شب عاشورا

ویکی شیعہ سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محرم کی عزاداری
تابلوی عصر عاشورا.jpg
واقعات
کوفیوں کے خطوط امام حسینؑ کے نام • حسینی عزیمت، مدینہ سے کربلا تک • واقعۂ عاشورا • واقعۂ عاشورا کی تقویم • روز تاسوعا • روز عاشورا • واقعۂ عاشورا اعداد و شمار کے آئینے میں • شب عاشورا
شخصیات
امام حسینؑ
علی اکبر بن امام حسین • علی اصغر • عباس بن علی • زینب کبری • سکینہ بنت الحسین • فاطمہ بنت امام حسین • مسلم بن عقیل • شہدائے کربلا •
مقامات
حرم حسینی • حرم عباس بن علی • تل زینبیہ • قتلگاہ • شریعہ فرات • امام بارگاہ
مواقع
تاسوعا • عاشورا • اربعین
مراسمات
زیارت عاشورا • زیارت اربعین • مرثیہ  • نوحہ • تباکی  • تعزیہ • مجلس • زنجیرزنی • ماتم داری  • عَلَم  • سبیل  • جلوس عزا  • شام غریبان • شبیہ تابوت • اربعین کے جلوس


شب عاشورا نویں محرم کی رات ہے کہ اس کے دوسرے دن عاشورا کا دن ہے۔ منابع میں آیا ہے کہ عمر سعد کے لشکر نے نویں محرم کو حملہ کرنے کا ارادہ کیا لیکن امام حسین(ع) نے حضرت عباس سے چاہا کہ، ان سے ایک رات کی مہلت لیں تا کہ عبادت کر سکیں۔ امام حسین(ع) نے اس رات کو اپنے اصحاب سے گفتگو کی اور انہیں اپنا باوفا ساتھی کہا اور انہوں ںے بھی اپنی وفاداری کا اعلان کیا۔ عزاداری کی جو مجلس شب عاشورا کو امام حسین(ع) کے خیمہ گاہ میں برپا ہوئی اس کو بیان کیا جائے گا۔ اس رات کے لئے شب بیداری اور سو رکعت نماز ذکر ہوئی ہے۔

شب عاشور کے حالات

امام حسین(ع) کے اصحاب کا تجدید عہد کرنا

امام حسین(ع) نے رات کے پہلے حصے میں اپنے اصحاب کو جمع کیا اور خداوند کی حمد و ثناء کے بعد ان سے خطاب فرمایا:

أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي لَا أَعْلَمُ أَصْحَاباً أَوْفَى وَ لَا خَيْراً مِنْ أَصْحَابِي وَ لَا أَهْلَ بَيْتٍ أَبَرَّ وَ لَا أَوْصَلَ مِنْ أَهْلِ بَيْتِي فَجَزَاكُمُ اللَّهُ عَنِّي خَيْراً

میں نے اپنے اصحاب سے زیادہ باوفا اور بہتر، اور اسی طرح اپنے خاندان سے بہتر اور مہربان کسی کو نہیں پایا، اللہ تعالیٰ آپکو میری طرف سے نیک صلہ عطا فرمائے۔

اس کے بعد فرمایا:

میرے خیال میں، اس قوم کی جانب سے ہمارے لئے یہ آخری دن کی مہلت ہے. آگاہ رہو کہ میں نے آپ لوگوں کو جانے کی اجازت دی ہے. اور آپ سب اطمینان خاطر سے چلے جائیں کہ میری طرف سے آپ کی گردن پر کوئی بیعت نہیں ہے اور رات کی تاریکی میں سواری لے کر یہاں سے چلے جاؤ۔ اس کے بعد امام(ع) کے اہل بیت اور آپ (ع) کے اصحاب نے اپنی اپنی طرف سے وفاداری کا اعلان کیا اور اپنی جانوں کو امام(ع) کی حفاظت کی خاطر قربان کرنے کی تاکید کی۔ بعض تاریخ اور مقاتل کے منابع نے اس گفتگو کا ذکر کیا ہے۔ [1]

خیموں کی حفاظت

شب عاشور کو حضرت عباس نے حرم کی حفاظت کا ذمہ لیا۔ زہیر بھی آپ کے ہمراہ تھے۔ [2]

عمر بن سعد کے ساتھ بریر کی گفتگو

بعض منابع کے مطابق، اس رات، بریر بن خضیر نے امام(ع) سے اجازت طلب کی کہ وہ عمر بن سعد کے پاس جائے اور اسے موعظہ و نصحیت کرے۔ امام(ع) نے اسے اجازت دی۔

بریر عمر بن سعد کے پاس گئے اور اس کے خیمے میں داخل ہوئے اور بغیر سلام کئے، بیٹھ گئے عمر کو غصہ آ گیا اور کہا: (اے ہمدانی کے بھائی، کس چیز نے تمہیں سلام کرنے سے منع کیا ہے؟ آیا میں مسلمان نہیں ہوں اور خدا اور اس کے رسول کو نہیں جانتا اور آیا میں حق کی گواہی نہیں دیتا؟

بریر نے کہا:

"اگر اس طرح کہ جیسے تم کہہ رہے ہو خدا اور پیغمبر شناس ہوتے، تو پیغمبر(ص) کے خاندان کو قتل کرنے کا ارادہ نہ کرتے، اور یہ نہر فرات جس کی موجیں سانپ کی شکل میں حرکت کر رہی ہیں اور عراق کے حیوان اس نہر سے سیراب ہوتے ہیں، اور امام حسین بن علی(ع) اور آپ کے بھائی، عورتیں اور تمام خاندان والے، پیاس سے جان دے رہے ہیں. تم نے انہیں اس نہر سے پانی پینے سے منع کیا ہے اور سوچتے ہو کہ خدا اور رسول(ص) کو جانتے ہو؟"

عمر سعد نے کچھ دیر کے لئے اپنے سر کو نیچے کیا اور پھر سر اٹھایا اور کہا: اے بریر خدا کی قسم مجھے یقین ہے کہ جو بھی ان کے ساتھ جنگ کرے اور ان کے حق کو غصب کرے اس کی جگہ آگ میں ہے، لیکن اے بریر کیا تم مجھ سے یہ چاہتے ہو کہ شہر ری کی حکومت کسی اور کے ہاتھوں میں دے دوں؟ خدا کی قسم یہ بات میرے دل کو منظور نہیں ہے.

اس کے بعد کہا: عبید اللہ نے اس کام کو انجام دینے کے لئے اپنی قوم کے بجائے مجھے انتخاب کیا ہے۔ خدا کی قسم، مجھے سب معلوم ہے اور دو راستوں کے درمیان حیران و پریشان کھڑا ہوں: آیا شہر ری کی حکومت کو چھوڑ دوں، حالانکہ یہ میری آرزو ہے، یا یہ کہ حسین(ع) کے قتل کا گناہ گردن پر لے لوں؟ حسین (ع) کو قتل کرنے میں ایسی آگ ہے جس سے رہائی ممکن نہیں ہے اور شہر ری کی حکومت میری آنکھوں کا نور ہے۔

بریر امام (ع) کے پاس واپس آئے اور کہا: "ای رسول خدا(ص) کے فرزند عمر بن سعد شہر ری کی حکومت کی خاطر آپ کے قتل پر راضی ہو گیا ہے"۔[3]

میدان جنگ کی تحقیق

شب عاشور امام حسین(ع) کے اشعار


يَا دَهْرُ أُفٍّ لَكَ مِنْ خَلِيلِ كَمْ لَكَ بِالْإِشْرَاقِ وَ الْأَصِيلِ
مِنْ صَاحِبٍ أَوْ طَالِبٍ قَتِيلِ وَ الدَّهْرُ لَا يَقْنَعُ بِالْبَدِيلِ
وَ إِنَّمَا الْأَمْرُ إِلَى الْجَلِيلِ وَ كُلُّ حَيٍّ سَالِكٌ سَبِيلِي‏


الارشاد، مفید، ج۲، ص۹٣

شب عاشور، امام حسین(ع)، اکیلے خیموں سے باہر نکلے اور اس کے اطراف میں چھوٹے چھوٹے پہاڑوں اور زمین پر کچھ تلاش کر رہے تھے، نافع بن ہلال متوجہ ہوئے اور آہستہ آہستہ آپ کے پیچھے چلے آئے. امام(ع) نے نافع کو دیکھا اور پوچھا: خیموں سے باہر کیوں آئے ہو؟ نافع نے کہا: اے فرزند رسول خدا(ص)! آپ کا خیمہ گاہ سے خارج ہو کر اس خطرناک فوج کی طرف رخ کرنا، میرے لئے ترس و وحشت کا باعث بنا۔

امام(ع) نے فرمایا:

میں خیموں سے باہر آیا ہوں تا کہ کل کے حملے سے پہلے، یہاں کی بلندی اور پستی کو دیکھ لوں۔ اس جستجو کے بعد واپسی پر امام حسین(ع) نے نافع سے فرمایا: آیا نہیں چاہتے کہ اس رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاؤ اور اپنی جان کو بچا لو؟ نافع نے خود کو امام(ع) کے قدموں پر گرا دیا، اور کہا:

میرے پاس ایک تلوار ہے جس کی قیمت ہزار درہم ہے اور ایک گھوڑا جس کی قیمت بھی اتنی ہی ہے، اس خدا کی قسم جس نے مجھ پر احسان کیا تا کہ میں آپ کی رکاب میں حاضر ہوں، جس وقت تک میری تلوار کام کرتی رہے گی اس وقت تک ہرگز آپ سے جدا نہیں ہوں گا۔[4]

اصحاب کی وفاداری کے بارے میں حضرت زینب(س) کی پریشانی

اس گفتگو کے بعد امام(ع) واپس خیمہ گاہ تشریف لائے اور اپنی بہن زینب(س) کے خیمے میں داخل ہوئے۔ نافع بن ہلال خیمہ کے باہر امام(ع) کے انتظار میں کھڑے تھے انہوں نے سنا کہ حضرت زینب(س) نے امام(ع) سے عرض کیا:

آیا آپ نے اپنے اصحاب کو آزما لیا ہے؟ میں پریشان ہوں کہ وہ بھی کل جنگ کے وقت آپ کو دشمن کے حوالے کرکے فرار نہ کر جائیں.

امام(ع) نے جواب میں فرمایا:

خدا کی قسم، میں نے ان کو آزمایا ہے اور دیکھا ہے کہ یہ ایسے جوان ہیں جو سینہ تان کر، موت پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور مجھ سے ایسا اشتیاق رکھتے ہیں جیسا کہ ایک شیر خوار بچہ اپنی ماں کے سینے سے رکھتا ہے۔ نافع کو جب یہ احساس ہوا کہ امام حسین(ع) کے اہل بیت اصحاب کی وفاداری اور استقامت پر پریشان ہیں، حبیب بن مظاہر کے پاس آئے اور ان کے ساتھ مشورہ کرنے کے بعد، فیصلہ کیا کہ باقی اصحاب کے ہمراہ امام(ع) اور اہل بیت(ع) کو اطمینان دلائیں کہ اپنے خون کے آخری قطرے تک آپ (ع) کا دفاع کریں گے۔[5] حبیب بن مظاہر نے امام (ع) کے اصحاب کو آواز دی تا کہ سب جمع ہو جائیں۔ اس کے بعد بنی ہاشم سے مخاطب ہوئے اور کہا: اپنے خیموں کی طرف لوٹ آئیں، اس کے بعد اصحاب کی طرف منہ کر کے جو کچھ نافع سے سنا تھا اسے بیان کیا۔ سب نے کہا: اس خدا کی قسم کہ جس نے ہم پر احسان کیا تا کہ ہم اس جگہ پر حاضر ہوں، اگر امام حسین(ع) کے فرمان کے منتظر نہ ہوتے، تو ابھی اسی وقت دشمن پر حملہ کر کے اپنی جانوں کو قربان کر دیتے۔ حبیب باقی اصحاب کے ہمراہ اہل بیت(ع) کے خیموں کے قریب گئے اور کہا: اے آل رسول! یہ آپ کے جوانوں کی تلواریں ہیں جو آپ کے دشمنوں کی گردنیں کاٹے بغیر نیام میں نہیں جائیں گی۔ اور یہ آپ کے فرزندوں کے نیزے ہیں، جنہوں نے قسم کھائی ہے کہ ان کو صرف ایسے افراد کے سینوں میں اتاریں گے جنہوں نے آپ کو دعوت دے کر بلایا لیکن اب مکر گئے ہیں۔[6]

شب مناجات

نویں محرم کو عصر کے وقت عمر بن سعد نے اپنے لشکر کو حملے کا حکم دیا: جب امام (ع) دشمن کی نیت سے آگاہ ہوئے، تو اپنے بھائی عباس سے فرمایا:

اگر ممکن ہو تو ان سے کہو کہ جنگ کے لئے کل تک صبر کریں اور آج کی رات ہمیں مہلت دیں تا کہ ہم اپنے خدا کے ساتھ راز و نیاز کریں اور اس کی بارگاہ میں نماز ادا کر سکیں۔ خدا ہی جانتا ہے کہ میں کس قدر نماز اور تلاوت قرآن کو پسند کرتا ہوں۔ [7] منابع میں نقل ہوا ہے کہ امام (ع) اور آپ (ع) کے اصحاب نے پوری رات نماز، دعا اور استغفار میں بسر کی۔[8]

شب عاشور کے اعمال

مفاتیح الجنان میں اس رات کی مناسبت سے کچھ اعمال ذکر ہوئے ہیں:

  • اس رات کو جاگ کر گزارنا: رسول خدا(ص) کی روایت کے مطابق جو کوئی اس رات کو جاگ کر گزارتا ہے، گویا اس نے تمام فرشتوں کی عبادت کو انجام دیا ہو۔
  • سو رکعات نماز، ہر رکعات میں حمد کے بعد، تین بار سورہ اخلاص پڑھی جائے اور سو رکعات کے ختم ہونے پر، ستر مرتبہ: سُبْحانَ اللّهِ وَ الْحَمْدُ لِلّهِ وَ لا إلهَ إلاَّ اللّهُ وَ اللّهُ اَکْبَرُ وَ لا حَوْلَ وَ لا قُوَّةَ إلاَّ بِاللّهِ الْعَلِىِّ الْعَظِیمِ کہا جائے۔
  • رات کے آخری حصے میں چار رکعات نماز، ہر رکعات میں سورہ حمد کے بعد، دس بار آیت الکرسی، دس بار سورہ توحید، دس بار سورہ فلق اور دس بار سورہ ناس پڑھی جائے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد سو مرتبہ سورہ توحید پڑھی جائے.[9]

حوالہ جات

  1. مفید، الارشاد، ج۲، ص۹۱-۹۴؛ طبرسی، إعلام الورى بأعلام الهدى، ص 239
  2. بحرالعلوم، مقتل الحسین(ع)، ص۳۱۴؛ حائری مازندرانی، معالی السبطین، ج۱، ص۴۴۳.
  3. إربلي، كشف الغمة، ج‏۱، ص۵۸۹-۵۹۰؛ ابن صباغ مالكي، الفصول المهمة، ج‏۲، ص۸۲۱-۸۲۲
  4. الدمعة الساکبة ج۴، ص۲۷۳. المقرم، پیشین، ص۲۱۹.
  5. بهبهانی، محمدباقر، الدمعة الساکبة، ج۴، ص۲۷۳-۲۷۴.
  6. مقرم، مقتل الحسین، ص۲۱۹.
  7. الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج۵، ص۴۱۷؛ شیخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۹۱ و ابن اثیر، الکامل فی التاریخ، ص۵۷.
  8. یخ مفید، الارشاد، ج۲، ص۹۴
  9. مفاتیح الجنان، شیخ عباس قمی، اعمال شب عاشورا