آخرت

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
شیعہ عقائد
‌خداشناسی
توحید توحید ذاتی • توحید صفاتی • توحید افعالی • توحید عبادی • صفات ذات و صفات فعل
فروع توسل • شفاعت • تبرک
عدل (افعال الہی)
حُسن و قُبح • بداء • امر بین الامرین
نبوت
خاتمیتپیامبر اسلام  • اعجاز • عدم تحریف قرآن
امامت
اعتقادات عصمت • ولایت تكوینی • علم غیب • خلیفۃ اللہ • غیبتمہدویتانتظار فرجظہور • رجعت
ائمہ معصومینؑ
معاد
برزخ • معاد جسمانی • حشر • صراط • تطایر کتب • میزان
اہم مسائل
اہل بیت • چودہ معصومین • تقیہ • مرجعیت


آخرت، قرآن، سنت اور اسلامی تہذیب کی ایک اصطلاح ہے جس کے معنی موجودہ دنیا کے مقابلے میں دوسری دنیا(موت کے بعد کا عالم) کے ہیں۔ آخرت ایک ایسا عالم ہے جہاں تمام انسان اپنے کئے کی سزا یا جزا پائے گا۔ تمام الہی ادیان میں آخرت کا تصور پایا جاتا ہے۔

لغوی اور اصطلاحی معنی

آخِرَتْ عربی زبان میں "آخِر" کی مؤنث ہے جو "ا خ ر" کی مادے سے "فاعلۃ" کے وزن پر آتا ہے جس کے معنی "اختتام"، ،"دوسرا" یا "دیگر" کے ہیں۔

یہ لفظ قرآن مجید، سنت اور اسلامی تہذیب میں ایک اصطلاح کی صورت میں استعمال ہوتا ہے اور اس سے مراد اس موجودہ دنیا کے مقابلے میں "دوسری دنیا" کے ہیں جس میں تمام انسان اپنے کئے کی سزا یا جزا پائے گا۔ آخرت کا تصور تمام الہی ادیان میں کم و بیش موجود ہے۔

آخرت قرآن کی نظر میں

قرآن میں لفظ آخرت 104 مرتبہ بغیر کسی قید و بند کے آیا ہے اور 9 مرتبہ "الدار" کی صفت کے طور پر یا اس کا مضاف الیہ کے طور پر (الدّارُ الآخِرَۃ، دارُالآخِرَۃ) آیا ہے۔

ایک آیت میں آخرت "النَّشأۃ" کیلئے صفت کے طور پر آیا ہے: النَّشأۃ الآخِرَۃ۔

5 مواردمیں "الأُولی" کے مقابلے میں آیا ہے اور 80 آیتوں "الدُّنْیا" کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔

ایک آیت میں آخرت "ہٰذِہ" (یہ دنیا) کے مقابلے میں اور مختلف موارد میں "الحَیوۃ الدُّنْیا" کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔

بہت ساری آیات میں "آخرت" سے "الیومُ الآخِرُ" مراد ہے۔ اس تعبیر میں "دنیا" سے روز اول اور "آخرت" سے روز دیگر مراد لیا گیا ہے۔

اسی طرح "دارُالقَرار" بھی آخرت کیلئے استعمال ہونے والی ایک اور تعبیر ہے جسے قرآن میں استعمال کیا گیا ہے۔

قرآن میں اجر آخرت، عذاب آخرت، ثواب آخرت، آخرت کی آگ، آخرت میں لعنت اور خسران اور آخرت کی کھیتی وغیر کے بارے میں بحث ہوئی ہے۔

آخرت احادیث کی نظر میں

پیغمبر اسلام(ص) اور ائمہ معصومین سے منقول احادیث میں لفظ "آخرت" اور "الیوم الآخر"، "الدنیا" کے مقابلے میں استعمال ہوتے ہیں اور اس سے مراد عالم آخرت ہے۔ امام علی (ع) فرماتے ہیں: جس چیز سے آخرت کا فائدہ زیادہ ہو دنیا کے فائدے کے مقابلے میں وہ چیز بہتر ہے اس چیز سے جس میں دنیا کا فائدہ آخرت کے فائدے کے مقابلے میں زیادہ ہو اور آخرت کا فائدہ کم ہو۔[1]

آخرت پر ایمان

قرآن مجید میں آخرت پر ایمان لانے کو "خدا" اور "پیغمبر" پر ایمان لانے کے ساتھ ذکر کرتے ہوئے اسے اسلام کے تین بنیادی اعتقادات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ تقریبا 30 سے زیادہ آیات میں آخرت پر ایمان لانے کو خدا پر ایمان لانے کے ساتھ ذکر کیا گیا ہے۔

تمام اسلامی فرقے آخرت پر ایمان لانے کو دین اسلام کے ضروریات اور بنیادی اعتقادات میں سے قرار دیتے ہوئے اس کے منکر کو اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔

قرآن، سنت اور مسلمان دانشمندوں کے آثار میں عالم آخرت پر ایمان لانے کو تمام اعتقادات کا اساسی محور قرار دیا گیا ہے۔ برزخ، قیامت، حشر و نشر، صراط، حساب، شفاعت، بہشت اور دوزخ وغیرہ عالم آخرت‌ کے واقعات میں سے ہیں اور آخرت پر ایمان لانا ان تمام چیزوں پر ایمان لانے کو بھی شامل کرتا ہے۔

قرآن میں عالم آخرت کی خصوصیات

قرآن مجید میں عالم آخرت سے مربوط بنیادی مسائل کی طرف یوں اشارہ کیا گیا ہے:

  • عالم آخرت میں اجتماعی نظام، تعاون اور انسانی مدنیت کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان انفرادی طور پر خدا کے حضور میں پیش ہونگے اور اپنے معاملات کو خود ہی چلائیں گے: زمین و آسمان میں کوئی ایسا نہیں ہے جو اس کی بارگاہ میں بندہ بن کر حاضر ہونے والا نہ ہو ، خدا نے سب کا احصائ کرلیا ہے اور سب کو باقاعدہ شمار کرلیا ہے، اور سب ہی کل روز هقیامت اس کی بارگاہ میں حاضر ہونے والے ہیں۔[2]
  • اعالم آخرت میں انسان صرف اس دنیا میں انجام دینے والے اعمال اور افکار کے نتائج سے سروکار رکھتا ہے: انسان کو اس کی کوشش کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔[3]
  • عالم ہستی کی شناخت اور حقایق کی تشخیص میں انسان جن مشکلات اور شکوک و شبہات میں گرفتار ہوتے ہیں اس عالم میں ایسا ہر گز نہیں ہوگا۔
  • عالم آخرت میں تمام حقائق سب پر روز روشن کی طرح عیاں ہونگے۔ وہاں نہ فکر و نظر کی گوئی گنجائش ہے اور نہ اختلاف نظر کی: یقینا تم اس کی طرف سے غفلت میں تھے تو ہم نے تمہارے پردوں کو اُٹھادیاہے اور اب تمہاری نگاہ بہت تیز ہوگئی ہے ۔[4]
  • جب انسان عالم آخرت میں داخل ہوتے ہیں تو اس پر آشکار ہو جاتا ہے کہ اس دنیا میں کوئی بھی علت یا سبب مستقل نہیں تھی اور ہمیشہ مؤثر واقعی صرف خدا کی ذات تھا: اس دن خدا سب کو پورا پورا بدلہ دے گا اور لوگوں کو معلوم ہوجائے گا کہ خدا یقینا برحق اور حق کا ظاہر کرنے والا ہے۔[5]
  • جو کچھ عالم آخرت میں انسان کے نصیب میں ہو گا وہ یا "نعمت" ہے یا "عذاب"۔ آخرت کی نعمت اور غذاب کی لذت اور درد دینا کی نعمت اور عذاب کی لذت اور درد کے ساتھ قابل مقایسہ نہیں ہے اور اس دنیا کے کسی بھی ترازو سے ان تعمتوں اور عذاب کو کو تولا نہیں جا سکتا: ان کے گرد سونے کی رکابیوں اور پیالیوں کا دور چلے گا اور وہاں ان کے لئے وہ تمام چیزیں ہوں گی جن کی دل میں خواہش ہو اور جو آنکھوں کو بھلی لگیں اور تم اس میں ہمیشہ رہنے والے ہو۔ [6]؛ مگر جو منھ پھیر لے اور کافر ہوجائے، تو خدا اسے بہت بڑے عذاب میں مبتلا کرے گا۔[7]
  • قرآن مجید میں "بہشت‌" جو زمین اور آسمانوں کی وسعتوں سے زیادہ اور "خدا کی خشنودی" جو بہشت سے بھی بڑا ہے، کو اخروی نعمتوں کیلئے بطور نمونہ پیش کیا گیا ہے: اللہ نے مؤمن مردوں اور مؤمن عورتوں سے ان بہشتوں کا وعدہ کیا ہے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے نیز ان کے لئے ان ہمیشگی کے بہشتوں (سدا بہار باغوں) میں پاک و پاکیزہ مکانات ہوں گے۔ اور اللہ کی خوشنودی سب سے بڑی ہے۔ یہی ہے بہت بڑی کامیابی۔[8]
  • جہنم کی آگ اور "خدا سے دوری" کو اخروی عذاب کے نمونے کے طور پر پیش کیا ہے: ہرگز (ایسا نہیں کہ جزا وسزا نہ ہو) یہ لوگ اس دن اپنے پروردگار (کی رحمت سے) (محجوب اور محروم) رہیں گے۔ پھر یہ لوگ جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ [9]
  • عالم آخرت میں نعمتوں اور عذاب میں موجود افراد نعمات اور عذاب کے درجات میں مساوی نہیں ہیں۔ یہ درجات اس دنیا میں انجام دینے والے اعمال اور افکار کے تناسب سے ان نعمتوں اور عذاب کے درجات میں بھی تفاوت پایا جاتا ہے: (دیکھو) ہم نے (یہاں) کس طرح بعض لوگوں کو بعض پر فضیلت دی ہے اور آخرت تو درجات کے اعتبار سے بہت بڑی ہے اور فضیلت کے لحاظ سے بھی بہت بڑی ہے۔ [10]
  • عالم دنیا میں ممکن ہے بعض عوامل کی وجہ سے انسان اپنے سعی و تلاش کے مطابق مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکیں لیکن آخرت میں انسان کو اس کے اعمال اور افکار کا پورے کا پورا نتیجہ ملے گا اور کوئی عامل یا سبب اس کے حصول میں رکاوٹ نہیں بن سکتا ہے: تو جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس (کی جزا) دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ بھی اس (کی سزا) کو دیکھ لے گا۔[11]
  • عالم آخرت میں خدا کی مغفرت اور رحمت بہت سارے لوگوں کو جس ان مغفرتوں اور رحمتوں کے لائق اور سزاوار ہونگے، کے شامل حال ہونگے اور وہ اخروی عذاب سے نجات پائیں گے: اور (کفار کیلئے) آخرت میں سخت عذاب ہے اور (مؤمنین کیلئے) اللہ کی طرف سے بخشش اور خوشنودی ہے اور دنیاوی زندگی دھوکے کے ساز و سامان کے سوا کچھ نہیں ہے۔[12]
  • اس دنیا میں انسان کے نیک اعمال بیج کی طرح ہے جو آخرت کی کھیتی میں سبز ہوگا اور اپنے صاحب کے پاس پنہج جائے گا۔ وہ لوگ جو اپنی تمام تر کوششوں کو صرف اسی دنیاوی فوائد تک پہنچنے میں صرف کرتے ہیں انہیں آخرت میں کچھ بھی نہیں ملی گا: جوشخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کی کھیتی میں اضافہ کردیتے ہیں اور جو (صرف) دنیا کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس میں سے اسے کچھ دے دیتے ہیں مگر اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوتا۔[13]
  • قرآن کی نظر میں عالم آخرت صرف انسان تک محدود نہیں ہے بلکہ تمام موجودات آخرت میں خدا کی بارگاہ میں محشور ہونگے: آسمانوں اور زمین میں جو کوئی بھی ہے وہ خدائے رحمن کی بارگاہ میں بندہ بن کر حاضر ہونے والے ہیں۔[14]
  • قرآن مجید سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ عالم آخرت پر ایمان لانا تمام انبیاء کی دعوت کا بنیادی رکن تھا۔ وہ آیات جو انبیاء کی تبلیغ میں وحدت رویہ اور اصول واحد پر دلالت کرتی ہیں وہ اس بات کی گواہ ہے۔

حوالہ جات

  1. نہج البلاغہ، ۲۲۴
  2. مریم ۹۳ـ ۹۵
  3. نجم،۳۹
  4. ق،۲۲
  5. نور، ۲۵
  6. زخرف، ۷۱
  7. غاشیہ، ۲۳ـ۲۴
  8. توبہ،۷۲
  9. مطّففین،۱۵ـ۱۶
  10. اسراء، ۲۱
  11. زلزلہ ۷ـ‌۸
  12. حدید، ۲۰
  13. شوری، ۲۰
  14. مریم، ۹۳


منابع

  • قرآن کریم.
  • ابن حنبل، احمد بن محمد، مسند، دارالفکر، بیروت.
  • راغب اصفہانی، حسین بن محمد، مفردات القرآن.
  • نہج البلاغہ، بہ کوشش محمد عبدہ، مصر، مطبعہ الاستقامہ.