ابوحنیفہ

ویکی شیعہ سے
(ابو حنیفہ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مسجد ابوحنیفہ، محل دفن ابوحنیفہ

ابوحنیفہ نعمان بن ثابت (80-150 ہجری قمری)، اہل سنت کے مذاہب اربعہ میں سے مذہب حنفیہ کے بانی اور اپنے زمانے میں کوفہ کے فقیہ اور متکلم تھے۔ حنفی انہیں امام اعظم اور سراج الائمہ کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔

نسب

ابو حنیفہ، ثابت بن النُعمان بن زُوطیٰ بن ماہ۔ ان کے دادا کے بارے میں مشہور ہے کہ انہیں کابل سے بطور غلام کوفہ لایا گیا اور طایفہ بنی تیم اللہ بن ثعلبہ کے ایک شخص نے انہیں آزاد کیا۔ اسی بنا پر ابوحنیفہ کا خاندان کی نسبت اسی خاندان کے ساتھ دی جاتی ہے۔[1] بعض منابع میں واضح طور پر آیا ہے کہ ان کا والد ایک آزاد شدہ غلام تھا جسے بنی قَفَل کے ایک شخص نے آزاد کیا تھا۔[2]

اسی طرح عثمان بن سعید دارمی نے ابن اسباط سے ایک روایت نقل کی ہے جس کے مطابق ان کے والد ان کی ولادت کے کچھ عرصہ بعد تک نصرانی تھے۔[3]

سوانح حیات

ان کی انفرادی زندگی سے متعلق کوئی دقیق معلومات میسر نہیں۔ کہا جاتا ہے کہ وہ کوفہ میں پیدا ہوئے،[4] پیشے کے لحاظ سے وہ کپڑے کی تجارت کرتے تھے،[5] اور اوائل جوانی میں کوفہ کے شاعر، حماد عجرد کے ساتھ معاشرت رکھتے تھے۔[6]

تعلیم اور اساتید

ابوحنیفہ نے بہت سارے فقہا اور علما کے پاس زانوئے ادب طے کئے لیکن اس کا خصوصی استاد حماد بن ابی سلیمان تھا جس سے انہوں نی تقریبا 18 سال تک کسب فیض کیا اور ان کی وفات تک ان کی شاگردی کی۔[7]

اسی طرح کوفہ میں ان کے اساتید میں عامر شعبی، ابو اسحاق سبیعی، عاصم بن ابی النجود، قیس بن مسلم، سماک بن حرب، علقمۃ بن مرثد، عطیۃ بن سعد عوفی اور حکم بن عتیۃ کا نام لیا جا سکتا ہے۔[8]

اس کے علاوہ ان کے اساتید کی فہرست میں بصرہ کے نامی گرامی شخصیات من جملہ قتادۃ بن دعامۃ اور مالک بن دینار کا نام بھی دیکھا جا سکتا ہے۔[9]

ابوحنیفہ تحصیل کے دوران (سنہ 114 ہجری سے پہلے) کئی بار حجاز کا سفر کیا اس دوران انہوں نے حرمین کے بڑے اساتذہ سے بھی کسب فیض کیا۔ مدینہ میں کچھ مدت ربیعۃ بن ابی عبدالرحمن کے کلاس درس میں بھی شرکت کی[10] اسی طرح مکہ میں بھی کچھ مدت انہوں نے وہاں کے سب سے بڑے فقیہ عطاء بن ابی رباح (متوفی114 یا115 ہجری) سے بھی استفادہ کیا۔[11]

مدینہ میں انہوں نے امام محمد باقرؑ، عبدالرحمن بن ہرمز اعرج، نافع مولای ابن عمر، محمد بن منکدر و ابن شہاب زہری اور مکہ میں عمرو بن دینار اور ابوالزبیر مکی جیسے شخصیات سے بھی استفادہ کیا۔[12]

امام باقرؑ اور امام صادقؑ سے ارتباط

اہل سنت کے بعض منابع میں ابوحنیفہ کا شیعوں کے دو امام سے ارتباط کے بارے میں لکھا گیا ہے؛ ذہبی اور قرمانی نے امام باقر[13] اور امام صادق[14] روایت نقل کرنے کا کہا ہے۔ ابوالحجاج مزی امام باقرؑ کو ان کے اساتید میں شمار کرتے ہیں۔[15] اہل‌ سنت کے بعض اور علماء جیسے ابن حجر ہیثمی[16]، ابن صباغ مالکی[17] اور سلیمان قندوزی[18] نے امام صادقؑ سے روایت نقل کرنے پر تصریح کی ہیں۔ شیخ طوسی نے بھی ان کا نام امام صادقؑ کے اصحاب میں ذکر کیا ہے۔[19]

ابن ابی‌الحدید معتزلی بھی ابوحنیفہ کے امام صادقؑ کی شاگردی پر تصریح کرتے ہیں۔[20] امام صادقؑ کے حوالے سے ابوحنیفہ سے منسوب ایک عبارت بھی معروف ہے جس میں وہ کہتے ہیں: لولا السنتان لهک النعمان۔ کہا جاتا ہے کہ یہ عبارت پہلی مرتبہ چوتھی صدی ہجری میں کتاب مختصر تحفۃ الاثناعشریہ[21] میں مطرح ہوا۔[22] بعض لوگ اس عبارت سے ابوحنیفہ کی امام صادقؑ سے کسب فیض مراد لیتے ہوئے اس عبارت سے ان کی شاگردی اثبات کرتے ہیں۔[23]

جبکہ بعض کا خیال ہے کہ یہ عبارت ان کی زید بن علی کی شاگردی کی طرف اشارہ ہے۔ [24]اور زید بن علی کی شاگردی اس کے اس مدعا پر دلیل قرار دیتے ہیں۔[25] البتہ اس عبارت کا قدیمی منابع میں موجود نہ ہونا اس کی اصلیت پر شک و تردید کا موجب بنا ہے یہاں تک کہ یہ احتمال بھی دیا جاتا ہے کہ اصل میں سُنتان(دو روش) مراد ہے نہ سَنتان(دو سال)۔[26]

فقہی مرجعیت

ابوحنیفہ حماد بن ابی سلیمان (متوفی 120 ہجری) کی وفات کے بعد ان کے برجستہ ترین شاگرد ہونے کے اعتبار سے کوفہ میں بہ عنوان مفتی اور فقیہ منتخب ہوا یوں یہ چیز ان کی سماجی مقام و مرتبے میں اضافہ کا باعث بنا۔[27]

سیاسی سرگرمیاں

سنہ 121-137 ہجری کے دوران جہاں بنی امیہ کی حکومت اپنی آخری سانسیں لے رہی تھی ابوحنیفہ حکومت مخالف فقیہ کے عنوان سے ایک خاص نظریات کے ساتھ منظر عام پر آئے تو حکومت مخالف قوتوں کے یہاں انہیں اچھی خاصی پذیرائی ملی۔

بنی امیہ کے خالف زید بن علی کی قیام کے دوران 121 - 122 ہجری انہوں نے مخفی طور پر زید بن علی کا ساتھ دیا اور جنگی سازو سامان اور مالی طور پر ان کی حمایت کیا۔[28]

سنہ 126 ہجری کو حارث بن سریج (خراسان کے بزرگوں میں سے ایک) کی مرور واپسی اور انہیں امان نامہ صادر کرنے کے واقعے میں ابوحنیفہ خراسانیوں اور اجلح جو کہ خلیفہ کے قریبی رشتہ داروں میں سے تھا، کے درمیان میانجی گری کا کردار ادا کیا۔[29]

اسی طرح سنہ 127 - 128 ہجری کے درمیان جب خوارج صُفری نے ضحاک بن قیس شیبانی کی قیادت میں کوفہ پر قبضہ کیا تو ابوحنیفہ نے ان کے ساتھ مناظرہ کیا۔[30]

کوفہ کو ترک کرنا

جب سنہ 129 ہجری میں مروان ثانی کی طرف سے یزید بن عمر بن ہبیرہ عراق کی گورنری پر منصوب ہوا تو اس نے ابوحنیفہ کو قاضی مقرر کرتے ہوئے انہیں بیت المال پر نگران مقرر کیا لیکن انہوں نے گورنر کی جانب سے اصرار کے باوجود اس منصب کو قبول کرنے سے انکار کیا۔[31]

ابن ہبیرہ کی جانب سے مذکورہ منصبت کو قبول کرنے پر اصرار کی وجہ سے وہ کوفہ سے مکہ کی طرف ہجرت کرنے پر مجبورا ہوا اور بنی امیہ کے دور حکمت کے باقیماندہ دو سال انہوں نے مکے میں ہی گزاری۔[32] اس موقعے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے مکہ میں اپنی فقہی اور اعتقادی نظرات کی تبلیغ کرنا شروع کیا یوں ایوب سختیانی جو بصرہ کا مشہور فقیہ تھا اور اس وقت مکے میں زندگی بسر کر رہے تھے، کے ساتھ سخت مقابلہ ہوا۔[33]

کوفہ واپسی

بنی امیہ کی شکست اور بنی عباس کی کامیابی کے بعد جب سفاح خلیفہ بنا تو ابوحنیفہ دوبارہ کوفہ لوٹ آئے،[34] لیکن مختلف حیلوں اور بہانوں کے ذریعے سفاح کی بیعت نہیں کی۔[35]

بغداد کے زندان میں وفات

ابوحنیفہ کی زندگی کے آخری سالوں میں منصور عباسی نے انہیں بغداد بلا لیا اور نا مشخص دلائل کی بنا پر انہیں زندان میں ڈال دیا گیا۔ تشیع در مسیر تاریخ نامی کتاب کے مصنف کے مطابق ابوحنیفہ کو زندان بھیجنے کی وجہ ان کی طرف سے نفس زکیہ کی تحریک کی حمایت ہے۔[36] زندان میں چند دن گزارنے کے بعد ابوحنیفہ وہیں اس دنیا سے چل بسا۔[37]

حسن بن عُمارۃ بجلی جو اس وقت کوفہ کے مشہور محدث تھے نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی جس کے بعد انہیں مقبرہ خیزران بغداد میں دفن کیا گیا۔[38] ان کی قبر پر سنہ459 ہجری کو ایک گنبد اور مدرسہ تعمیر کیا گیا[39]، جس محلے میں ان کا مقبرہ واقع ہے اس وقت وہ حی الاعظمیہ کے نام سے معروف ہے۔

فکری اور اعتقادی نقطہ نظر

بعض احادیث کے مطابق جوانی کے عالم میں وه کوفہ میں منعقد ہونے والے اعتقادی محافل میں بھر پور شرکت کرتے تھے اور جب بھی فرصت ملتی بصرہ وغیرہ کا سفر کرتے اور اباضیہ، صفریہ اور اس طرح کے دوسرے فرق و مذاہب کے ساتھ مناظرہ کیا کرتے تھے۔[40]

فکری اور اعتقادی موقف

ایمان اور ارجاء

اہل حدیث، امامیہ، معتزلہ اور اشاعرہ کے اکثر مصنفین ابوحنیفہ کو مرجئہ فرقے کی پیروکار سمجھتے ہیں۔ تاریخ میں یہ بات مسلمات کی حد تک مشہور ہے۔[41]

پہلی صدی ہجری کے دوسرے نصف حصے سے گناہ کبیرہ کے مرتکب افراد کے ایمان سے متعلق تین نظریات وجود میں آیا اور اس حوالے سے مسلمانوں میں تین گروہ وجود میں آگئے:

  • پہلا گروہ، خوارج عمل کو ایمان میں مؤثر سمجھتے تھے اور قائل تھے کہ گناہ کبیرہ کے ارتکاب سے ایمان زائل ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ انسان کفر میں داخل ہو جاتا ہے؛
  • دوسرا گروہ، مرجئہ جو گناہ کبیرہ کے ارتکاب کو ایمان کے زائل ہونے کا سبب نہیں سمجھتے تھے اور ایمان اور عمل کو ایک دوسرے سے مجزا قرار دینے کے ساتھ ساتھ ایمان میں کمی اور زیادتی کو غیر قابل تصور قرار دیتے تھے؛
  • تیسرا گروہ، اہل حدیث جو مرتکب گناہ کبیرہ کی تکفیرِ سے پرہیز کے ساتھ ساتھ ایمان کو مختلف درجات کا مجموعہ سمجھتے تھے اور اس کی کمی اور زیادتی میں عمل کو دخیل سمجتھے تھے؛

البتہ ان تین گروہ کے علاوہ اس حوالے سے مزید گروه تھے جن کا موقف بین بین تھا۔

مرجئہ کا افراطی گروہ کا نظریہ یہ تھا کہ ایمان کے ہوتے ہوئے کسی گناہ سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا اور مؤمن گناہ کے ارتکاب کی وجہ سے دوزخ کا مستحق نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق مؤمن کے نیک اعمال قبول اور برے اعمال بخشے جائیں گے۔

دوسری صدی ہجری کے دوسرے نصف حصے کے دوران مرجئہ اور اہل حدیث کے درمیان ایک اور گروہ تھا جسے فرق و مذاہب کی کتابوں میں مرجئۃ الستۃ کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔[42]

یہ گروہ "ایمان کو کمی بیشی ناپذیر" اور "عمل اور ایمان کو ایک دوسرے سے مجزا" سمجھنے میں مرجئہ کے ساتھ ہم عقیدہ تھے لیکن عمل کی قدر و قیمت کے بارے میں ان کے افراطی نظریات کے ساتھ موافق نہیں تھے۔

حقیقت امر یہ ہے کہ: اگر ابوحنیفہ سے منسوب اعتقادات میں کسی عقیدے پر زیادہ تاکید کی جا سکتی ہے تو وہ اس کا ایمان میں کمی بیشی ناپذیری کا نظریہ ہے جس کی وجہ سے ان کے مخالفن انہیں مرجئہ میں سے قرار دیتے ہیں۔

ابوحنیف اپنی کتاب العالم و المتعلم میں عمل کی قدر و قیمت پر تاکید کرنے کے ساتھ ساتھ اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ تمام مؤمنین کا بہشت میں جانا نیز گناہ گاروں کا بغیر توبہ خدا کی طرف سے عذاب میں مبتلاء نہ ہونے کو قبول نہیں کرتے۔

العالم و المتعلم میں لوگوں کو اخروی درجات کے اعتبار سے تین گروہوں میں تقسیم کرتے ہیں: اہل بہشت، اہل دونزخ اور ایسے موجودات جن کے بارے میں توفق کیا جانا چاہئے۔[43]

امامت

تاریخ اسلام میں امامت سے مربوط اہم مسائل میں سے ایک پیغمبر اکرمؐ کے پہلے جانشین کی انتخاب کا مسئلہ ہے۔ دوسری صدی ہجری کے پہلے نصف حصے سے شیعہ اور خارجیوں کے علاوہ مسلمانوں کے دوسرے فرقوں میں شیخین (ابوبکر اور عمر) کی برتری اور افضل ہونے پر اعتقاد رکھنا رائج اور مرسوم تھا لیکن خَتَنین (حضرت علیؑ اور عثمان) کی افضلیت نہ صرف مورد اختلاف تھا بلکہ ابن سعد کے بقول ایک گروہ جو مرجئہ کے نام سے جانا جاتا تھا،[44] ان دونوں کے اصل خلافت پر ایمان لانے میں بھی توقف کے قائل تھے۔ اس آخری گروہ کے مشہور اور شناختہ شدہ افراد میں سے ابوحنیفہ کے استاد محارب بن دثار کا نام لیا جا سکتا ہے۔[45]

امامت کے مسئلے میں ابوحنیفہ کے موقف سے آشنائی کیلئے سب سے پہلے ان کی کتاب الفقہ الاکبر[46] میں موجود ان کے اس مجمل جملے کی طرف اشارہ کرنا ضروری ہے جس میں وہ کہتا ہے: ہم عثمان اور علی کے معاملے کو خدا کے سپرد کرتے ہیں۔ اس عبارت کو ابن شہرآشوب اپنی کتاب مثالب[47] میں یوں نقل کرتے ہیں: جو کچھ علی اور عثمان کے درمیان پیش آیا ہے اس کے حکم کو خدا کے سپرد کرتا ہوں۔

حضرت علی کو برحق جاننا

ابوحنیفہ تمام جنگوں میں حضرت علیؑ کو برحق اور ان کے دشمنوں کو باغی سمجھتے تھے۔[48]

وہ حضرت علیؑ کے بعد امام حسنؑ کو بعنوان خلیفہ اور امام بر حق سمجھتے تھے۔[49]

شیعہ کے ساتھ رابطہ

ابوحنیفہ کا شیعوں کے ساتھ ارتباط کے بارے میں سب سے پہلے ان احادیث کی طرف اشارہ کرنا چاہئے جن میں ابوحنیفہ کا امام صادقؑ، امام کاظمؑ اور بہت سارے شیعہ علماء من جملہ محمد بن علی صاحب الطاق، فضال بن حسن اور ہیثم بن حبیب صیرفی کے ساتھ مناظرات نقل ہوئی ہیں، ان روایات کو قبول کرنا ان میں سے ہ رایک کی سند اور متن میں بررسی اور جستجو کی ضرورت ہے۔ ان مناظرات میں مختلف فکری اور اعتقادی مسائل من جملہ امامت، ایمان اور قضا و قدر وغیرہ مورد بحث واقع ہوئی ہیں۔[50]

البتہ بعض شیعہ احادیث میں امام صادقؑ کی طرف سے ابوحنیفہ کی مذمت[51] اور کبھی اسے حضرت علیؑ کی طرف کم مائل افراد کے طور پر معرفی کی گئی ہے۔[52]

زیدیہ کے ساتھ رابطہ

زید بن علی اور ابراہیم حسنی کے ساتھ ابوحنیفہ کا گہرا رابطہ ان کی زیدیہ مذہب کے ساتھ رابطے پر گواہ ہے۔ محمد بن جعفر دیباج، فرزند امام صادقؑ جو زیدیہ مذہب کا ایک سربراہ سمجھا جاتا ہے، وہ ابوحنیفہ کی تعریف کرتے ہوئے کہتے کہ ان کی طرف سے زید بن علی کی حمایت کرنا اہل ایمان کے ساتھ ان کی دوستی کی علامت ہے۔[53]

فقہی نظریات

ساختار

نقلی دلائل

ابوحنیفہ کے نام منسوب اور مدون فقہ میں نقلی دلائل میں سے جو چیز ہم تک پہنچی ہے وہ صرف چند پراکندہ روایات اور احادیث ہیں جن پر حد سے زیادہ اعتبار نہیں کیا جا سکتا ہے۔ ان میں سے اہم‌ترین اور جامع‌ترین روایت یحیی بن ضریس سے منقول ہے جس میں ابوحنیفہ اپنی فقہی نظرایات کے منابع کو درج ذیل چیزیں قرار دیتے ہیں:

  1. کتاب خدا؛
  2. سنت پیغمبرؐ اور مورد وثوق افراد کے ذریعے آپ سے منقول صحیح روایات ؛
  3. صحابہ کا قول،
  4. مذکورہ منابع میں کسی حکم پر نہ پہنچنے کی صورت میں ذاتی رائ اور اجتہاد پر عمل کرنا[54]

ایک اور نمونہ ابن صباح کی روایت ہے جس میں (کتاب خدا) کے بعد صحیح احادیث، اس کے بعد صحابہ ا ور تابعین کا قول اس کے بعد قیاس کو ان کی فقہی دلائل میں سے شمار کیا گیا ہے۔[55] یہ روایت ابن ضریس کی روایت کے ساتھ تابعین کے قول کو قبول کرنے میں موافق نہیں ہے۔[56]

قیاس

ابوحنیفہ اس بات کے مدعی تھے کہ قیاس کو اس نے پیغمبر اکرمؐ کے بعض اصحاب سے لیا ہے۔[57]

قیاس کے مسئلے میں جو چیز ابوحنیفہ کو دوسروں سے ممتاز کرتی ہے وہ ضعیف دلائل جیسے خبر واحد اور بعض دوسرے دلائل کے ساتھ تعارض کی صورت میں قیاس کا استعمال ہے۔ یہی چیز ابوحنیفہ کے بعض معاصر محدثین مانند مالک بن انس بن مالک باوجود اس کے کہ خود قیاس کو فقہ میں استعمال کرتے تھے، ابوحنیفہ کی قیاس پر اشکال کرنے[58] اور بعض لوگوں کی طرف سے اس کی تعریف کرنے کا باعث بنتی [59]، یہاں تک کہ اس کا قیاس ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر گئی۔[60]

کتاب و سنت سے احکام کے دلائل کا استخراج اور انہیں عمومی قوانین کی شکل میں دوسرے مسائل میں بھی استعمال ابوحنیفہ کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ وہ غیر تعبدی مسائل میں خبر واحد اور اس جیسے دیگر ضعیف دلائل پر ان قواعد کو ترجیح دیتے تھے۔ ان قواعد کو قرآن کے ظواہر پر ترجیح دینے کی مثال اہل کتاب کنیز کے ساتھ نکاح کا جواز با سورہ نساء کی آیت نمیر 25 میں مفہوم وصف کے مفہوم مخالف [61] کو قبول نہ کرنا ہے۔

استحسان

جرجانی کے مطابق استحسان کی تعریف یہ ہے:

قیاس کو ترک کرکے لوگوں کیلئے آسان حکم کو اخذ کرنا استحسان کہلاتا ہے،[62] لیکن ابوالحسن کرخی کی دقیق تعریف کے مطابق ابوحنیفہ کے پاس اسحتسان کی تعریف یوں ہے:
مجتہد کا کسی مسئلے میں ایک نسبتا محکم دلیل کی وجہ سے مشابہ حکم کرنے سے عدول کرنے کو استحصان کہلاتا ہے۔[63]

حنفی اپنی اصولی کتابوں میں استحسان سے مربوط مسائل کو کافی تفصیل سے بیان کیا ہے۔ لیکن ابوحنیفہ خود بعض فرعی مسائل میں جب قیاس کو مناسب نہیں سمجھتے تھے قیاس سے عدول کرتے تھے۔ عام اجتماعی روابط اور رائج معاملات کے ساتھ ناسازگاری نیز زندگی میں عسر و حرج پیدا ہونا ان کے نزدیک عدول کے عمدہ عوامل میں سے ہیں۔

فقہ ابوحنیفہ کے بارے میں امامیہ کا نظریہ

قیاس اور ذاتی رائ اور بعض فقہی مسائل میں ان کے مخصوص نظریات کے بارے میں ابوحنیفہ اپنی زندگی میں امام صادقؑ اور امام کاظمؑ نیز محمد بن علی صاحب الطاق، حریز ابن عبداللہ سجستانی اور ہشام بن حکم جیسے بعض شیعہ علماء کے ساتھ مناظرہ کیا کرتے تھے۔[64]

چوتھی صدی ہجری میں عراق کے شیعہ فقیہ ابن‌ جنید اسکافی اور اس کے بعض ہم خیالوں کا فقہی نظریہ کسی حد تک ابوحنیفہ کے نزدیک تھا اور وہ اکثر شیعہ فقہاء کے برخلاف قیاس کو قبول کرتے تھے۔

اسی طرح شریف رضی (متوفی406 ہجری) جو بغداد کے شیعہ علماء میں سے تھا کا فقہی نظریہ بھی کسی حد تک ابن‌ جنید کے نزدیک تھا جو خود فقہ‌ حنفیہ کے بعض متون کو اس مذہب کے اساتید کے پاس پڑھا تھا۔[65]

دوسری طرف سے اسی دوران شیعہ مایہ ناز فقیہ، شیخ مفید نے ابوحنیفہ کے بعض فقہی اور اصولی طریقوں پر سخت حملہ شروع کیا تھا۔[66]

بعد والی صدیوں میں بھی کبھی محترمانہ انداز میں[67] اور کبھی سخت تند و تیز انداز میں ابوحنیفہ کے نظریات کے ساتھ برخورد کیا جاتا تھا۔[68]

ابوحنیفہ اور علوم حدیث

قرائت

ابوحنیفہ نے علم قرائت کو قراء سبعہ میں سے عاصم اور چودہ قاریوں میں سے اعمش اور عبدالرحمن بن ابی لیلی سے سیکھا اور قرائت میں ان کے راوی حسن بن زیاد لولوی تھا۔[69]

ابوحنیفہ خود الگ قرائت کے مالک تھے اور ابوالفضل محمد بن جعفر خزاعی (متوفی408 ہجری) نے ضبط کیا تھا جسے ہذلی نے اپنی کتاب الکامل[70] اور مکی نے مناقب میں نقل کیا ہے۔

حدیث

ابوحنیفہ کے شاگردوں کے آثار جیسے ابویوسف اور محمد بن حسن شیبانی کے الاثار میں ابوحنیفہ سے منقول بہت ساری احادیث دیکھا جا سکتا ہے جو حدیث نقل میں ان کی دلچسپی کی دلیل ہے۔

ابوحنیفہ نے اپنی احادیث کو کسی کتاب میں جمع نہیں کیا جس کی وجہ سے مختلف زمانوں میں مسند ابی حنیفہ کے نام سے مختلف کتابوں کے لکھی گئیں جس میں ان کے مصنفین ابوحنیفہ سے منقول احادیث کو جمع کرنے کی کوشش کی ہیں۔

ابوحنیفہ کے اساتید اور راویوں کے بارے میں جو معلومات اور فہرست موجود ہے اسے انہی احادیث سے استخراج کیا گیا ہے جسے ابوحنیفہ نے نقل کیا ہے، اس بنا پر ان کے استعمال میں احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔

ان سے روایت کرنے والے راوی

  • حماد بن ابی حنیفہ،
  • زفربن ہذیل
  • عباد بن عوام،
  • عبداللہ بن مبارک،
  • ہشیم بن بشیر،
  • وکیع بن جراح،
  • مسلم بن خالد زنجی،
  • ضحاک بن مخلد،
  • عبداللہ بن یزید مقری،
  • نوح بن دراج قاضی،
  • ابونعیم فضل بن دکین،
  • ابراہیم بن طہان،
  • حمزۃ بن حبیب زیات

اور ان کے دو اصلی شاگرد ابویوسف اور محمد بن حسن ہیں۔[71]

علم رجال میں ان کا اعتبار

علم رجال میں ان کی شخصیت کے بارے میں اس علم کے اہل حدیث ماہرین نے مختلف جگہوں پر ان یکی تضیف کی ہیں اور اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ لوگو انہیں اپنا مخالف سمجھتے تھے،[72] لیکن اس کی سچائی اور وثاقت پر تصریح کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑا ہے۔[73]

صحاح ستہ میں ابوحنیفہ سے منقول واحد حدیث حدود کے باب میں ہے جسے سنن کبیر نسائی میں آیا ہے جبکہ اس کے "المجتبی" نامی نسخے میں یہ حدیث دکھائی نہیں دیتی۔[74]

ترمذی نے بھی صرف کتاب العلل میں جابر بن یزید جعفی اور عطاء بن ابی رباح کے بارے میں ابوحنیفہ سے ایک رجالی رائ نقل کرتے ہوئے[75] کئی جگہوں پر اس کے فقہی نظریات کی طرف اشاره کیا ہے۔[76]

لیکن شیعوں کے یہاں ابوحنیفہ سے کئی احادیث کتب اربعہ میں سے تین کتابوں میں نقل ہوئی ہیں۔[77]

شیعتوں کی دوسری حدیثی کتابوں میں بھی ان سے منقول احادیث دیکھائی دیتی ہیں۔[78]

کتابیات

ابوحنیفہ سے منسوب کتابیں

پرنٹ شدہ نسخے

  • العالم و المتعلم
  • رسالۃ الی عثمان البتّی، بصرہ کا فقیہ اور متفکر عثمان بن سلیمان بتّی (متوفی143 ہچری) کے نام ارجاء کے بارے میں لکھا ہوا خط۔ اس میں مولف اپنی نظریات کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی طرف ارجاء سے متعلق افراطی اتہامات کا نفی میں جواب دیتے ہیں۔[79]
  • الفقہ الاکبر، ابوحنیفہ کے نظریات پر مشتمل متون کا مشترکہ نام ہے۔
  • الفقہ الاکبر (1) : اس کا پورا متن ابھی تک پیدا نہیں ہوا ہے اور مختلف ٹکروں کی شکل میں ایک قدیم شرح میں موجود ہے جسے غلطی سے ابومنصور ماتریدی کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ شارح خود بعض مواقع پر اس بات کی تصریح کرتے ہیں کہ اس نے بعض ٹکروں کو نقل کیا ہے۔[80]
  • الفقہ الابسط: اسے کبھی الفقہ الاکبر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، [81]، جو اعتقادی مسائل میں ان کے ایک ابومطیع بلخی کے پوچھے گئے سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ یہ اثر "الفقہ الاکبر" کے متن پر مبتنی ایک مفصل کتاب ہے جس کے باقی ماندہ حصوں کو "الفقہ الاکبر (۱)" کے نام سے جانا جاتا ہے۔
  • الوصیۃ، ابوحنیفہ سے منسوب ایک وصیت ہے جسے انہوں نے اپنی وفات کے وقت لکھا جو مذہب حنفیہ کے بعض اعتقادات پر مشتمل ہے۔
  • وصیۃ الی تلمیذہ القاضی ابی یوسف جو بعض اخلاقی سفارشات پر مشتمل ہے اور ابن نجیم کی کتاب الاشباہ و النظائر[82] میں دمشق میں شایع ہوئی ہے۔[83]

خطی

  • وصیۃ الی ابنہ حماد
  • وصیۃ الی یوسف بن خالد السمتی۔
  • رسالۃ فی الایمان و تکفیر من قال بخلق القرآن
  • مجادلۃ لاحد الدہریین۔

حوالہ جات

  1. ابن سعد، ج۶، ص۲۵۶ ؛ خلیفہ، ج۱، ص۳۹۰ ؛ بخاری، ج۴ (۲)، ص۸۱
  2. طبری، “ المنتخب ”، ص۶۵۳؛ ابن عبدالبر، ص۱۲۲
  3. خطیب، ج۱۳، ص۳۲۴
  4. ابن عبدالبر، ص۱۲۲
  5. عجلی، ص۴۵۰؛صمیری، ص۱۵
  6. ابوالعلاء، رسالہ الغفران، ص۵۰۹۵۱۰؛ ابو الفرج، الاغانی، ج۱۳، ص۷۸۷۹
  7. خطیب، ج۱۳، ص۳۳۳
  8. ابن ابی حاتم، ج۴ (۱)، ص۴۴۹ ؛خطیب، ج۱۳، ص۳۲۴؛ مزی، ج۱۸، ص۱۲۷-۱۲۸
  9. مکّی، ج۱، ص۵۹
  10. ابوزرعہ، ج۱، ص۴۲۸
  11. ترمذی، ج۵، ص۷۴۱
  12. مزی، ج۱۸، ص۱۲۷-۱۲۸
  13. ذہبی، تذکرۃالحفاظ، ج۱، ص۱۶۸۔
  14. قرمانی، اخبارالدول، ۱۴۱۲ق، ج۱، ص۳۳۴؛ مزی، تہذیب الکمال،۱۴۱۳ق، ج۵، ص۷۶۔
  15. مزی، تہذیب المال، ۱۴۱۳ق، ج۲۹ ص۴۱۹۔
  16. ابن حجر ہیثمی، الصواعق المحرقہ، تہران، ص۲۳۴۔
  17. ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ، ۱۴۲۲ق، ج۲، ص۹۰۹۔
  18. قندوزی، ینابیع المودہ، ۱۴۲۲ق، ج۳، ص۱۱۲،۱۶۰۔
  19. طوسی، رجال الطوسی، ۱۳۷۳ش، ص۳۱۵۔
  20. ابن ابی‌الحدید، شرح نہج البلاغہ، ۱۹۶۲ق، ج۱۵، ص۲۷۴۔
  21. آلوسی، مختصر تحفۃ الاثناعشریہ، ۱۳۸۷ش، ص۸۔
  22. رستگار، بررسی سخن پیشوای حنفیان؛ لولا السنتان لہک النعمان، ۱۳۹۰ش، ص۱۰۷-۱۰۸۔
  23. رستگار، بررسی سخن پیشوای حنفیان؛ لولا السنتان لہک النعمان، ۱۳۹۰ش، ص۹۵۔
  24. ابوزہرہ، ابوحنیفہ، دارالفکر، ص۷۰-۷۲؛ شعکہ، الائمۃ الاربعہ، ۱۴۰۳ق، ص۱۵: بہ نقل از رستگار، بررسی سخن پیشوای حنفیان؛ لولا السنتان لہک النعمان، ۱۳۹۰ش، ص۱۰۹۔
  25. رستگار، بررسی سخن پیشوای حنفیان؛ لولا السنتان لہک النعمان، ۱۳۹۰ش، ص۱۹۰۔
  26. رستگار، بررسی سخن پیشوای حنفیان؛ لولا السنتان لہک النعمان، ۱۳۹۰ش، ص۱۰۰۔
  27. صمیری، ص۲۱-۲۲
  28. بلاذری، ج۳، ص۲۳۹؛ ابوالفرج، مقاتل، ص۹۹-۱۰۰
  29. طبری، تاریخ، ج۷، ص۲۹۳
  30. ابن عبدالبر، ص۱۵۸-۱۵۹؛ خوارزمی، ابوالمؤید، ج۱، ص۶۶-۶۷؛ نیز خطیب، ج۱۳، ص۳۶۶
  31. یحیی بن معین، ج۱، ص۷۹؛ خطیب، ج۱۳، ص۳۲۶-۳۲۷
  32. مکی، ج۲، ص۲۴؛ خوارزمی، ابوالمؤید، ج۱، ص۶۶
  33. بسوی، ج۲، ص۸۷۸؛ ابوزرعہ، ج۱، ص۵۰۷
  34. خوارزمی، ابوالمؤید، ج۱، ص۶۶؛ مفید، امالی، ص۲۸
  35. مکی، ج۱، ص۱۵۰-۱۵۱
  36. تشیع در مسیر تاریخ، ص۳۲۶
  37. خطیب، ج۱۳، ص۳۲۷-۳۳۰؛ العیون، ص۲۶۱؛ نیز نک: ابن سعد، ج۶، ص۲۵۶
  38. ابن ندیم، ص۲۵۵-۲۵۶؛ خطیب، ج۱۳، ص۳۲۴
  39. ابن اثیر، عزالدین، ج۱۰، ص۵۴
  40. خطیب، ج۱۳، ص۳۳۳؛ مکی، ج۱، ص۵۹-۶۰
  41. بخاری، ج۴ (۲)، ص۸۱؛ عقیلی، ج۴، ص۲۸۳؛ اشعری، سعد، ص۶؛ کشّی، ص۱۹۰؛ اشعری، ابوالحسن، مقالات، ص۱۳۸
  42. شہرستانی، ج۱، ص۱۲۷ و ۱۳۰
  43. ص۹۷
  44. ج۶، ص۲۱۴
  45. ابن سعد، ج۶، ص۲۱۴
  46. ص ۶
  47. برگ ۵۹ب
  48. نک: مکی، ج۲، ص۸۳۸۴
  49. طوسی، الخلاف، ج۳، ص۱۰۴
  50. ابن بابویہ، التوحید، ص۹۶؛ مفید، امالی، ص۲۲ و ۲۶؛ کراچی، ص۱۷۱، ۱۹۶؛ طبرسی، ج۲، ص۳۸۱، ۳۸۲۔
  51. کشی، ص۱۴۵ ۱۴۶، ۱۴۹
  52. ابن رستم، ص۲۳؛ مفید، امالی، ص۲۶ ۲۸؛ منتخب الدین، ص۵۱
  53. ابوالفرج، مقاتل، ص۹۹
  54. صمیری، ص۲۴؛ ابن عبدالبر، ص۱۴۳؛ خطیب، ج۱۳، ص۳۶۸
  55. خطیب، ج۱۳، ص۳۴۰
  56. برای روایات مشابہ، صمیری، ص۲۴؛ ابن عبدالبر، ص۱۴۳۱۴۵
  57. خوارزمی، ابوالمؤید، ج ۲، ص۳۳۸
  58. طبری، «المنتخب»، ص۶۵۴
  59. مثلاً ابن‌قتیبہ، المعارف، ص۴۹۵
  60. ابوالعلاء، «سقط الزند»، ج۵، ص۱۹۵۶؛ قلقشندی، ج۱، ص۴۵۳
  61. جصاص،ج۳، ص۱۱۶؛ طوسی، الخلاف، ج۲، ص۲۲۰
  62. ص ۸
  63. علاءالدین بخاری، ج۴، ص۳
  64. مفید، الاختصاص، ص۹۰، ۱۰۹جاہای مختلف؛ ابن‌ندیم، ص۲۲۴؛ خوارزمی، ابوالمؤید، ج۲، ص۳۳۸، جاہای مختلف
  65. پاکتچی، ص۶ ۹، جاہای مختلف
  66. «المسائل…»، ص۲۸۲، ۲۷۸، جاہای مختلف
  67. مثلاً قزوینی رازی، ص۲۳۶، جاہای مختلف
  68. مثلاً ابن شہر‌آشوب، مثالب، برگ ۵۸ ب، ۶۶ ب؛ تبصرۃ العوام، ص۳۴، جاہای مختلف
  69. ابن جزری، ج۲، ص۳۴۲
  70. ابن جزری، ج۲، ص۳۴۲
  71. بخاری، ج۴ (۲)، ص۸۱؛ ابن ابی حاتم، ج۴ (۱)، ص۴۴۹؛ مزی، ج۱۸، ص۱۲۸-۱۳۰
  72. مثلاً ابن سعد، ج۶، ص۲۵۶؛ عقیلی، ج۴، ص۲۸۱،۲۸۴
  73. یحیی بن معین، ج۱، ص۷۹؛ ابن شاہین، ص۳۲۳،۳۳۳
  74. مزی، ج۱۸، ص۱۴۷
  75. ج۵، ص۷۴۱
  76. ج۱، ص۱۶۹؛ ج،۳، ص۲۵۰
  77. کلینی، ج۷، ص۲۴۲،۴۰۴: طوسی،تہذیب، ج۲، ص۳۱۷؛ ج۶، ص۲۷۷-۲۷۸؛ ج۱۰، ص۸۰؛ الاستبصار، ج۱، ص۴۰۸)
  78. مثلاًابن بابویہ، الخصال، ج۱، ص۳۱۶
  79. برای تحلیلی از متن رسالہ، فان اس، «کلام …»، ج۱۹۲، ص۱ بہ بعد
  80. مثلا؛ «شرح الفقہ الاکبر»، ص۱۵
  81. «کلام …»، ج۱، ص۲۰۷، بہ بعد
  82. ص ۵۱۶ –۵۲۲
  83. برای نسخ خطی آن، نک‌: ج۱، ص۴۱۷-۴۱۸


مآخذ

  • ابن ابی‌ داوود، عبداللہ ‌بن ‌سلیمان، المصاحف، قاہرہ، ۱۳۵۵ ق۔
  • ابن ابی شیبہ، ابوبکر، المصنف، بمبئی، ۱۴۰۳ ق/۱۹۸۳ع۔
  • ابن اثیر، عزالدین، الکامل۔
  • ابن اثیر، مجد الدین جامع الاصول، بہ کوشش محمد حامد فقی، قاہرہ، ۱۳۸۳ ق/۱۹۶۳ع۔
  • ابن بابویہ، محمدبن علی، التوحید، بہ کوشش ہاشم حسینی تہرانی، تہران،۱۳۸۷ ق/۱۹۶۷ع۔
  • ہمو، الخصال، بہ کوشش علی‌اکبر غفاری، قم، ۱۳۶۲ ش۔
  • ہمو، فقیہ من لا یحضرہ الفقیہ، بہ کوشش حسن موسوی خرسان، نجف، ۱۳۷۶ ق/۱۹۵۷ع؛
  • ابن برکہ، عبداللہ بن محمد، الجامع، بہ کوشش عیسی یحیی بارونی، مسقط، ۱۳۹۱ ق/ ۱۹۱۷ع۔
  • ابن بزاز، محمد بن محمد، «مناقب ابی حنیفہ» ذیل مناقب ابی حنیفہ (نک:ہم، مکی)۔
  • ابن جزری، محمد بن محمد، غایہ النہایہ، بہ کوشش گ۔ برگشترسر، قاہرہ، ۱۳۵۱ ق/۱۹۳۲ع۔
  • ابن جعفر، محمد، الجامع، بہ کوشش عبد المنعم عامرہ، قاہرہ، ۱۹۱۸ع۔
  • ابن حبان، محمد، کتاب المجرحین، بہ کوشش محمود ابراہیم زاید، حلب، ۱۳۹۶ ق/۱۹۷۶ع۔
  • ابن حجر عسقلانی، احمد بن علی، بلوغ المرام، بہ کوشش محمد حامد فقی، قاہرہ، ۱۳۵۲ ق۔
  • ہمو، لسان المیزان، حیدر آباد دکن، ۱۳۲۹ ق۔
  • ابن خلکان، وفیات الاعیان۔
  • ابن رستم طبری، محمد بن جریر، المسترشد، کتابخانۃ حیدریہ۔
  • ابن سعد، محمد، کتاب الطبقات الکبیر، بہ کوشش زاخاو و دیگران، لیدن، ۱۹۰۴۱۹۱۵ع۔
  • ابن شاہین، عمر بن احمد، تاریخ اسماء الثقات، بہ کوشش عبد المعطی امین قلعجی، بیروت، ۱۴۰۶ ق/۱۹۸۶ع۔
  • ابن شہر آشوب، محمد بن علی، مثالب النواصب، عکس نسخۃ خطی کتابخانۃ ناصریۃ لکہنو، موجود در کتابخانۃ مرکز۔
  • ہمو، معالم العلماء، نجف، ۱۳۸۰ ق/۱۹۶۱ع۔
  • ہمو، مناقب آل ابی طالب، قم، چاپخانۃ علمیہ۔
  • ابن طاووس، علی‌ بن موسی، الطرائف، قم، ۱۴۰۰ ق۔
  • ابن طقطقی، محمد بن علی، الفخری فی الآداب السلطانیہ، بہ کوشش در نبورگ، شالون، ۱۸۹۴ع۔
  • ابن عبد البر، یوسف بن عبداللہ، الانتقا، من فضائل الثلاثہ الائمہ الفقہاء، بیروت، دار الکتب العلمیہ۔
  • ابن عدی، عبداللہ، الکامل فی ضعفاء الرجال، بیروت، ۱۹۸۵ع۔
  • ابن عساکر، علی بن حسن، تبیین کذب المفتری، بیروت، ۱۴۰۴ ق/۱۹۸۴ع۔
  • ابن عمرانی، محمد بن علی، الانباء فی تاریخ الخلفاء، بہ کوشش قاسم سامرایی، لیدن، ۱۹۷۳ع۔
  • ابن قتیبہ، عبداللہ بن مسلم، تأویل مختلف الحدیث، بیروت، دار الجیل۔
  • ہمو، المعارف، بہ کوشش ثروت عکاشہ، قاہرہ، ۱۹۶۰ع۔
  • ابن قطلوبغا، قاسم بن عبداللہ، تاج التراجم، بغداد، ۱۹۶۲ع۔
  • ابن کرامۃ جشمی، محسن بن محمد، «شرح العیون»، فضل الاعتزال و طبقات المعتزلہ، بہ کوشش فؤاد سید، تونس، ۱۳۹۳ ق/۱۹۷۴ع۔
  • ابن ماجہ، محمد بن یزید، سنن، بہ کوشش محمد فؤاد عبد البلقی، قاہرہ، ۱۹۵۲-۱۹۵۳ع۔
  • ابن منذر، محمد بن ابراہیم، الاشراف علی مذاہب اہل العلم، بہ کوشش محمد نجیب سراج‌ الدین، قطر، ۱۴۰۶ ق/۱۹۶۸ع۔
  • ابن نجیم، زین‌الدین، الاشباہ والنظائر، بہ کوشش محمد مطیع حافظ، دمشق، ۱۶۰۳ ق/۱۹۸۳ع۔
  • ابن‌ ندیم، الفہرست۔
  • ابن ہبیرہ، یحیی بن محمد، الافصاح، بہ کوشش محمد راغب طباخ، حلب، ۱۳۶۶ ق/۱۹۴۷ع۔
  • ابو اسحاق شیرازی، ابراہیم بن علی، طبقات الفقہاء، بہ کوشش خلیل میس، بیروت، دار القلم۔
  • ابوبکر خوارزمی، «رسالہ کتب الی جماعہ الشیعہ بنیسابور»، ضمن من ادب التشیع بالخوارزم، بہ کوشش صادق آیینہ‌وند، تہران، ۱۳۶۸ ش۔
  • ابو الحسین بصری، محمد بن علی، المعتمد فی اصول الفقہ، بہ کوشش محمد حمیداللہ و دیگران، دمشق، ۱۳۸۴ ق/ ۱۹۶۴ع۔
  • ابو حیان توحیدی، علی بن محمد، البصائر و الذخائر، بہ کوشش ابراہیم کیلانی، دمشق، مکتبہ اطلس۔
  • ابو داوود سجستانی، سلیمان ابن اشعث، سنن، بہ کوشش محمد محیی‌ الدین عبد الحمید، قاہرہ، داراحیاء السنہ النبویہ۔
  • ابو زرعۃ دمشقی، عبد الرحمن بن عمرو، تاریخ بہ کوشش شکراللہ قوجانی، دمشق، ۱۴۰۰ ق/۱۹۸۰ع۔
  • ابو زہرہ، محمد، ابوحنیفہ، قاہرہ، ۱۹۵۵ع؛ ہمو، الامام زید، قاہرہ، ۱۹۵۹ع
  • ابو طالب ہارونی، یحیی بن حسین، «الافادہ»، اخبار الائمہ الزیدیہ، بہ کوشش مادلونگ، بیروت، ۱۹۸۷ع۔
  • ابو عبداللہ علوی، محمد بن علی، الجامع الکافی، نسخۃ خطی کتابخانۃ آمبروزیانا، شم ۴۲۴۔
  • ابو عبید، قاسم ابن سلان، الاموال، بہ کوشش عبد الامیر علی مہنا، بیروت، ۱۹۸۸ع۔
  • ابو العلاء معری، رسالہ الغفران، بہ کوشش عائشہ بنت الشاطی، قاہرہ، دار المعارف۔
  • ہمو، «سقط الزند»، ضمن شروح سقط الزند، قاہرہ، ۱۳۸۳ ق/۱۹۶۴ع۔
  • ابو عمرودانی، عثمان بن سعید، التیسیر فی القراءات السبع، بہ کوشش اتوپرتسل، استانبول، ۱۹۳۰ع۔
  • ابو الفرج اصفہانی، الاغانی، بولاق، ۱۲۸۵ ق۔
  • ہمو، مقاتل الطالبین، نجف، ۱۳۸۵ ق/۱۹۶۵ع۔
  • ابو القاسم بلخی، عبداللہ بن احمد، «المقالات»، فضل الاعتزال و طبقات المعتزلہ، بہ کوشش فؤاد سید، تونس، ۱۳۹۳ ق/۱۹۷۴ع۔
  • ابو اللیث سمرقندی، نصر بن‌ محمد، «بستان العارفین»، در ہامش تنبیہ الغافلین، دہلی، کتابخانۃ اشاعہ الاسلام۔
  • ہمو، «عقیدہ»، بہ کوشش جوینبول (نک: مل، جوینبول)۔
  • ابو المعالی، محمد بن حسین، بیان الادیان، بہ کوشش ہاشم رضی، تہران، ۱۳۴۲ ش۔
  • ابو نعیم اصفہانی،احمد بن عبداللہ، حیلہ الاولیاء قاہرہ، ۱۳۵۱ ق/ ۱۹۳۲ ع۔
  • ابو یوسف، یعقوب بن ابراہیم، الآثار، بہ کوشش ابو الوفا، قاہرہ، ۱۳۵۵ ق۔
  • ہمو، «اختلاف ابی حنیفہ و ابن ابی لیلی»، ضمن کتاب الام شافعی، ج ۷، بیروت دار المعرفہ۔
  • ہمو، الخراج، بیروت، ۱۳۹۹ ق/۱۹۷۹ع۔
  • احمد بن حنبل، العلل بیروت و معرفہ الرجال، بہ کوشش وصی اللہ عباس، بیروت/ریاض، ۱۴۰۷ ق۔
  • اسفراینی، طاہر بن محمد، التبصیر فی‌ الدین، بہ کوشش محمد زاہد کوثری، قاہرہ، ۱۳۷۴ ق/۱۹۵۵۔ع
  • اشعری، ابو الحسن، «الابانہ»، الرسائل السبعہ فی العقائد، حیدر آباد دکن، ۱۴۰۰ ق/ ۱۹۸۰ع۔
  • ہمو، المع، بہ کوشش ریچارد جوزف مکارتی، بیروت، ۱۹۵۳ع۔
  • ہمو، مقالات الاسلامیین، بہ کوشش ہلموت ریتر، ویسبادن، ۱۴۰۰ ق/۱۹۸۰ع؛
  • اشعری، سعد بن عبداللہ، المقالات و الفرق، بہ کوشش محمد جواد مشکور، تہران، ۱۳۶۱ ش۔
  • اوزجندی، فخرالدین، «فتاوی»، در ہامش الفتاوی النہدیہ، قاہرہ، ۱۳۲۳ ق۔
  • الایضاح، منسوب بہ فضل بن شاذان، بیروت، ۱۴۰۲ ق/۱۹۸۲ع۔
  • بخاری، محمد بن اسماعیل، التاریخ الکبیر، حیدر آباد دکن، ۱۳۹۸ ق/ ۱۹۷۸ع۔
  • بزودی، علی بن محمد، اصول الفقہ، در ہامش کشف الاسرار (نک: علاءالدین بخاری)۔
  • بسوی، یعقوب بن سفیان،المعرف ہو التاریخ، بہ کوشش اکرم ضیاء عمری، بعداد،۱۹۷۵-۱۹۷ع۔
  • بصری، عبداللہ بن سالم، «الامداد»، ضمن رسائل خمسہ اساتید، حیدر آباد دکن، ۱۳۲۸ق /۱۹۱۰ع۔
  • بعلی، عبد الباقی، ریاض اہل الجنۃ، بہ کوشش محمد یاسین فادانی، دمشق،۱۴۰۵ق /۱۹۸۵ع۔
  • بغدادی، عبد القاہر بن طاہر، الفرق بین الفرق، بہ کوشش محمد زاہد کوثری، قاہرہ،۱۳۶۷ق/۱۹۴۸ع۔
  • بلاذری، احمد بن یحیی،اناسب الاشراف، بہ کوشش محمد باقر محمودی، بیروت، ۱۳۹۷ ق/۱۹۷۷ ع۔
  • بیہقی، ابوبکر احمد بن حسین، الاسماء و اصفات، بیروت، دار الکتب العلمیہ۔
  • ہمو، «رسالہ‌ای در فضل ابوالحسن اشعری» ضمن تبیین کذب المفتری (نک: ہم، ابن عساکر)۔
  • بیہقی، علی بن زید، تاریخ بیہق، حیدرآباد دکن،۱۳۸۸ق/۱۹۶۸ع۔
  • پاکتچی، احمد،الاراءالفقہیہ والاصولیہ للشریف الرضی، تہران،۱۴۰۶ق۔
  • تبصرۃالعوام، منسوب بہ مرتضی بن داعی، بہ کوشش عباس اقبال، تہران،۱۳۶۴ش۔
  • ترمذی محمد بن عیس، سسن بہ کوشش احمد محمد شاکر و دیگران، قاہرہ،۱۳۵۷ ق/۱۹۳۸ ع بہ بعد۔
  • ترمسی، محمد محفوظ، کفایۃ المستفید، بہ کوشش محمد یاسین فادانی، بیروت،۱۴۰۸ق/۱۹۸۷ع۔
  • جاحظ، عمرو بن بحر، الحیوان، بہ کوشش عبد السلام ہارون،قاہرہ،۱۳۵۷ق۔
  • ہمو، «فضل ہاشم علی عبد شمس» ضمن رسائل الجاحظ، بہ کوشش حسن سندوبی، قاہرہ،۱۳۵۲ق/۱۹۳۳ع۔
  • جرجانی، علی بن محمد، التعریفات، قاہرہ ۱۳۰۶ق۔
  • جصاص، احمد بن علی، احکام القرآن، بیروت،۱۴۰۵ق/۱۹۸۵ع۔
  • حاجی خلیفہ، کشف۔
  • حکیم سمرقندی، اسماعیل بن محمد، السوادا لاعظم، ترجمہ کہن فارسی، بہ کوشش عبد الحی حبیبی، تہران،۱۳۴۸ش۔
  • خضری، محمد، اصول الفقہ، بیروت، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۱ع۔
  • خطیب بغدادی، احمد بن علی، تاریخ بغداد، قاہرہ،۱۳۴۹ق۔
  • خلیفہ بن خیاط، الطبقات، بہ کوشش سہیل زکار، دمشق ۱۹۶۶ع۔
  • خوارزمی، ابو الموید محمد بن محمود، جامع مساتید ابی حنیفہ، حیدرآباد دکن، ۱۳۳۲ق۔
  • خوارزمی، قاسم بن حسین، «ضرام السقط» ضمن شروح سقط الزند، قاہرہ،۱۳۸۳ق /۱۹۶۴۔
  • خوارزمی، محمد بن احمد، مفاتیح العوم، بہ کوشش فان فلوتن، لیدن،۱۸۹۵ع، دارمی،عبداللہ بن عبد الرحمن، سنن، دمشق ۱۳۴۹ق۔
  • دارمی، عثمان بن سعید، الردعلی بشر المریسی، بہ کوشش محمد حامد فقی، بیروت، دار الکتب العلمیہ۔
  • درجینی، احمد بن سعید، طبقات المشائخ بالمغرب، بہ کوشش ابراہیم طلای، قسنطینہ،۱۳۹۴ق/۱۹۷۴ ع: دفتر کتبخانہ الحاج سلیم آغا، استانبول،۱۳۱۰ق۔
  • ذہبی، محمد بن احمد، سیر اعلام التبلاء، بہ کوشش شعیب ارنووط و دیگران، بیروت،۱۴۰۵ق/۱۹۸۵ع۔
  • العبر، بہ کوشش محمد سعید زغلول، بیروت ۱۴۰۵ق/۱۹۸۵ع۔
  • «رسالہ الامام الہادی (ع) الی اہل الاہواز» نسخہ ابن شعبہ، ضمن تحف العقول، بہ کوشش علی اکبر غفاری، تہران ۱۳۷۶ق؛
  • ہمان، نسخہ طبرسی (نک: ہم،طبرسی)۔
  • زمخشری، محمود بن عمر، الکشاف، قاہرہ، ۱۳۶۶ق/۱۹۴۷ع۔
  • سبکی، عبد الوہاب بن علی، السیف المشہورفی شرح عقیدہ ابی منصور، بہ کوشش مصطفی صائم یپرم،استانبول، ۱۹۸۹ن۔
  • ہمو، طبقات الشانعیہ الکبری، بہ کوشش محمود محمد طناحی و عبد الفتاح محمد حلو، قاہرہ،۱۳۸۳ق/۱۹۶۴ع۔
  • سرخسی، محمد بن احمد، اصول، بہ کوشش ابو الوفا افقانی، حیدرآبادکن،۱۳۷۲ق۔
  • ہمو، المبسوط، قاہرہ، مطبعہ الاستقامہ۔
  • سمعانی، عبدالکریم بن محمد، التحبیرفی المعحم الکبیر، بہ کوشش منیرہ ناجی سالم، بغداد، ۱۳۹۵ق/۱۹۷۵ع۔
  • سید مرتضی، علی ابن حسین، الانتصار، نجف ۱۳۹۱ق/۱۹۷۱ع۔
  • ہمو، الفریعۃ الی اصول الشریعۃ، بہ کوشش ابوالقاسم گرجی، تہران،۱۳۶۳ش؛
  • ہمو، الفصول المختارہ، نجف، کتابخانہ حیدریہ۔
  • سیوری، مقدادبن عبداللہ، کنزالعرفان، بہ کوشش محمد باقر بہبودی، تہران،۱۳۸۴ق۔
  • شافعی، محمد بن ادریس، «اختلاف علی(ع) و ابن مسعود» ضمن کتاب الام،ج ۷، بیروت، دارالمعرفہ۔
  • ہمو، الرسالہ، بہ کوشش احمد محمد شاکر، قاہرہ، ۱۳۵۸ق/۱۹۳۹ع۔
  • «شرح الفقہ الاکر» مسوب بہ ابو منصور ماتریدی، الرسائل السبعہ فی العقائد، حیدرآباد دکن ۱۴۰۰ق /۱۹۸۰ ع۔
  • شماخی، احمد بن سیعد السیر، بہ کوشش احمد بن سعود سیایی، مسقط، ۱۴۰۷ق /۱۹۸۷ع۔
  • شوکانی، محمد بن علی، «اتحاف الاکابر» ضمن رسائل خمسہ اساتید، حیدرآباد دکن،۱۳۲۸ق/۱۹۱۰ع۔
  • شہرستانی، محمد بن عبدالکریم، الملل والنحل، بہ کوشش محمد بن فتح اللہ بدران، قاہرہ،۱۳۷۵ق/۱۹۵۶ ع۔
  • صابونی، احمد بن محمود، البدایہ من الکفایہ، بہ کوشش فتح اللہ خلیف، مصر، ۱۹۶۹ ع۔
  • صریفینی،ابراہیم بن محمد، تاریخ نیسابور (منتخب السیاق عبدالغافر فارسی)، بہ کوشش محمد کاظم محمودی،ضم،۱۴۰۳ق۔
  • صفی الدین بلخی، عبداللہ بن عمر، فضائل بلخ، ترجمہ محمد بن محمد حسینی بلخی، بہ کوشش عبد الحی حبیبی، تہران،۱۳۵۰ش۔
  • صنعانی، عبدالرزاق، المصنف، بہ کوشش حبیب الرحمن اعظمی، بیروت ۱۴۰۳ق /۱۹۸۳ع۔
  • صیمری، حسین بن علی، اخبارابی ہنیفہ واصحابہ، بیروت،۱۴۰۵ق /۱۹۸۵ع۔
  • طبرسی، احمد بن علی، الاحتجاج، بہ کوشش محمد باقر موسوی خرسان، بیروت، ۱۴۰۱ق/۱۹۸۱ع۔
  • طبری، محمد بن جریر اختلاف القہاء، بیروت، دارالکتب العلمیہ۔
  • ہمو،تاریخ ؛ہمو، «المنتخب من کتاب ذیل المذیل» ہمراہ تاریخ طبری،ج۱۱۔
  • طحاری، احمد بن محمد، اختلاف القہاء، بہ کوشش محمد صغیر حسن معصومی، اسلام آباد،۱۳۹۱ق۔
  • ہمو، العقیدۃ الطحاویہ، بیروت ۱۴۰۸ق /۱۹۸۸ع۔
  • طوسی، محمد بن حسن،الاستبصار، بہ کوشش حسن موسوی خرسان، نجف ۱۳۷۵ ق۔
  • طوسی، محمد بن حسن، رجال الطوسی، تصحیح: جواد قیومی اصفہانی، قم، مؤسسۃ النشر الاسلامی التابعۃ لجامعۃ المدرسین بقم المقدسہ، ۱۳۷۳ش۔
  • ہمو، تمہید الاصول، بہ کوشش عبدالمحسن مشکوۃ الدینی، تہران،۱۳۶۲ش۔
  • ہمو، تہذیب الاحکام، بہ کوشش حسن موسوی خرسان، نجف،۱۳۷۹ق۔
  • ہمو، رجال، نجف،۱۳۸۰ق/۱۹۶۱ع۔
  • ہمو، الفہرست، نجف، کتابخانہ مرتضویہ۔
  • ظاہریہ، خطی۔
  • العالم و المتعلم، بہ کوشش محمد رواس قلہ جی و عبدالوہاب ہندی ندوی، حلب،۱۳۹۲ق/۱۹۷۲ ع۔
  • عبادی، محمد بن احمد، طبقات الفقہاءالشافعیہ بہ کوشش گوستاویتستام، لیدن،۱۹۶۴ ع۔
  • عبداللہ بن احمد بن حنبل، السنہ،بہ کوشش محمد بن سعید قحطانی، ریاض، ۱۴۰۶ق /۱۹۸۶ع۔
  • عبد القادر قرشی، الجواہرالمضیہ،حیدرآباد دکن،۱۳۳۲ق۔
  • عنبی، ابو نصر «التاریخ الیمینی» ضمن الفتح الوہبی منینی، قاہرہ،۱۲۸۶ق؛
  • عجلی، احمد بن عبداللہ، تاریخ الثقات، بہ کوشش عبد المعطی قلمجی، بیروت، ۱۴۰۵ق /۱۹۸۴ع۔
  • عطار نیشابوری، فریدالدین، تذکرہ الاولیاء، بہ کوشش محمد استعلامی، تہران، ۱۳۶۳ش؛
  • عقیلی، محمد بن عمرو، کتاب الضعفاءالکبیر، بہ کوشش عبدالمعطی امین قلمجی، بیروت، ۱۴۰۴ق ۱۹۸۴ع۔
  • علاء الدین بخاری، عبد الغزیز بن احمد، کشف الاسرار، استانبول ۱۳۰۸ق۔
  • العیون و الحدائق، بہ کوشش دخویہ، لیدن،۱۸۷۱م؛ غزالی،محمدابن محمد، المنخول من تعلیقات الاصول، بہ کوشش محمد حسن ہیتو، دمشق،۱۴۰۰ق/۱۹۸۰ د۔
  • غنیمی، عبدالغنی، اللباب فی شرح الکتاب، بہ کوشش محمد محیی الدین عبدالحمید، قاہرہ،۱۳۸۳ق/۱۹۶۳ ع۔
  • فصیح خوافی، مجمل فصیحی، بہ کوشش محمود فرخ، مشہد، ۱۳۳۹ ش۔
  • «الفقہ الاکبر (۱)» منسوب بہ ابو حنیفہ، ضمن «شرح الفقہ الاکبر» (نک:ہم)۔
  • الفقہ الاکبر (۲)، منسوب بہ ہمو، قاہرہ، مکتبہ محمد علی صبیح و اولادہ:
  • «الفقہ الاکبر (۳)» منسوب بہ شافعی، ہمراہ با الفقہ الاکبر (۲) (نک:ہم)۔
  • قاضی عبد الجبار، فضل الاعتزال، بہ کوشش فواد سید، تونس، ۱۳۹۳ق /۱۹۷۴ ع۔
  • قاضی عیاض، ترتیب المدارک، بہ کوشش احمد بکیر محمود، بیروت /طرابلس ۱۳۸۷ق /۱۹۶۷ع۔
  • قاضی نعمان مغربی، دعائم الاسلام، بہ کوشش آصف فیضی، قاہرہ، ۱۳۸۳ق/۱۹۶۳ع۔
  • قدوری، احمد بن محمد «مختصر»، ہمراہ بااللباب (نک: ہم،غنیمی)۔
  • قرآن کریم قرطبی، محمد بن احمد، الجامع لاحکام القرآن، قاہرہ ۱۳۷۲ق/۱۹۵۲ع۔
  • قزوینی رازی عبدالجلیل، نقض، بہ کوشش جلال الدین محدث، تہران، ۱۳۵۸ش۔
  • قلقشندی، احمد بن علی، صبح الاعشی، قاہرہ، ۱۳۸۳ق /۱۹۶۳ع۔
  • کتانی، عبدالحی بن عبد الکبیر، فہرس الفہارس والاثبات، بہ کوشش احسان عباس، بیروت ۱۴۰۲ق /۱۹۸۲ع۔
  • کتانی، محمد بن جعفر الرسالہ المستطرفہ، استنابول، ۱۹۸۶ ع۔
  • کراجکی، محمد بن علی، کنز الفوائد، تبریز، ۱۳۲۲ ق۔
  • کشی، محمد، معرفہ الرجال، اختیار طوسی، بہ کوشش حسن مصطفوی، مشہد، ۱۳۴۸ ش۔
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، بہ کوشش علی‌اکبر غفاری، تہران، ۱۳۹۱ ق۔
  • کندی، محمد بن یوسف، الولاہ و کتاب القضاہ، بہ کوشش روون گست، بیروت، ۱۹۰۸ ع۔
  • کورانی، ابراہیم بن حسن، «الامم لا یقاظ الہمم»، ضون رسائل خمسہ اسانید، حیدرآباد دکن، ۱۳۲۸ ق/ ۱۹۱۰ ع۔
  • لکنہوی، محمد عبدالحی، الفوائد البہیہ، قاہرہ، ۱۳۲۴ق/۱۹۰۶ ع۔

ماتریدی، محمد بن محمد، التوحید، بہ کوشش فتح اللہ خلیف، بیروت، ۱۹۸۶ ع۔

  • ہمو، «عقیدہ»۔ ضمن السیف المشہور (نک: ہم، سبکی)۔
  • مالک بن انس، الموطأ، بہ کوشش محمد فؤاد عبدالباقی، قاہرہ، ۱۳۷۰ ق/۱۹۵۱ ع۔
  • «المبانی»، مقدمتان فی علوم القرآن، بہ کوشش آرتور جفری، قاہرہ، ۱۹۵۴ع۔
  • مجمل التواریخ و القصص، بہ کوشش ملک الشعراء بہار، تہرا، ۱۳۱۸ ق؛
  • محلی، حمید بن احمد، «الحدائق الوردیہ»، اخبار الائمہ الزیدیہ، بہ کوشش مادلونگ، بیروت، ۱۹۸۷ ع۔
  • محمد بن حسن شیبانی، الاصل، حیدرآباد دکن، ۱۳۸۹ ق/۱۹۶۹ ع۔
  • ہمو، الحجہ علی اہل المدینہ، بہ کوشش مہدی حسن کیلانی، حیدر آباد دکن، ۱۳۸۵ ق/۱۹۶۵ ع۔
  • مرغینانی، علی بن عبد الجلیل، «الہدایہ»، ہمراہ با شرح فتح القدیر، قاہرہ، ۱۳۱۹ ق۔
  • مروزی، محمد بن نصر، اختلاف العلماء، بہ کوشش صبحی سامرایی، بیروت، ۱۴۰۶ ق/۱۹۸۶ع۔
  • مزی، یوسف بن عبدالرحمن، تہذیب الکمال، نسخۃ خطی کتابخانۃ احمد ثالث، شم ۲۸۴۸۔
  • مسعودی، علی بن حسین، مروج الذہب، بہ کوشش یوسف اسعد داغر، بیروت، ۱۳۸۵ ق/۱۹۶۶ع۔
  • مسند اید بن علی، بیروت، ۱۹۶۶ع۔
  • مفید، محمد بن محمد، الاختصاص، بہ کوشش علی‌اکبر غفاری، قم، جامعہ المدرسین۔
  • ہمو، امالی، بہ کوشش استادولی و غفاری، قم، ۱۴۰۳ ق۔
  • ہمو، «المسائل الصانیہ»، عدہ رسائل، قم، مکتبہ المفید۔
  • مقدسی، محمد بن احمد، احسن التقاسیم، بیروت، ۱۴۰۸ ق/۱۹۸۷ ع۔
  • مکی، موفق ابن احمد، مناقب ابی حنیفہ، حیدر آباد دکن، ۱۳۲۱ ق۔
  • ملا حسین رومی، «الجوہرہ المنیفہ»، الرسائل السبعہ فی العقائد، حیدر آباد دکن، ۱۴۰۰ ق/ ۱۹۸۰ ع۔
  • ملا علی قاری، شرح الفقہ الاکبر، بیروت، ۱۴۰۴ ق/۱۹۸۴ ع۔
  • منتخب‌ الدین رازی، علی‌ بن عبیداللہ، الاربعون حدیثاً، قم، ۱۴۰۷ ق۔
  • ناشیء اکبر، عبداللہ بن محمد، مسائل الامامہ، بہ کوشش یوزف فان اس، بیروت، ۱۹۷۱ ع۔
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال، بہ کوشش موسی شیبری زنجانی، قم، ۱۴۰۷ ق۔
  • نسایی، احمد بن شعیب، قاہرہ، ۱۳۴۸ ق۔
  • نوبختی، حسن بن موسی، فرق الشیعہ، نجف، ۱۳۵۵ ق/ ۱۹۳۶ع۔
  • نووی، یحیی بن شرف، تہذیب الاسماء و اللغات، قاہرہ، ۱۹۲۷ ع۔
  • «الوصیہ»، منسوب بہ ابو حنیفہ، ہمراہ با «الجوہرہ المنیفہ» (نک: ہم، ملاحسین رومی)۔
  • ہجویری، علی بن عثمان، کشف المحجوب، بہ کوشش و النتین ژوکوفسکی، لنینگراد، ۱۳۴۴ ق/ ۱۹۲۶ ع۔
  • یاقوت، المشترکہ وضعاً و المفترق صقماً، بہ کوشش ف، ووسنفلد، گوتینگن، ۱۸۴۶ ع۔
  • یحیی بن معین، معرفہ الرجال، بہ کوشش محمد کامل قصار، دمشق، ۱۴۰۵ ق/۱۹۸۵ ع۔
  • رستگار، پرویز، بررسی سخن پیشوای حنفیان؛ لولاالسنتان لہک النعمان، دو فصل نامہ حدیث‌ پژوہی، سال سوم، شمارہ پنجم بہار و تابستان، ۱۳۹۰ش۔
  • آلوسی، نعمان بن محمود، مختصر تحفۃ الاثناعشریہ، مطبع سلفیہ، قاہرہ، ۱۳۸۷ش۔
  • ابن حجر ہیثمی، احمد بن محمد، الصواعق المحرقہ، تہران۔
  • ذہبی، شمس‌ الدین، دار احیاء، التراث العربی، بیروت۔
  • مزی، ابو الحجاج، تہذیب الکمال، تحقیق: بشار عواد معروف، مؤسسہ الرسالہ، بیروت،۱۴۱۳ق-۱۹۹۲ ع۔
  • قرمانی، احمد بن یوسف، اخبار الدول، عالم الکتب، بیروت، ۱۴۱۲ق۔
  • دہلوی، شاہ عبد العزیز؛ مختصر التحفۀ الاثنی عشریہ؛ ریاض: الرئاسۀ العامۀ لادارات البحوث العلمیۀ و الافتاء و الدعوۀ و الارشاد، ۱۴۰۴۰ق۔
  • شعکہ، مصطفی، الائمہ الاربعہ، درالکتب البنانی، ۱۴۰۳ق۔
  • ابو زہرہ، محمد، ابو حنیفہ، در الفکر العربی، بی‌ تا۔
  • ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغہ، دار احیاء الکتب العربیہ، ۱۹۶۲ق۔
  • ابن صباغ مالکی، الفصول المہمہ فی معرفۃ الائمۃ علیہم السلام، دار الحدیث، ۱۴۲۲ق۔
  • قندوزی، سلیمان بن ابراہیم، ینابیع المودۃ لذو القربی، اسوہ، قم، ۱۴۲۲ق۔