الکافی (کتاب)

ویکی شیعہ سے
(کافی سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
الکافی
کتاب الکافی.jpg
مؤلف: ثقۃ الاسلام کلینی
زبان: عربی
موضوع: اعتقادات،اخلاق،آداب،فقہی،....
ناشر: قسم احیاء التراث مرکز بحوث دار الحدیث

الکافی؛ معتبر ترین شیعہ مآخذ و منابع حدیث میں سے اور کتب اربعہ میں معتبر ترین کتاب اور محدث شہیر ثقۃ الاسلام أبو جعفر محمد بن يعقوب بن اسحق الكليني الرازي، البغدادی المعروف کلینی رازی، (متوفّىٰ سنہ 329ہجری)، کی تالیف ہے۔ علمائے شیعہ نے نے نہایت مضبوط اور قابل استناد عبارات سے ان کی توثیق کی ہے۔ یہ کتاب علمائے اسلام کا مرجع ہے۔ اس کتاب کو تین حصوں میں مرتب کیا گیا ہے:

اس کتاب کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں مندرجہ حدیثوں کو قرآن کی عدم مخالفت اور اجماع کے ساتھ مطابقت کی بنیاد پر نقل کی گئی ہیں۔

کلینی امام عسکری(ع) کے ایام حیات نیز امام زمانہ کی غیبت صغری کے زمانے میں ہو گذرے ہیں چنانچہ انہیں ائمہ(ع) اور اصحاب ائمہ(ع) نیز نواب اربعہ تک رسائی حاصل تھی؛ شیعہ کتب و رسائل کا مجموعہ اصول اربعمأئہ بھی ان کی دسترس میں تھا، چنانچہ انھوں نے نقل حدیث میں کم سے کم واسطوں کو بروئے کار لایا ہے۔

الکافی کا سلسلہ سند

الکافی کی روایات کے سلسلۂ سند کے بارے میں مشائخ کی ایک مفصل فہرست پائی جاتی ہے جن کی تعداد 30 تک پہنچتی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ الکلینی نے ان میں سے ہر ایک سے بڑی تعداد میں حدیثیں نقل کی ہیں؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انھوں نے زیادہ تر حدیثیں آٹھ افراد سے نقل کی ہیں؛ جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں:

  1. علی بن ابراهیم قمی سے 7068 حدیثیں۔
  2. محمد بن یحیای عطار اشعری قمی سے 5073 حدیثیں۔
  3. ابوعلی اشعری قمی سے 875 حدیثیں۔
  4. ابن‌عامر حسین بن محمد اشعری قمی سے 830 حدیثیں۔
  5. محمد بن اسماعیل نیشابوری سے 758 حدیثیں۔
  6. حمید بن زیاد کوفی سے 450 حدیثیں۔
  7. احمد بن ادریس اشعری قمی سے 154 حدیثیں۔
  8. علی بن محمد سے 76 حدیثیں۔

مؤلف کے بارے میں

مفصل مضمون: کلینی رازی

ثقۃ الإسلام، شيخ المشائخ، محمد بن يعقوب بن اسحق كلينى رازى، (متوفٰی 328 (یا 329)ہجری) غیبت صغری کے زمانے میں شیعہ اکابرین میں شمار ہوتے تھے؛ اور تیسری صدی ہجری کے نصف سوئم اور چوتھی صدی ہجری کے نصف اول کے عظیم ترین شیعہ محدثین کے زمرے میں آتے تھے۔

وجۂ تسمیہ

کتاب کا نام الکافی رکھنے کے حوالے سے دو نکتہ بیان ہوئے ہیں:

  1. کلینی کتاب طہارت کے خطبے میں کہتے ہیں: یہ کتاب علم دین کے تمام فنون کے لئے "کافی" ہے۔[1]
  2. یہ نام اس کلام سے ماخوذ ہے جس کی نسبت امام زمانہ(عج) کو دی گئی ہے؛ مروی ہے کہ امام زمانہ(عج) نے فرمایا:
الكافي كافٍ لشيعتنا۔
یعنی "الکافی ہمارے پیروکاروں کے لئے کافی ہے"۔ یہ جملہ اس وقت ناحیۂ مقدسہ سے صادر ہوا جب الکافی کو [[امام زمانہ(عج) کی خدمت میں پیش کیا گیا اور آپ(عج) اس کی تحسین و تعریف فرمائی۔[2] کتاب "الکلینی والکافی" کے مؤلف، شيخ عبد الرسول غفاري میرزا عبداللہ افندی کی کتاب ریاض العلماء[3] میں ملا خلیل قزوینی کے حالات زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ "حضرت صاحب(عج) نے پوری کتاب الکافی کا مشاہدہ فرمایا ہے اور اس کی تعریف کی ہے اور جہاں بھی کلینی نے کوئی روایت نقل کی ہے جس کا آغاز "وَرُوِیَ" سے ہوا ہے وہ روایت انھوں نے براہ راست اور بغیر کسی واسطے سے امام زمانہ(عج) سے نقل کی ہے۔[4]

الکافی بزرگوں کے کلام میں

شیخ مفید[5] کہتے ہیں: یہ کتاب برترین و بہترین شیعہ کتب میں سے ایک ہے جو کثیر فوائد کی حامل ہے۔[6]

شہید اول[7] کہتے ہیں: "الکافی ایسی کتاب حدیث ہے جس کی مانند کوئی کتاب اصحاب (امامیہ) نہیں لا سکے ہیں۔[8]

محمد تقی مجلسی[9] لکھتے ہیں: "اصول کی تمام کتب سے زیادہ مضبوط و مستحکم اور سب سے زیادہ جامع ہے اور فرقۂ ناجیہ ‌(امامیہ) کی عظيم ترین تالیف ہے۔[10]

آقا بزرگ تهرانی[11] کا کہنا ہے: الکافی ایسی کتاب ہے کہ حدیث اہل بیت(ع) نقل کرنے کے حوالے سے اس جیسی کتاب اب تک مکتوب نہیں ہوئی ہے۔[12]

استرآبادی[13] علماء اور اپنے اساتذہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: "اسلام میں الکافی کے برابر یا اس کے پائے کے قریب تر کوئی کتب تالیف نہيں ہوئی ہے"۔[14]

آیت اللہ خوئی[15] از قول استادش نائینی[16] کہتے ہیں: "الکافی میں مندرجہ احادیث کی اسناد میں نزاع کرنا، عاجز اور بےبس افراد کا پیشہ اور ہتکھنڈہ ہے"۔[17]

اسباب تالیف

جیسا کہ جناب کلینی نے کتاب کے مقدمے میں لکھا ہے انھوں نے کتاب الکافی کو ایسے شخص کی درخواست پر تالیف کیا ہے جس کو وہ "دینی بھائی" کا نام دیتے ہیں:

اما بعد اے میرے بھائی۔۔۔ تم نے پوچھا کہ کیا جائز ہے کہ لوگ نادانی میں زندگی بسر کریں اور کچھ جانے بوجھے بغیر مسلمان رہیں، کیونکہ ان کی دینداری عادت اور اپنے آباء و اجداد اور بڑوں کی تقلید پر مبنی ہے۔۔۔؟
تم نے یادآوری کرائی کہ موجودہ روایات میں موجودہ اختلاف کی وجہ سے بعض مسائل تمہارے لئے مشکل ہوچکے ہیں اور ان مسائل کی حقیقت کو نہیں سمجھ رہے ہو۔۔۔ اور کوئی قابل اعتماد عالم تمہاری دسترس میں نہیں ہے کہ اس سے ملو اور اس کے ساتھ مذاکرہ اور گفتگو کرسکو، تم نے کہا کہ تمہیں ایسی کتاب کی ضرورت ہے جو کافی ہو اور علم دین کے تمام فنون اس میں مجتمع ہوں، تاکہ طالب علم کے لئے کافی ہو اور راہ تلاش کرنے والوں کے لئے مرجع ٹہرے۔۔۔ تم نے کہا کہ تمہیں امید ہے کہ خداوند متعال ایسی کتاب کے ذریعے ہمارے ہم مسلکوں کی مدد اور دستگیری کرے اور اپنے پیشواؤں کی طرف مائل کرے۔
تمام تعریفین اس پروردگار کے لئے ہیں جس نے تمہاری مطلوبہ کتاب کی تالیف کو میسر اور ممکن بنایا اور مجھے امید ہے کہ یہ کتاب ویسی ہی ہو جیسا کہ تم چاہتے تھے۔[18]

اسلوب تالیف

کلینی لکھتے ہیں کہ انھوں نے اس کتاب کی حدیثوں کو قرآن کے ساتھ عدم مخالفت اور اجماع کے ساتھ ہمآہنگی کو بنیاد بنا کر اکٹھا کیا ہے اور جہاں دو احادیث کے درمیان انہیں کوئی وجۂ ترجیح نظر نہيں آئی وہاں انھوں نے اس حدیث کو منتخب کیا ہے جو ان کی رائے میں صحت کے قریب تر تھی۔[19]

امتیازات و خصوصیات

کلینی نے اصحاب ائمہ(ع) کے تالیف کردہ 400 رسالوں ( الأصول الأربعمائة) سے استفادہ اور اصحاب ائمہ(ع) ـ یا ان (اصحاب) سے ملنے اور فیض حاصل کرنے والے افراد سے ملاقاتیں اور بات چیت کرکے، احادیث کو کم از کم واسطوں سے نقل کیا ہے۔ وہ نواب اربعہ کے ہم عصر تھے چنانچہ احادیث کی صحت یا عدم صحت کے بارے میں تحقیق کا راستہ ان کے لئے کھلا تھا۔[20]

اس کتاب کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ یہ جامع اور منظم ہے۔ احادیث کی ترتیب و زمرہ بندی، تعداد اور مکمل سلسلۂ سند کے لحاظ سے انتہائی منظم، اور جامعیت و کاملیت کے لحاظ سے تمام اعتقادی، فقہی، اخلاقی، معاشرتی و۔۔۔ موضوعات پر مشتمل اور اپنی مثال آپ ہے۔ انھوں نے ہر باب کی ابتداء میں مفصل تر، صحیح تر اور واضح تر احادیث، اور بعد میں مجمل اور مبہم و قابل تشریح احادیث، کو درج کرنے کی کوشش کی ہے۔[21]

کتاب کی تفصیلات و مندرجات

یہ کتاب تین حصوں پر مشتمل ہے:
اصول کافی، جس کا موضوع اعتقادی مسائل ہیں؛ فروعی کافی، جس میں فقہی مسائل اور عملی احکام کو موضوع بنایا گیا ہے اور روضۃ الکافی جس کا موضوع بحث تاریخ اور اخلاق ہے۔ اصول کافی بجائے خود کئی کتابوں پر مشتمل ہے جن میں سے ایک اہم کتاب کا نام "کتاب الحجہ" ہے۔

اصول كافی

اصول کافی اعتقادی احادیث آٹھ کتابوں پر مشتمل ہے اور اس میں مندرجہ احادیث کا تعلق اعتقادی مسائل سے ہے:

}
  • کتاب العقل و الجہل
  • کتاب فضل العلم
  • کتاب التوحید
  • کتاب الحجة
  • کتاب الایمان والکفر
  • کتاب الدعاء
  • کتاب فضل القرآن
  • کتاب العشرة

فروع كافی

فروع کافی فقہی احادیث کا مجموعہ اور 26 کتب پر مشتمل ہے:

}
  • كتاب الطہارہ
  • كتاب الحيض
  • كتاب الجنائز
  • كتاب الصلاۃ
  • كتاب الزكاۃ والصدقہ
  • كتاب الصيام
  • كتاب الحج
  • كتاب الجہاد
  • كتاب المعيشہ
  • كتاب النكاح
  • كتاب العقيقہ
  • كتاب الطلاق
  • كتاب العتق والتدبير والمكاتبہ
  • كتاب الصيد
  • كتاب الذبائح
  • كتاب الاطعمہ
  • كتاب الاشربہ
  • كتاب الزى والتجمل والمروہ
  • كتاب الدواجن
  • كتاب الوصايا
  • كتاب المواريث
  • كتاب الحدود
  • كتاب الديات
  • كتاب الشہادات
  • كتاب القضا والاحكام
  • كتاب الايمان و النذور و الكفارات

روضۃ الکافی

روضۃ الکافی، جو متفرقہ احادیث پر مشتمل ہے۔ اس میں کسی خاص ترتیب کو مدنظر نہیں رکھا گیا گوکہ بعض علماء روضۃ الکافی کو الکافی کا جزء نہیں مانتے۔[22] تاہم نجاشی اور شیخ طوسی نے واضح کیا ہے کہ روضۃ الکافی الکافی کی آخری کتاب ہے۔[23]۔[24]

روضۃ الکافی کے مندرجات:

  • بعض آیات قرآنی کی تفسیر اور تأویل
  • ائمۂ اطہار(ع) کے وصایا، نصائح اور مواعظ
  • رؤیا (خواب) اور اس کی قسمیں
  • بیماریاں اور ان کا علاج
  • عالم خلقت کی تخلیق کی کیفیت اور اس کے بعض موجودات
  • بعض انبیاء(ع) کی تاریخ
  • فضائل شیعہ اور اس کے فرائض
  • اسلام کے صدر اول اور خلافت امیرالمؤمنین(ع) کی اجمالی تاریخ
  • امام زمانہ(عج) اور آپ(عج) کی صفات نیز آپ(عج) کے اصحاب اور زمانۂ حضور کی خصوصیات
  • بعض صحابہ اور دیگر افراد کے حالات زندگى

فارسی میں روضۃ الکافی کا ترجمہ بمع شرح بقلم سید ہاشم رسولی محلاتی، تہران ،انتشارات علمیہ اسلامیہ کے توسط سے دو مجلدات میں شائع ہوئی ہے۔

احادیث کی تعداد اور ان میں اختلاف کا سبب

الکافی میں مندرجہ روایات و احادیث کے اعداد و شمار میں علماء کے درمیان اختلاف ہے:

یوسف بحرانی نے اپنی کتاب لؤلؤۃ البحرین میں لکھا ہے کہ الکافی میں مندرجہ احادیث کی تعداد 16199 ہے؛ ڈاکٹر حسین علی محفوظ نے الکافی پر اپنے مقدمے میں اس کتاب میں مندرجہ احادیث کی تعداد 15176 ہے؛ علامہ مجلسی کے مطابق الکافی میں مندرجہ احادیث کی تعداد 16121 ہے جبکہ شیخ عبدالرسول الغفاری نے اپنی کتاب الکلینی و الکافی میں مندرجہ احادیث کی تعداد 15503 ہے۔ شمارش (اور گننے) کی روش ہی احادیث کے اعداد و شمار میں اس اختلاف کا سبب ہے؛ اور وہ یوں کہ اگر کہیں ایک روایت کو دو سندوں سے نقل کیا گیا ہے تو بعض نے اس کو ایک روایت اوربعض نے اس کو دو روایات اور بعض نے اس کو ایک روایت قرار دیا ہے۔ اور ممکن ہے کہ بعض نادر مواقع پر بعض احادیث بعض نسخوں میں مندرج نہ ہوئے ہوں۔[25]

کتب حدیث سے مقائسہ

اہم حدیثی کتب مصنف متوفا تعداد احادیث توضیحات
المحاسن احمد بن محمد برقی 274ق 2604 مختف عناوین کا مجموعۂ احادیث
کافی محمد بن یعقوب کلینی 329ق 16000 اعتقادی ،اخلاقی آداب اور فقہی احادیث
من لا یحضر الفقیہ شیخ صدوق 381ق 6000 فقہی
تہذیب الاحکام شیخ طوسی 460ق 13600 فقہی احادیث
الاستبصار فیما اختلف من الاخبار شیخ طوسی 460ق 5500 اھادیث فقہی
الوافی فیض کاشانی 1091ق 50000 حذف مکررات کے ساتھ کتب اربعہ کی احادیث کا مجموعہ اور بعض احادیث کی شرح
وسائل الشیعہ شیخ حر عاملی 1104ق 35850 کتب اربعہ اور اس کے علاوہ ستر دیگر حدیثی کتب سے احادیث جمع کی گئی ہیں
بحار الانوار علامہ مجلسی 1110ق 85000 مختلف موضوعات سے متعلق اکثر معصومین کی روایات
مستدرک الوسائل مرزا حسین نوری 1320ق 23514 وسائل الشیعہ کی فقہی احادیث کی تکمیل
سفینہ البحار شیخ عباس قمی 1359ق 10 جلد بحار الانوار کی احادیث کی الف با کے مطابق موضوعی اعتبار سے احادیث مذکور ہیں
مستدرک سفینہ البحار شیخ علی نمازی 1405ق 10جلد سفینۃ البحار کی تکمیل
جامع احادیث الشیعہ آیت اللہ بروجردی 1380ق 48342 شیعہ فقہ کی تمام روایات
میزان الحکمت محمدی ری شہری معاصر 23030 غیر فقہی 564 عناوین
الحیات محمد رضا حکیمی معاصر 12 جلد فکری اور عملی موضوعات کی 40 فصل

الکافی پر تالیف شدہ کتب

الکافی کی بعض شرحیں

کتاب الکافی آغاز ہی سے علماء اور محدثین محققین کے مدنظر رہی ہے اور اس کے بارے میں متعدد کتب اور شرحیں لکھی گئی ہیں۔ آقا بزرگ تہرانی اپنی کتاب الذریعہ میں الکافی کے حصہ اول (اصول کافی) یا پوری کتاب "الکافی" پر 27 شرحوں اور 10 حاشیوں کا ذکر کیا ہے۔[26]

الکافی، کا انگریزی ترجمہ، الموسسۃ العالمیة للخدمات الاسلامیة۔ کے زیر اہتمام انجام پاچکا ہے اور اب تک اس 13 جلدیں عربی متن کے ہمراہ شائع ہوچکی ہیں۔

کافی سے متعلق اہم کتابیں

  1. دفاع عن الکافی، ثامر ہاشم حبیب المعیدی ،2جلد ،مرکز الغدیر للدراسات الاسلامیہ ،1415ھ۔
  2. الشیخ الکلینی البغدادی و کتابہ الکافی، ثامر ہاشم حبیب العمیدی ،مکتب الاسلامی ،قم 1414ھ۔ اس کتاب میں شیخ کلینی کی ذاتی اورعلمی زندگی، کافی کے سلسلہ میں ان کی علمی کاوشیں فروع کافی میں ان کی کیا روش رہی ہے بیان کیا گیا ہے۔
  3. الکلینی وخصومہ د ابوزھرہ، عبدالرسول الغفار۔اس کتاب میں مصری مئولف ابوزہرہ کے کافی پر اعتراضا ت کا جواب دیا گیاہے۔
  4. بحوث حول روایات الکافی، امین ترمس العاملی،موسسة دارالھجرة ،قم 1415ھ
  5. دراسات فی الکافی للکلینی والضحیح للبخاری، ہاشم معروف الحسینی۔ مولف نے اس کتاب میں کافی اوربخاری کے درمیان موازنہ کیا ہے اورکچھ عناوین کا انتخاب کرکے اپنا فیصلہ سنایا ہے۔
  6. ثلاثیات الکلینی وقرب الاسناد، امین ترمس العاملی ۔ اس کتاب کے مقدمہ میں شیخ کلینی کے حالات زندگی اورثلاثیات کی اصطلاحات کی توضیح کے بعد صرف تین واسطوں سے معصومین علیھم السلام تک متصل ہونے والی روایات کو انتخاب کیا ہے جن کی تعداد کل 135 بنتی ہے۔
  7. الکلینی والکافی۔ الدکتور عبدالرسول الغفار،موسسة النشر الاسلامی ،قم (1416)

تلخیص کتاب

  1. گزیدہ کافی، فارسی ترجمہ وتحقیق: محمد باقر بہبہودی، تہران، شرکت انتشارات علمی وفرہنگی، 1369ہجری ش) 6 جزء تین مجلد میں۔
  2. الصحیح من الکافی، 3ج، محمد باقر بہبودی (الدارالاسلامیة 1401ھ۔ 1981ع)۔

معاجم

  1. فھرس احادیث المفروع من الکافی، مجمع البحوث الاسلامیہ
  2. فھرس احادیث الکافی، بنیاد پژوہش ھای اسلامی استان قدس رضوی۔

اسناد ورجال

  1. تجرید اساتید الکافی وتنفیحہا، حاج میراز مہدی صادقی(قم،1409ھ)
  2. الموسوعة الرجالیة، حسین طباطبائی بروجردی،7جلد تنظیم :میرزا حسن النوری، مجمع البحوث الاسلامیہ ، مشہد 1413ھ۔

اس مجموعے کی پہلی جلد بعنوان ترتیب اسانید کتاب الکافی 567 ص میں اور جو دوسری جلد بعنوان رجال اسانید اور طبقات رجال الکافی ،468 صفحہ میں کافی سے متعلق ہے۔

طباعتیں

اس کتاب کا قدیم ترین نسخہ مشہد مقدس کے مدرسہ نواب کے کتب خانے میں محفوظ ہے جس کے خوش نویس علی بن ابی المیامین (علی بن احمد بن علی) ہیں اور سنہ 675ہجری میں عراق کے شہر واسط میں تحریر ہوا ہے اور جامعہ تہران کے مرکزی کتب خانے کے مائکروفلمز میں اس کی مائکرو فلم محفوظ ہے اور اس کا نمبر 5156 ہے۔[27]

الکافی معاصر دور میں متعدد بار ایران اور ہندوستان میں طبع ہوئی ہے:

الف۔ لکھنؤ سنہ 1302ہجری۔

ب۔ ایران میں سنہ 1278ہجری، 1281ہجری، 1311ہجری، 1315ہجری اور 1374ہجری۔

نیز الکافی کی طباعت عراق اور لبنان میں متعدد بار انجام پائی ہے۔

ج۔ سنہ 1381 ہجری میں بھی یہ کتاب آٹھ جلدوں میں کتابخانہ اسلامیہ کے سرمائے سے زیور طبع سے آراستہ ہوئی ہے۔ نیز ڈاکٹر حسین علی محفوظ نے شیخ کلینی کے مفصل حالات زندگی لکھے ہیں اور ان کی یہ تحریر کتاب الکافی کے آغاز میں درج ہوئی ہے اور مستقل کتاب میں بھی "سیرۃالکلینی" کے عنوان سے شائع ہوئی ہے۔

متعلقہ مآخذ

پانویس

  1. الکافی، ج 1، ص 14۔(مقدمه)۔
  2. غفاری، عبدالرسول، الکلینی والکافی، ص392۔
  3. افندی، رياض العلماء، ج2، ص265-266۔
  4. غفاری، عبدالرسول، الکلینی والکافی، ص394۔
  5. الامام الشيخ محمد بن محمد بن النعمان ابن المعلم ابي عبد الله، العكبري، البغدادي المعروف شیخ مفید، (متوفی سنہ 413 ہجری)۔
  6. الاعتقادات الامامیه، ص70۔
  7. شیخ شمس الدین محمد بن مکی بن احمد عاملی نبطی جزینی المعروف شہید اول بزرگ شیعہ فقیہ سنہ 734 کو شیعہ ہونے کی پاداش میں بمقام دمشق جام شہادت نوش کرگئے۔
  8. الکافی، ج 1، ص 27۔
  9. علامہ محمد تقی ابن مقصود علی مجلسی، محمد باقر مجلسی کے والد، (متوفی 1070ہجری) شیخ بہائی اور میر فندرسکی کے شاگرد تھے۔
  10. مرآة العقول، ج1، ص3۔
  11. صاحب کتاب الذریعہ، شیخ محمد محسن المعروف آقا بزرگ تہرانی ـ اصل نام (متوفی سنہ1389 ہجری)، چودہویں صدی ہجری کے کتاب شناس علماء میں سے تھے؛ ان کی کاوش "الذریعہ الی تصانیف الشیعہ"، شیعہ تصانیف کا دائرۃ المعارف مانا جاتا ہے۔
  12. الذریعه، ج17، ص245۔
  13. محمد امین استرآبادی (متوفی 1036ہجری) مکہ ہجرت کرکے آخر عمر تک وہیں قیام کیا، اصولی تھے اور نقل روایت کے تین اجازتنامے حاصل کئے ہوئے تھے؛ اخباری ہوئے اور اصولیوں کے رد میں کتب لکھی۔
  14. الفوائد المدنیه، ص520۔
  15. متوفی صفر 1413ہجری) فقیہ، معاصر شیعہ مرجع تقلید ، مفسر قرآن اور علم رجال کے محقق تھے۔
  16. (متوفی جمادی‌الاول 1355ہجری) شیعہ مرجع تقلید، کئی بزرگان دین کے استاد اور ایران میں آئینی حکومت کے قیام کے حامی تھے۔
  17. معجم رجال الحدیث، ج 1، ص 99۔
  18. الکافی، ج 1، ص 5۔
  19. الکافی، ج 1، ص 8 و 9۔
  20. سيد بن طاؤوس، كشف المحجة لثمرة المهجة، ص159۔
  21. ترجمه اصول کافی، ج 1، ص 10۔
  22. افندی، ریاض العلماء، ج2، ص261۔
  23. نجاشی، الرجال، ص 377۔
  24. الفهرست، ص 210۔
  25. الکلینی والکافی، 401 و 402۔
  26. الذریعه، ج13، ص95 – 99۔
  27. کتاب "فهرست ميكرو فيلم هاى كتابخانه مركزى دانشگاه تهران" ص384۔


مآخذ

  • استرآبادی، محمد امین، الفوائد المدنیه، قم، مؤسسه النشر الاسلامی، 1424 ه.
  • افندی، عبدالله بن عیسی، ریاض العلماء و حیاض الفضلاء، قم، مطبعه الخیام، بی تا.
  • آقا بزرگ تهرانی، آقابزرگ،الذریعه الی تصانیف الشیعه، بیروت، دارالاضواء، 1403 ه.
  • سید ابوالقاسم خویی، ابوالقاسم، معجم رجال الحدیث، بی جا، بی نا، 1413 ه.
  • سید بن طاووس، علی بن موسی، کشف المحجه لثمره المهجه، نجف، المطبعه الحیدریه، 1370 هـ.
  • شیخ طوسی، محمد بن حسن، الفهرست، تحقیق جواد قیومی، بی جا، نشر الفقاهه، 1417 هـ.
  • الغفاري، الشيخ عبد الرسول، الکلینی و الکافی، قم، مؤسسه النشر الاسلامی، 1416 هـ.
  • کلینی، محمد بن یعقوب، الکافی، تهران، دارالکتب الاسلامیه، 1363 ش.
  • علامه مجلسی، محمدباقر، محمدباقر، مرآة العقول فی شرح اخبار آل الرسول، تهران، دار الکتب الاسلامیه، 1363 ش.
  • مصطفوی، جواد، ترجمه اصول کافی، تهران، کتابفروشی علمیه اسلامیه، 1369 ش.
  • شیخ مفید، محمد بن نعمان، تصحیح اعتقادات الامامیه، بیروت، دارالمفید، 1414 هـ.
  • نجاشی، احمد بن علی، رجال النجاشی، قم، مؤسسه النشر الاسلامی، 1416 هـ.
  • سيد بن طاؤوس الحسني، كشف المحجة لثمرة المهجة، النجف 1370/ 1950۔
  • کتاب "فهرست ميكرو فيلم هاى كتابخانه مركزى دانشگاه تهران" ـ طبع 1348 ہجری شمسی ـ تہران۔