امام حسین علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
(امام حسینؑ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
امام حسین علیہ السلام
ضریح امام حسین5.jpg
نام حسین بن علی
کنیت ابوعبداللہ
القاب زکی، سید الشہداء،
ولادت سوم شعبان، سال 4ق.
مولد مدینہ
مسکن مدینہ، کوفہ
والد امام علی
والدہ حضرت فاطمہ
ازواج رباب، لیلا، ام اسحاق ، شہربانو
اولاد امام سجاد علیہ‌السلام، علی اکبر، جعفر، علی اصغر، سکینہ، فاطمہ
شہادت 10 محرم (عاشورا)، سال 61ق.
مدفن کربلا، عراق
عمر 57 سال
ائمہ معصومینؑ

امام علیؑ • امام حسنؑ  • امام حسینؑ • امام سجادؑ • امام محمد باقرؑ • امام صادقؑ  • امام موسی کاظمؑ • امام رضاؑ  • امام محمد تقیؑ  • امام علی نقیؑ • امام حسن عسکریؑ • امام مہدیؑ


زندگینامہ امام حسینؑ
تابلوی عصر عاشورا.jpg
۳ یا 5 شعبان۴ھ تولد[1]
۷ہجری اصحاب کساءپر آیۂ تطہیر کا نزول [2]
24ذی‌الحجہ ۹ہجری مباہلہ میں شرکت[3]
ربیع الاول ۱۱ہجری امام علیؑ کی خلاقت کا حق واپس لینے کے لیے والدین اور بھائی کے ہمراہ انصار اور اہل بدر کے در در جانا[4]
ذی‌الحجہ ۳۵ہجری امام علیؑ کے حکم پر دشمنوں سے عثمان کی حفاظت[5]
ذی‌الحجہ ۳۵ھ لوگوں کا امام علیؑ کی بیعت کرنے کے بعد آپ کا خطبہ[6]
جمادی الثانی ۳۶ھ جنگ جمل میں شرکت[7]
صفر ۳۷ہجری جنگ صفین میں شرکت[8]
صفر ۳۸ہجری جنگ نہروان میں شرکت[9]
۴۱ہجری کوفہ سے مدینہ واپسی[10]
28 صفر ۵۰ہجری شہادت امام حسنؑ[11] اور امام حسینؑ کی امامت کا آغاز
۵۱ یا ۵۲ یا ۵۳ہجری[12] حجر بن عدی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت پر معاویہ کو اعتراض آمیز خط
۵۸ہجری منی میں خطبہ[13]
۲۶رجب ۶۰ہجری یزید کی بیعت کرنے کے لیے دار الامارۃ میں بلاوا[14]
28رجب ۶۰ہجری مدینہ سے مکہ کی طرف روانگی [15]
3شعبان ۶۰ہجری ورودِ مکہ[16]
۱۰ تا ۱۴ رمضان ۶۰ہجری کوفہ والوں کے خطوط موصول کرنا[17]
15 رمضان ۶۰ہجری مسلم کو اپنا نمائندہ بنا کر کوفہ بھیجنا[18]
8 ذی الحجہ ۶۰ہجری مکہ سے کوفہ کی طرف روانگی[19]
2 محرم ۶1ہجری ورودِ کربلا.[20]
۹ محرم 61ہجری عمر سعد کا اعلانِ جنگ اور امام کی طرف سے مہلت کا مطالبہ[21]
۱۰ محرم 61ہجری واقعہ عاشورا، امام حسین اور یار و انصار کی شہادت[22]


حسین بن علی بن ابی طالب جو اباعبداللہ اور سیدالشہداء کےنام سےسے مشہور ہیں (۴ھ-۶۱ھ) آپ شیعوں کے تیسرے امام ہیں اور دس سال امامت پر فائز رہے اور واقعہ عاشورا میں شہید ہوئے۔ آپ امام علیؑ اور فاطمہ زہراؑ کے بیٹے اور حضرت محمدؐ کے نواسے ہیں۔

شیعہ اور اہل سنت تاریخ کی گزراش کے مطابق پیغمبر خداؐ نے آپؑ کی ولادت کے دوران آپ کی شہادت کی خبر دی اور آپ کا نام حسین رکھا۔ رسول اللہؐ، حسنین کو بہت چاہتے تھے اور ان سے محبت رکھنے کی سفارش بھی کرتے تھے۔امام حسینؑ اصحاب کسا میں سے ہیں اور مباہلہ میں بھی حاضر تھے اور اہل بیتِ پیغمبر میں سے ایک بھی ہیں جن کی شان میں آیۂ تطہیر نازل ہوئی ہے۔ امام حسینؑ کی فضیلت میں آنحضرتؐ سے بہت ساری روایات بھی نقل ہوئی ہیں انہی میں سے یہ روایات بھی ہیں؛ «حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں» نیز «حسین چراغ ہدایت اور کشتی نجات ہے۔»

شیعوں کے تیسرے امام کی ختمی المرتبتؐ کی وفات کے بعد کی تیس سالہ زندگی کے بارے میں بہت کم گزارشات ملتی ہیں۔ آپ امیرالمؤمنینؑ کی خلافت کے دوران اپنے والد گرامی کے ساتھ تھے اور اس دور کی جنگوں میں شرکت کی اور امام حسنؑ کی امامت کے دوران آپ ان کے دست و بازو بنے اور امام حسنؑ کی معاویہ سے صلح کی تائید کی۔ دوسرے امام کی شہادت کے بعد سے معاویہ کے مرنے تک اس عہد پر باقی رہے اور کوفہ کے بعض شیعوں نے جب آپ کو بنی‌ امیہ کے خلاف قیام اور شیعوں کی رہبری سنبھالنے کی درخواست کی تو آپ نے انہیں معاویہ کے مرنے تک صبر کرنے کا کہا۔ حسین بن علیؑ کی امامت معاویہ کی حکومت سے ہم عصر تھی۔ بعض تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ نے معاویہ کے بعض اقدامات پر سخت اعتراض کیا ہے، بالخصوص حجر بن عدی قتل ہونے کے بعد معاویہ کو ایک مذمتی خط لکھا۔ اور جب یزید کو ولی عہد بنایا تو آپ نے اس کی بیعت سے انکار کیا اور معاویہ اور بعض دوسروں کے سامنے آپ نے معاویہ کے اس کام کی مذمت کی اور یزید کو ایک نالایق شخص قرار دیتے ہوئے خلافت کو اپنے لئے شایستہ قرار دیا۔ امام حسین کا منا میں خطبہ بھی بنی امیہ کے خلاف آپ کا سیاسی موقف سمجھا جاتا ہے۔ اس کے باوجود معاویہ دوسرے تین خلیفوں کی طرح ظاہری طور پر امام حسینؑ کا احترام کرتا تھا۔

معاویہ کی وفات کے بعد امام حسینؑ نے یزید کی بیعت کو شریعت کے خلاف قرار دیا اور بیعت نہ کرنے پر یزید یزید کی طرف سے قتل کی دھمکی ملنے پر ۲۷ رجب ۶۰ھ کو مدینہ سے مکہ گئے۔ مکہ میں چار مہینے رہے اور اس دوران کوفہ والوں کی طرف سے حکومت سنبھالنے کے لیے لکھے گئے متعدد خطوط کی وجہ سے مسلم ابن عقیل ان کی طرف بھیجا اور مسلم بن عقیل کی طرف سے کوفہ والوں کی تائید کے بعد ۸ ذی‌الحجہ کو کوفہ والوں کی بے وفائی اور مسلم کی شہادت کی خبر سننے سے پہلے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔

جب کوفہ کے گورنر ابن زیاد کو امام حسینؑ کے سفر کی خبر ملی تو ایک فوج ان کی جانب بھیجا اور حر بن یزید کے سپاہیوں نے جب آپ کے راستے کو روکا تو مجبور ہو کر کربلا کی جانب نکلا۔ عاشورا کے دن امام حسین اور عمر بن سعد کی فوج کے درمیان جنگ چھڑ گئی جس میں امام حسینؑ سمیت تقریبا آپ کے یار و انصار میں سے ۷۲ آدمی شہید ہوئے اور شہادت کے بعد امام سجادؑ جو اس وقت بیمار تھے، سمیت خواتین اور بچوں کو اسیر کر کے کوفہ اور شام لے گئے۔ امام حسینؑ اور ان کے ساتھیوں کے جنازے ۱۱ یا ۱۳ محرم کو بنی‌اسد نے کربلا میں دفن کیا۔

امام حسین کا مدینہ سے کربلا کی اس حرکت کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں، ایک نظرئے کے مطابق آپ حکومت قیام کرنا چاہتے تھے جبکہ بعض قائل ہیں کہ یہ حرکت صرف اپنی جان بچانے کی خاطر تھی۔ حسین بن علیؑ کی شہادت نے مسلمانوں خاص کر شیعوں پر بڑا اثر کیا اور بہت ساری تحریکوں کے لئے سرمشق بن گیا۔ شیعوں نے اپنے اماموں کی پیروی کرتے ہوئے عزاداری اور حسین بن علی پر رونے کا بڑا اہتمام کیا خاص کر محرم اور صفر کے مہینوں میں بہت زیادہ اہتمام کرتے ہیں۔ معصومین کی روایات میں زیارت امام حسین کی بھی بہت تاکید ہوئی ہے۔ اور ان کا حرم شیعوں کی زیارت گاہ بنی ہے۔

حسین بن علیؑ کے لیے شیعوں کے ہاں تیسرے امام اور سیدالشہدا ہونے کے ناطے بڑا مقام حاصل ہے تو اہل سنت کے ہاں بھی پیغمبر اکرمؐ کی احادیث میں بیان کی ہوئی فضیلتوں کی وجہ سے یا آپ کی یزید کے مقابلے میں استقامت اور قیام کی وجہ سے بڑا مقام ہے۔

آپ کے کلمات کو حدیث، دعا، خط، شعر اور خطبہ کی شکل میں موسوعۃ کلمات الامام الحسین اور مسند الامام الشہید نامی کتابوں میں جمع کئے گئے ہیں اور آپ کی شخصیت اور زندگی پر بھی بہت ساری کتابیں، انسائکلوپیڈیا، مقتل اور تحلیلی تاریخ کی شکل میں لکھی گئیں ہیں۔

نام، نسب، کنیت اور القاب

شیعہ اور سنی کتابوں میں موجود روایات کے مطابق پیغمبر اکرمؐ اللہ کے حکم سے[23] آپ کا نام حسین رکھا۔[24]حسن و حسین کا نام جو اسلام سے پہلے عرب میں رائج نہیں تھے،[25] یہ شَبَّر و شَبیر (یا شَبّیر)،[26]جناب ہارون کے بچوں کے نام سے لئے ہیں۔[27] اس کے علاوہ بھی یہ نام رکھنے کی وجوہات ذکر ہوئی ہیں جیسے؛ امام علیؑ نے شروع میں آپ کا نام حرب یا جعفر رکھا لیکن پیغمبر اکرمؐ نے آپ کے لیے حسین نام انتخاب کیا۔[28]بعض نے اس کو جعلی قرار دیتے ہوئے اس کے رد میں بعض دلائل بھی پیش کئے ہیں۔[29]

امام حسین، امام علیؑ و حضرت فاطمہؑ کے بیٹے اور حضرت محمدؐ کے نواسے ہیں قبیلہ قریش کے بنی‌ہاشم خاندان سے آپ کا تعلق ہے۔ امام حسن مجتبیؑ، حضرت عباسؑ اور محمد بن حنفیہ آپ کے بھائیوں میں سے اور حضرت زینبؑ آپ کی بہنوں میں سے ہیں۔[30]

امام حسینؑ کی کنیت ابو عبداللہ ہے۔[31]ابوعلی، ابوالشہداء (شہیدوں کا باپ)، ابوالاحرار (حریت پسندوں کے باپ) و ابوالمجاہدین (مجاہدوں کے باپ) بعض دیگر آپ کی کنیت ہیں۔[32]

حسین بن علیؑ کے بہت سارے القاب ہیں۔امام حسینؑ سے متعدد القاب منسوب کئے گئے ہیں جن میں سے اکثر آپ کے بھائی امام حسن مجتبیؑ کے ساتھ مشترک ہیں؛ جیسے: سید شباب أہل الجنۃ (جنت کے جوانوں کے سردار)۔ آپ کے بعض دوسرے القابات مندرجہ ذیل ہیں: زکی، طیب، وفیّ، سیّد، مبارک نافع، الدلیل علی ذات اللّہ، رشید، و التابع لمرضاۃ اللّہ۔[33]

ابن طلحہ شافعی نے «زکی» لقب کو دوسرے القاب میں سب سے زیادہ مشہور اور «سید شباب أہل الجنہ» کے لقب کو سب سے اہم لقب قرار دیا ہے۔[34] بعض احادیث میں آپؑ کو شہید یا سید الشہداء کے لقب سے پکار ہے۔[35] ثاراللہ اور قتیل العبرات کے القاب بھی بعض زیارتناموں میں ذکر ہوئے ہیں۔[36]

پیغمبر اکرمؐ کی ایک روایت جس کو شیعہ اور اہل سنت کے اکثر منابع میں نقل کیا ہے اس میں «حسین سِبطٌ مِن الاَسباط» (حسین اسباط میں سے ایک)[37] ذکر ہوا ہے۔ سبط یا اسباط جو کہ اس روایت میں اور قرآن مجید کی بعض آیات میں بھی آیا ہے اس کے معنی کے بارے میں کہا گیا ہے کہ علاوہ بر این کہ انبیا کی نسل ہیں، امام اور نقیبوں میں سے بھی ہیں جو لوگوں کی سرپرستی کے لیے انتخاب ہوئے ہیں۔[38]


حالات زندگی

رسول اللہ کی حدیث امام حسین کی حرم کے در پر

حسین بن علی مدینہ میں سنہ 3 ہجری قمری کو متولد[39] ہوئے؛ لیکن مشہور قول کے مطابق سنہ 4 ہجری قمری ہے۔[40] آپ کی ولادت کے دن کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے، اور مشہور قول کے مطابق ولادت 3 شعبان کو واقع ہوئی۔[41] لیکن شیخ مفید نے کتاب الارشاد میں آپ کی تاریخ ولادت 5 شعبان لکھا ہے۔[42] شیعہ اور اہل سنت کی گزارشوں میں آیا ہے کہ آپ کی ولادت کے وقت پیغمبر اکرمؐ روئے اور آپ کی شہادت کی خبر دی۔[43] کتاب کافی کی ایک روایت کے مطابق، حسینؑ نے اپنی والدہ یا کسی اور عورت کا دودھ نہیں پیا۔[44] منقول ہے کہ امّ فضل زوجۂ عباس بن عبدالمطلب نے خواب دیکھا کہ پیغمبر اکرمؐ کے بدن سے گوشت کا ایک ٹکڑا اس (ام فضل) کے گود میں رکھا گیا۔ حضور اکرمؐ نے خواب کی تعبیر میں کہا فاطمہ کے ہاں ایک بیٹے کی ولادت ہوگی اور تم اس کی دایہ ہوگی۔ جب حسینؑ متولد ہوئے تو ام فضل نے دودھ پلانے کی ذمہ داری اپنے ذمے لیا۔[45]بعض منابع میں عبداللہ بن یقطر کی ماں کا نام بھی امام حسینؑ کی دایوں میں سے لکھا ہے، لیکن امام حسینؑ نے ان دونوں میں سے کسی کا بھی دودھ نہیں پیا۔[46]

اہل سنت کے بعض منابع میں آیا ہے کہ رسول اللہ اپنے اہل بیت میں سے حسن اور حسین کو زیادہ چاہتے تھے۔[47]اور یہ محبت اتنی زیادہ تھی کہ کبھی مسجد میں خطبہ دیتے ہوئے مسجد میں آئیں تو آپ خطبے کو ادھورا چھوڑتے تھے اور منبر سے اتر کر انہیں اپنی گود میں لیتے تھے۔[48]پیغمبر خداؐ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا کہ ان دونوں کی محبت نے مجھے ہر کسی دوسرے کی محبت سے بے نیاز کیا ہے۔[49]

حسینؑ باقی اصحاب کساء کے ساتھ واقعہ مباہلہ میں شریک تھے۔[50]اور پیغمبر کی رحلت کے وقت آپ کی عمر سال تھی؛ اسی لئے آپ کو اصحاب کے طبقے میں سے آخری طبقے میں شمار کیا گیا ہے۔[51]

رسول خدا کا فرمان

حُسَیْنٌ مِنِّی وَ أَنَا مِنْه۔ أَحَبَّ الله مَنْ أَحَبَّ حُسَیْنا

ترجمہ: حسین مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔

اللہ ہر اس کو دوست رکھتا ہے جو حسین کو دوست رکھے۔

(انساب الاشراف، ج۳، ص۱۴۲)۔(الطبقات الکبرى، ج۱۰، ص۳۸۵)

خلفاء ثلاثہ کا دور

امام حسینؑ نے اپنی عمر کے تقریبا 25 سال خلفائے ثلاثہ (ابوبکر، عمر و عثمان) کے زمانے میں بسر کئے۔ خلیفہ اول کی خلافت کے آغاز کے وقت آپ کی عمر سات سال تھی اور خلیفہ ثانی کے دور کے آغاز میں آپ کی عمر 9 سال جبکہ خلیفہ ثالث کی خلافت کے آغاز پر آپ کی عمر 19 سال تھی۔[52] شیعوں کے تیسرے امام کے اس دور کی زندگی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں ہیں، اور شاید اس کی علت امام علیؑ اور ان کے بیٹوں کی سیاسی محدودیت تھی۔[53]

مروی ہے کہ امام حسینؑ خلافت ابوبکر کے ابتدائی ایام میں اپنے والدین اور بھائی امام حسن مجتبی علیہ السلام کے ہمراہ راتوں کو امام علی علیہ السلام کا غصب شدہ حق خلافت واپس دلانے کے لیے انصار کے دروازوں پر حاضر جاتے تھے۔[54]

عمر کی خلافت کے دور میں امام حسینؑ کی عمر تقریباً نو سال کی تھی، بعض مآخذ میں مروی ہے کہ عمر کی خلافت کے دور کے آغاز میں ایک روز امام حسینؑ مسجد میں داخل ہوئے اور عمر کو منبر رسولؐ پر خطبہ دیتے ہوئے دیکھ کر منبر کی سیڑھیوں سے اوپر چڑھے اور عمر سے کہا: "میرے باپ کے منبر سے نیچے اترو اور اپنے باپ کے منبر پر بیٹھو"۔
عمر نے کہا: "میرے باپ کا کوئی منبر نہیں تھا!"[55]اور بعض گزاراشات میں خلیفہ دوم کی طرف سے امام حسینؑ کی احترام کا تذکرہ ہوا ہے۔[56]

جس وقت عثمان نے اپنی خلافت کے دوران ابوذر کو ربذہ کی جانب جلا وطن کیا اور حکم دیا کہ کوئی بھی اسے خدا حافظی نہیں کرے گا تو امام حسینؑ اپنے والد اور بھائی اور بعض دیگر افراد کے ساتھ خلیفہ حکم کے برخلاف ابوذر کو رخصت کرنے آئے۔[57] اہل سنت کے بعض منابع میں مذکور ہے کہ حسنین نے سنہ 26ہجری کو جنگ افریقہ[58] اور سنہ 29 یا 30 ہجری کو جنگ طبرستان[59] میں شرکت کی۔ لیکن ایسی گزارش شیعہ کسی کتاب میں ذکر نہیں ہوئی ہے۔ بہت ساری کتابوں میں کہا ہے کہ یہ جنگیں بغیر کسی لڑائی کے صلح کے ساتھ ختم ہوئیں۔[60]

حسنینؑ کا ان جنگوں میں شریک ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں موفق اور مخالف نظرئے ملتے ہیں۔ بعض لوگ جیسے جعفر مرتضی عاملی نے ان گزارشات کی سندی مشکلات اور نیز اس طرح سے کئے جانے والے فتوحات کی ائمہ کی طرف سے مخالفت کے پیش نظر انہیں جعلی قرار دیا ہے۔ اور جنگ صفین میں حسنین علیہما السلام کو امام علیؑ کی طرف سے اجازت نہ ملنے کو تائید کے طور پر پیش کیا ہے۔[61]بعض نے حسنینؑ کی ان جنگوں میں شرکت کو امتی اسلامی کی مصلحت کے مطابق سمجھا ہے جس سے امام علیؑ کے لیے معاشرے کی صحیح رپورٹ ملتی تھی، اور لوگ بھی اہل بیت سے آشنا ہوتے تھے۔[62]

منقول ہے کہ عثمان کی حکومت کے آخری دنوں میں ایک گروہ نے ان کے خلاف بغاوت کی اور انہیں قتل کرنے کی غرض سے ان کے گھر پر حملہ آور ہوئے تو عثمان بن عفان کی کارکردگی سے ناراضگی کے باوجود، امام حسینؑ اپنے بھائی امام حسن مجتبیؑ کے ہمراہ اپنے والد امام علی علیہ السلام کی ہدایت پر عثمان کے حریم کی حفاظت کے لئے سرگرم ہوئے۔[63] اس گزارش کے بعض موافق ہیں تو بعض مخالف بھی ہیں۔[64]

امام علیؑ کا دور حکومت

مروی ہے کہ لوگوں نے جب امیرالمومنینؑ کی بیعت کی تو امام حسینؑ نے ایک خطبہ دیا۔[65] امام حسینؑ نے جنگ جمل میں امیر المومنین کے لشکر کے بائیں جانب کو اپنے ذمے لیا[66] اور جنگ صفین میں لوگوں کو جہاد کی طرف رغبت دلانے کے لیے ایک خطبہ دیا[67] اور لشکر کے دائیں جانب کے سپہ سالار تھے۔[68] اور جنگ نہروان میں شامی لشکر سے پانی واپس لینے میں آپ شریک تھے۔اور اس کے بعد امیر المومنینؑ نے فرمایا: یہ پہلی کامیابی تھی جو حسین کی برکت سے حاصل ہوئی۔[69] کہا گیا ہے کہ امام علیؑ جنگ صفین میں حسنینؑ کو لڑنے سے منع کرتے تھے اور اس کی وجہ بھی رسول اللہؐ کی نسل کی حفاظت کرنا تھی۔[70] بعض منابع کے مطابق آپ نے جنگ نہروان میں بھی شرکت کی ہے۔[71]

امام علیؑ کی شہادت کے دوران امام حسینؑ آپ کے پاس تھے[72] اور تجہیز و تکفین اور تدفین میں شریک تھے۔[73]ایک روایت کے مطابق، امام حسینؑ امیرالمؤمنینؑ کی شہادت کے وقت آپ ہی کی طرف سے کوئی اہم کام سرانجام دینے کی غرض سے مدائن کے دورے پر تھے اور امام حسنؑ کا خط پا کر اس واقعے سے مطلع ہوئے اور کوفہ لوٹ آئے۔[74]

امام حسنؑ کی امامت اور خلافت کا دَور

امام حسین علیہ السلام

الناس عبید الدنیا و الدّین لعق علی ألسنتہم یحوطونہ ما درّت معائشہم فإذا محّصوا بالبلاء قلّ الدیانون.

ترجمہ: لوگ دنیا کے غلام ہیں اور اپنی دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی زبانوں پر دین کا ورد کرتے رہتے ہیں. اور جب آزمائش میں ڈالے جائیں تو دیندار لوگ بہت کم ہوں گے. اللہ ہر اس کو دوست رکھتا ہے جو حسین کو دوست رکھے۔

(شہیدی، قیام حسینؑ، ص۴۶، ۹۴)

تاریخ میں ملتا ہے کہ امام حسینؑ اپنے بھائی امام حسنؑ کا احترام کرتے تھے، اور نقل ہوا ہے کہ جس مجلس میں امام حسنؑ ہوتے تھے اس مجلس میں آپ کی احترام کی خاطر امام حسینؑ بات نہیں کرتے تھے۔[75] امیرالمؤمنینؑ کی شہادت کے بعد خوارج جو شامیوں سے جنگ چاہتے تھے انہوں نے امام حسنؑ کی بیعت نہیں کی اور امام حسینؑ کے پاس آکر آپ کی بیعت کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ آپ نے فرمایا: اللہ سے پناہ مانگتا ہوں جب تک حسن زندہ ہیں تمہاری بیعت میں قبول نہیں کرسکتا ہوں۔[76] معتبر روایات کے مطابق، معاویہ کے ساتھ صلح امام حسن کے وقت آپ نے معاویہ کے ساتھ بھائی حسنؑ کی مصالحت کی حمایت کی[77]اور آپ نے کہا کہ وہ (امام حسنؑ) میرے امام ہیں۔[78] اور ایک قول کے مطابق صلح برقرار ہونے کے بعد اپنے بھائی حسن کی طرح آپ نے بھی معاویہ کی بیعت کی[79] اور امام حسنؑ کی شہادت کے بعد بھی اپنے عہد پر باقی رہے۔[80]اس کے مقابلے میں بعض روایات کے مطابق آپ نے بیعت نہیں کی[81] اور بعض منابع کے مطابق آپ صلح سے راضی نہیں تھے اور امام حسنؑ کو قسم دیا کہ معاویہ کے جھوٹ کو نہ مانیں۔[82] بعض محققین نے ان باتوں کو دیگر گزارشات اور تاریخی شواہد کے ساتھ ناسازگار سمجھتے ہیں۔[83] ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ جب بعض لوگوں نے صلح پر اعتراض کرتے ہوئے امام حسینؑ کو معاویہ پر حملہ کرنے کرنے کے لئے شیعوں کو اکھٹا کرنے کی تجویز دی تو ان کے جواب میں آپ نے کہا: ہم نے ان کے سے عہد کیا ہے اور کبھی بھی وعدہ خلافی نہیں کرینگے۔[84]ایک اور جگہ ذکر ہوا ہے کہ اعتراض کرنے والوں سے کہا: جب تک معاویہ زندہ ہے تب تک انتظار کرو؛ جب وہ مرجائے تو تصمیم لینگے۔[85]امام حسینؑ سنہ ۴۱ ہجری کو (معاویہ سے صلح کے بعد) اپنے بھائی کے ہمراہ کوفہ سے مدینہ کو لوٹے۔[86]

ازواج اور اولاد

آپ کی اولاد کی تعداد کے بارے میں اختلاف نظر ہے؛ بعض نے چار بیٹے اور دو بیٹیاں[87] اور بعض نے چھ بیٹے اور تین بیٹیاں لکھا ہے۔[88]

ازواج نسب اولاد تفصیل
شہربانو یزدگرد ساسانی بادشاہ کی بیٹی امام سجاد شیعوں کا چوتھا امام معاصر محققین شہربانو کے نسب کے بارے میں تردید کرتے ہیں۔[89] بعض کتابوں میں ان کا نام سِنْدیہ، غزالہ اور شاہ زنان لکھا گیا ہے۔
رباب امرؤ القیس بن عدی کی بیٹی سُکَینہ اور عبداللّہ. [90] رباب کربلا میں موجود تھیں اور اسیر ہو کر شام تک گئیں۔[91] اکثر کتابوں میں عبداللہ کو شہادت کے وقت شیرخوار ہونے کا کہا ہے۔[92]آج کل شیعہ اسے علی اصغر کے نام سے جانتے ہیں۔
لیلیٰ ابی‌مُرَّۃ بن عروۃ بن مسعود ثَقَفی کی بیٹی[93] علی اکبرؑ[94] .....
ام اسحاق طلحہ بن عبیداللہ کی بیٹی فاطمہ امام حسین کی بڑی بیٹی[95] ام اسحاق، امام حسن مجتبیؑ کی زوجہ تھی اور آپؑ کی شہادت کے بعد امام حسین سے شادی کی۔[96]
سُلافہ یا ملومہ[97] قُضاعہ نامی قبیلے سے جعفر[98] جعفر نے امام کی حیات میں ہی وفات پایااور ان کی کوئی نسل باقی نہیں ہے۔[99]

چھٹی صدی میں لکھی ہوئی کتاب لباب الانساب[100]میں امام کی ایک بیٹی رقیہ کے نام سے اور ساتویں ہجری میں لکھی گئی کتاب کامل بہایی میں امام حسین کی ایک چار سالہ بچی کا تذکرہ ہے جو شام میں وفات پائی ہے۔[101]بعد کی کتابوں میں رقیہ کا نام زیادہ آنے لگا ہے۔ اسی طرح بعض منابع میں شہر بانو کا بیٹا علی اصغر اور رباب کا بیٹا محمد اور اسی طرح سے زینب (ماں نام لکھے بغیر) کے نام، امام حسین کی اولاد میں سے ذکر ہوئے ہیں۔[102] ابن طلحہ شافعی نے اپنی کتاب مطالب السؤول فی مناقب آل الرسول میں آپ کی اولاد کی تعداد کو دس عدد بتا دیا ہے۔[103]

دوران امامت

آپ کی امامت کا آغاز معاویہ کی حکومت کے دسویں سال ہوا۔ معاویہ نے ۴۱ھ[104]کو امام حسن سے صلح کے بعد حکومت سنبھالا اور اموی خلافت کی بنیاد رکھی۔ اہل سنت منابع نے اسے چالاک اور صابر لکھا ہے۔[105]اور ظاہری طور پر دین کا پابند تھا اور اپنی خلافت کی بنیادوں کو مضبوط کرنے لیے بعض دینی اصولوں سے استفادہ کرتا تھا۔اگرچہ حکومت کو زور اور سیاسی چالاکیوں سے حاصل کیا تھا[106] لیکن اسے اللہ تعالی کی دی ہوئی اور قضا و قدر الہی سمجھتا تھا۔[107]

وہ اپنے آپ کو اہل شام کے لیے انبیا اور اللہ کے نیک بندے اور دین و احکام کے مدافعین کے ہم پلہ سمجھتا تھا۔[108] تاریخی منابع میں آیا ہے کہ معاویہ نے خلافت کو سلطنت میں تبدیل کر دیا[109]اور علنی طور پر کہتا تھا کہ عوام کی دینداری سے میرا کوئی سروکار نہیں ہے۔[110]

معاویہ کی حکومت کے مسائل میں سے ایک عوام خاص کر عراق کی عوام میں شیعہ عقیدے کا پانا تھا۔ شیعہ معاویہ کے دشمن تھے، اسی طرح خوارج بھی اس کے دشمن تھے لیکن خوارج کے لیے عوام میں کوئی مقام حاصل نہیں تھا جبکہ شیعہ امام علیؑ اور اہل بیت کی وجہ سے عوام پر بہت نفوذ رکھتے تھے۔ اسی لئے معاویہ اور اس کے آہلکار، مصالحت سے یا ٹکر کے ذریعے سے شیعوں سے نمٹتے تھے۔ معاویہ کا ایک اہم طریقہ عوام میں علیؑ سے دوری ایجاد کرنا تھا اسی وجہ سے معاویہ کے دور اور بعد کے اموی دور میں علیؑ پر لعن کرنا ایک عام رسم بنی۔[111] معاویہ نے حکومت کو مضبوط کرنے کے بعد شیعوں پر سیاسی دباؤ شروع کیا اور اپنے افراد سے کو خط لکھا کہ علیؑ کے چاہنے والوں کو اپنے دربار سے نکالیں، بیت المال سے ان کو کچھ نہ دیں اور ان کی گواہی کو قبول نہ کریں۔[112]اسی طرح اگر کسی نے امام علیؑ کی فضیلت بیان کرنے والوں کو دھمکی دی یہاں تک کہ محدثوں نے آپ کو «قریش کا ایک مرد»، «رسول اللہ کا ایک صحابی» اور «ابو زینب» سے یاد کرنے لگے۔[113]

دلائل امامت

امام حسینؑ کی ضریح پر حدیث نبوی

امام حسینؑ اپنے بھائی کی شہادت کے بعد ۵۰ھ کو امامت پر فائز ہوئے اور اکسٹھ ہجری کے ابتدائی دنوں تک شیعوں کی امامت اور رہبری پر فائز رہے۔سانچہ:مدرک شیعہ علما نے جہاں بارہ اماموں کی امامت پر دلیل قائم کیا ہے[114] وہاں ہر امام کی امامت پر خاص طور سے بھی دلیل پیش کیا ہے۔شیخ مفید نے کتابِ ارشاد میں امام حسینؑ کی امامت پر بعض احادیث کی طرف اشارہ کیا ہے جن میں سے یہ احادیث کہ جہاں ارشاد ہوتا ہے۔ ابنای ھذان امامان قاما او قعدا(ترجمہ: میرے یہ دو بیٹے حسن و حسین امام ہیں چاہے یہ قیام کریں چاہے یہ بیٹھے ہوں)‌۔ [115] اسی طرح امام علیؑ نے اپنی شہادت کے وقت امام حسن کی امامت کے بعد آپ کی امامت کی تاکید کی ہے۔[116] اور امام حسنؑ نے بھی اپنی شہادت کے وقت محمد بن حنفیہ کو وصیت کرتے ہوئے اپنے بعد حسین ابن علیؑ کو امام معرفی کیا ہے۔[117] شیخ مفید اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام حسینؑ کی امامت کو یقینی اور ثابت سمجھتے ہیں۔ ان کے کہنے کے مطابق امام حسینؑ نے معاویہ سے صلح امام حسن میں جو وعدہ کیا تھا وہ اور تقیہ کی وجہ سے معاویہ مرنے تک لوگوں کو اپنی طرف دعوت نہیں کی اور امامت کو علنی نہیں کیا؛ لیکن معاویہ مرنے کے بعد آپ نے امامت کو علنی کیا اور جن کو آپ کے مقام کا نہیں پتہ تھا انہیں اپنی پہچان کروایا۔[118] علاوہ ازیں ایسی احادیث رسول اللہؐ سے وارد ہوئی ہیں جن میں ائمہؑ کی تعداد بتائی گئی ہے اور امام علیؑ، امام حسنؑ اور امام حسینؑ اور ان کے نو فرزندوں کی امامت پر تصریح و تاکید ہوئی ہے۔ [119]

منقول ہے کہ 60ھ کو امام حسینؑ مدینہ سے نکلتے ہوئے اپنی بعض وصیتوں اور امامت کی امانتوں کو زوجۂ رسول خداؐ ام سلمہ کے حوالے کیا[120] اور بعض کو شہادت سے پہلے اکسٹھ ہجری کی محرم کو اپنی بڑی بیٹی فاطمہ کے حوالے کیا[121]تاکہ وہ انہیں امام سجاد کے حوالے کرے۔

صلحِ امام حسن کی پاسداری

اس کے باوجود کہ امام حسنؑ کے بعد آپؑ حکومت کی باگ ڈور سنبھالنے کے لئے صالح ترین اور مناسب ترین شخصیت تھے؛ تاہم معاویہ کے ساتھ امام حسنؑ کی صلح کی بنا پر، آپ اس صلح کے پابند رہے۔[122] اور اس کے باوجود کہ کوفی عوام نے معاویہ کے خلاف قیام کے لئے آپ کو خطوط لکھے، آپؑ نے قیام سے اجتناب کیا گو کہ آپ نے مسلمانوں پر معاویہ کی حاکمیت کی شرعی اور قانونی حیثیت کو مسترد کردیا اور ظالموں کے خلاف جہاد پر زور دیا اور قیام کو معاویہ کی موت تک ملتوی کردیا۔[123] اور کوفہ والوں کے خطوط کے جواب میں لکھا:

ابھی میرا یہ عقیدہ نہیں، معاویہ مرنے تک کوئی اقدام نہ کریں، اپنے گھروں میں چھپے رہیں اور ایسے کام سے اجتناب کریں جس سے تم پر بدگمان ہوجائیں۔ اگر وہ مرا اور تب تک میں زندہ رہا تو اپنی رای سے آپ کو آگاہ کروں گا۔[124]

معاویہ کے اقدامات کے خلاف موقف

معاویہ کی جانب سے یزید کی بیعت کی دعوت پر امام حسینؑ کا جواب: یزید نے اپنی فکر اور عقیدے کو دکھا چکا ہے؛ تم بھی اس کے لیے وہی چاہو جو وہ چاہتا ہے: کتوں کو ایک دوسرے کے خلاف لڑانا، کبوتروں کو اڑانا اور گانے والی کنیزوں سے معاشرت اور دیگر قسم کی سرگرمیاں۔۔۔ [اے معاویہ] اس کام سے باز آجاؤ؛ اللہ کے حضور ان لوگوں کے گناہوں کا بوجہ کے علاوہ بھی گناہوں کا بوجھ لے کر جانے میں تمہیں کیا فائدہ پہنچے گا؟!

ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ج۱، ص۲۰۹

اگرچہ معاویہ کی حکومت کے دوران امام حسینؑ نے عملی طور پر ان کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا لیکن معاصر تاریخی محقق، رسول جعفریان کا کہنا ہے کہ امام اور معاویہ کے درمیان ہونے والے بعض رابطے اور گفتگو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں امام حسینؑ نے معاویہ کی حکومت کو سیاسی طور پر قبول نہیں کیا تھا اور ان کے سامنے تسلیم نہیں ہوئے تھے۔[125]امام حسینؑ اور معاویہ کے درمیان رد و بدل ہونے والے متعدد خطوط بھی اسی بات کے شاہد ہیں۔ اس کے باوجود تاریخی گزارشات سے معلوم ہوتا ہے کہ معاویہ بھی خلفائے ثلاثہ کی طرح ظاہری طور پر امام کا احترام کرتا تھا۔[126]اور اپنے اہلکاروں کو حکم دیا تھا کہ رسول اللہ کے بیٹے کا مزاحم نہ بنیں اور ان کی بے احترامی نہ کریں۔[127] معاویہ نے یزید کو وصیت میں بھی امام حسینؑ کے مقام کی تاکید کی اور انہیں لوگوں میں سب سے محبوب جانا اور کہا اگر حسین پر کامیاب ہوگیا تو اسے بخش دو کیونکہ اس کا حق بہت بڑا ہے۔[128]

شیعیانِ امام علیؑ کے قتل پر اعتراض

معاویہ نے جب حجر بن عدی، عمرو بن حمق خزاعی اور عبداللہ بن یحیی حضرمی جیسی شخصیات کے قتل پر امام حسینؑ نے شدید اعتراض کیا۔[129] اور بہت ساری تاریخی منابع کے مطابق آپ نے معاویہ کو خط لکھا اور علیؑ کے دستوں کو قتل کرنے کی مذمت کی اور معاویہ کے بعض برے کاموں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کو محکوم کیا اور کہا:میں اپنے اور اپنے دین کے بارے میں تمہارے ساتھ جہاد سے بالاتر کوئی اور چیز نہیں جانتا ہوں۔ اس خط میں مزید لکھا: اس امت پر تمہاری حکومت سے زیادہ بڑے فتنے کا مجھے علم نہیں ہے۔[130]

جب حج کے سفر میں معاویہ کا امامؑ سے آمنا سامنا ہوا[131] تو اس نے کہا: کیا تمہیں معلوم ہے کہ حُجر اور اس کے دوست اور تمہارے والد کے شیعوں کے ساتھ ہم نے کیا کیا ہے؟ امام نے فرمایا: کیا کیا ہے؟ معاویہ نے کہا: انہیں قتل کیا، کفن دیا، ان پر نماز پڑھی اور دفن کردیا۔ امام نے فرمایا: لیکن اگر ہم تمہارے اصحاب کو قتل کریں تو انہیں نہ کفن دینگے، نہ ان پر نماز پڑھیں گے اور نہ ہی انہیں دفنائیں گے۔[132]

یزید کی ولایت عہدی پر اعتراض

سنہ۵۶ھ کو معاویہ نے امام حسنؑ سے کئے ہوئے صلح نامے میں مذکور،(اپنے بعد کسی کو اپنا جانشین نہیں بنائے گا) قرارد داد کے برخلاف یزید کو اپنا جانشین بنا کر لوگوں کو اس کی بیعت کرنے کا کہا۔[133]امام حسینؑ سمیت بعض شخصیات نے اس کی بیعت سے انکار کردیا۔ معاویہ نے یزید کی ولیعہدی کو مستحکم بنانے کی غرض سے وسیع اقدامات انجام دینے کے بعد مدینہ کا دورہ کیا تا کہ مدینہ کے اکابرین سے یزید کی ولایت عہدی کے لئے بیعت لے۔[134]امام حسینؑ نے ایک مجلس میں جہاں معاویہ، ابن عباس اور بعض اموی درباریوں کی موجودگی میں معاویہ کی ملامت کی اور یزید کی نااہلی اور ہوس بازیوں کی یاد آوری کرائی اور اس کو یزید کی ولیعہدی کااعلان کرنے سے متنبہ کیا۔اس کے ساتھ ساتھ امام حسینؑ نے اپنے مقام اور حق کو بیان کرتے ہوئے یزید کی بیعت کےلیے معاویہ کی طرف سے پیش کی جانے والی دلایل کو رد کیا۔[135] اسی طرح ایک اور مجلس میں جہاں عوام بھی تھے، امام حسینؑ نے معاویہ کی یزید کی شایستگی کی باتوں کے خلاف اپنے کو خلافت کے لئے فردی اور خاندان کے اعتبار سے مناسب قرار دیا اور یزید کو شرابی اور ہوس باز کے طور پر معرف کیا۔[136]

امام حسینؑ کا منی میں خطبہ

منی میں امام حسینؑ کے خطبے کے چند کلمات: اگر مشکلات میں صبر کروگے اور اللہ کی راہ میں سختیاں اور اخراجات کو برداشت کرو گے تو اللہ کے امور آپ کے ہاتھ آئینگے۔۔۔ لیکن تم لوگوں نے ظالموں کو اپنی جگہ بٹھا کر اپنے پر مسلط کئے ہو اور اللہ کے امور ان کے سپرد کر چکے ہو۔ تمہارا موت سے ڈرنا اور دنیا کی لالچ کی وجہ سے ظالموں کو اس کام پر قادر بنایا ہے۔

(تحف العقول، ص۱۶۸)

امام حسین نے معاویہ کی وفات سے دو سال پہلے یعنی سنہ58ھ کو منی میں ایک اعتراض آمیز خطبہ دیا[137]اس دور میں شیعوں پر معاویہ کی طرف سے شدید دباؤ تھا۔[138] امام نے اس خطبے میں امیر المؤمنین اور اہل بیتؑ کی فضیلت، امر بہ معروف و نہی از منکر کی دعوت کے ساتھ ساتھ اسی اسلامی وظیفے کی اہمیت کی تاکید، علما کی ذمہ داری اور ظالم کے خلاف قیام اور علما کا ظالموں کے مقابلے میں خاموشی کے نقصانات بیان کئے۔

یزید کی خلافت پر اعتراض

معاویہ کی وفات کے بعد ۱۵ رجب ۶۰ھ کو یزید حاکم بنا۔[139]اس نے بعض ان بزرگوں سے زبردستی بیعت لینے کا ارادہ کیا جنہوں نے اس کی ولایت عہدی کو قبول نہیں کیا تھا، ان میں سے ایک حسین ابن علیؑ تھے۔[140]لیکن امام حسینؑ نے بیعت کرنے سے انکار کیا[141] اور دوست احباب اور خاندان سمیت ۲۸ رجب کو مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔[142]

مکہ میں عوام اور عمرہ پر آنے والوں کی طرف سے آپ کا بڑا استقبال ہوا[143] اور چار مہینے سے زیادہ (3 شعبان تا ۸ ذی‌الحجہ) وہاں رہے۔[144]اس عرصے میں کوفہ والوں نے آپ کا یزید کی بیعت نہ کرنے کی خبر سن لیا اور آپ کے لیے دعوت نامے بھیجے اور خط کے ذریعے کوفہ بلایا۔[145]امام نے کوفہ والوں کو جانچنے کے لیے مسلم بن عقیل کو کوفہ بھیجا تاکہ وہ وہاں کی حالات سے آگاہ کریں۔ مسلم نے جب کوفیوں کا استقبال اور ان کی بیعت کو دیکھا تو امام کو کوفہ بلا لیا[146]اور آپ اہل و عیال اور دوست احباب سمیت 8 ذی‌الحجہ[147]کو مکہ سے کوفہ کی جانب روانہ ہوئے۔ بعض گزارشوں سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ امام حسینؑ کو مکہ میں ان کے قتل کی سازش کا علم ہوا تھا اس لئے مکہ کی حرمت باقی رکھتے ہوئے اس شہر سے نکل پڑے۔[148]

واقعۂ کربلا

مرقد حسینی کا تاریخچہ[149]
61ھ‍ (12 محرم) سب سے پہلے آپ(ص) کا مرقد بنانے والے بنی اسد تھے۔
65ھ‍ مختار نے مرقد پر اینٹوں اور چونے کی گنبد تعمیر کردی۔
132ھ‍ ابو العباس سفاح نے مرقد کے ساتھ ایک سرپوشیدہ عمارت بنوائی۔
146ھ‍ ابو جعفر منصور نے اس عمارت کو ویران کیا۔
158ھ‍ مہدی عباسی نے اس کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
171ھ‍ ہارون الرشید نے عمارت کو ویران کیا اور قریب ہی بیری کا درخت بھی کٹوا دیا۔
193ھ‍ امین نے حرم کی عمارت کو از سر نو تعمیر کیا۔
236ھ‍ متوکل عباسی نے عمارت کو ویران کردیا اور زمین میں ہل چلوایا۔
247ھ‍ منتصر عباسی نے بنا کی تعمیر نو کروائی؛ علوی اور سب سے آگے آگے سید ابراہیم مجاب نے مرقد امام(ع) کے اطراف میں سکونت کا آغاز کیا۔
273ھ‍ تحریک طبرستان کے قائد محمد بن محمد بن زید کے ہاتھوں حرم کی تعمیر نو۔
280ھ‍ علوی داعی نے قبر کے اوپر ایک گنبد بنوائی۔
367ھ‍ عضد الدولہ دیلمی نے حرم کے لئے ایک گنبد، چار ڈیوڑھیوں اور ہاتھی دانت سے بنی ضریح کی تعمیر کا اہتمام اور شہر کے لئے برجوں اور فصیل کا انتظام کیا۔
397ھ‍ عمران بن شاہین، نے رواق سے متصل اپنے نام پر ایک مسجد تعمیر کردی۔
407ھ‍ دو شمعیں گرنے کی وجہ سے حرم آگ میں جل گیا، وزیر حسن بن سہل نے حرم کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
479ھ‍ ملک شاہ سلجوقی، نے حرم کے اطراف کی دیوار کی مرمت کروائی۔
620ھ‍ الناصر لدین اللہ عباسی، نے مرقد امام(ع) کے لئے ایک ضریح بنوائی۔
767ھ‍ سلطان اویس جدایری نے اندرونی گنبد بنوائی اور قبر شریف کے گرد ایک صحن قرار دیا۔
786ھ‍ سلطان احمد اویس، نے حرم کے لئے دو سنہرے گلدستے قرار دیئے اور صحن کی توسیع کا اہتمام کیا۔
914ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی حرم کے کناروں پر سونے کا کام کروایا اور سونے کے 12 چراغدان حرم کو بطور عطیہ پیش کئے۔
920ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی، نے ساج کی لکڑی کا ایک صندوق ضریح کے لئے بنوایا
932ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی دوئم نے چاندی کی جالیدار اور خوبصورت ضریح حرم کو بطور عطیہ پیش کی۔
983ھ‍ علی پاشا، المعروف بہ "وند زادہ" نے گنبد کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
1032ھ‍ شاہ عباس صفوی نے تانبے کی ضریح بطور عطیہ پیش کی اور گنبد پر کاشی کاری کا کام کروایا۔
1048ھ‍ سلطان مراد چہارم (عثمانی) نے حکم دیا کہ حرم کو باہر سے چونا لگا کر سفید کیا جائے۔
1135ھ‍ نادر شاہ افشار کی زوجہ نے حرم امام(ع) کی وسیع تعمیر نو کی غرض سے بہت سے اموال حرم کو بطور عطیہ پیش کئے۔
1155ھ‍ نادرشاہ افشار نے موجودہ عمارتوں کی تزئین کا اہتمام کیا اور حرم کے گنجینے کو بیش بہاء عطیات پیش کئے۔
1211ھ‍ آقا محمد خان قاجار نے طلائی گنبد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔
1216ھ‍ نوظہور وہابی مذہب کے پیروکاروں نے کربلا پر حملہ کیا، ضریح اور رواق کو ویراں کردیا اور حرم کے اموال کو لوٹ کر لے گئے۔
1227ھ‍ فتح علی شاہ قاجار، نے عمارت کی تعمیر نو اور گنبد پر لگے طلائی اوراق کی تبدیلی کا حکم دیا۔
1232ھ‍ فتح علی شاہ قاجار نے چاندی کی ضریح بنوائی اور ایوانوں پر سونے کا کام کروایا۔
1250ھ‍ فتح علی شاہ قاجار نے گنبد و بارگاہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا اور ابو الفضل(ع) کی قبر شریف پر بھی گنبد تعمیر کردی۔
1273ھ‍ ناصر الدین شاہ، نے گنبد کی تعمیر نو اور طلاکاری کی مرمت کروائی۔
1418ھ‍ انتفاضۂ شعبانیہ میں صدام نے گنبد کو توپوں کا نشانہ بنایا اور طلاکاری کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔
1428ھ‍ صحن کو نئے طرز سے مسقف کیا گیا۔
1431ھ‍ حرم حضرت ابو الفضل (ع) کے گلدستوں پر طلاکاری کا کام کیا گیا۔
اصل مضمون: واقعہ کربلا

واقعہ کربلا جہاں حسین بن علیؑ اور یار و انصار کی شہادت ہوئی؛ آپ کی زندگی کا اہم حصہ شمار ہوتا ہے۔ بعض گزارشات کے مطابق عراق کی جانب روانہ ہونے سے پہلے امام حسینؑ نے اپنی شہادت کی خبر دی تھی۔[نوٹ 1] یہ واقعہ یزید کی بیعت نہ کرنے کی وجہ سے رونما ہوا۔ امام حسین، کوفہ والوں کی وعوت پر اپنے گھر والے اور اصحاب کے ساتھ کوفہ کی جانب سفر پر نکلے تھے، ذو حسم نامی جگہ پر حر بن یزید ریاحی کی سربراہی میں ایک لشکر کے رو برو ہوئے اور اپنا راستہ کوفہ سے کربلا کی جانب تبدیل دینے پر مجبور ہوئے۔[150]

امام حسین علیہ السلام: و علی الإسلام السلام اذا بُلیت الاُمّۃ براعٍ مثل یزید؛ ترجمہ:اگر امت کے لیے یزید جیسا حاکم بنے، تو اسلام کا فاتحہ پڑھنا ہوگا!

مقتل خوارزمی،۱۴۲۳، ج۱، ص۲۶۸

اکثر تاریخی کتابوں کے مطابق ۲ محرم‌ کو آپ کربلا پہنچے[151]اور اس سے اگلے دن عمر بن سعد کی سربراہی میں کوفہ سے چار ہزار کی لشکر کربلا پہنچی۔[152]اس عرصے میں امام حسینؑ اور عمرسعد کے درمیان کچھ مذاکرات بھی ہوئے[153]لیکن ابن زیاد یزید کی بیعت یا جنگ کے علاوہ کسی اور بات کے لئے تیار نہیں ہوا۔[154]

9 محرم کے عصر کو عمر سعد کی لشکر جنگ کے لئے تیار ہوئی لیکن امام حسینؑ نے اپنے خدا سے مناجات کے لیے اس رات کی مہلت مانگی۔[155] عاشورا کی رات امامؑ نے اپنے اصحاب سے گفتگو کی اور ان سے بیعت اٹھا لی اور جانے کی اجازت دی؛ لیکن انہوں نے وفاداری اور حمایت کرنے کی تاکید کی۔[156]

روز عاشورا کی صبح کو جنگ شروع ہوئی اور ظہر تک امام حسینؑ کے بہت سارے اصحاب شہید ہوگئے۔[157]جنگ کے دوران عمر سعد کی فوج کے کمانڈروں میں سے حر بن یزید ریاحی فوج کی کمانڈری چھوڑ کر امام حسینؑ سے ملحق ہوئے۔[158]امام کے اصحاب شہید ہونے کے بعد آپ کے رشتہ دار میدان کو گئے اور ان میں سب سے پہلے جانے والے علی اکبر[159]اور وہ ایک ایک ہوتے ہوئے شہید ہوئے اور پھر امام حسینؑ خود میدان کو گئے اور دس محرم کی عصر کو حسین ابن علیؑ بھی شہید ہوئے اور شمر بن ذی‌الجوشن[160] یا ایک اور روایت کے مطابق سنان بن انس[161]نے آپ کا سر بدن سے جدا کیا اور اسی دن حسین ابن علی کا سر ابن زیاد کو بھیجا گیا۔[162]

عمر سعد نے ابن زیاد کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے امام حسینؑ کے بدن پر گھوڑے دوڑانے کا حکم دیا اور آپ کے بدن کی ہڈیاں بھی ریزہ ریزہ کیا۔[163] بیمار امام سجادؑ، خواتین اور بچوں کو اسیر کر کے پہلے کوفہ پھر وہاں سے شام لے جایے گئے۔[164] امام حسینؑ اور ان کے تقریبا 72 اصحاب کے لاشوں[165]کو ۱۱[166] یا ۱۳ محرم کو بنی اسد کے ایک گروہ نے یا ایک اور نقل کے مطابق امام سجادؑ کی ہمراہی میں اسی شہادت پانے والی جگہے میں دفن کیا[167]

نظریات اور آثار

اصل مضمون: قیام امام حسین

امام حسینؑ کا مدینہ سے مکہ اور وہاں سے کوفہ کی جانب حرکت اور پھر کربلا میں لشکر عمر سعد سے جنگ کے بارے میں مختلف نظریات پائے جاتے ہیں۔ ایک نظرئے کے مطابق یہ حرکت قیام اور جنگ کی عرض سے نہیں تھی بلکہ صرف جان کی حفاظت کی خاطر تھی۔(شیخ علی‌پناہ اشتہاردی کا نظریہ)[168] بعض کا کہنا ہے کہ آپ نے حکومت تشکیل دینے کے لیے قیام کیا ہے۔ گزشتہ علما میں سے سید مرتضی[169] اور معاصرین میں صالحی نجف‌آبادی نے اپنی کتاب، شہید جاوید میں اس نظرئے کو بیان کیا ہے۔[170]جبکہ بعض اس نظرئے کے مخالف ہیں جیسے؛ شیخ مفید، سید بن طاووس اور علامہ مجلسی۔[171] امام حسین کے قیام نے بہت سارے گروہوں کو بیدار کیا اور آپ کی شہادت کے فوراً بعد ہی انقلابی اور اعتراض آمیز تحریکیں شروع ہوئیں اور کئی سالوں تک جاری رہیں۔ سب سے پہلے اعتراض عبداللہ بن عفیف[172] کا ابن زیاد سے ڈکر لینا تھا۔ توابین، مختار ثقفی، زید بن علی اور یحیی بن زید کے قیام بھی انہی تحریکوں میں سے ہیں۔ اسی طرح ابومسلم خراسانی نے قیام امام حسین کے تناظر میں قیام سیاہ جامگان کو یا لثارات الحسین کے شعار سے تشکیل دیا[173]جس کے سبب اموی حکومت نابود ہوگئی۔ ایران کا اسلامی انقلاب نے بھی امام حسینؑ کے قیام سے الہام لیتے ہوئے شہنشاہیت کو نابود کیا۔ امام خمینی فرماتے ہیں «اگر یہ وعظ و نصیحت کی مجالس اور عزاداری اور اس کے جلوسوں کا اجتماع نہ ہوتا تو ہمارا ملک کامیاب نہ ہوتا۔ امام حسین کے علَم کے سائے تلے سب نے قیام کیا ہے۔»[174]

بہت سے مسلمان اور غیر مسلمان لوگوں نے بھی امام حسینؑ کو اپنے لیے فداکاری، ظلم کے خلاف ڈٹنے، آزادی طلبی، اقدار کی حفاظت اور حق طلبی میں آئیڈیل قرار دیا ہے۔سانچہ:مدرک

خصوصیات اور فضائل

مفصل مضمون: اصحاب کساء|مباہلہ|آیت تطہیر|حدیث ثقلین

ظاہری صفات

اکثر حدیثی، تاریخی اور رجالی کتابوں میں امام حسینؑ کی پیغمبر اکرمؐ سے شباہت کا ذکر کیا ہے[175]اور ایک روایت میں حضور اکرمؐ سے سب سے زیادہ شبیہ فرد آپ کو جانا گیا ہے۔[176] آپ کے بارے میں کہا گیا ہے کہ آپ خز کا عمامہ پہنتے تھے[177] سر اور داڑھی کے بالوں یر خضاب لگاتے تھے۔[178]

حرم امام حسینؑ کے ایک دروازے پر «سید شباب اہل الجنۃ» کی عبارت

پیغمبر اکرمؐ کی زبانی

آپ کی فضیلت میں پیغمبر اکرمؐ کی بہت ساری روایت نقل ہوئی ہیں ان میں سے بعض درج ذیل ہیں:

  • حسن اور حسین جنت کے جوانوں کے سردار ہیں۔.[179]
  • عرش کے دائیں جانب لکھا ہوا ہے حسین ہدایت کے چراغ اور نجات کی کشتی ہیں. [نوٹ 2]
  • حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں۔[180]
  • جو میرے ان دو بیٹوں (حسن و حسین) کو چاہے گویا اس نے مجھے چاہا ہے جس نے ان دونوں سے دشمنی کی اس نے گویا مجھ سے دشمن کی ہے۔[181]

مقام و منزلت

شیعہ اور سنی روایات کے مطابق حسین بن علیؑ اصحاب کساء میں سے ایک تھے ۔[182] اور مباہلہ میں بھی آپ شریک تھے [183] اور اپنے بھائی کے ساتھ آیہ مباہلہ میں «ابناءَنا» کے مصداق ہیں۔[184] اسی طرح آیہ تطہیر جو اہل بیت کی شان میں نازل ہوئی اس میں بھی آپ شامل ہیں۔ [185]

امام حسنؑ کی شہادت کے بعد اگرچہ بنی ہاشم والے عمر میں بہت سارے امام حسینؑ سے بڑے تھے لیکن آپؑ سب سے شریف فرد تھے؛ یعقوبی کے نقل کے مطابق معاویہ نے حسن بن علی کی شہادت کے بعد ابن عباس سے کہا: اب اپنی قوم کے آپ بزرگ ہیں تو ابن عباس نے ان کے جواب میں کہا: جب تک حسین زندہ ہیں میں بزرگ نہیں ہوں۔[186] اسی طرح بنی ہاشم کے بعض مشورے ہوئے ہیں جن میں حسین ابن علی کی نظر باقیوں پر فوقیت رکھتی تھی۔ [187]

نقل ہوا ہے کہ عمرو بن عاص بھی آپ کو زمین پر اہل آسمان کے نزدیک محبوب ترین فرد سمجھتا تھا۔[188]

شہادت کی پیش گوئی

حسین ابن علی کی شہادت کی پیشگوئی کے بارے میں بہت ساری روایات موجود ہیں [189] جیسا کہ حدیث لوح میں پیغمبر اکرمؐ سے نقل ہوا ہے کہ اللہ تعالی نے حسین کو شہادت کے لیے چنا ہے اور شہیدوں میں سب سے برتر قرار دیا ہے ۔[190] علامہ مجلسی نے بحارالانوار کی جلد نمبر ۴۴ اور باب نمبر ۳۰ میں ایک روایت نقل کی ہے کہ اللہ تعالی نے حسینؑ کی شہادت کی خبر بعض انبیاء کو دی ہے ان میں سے بعض پیغمبران یہ ہیں۔ آدم، نوح، ابراہیم، زکریا اور محمدؐ۔ اور یہ انبیاء آپ پر روئے ہیں۔[191] اسی طرح امیرالمومنینؑ صفین جاتے ہوئے جب کربلا پہنچے تو انگلی سے ایک جگہ دکھایا اور کہا: یہ ان کا خون بہنے کی جگہ ہے۔[192]

کرامتیں

بعض روایات میں امام حسینؑ کے لیے بعض مخصوص خصوصیات ذکر کی ہیں ان میں سے ایک یہ کہ آپ نے کرامت سے پیغمبر اکرمؐ کی انگلی سے دودھ پی لیا [193] اور بال و پر سوختہ ایک فرشتہ بنام فطرس آپ کی برکت سے نجات پائے اور اس کے بعد امام حسین کے زائروں کا سلام آپ تک سلام پہنچانے پر مامور ہوئے ہیں۔ [194] اسی طرح مروی ہے کہ اللہ تعالی نے تربت حسینؑ میں شفا اور آپ کے حرم کے گنبد کے نیچے دعا مستجاب قرار دیا ہے۔.[195] الخصائص الحسینیۃ نامی کتاب میں آپ کی بہت ساری خصوصیات ذکر ہوئی ہیں۔

اخلاقی خصوصیات

آپ مسکینوں کے ساتھ بیٹھتے اور ان کی دعوت کو قبول کرتے اور ان کے ساتھ کھانا کھایا کرتے تھے اور انہیں اپنے گھر دعوت پر بلاتے تھے اور گھر پر جو ہوتا اس سے دریغ نہیں کرتے تھے۔ [196] ایک دن کسی فقیر نے آپ سے مدد مانگی جبکہ امام نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے نماز کو مختصر کردیا اور جو کچھ آپ کے پاس تھا اسے دے دیا۔ [197] آپ غلاموں اور کنیزوں کو اچھے کردار کی وجہ سے آزاد کرتے تھے۔ کہا جاتا ہے معاویہ نے ایک کنیز کو بہت سارا مال اور فاخر لباس کے ساتھ آپ کو ہدیہ بھیجا تو آپ نے قرآن کی بعض آیات کی تلاوت اور دینا و موت کے بارے میں بعض اشعار پڑھنے پر اسے ازاد کیا اور اس مال کو بھی اسے بخشدیا۔[198] ایک دن کسی کنیز نے آپ کو پھول دئے تو آپ نے اسے آزاد کیا۔ کسی نے کہا ایک پھول کی وجہ سے اسے آزاد کیا؟ تو آپ نے آیہ شریفہ «و اذا حیّیتم بتحیّة فحیّوا بأحسن منها أو ردّوها» کی تلاوت کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالی نے ہمیں اس طرح کا ادب سکھایا ہے۔ [199]

امام حسینؑ بہت سخی تھے اور سخاوت سے پہچانے جاتے تھے۔ [200] اور جب اللہ کی راہ میں کچھ عطا کرتے تھے تو اس میں بھی اپنے بھائی کے احترام کی خاطر ان سے کچھ کم دیتے تھے۔[201] تاریخ میں نقل ہوا ہے کہ آپ نے 25 مرتبہ پیدل حج کیا ہے۔ [202]

عزاداری

فارسی بینر جو عزاداری میں نصب کئے جاتے ہیں اور ایرانی شاعر محتشم کے بارہ بند کے اشعار کے چند بیت سے مزین ہے۔
اصل مضمون: عزاداری

شیعہ (اور کبھی غیر شیعہ) محرم کے مہینے جس کی دس تاریخ کو واقعہ کربلا رونما ہوا، امام حسینؑ اور شہداے کربلا کے لئے عزاداری کرتے ہیں اس عزاداری کے لیے شیعوں کے اپنے خاص رسومات ہیں جن میں مجلس پڑھنا، سینہ‌زنی، تعزیہ علَم اور زیارت؛ جیسے زیارت عاشورا، زیارت وارث اور زیارت ناحیہ مقدسہ کو انفرادی یا گروہی صورت میں پڑھنا شامل ہیں۔.[203]

امام حسینؑ پر عزاداری عاشورا کے بعد ابتدائی دنوں میں شروع ہوئی۔[204] ایک نقل کے مطابق جب اسرائے کربلا شام میں پہنچے تو بنی ہاشم کی خواتین نے کالے کپڑے پہن کر چند دن عزاداری کی۔ [205] شیعہ حکومتیں آنے اور شیعوں سے دباؤ کم ہونے کے بعد عزاداری نے رسمی اور قانونی شکل اختیار کیا۔ [206] ہ بعض تاریخی اور حدیثی گزاراشات کے مطابق شیعہ ائمہ نے عزاداری اور امام حسین کی شہادت پر رونے کا بہت اہتمام کرتے تھے اور شیعوں کو عزاداری اور عاشورا کو زندہ رکھنے کی تاکید کرتے تھے۔ [207] معصومین کی روایات میں امام حسینؑ کی زیارت کی بہت تاکید ہوئی ہے۔ [208] اور بعض روایات میں اسے حج اور عمرہ کے برابر قرار دیا ہے۔[209]

اربعین حسینی

امام حسینؑ کی شہادت کے چالیس دن بعد کہ جسے اربعین حسینی یا روز اربعین کہا جاتا ہے اس دن بہت سارے شیعہ امام حسینؑ کے مزار کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔ اور تاریخ نقل کے مطابق جابر بن عبداللہ انصاری اس دن سب سے پہلے زائر کے عنوان سے [210] امام حسینؑ کے مزار پر حاضر ہوئے۔ لہوف میں منقول ہے کہ اسیران کربلا بھی اسی ۶۱ھ کو شام سے مدینہ جاتے ہوئے اربعین کے دن شہدائے کربلا کی زیارت کے لیے کربلا گئے۔[211]

زیارت اربعین کی تاکید کے سبب شیعہ خاص کر عراق کے شیعہ ہر سال ملک کے ہر کونے سے کربلا کی جانب روانہ ہوتے ہیں اور اکثر یہ سفر پیدل ہوتا ہے، اور دنیا کی عظیم پیدل مارچ میں سے ایک ہے۔ اور 2017 کی اربعین کو نیوز رپورٹ کے مطابق تیرہ میلین زائرین نے شرکت کی ہے۔.[212]

حرم و حائر حسینی

اصل مضمون: حائر حسینی
امام حسینؑ کے حرم کے گنبد پر انتقام کی نشانی کے طور پر سرخ پرچم لہرا رہا ہے۔[213]

امام حسینؑ کے مرقد کو حائر حسینی کہا جاتا ہے اور حائر کا محدودہ کی بعض فضیلتیں اور فقہی احکام ہیں اور مسافر وہاں پر نماز پوری بھی پڑھ سکتا ہے۔[214] حائر حسینی کی مساحت کے بارے میں چنہد نظرئے ہیں اور کم از کم قبر سے 11 میٹر کو حائر کہا گیا ہے جو انتہائی بافضیلت ہے۔ [215]

  • حرم امام حسین

گزاراشات کے مطابق امام حسینؑ کی قبر پر پہلی عمارت مختار ثقفی کے دور میں اس کے حکم سے تعمیر ہوئی اور اس وقت سے ابھی تک کئی بار حرم کی مرمت ہوئی ہے اور وسعت دی گئی ہے،[216] اسی طرح کئی بار بعض خلفا عباسی[217] اور وہابیوں[218] نے اس کو مسمار بھی کیا ہے۔یہاں تک کہ متوکل عباسی نے وہاں پر کھیتی باڑی کرنے اور قبر کو زیر آب لانے کا حکم دیا۔.[219]

اہل سنت کی نظر

اہل سنت کی معتبر کتابوں میں امام حسینؑ کی فضیلت کے بارے میں بہت ساری احادیث نقل ہوئی ہیں۔ [220] فضیلت کی روایات کے علاوہ اللہ کی راہ میں امام حسینؑ کی جان اور مال کی قربانی کی وجہ سے بھی مسلمانوں کے اعتقادات آپ کی نسبت مضبوط ہوگئے ہیں۔[221]

امام حسینؑ کے قیام کے بارے میں اہل سنت کے ہاں دو نظریات پائے جاتے ہیں ایک گروہ اس کو بے اہمیت سمجھتے ہیں جبکہ ایک اور گروہ اس کی تعریف و تمجید کرتے ہیں۔ مخالفوں میں سے ایک ابوبکر ابن عربی ہے جس نے امام حسین کے قیام کو کم اہمیت سمجھتے ہوئے کہتا ہے کہ لوگوں نے (جو لوگ امت میں اختلاف پھیلاتے ہیں اس سے جنگ کرنے کے بارے میں) پیغمبر کی احادیث سن کر حسین سے لڑنے لگے۔[222] ابن تیمیہ بھی کہتا ہے کہ حسین ابن علیؑ نہ صرف حالات کی اصلاح کے باعث نہیں بنے بلکہ شر و فساد کا باعث بنا۔[223]

تا قیامت قطع استبداد کرد موج خون او، چمن ایجاد کرد
مدعایش سلطنت بودی اگر خود نکردی با چنین سامان سفر
رمز قرآن از حسین آموختیم ز آتش او شعلہ ہا افروختیم

ابن خلدون نے ابن عربی کی باتوں کو ٹھکراتے ہوئے کہا ہے کہ ظالم اور ستمگروں سے لڑنے کے لیے عادل امام کا ہونا شرط ہے اور حسینؑ اپنے زمانے کے عادل ترین فرد تھے اور اس جنگ کرنے کے حق دار تھے۔ [224] ایک اور جگہ فرماتے ہیں: جب یزید کا فسق سب پر آشکار ہوا تو حسین نے اس کے خلاف قیام کرنے کو اپنے پر واجب سمجھا کیونکہ خود کو اس کام کا اہل سمجھتا تھا۔ [225] آلوسی نے روح المعانی میں ابن عربی کے خلاف بد دعا کرتے ہوئے اس کی بات کو جھوٹ اور سب سے بڑا تہمت قرار دیا ہے۔ [226]

عباس محمود عقاد اپنی کتاب «ابوالشهداء، الحسین بن علی» میں لکھتا ہے: یزید کے دور میں حالات اس نہج پر پہنچے تھے کہ شہادت کے علاوہ اس کا کوئی علاج نہیں تھا۔ [227] اور اس کا کہنا تھا کہ ایسے قیام بہت کم لوگ کی طرف سے واقع ہوتے ہیں جو اسی کام کے لیے ہی خلق ہوئے ہیں ان کی تحریک کو دوسروں کی تحریک سے مقایسہ نہیں کرسکتے ہیں کیونکہ یہ لوگ کچھ اور طرح سے سمجھتے ہیں اور کچھ اور چاہتے ہیں۔[228] اہل سنت کے مصنف طہ حسین کا کہنا ہے کہ حسین کا بیعت نہ کرنا دشمنی اور ضد کی وجہ سے نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ اگر یزید کی بیعت کرتا تو اپنے وجدان سے خیانت کرچکا ہوتا اور دین کی مخالفت کرتا، کیونکہ یزید کی بیعت ان کی نظر میں گناہ تھا۔[229] عمر فروخ کہتا ہے کہ ظلم کے بارے میں سکوت کرنا کسی بھی صورت میں جائز نہیں ہے، اور آج کے مسلمانوں کے لیے ضرورت یہی ہے کہ ہمارے درمیان ایک حسینی قیام کرے اور ہمیں سیدھے راستے میں حق کی دفاع کرنے کی رہنمائی کرے۔.[230]

یزید پر امام حسینؑ کا قاتل ہونے کے ناطے لعنت کرنے کے بارے میں بھی اہل سنت دو نظریات پائے جاتے ہیں اور اہل سنت کے بہت سارے علما اس لعنت کے جواز کے قائل ہیں بلکہ یزید پر لعنت کو واجب سمجھتے ہیں۔ [231]

مسند الامام الشهید امام حسینؑ کے کلمات کامجموعہ

امام حسین کا معنوی میراث

حدیث اور تاریخی منابع میں امام حسین کی معنوی میراث میں، کلمات، دعا، خطوط، اشعار، خطبے اور آپ کی وصیت نقل ہوئی ہے۔ یہ تمام آثار مسند الامام الشہید بقلم عزیزاللہ عطاردی اور کتاب موسوعۃ کلمات الامام الحسین میں جمع ہوئی ہیں۔

کلمات

شیعوں کے تیسرے امام کے کلمات، توحید، قرآن، اہل بیت، احکام اور اخلاق کے موضوع پر اسلامی منابع میں ذکر ہوئے ہیں۔[232] ان کلمات میں سے اکثر آپ کی عمر کے آخری مہینے سے مربوط ہیں۔ سانچہ:مدرک

دعائیں: مسند الامام الشہید نامی کتاب میں تقریبا 20 دعائیں اور مناجاتیں نقل ہوئی ہیں۔ ان میں سے مشہور دعا، دعاے عرفہ ہے کہ جسے عرفہ کے دن صحراے عرفات میں پڑھ لیا ہے۔ [233]

منسوب اشعار: امام حسینؑ سے بعض اشعار منسوب ہیں۔ محمد صادق کرباسی، ان اشعار کو «دیوان الامام الحسین» نامی کتاب میں جمع کیا ہے اور ان کی سند اور ادبی لحاظ سے تحقیق کی ہے۔ [234]

خطبے اور وصیتیں: بعض منابع میں، منی میں امام حسین کا خطبہ،[235] عاشورا کے دن امام حسین کا خطبہ[236] اور اپنے بھائی محمد حنفیہ کے نام مکتوب وصیت نامہ جس میں اپنے قیام کا ہدف بیان کیا ہے، [237] ذکر ہوئے ہیں

خطوط: مکاتیب الائمۃ نامی کتاب میں امام حسینؑ کے ۲۷ خطوط جمع ہوئے ہیں۔ [238] ان میں سے بعض خطوط معاویہ کے نام اور بعض دیگر خطوط دوسرے افراد کے نام مختلف موضوعات کے بارے میں لکھا ہے۔

بعض مشہور کلمات:

  • اگر تمہارا کوئی دین نہیں اور قیامت سے نہیں ڈرتے ہو تو اس دنیا میں کم از کم آزاد رہو۔[239]
  • لوگ دنیا کے غلام ہیں اور اپنی دنیاوی زندگی کو بہتر بنانے کے لیے اپنی زبانوں پر دین کا ورد کرتے رہتے ہیں. اور جب آزمائش میں ڈالے جائیں تو دیندار لوگ بہت کم ہوں گے.[240]
  • لوگوں کی تم سے احتیاجات اللہ کی تم پر نعمت ہیں؛ نعمتوں سے تھکن اور مغموم مت ہونا کہیں وہ بلا میں تبدیل نہ ہوجائے۔[241]
  • ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔[242]
  • میں ظلم اور فساد پھیلانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لیے قیام کرچکا ہوں؛ میں امر بمعروف اور نہی عن المنکر کرنا چاہتا ہوں[243]
  • جو شخص اللہ کی نافرمانی سے کسی چیز کو حاصل کرنا چاہتا ہو تو جس چیز کی امید ہے اس کے حصول سے کہیں زیادہ جلدی میں اس چیز کو کھو بیٹھتا ہے اور جس چیز سے گھبرا رہا ہے اس میں گرفتار ہوتا ہے۔[244]
دانشنامہ امام حسین امام حسینؑ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے بارے میں پانچ سو سے زیادہ تاریخی، فقہی، تفسیری اور کلامی کتابوں کی طرف رجوع کیا گیا ہے۔

کتاب‌شناسی

امام حسین کی شخصیت اور زندگی کے بارے میں بہت سارے انسائیکلوپیڈیاز، زندگینامے، مقتل اور تحلیلی تاریخ لکھی گئی ہیں کہ اور اس سلسلے میں چالیس کتابیں اور مقالے « امام حسین کے بارے میں کتابیات» کے نام سے لکھی گئی ہیں۔ [245] ان میں سے ایک «کتاب‌شناسی اختصاصی امام حسین» نے ۱۴۲۸ کتابوں کو مولف کے نام کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ [246]. آقا بزرگ تہرانی نے بھی الذریعۃ میں ۹۸۵ کتابوں کا اس موضوع میں ذکر کیا ہے۔[247]

اس میدان میں اہم کتابیں مندرجہ ذیل ہیں:

انسائیکلوپیڈیا:

۱.دانشنامہ امام حسین: تألیف محمد محمدی ری شہری ۱۴ جلدیں ۲.دائرۃ المعارف الحسینیۃ: تألیف محمد صادق کرباسی جو کہ 2009 تک اس کی 90 جلدیں چھپ چکی تھیں۔ است.[248] ۳.فرہنگ عاشورا تالیف جواد محدثی

زندگینامہ:

۱.حیاۃ الامام الحسین تألیف باقرشریف قریشی ۳ جلدوں میں. ۲. ترجمۃ الإمام الحسینؑ بقلم ابن عدیم‏ ایک جلد ۳. «الطبقات الکبری» و «تاریخ مدینۃ دمشق» میں امام حسین سے مربوط بخش جو «ترجمۃ الامام الحسین» کے نام سے مستقل طور پر چھپ چکی ہے۔ ۴.زندگانی امام حسین تالیف سید ہاشم رسولی محلاتی

مقتل:جو کتاب کسی تاریخی شخصیت کے قتل یا شہادت کے بارے میں لکھی گئی ہو تو اسے مقتل کہا جاتا ہے۔ [249] شیعوں کے تیسرے امام کے بارے میں لکھی جانے والی سب سے پہلی مقتل، ابومخنف کی مقتل الحسین ہے جو دوسری صدی میں لکھی گئی ہے۔ امام حسینؑ کے بارے میں لکھی جانے والی بعض دوسری کتابیں مندرجہ ذیل ہیں:
مقتل جامع سید الشہدا میں مقتل کے علاوہ عاشورا کی تاریخ، قیام امام حسین کا فلسفہ، عزاداری کی تاریخ اور امام حسینؑ کے اصحاب کی زندگی کے بارے میں بھی لکھا ہے۔

۱.مقتل الحسین بقلم موفق بن احمد خوارزمی ۲.مقتل جامع سید الشہدا مہدی پیشوایی کی زیر سرپرستی ایک تحقیقی ٹیم کی تحقیق ۳. اللہوف علی قتلی الطفوف تالیف سید بن طاؤس

تاریخی-تحلیلی:

۱.پچاس سال بعد تالیف سید جعفر شہیدی ۲.شہید جاوید بقلم صالحی نجف‌آبادی ۳.حماسہ حسینی تالیف مرتضی مطہری ۴. بررسی تاریخ عاشورا، تألیف محمدابراہیم آیتی

مقالات: امام حسینؑ کی شخصیت اور زندگی کے بارے میں بہت سارے مقالات لکھے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

نوٹ

  1. لہوف میں ذکر ہوا ہے کہ امام حسینؑ نے عراق کی جانب ورانہ ہونے سے پہلے رسول اللہؑ کو (خواب میں) دیکھا اور آنحضرتؐ نے فرمایا:‌«إنَّ اللَّهَ قَدْ شَاءَ أَنْ یَرَاکَ قَتِیلا» یعنی؛ اللہ تعالی تمہیں مقتول دیکھنا چاہا ہے۔(ابن طاوس، لہوف، ۱۳۴۸، ص۶۵.) اسی طرح ایک اور کتاب میں آیا ہے کہ عراق کی سمت روانگی سے پہلے آپؑ نے ایک خطبہ دیا اور فرمایا: میں دیکھ رہا ہوں کہ صحرا کے بھیڑئے نواویس اور کربلا کے درمیان مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہیں۔(اربلی، كشف الغمۃ، ۱۴۲۱، ج۱، ص۵۷۳.)
  2. فَإِنَّهُ مَكْتُوبٌ عَنْ یَمِینِ الْعَرْشِ مِصْبَاحٌ هَادٍ وَ سَفِینَۃُ نَجَاۃ(شیخ صدوق، كمال الدین، ۱۳۹۵، ج۱، ص۲۶۵.) بعد کے منابع میں یہ روایت نقل بہ معنی ہوئی ہے جو اصل روایت سے کچھ فرق کے ساتھ یوں مشہور ہوئی ہے۔ «ان الحسین مصباح الہدی و سفینۃ النجاۃ» معروف شدہ است.

حوالہ جات

  1. شیخ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۸۲۶. مفید، الإرشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷
  2. یوسفی غروی، موسوعہ التاریخ الاسلامی ، ۱۴۱۷، ج۳، ص۱۳۰
  3. المفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۶۶-۱۷۱. ابن شہرآشوب، ۱۳۷۶ق، ج۳، ص۱۴۴
  4. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰، ج۱، ص۲۹-۳۰؛ طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳، ج۱، ص۷۵
  5. ابن حجر عسقلانی، الإصابة، ۱۴۱۵،ج۴، ص۳۷۹.
  6. مجلسی، محمد باقر، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج ۱۰، ص۱۲۱.
  7. ذہبی، تاریخ الإسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام‏، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۴۸۵.
  8. ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۱۶۸.
  9. ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفة الاصحاب، ۱۴۱۲ق، ج‏۳، ص۹۳۹.
  10. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۱۶۵؛
  11. طبرسی،تاج الموالید، ۱۴۲۲ق، ص۸۲.
  12. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷، ج۵، ص۲۵۳: سال ۵۱؛ یعقوبی، تاریخ یعقوبی، دارصادر، ج۲، ص۲۳۱: سال ۵۲؛ مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹، ج۳، ص۱۸۸: سال ۵۳.
  13. ابن شعبہ حرانی، تحف العقول، ۱۴۰۴، ص۶۸
  14. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷، ج۵، ص۳۳۹.
  15. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷، ج۳، ص۱۶۰؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۳۴.
  16. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷، ج۵، ص۳۸۱.
  17. سبط بن الجوزی، تذكرة الخواص، ۱۴۱۸، ص۲۲۰
  18. مسعودی، مروج الذہب، ۱۴۰۹، ج۳، ص۵۴
  19. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۶۶
  20. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۸۴
  21. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۹۰-۹۱.
  22. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۹۵-۱۱۲.
  23. ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق،ج۳، ص۳۹۷؛ اربلی، ابن سعد، الطبقات الكبرى، ج۱۰، ص۲۴۴.
  24. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷؛ احمد ابن حنبل، المسند، دارصادر، ج۱، ص۹۸، ۱۱۸.
  25. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۹۶۸م، ج۶، ص۳۵۷؛ ابن اثیر، اسدالغابہ، بیروت، ج۲، ص۱۰.
  26. ابن منظور، لسان العرب، ۱۴۱۴ق، ج۴، ص۳۹۳؛ زبیدى، تاج العروس، ۱۴۱۴ق، ج۷، ص۴.
  27. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۱۷۱.
  28. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۲۳۹-۲۴۴؛ مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۳۹، ص۶۳.
  29. ری شہری، دانشنامہ امام حسین، ۱۳۸۸، ج۱، ص۱۹۴-۱۹۵.
  30. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۲۷.
  31. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷؛ ابن ابی‌شیبہ، المصنَّف، ۱۴۰۹ق، ج۸، ص۶۵؛ ابن قتیبہ، المعارف، ۱۹۶۰م، ج۱، ص۲۱۳.
  32. محدثی، فرہنگ عاشورا، ۱۳۸۰ش، ص۳۹.
  33. ابن ابی‌الثلج، تاریخ الائمہ، ۱۴۰۶ق، ص۲۸؛ ابن طلحہ شافعی، مطالب السؤول، ۱۴۰۲ق، ج۲، ص۳۷۴؛ القاب کی فہرست کے لیے مراجعہ کریں:ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۸۵ش، ج۴، ص۸۶.
  34. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۸۵ش، ج۴، ص۸۶.
  35. مراجعہ کریں: حِمْیری، قرب الاسناد، ۱۴۱۳ق، ص۹۹ـ۱۰۰؛ ابن قولویہ، کامل الزیارات، ۱۴۱۷ق، ص۲۱۶ـ۲۱۹؛ شیخ طوسی، امالی، ۱۴۱۴ق، ص۴۹ـ ۵۰.
  36. ابن قولویہ، کامل الزیارات، ۱۳۵۶، ص۱۷۶.
  37. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۴۲؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲۷؛ مقریزی، امتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج۶، ص۱۹.
  38. ری شہری، دانشنامہ امام حسین،۱۳۸۸ش، ج۱، ص۴۷۴-۴۷۷.
  39. کلینی، الکافی، ۱۳۶۵ش، ج۱، ص۴۶۳؛ شیخ طوسی، تہذیب الاحکام، ۱۴۰۱ق، ج۶، ص۴۱؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۹۲.
  40. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، بیروت، ج۲، ص۲۴۶؛ دولابی، الذریۃ الطاہرۃ، ۱۴۰۷ق، ص۱۰۲، ۱۲۱؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۹۶۲، ج۲، ص۵۵۵؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۲۷.
  41. ابن المشہدی، المزار[الکبیر]، ۱۴۱۹ق، ص۳۹۷؛ شیخ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱ق، ص۸۲۶، ۸۲۸؛ سید بن طاوس، اقبال الاعمال، ۱۳۶۷ش، ص۶۸۹-۶۹۰.
  42. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۲۷.
  43. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲۹؛ مقریزی، امتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج‏۱۲، ص۲۳۷؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفکر، ج۶، ص۲۳۰.
  44. کلینی، الکافی، ۱۳۶۲ش، ج۱، ص۴۶۵.
  45. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۲۹؛ مقریزی، امتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج‏۱۲، ص۲۳۷؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفکر، ج۶، ص۲۳۰.
  46. سماوی، ابصار العین، ۱۴۱۹ق، ص۹۳.
  47. ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۳۲۳.
  48. احمد بن حنبل، المسند، بیروت، ج۵، ص۳۵۴؛ ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۳۲۲؛ ابن حبان، صحیح، ۱۹۹۳م، ج۱۳، ص۴۰۲؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ۱۴۰۶ق، ج۱، ص۲۸۷.
  49. ابن قولویہ قمى، کامل الزیارات‏، ۱۳۵۶ق، ص۵۰.
  50. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۹۶۸، ج۶، ص۴۰۶ـ۴۰۷؛ شیخ صدوق، عون اخبار الرضا، ۱۳۶۳ش، ج۱، ص۸۵؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۱، ص۱۶۸.
  51. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۳۶۹.
  52. ری شہری، دانشنامہ امام حسین،۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۲۴.
  53. ری شہری، دانشنامہ امام حسین،۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۲۵.
  54. دینوری، ابن قتیبہ؛ الامامہ و السیاسہ، ج1، ص29-30؛ طبرسی، احمد بن علی؛ الاحتجاج، ج1، ص75 و علامہ مجلسی؛ بحارالانوار، ج22، ص328.
  55. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۳۹۴؛ ذہبی، تاریخ الاسلام، ۱۹۹۳م، ج۵، ص۱۰۰؛ ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ۱۳۷۹، ج۴، ص۴۰؛ بغدادی، تاریخ بغداد، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۱۵۲.
  56. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۱۷۵؛ سبط بن جوزى، تذکرۃ الخواص‏، ۱۴۱۸ق، ص۲۱۲.
  57. کلینی، الکافی، ۱۳۶۵ش، ج۸، ص۲۰۶-۲۰۷؛ ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۳۸۵-۱۳۸۷ق، ج۸، ص۲۵۳-۲۵۴.
  58. ابن خلدون، العبر، ۱۴۰۱ق، ج۲، ص۵۷۳-۵۷۴.
  59. طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۷ق. ج۴، ص۲۶۹.
  60. ابن قتیبہ، المعارف، ۱۹۹۲م، ص۵۶۸؛ بلاذری، فتوح البلدان، ۱۹۸۸م، ص۳۲۶؛ مقدسی، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، ج۵، ص۱۹۸.
  61. جعفرمرتضی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن، دارالسیرۃ، ص۱۵۸.
  62. زمانی، حقایق پنہان، ۱۳۸۰ش، ص۱۱۸-۱۱۹.
  63. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسۃ، ۱۴۱۰، ج۱، ص۵۹؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۵، ص۵۵۸.
  64. ری شہری، دانشنامہ امام حسین،۱۳۸۸ش، ج۲، ص۳۳۱-۳۳۲.
  65. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج ۱۰، ص۱۲۱.
  66. شیخ مفید، الجمل، ۱۴۱۳، ص۳۴۸؛ ذہبی، تاریخ الإسلام‏، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۴۸۵.
  67. نصر بن‌مزاحم، وقعۃ الصفین، ۱۳۸۲ق، ص۱۱۴ـ۱۱۵.
  68. ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱، ج۳، ص۲۴؛ ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۱۶۸.
  69. مجلسی، بحار الأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۴، ص۲۶۶.
  70. اربلى، کشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۶۹؛ نہج البلاغہ، تحقیق: صبحی صالح، خطبہ ۲۰۷، ص۳۲۳.
  71. ابن عبد البر، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج‏۳، ص۹۳۹.
  72. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج‏۵، ص۱۴۷.
  73. ابن قتیبہ، الامامہ و السیاسہ، ۱۴۱۰، ج۱، ص۱۸۱؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۱، ص۲۵.
  74. کلینی، الکافی، ۱۳۶۲، ج۳، ص۲۲۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۲، ص۴۹۷-۴۹۸.
  75. کلینی، الکافی، ۱۳۶۲ش،ج۱، ص۲۹۱؛ ابن شہرآشوب‏، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۳، ص۴۰۱.
  76. ابن قتیبۃ دینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۱۸۴.
  77. دینورى، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۲۱.
  78. شیخ طوسی، اختیار معرفۃ الرجال(رجال کشی)، ۱۳۴۸ش، ص۱۱۰.
  79. شیخ طوسی، اختیار معرفۃ الرجال(رجال کشی)، ۱۳۴۸ش، ص۱۱۰.
  80. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۲.
  81. ابن اعثم، الفتوح، ۱۴۱۱، ج۴، ص۲۹۲؛ ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹،ج۴، ص۳۵.
  82. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۱۶۰ ؛ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۶۷.
  83. جعفریان، حیات فکرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۵۷-۱۵۸.
  84. دینورى، الأخبار الطوال، ۱۳۶۸ش، ص۲۲۰.
  85. بلاذری، أنساب الأشراف‏، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۵۰.
  86. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۱۶۵؛ ابن‌ جوزی، المنتظم، ۱۹۹۲م، ج۵، ص۱۸۴.
  87. مُصْعَب بن عبداللّہ، کتاب نسب قریش، ۱۹۵۳م، ج۱، ص۵۷-۵۹؛ بخاری، سرّالسلسلۃ العلویۃ، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۰؛ شیخ مفید، الارشاد، چاپ رسولی محلاتی، ج۲، ص۱۳۵.
  88. طبری، دلائل الامامۃ، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۷۴؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، چاپ رسولی محلاتی، ج۴، ص۷۷؛ ابن طلحہ شافعی، مطالب السؤول، ۱۴۰۲ق، ج۲، ص۶۹.
  89. مطہری در خدمات متقابل اسلام و ایران، ص۱۳۱-۱۳۳؛ شریعتی در تشیع علوی و تشیع صفوی، ص۹۱؛ دہخدا، لغت نامہ؛ جعفر شہیدی در زندگانی علی ابن الحسین(ع)، ص۱۲ و یوسفی غروی، تقی‌زادہ، سعید نفیسی و کریستین ان محققین میں سے ہیں جن کے مختلف نظریے ہیں۔
  90. اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ۱۴۰۵ق، ص۵۹؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳۵
  91. ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، ۱۴۰۸ق، ج۸، ص۲۲۹
  92. مُصْعَب بن عبداللّہ، کتاب نسب قریش، ۱۹۵۳م، ج۱، ص۵۹؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ج۵، ص۴۶۸؛ بخاری، سرّالسلسلۃ العلویۃ، ۱۳۸۱ق، ج۱، ص۳۰
  93. مصعب بن عبداللہ، کتاب نسب قریش، ۱۹۵۳م، ص۵۷؛ یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، بیروت، ج۲، ص۲۴۶ـ۲۴۷؛ طبری، تاریخ طبری، ۱۳۸۲-۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۴۶
  94. مقریزی، امتاع الأسماع، ۱۴۲۰ق، ج‌۶، ص۲۶۹
  95. اصفہانی، کتاب الاغانی، ۱۳۸۳ق، ج۲۱، ص۷۸
  96. اصفہانی، کتاب الاغانی، ۱۳۸۳ق، ج۲۱، ص۷۸
  97. سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، ۱۴۰۱ق، ج۱، ص۲۴۹
  98. مُصْعَب بن عبداللّہ، کتاب نسب قریش، ۱۹۵۳م، ج۱، ص۵۹؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۳۵؛ بیہقی، لباب الأنساب و الألقاب و الأعقاب، ۱۴۱۰ق، ج۱، ص۳۴۹؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، چاپ رسولی محلاتی، ج۴، ص۷۷،۱۱۳
  99. مُصْعَب بن عبداللّہ، کتاب نسب قریش، ۱۹۵۳م، ج۱، ص۵۹؛ شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۱۳۵؛ ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، ج۴، ص۱۰۹.
  100. ابن فندق، لباب الانساب، ۱۳۸۵، ص۳۵۵.
  101. واعظ کاشفی، روضۃ الشہدا، ۱۳۸۲ش، ص۴۸۴.
  102. ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، چاپ رسولی محلاتی، ج۴، ص۱۰۹؛ طبری، دلائل الامامۃ، ۱۴۰۸ق، ج۱، ص۷۴.
  103. ابن طلحہ شافعی، مطالب السؤول، ۱۴۰۲ق، ج۲، ص۶۹.
  104. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۶۲.
  105. ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفکر، ج۵، ص۳۳۸؛ سیوطی، تاریخ الخلفاء، ۱۴۲۵ق، ج۱، ص۱۴۹.
  106. طقوش، دولت امویان، ۱۳۸۹، ص۱۹.
  107. طقوش، دولت امویان، ۱۳۸۹، ص۱۹ بہ نقل از کاندہلوی، حیاۃ الصحابہ، ج ۳، ص۶۳
  108. نصر بن مزاحم، وقعۃ صفين،۱۴۰۳، ص۳۱-۳۲
  109. ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ، ۱۴۱۵، ج۱، ص۶۴؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفکر، ج۶، ص۲۲۰
  110. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۱۴؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفکر، ج۸، ص۱۳۱.
  111. طقوش، دولت امویان، ۱۳۸۹، ص۲۸-۲۹.
  112. طبرسی، الإحتجاج، ۱۴۰۳، ج۲، ص۲۹۵.
  113. ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹، ج۲، ص۳۵۱.
  114. رجوع کریں: شیخ صدوق، الاعتقادات، ص۱۰۴؛ ابن‌بابویہ قمی، الإمامۃ والتبصرہ، ص۱۰۴.
  115. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۰.
  116. کلینی، الکافی،۱۳۶۲، ج۱، ص۲۹۷.
  117. کلینی، الکافی،۱۳۶۲، ج۱، ص۳۰۱.
  118. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۴ق، ج۲، ص۳۱.
  119. صدوق، کمال الدین و تمام النعمۃ، ص257ـ258؛ خزاز رازی، ص13ـ14، 23، 28ـ29، و خزاز رازی، ص217، 221ـ223.
  120. کلینی، الکافی،۱۳۶۲، ج۱، ص۳۰۴.
  121. کلینی، الکافی،۱۳۶۲، ج۱، ص۲۹۱.
  122. شیخ مفید؛ الارشاد، ج2، ص32؛ ابن شہر آشوب؛ مناقب آل ابی طالب، ج4، ص87.
  123. بلاذری، 1996ـ2000، ج2، ص458ـ459؛ مفید، ج2، ص32.
  124. دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸، ص۲۲۲؛ بلاذری، أنساب الأشراف‏، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۵۲.
  125. جعفریان، حیات فكرى و سیاسى ائمہ، ۱۳۸۱ش، ص۱۷۵.
  126. ذہبی، سیر اعلام النبلاء، ۱۹۹۳م، ج۳، ص۲۹۱.
  127. دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸، ص۲۲۴؛ کشّی، رجال الکشی، ۱۳۴۸، ص۴۸.
  128. ابن سعد، البقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۴۴۱؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷، ج۵، ص۳۲۲؛ ابن اعثم کوفی، الفتوح، ۱۹۹۱، ج۴، ص۳۴۹ـ۳۵۰.
  129. دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸، ص۲۲۴-۲۲۵؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۵، ص۱۲۰-۱۲۱؛ ابن قتبیہ، الامامہ والسیاسہ، ج۱، ص۲۰۲-۲۰۴.
  130. ابن سعد، الطبقات الكبرى‏، ۴۱۸ق، ج۱۰، ص۴۴۰؛ شیخ طوسی، اختیار معرفۃ الرجال(رجال کشی)، ۱۳۴۸، ص۵۰؛ ذہبی، تاریخ الإسلام، ۱۴۰۹ق، ج۵، ص۶؛ ابن عساکر، تاریخ مدینۃ الدمشق، ۱۴۱۵، ج۱۴، ص۲۰۶.
  131. طبرسی، الاحتجاج، ۱۴۰۳، ج۲، ص۲۹۶.
  132. یعقوبی، تاریخ‏ الیعقوبى، دار الصادر، ج۲، ص۲۳۱؛ شیخ طوسی، اختیار معرفۃ الرجال(رجال کشی)، ۱۳۴۸، ص۴۸؛ اربلی، كشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، ۱۴۲۱، ج۱، ص۵۷۴.
  133. ابن كثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفكر، ج۸، ص۷۹.
  134. ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰، ج۱، ص۲۰۴.
  135. ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰، ج۱، ص۲۰۸-۲۰۹.
  136. ابن قتیبہ، الامامۃ و السیاسۃ، ۱۴۱۰، ج۱، ص۲۱۱.
  137. ابن شعبہ حرانی، تحف العقول، ۱۴۰۴، ص۶۸
  138. گروہی از تاریخ‌پژوہان، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہداء، ۱۳۸۹، ج۱، ص۳۹۲.
  139. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۵۵؛ مفید، الارشاد، ۱۳۹۹، ج۲، ص۳۲.
  140. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷، ج۵، ص۳۳۸.
  141. ابومخنف، مقتل‌الحسین، مطبعۃ العلمیہ، ص۵؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۳۳.
  142. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۶۰؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۳۴.
  143. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۵۶؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۶.
  144. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۶۶.
  145. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۵۷-۱۵۹؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۳۶-۳۸.
  146. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۴۱.
  147. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷، ج۳، ص۱۶۰؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۶۶.
  148. ابن سعد، الطبقات الكبرى، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۴۵۰؛ ابن کثیر، البدایۃ و النہایۃ، دار الفكر، ج۸، ص۱۵۹ و ۱۶۱.
  149. راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، ص244-246.
  150. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۰۸، مسکویہ، تجارب الامم، ۱۳۷۹، ج۲، ص۶۷؛ ابن اثیر، الکامل، ۱۹۶۵، ج۴، ص۵۱.
  151. ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ۱۹۹۱م، ج۵، ص۸۳؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۰۹؛ شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۸۴؛ ابن مسکویہ، تجارب الامم، ۱۳۷۹، ج۲، ص۶۸.
  152. دینوری، الاخبار الطوال، ۱۳۶۸، ص۲۵۳؛ بلاذری، انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۶؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۰۹؛ ابن اثیر، الکامل، ۱۹۶۵م، ج۴، ص۵۲.
  153. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۱۴؛ ابن‌ مسکویہ، تجارب‌الامم، ۱۳۷۹، ج۲، ص۷۱.
  154. بلاذری، انساب‌الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۸۲؛ طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۱۴؛ مفید، الارشاد، ۱۳۹۹، ج۲، ص۸۹.
  155. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۱۷؛ مفید، الارشاد، ۱۳۹۹، ج۲، ص۹۱.
  156. شیخ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۱-۹۴.
  157. طبری، تاریخ الأمم و الملوک،۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۲۹-۴۳۰.
  158. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۲۷؛ شیخ مفید، الارشاد،۱۴۱۳ق، ج۲، ص۹۹.
  159. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۴۶؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفہ،‌ ص۸۰.
  160. مفید، الارشاد، ۱۳۹۹، ج۲، ص۱۱۲؛ خوارزمی، مقتل‌الحسین(ع)، ۱۴۲۳ق، ج۲، ص۴۱؛ طبرسی، اعلام‌الوری، ۱۳۹۰، ج۱، ص۴۶۹.
  161. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷، ج۵، ص۴۵۰-۴۵۳؛ ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۹۶۸، ج۶، ص۴۴۱؛ ابوالفرج اصفہانی، مقاتل‌الطالبین، دار المعرفۃ، ص۱۱۸؛ مسعودی، مروج‌الذہب، ۱۴۰۹ق، ج۳، ص۶۲؛ مفید، الارشاد، ۱۳۹۹، ج۲، ص۱۱۲.
  162. بلاذری، انساب‌الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۴۱۱؛ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۵۶.
  163. الارشاد، المفید ، ج‏۲، ص۱۱۳، بلاذری، انساب‌الاشراف، ج۳، ص۲۰۴؛ طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۵۵؛ مسعودی، مروج‌الذہب، ج۳، ص۲۵۹.
  164. طبری، تاریخ‌ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۵۶.
  165. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷، ج۵، ص۴۵۵
  166. طبری، تاریخ الأمم و الملوک، ۱۳۸۷ق، ج۵، ص۴۵۵.
  167. مقرم، مقتل الحسین، ۱۴۲۶ق، ص۳۳۵-۳۳۶.
  168. اشتہاردی، ہفت سالہ چرا صدا درآورد؟، ۱۳۹۱، ص۱۵۴.
  169. سید مرتضی، تنزیہ الانبیاء، ۱۴۰۹ق، ص۲۲۷-۲۲۸.
  170. صالحی نجف‌آبادی، شہید جاوید، ۱۳۸۷، ص۱۵۷-۱۵۸.
  171. صحتی سردرودی، ۱۳۸۵، ص۲۹۶-۲۹۹.
  172. طبری، تاریخ الامم و الملوک، ۱۳۸۷، ج۵، ص۴۵۸-۴۵۹؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳ق، ج۲، ص۱۱۷.
  173. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۹، ص۳۱۷.
  174. امام خمینی، صحیفہ نور، ۱۳۷۹، ج۱۷، ص۵۸.
  175. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۴۲، ۴۵۳؛ شیخ مفید، ۱۴۱۳، ج۲، ص۲۷؛ طبرانی، المعجم الکبیر، دارالنشر، ج۳، ص۹۵.
  176. احمد بن حنبل، المسند، دارصادر، ج۳، ص۲۶۱؛ ترمذی، سنن الترمذی، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۳۲۵.
  177. طبرانی، المعجم الکبیر، دارالنشر، ج۳، ص۱۰۱.
  178. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۶، ص۴۱۹-۴۲۲؛ ابن ابی‌شیبہ، المصنَّف، ۱۴۰۹ق، ج۶، ص۳، ۱۵.
  179. بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۷؛ مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۲۷.
  180. انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۱۴۲؛ ابن سعد، الطبقات الکبرى، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۳۸۵.
  181. احمد ہبن حنبل، المسند، دار صادر، ج۲، ص۴۴۰؛ حاکم نیشابوری، المستدرک، ۱۴۰۶ق، ج۳، ص۱۶۶؛ ترمذی، سنن ترمذی، ۱۴۰۳ق، ج۵، ص۳۲۴.
  182. مسلم، صحیح مسلم، ۱۴۲۳ق، ج۱۵، ص۱۹۰؛ کلینی،الکافی،۱۳۶۳، ج‏۱، ص۲۸۷.
  183. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۱، ص۱۶۸.
  184. زمخشری، الکشاف، ۱۴۱۵ ق، ذیل آیہ ۶۱ آل عمران؛ فخر رازی، التفسیر الکبیر، ۱۴۰۵ق، ذیل آیہ ۶۱ سورہ آل عمران.
  185. احمد بن حنبل، مسند احمد، دارصادر، ج ۱، ص۳۳۱؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۷۹۹؛ شوکانی، فتح القدیر، عالم الکتب، ج۴، ص۲۷۹.
  186. یعقوبی، تاریخ الیعقوبی، دار صادر، ج۲، ص۲۲۶؛ ابن سعد، الطبقات الکبری،۱۴۱۸، ج۱۰، ص۳۶۳.
  187. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۴۱۴ـ۴۱۶.
  188. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۳۹۵؛ ابن ابی‌شیبہ، المصنَّف، ۱۴۰۹ق، ج۷، ص۲۶۹.
  189. ری شہری، دانشنامہ امام حسین، ۱۳۸۸ش، ج۳، ص۱۶۶-۳.۱۷
  190. کلینی، الكافى،۱۳۶۲، ج۱، ص۵۲۸؛ شیخ طوسی، الغیبۃ، ۱۴۱۱، ص۱۴۵.
  191. مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۴، ص۲۲۳-۲۴۹.
  192. منقری، وقعۃ صفین، ۱۴۰۳، ص۱۴۲.
  193. کلینی، الکافی، ۱۳۶۲، ج۱، ص۴۶۵.
  194. ابن قولویہ، كامل الزیارات، ۱۳۵۶، ص۶۶.
  195. ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹ق، ج۴، ص۸۲؛ مجلسی، بحارالأنوار، ۱۳۶۳ش، ج۹۸، ص۶۹.
  196. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸ق، ج۱۰، ص۴۱۱؛ ابن عساكر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۱۸۱.
  197. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۱۴، ص۱۸۵.
  198. ابن عساکر، تاریخ مدینۃ دمشق، ۱۴۱۵ق، ج۷۰، ص۱۹۶ـ۱۹۷؛ اس جیسے دیگر موارد کے لیے مراجعہ کریں: ابن حزم، المُحَلّی، دارالفکر، ج۸، ص۵۱۵؛ اربلی، کشف الغمہ، ۱۴۲۶ق، ج۲، ص۴۷۶.
  199. اربلی، كشف الغمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۷۵.
  200. ری شہری، دانشنامہ امام حسین، ۱۳۸۸، ج۲، ص۱۱۴-۱۱۸.
  201. شیخ صدوق، الخصال، ۱۴۰۳ق، ج۱، ص۱۳۵.
  202. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۴۰۱؛ ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۹۷.
  203. مراجعہ کریں: «عزاداری ماہ محرم در کشورہای جنوب شرقی آسیا برگزار می‌شود»؛ «آداب و رسوم مردم شہرہای مختلف ایران در ماہ محرم».
  204. بلاذری، انساب‌الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۲۰۶.
  205. مجلسی، بحار الانوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۵، ص۱۹۶.
  206. آئینہ‌وند، سنت عزاداری و منقبت‌خوانی، ۱۳۸۶ش، ص۶۵-۶۶ بہ نقل از ابن‌کثیر، البدایہ و النهایہ، ج۱۱، ص۱۸۳؛ ابن جوزی، المنتظم، ۱۹۹۲م، ج۷، ص۱۵.
  207. مجلسی، بحار الانوار، ۱۳۶۳ش، ج۴۴، باب۳۴، ص۲۷۸-۲۹۶.
  208. جامع زیارات المعصومین، ۱۳۸۹، ج۳، ص۳۶-۶۹.
  209. ابن قولویہ، کامل الزیارات، ۱۳۵۶، ص۱۵۸-۱۶۱.
  210. شیخ طوسی، مصباح المتہجد، ۱۴۱۱، ص۷۸۷.
  211. ابن طاووس، اللہوف، ۱۴۱۴ق، ص۲۲۵.
  212. خبرگزاری ابنا
  213. رمز و راز آن پرچم سرخ - مرکز ملی پاسخگویی
  214. طباطبائی یزدی، العروۃ الوثقی، ۱۴۰۴ق، ج۲، ص۱۶۴.
  215. کلیدار، تاریخ کربلاء و حائرالحسین(ع)، ۱۳۷۶، ص۵۱ـ۵۲ و ۵۸ـ۶۰.
  216. آل طعمہ، کربلا و حرم‌ہای مطہر، مشعر، ص۸۹-۱۱۲
  217. ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، دارالمعرفۃ، ص۴۷۷.
  218. نگاهی نو بہ جریان عاشورا، ۱۳۸۷ش، ص۴۲۵.
  219. شیخ طوسی، الامالی، ۱۴۱۴ق، ص۳۲۷؛ ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹، ج۲، ص۲۱۱.
  220. ابن سعد، الطبقات الکبری، ۱۴۱۸، ج۱۰، ص۳۷۶-۴۱۰؛ بلاذری، انساب الاشراف، ۱۴۱۷ق، ج۳، ص۷؛ مسلم، صحیح مسلم، ۱۴۲۳ق، ج۱۵، ص۱۹۰؛ ابن کثیر، تفسیر القرآن، ۱۴۱۹ق، ج۳، ص۷۹۹؛ مراجعہ کریں حسینی شاهرودی، «امام حسین (ع) و عاشورا از دیدگاه اهل سنت» و ایوب، م، ترجمہ قاسمی، «فضایل امام حسین علیه السلام در احادیث اہل سنت»
  221. ایوب، م، ترجمہ قاسمی، «فضایل امام حسین علیہ السلام در احادیث اہل سنت»
  222. ابوبکر ابن عربی، العواصم من القواصم، المکتبۃ السلفیۃ، ص۲۳۲.
  223. ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ، ۱۴۰۶ق، ج۴، ص۵۳۰-۵۳۱.
  224. ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، دار احیاء التراث العربی، ج۱، ص۲۱۷.
  225. ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، دار احیاء التراث العربی، ج۱، ص۲۱۶.
  226. آلوسی، روح المعانی، ۱۴۱۵ق، ج۱۳، ص۲۲۸.
  227. عقاد، ابوالشهداء، ۱۴۲۹ق، ص۲۰۷.
  228. عقاد، ابوالشهداء، ۱۴۲۹ق، ص۱۴۱.
  229. طہ حسین، علی و بنوہ، دارالمعارف، ص۲۳۹.
  230. فروخ، تجدید فی المسلمین لا فی الإسلام، دار الكتاب العربی، ص۱۵۲.
  231. ناصری داودی، انقلاب کربلا از دیدگاه اهل سنت، ۱۳۸۵، ص۲۸۷-۳۱۹.
  232. موسوعۃ کلمات الامام الحسین، مقدمہ، صفحہ ز.
  233. مجلسی، بحارالانوار، ۱۳۶۳ش، ج۹۵، ص۲۱۴.
  234. کرباسی، دائرۃ المعارف الحسینیۃ، دیوان الامام الحسین، ۲۰۰۱م. ج۱ و ۲.
  235. ابن شعبہ، تحف العقول، ۱۴۰۴ق، ص۲۳۷-۲۴۰.
  236. مفید، الارشاد، ۱۴۱۳، ج۲، ص۹۷-۹۸.
  237. خوارزمی، مقتل الحسین، ۱۴۲۳، ج۱، ص۲۷۳.
  238. میانجی، مکاتیب الائمۃ، ۱۴۲۶ق، ج۳، ص۸۳-۱۵۶.
  239. اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۹۲.
  240. ابن شعبہ، تحف العقول، ۱۴۰۴، ص۲۴۵.
  241. اربلی، کشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، ۱۴۲۱ق، ج۱، ص۵۷۳.
  242. ابن شہرآشوب، المناقب، ۱۳۷۹، ج۴، ص۶۸.
  243. خوارزمی، مقتل الحسین، ۱۴۲۳ق، ج۱، ص۲۷۳.
  244. ابن شعبہ، تحف العقول، ۱۴۰۴، ص۲۴۸.
  245. اسفندیاری، «کتابشناسی کتابشناسی‌ہای امام حسین(ع)» ۱۳۷۹، ص۴۱.
  246. صفر علی‌پور، کتابشناسی اختصاصی امام حسین، ۱۳۸۱، ص۲۵۵.
  247. اسفندیاری، کتابشناسی تاریخی امام حسین(ع)، ۱۳۸۰، ص۴۹۱.
  248. آشنایی با دائرۃ المعارف حسینی .
  249. صاحبی، مقتل و مقتل‌نگاران، ۱۳۷۳ش، ص۳۱.

مآخذ

  • ابن ابی‌الثلج، تاریخ الائمہ، در مجموعہ نفیسہ فی تاریخ الائمہ، چاپ محمود مرعشی، قم، کتابخانہ آیت اللہ مرعشی نجفی، ۱۴۰۶ق.
  • ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، چاپ محمد ابوالفضل ابراہیم، قاہرہ، ۱۳۸۵-۱۳۸۷ق.
  • ابن ابی‌شیبہ، المصنَّف فی الاحادیث و الآثار، چاپ سعید محمد لحّام، بیروت، ۱۴۰۹ق.
  • ابن اثیر، علی بن ابی‌الکرم، اسد الغابہ فی معرفہ الصحابہ، بیروت، دارالکتاب العربی، بی‌تا.
  • ابن اثیر، علی بن ابی‌الکرم، الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر-داربیروت، ۱۹۶۵م.
  • ابن اعثم، احمد، الفتوح، بیروت، دارالاضواء، ۱۴۱۱ق.
  • ابن‌ بابویہ قمی، ابوالحسن بن علی‌(متوفای ۳۲۹)، الامامۃ والتبصرۃ من الحیرہ، تحقیق: علی‌اکبر غفاری، دارالکتب الاسلامیہ، تہران، ۱۳۶۳ش.
  • ابن تیمیہ، منہاج السنۃ النبویۃ، تحقیق: محمد رشاد سالم، جامعۃ الإمام محمد بن سعود الإسلامیۃ، ۱۴۰۶ق.
  • ابن جوزی، عبدالرحمن بن علی، المنتظم فی تاریخ طبری، تحقیق محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت، دارالکہتب العلمیہ، ۱۹۹۲.
  • ابن حبان، صحیح ابن حبان، تحقیق: شعیب ارنؤوط، بی‌جا، الرسالہ، ۱۹۹۳م.
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ في تمييز الصحابۃ، بیروت، دار الكتب العلميۃ، ۱۴۱۵ق.
  • ابن حجر عسقلانی، الاصابۃ فی تمییز الصحابہ، تحقیق عادل احمد عبدالموجود و علی محمد معوض، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۹۹۵م.
  • ابن حزم،‌ المُۃلّی، تحقیق: محمد شاکر، بیروت، دارالفکر، بی‌تا.
  • ابن خلدون، تاریخ ابن خلدون، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۱ق و دار احیاء التراث العربی، چہارم.
  • ابن سعد، الطبقات الکبری، چاپ احسان عباس، بیروت، ۱۹۶۸-۱۹۷۷.
  • ابن سعد، الطبقات الكبرى‏، بیروت، دار الكتب العلمیۃ، دوم‏، ۱۴۱۸ق.
  • ابن شعبہ حرانی، حسن بن علی، تحف العقول، قم، جامعہ مدرسین‏، ۱۴۰۴ق.
  • ابن شہر آشوب، مناقب آل ابی‌طالب، قم، چاپ ہاشم رسولی محلاتی، بی تا.
  • ابن شہرآشوب‏، المناقب، قم، علامہ‏، ۱۳۷۹ق.
  • ابن شہرآشوب، مناقب آل ابی‌طالب، قم، چاپ یوسف بقاعى، ۱۳۸۵ش.
  • ابن طلحہ شافعی، مطالب السؤول فی مناقب ال الرسول، چاپ ماجد بن احمد عطیہ، بی‌جا، بی‌تا.
  • ابن عبد البر، الاستیعاب فى معرفۃ الاصحاب، تحقیق على محمد البجاوى، بیروت، دار الجیل، اول، ۱۴۱۲ق.
  • ابن عساكر، تاریخ مدینۃ دمشق‏، بیروت‏، دار الفكر، اوّل‏، ۱۴۱۵ق.
  • ابن فندق بیہقی، علی بن زید، لباب الانساب و الالقاب و الاعقاب، تحقق، مہدی رجائی، مکتبۃ آیت اللہ المرعشی، قم، ۱۳۸۵.
  • ابن فندق، بیہقی، علی بن زید، لباب الأنساب و الألقاب و الأعقاب، چاپ مہدی رجائی، قم ۱۴۱۰ق.
  • ابن قتیبۃ دینوری، الإمامۃ و السیاسۃ، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، اول، ۱۴۱۰ق.
  • ابن قتیبہ دینوری، المعارف، تحقیق ثروت عکاشہ، قاہرہ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، ۱۹۶۰.
  • ابن قتیبہ، المعارف، قاہرہ، الہیئۃ المصریۃ العامۃ للکتاب، دوم، ۱۹۹۲م.
  • ابن قولویہ،‌ جعفر بن محمد، کامل الزیارات، چاپ جواد قیومی اصفہانی، قم، ۱۴۱۷ق.
  • ابن قولویہ، جعفر بن محمد، كامل الزیارات‏، نجف، دار المرتضویۃ، ۱۳۵۶ق.
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت،‌ دار احیاء التراث العربی، ۱۴۰۸ق.
  • ابن كثیر، اسماعیل بن عمر، البدایۃ و النہایۃ، بیروت، دار الفكر، بى‌تا.
  • ابن کثیر، اسماعیل بن عمر، تفسیر القرآن العظیم، بیروت، دارالکتب العلمیۃ، ۱۴۱۹ق.
  • ابن مشہدی، محمد بن جعفر، المزار [الکبیر]، تحقیق: جواد القیومی الاصفہانی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی، ۱۴۱۹ق.
  • ابن منظور، لسان العرب‏، بیروت‏، دار صادر، ۱۴۱۴ق.
  • ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، تحقیق سید احمد صقر، بیروت، دارالمعرفۃ، بی‌تا.
  • ابوبکر ابن عربی، العواصم من القواصم، قاہرۃ، المکتبۃ السلفیۃ، بی تا.
  • ابومخنف، مقتل الحسین(ع)، تحقیق و تعلیق حسین الغفاری، قم، مطبعۃ العلمیہ، بی‌تا.
  • احمد بن حنبل، مسند احمد، بیروت، دار صادر، بی‌تا.
  • احمدی میانجی، علی، مکاتیب الائمۃ، آیت اللہ احمدى میانجى‏، قم، دار الحدیث‏، ۱۴۲۶ق.
  • اربلى، علی بن عیسی، کشف الغمۃ فى معرفۃ الائمۃ علیہم‌السلام، چاپ على فاضلى، قم، ۱۴۲۶ق.
  • اربلى، علی بن عیسی، كشف الغمۃ فی معرفۃ الأئمۃ، قم، رضى‏، اول، ۱۴۲۱ق.
  • اسفندیاری، محمد «کتابشناسی کتابشناسی‌ہای امام حسین(ع)»، فصلنامہ کتاب‌ہای اسلامی، زمستان ۱۳۷۹، شمارہ۳.
  • اسفندیاری، محمد، کتابشناسی تاریخی امام حسین(ع)، تہران، سازمان چاپ و انتشارات، ۱۳۸۰ش.
  • اشتہاردی، علی‌پناہ، ہفت سالہ چرا صدا درآورد؟ چاپ اول، قم، انتشارات علامہ، ۱۳۹۱ش.
  • اصفہانی، ابوالفرج، کتاب الاغانی، قاہرہ، ۱۳۸۳ق.
  • اصفہانی، ابوالفرج، مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی‌تا.
  • آل طعمہ، سلمان ہادی، کربلا و حرمہای مطہر، تہران، مشعر، بی‌تا.
  • آلوسی، روح المعانی، تحقیق: علی عبد الباری عطیۃ، بیروت، دار الكتب العلمیۃ، ۱۴۱۵ق.
  • آئینہ‌وند، صادق و ولایتی، علی اکبر، سنت عزاداری و منقبت‌خوانی در تاریخ شیعہ امامیہ (چاپ دوم)، با مقدمہ محمد تقی‌زادہ داوری، قم، موسسہ شیعہ‌شناسی، ۱۳۸۶ش.
  • بخاری، سہل بن عبداللّہ، سرّالسلسلۃ العلویۃ، چاپ محمدصادق بحرالعلوم، نجف، ۱۳۸۱ق.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، بیروت، مؤسسہ الاعلمی للمطبوعات.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: احسان عباس، بیروت، جمیعۃ المتشرقین الامانیہ، ۱۹۷۹م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، تحقیق: محمود فردوس العظم، دمشق، ۱۹۹۶-۲۰۰۰م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، انساب الاشراف، ج۳ و ۱، تحقیق: محمدباقر محمودی، بیروت، دارالتعارف، چاپ اول، ۱۹۷۷م.
  • بلاذری، احمد بن یحیی، فتوح البلدان، بیروت، مکتبۃ الہلال، ۱۹۸۸م.
  • بلاذرى‏، احمد بن یحیى، أنساب الأشراف‏، تحقیق: سہیل زکار و ریاض زرکلی ، بیروت‏، دار الفكر، ۱۴۱۷ق.
  • ترمذی، محمد بن عیسی، سنن ترمذی، ج۵، تحقیق: عبدالرحمن محمد عثمان، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۳ق.
  • جامع زیارات المعصومین، گردآوری مؤسسۃ الامام الہادی(ع)، قم، پیام امام ہادی(ع)، ۱۳۸۹ش.
  • جعفریان‏، رسول، حیات فكرى و سیاسى ائمہ‏، قم‏، انصاریان‏، ششم‏، ۱۳۸۱ش.
  • جمعی از نویسندگان، نگاہی نو بہ جریان عاشورا، قم، دفتر تبلیغات اسلامی (بوستان کتاب)، چاپ ششم، ۱۳۸۷ش.
  • حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، تحقیق یوسف عبدالرحمن المرعشی، بیروت، ۱۴۰۶ق.
  • حرانی، حسن بن شعبہ، تحف العقول، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۴ق.
  • حسین، طہ، علیّ و بنوہ، قاہرہ، دارالمعارف، بی‌تا.
  • حمیرى، عبداللّہ‌ بن جعفر، قرب الاسناد، قم، ۱۴۱۳ق.
  • خطیب بغدادی، تاریخ بغداد، ج۱، بیروت، دارالکتب العلمیہ، ۱۴۱۲ق.
  • خوارزمی، موفق بن احمد، مقتل الحسین(ع)، قم‏، انوار الہدى‏، دوم، ۱۴۲۳ق.
  • دانشنامہ امام حسین(ع)، محمدی ری شہری و...، ج۱۰، مترجم، محمد مرادی، قم، دارالحدیث، ۱۴۳۰ق/۱۳۸۸ش.
  • طبری، محمد بن جریر، دلائل الامامۃ، بیروت، مؤسسۃ الاعلمى للمطبوعات، ۱۴۰۸ق/۱۹۸۸م.
  • دولابی، محمد بن احمد، الذریۃ الطاہرۃ، چاپ محمدجواد حسینی جلالی، قم، ۱۴۰۷ق.
  • دہخدا، علی‌اکبر، لغت‌نامہ دہخدا، ج۶، تہران، ۱۳۷۷ش.
  • دینوری، احمد بن داوود، الاخبار الطوال، تحقیق عبدالمنعم عامر مراجعہ جمال الدین شیال، قم، منشورات رضی، ۱۳۶۸ش.
  • ذہبی، شمس‌الدین، تاریخ الإسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام‏، بیروت‏، دار الكتاب العربى‏، دوم‏، ۱۴۰۹ق.
  • ذہبی، شمس‌الدین، تاریخ الاسلام و وفیات المشاہیر و الأعلام، ج۵، تحقیق عمر عبدالسلام تدمری، بیروت، دارالکتاب العربی، ۱۹۹۳م.
  • ذہبی، شمس‌الدین، سیر اعلام النبلاء، ج۳، تخریج شعیب ارنؤوط و تحقیق حسین اسد، بیروت، الرسالہ، چاپ نہم، ۱۹۹۳م.
  • زبیدى واسطى‏، مرتضى حسینى، تاج العروس من جواہر القاموس‏، بیروت‏، دار الفكر،۱۴۱۴ق.
  • زمانی، احمد، حقایق پنہان، پژوہشی در زندگانی سیاسی امام حسن مجتبی، قم، سوم، انتشارات دفتر تبلیغات اسلامی، ۱۳۸۰ش.
  • زمخشری، محمود، الکشاف عن حقائق غوامض التنزیل، قم، نشر البلاغہ، الطبعۃ الثانیۃ، ۱۴۱۵ق.
  • سبط ابن جوزی، تذکرۃ الخواص، بیروت، ۱۴۰۱ق-۱۹۸۱م.
  • سبط بن جوزى، تذكرۃ الخواص‏، قم، منشورات الشریف الرضى‏، اوّل‏، ۱۴۱۸ق.
  • سماوی، محمد بن طاہر، إبصار العین فی أنصار الحسین علیہ السلام‏، قم، دانشگاہ شہید محلاتى‏، اوّل‏، ۱۴۱۹ق.
  • سید بن طاوس، علی بن موسی، اقبال الاعمال، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۷ش.
  • سید بن طاوس، علی بن موسی، الطرائف، قم، خیام، ۱۴۰۰ق.
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، الملہوف علی قتلی الطفوف، تہران، جہان، ۱۳۴۸ش.
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، الملہوف علی قتلی الطفوف، قم، اسوہ، ۱۴۱۴ق.
  • سید رضى‏، نہج البلاغۃ، تحقیق صبحی صالح، قم، ہجرت‏، ۱۴۱۴ق.
  • سید مرتضی، علی بن حسین، تنزیہ الانبیاء، بیروت، دوم، دارالاضواء، ۱۴۰۹ق.
  • سیوطی، جلال الدین، تاریخ الخلفاء، مكتبۃ نزار مصطفى الباز، ۱۴۲۵ق.
  • شریعتی علی، تشیع علوی و تشیع صفوی، تہران، چاپخش، ۱۳۷۷.
  • شوکانی، فتح القدیر، بیروت، عالم الکتب، بی‌تا.
  • شہیدی، سید جعفر، تاریخ تحلیلی اسلام، تہران، مرکز نشر دانشگاہی، ۱۳۹۰.
  • شہیدی، سید جعفر، زندگانی علی بن الحسین، تہران، دفتر نشر فرہنگ، ۱۳۶۵ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ، الخصال، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۰۳ق.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی بن حسین بن موسی بن بابویہ، عیون اخبار الرضا، چاپ مہدى لاجوردى، قم ۱۳۶۳ش.
  • شیخ صدوق، محمد بن علی، کمال الدین و تمام النعمۃ، تہران، اسلاميۃ، دوم، ۱۳۹۵ش.
  • شیخ طوسی، الغیبۃ، قم، دار المعارف الإسلامیۃ، ۱۴۱۱ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الامالی، قم، دارالثقافہ، ۱۴۱۴ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، تہذیب الاحکام، چاپ حسن موسوی خرسان، بیروت، ۱۴۰۱ق.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، مصباح المتہجد، بیروت، مؤسسہ فقہ الشیعہ، ۱۴۱۱ق.
  • شیخ مفید، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ على العباد، قم، كنگرہ شیخ مفید، اول، ۱۴۱۳ق.
  • شیخ مفید، محمد بن‌ نعمان، الارشاد فی معرفۃ حجج اللہ علی العباد، بیروت، ۱۴۱۴ق.
  • شیخ مفید، محمد بن‌ نعمان، المقنعہ، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • شیخ مفید، محمد بن‌ نعمان، مسار الشیعۃ، قم، کنگرہ شیخ مفید، ۱۴۱۳ق.
  • شیخ مفید، محمد بن‌ نعمان، الجمل و النصرۃ لسيد العترۃ في حرب البصرۃ، قم، كنگرہ شيخ مفيد، ۱۴۱۳ق.
  • صاحبی، محمدجواد، «مقتل و مقتل نگاران»، مجلہ کیہان فرہنگی، شمارہ ۱۱۱، تیر ۱۳۷۳.
  • صفر علی‌پور، حشمت اللہ، کتابشناسی اختصاصی امام حسین، قم، یاقوت، ۱۳۸۱ش.
  • طباطبایی یزدی، سید محمدکاظم، العروۃ الوثقی، بیروت، ۱۴۰۴ق.
  • طبرانی، سلیمان بن احمد، المعجم الکبیر، تحقیق: حمدی عبدالمجید السلفی، بی‌جا،‌ دار احیاء التراث العربی، بی‌تا و قاہرہ، دوم، دار النشر، مكتبۃ ابن تیمیۃ، بی‌تا.
  • طبرسی، احمد بن على، الاحتجاج على أہل اللجاج‏، مشہد، مرتضى‏، ۱۴۰۳ش و نجف، چاپ محمدباقر موسوى خرسان، ۱۳۸۶ق.
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، ۱۳۹۰ق.
  • طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، بیروت‏، دوم، دار التراث‏، ۱۳۸۷ق.
  • طقوش، محمد سہیل، دولت امویان، ترجمہ حجت اللہ جودکی، قم، پنجم، پژوہشگاہ حوزہ و دانشگاہ، ۱۳۸۹ش.
  • طوسی، اختیار معرفۃ الرجال(رجال الكشی)، مشہد، دانشگاہ مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • عاملی، جعفر مرتضی، الحیاۃ السیاسیۃ للامام الحسن، بیروت، دارالسیرہ، بی‌تا.
  • عاملی، محمد بن مکی (شہید اول)، الدروس الشرعیہ فی فقہ الامامیہ، ج۲، قم، جامعہ مدرسین، ۱۴۱۷ق.
  • عقاد، عباس محمود، ابوالشہداء الحسین بن علی، تہران، المجمع العالمی للتقریب، دوم، ۱۴۲۹ق.
  • فخر رازی، محمد بن‌ عمر، التفسیر الکبیر، بیروت، دارالفکر، ۱۴۰۵ق.
  • فروخ، عمر، تجدید فی المسلمین لا فی الإسلام، بیروت، دار الكتاب العربی، بی‌تا.
  • قاضی طباطبایی، سید محمدعلی، تحقیق دربارہ اول اربعین حضرت سیدالشہدا(ع)، بنیاد علمی و فرہنگی شیہد آیت اللہ قاضی طباطبایی، قم، ۱۳۶۸ش.
  • کاشفی سبزواری، ملا حسین، روضۃ الشہدا، نوید اسلام، قم، ۱۳۸۲ش.
  • کرباسی، دائرۃ المعارف الحسینیۃ، دیوان الامام الحسین، لندن، المرکز الحسینی للدراسات، ۲۰۰۱م.
  • کشی، محمد بن عمر، رجال الکشی، مشہد، دانشگاہ مشہد، ۱۳۴۸ش.
  • کلیدار، عبدالجواد، تاریخ کربلاء و حائر الحسین علیہ السلام، نجف، [بی‌تا]، چاپ افست قم، ۱۳۷۶ش.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تہران، دارالکتب الاسلامیہ، ۱۳۶۵ش.
  • کوفی، ابن اعثم، الفتوح، تحقیق: علی شیری، بیروت،‌ دار الأضواء، چاپ اول، ۱۹۹۱م.
  • كلینی، محمد بن یعقوب، الكافى‏، تہران، اسلامیۃ، دوم‏، ۱۳۶۲ش.
  • گروہی از تاریخ‌پژوہان، تاریخ قیام و مقتل جامع سیدالشہداء علیہ‌السلام، زیر نظر مہدی پیشوایی، چ۱، قم، انتشارات مؤسسہ آموزشی و پژوہشی امام خمینی، ۱۳۸۹ش.
  • مالک بن انس، الموطأ، ج۲، تحقیق: محمد فؤاد عبدالباقی، بیروت،‌دار احیاء التراث العربی، ۱۹۸۵.
  • مجلسی، محمدباقر، بحار الانوار، بیروت، ۱۴۰۳ق.
  • مجلسى‏، محمدباقر، بحار الأنوار الجامعۃ لدرر أخبار الأئمۃ الأطہار، تہران، اسلامیۃ، دوم، ۱۳۶۳ش.
  • محدثی، جواد، فرہنگ عاشورا، قم، نشر معرف، ۱۳۸۰ش.
  • مزی، تہدیب الکمال، تحقیق: بشار عواد معروف، ج۶، بیروت-لبنان، مؤسسۃ الرسالہ، ۱۹۸۵م.
  • مسعودی، اثبات الوصیہ، منشورات الرضی، قم.
  • مسعودی، علی بن الحسین، التنبیہ و الاشراف، تصحیح: عبداللہ اسماعیل الصاوی، قاہرہ،‌ دار الصاوی، بی‌تا؛ افست قم،‌ دار الثقافۃ الاسلامیہ، بی‌تا.
  • مسعودی، علی بن الحسین، مروج الذہب و معادن الجوہر، تحقیق: اسعد داغر، قم، دارالہجرہ، ۱۴۰۹ق.
  • مسکویہ، ابوعلی، تجارب الامم، ج۲، تحقیق: ابوالقاسم امامی، تہران، سروش، ۱۳۷۹ش.
  • مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، بیروت، دارالمعرفہ، ۱۴۲۳ق.
  • مُصْعَب بن عبداللّہ، کتاب نسب قریش، چاپ لوی پرووانسال، قاہرہ ۱۹۵۳م.
  • مطہری، مرتضی، خدمات متقابل اسلام و ایران، مرتضی مطہری، تہران، نشر صدرا، ۱۳۸۰ش.
  • مقدسی، مطہر بن طاہر، البدء و التاریخ، مکتبۃ الثقافۃ الدینیۃ، بی‌تا
  • مقریزی، تقى‌الدین، إمتاع الأسماع بما للنبی من الأحوال و الأموال و الحفدۃ و المتاع‏، بیروت، دار الكتب العلمیۃ، اوّل‏، ۱۴۲۰ق.
  • منقری، نصر بن مزاحم، وقعۃ صفین‏، قم، مكتبۃ آیۃ اللہ المرعشى النجفى‏، دوم، ۱۴۰۳ق.
  • موسوعہ کلمات الرسول الاعظم، ج۶، کتاب الحسنین(ع) و کتاب اہل البیت(ع)، مؤلف لجنۃ الحدیث فی مرکز ابحاث باقرالعلوم(ع)، تہران، نشر امیرکبیر، ۱۳۸۸ش.
  • موسوی المقرم، عبدالرزاق، مقتل الحسین(ع)، بیروت، دارالکتاب الاسلامیہ.
  • ناصری داودی، عبدالمجید، انقلاب کربلا از دیدگاہ اہل سنت، قم، موسسہ امام خمینی، ۱۳۸۵ش.
  • نصر بن‌مزاحم، وقعۃ الصفین، بہ کوشش عبدالسلام محمد ہارون، قاہرہ، ۱۳۸۲ق/ ۱۹۶۲م.
  • یعقوبی، احمد بن ابی‌یعقوب، تاریخ الیعقوبی، بیروت،‌ دار صادر، بی‌تا.
  • یوسفی غروی، محمدہادی، موسوعہ التاریخ الاسلامی،قم، مجمع انديشہ اسلامى‏، ۱۴۱۷ق.ہ
معصوم چہارم:
امام حسن مجتبی علیہ السلام
14 معصومین
امام حسین علیہ السلام
معصوم ششم:
امام زین العابدین علیہ السلام
چودہ معصومین علیہم السلام
حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا
بارہ امام
امام علی علیہ السلام امام سجّاد علیہ‌السلام امام موسی کاظم علیہ السلام امام علی نقی علیہ السلام
امام حسن علیہ السلام امام باقر علیہ السلام امام رضا علیہ السلام امام عسکری علیہ السلام
امام حسین علیہ السلام امام صادق علیہ السلام امام جواد علیہ السلام امام مہدی علیہ السلام