حائر امام حسین علیہ السلام

ویکی شیعہ سے
(حرم امام حسینؑ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
امام حسینؑ کے حرم کا نقشہ

حائر حسینى کربلا میں مدفون شیعیان اہل بیتؑ کے تیسرے امام امام حسین علیہ السلام کے روضے اور اس کے ارد گرد ایک محدود حصے کو کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے یہ لفظ امام صادقؑ نے زیارت امام حسینؑ کی فضیلت و ثواب بیان کرتے ہوئے قبر امامؑ اور اس کے ارد گرد کے محصور حصے کو حائر کا نام دیا۔ رفتہ رفتہ یہ لفظ شیعیان اہل بیتؑ کے ہاں رائج ہوا اور حرم امام حسینؑ اور اس کی حدود کو حائر حسین اور حائر حسینی کہا جانے لگا۔حائر حسینی کی کمترین مقدار ۲۲میٹر قطر بیان کی گئی ہے۔امام حسین ع کی قبر مبارک پر پہلا بقعہ مختار ثقفی نے تعمیر کیا ۔عباسی خلفا میں سے ہارون الرشید ور متوکل نے اس حائر کو ویران کیا۔ متوکل حائر حسینی کی زیارت سے شیعوں کو روکنے کیلئے اس زمین پر ہل چلانے کا حکم دیا اور یہاں کا پانی بند کر وایا۔ حرم حسینی اور تین دیگر مقامات یعنی حرم مکہ، حرم نبوی اور مسجد کوفہ کے لئے حکم وارد ہوا ہے ۔مسافر ان مقامات پر دس دن سے کم قیام کی صورت میں بھی پوری نماز ادا کرسکتا ہے بلکہ یہاں پوری نماز ادا کرنا مستحب قرار دیا گیا ہے۔

زیارت حسینؑ کا ثواب

قال الإمام الصادقؑ: مَنْ خَرَجَ مِنْ مَنْزِلِهِ يُرِيدُ زِيَارَةَ قَبْرِ الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ ص إِنْ كَانَ مَاشِياً كَتَبَ اللَّهُ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ حَسَنَةً وَ مَحَى عَنْهُ سَيِّئَةً ، حَتَّى إِذَا صَارَ فِي الْحَائِرِ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْمُصْلِحِينَ الْمُنْتَجَبِينَ، حَتَّى إِذَا قَضَى مَنَاسِكَهُ كَتَبَهُ اللَّهُ مِنَ الْفَائِزِينَ ، حَتَّى إِذَا أَرَادَ الِانْصِرَافَ أَتَاهُ مَلَكٌ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ ص يُقْرِؤُكَ السَّلَامَ وَ يَقُولُ لَكَ: اسْتَأْنِفِ الْعَمَلَ فَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا مَضَى۔
‏ ترجمہ: امام صادقؑ نے فرمایا: جو شخص گھر سے نکلا اور اس کا ارادہ قبر حسین بن علی علیہما السلام کی زیارت ہے، اگر وہ پائے پیادہ ہو تو خداوند متعال ہر قدم کے بدلے اس کو ایک حسنہ عطا کرے گا اور اس کا گناہ محو کرے گا (اور مٹا دے گا)؛ حتی کہ وہ حائر میں پہنچتا ہے تو خداوند متعال اس کو نیکوکاروں، مصلحین اور پسندیدہ و برگزیدہ افراد کے زمرے میں لکھ دیتا ہے؛ جب مناسک و اعمال کو مکمل کرتا ہے خداوند متعال اس کو فائزین (کامیاب افراد) زمرے میں قرار دیتا ہے، حتی کہ واپسی کا ارادہ کرتا ہے تو ایک فرشتہ آتا ہے اور کہتا ہے: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ، تم پر سلام کرتے ہیں اور فرماتے ہیں: "اپنے اعمال کے ابتداء سے شروع کرو؛ تمہارے تمام سابقہ گناہ بخش دیئے گئے"۔۔[1]۔[2]۔[3]۔[4]۔[5]

ابن طاؤس،كامل الزيارات ص132۔
مرقد حسینی کا تاریخچہ[6]
61ھ‍ (12 محرم) سب سے پہلے آپ(ص) کا مرقد بنانے والے بنی اسد تھے۔
65ھ‍ مختار نے مرقد پر اینٹوں اور چونے کی گنبد تعمیر کردی۔
132ھ‍ ابو العباس سفاح نے مرقد کے ساتھ ایک سرپوشیدہ عمارت بنوائی۔
146ھ‍ ابو جعفر منصور نے اس عمارت کو ویران کیا۔
158ھ‍ مہدی عباسی نے اس کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
171ھ‍ ہارون الرشید نے عمارت کو ویران کیا اور قریب ہی بیری کا درخت بھی کٹوا دیا۔
193ھ‍ امین نے حرم کی عمارت کو از سر نو تعمیر کیا۔
236ھ‍ متوکل عباسی نے عمارت کو ویران کردیا اور زمین میں ہل چلوایا۔
247ھ‍ منتصر عباسی نے بنا کی تعمیر نو کروائی؛ علوی اور سب سے آگے آگے سید ابراہیم مجاب نے مرقد امام(ع) کے اطراف میں سکونت کا آغاز کیا۔
273ھ‍ تحریک طبرستان کے قائد محمد بن محمد بن زید کے ہاتھوں حرم کی تعمیر نو۔
280ھ‍ علوی داعی نے قبر کے اوپر ایک گنبد بنوائی۔
367ھ‍ عضد الدولہ دیلمی نے حرم کے لئے ایک گنبد، چار ڈیوڑھیوں اور ہاتھی دانت سے بنی ضریح کی تعمیر کا اہتمام اور شہر کے لئے برجوں اور فصیل کا انتظام کیا۔
397ھ‍ عمران بن شاہین، نے رواق سے متصل اپنے نام پر ایک مسجد تعمیر کردی۔
407ھ‍ دو شمعیں گرنے کی وجہ سے حرم آگ میں جل گیا، وزیر حسن بن سہل نے حرم کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
479ھ‍ ملک شاہ سلجوقی، نے حرم کے اطراف کی دیوار کی مرمت کروائی۔
620ھ‍ الناصر لدین اللہ عباسی، نے مرقد امام(ع) کے لئے ایک ضریح بنوائی۔
767ھ‍ سلطان اویس جدایری نے اندرونی گنبد بنوائی اور قبر شریف کے گرد ایک صحن قرار دیا۔
786ھ‍ سلطان احمد اویس، نے حرم کے لئے دو سنہرے گلدستے قرار دیئے اور صحن کی توسیع کا اہتمام کیا۔
914ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی حرم کے کناروں پر سونے کا کام کروایا اور سونے کے 12 چراغدان حرم کو بطور عطیہ پیش کئے۔
920ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی، نے ساج کی لکڑی کا ایک صندوق ضریح کے لئے بنوایا
932ھ‍ شاہ اسماعیل صفوی دوئم نے چاندی کی جالیدار اور خوبصورت ضریح حرم کو بطور عطیہ پیش کی۔
983ھ‍ علی پاشا، المعروف بہ "وند زادہ" نے گنبد کی تعمیر نو کا اہتمام کیا۔
1032ھ‍ شاہ عباس صفوی نے تانبے کی ضریح بطور عطیہ پیش کی اور گنبد پر کاشی کاری کا کام کروایا۔
1048ھ‍ سلطان مراد چہارم (عثمانی) نے حکم دیا کہ حرم کو باہر سے چونا لگا کر سفید کیا جائے۔
1135ھ‍ نادر شاہ افشار کی زوجہ نے حرم امام(ع) کی وسیع تعمیر نو کی غرض سے بہت سے اموال حرم کو بطور عطیہ پیش کئے۔
1155ھ‍ نادرشاہ افشار نے موجودہ عمارتوں کی تزئین کا اہتمام کیا اور حرم کے گنجینے کو بیش بہاء عطیات پیش کئے۔
1211ھ‍ آقا محمد خان قاجار نے طلائی گنبد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔
1216ھ‍ نوظہور وہابی مذہب کے پیروکاروں نے کربلا پر حملہ کیا، ضریح اور رواق کو ویراں کردیا اور حرم کے اموال کو لوٹ کر لے گئے۔
1227ھ‍ فتح علی شاہ قاجار، نے عمارت کی تعمیر نو اور گنبد پر لگے طلائی اوراق کی تبدیلی کا حکم دیا۔
1232ھ‍ فتح علی شاہ قاجار نے چاندی کی ضریح بنوائی اور ایوانوں پر سونے کا کام کروایا۔
1250ھ‍ فتح علی شاہ قاجار نے گنبد و بارگاہ کی تعمیر نو کا اہتمام کیا اور ابو الفضل(ع) کی قبر شریف پر بھی گنبد تعمیر کردی۔
1273ھ‍ ناصر الدین شاہ، نے گنبد کی تعمیر نو اور طلاکاری کی مرمت کروائی۔
1418ھ‍ انتفاضۂ شعبانیہ میں صدام نے گنبد کو توپوں کا نشانہ بنایا اور طلاکاری کا ایک حصہ منہدم ہوگیا۔
1428ھ‍ صحن کو نئے طرز سے مسقف کیا گیا۔
1431ھ‍ حرم حضرت ابو الفضل (ع) کے گلدستوں پر طلاکاری کا کام کیا گیا۔


حائر کے لغوی معنا

حائر کے معنا حیران و سرگردان کے ہیں۔ ایسا مقام جس کا درمیانی حصہ ہموار اور چاروں اطراف سے بلند ہو اور اس میں جمع ہونے والے پانی کے لئے نکاسی کا راستہ نہ ہوتو اسے بھی "حائر" کہتے ہیں ۔ زمین کربلا کے ناموں میں سے ایک نام "حائر" بھی ہے۔[7] اس مقام سے منسوب افراد حائری کہلاتے ہیں۔[8]

وجۂ تسمیہ

اس مقام کے حائر کہلانے اور اس لفظ کے رائج ہونے کے اسباب کے بارے میں کئی اقوال ہیں۔ '''پہلا''' اور سب سے مشہور قول یہ ہے کہ جب متوکل عباسی (حکومت (۲۳۲ـ۲۴۷ ہجری) نے حکم دیا کہ قبر کے اوپر بنی عمارت کو منہدم کر کے، اس زمین پر پانی چھوڑ دیا جائے چنانچہ پانی قبر کے قریب رک گیا اور قبر پانی میں نہ ڈوبی (حارَ الماءُ) تو اس جگہ کو اسی بنا پر اسے مقام حائرکہا گیا[9] لیکن بعض مصنفین نے اسے قبول نہیں کیا کیونکہ امام صادقؑ نے متوکل عباسی کی پیدائش سے برسوں قبل اس مقام کو حائر کا نام دیا تھا۔[10] '''دوسرا قول''' یہ ہے کہ دوسری صدی ہجری کے آغاز میں مرقد مطہر کے گرد ایک دیوار تعمیر کی گئی اور لگتا ہے کہ یہ دیوار امویوں نے بنائی تھی تاکہ زائرین کی تلاشی لینا اور ان کی نگرانی کرنا، آسان ہو۔ '''تیسرا قول''' یہ ہے کہ علامتی اور رمزی سا لفظ بروئے کار لایا گیا کیونکہ یہ امویوں کی توجہ کم ہی زائرین کی نسبت کی جانب مبذول کرتا تھا۔[11] یا پھر اس لئے اس کو حائر کہا گیا اور لغوی معنا کے لحاظ سے اس زمین سے مطابقت رکھتا ہے۔ آج کل امام حسینؑ کا مدفن "حرم حسینی" اور "روضۂ حسینی" کے نام سے معروف ہے۔[12]

حائر کا استعمال

حسین بن ثویر بن ابی فاختہ کہتے ہیں: امام صادقؑ نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: اے حسین! جو اپنے گھر سے نکل کر قبر حسین بن علی علیہما السلام کی زیارت کا عزم کرے اگر پا پیادہ ہوتو خداوند متعال اس کو ہر قدم کے بدلے ایک حسنہ عطا کرتا ہے اور ایک گناہ اس کے نامۂ اعمال سے مٹا دیتا ہے حتی کہ حائر میں پہنچ جائے۔

سب سے پہلے لفظ حائر زیارت امام حسینؑ کی زیارت کے آداب و فضائل کے سلسلے میں امام صادقؑ سے منقولہ حدیثوں میں استعمال ہوا ہے[13] اور اس کا اطلاق مرقد منور کے محصور احاطے پر ہوا۔[14] رفتہ رفتہ یہ اصطلاح شیعیان اہل بیتؑ کے درمیان رائج ہوئی اور مذکوہ مرقد اور اس کے ارد گرد کی حدود کو حائر حسین اور حائر حسینی کہا جانے لگا۔[15]

مقام و منزلت

حرم حسینی شیعیان اہل بیتؑ کے نزدیک بہت زیادہ حرمت کا حامل ہے۔ ائمۂ شیعہ دشواریوں اور حکام وقت کے شدید دباؤ اور سخت گیریوں کے باوجود کربلا کی فضیلت اور حائر حسینی کی رفیع منزلت بیان کرکے لوگوں کو اس کی زیارت اور تکریم و تعظیم کی رغبت دلاتے تھے۔ متعدد احادیث میں اخروی اجر و ثواب اور حرم امام حسینؑ کی زیارت کے آثار کے علاوہ،حرم میں حاضری کے آداب اور آنجناب کے مزار کی زيارت کی کیفیت بھی تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔[16]

احاطہ

امام حسینؑ کی ضریح کی اوپر سے لی ہوئی تصویر

امام صادقؑ سے منقولہ احادیث کے مطابق حرم کی حدود مختلف طریقوں سے معین کی گئی ہیں جن میں فرسخ اور ذراع کو بھی معیار قرار دیا گیا ہے۔[17] ظاہری طور پرمتعارض احادیث کو جمع کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ان احادیث میں معین کردہ تمام مقامات حرم کے احاطے میں آتے ہیں اور لائق احترام ہیں۔ تاہم فضیلت کے مراتب مختلف ہیں: جو مقام امامؑ کے مدفن کے قریب تر ہے اس کی حرمت و شرافت دوسرے مقامات کی نسبت زیادہ ہے۔[18] حرم کی حدود کے لئے کم از کم فاصلے مدفن امامؑ سے 20 سے 25 ذراع تک ہیں، اس بنا پر حائر کا تقریبی قطر 22 میٹر قرار دیا گیا اور یوں حائر کی حدود ایک طرف سے امام صادقؑ کے زمانے میں مدفن کے ارد گرد کے احاطے سے اور دوسری طرف سے ان اقوال سےمطابقت رکھتی ہیں جن میں مقام شہادت (مشہد)، مسجد اور مرقد کو حرم اور حائر سمجھتے ہیں۔[19]

نماز کا فقہی حکم

نماز مسافر کے احکام میں حائر حسینی کا موضوع جداگانہ بیان ہونے کی وجہ سے حائر حسینی کا دقیق تعین ضروری ہے اور اسی طرح حرم مکہ، حرم نبوی اور مسجد کوفہ کے لئے مخصوص حکم مذکور ہے ۔دس دن سے کم قیام کرنے والے مسافر کے لئے صرف ان مقامات مقدسہ میں پوری نماز پڑھنا صرف جائز نہیں بلکہ مستحب ہے۔ یہ امامیہ کا مشہور فتوا ہے گوکہ قصر نماز پڑھنا بھی ایسے فرد کے لئے جائز ہے۔[20]۔[21]

جن احادیث میں امام حسین کے زائر کیلئے فقہی حکم بیان ہوا ہے کہ وہ اس معین علاقے میں اپنی نماز پوری پڑھ سکتا ہے ان احادیث میں حرم، حائر یا مدفن کے پاس ("عِندَ القَبرِ")جیسے عناوین ذکر ہوئے ہیں۔[22]۔[23] بعض فقہاء[24]۔[25] نے حائر کی حدود کے لئے مرکزی نقطے [قبر امامؑ سے] کئی فرسخ کے فاصلے پر دلالت کرنی والی احادیث سے استناد کرتے ہوئے پورے شہر کربلا کو حائر ـاور اس حکم کا مصداق قرار دیا ہےلیکن فقہاء کی اکثریت نے اس حکم کو صرف حائر حسینی کے خاص مفہوم ـ یعنی حرم کے اہم ترین نقطے ـ کی حد تک قبول کیا ہے۔[26]۔[27] البتہ حائر کی دقیق اور صحیح حدود کے سلسلے میں ان کی آراء وا راقوال میں فرق ہے، جیسے:

  1. حضرت عباسؑ کے حرم کے علاوہ امام حسینؑ کا مرقد منور اور دوسرے شہداء کے مراقد حائر کی حدود میں شامل ہیں آج کل یہ احاطہ حرم کہلاتا ہے۔[28]۔[29]
  2. صفوی دور کے توسیعی اقدامات سے پہلے حرم اور صحن کا حصہ حائر میں شامل ہے ۔[30]۔[31]
  3. بعض فقہا صرف روضۂ مقدس ہی کو حائرقرار دیتے ہیں اور حتی کہ رواق میں موجود مسجد کو بھی حائر کا حصہ نہیں سمجھتے اورپوری نماز کے اس مخصوص حکم میں روزہ شامل نہیں ہے۔[32]۔[33]
  4. ضریح مطہر کے اطراف۔[34]۔[35]۔[36]

قابل ذکر ہے کہ معاصر علماء میں سے سید ابوالقاسم خوئی، محمد تقی بہجت اور جواد تبریزی حرم کی حدود میں تخییر کے قائل ہیں یعنی ان کا خیال ہے کہ حرم کی حدود میں مکمل اور قصر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔ سید علی سیستانی قبر سے 11/5 میٹر کی حدود تک میں نماز کے مکمل یا قصر پڑھنے کے اختیار کے قائل ہیں جبکہ محمد علی اراکی پورے روضۂ مبارکہ میں تخییر کے قائل ہیں جبکہ امام خمینی، امام خامنہ ای اور محمد فاضل لنکرانی حرم کے کے تمام برآمدوں اور ڈیوڑھیوں حتی کہ حرم سے متصل مسجد میں چار رکعتی نمازوں کے مکمل یا قصر پڑھنے میں تخییر کے قائل ہیں۔ چنانچہ کربلا کی زیارات کے لئے جانے والے افراد اس سفر پر نکلنے سے قبل حرم میں پوری یا قصر نماز میں تخییر کی حدود معلوم کرنے کے لئے اپنے مرجع تقلید کے فتاوی سے رجوع کرتے ہیں۔ بےشک حرم مکہ، حرم مدینہ، مسجد کوفہ اور حرم امام حسین میں پوری نماز پڑھنا افضل ہے جبکہ قصر نماز پڑھنا بھی احتیاط کے موافق ہے۔ [37]

تعمیر کی مختصر تاریخ

امام حسینؑ کے مزار اقدس پر عمارت کی تعمیر کا تعلق آپؑ کی شہادت کے فورا بعد کے ایام سے ہے اور روایات میں ہے کہ سنہ 65 ہجری تک قبر مطہر پر صندوق رکھا گیا تھا اور اوپر چھت تعمیر کی گئی تھی؛ تاہم بظاہر حائر حسینی پر سب سے پہلا بقعہ مختار ابن ابی عبیدہ ثقیفہ (مقتول بسال 67 ہجری) کے زمانے میں ـ امام حسینؑ کی خونخواہی کے لئے شروع کی جانے والی تحریک میں ان کی کامیابی کے بعد ـ (بسال 66 ہجری) تعمیر ہوا ہے۔ اینٹوں کی اس عمارت پر ایک گنبد بنا ہوا تھی اور اس کے دو دروازے تھے۔[38]۔[39] دوسرے شہدائے کربلا کا مقبرہ عمارت کے باہر واقع ہوا تھا[40] مرقد امام حسینؑ کی زيارت کے آباب و فضائل کے سلسلے میں امام صادقؑ سے منقولہ بعض احادیث[41] معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمارت آپؑ کے دور تک موجود تھی۔[42]

بعد کے ادوار میں افراد یا حکومتوں نے حرم و حائر میں متعدد تعمیراتی کام کئے، نئے صحن اور رواق تعمیر کئے مسجد تعمیر کی اور مدفن کے لئے صندوق اور ضریح کا اتنظام کیا نیز اطراف حرم بنے ہوئے حصار کی تعمیر نو، احاطے میں پتھروں کے بنے ہوئے فرش کی تبدیلی، گنبد کی مرمت اور اسے سونے کا پانی دینا، میناروں، دیواروں اور رواقوں کی سونے، کاشی(ٹائل) اور آئینوں کی ٹکڑیوں سے تزئین اور حرم کے لئے قالینوں کے تحائف دینا اور اس کے لئے پانی کا مخزن تعمیر کرنا، ان کے ان اقدامات میں سے ہیں۔[43]

حکومتوں کی روش

حائر حسینی کی تعمیر یا انہدام کے سلسلے میں حکومتوں کی روشیں یکسان نہ تھیں۔ مثال کے طور پر امویوں کے دور زائرین امام حسینؑ کے خلاف تشدد آمیز رویوں اور سخت گیریوں کے باوجود[44] حائر کو کبھی منہدم نہیں کیا گیا[45] لیکن بعض عباسی خلفاء، منجملہ ہارون الرشید اور متوكل عباسی، نے کئی بار حائر پر تعمیر شدہ عمارت کو منہدم کیا تاکہ امام حسینؑ کی قبر کے آثار مٹ جائیں اور لوگ وہاں زيارت کے لئے نہ آئیں۔ متوکل نے اس غرض سے حکم دیا ہے حائر کی زمین میں ہل چلایا جائے اور مقبرے پر پانی چھوڑ دیا جائے۔[46]۔[47] ان کے مقابلے میں آل‌بویہ، جلائریہ، صفویہ اور قاجاریہ کے ادوار میں حرم حسینی کی توسیع و تزئین کے لئے بنیادی اقدامات عمل میں لائے گئے۔[48] تخریب و انہدام کا تازہ ترین اقدام اس وقت انجام پایا جب وہابیوں نے سنہ 1216 ہجری میں کربلا پر حملہ کیا۔ اس حملے میں شہر کے باشندوں اور زائرین حسینی کا قتل عام کیا گیا، حائر حسینی کو منہدم کیا گیا اور اموال کو لوٹ لیا گیا۔[49] محمد سماوى (متوفٰى 1371ہجری) اپنی کتاب "مجالى اللُطف بأرض الطَّف"، نے حائر حسینی کی تخریب و تعمیر کے مختلف مراحل کو منظوم کیا ہے۔[50]

شیعیان اہل بیتؑ کا کربلا میں قیام

ائمۂ معصومینؑ کی طرف سے حائر حسینی کی تعظیم و تکریم پر تاکید اور مستنصر عباسى (حکومت: 247 تا 248ہجری) کے دور میں کسی حد تک زیارت امام حسینؑ کی آزادی، کے باعث علویوں میں سے ایک جماعت نے حائر حسینی کے ارد گرد سکونت اختیار کی جن میں سے پہلے امام کاظمؑ کے پوتے ابراہیم مُجاب، بن محمد عابد تھے۔ ابراہیم مجاب کا مزار حرم کے مغربی رواق میں ہے۔[51]۔[52] ان کے بیٹے محمد حائری کربلا کے خاندان سادات آل فائز کے مورث اعلی ہیں اور اس خاندان کے بعض افراد حرم حسینی کے متولی بھی رہے ہیں۔[53]۔[54]

حوالہ جات

  1. سید ابن طاؤس، اقبال الاعمال، ص253۔
  2. صدوق، ثواب الاعمال ص117۔
  3. طوسی، تہذيب الاحکام، ج6 ص43۔
  4. حرم عاملی، وسائل الشیعہ، ج14 ص439۔
  5. مجلسی، بحار الانوار، ج101 ص72۔
  6. راہنمای مصور سفر زیارتی عراق، ص244-246.
  7. ابن‌منظور؛ طریحى؛ زبیدى، ذیل «حیر»
  8. كلیدار، تاریخ كربلاء و حائرالحسینؑ، ص26
  9. شهید اول، ذكری‌الشیعة فى احكام‌الشریعة ج4، ص291
  10. طهرانى، شفاءالصدور فى شرح زیارة العاشور، ص294
  11. بستان‌آبادى، شهر حسینؑ، یا، جلوه‌گاه عشق، ص174ـ175
  12. كلیدار، تاریخ كربلاء و حائرالحسینؑ، ص73
  13. ابن‌قولویه، كامل الزیارات، ص254ـ255، 358ـ362
  14. كرباسى، تاریخ‌المراقدالحسین و اهل‌بیته و انصاره ج1، ص259
  15. كلیدار، تاریخ كربلاء و حائرالحسینؑ، ص71ـ72
  16. مفید، كتاب‌المزار، ص44ـ62، 64ـ82
  17. ابن‌قولویه، كامل الزیارات، ص456ـ458
  18. طوسی،تہذیب‌الاحكام ج6، ص81ـ82
  19. كلیدار، تاریخ كربلاء و حائرالحسینؑ، ص51ـ52، 58ـ60۔
  20. شہید ثانى، الروضۃ البہیہ فى شرح اللمعہ الدمشقیہ ج1، ص787ـ788۔
  21. طباطبائى یزدى، العروةالوثقى ج2، ص164۔
  22. بروجردى، مستند العروة الوثقى ج8، ص418ـ419۔۔
  23. حرّ عاملى، وسائل، ج 8، ص524، 527ـ528، 530ـ532
  24. ابن‌سعید، الجامع‌ للشّرائع، ص93۔
  25. نراقى، مستند الشیعہ فى احكام الشریعہ ج8، ص313، 317
  26. بحرانى، الحدائق النّاضرة فى احكام العترةالطاهرة ج11، ص462۔
  27. نراقى، مستند الشیعہ فى احكام الشریعہ ج8، ص313ـ314
  28. مفید، الارشاد ج2، ص126۔
  29. حلّى، السرائر ج1، ص342
  30. مجلسى، بحار، ج 86، ص89ـ90۔
  31. كلیدار، تاریخ كربلاء و حائرالحسینؑ، ص53ـ54۔
  32. مجلسى، بحار، ج 86، ص89۔
  33. خمینى، تحریرالوسیلة ج1، ص233۔
  34. طباطبائى یزدى، تحریر الوسیله، ج 2، ص164ـ165۔
  35. بروجردى، مستند العروة الوثقى ج8، ص419ـ420، 425ـ 426۔
  36. نراقى، مستند الشیعہ فى احكام الشریعہ ج8، ص419ـ420، 425ـ 426۔
  37. حائر حسینی کجاست؟! -> نماز تمام یا شکسته؟!
  38. كرباسى، تاریخ‌المراقدالحسین و اهل‌بیته و انصاره ج1، ص245ـ250۔
  39. طعمہ، تاریخ مرقد الحسین و العباس،ص70ـ73۔
  40. ابن‌ قولویہ، كامل الزیارات،ص420۔
  41. مجلسى، بحار، ج 98، ص177ـ178، 198ـ199، 259ـ260۔
  42. كرباسى، تاریخ‌المراقدالحسین و اہل‌ بیتہ و انصاره ج1، ص255ـ259۔
  43. طعمہ، تاریخ مرقد الحسین و العباس، ص87ـ 93۔
  44. ابن‌ قولویہ، كامل الزیارات، ص203ـ206، 242ـ245۔
  45. طعمه، تاریخ مرقد الحسین و العباس، ص73۔
  46. ابوالفرج اصفہانى، مقاتل‌الطالبیین، ص395ـ396۔
  47. طوسى، الامالى، ص325ـ329۔
  48. كلیدار، تاریخ كربلاء و حائرالحسینؑ، ص171ـ173۔
  49. Longrigg, Four centuries of modern Iraq,217۔
  50. آقابزرگ طہرانى، الذریعہ، ج 19، ص373۔
  51. طعمه، تاریخ مرقد الحسین و العباس، ص147ـ148۔
  52. علوى اصفہانى، مہاجران آل‌ابوطالب، ص202ـ203۔
  53. ابن‌عنبہ، عمدةالطالب فى انساب آل ابی‌طالب، ص263ـ266۔
  54. كلیدار، معالم انساب الطالبیین فى شرح كتاب (سرّالانساب العلویہ) لابى نصرالبخارى، ص157ـ167۔

مآخذ

  • ابن‌ادریس حلّى، كتاب السرائر الحاوى تحریرالفتاوى، قم 1410ـ1411ہجری۔
  • ابن‌سعید، الجامع‌للشّرائع، قم 1405ہجری۔
  • ابن‌طباطبا علوى اصفہانى، مہاجران آل‌ابوطالب، ترجمہ محمدرضا عطائى، مشہد 1372ہجری شمسی۔
  • ابن‌عنبہ، عمدۃالطالب فى انساب آل ابی‌طالب، چاپ مہدى رجایى، قم 1383ہجری شمسی۔
  • ابن‌قولویہ، كامل الزیارات، چاپ جواد قیومى، قم 1417ہجری۔
  • ابن منظور؛ ابوالفرج اصفہانى، مقاتل‌الطالبیین، چاپ كاظم مظفر، نجف 1385ہجری/1965عیسوی، چاپ افست قم 1405ہجری۔
  • خمینی، امام سید روح اللہ، تحریرالوسیلۃ، بیروت 1407ہجری/1987عیسوی۔
  • بحرانى، یوسف‌بن احمد، الحدائق النّاضرۃ فى احكام العترۃالطاہرۃ، قم 1363ـ1367ہجری شمسی۔
  • بروجردى، مرتضى، مستند العروۃ الوثقى: كتاب الصلاۃ، تقریرات درس آیۃاللّہ خوئى، ج 8، [قم] 1367ہجری شمسی۔
  • خوانساری، احمد، جامع‌المدارك فى شرح المختصرالنافع، علق علیہ علی‌اكبر غفارى، ج 1، تہران 1355ہجری شمسی۔
  • زبیدى، محمدبن محمد، تاج‌العروس من جواہرالقاموس، چاپ علی‌شیرى، بیروت 1414 ہجری/ 1994عیسوی۔
  • شہید اول، محمدبن مكى، ذكری‌الشیعۃ فى احكام‌الشریعۃ، قم 1419ہجری۔
  • شہید ثانی، زین‌الدین‌بن على، الروضۃالبہیۃ فى شرح اللمعۃ الدمشقیۃ، چاپ محمد كلانتر، نجف 1398ہجری، چاپ افست قم 1410ہجری۔
  • طباطبائى یزدى، محمدكاظم‌بن عبدالعظیم ، العروۃالوثقى، بیروت 1404ہجری/1984 عیسوی۔
  • طریحى، فخرالدین‌بن محمد، مجمع‌البحرین، چاپ احمد حسینى، تہران 1362ہجری شمسی۔
  • طعمہ، سلمان ہادى، تاریخ مرقد الحسین و العباس ؑ، بیروت 1416ہجری/1996 عیسوی۔
  • طوسى، محمدبن حسن، الامالى، قم 1414ہجری۔
  • طوسى، محمدبن حسن، تہذیب‌الاحکام، چاپ علی‌اكبر غفارى، تہران 1376ہجری شمسی۔
  • طہرانى، ابوالفضل‌بن ابوالقاسم، شفاءالصدور فى شرح زیارۃ العاشور، تہران 1376ہجری شمسی۔
  • كرباسى، محمدصادق، تاریخ‌المراقدالحسین و اہل‌بیتہ و انصارہ، ج 1، لندن 1419ہجری/ 1998 عیسوی۔
  • كلیدار، عبدالجواد، تاریخ كربلاء و حائرالحسین علیہ‌السلام، نجف ]بی‌تا.[، چاپ افست قم 1376ہجری شمسی۔
  • كلیدار، عبدالجواد، معالم انساب الطالبیین فى شرح كتاب (سرّالانساب العلویۃ) لابى نصرالبخارى، چاپ سلمان سید ہادى آل‌طعمہ، قم 1380ہجری شمسی۔
  • كلیدار، عبدالحسین، بغیۃالنبلاء فى تاریخ كربلاء، چاپ عادل كلیدار، بغداد 1966 عیسوی۔
  • گلپایگانى، محمدرضا، ہدایۃالعباد، قم 1413ہجری۔
  • مدرس بستان‌آبادى، محمدباقر ، شہر حسینؑ، یا، جلوہ‌گاہ عشق، ]تہران[ 1414ہجری۔
  • مفید، محمدبن محمد، الارشاد فى معرفۃ حجج‌اللّہ علی‌العباد، قم: دارالمفید، بی‌تا.
  • مفید، محمدبن محمد، كتاب‌المزار، چاپ محمدباقر موحدى ابطحى، قم 1409ہجری۔
  • مقدس اردبیلى، احمدبن محمد، مجمع الفائدۃ و البرہان فى شرح ارشاد الاذہان، چاپ مجتبى عراقى، على پناہ اشتہاردى، و حسین یزدى اصفہانى، ج 3، قم 1362ہجری شمسی۔
  • نجفى، محمدحسن‌بن باقر، جواہرالكلام فى شرح شرائع الاسلام، ج 14، چاپ عباس قوچانى، بیروت 1981 عیسوی۔
  • نراقى، احمدبن محمدمہدى، مستند الشیعۃ فى احكام الشریعۃ، ج 8، قم 1416ہجری۔
  • Stephen Hemsley Longrigg, Four centuries of modern Iraq, Beirut 1968

بیرون روابط