محمد بن علی نقی (ع)

ویکی شیعہ سے
(محمد بن علی النقی (ع) سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بسم اللّه الرّحمن الرّحیم
محمد بن علی نقی (ع)
امامزاده سید محمد.jpg
نام محمد بن علی نقیؑ
وجہ شہرت امام زادہ
کنیت ابو جعفر
لقب سید محمد
تاریخ پیدائش ۲۲۸ ق صریا (مدینہ)
مدفن شہر بلد، کاظمین اور سامرا کے درمیان
والد امام علی نقی (ع)
مشہور امام زادے
عباس بن علی، زینب کبری، فاطمہ معصومہ، علی اکبر، علی اصغر، عبد العظیم حسنی، احمد بن موسی، سید محمد، سیدہ نفیسہ


ابو جعفر محمد بن علی نقی شیعوں کے دسویں امام علی نقی علیہ السلام کے سب سے بڑے فرزند ہیں جو سید محمد کے نام سے اور اہل قریہ کی اصطلاح میں سبع الدجیل (شیر مرد) کے لقب سے معروف ہیں۔ روحانی اور اخلاقی عظمت اور منزلت کی وجہ سے شیعہ اور غیر شیعہ سب یہ گمان کرتے تھے کہ امام علی نقی علیہ السلام کے بعد منصب امامت ان کو ملے گا۔ لیکن امام علی نقی (ع) کی زندگی میں ہی ان کی وفات نے اس گمان کو ختم کر دیا۔

سید محمد کا روضہ عراق کے بلد نامی شہر میں ہے جو جنوب سامرا سے ۵۰ کیلو میٹر کے فاصلہ پر واقع ہے اور تمام شیعوں خاص طور پر عراق کے شیعوں میں بیحد مقبول زیارت گاہ ہے۔ ان کی بہت سی کرامات نقل ہوئی ہیں۔

۱۷ تیر ۱۳۹۵ شمسی بمطابق 7 جولائی 2016 ع میں شام کے وقت سید محمد (ع) کا روضہ ایک دہشت گردانہ حملے کا شکار ہو چکا ہے۔

ولادت، نسب اور اولاد

سید محمد کی ولادت سن ۲۲۸ ھجری قمری کے قریب مدینہ کے نزدیک صریا نامی قریہ میں ہوئی۔ مشہور قول کے مطابق، وہ امام علی نقی علیہ السلام کی پہلی اولاد[1] اور امام حسن عسکری علیہ السلام سے بڑے ہیں۔ ان کی والدہ کا نام حدیث (یا سلیل) تھا۔[2]

جس وقت امام علی نقی علیہ السلام متوکل عباسی کے حکم سے سامرا میں حاضر کئے گئے اس محمد (جن کی عمر ۵ برس تھی) صریا میں ہی رہ گئے۔

  • اولاد

بحر الانساب نامی کتاب میں نقل ہوا ہے کہ سید محمد کے ۹ بیٹے تھے کہ جن میں سے بعض ایران کے شہر خوئی، سلماس میں مدفون ہیں۔ ان کی نسل فقط ان دو بیٹوں سے آگے بڑھی ہے جن کے اسمائ احمد اور علی ہیں۔[3]


اخلاقی کمالات

ابو جعفر سید محمد بیحد بلند اخلاق اور ادب کے حامل تھے۔ اور یہ خوبیاں انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی تھیں۔ یہاں تک کہ شیعوں کا یہ ماننا تھا کہ منصب امامت امام علی نقی علیہ السلام کے بعد ان تک پہچے گا۔

الکلانی ان کی شخصیت کے بارے میں اس طرح سے کہتے ہیں:

میں ابو جعفر سید محمد کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت وہ عنفوان شباب اور کمسنی کی منزل میں تھے۔ میں ان سے زیادہ با وقار، بزرگوار، جلیل القدر اور پاکیزہ نفس کسی کو نہیں پایا۔ اس وقت امام حسن عسکری علیہ السلام حجاز میں صغر سنی کے عالم میں تھے اور سید محمد ان کی بیحد ستایش کرتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے بھائی امام حسن عسکری (ع) کے ہمراہ رہتے تھے اور ان جدا نہیں ہوتے تھے۔ اور امام (ع) نے بھی ان کی تعلیم و تربیت اپنے ذمہ لی ہوئی تھی اور انہیں اپنے علوم و معارف اور آداب سے مستفیض فرماتے تھے۔[4]

چونکہ سید محمد صاحب استعداد اور لیاقت تھے لہذا شیعہ یہ تصور کرتے تھے کہ اگلے امام وہی ہوں گے۔ لیکن امام علی نقی (ع) کی زندگی میں ہی ان کی وفات کے بعد امام (ع) نے امر امامت میں اپنے جانشین کے سلسلہ میں شیعوں کی رہنمائی فرمائی اور انہیں امام حسن عسکری (ع) کی امامت سے آگاہ کیا۔[5]

وفات

سید محمد نے سن ۲۵۲ ھجری قمری میں خانہ خدا کی زیارت کے لئے سفر کا ارادہ کیا۔ جس وقت آپ بلد نامی قریہ (سامرا، عراق) کے پاس پہچے آپ کی طبیعت خراب ہو گئی اور ۲۹ جمادی الثانیۃ میں آپ نے وفات پائی۔ شیعوں نے آپ کو وہیں پر دفن کر دیا اور بعض نے آپ کو عباسیوں کی طرف سے زہر دینے کے احتمال کا ذکر بھی کیا ہے۔[6]

آپ کی وفات کے بعد امام علی نقی (ع) نے آپ کے لئے مجلس ختم منعقد کی اور بعض بنی ہاشم جن میں حسن بن حسن افسط بھی شامل ہیں، نے نقل کیا ہے:

سید محمد کی وفات کے روز جب ہم امام علی نقی (ع) کے بیت الشرف میں گئے تو دیکھا کہ صحن خانہ میں فرش بچھا ہوا ہے اور حلقہ بنائے ہوئے بیٹھے ہیں، ہم نے جمعیت کا اندازہ لگایا تو غلاموں اور دوسرے افراد کے علاوہ ۱۵۰ لوگ آل ابی طالب، بنی ہاشم اور قریش سے موجود اور شریک تھے کہ اچانک امام حسن عسکری (ع) جن کا گریبان اپنے بھائی کی موت کی وجہ سے چاک تھا، وہاں وارد ہوئے اور اپنے والد ماجد کے پاس کھڑے ہو گئے، ہم حضرت کو نہیں پہچانتے تھے۔ کچھ دیر کے بعد امام علی نقی (ع) نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: "یا بنی احدث للہ شکرا فقد احدث فیک امرا۔" ترجمہ: (اے بیٹا اللہ کا شکر ادا کرو کہ اس نے یہ امر تمہارے سپرد کیا) امام حسن عسکری (ع) نے گریہ کیا اور فرمایا: " الحمد اللہ رب العالمین، ایاہ نشکر نعمہ علینا و انا للہ و انا الیہ راجعون۔" ترجمہ: (تمام حمد عالمین کے پروردگار کے لئے ہے، جو نعمتیں اس نے ہمیں عطا فرمائی ہیں، ہم اس کا شکر ادا کرتے ہیں اور ہم سب اللہ کے لئے ہیں اور بیشک اسی کی طرف پلٹ کر جانے والے ہیں۔) میں نے پوچھا وہ کون ہیں؟ جواب ملا وہ امام علی نقی (ع) کے بیٹے حسن عسکری ہیں۔ اس وقت ان کا سن ۲۰ سال کے قریب معلوم ہو رہا تھا تو ہم نے سمجھ لیا کہ اپنے والد امام علی نقی (ع) کے بعد وہ ہمارے امام ہوں گے۔[7]

فرقہ محمدیہ

سید محمد کی وفات کے بعد بعض شیعوں نے جو ان کی امامت کے طرف دار تھے۔ انہوں نے کہا: ان کی وفات نہیں ہوئی ہے وہ زندہ ہیں۔ کیونکہ امام علی نقی (ع) نے امامت کے لئے ان کا تعارف کرایا ہے اور جیسا کہ امام کی طرف جھوٹ کی نسبت دینا جائز نہیں ہے اور یہ بھی نہیں کہا جا سکتا ہے کہ بداء واقع ہوا ہے لہذا وہ امام کے جانشین ہیں اور ان کے والد نے لوگوں کی طرف انہیں گزند پہنچنے کے خوف سے چھپا دیا ہے۔[8]

امام زادہ سید محمد کا روضہ

امام زادہ سید محمد کا روضہ صلاح الدین ضلع کے شہر بلد میں واقع ہے جو شمال بغداد سے ۸۵ کیلو میٹر کے فاصلہ پر ہے۔ اور آج وہ شیعوں کی ایک زیارت گاہ کے طور پر معروف ہے۔

اس روضہ کی اولین تعمیر کے سلسلہ میں واضح اطلاعات دسترس میں نہیں ہیں۔ البتہ جو تعمیراتی کام سن ۱۳۷۹ سے ۱۳۸۴ ھجری قمری کے درمیان انجام پائے ہیں ان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس روضہ کی سب سے پہلی عمارت کی چوتھی صدی ھجری میں عضد الدولہ دیلمی کے ہاتھوں انجام پائی ہے۔ اور اس کے بعد دوسری تعمیر دسویں صدی ہجری میں شاہ اسماعیل صفوی نے فتح بغداد کے بعد کرائی تھی۔

ضریح پر موجود ایک کتیبہ پر لکھا ہوا ہے:

یہ سید جلیل ابو جعفر سید محمد بن امام علی نقی (ع) کا مرقد ہے جو عظیم الشان انسان تھے اور شیعوں کو یہ گمان تھا کہ امام علی نقی (ع) کے بعد عہدہ امامت ان تک پہچے گا اور جب ان کی رحلت ہو گئی تو امام علی نقی (ع) نے امام حسن عسکری (ع) کی امامت کی طرف اشارہ فرمایا۔ جس وقت امام ہادی (ع) مدینہ سے سامرا کی طرف جا رہے تھے اس وقت سید محمد ایک کم عمر بچہ تھے اور بعد میں جب وہ بلوغ کی منزل میں پہچے تو انہوں نے سامرا کا سفر کیا اور کچھ عرصہ وہاں رہے اور اس کے بعد انہوں نے مدینہ واپسی کا قصد کیا اور جب سامرا سے ۹ فرسخ کے فاصلہ پر بلد نامی دیہات تک پہچے تو بیمار پڑ گئے اور وہیں آپ کی وفات ہو گئی۔[9]

دہشت گردانہ حملہ

۱۷ تیر ۱۳۹۵ شمسی بمطابق 7جولائی2016 میں شام کے وقت سید محمد (ع) کا روضہ ایک دہشت گردانہ حملہ کا شکار بنا۔ داعش نامی دہشت گرد گروہ کے افراد نے پہلے تو روضے پر دور سے گولے برسائے پھر اس کے بعد کچھ دہشت گردوں نے روضہ کے نزدیک خودکش حملہ کے ذریعہ خود کو بم باندھ کر اڑا دیا۔[10]

کرامات

سید محمد کی طرف بہت سی کرامات دیکھنے میں آئیں ہیں۔ میرزا حسین نوری نے اپنی کتاب النجم الثاقب میں تحریر کیا ہے:

سید محمد، صاحب کرامات متواتر ہیں۔ حتی وہ اہل سنت کے یہاں بھی شہرت رکھتے ہیں۔ عراق کے لوگ حتی بادیہ نشین ان کے نام کی قسم کھانے سے ڈرتے ہیں۔ اگر ان پر مال کی چوری کا الزام لگایا جائے تو وہ مال تو واپس کر دیتے ہیں لیکن سید محمد کی قسم نہیں کھاتے۔

بعض علمائ نے سید محمد کی کرامات کے سلسلہ میں کتابیں تالیف کی ہیں؛ منجملہ ان میں سے ایک فارسی کتاب ہے جس کا نام یہ ہے: رسالہ ای در کرامات سید محمد بن علی الہادی، جس کے مولف مہدی آل عبد الغفار کشمیری ہیں۔ یہاں پر ان کی کرامات کے ایک نمونہ کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ علامہ سید میرزا ہادی خراسانی، سید حسن آل خوجہ سے جو امامین عسکریین کے روضہ کے خادم تھے، نقل کرتے ہیں:

وہ کہتے ہیں کہ میں ایک روز ابو جعفر سید محمد کے روضہ مبارک کے صحن میں بیٹھا ہوا تھا کہ متوجہ ہوا کہ ایک عرب شخص جس نے اپنا ایک ہاتھ اپنی گردن کے پیچھے کی طرف کیا ہوا تھا، روضہ میں وارد ہوا تو میں اس کے نزدیک گیا اور اس سے اس کی بیماری کی علت کے بارے میں دریافت کیا۔ اس نے کہا کہ میں گزشتہ سال ایک روز اپنی بہن کے گھر گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے صحن میں ایک گوسفند بندھا ہوا ہے، میں نے چاہا کہ اسے ذبح کرکے کھایا جائے میری بہن ایسا کرنے کی اجازت نہیں دی اور کہا کہ یہ گوسفند سید محمد کی نذر ہے۔ میں اس کی باتوں پر توجہ نہیں دی اور اسے ذبح کر ڈالا۔ تین دن کے بعد سے میرے ہاتھ میں لقوے کے آثار نمایاں ہونے لگے اور دن بہ دن وہ بڑھنے لگا میں اس کی علت کی طرف متوجہ نہیں تھا یہاں تک کہ ادھر میں اس کی طرف متوجہ ہوا اور میں پشمیان ہوں اور شفا کے لئے یہاں سید محمد کے روضہ پر آیا ہوں۔ اس کے بعد وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ روضہ میں داخل ہوا اور گریہ و زاری کرنے لگا تھوڑی دیر کے بعد میں نے دیکھا کہ اس کے ہاتھ میں حرکت پیدا ہو گئی ہے۔ اس نے سجدہ شکر ادا کیا اور اس کے نذر مانی کہ ہر سال ایک گوسفند لا کر سید محمد کی طرف سے اسے ذبح کرے گا۔[11]

سید محمد کے سلسلہ میں کتاب

حیات و کرامات ابو جعفر محمد بن الامام علی الهادی (ع) نام کی ایک کتاب جس کے مولف محمد علی اردو بادی (۱۳۱۲۔۱۳۸۰ ق) ہیں اور جو عربی زبان میں سید محمد کی سوانح عمری کے سلسلہ میں تالیف کی گئی ہے اور اس کا فارسی ترجمہ ستارہ دجیل کے نام سے علی اکبر مہدی پور کے مقدمہ کے ساتھ شائع ہوا ہے۔ اس کتاب کے آخر میں ایک ضمیمہ (ص ۱۴۳ سے ۱۹۹) شامل کیا گیا ہے جس میں مولف کتاب اور ان کی اولاد کی سوانح حیات کے ساتھ سید محمد پر کتاب نامہ اور ان کا زیارت نامہ موجود ہے۔ یہ کتاب دو حصوں میں تدوین کی گئی ہے۔ مصنف نے پہلے حصہ میں امام زادہ سید محمد کی زندگی کے مراحل کی تبیین کی ہے اور دوسرے حصہ میں ان کی کرامات کا ذکر کیا ہے۔

فوٹو گیلری

حوالہ جات

  1. طوسی؛ الغیبه ،ص:۲۰۰
  2. بحارالانوار، ج۵۰، ص۲۳۷-۲۳۸
  3. سبع الجزیرہ
  4. قرشی، زندگانی امام حسن عسکری (ع) ، ،ص:۲۳
  5. قرشی، زندگانی امام حسن عسکری (ع) ، ،ص:۲۳
  6. قرشی زندگانی امام حسن عسکری (ع)، ص:۳۰
  7. مجلسی، بحار الأنوار، ج‏۵۰، ص ۲۴۶
  8. اشعری قمی، المقالات و الفرق، ص۱۰۱
  9. احسان مقدس، ص۳۱۲
  10. خبرگزاری ابنا
  11. احسان مقدس ، ص۳۰۲.


مآخذ

  • احسان مقدس، راهنمای اماکن زیارتی و سیاحتی در عراق، نشر مشعر
  • رجائی، مهدی، المعقبون، من آل ابی‌ طالب، موسسه عاشورا، قم، ۱۳۸۵ش
  • طوسی، محمد بن حسن،الغیبه، قم، دار المعارف الإسلامیة، ۱۴۱۱ق
  • قرشی، باقر شریف، زندگانی امام حسن عسکری (ع)‏، ترجمه سید حسن اسلامی‏، قم‏، جامعه مدرسین‏، ۱۳۷۵ش‏
  • کلینی، محمد بن یعقوب ،اصول کافی ،تحقیق علی اکبر غفاری ،تهران، دارالکنب الاسلامیه، ۱۳۸۸ق
  • مجلسی، بحار الأنوار الجامعة لدرر أخبار الأئمة الأطهار، تهران‏، اسلامیة،۱۳۶۳ش
  • مفید، الإرشاد فی معرفة حجج الله علی العباد، قم، کنگره شیخ مفید، ۱۴۱۳ق
  • طبرسی، فضل بن حسن، اعلام الوری باعلام الهدی، تحقیق علی اکبر غفاری بیروت، دارالمعرفه، ۱۳۹۹ق
  • اشعری قمی، المقالات و الفرق، تصحیح محمد جواد مشکور، مرکز انتشارات علمی و فرهنگی، ۱۳۶۱ش