فاطمہ بنت الحسین

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر  • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے واقعہ کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم حضرت عباسؑ • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


فاطمہ بنت الحسین (ع) حضرت امام حسین (ع) کی سب سے بڑی بیٹی ہیں جن کی والدہ کا نام "ام اسحاق" تھا۔ سنہ 61 ہجری کے المناک واقعے میں آپ بھی اپنے والد ماجد کے ہمراہ کربلا میں موجود تھیں اور واقعہ عاشورا کے بعد باقی اہل بیت کے ساتھ اسیر ہو کر کوفہ گئیں اور شام گئیں۔ مصادر میں آپ سے ایک خطبہ بھی منقول ہے نیز حضرت امام باقر علیہ السلام (ع) کی ایک روایت کے مطابق امام حسین (ع) نے شہادت سے پہلے وصیت لکھ کر آپ کے سپرد کی تھی جسے آپ نے بعد میں امام سجاد (ع) کے حوالے کیا ۔آپ نے امام حسین(ع) اور حضرت امام سجاد(ع) سے روایات نقل کی ہیں۔

تعارف

آپ کے والد ماجد شیعوں کے تیسرے امام، حسین بن علی ہیں اور آپکی والدہ کا نام "ام اسحاق" ہے جو طلحہ بن عبید اللہ کی بیٹی تھیں [1]۔ آپ کی تاریخ پیدائش کے بارے میں کوئی دقیق معلومات نہیں ہے۔ چونکہ آپ کی والدہ پہلے حضرت امام حسن(ع) کے عقد میں تھیں حضرت امام حسن(ع) کی شہادت کے بعد 49 یا 50 ہجری قمری میں حضرت امام حسین (ع) کے عقد میں آئیں ہیں۔ اس لحاظ سے زیادہ احتمال دیا جا سکتا ہے کہ آپ کی ولادت 49 یا 50 ہجری کے بعد51 ہجری مییں ہوئی ہے [2]۔ کہتے ہیں شکل و صورت کے لحاظ سے آپ اپنی دادی حضرت فاطمہ(س) سے مشابہت رکھتی تھیں[3]۔ فاطمہ کی شادی واقعہ کربلا سے پہلے اپنے چچا حضرت امام حسن(ع) کے بیٹے حسن مثنی سے ہوئی تھی[4]۔

واقعہ کربلا میں حاضری اور اسیری

واقعہ عاشورا کے روز آپ اپنے شوہر کے ساتھ کربلا میں موجود تھیں۔ حسن مثنی نے بڑی بہادری کے ساتھ جنگ کی اور زخمی ہوئے۔ بعد میں اسیر ہوئے۔ اسما بن خارجہ فزاری نے آپ کو نجات دلوائی۔ لہذا کوفہ میں آپکا علاج ہوا۔ صحت یاب ہونے کے بعد مدینہ واپس آگئے [5] جبکہ فاطمہ دوسرے اسیروں کے ساتھ کوفہ و شام تک گئیں [6]۔ بعض مصادر میں خیام حسینی پر حملے اور اہل بیت کی اسارت کی روایت آپ سے ہی نقل کی ہے[7]۔ شام میں آپ اور یزید بن معاویہ کے درمیان گفتگو بھی مصادر میں ضبط ہیں[8]۔ احمد بن علی طبرسی نے اہل کوفہ کے ساتھ آپ کی گفتگو کو بھی نقل کیا ہے [9]۔

ابن عساکر نے اپنی کتاب میں اور علامہ مجلسی نے فاطمہ بنت الحسین کے متعلق کتاب كا نام لئے بغیر کہا کہ میں نے ایک قدیم مناقب کی کتاب میں دیکھا جس میں لکھا تھا :

جب امام حسین (ع) شہید ہو گئے تو ایک کوا آیا اس نے اپنے آپکو خون میں غلطان کیا اور پرواز کر گیا اور فاطمہ بنت الحسین (الصغری) کے گھر کی دیوار پر بیٹھ کر شور مچانے لگا آپ نے دیکھا تو آپ نے گریہ کرنا شروع کیااور اشعار پڑھے[10]۔

لیکن دیگر کتب سے آپکے مدینہ میں رہ جانے کی تائید نہیں ہوتی ہے ۔

مقام و منزلت

امین امامت

حضرت امام محمد باقر (ع) سے منقول روایت کے مطابق امام حسین (ع) نے شہادت سے پہلے اپنی وصیت لکھ کر آپ کے سپرد کئے جنہیں آپ نے بعد میں حضرت سجاد (ع) کے حوالے کیا [11]۔

نقل حدیث

نقل حدیث کے لحاظ سے آپ کا شمار تابعین میں سے ہوتا ہے۔ آپ نے حضرت امام حسین، عبد اللہ بن عباس اور اسما بنت عمیس سے روایت نقل کی ہے [12]۔ نیز منقول ہے کہ آپ نے حضرت فاطمہ بنت محمد، حضرت زینب بنت علی، اپنے بھائی امام سجاد، عبد اللہ بن عباس، عائشہ، اسما بنت عمیس اور بلال حبشی سے مرسلہ روایت نقل کی ہے[13] ۔

آپ کے بیٹے عبد اللہ ،حسن اور ابراہیم آپ سے روایت نقل کرتے ہیں اسی طرح حسن بن حسن ،محمد بن عبد اللہ بن عمرو، شبیہ بن نعامہ، یعلی بن ابی یحیی، عائشہ بنت طلحہ، عمارہ بن غزیہ، ام ابی مقداد، ہشام بن زیاد، ام الحسن بنت جعفر بن حسن بن حسن بھی آپ سے روایت نقل کرتے ہیں [14]۔

خطبہ

کوفہ میں امام سجاد (ع) کے علاوہ حضرت زینب ،ام کلثوم اور فاطمہ بنت الحسین نے بھی خطبہ دیا ہے ۔حضرت امام موسی کاظم علیہ السلام (ع) کے بیٹے زید نے نقل کیا ہے کہ کربلا سے کوفہ میں آنے کے بعد فاطمہ صغرا نے خطبہ دیا جسے لہوف میں سید بن طاؤس نے نقل کیا ہے :

الحمد لله عدد الرمل و الحصى و زنة العرش إلى الثرى أحمده و أومن به و أتوكل عليه و أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له و أن محمدا عبده و رسوله.....جب آپ یہاں پر پہنچیں ألا فأبشروا بالنار أنكم غدا لفي سقر حقا يقينا تخلدواو أني لأبكي في حياتي على أخي على خير من بعد النبي سيولدبدمع غريز مستهل مكفكف على الخد مني دائما ليس يجمد تو لوگوں کے گریہ کی آوازیں بلند ہو گئیں اور وہ کہنے لگے کہ اے خاندان عصمت کی بیٹی آپ کی ان باتوں نے ہمارے دلوں اور سینوں میں آگ لگا دی ہے اور غم و الم کی وجہ سے ہمارے کلیجے منہ کو آرہے ہیں ۔بس کریں رک جائیں خاموش ہو جائیں ۔ تو حضرت فاطمہ خاموش ہو گئیں [15]۔

سوگ فاطمہ

منقول ہے کہ اپنے شوہر کے سوگ میں ایک سال تک اس کے مزار پر بیٹھی رہیں ۔دن کو روزہ رکھتیں اور رات کو عبادت خدا میں مشغول رہتیں[16]۔

صحیح بخاری میں محمد بن اسماعیل نے روایت نقل کی ہے :

لما مات الحسن بن الحسن بن علی(ع) ضربت امرأته القبّة علی قبره سنة... یعنی حسن بن حسن بن علی کی وفات پر اسکی زوجہ نے ایک سال تک اس کی قبر پر ایک قبہ نصب رکھا اور سوگ منایا[17] ۔

حسن مثنی کے بعد آپ نے عبد اللہ بن عمرو بن عثمان بن عفان سے شادی کی[18]۔ اس کے بعد مدینے کے والی عبد الرحمان بن ضحاک نے خواستگاری کی لیکن آپ نے قبول نہیں کیا[19] ۔

فاطمہ بنت الحسین کے چار اولادیں بنام : عبد اللہ ، ابراهیم، حسن و زینب تھیں[20]۔ عبد اللہ بن عمرو سے محمد ،دیباج ،قاسم اور رقیہ تھیں[21]۔ان کی نسل میں سے اکثر کی اولادیں خاندان بنو عباس کے دور حکومت میں شہید کئے گئے یا قید خانوں میں رکھے گئے [22]۔

وفات

سبط ابن جوزی نے آپ کا سن وفات تقریبا 117 ہجری قمری نقل کیا ہے [23]۔ ابن حبان نے تاریخ وفات کے بغیر کہا کہ آپ 90 سال کی عمر فوت ہوئیں[24] ۔جبکہ ابن عساکر[25] نے آپ کی وفات ہشام بن عبد الملک کی خلافت کے زمانے میں نقل کی ہے اور وہ مدینہ میں مدفون ہے۔[26] ۔

حوالہ جات

  1. مفید، الارشاد، ج ۲، ص ۴۹۱؛ محمدباقر مجلسی، بحارالانوار، ج ۴۵، ص ۳۲۹.
  2. محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین(ع): برپایہ قرآن و حدیث،قم: دارالحدیث، ۱۳۸۸. ص
  3. رجوع کریں: بخاری، ص ۶؛ ابوالفرج اصفہانی، ۱۴۰۵، ص ۱۲۲؛ مفید، ج ۲، ص ۲۵.
  4. تاریخ دمشق، ج۷۰، ص۱۷؛ المعارف لابن قتیبہ، ص۲۱۳؛ ابن‌سعد، ج ۸، ص ۴۷۳؛ بخاری، مذکورہ۔
  5. حسنی، المصابیح، ص۳۷۹؛ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج‌اللّه علی العباد (۱۴۱۳)، ج۲، ص۲۵؛ ابن‌طاووس، ص۶۳.
  6. الکامل فی التاریخ، ج۲، ص ۵۷۷؛ مفید، ج ۲، ص ۱۲۱
  7. صدوق، الامالی للصدوق، ص ۲۲۸
  8. رجوع کریں: طبری، ج ۵، ص ۴۶۴؛ قاضی نعمان، ج ۳، جزء۱۳، ص ۲۶۸.
  9. احمدبن علی طبرسی، ج ۲، ص ۲۷۲۹.
  10. ابن عساکر ،ج 70 ص 24؛مجلسی ،ج 45 ص 171۔
  11. صفّار قمی، ص ۱۸۲۱۸۳؛ کلینی، ج ۱، ص ۳۰۳.
  12. ابن‌عساکر، ج ۷۰، ص ۱۰؛ مزّی، ج ۳۵، ص ۲۵۴۲۵۵
  13. ابن عساکر، تاریخ دمشق، ج۷۰، ص۱۰؛ تہذیب الکمال، ج۳۵، ص۲۵۴
  14. ابن عساکر، تاریخ دمشق، ج۷۰، ص۱۰؛ تہذیب الکمال، ج۳۵، ص۲۵۴؛
  15. سید بن طاووس، لہوف، ص۱۷۸.
  16. صحیح البخاری، ج۱، ص۴۴۶؛ تہذیب الکمال، ج۶، ص۹۵؛ بحارالانوار، ج۴۴، ص۱۶۷و۱۶۸؛ تاریخ دمشق، ج۷۰، ص۱۹؛ مفید، الارشاد، ج۲، ص۲۶.
  17. صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب ۶۱ ۔فتح الباری فی شرح صحیح بخاری،ج۳، ص ۲۵۵، باب۶۱
  18. تہذیب الکمال، ج۳۵، ص۲۵۶؛ مقاتل الطالبین، ص۱۶۷
  19. ابن‌سعد، ج ۸، ص ۴۷۴
  20. تہذیب الکمال، ج۳۵، ص۲۵۶؛ لباب الانساب، ج۱، ص۳۸۵؛
  21. المجدی، ص۹۱؛ تہذیب الکمال، ج۳۵، ص۲۵۶؛ المعارف لابن قتیبہ، ص ۱۹۹
  22. تاریخ الطبری، ج۷، ص۵۳۶
  23. سبط ابن جوزی، تذکره الخواص، ص ۲۸۰
  24. ابن‌حِبّان، ج ۵، ص ۳۰۱
  25. ابن‌عساکر، ج ۷۰، ص ۱۷
  26. سبط ابن جوزی، تدکره الخواص، ص۲۸۰


مآخذ

  • ابن‌عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، چاپ علی شیری، بیروت ۱۴۱۵۱۴۲۱/ ۱۹۹۵۲۰۰۱.
  • ابن‌قتیبہ، المعارف، چاپ محمداسماعیل عبداللّہ صاوی، بیروت ۱۳۹۰/۱۹۷۰.
  • حسنی، احمد بن ابراہیم، المصابیح، چاپ عبداللّہ حوثی، صنعا.
  • سیدبن طاووس، لہوف، ترجمہ عبدالرحیم عقیقی بخشایشی، قم، دفتر نشر نوید اسلام، چ۵، ۱۳۷۸ش.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الأمم و الملوک(تاریخ الطبری)، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، ۱۹۶۷، ج۵.
  • مفید، الارشاد، ترجمۃ محمد باقر ساعدی خراسانی، ‌اسلامیہ، ۱۳۵۱ ش، ج ۲.
  • مفید، محمدبن محمد، الارشاد فی معرفۃ حجج‌اللّہ علی العباد، قم، ۱۴۱۳.
  • مجلسی، محمدباقر، بحارالانوار، بیروت، موسسہ وفاء، چاپ دوم، ۱۴۰۳ق، ج ۴۵.
  • محمدی ری شہری، دانشنامہ امام حسین(ع): برپایہ قرآن و حدیث، قم: دارالحدیث، ۱۳۸۸.
  • الکامل فی التاریخ.
  • ابن‌سعد.
  • ابن‌حبیب.
  • الطبقات الکبری.
  • صفّار قمی.
  • کلینی.
  • ابن‌حِبّان.
  • سبط ابن جوزی، تدکرہ الخواص.
  • ابوالفرج اصفہانی، ۱۴۰۵.
  • بخاری.
  • صحیح البخاری.
  • تہذیب الکمال.
  • صدوق، الامالی للصدوق.
  • مقاتل الطالبین.
  • ابن‌سعد.
  • ابوالفرج اصفہانی.
  • لباب الانساب.
  • یوسف‌بن عبدالرحمان مِزّی، تہذیب الکمال فی اسماء الرجال، چاپ بشار عوّاد معروف، بیروت ۱۴۰۵/۱۹۸۵.
  • تقریب التہذیب.