، ص۴۴.
  15. گلی زواره، بانوی کرامت، ۱۳۸۲ش، ص۳۴
  16. ابن زیات، الکواکب السیارۃ في تربۃ الزیارۃ، ۲۰۰۹م، ص۳۱؛ سعاد ماہر محمد، مساجد مصر و اولیاءهم الطاہر، وزارۃ الاوقاف، ج۱، ص۱۲۵؛ سپہر، ناسخ التواریخ، ۱۳۵۲ش، ج۳، ص۱۲۶
  17. ابوکف، آل بیت النبی فی مصر، ۱۹۷۵م، ص۱۱۱.
  18. ابوکف، آل بیت النبی فی مصر، ۱۹۷۵م، ص۱۰۷
  19. زرکلی، الاعلام، ۱۹۸۹م، ج۸، ص۴۴
  20. شیخ محمد صبان، إسعاف الراغبين، نسخہ خطی، ص۸۱.
  21. ابو نصر بخاری، سر السلسلۃ العلویہ، ۱۳۸۱ق، ص۲۹.
  22. ابن تغری بردی،النجوم الزاہره، وزاره‌‌ال‍ث‍ق‍اف‍ہ و‌الارش‍اد‌ ال‍ق‍وم‍ی‌، ج۲، ص۱۸۶
  23. الشرقاوی، اہل البیت، ۲۰۰۲م، ص۱۷۲.
  24. مقریزی، المواعظ والاعتبار، ۱۹۹۷م، ج۲، ص۶۳۸ـ۶۳۹.
  25. ابن خلکان، وفیات الاعیان، دار صادر، ج۵، ص۴۲۳ـ۴۲۴
  26. الوردانی، الشیعہ فی مصر، ۱۴۱۴ق، ص۱۰۹.
  27. برای نمونہ نک: ابن تغری بردی،النجوم الزاہره، وزاره‌‌ ال‍ث‍ق‍اف‍ہ‌ و‌الارش‍اد‌ ال‍ق‍وم‍ی‌، ج۲، ص۱۸۶
  28. ابوکف، آل بیت النبی فی مصر، ۱۹۷۵م، ص۱۰۷؛ محلاتی، ریاحین الشریعہ، دار الکتب الاسلامیہ، ج۵، ص۸۷ـ۸۸؛ مقریزی، المواعظ والاعتبار، ۱۹۹۷م، ج۲، ص۶۴۱.
  29. شبلنجی، نورالابصار، قاہره، ص۲۵۶؛ محلاتی، ریاحین الشریعہ، دار الکتب الاسلامیہ، ج۵، ص۸۵.
  30. شبلنجی، نورالابصار، قاہره، ص۲۵۶.
  31. عطاردی، گوہر خاندان امامت، ۱۳۷۳ش، ص۱۲، ۲۹؛ ابوکف، آل بیت النبی فی مصر، ۱۹۷۵م، ص۱۰۷
  32. گلی زواره، بانوی کرامت، ۱۳۸۲ش، ص۱۲
  33. شبلنجی، نورالابصار، قاہره، ص۲۵۸؛ ابوکف، آل بیت النبی فی مصر، ۱۹۷۵م، ص۱۰۴؛ شیخ محمد صبان، إسعاف الراغبين، نسخہ خطی، ص۸۱؛ قمی، منتہی الامال، ۱۳۷۷ش، ج۲، ص۳۰۰.
  34. الوردانی، الشیعہ فی مصر، ۱۴۱۴ق، ص۱۱۰.
  35. الوردانی، الشیعہ فی مصر، ۱۴۱۴ق، ص۱۱۰، ۱۱۳.
  36. برای نمونہ: جعفریان، «سفرنامہ حج جزائری عراقی»، ۱۳۸۹ش، ص۲۷۱.
  37. شبلنجی، نورالابصار، قاہره، ص۲۵۹؛ سعاد ماہر محمد، مساجد مصر و اولیاءهم الطاہر، وزارۃ الاوقاف، ج۱، ص۱۲۵
  38. فؤاز العاملی، الدر المنثور فی طبقات ربات الخدور، ۱۳۱۲ق، ص۵۲۲
  39. عطاردی، گوہر خاندان امامت، ۱۳۷۳ش، ص۶۲
  40. توفیق، السیدہ نفیسہ، ۲۰۰۸م، ص۲۲۲.


مآخذ

  • ابن تغری بردی، جمال الدین، النجوم الزاہره فی ملوک مصر و قاہره، قاهره، وزاره‌‌ال‍ث‍ق‍اف‍ہ و‌الارش‍اد‌ال‍ق‍وم‍ی‌، بی‌ تا
  • ابن خلکان، احمد بن محمد، وفیات الاعیان، تحقیق احسان عباس، بیروت، دار صادر، بی‌ تا
  • ابو نصر بخاری، سہل بن عبدالله، سِرّ السلسلۃ العلویّہ، تحقیق سید محمد باقر بحر العلوم، نجف، المکتبۃ‌ الحیدریہ، ۱۳۸۱ق
  • ابو کف، احمد، آل بیت النبی فی مصر، قاہره، دار معارف، ۱۹۷۵ع
  • الزرکلی، خیر الدین، الأعلام قاموس تراجم لأشہر الرجال و النساء من العرب و المستعربین و المستشرقین، بیروت،‌ دار العلم *للملایین، چاپ ہشتم، ۱۹۸۹ع
  • الشرقاوی، محمود، اہل البیت، اسکندریہ، للتجارۃ و الطباعۃ الدولیہ، ۲۰۰۲ع
  • الوردانی، صالح، الشیعہ فی مصر من الامام علی حتی الامام خمینی، قاہره، مکتبۃ مدبولی الصغیر، چاپ اول، ۱۴۱۴ق
  • توفیق، أبو علم، السیدہ نفیسہ، تہران، تحقیق شوقی محمد، طہران، المجمع العالمی للتقریب بین المذاہب الاسلامیہ، چاپ دوم، ۲۰۰۸ع
  • جعفریان، رسول، «سفرنامہ حج جزائری عراقی»، پنجاه سفرنامہ حج قاجاری، تہران، نشر علم، ۱۳۸۹ش
  • سپہر، عباس قلی خان، ناسخ التواریخ (دوران امام کاظم)، تہران، اسلامیہ، چاپ اول، ۱۳۵۲ش
  • سعاد ماہر محمد، مساجد مصر و اولیاءہم الطاہر، مصر، وزارۃ الاوقاف، بی‌ تا
  • شبلنجی، مؤمن بن حسن، نور الابصار فی مناقب بنت النبی المختار، مطبوع در حاشیہ کتاب اسعاف الراغبین، قاہره، چاپ سنگی، بی‌ تا
  • شیخ محمد صبان، اسعاف الراغبين فى سيرۃ المصطفى و فضائل اہل بيته، نسخہ خطی
  • عاملی، زینب بنت یوسف نواز، الدر المنثور، طبقات رابب الخدور
  • عطاردی، عزیز الله، گوہر خاندان امامت یا زندگی نامہ سیده النفیسہ، تہران، انتشارات عطارد، ۱۳۷۳ش
  • فؤاز العاملی، زینب بنت علی، الدرّ المنثور فی طبقات رَبّات الخُدُور، مصر، المطبعۃ الکبری الامیریہ، چاپ اول، ۱۳۱۲ق
  • کحالہ، عمر رضا، اعلام النساء، بیروت، موسسہ الرسالہ، ۱۴۱۲ق
  • گلی زواره، غلام رضا، بانوی با کرامت، قم، انتشارات حسنین، ۱۳۸۲ش
  • محلاتی، ذبیح الله، ریاحین الشریعہ، طہران، دار الکتب الاسلامیہ، بی‌ تا
  • مقریزی، تقی الدین، المواعظ و الاعتبار و الآثار، مدینہ الشرقاوی، قاہره، مکتبہ مدبولی، ۱۹۹۷ع